23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ اے پیغمبر ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہیں ؟ تو اس کا بھی کوئی سوال نہیں کیونکہ آپ کے رب کا اجر تو بہرحال سب سے بہتر ہے اور وہی ہے سب سے بہتر دینے والا،

91 اور اللہ ہی ہے سب سے بہتر روزی رساں : کہ سب خزانوں کا مالک و متصرف تنہا وہی وحدہ لاشریک ہے جس کو جو چاہے اور جس قدر چاہے عطا فرماتا ہے۔ سو جس خوش نصیب کی نظر اس وحدہ لاشریک کی عطاء و بخشش پر ہو اس کے سامنے اس دنیائے دوں اور اس کے حطام زائل کی حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو پیغمبر تم سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ اس کا بھروسہ اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہے۔ تم کو تو وہ سب کچھ مفت دے رہا ہے تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ سو اس میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف منکرین و معاندین کے لیے زجر و تنبیہ اور ملامت و توبیخ۔ کہ پیغمبر تمہارے سامنے حق و ہدایت کا جو پیغام و پروگرام پیش کر رہے ہیں وہ اس پر تم سے کوئی صلہ اور معاوضہ تو نہیں مانگتے کہ تم اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہو۔ انہوں نے تو جس طرح اس دولت کو مفت پایا اسی طرح اس کو آگے مفت بانٹ رہے ہیں۔ ان کا اجر تو اس خداوند قدوس پر ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور سب سے بہتر روزی رساں ہے۔ اور اگر ان لوگوں نے اس نعمت کبریٰ کی قدر نہ کی تو اس میں خود ان ہی کا نقصان ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے کسی نقصان کا کوئی سوال نہیں ۔ (علیہ السلام) -
Ayah 23:73

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور آپ یقینا بلا رہے ہیں ان لوگوں کو حق و ہدایت کے سیدھے راستے کی طرف،

92 پیغمبر کی دعوت صراط مستقیم کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ یقینا انکو بلا رہے ہیں سیدھی راہ کی طرف "۔ جس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و ہمکنار کرنے والا راستہ ہے۔ اور جو عظیم الشان و بےمثال راہ ہے۔ مگر آپ کا کام صرف بلانا اور اس راستے کی دعوت دینا ہے اور بس۔ آگے راہ ہدایت پر ڈال دینا نہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس میں ہے۔ اب یہ بات ان لوگوں کے اپنے اختیار اور ان کی اپنی صوابدید پر ہے کہ یہ اس راہ حق کو اپنا کر اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرتے ہیں یا اس سے منہ موڑ کر شقاوت دارین کی راہ کو اپناتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف پیغمبر کی دعوت صراط مستقیم کی اس عظیم الشان اور بےمثال شاہراہ کی طرف ہے جو انسان کو اس کی حقیقی منزل تک پہنچاتی اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ مند کرنے والی واحد شاہراہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور بلاشبہ جو لوگ اپنی دنیاوی لذتوں پر فریفتہ ہو کر آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، وہ قطعی طور پر سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں3

93 عقیدئہ آخرت اصلاح احوال کی اصل اساس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عقیدئہ آخرت اصلاح احوال اور سعادت دارین سے سرفرازی کے لیے اصل اساس اور شاہ کلید ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ قطعی طور پر سیدھی راہ سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اور جو سیدھی راہ ہی سے محروم ہوں۔ ان کی اصلاح کی صورت اور اس کی توقع ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ عقیدئہ آخرت انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی شہ کلید ہے۔ جبکہ عقیدئہ آخرت کے بغیر انسان کو نہ صحیح راہ مل سکتی ہے اور نہ ہی اس کی زندگی سدھر سکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو آخرت پر ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی کیلئے شہ کلید ہے اور سب سے اہم بنیاد ہے۔ یہ عقیدئہ آخرت ہی ہے جس کی بنا پر انسان اپنی ہوا و ہوس پر کنٹرول کرتا اور اپنی نقد لذتوں کی قربانی دیتا ہے۔ اور نفس کی آزادیوں پر پہرے بٹھاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ حدود وقیود کی پابندی کرنے والا ایک ذمہ دار اور پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ ورنہ وہ لاپرواہ اور حیوان بےلگام بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کر کے ان سے وہ تکلیف دور کردیں جو ان کو پہنچی ہوتی ہے تو یہ یقینا شکر گزار بننے کی بجائے الٹا اپنی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے برابر اسی میں لگے رہیں گے،

94 سرکشوں کے لیے کوئی نشانی کارگر نہیں ہوتی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " سرکش لوگوں کا اپنی سرکشی ہی پر اصرار رہا جس کے نتیجے میں آخرکار وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور مصیبت کے وقت توبہ اور اصلاح کے جو وعدے ان لوگوں نے کئے ہوتے ہیں ان سب کو یہ بھول جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کی مصیبتوں سے جو کہ اصل میں انسان کو جھنجھوڑنے کیلئے ہوتی ہیں ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں کوئی خم نہیں آتا۔ اور یہ اپنے خالق ومالک کی طرف جھکنے اور راہ حق وصواب کو اپنانے کی بجائے اپنی سرکشی اور بےراہ روی ہی پر اڑے رہتے ہیں اور طرح طرح کی منطق اور فلسفے بگھارنے لگتے ہیں کہ صاحب ایسے ہوتا رہتا ہے۔ اچھے برے حالات آتے رہتے ہیں اور ہمارے باپ دادا سے بھی ایسے ہوتا رہا۔ تو پھر ایسوں کو ہدایت ملے تو کیونکر ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو سرکشوں اور اپنی سرکشی پر اصرار کرنے والوں کے لیے کوئی نشانی اور کوئی تنبیہ کارگر نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ ایسے لوگ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ سو عناد و سرکشی محرومیوں کی محرومی اور ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو معاند اور ہٹ دھرم لوگ ایمان لانا ہی نہ چاہیں ان کے لیے کوئی نشانی اور تنبیہ کارگر نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَمَا تُغْنَی الآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَّ یُؤمِنُوْنَ } ۔ ( یونس :101) ۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

چناچہ اس حقیقت کا ایک شاہد یہ ہے کہ ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا پھر بھی یہ نہ تو اپنے رب کے سامنے جھکے1 اور نہ ہی انہوں نے اس کے حضور عاجزی کی

95 تنبیہی عذاب کا تقاضا اپنے رب کے حضور جھکنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ایسوں کو طرح طرح کے تنبیہی عذابوں میں پکڑا " مگر ان کا حال یہ تھا کہ مصیبت آنے پر ایسے لوگ نہ اپنے رب کے حضور جھکے نہ عاجزی کی۔ بلکہ یہ کفر و سرکشی کی اپنی سابقہ روش پر برابر اڑے رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں تک کہ یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ تکلیفوں پر انسان کے اندر فروتنی اور عاجزی کا نہ پیدا ہونا اور اپنے رب کے حضور نہ جھکنا بڑے ہی خسارے کا سودا ہے۔ کہ اس سے انسان بالآخر اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتا ہے جس سے پھر بچنے اور واپسی کی کوئی صورت ممکن نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اوپر والی آیت کریمہ میں معاندین و منکرین کی عناد و سرکشی والی جس روش کا ذکر فرمایا گیا اس ارشاد کے ذریعے گزشتہ قوموں کی تاریخ کے حوالے سے اس کی دلیل اور اس کا ثبوت پیش فرمایا گیا ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسی ٹیڑھی کھوپڑی والے اور اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق نہیں لیتے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر " استکانہ " اور " تضرع " کے دو لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں۔ سو ان دونوں میں ظاہر اور باطن کا فرق ہے۔ " استکانہ " دراصل اس شکستگی اور فروتنی کا نام ہے جو انسان کے قلب و باطن پر طاری ہوتی ہے اور اس کا اثر و نتیجہ ظاہری گریہ وزاری، آہ وبکا اور دعا و فریاد کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ سو ان بدبختوں پر ایسے تنبیہی عذابوں سے نہ ظاہر کے اعتبار سے کوئی اثر ظاہر ہوا نہ باطن کے اعتبار سے۔ اس لیے یہ محروم کے محروم ہی رہے اور ایسے بدبخت لوگوں کا آج تک یہی حال ہے۔ آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح کے عذاب آتے ہیں اور آتے رہتے ہیں لیکن ایسے لوگ ان سے کوئی سبق نہیں لیتے نہ ان کی الٹی کھوپڑیاں سیدھی ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کی اکڑی ہوئی گردنوں میں خم آتا ہے۔ اور یہی سب سے بڑا خسارہ، بلکہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کھول دیا کوئی دروازہ کسی سخت عذاب کا تو اس وقت یکایک کٹ کر رہ گئیں ان کی سب آرزوئیں اور امیدیں2

96 تمردو سرکشی کا نتیجہ ہولناک و فیصلہ کن عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے بدبخت اور متکبر لوگ اپنے تمردو سرکشی اور کفر و انکار ہی پر اڑے رہے۔ یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر کسی سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا۔ اس سے مراد وہ فیصلہ کن عذاب ہے جو دستور خداوندی کے مطابق ایسی سرکش قوموں کا مقدر بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی جب یہ لوگ دنیا کے ان مختلف عذابوں میں سے کسی سے بھی باز نہ آئے اور انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان کے لیے اس آخری اور فیصلہ کن سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا گیا جس سے یہ بدبخت اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہے اور ہر خیر سے قطعی طور پر محروم اور مایوس ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، ابوالسعود وغیرہ) ۔ اور یہی قول راحج معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ عذاب شدید کی تشدید اور تہویل کا مقتضا بھی یہی ہے کہ اس سے ان کا وہ آخری عذاب ہی مراد لیا جائے جس کی ہولناکی کا احاطہ و تصور بھی کسی بشر کے بس کا روگ نہیں۔ اور دوسرے اس لئے کہ " ابلاس " جس کا ذکر یہاں فرمایا گیا ہے اس کے معنی ہیں انتہائی تحیر اور ہر خیر وامید سے مایوسی۔ اور ظاہر ہے کہ اس کا پورا ظہور ایسے آخری اور فیصلہ کن عذاب ہی سے ہوگا کہ وہاں پر جب کفار و منکرین کو اپنی توقعات کے بالکل برعکس اس ہولناک عذاب سے واسطہ پڑے گا جس کی ہولناکی کی کوئی حد و انتہاء نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس سے بچنے اور بھاگ نکلنے کی اب کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوگی تب ان کی تمام امیدیں اور آرزوئیں کٹ جائیں گی۔ ان کے تمام خود ساختہ سہارے ختم ہوجائیں گے اور انکے سب مفروضے مٹ چکے ہوں گے۔ تو اس وقت ان کی محرومی اور مایوسی کی کوئی انتہاء نہ رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قرآن حکیم کے بعض دوسرے مقامات سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے کہ " ابلاس " اور مایوسی کا ان کا یہ حال آخرت ہی میں ہوگا۔ چناچہ سورة روم میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْن } ۔ (الروم :12) اس لئے راحج یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب سے مراد آخرت ہی کا عذاب ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَھُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلَامِہٖ وَاَسْرَارِ نِظَامِہٖ ۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال اس سے متعلق یہ ہے کہ اس سے دنیا ہی کا کوئی عذاب مراد لیا جائے۔ جیسے قتل، قید اور قحط وغیرہ۔ چناچہ حضرت مجاہد اور ابن عباس وغیرہ سے یہی مروی ہے کہ اس سے مراد معرکہ بدر کی شکست ہے جس سے کفار ناہجار کو دو چار ہونا پڑا تھا۔ بہت سے مفسرین کرام سے یہی قول مروی ہے اور ابن جریر وغیرہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب اہل مکہ شدید قحط کا شکار ہوئے تو ابوسفیان نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ میں رحمت اللعالمین ہوں۔ حالانکہ آپ نے اپنے باپ دادا کو تہ تیغ کردیا اور ان کی اولادوں کو قحط کے ذریعے بھوکوں مار رہے ہیں۔ لہذا اللہ سے دعا کریں کہ وہ اس قحط کو ہم سے دور فرما دے۔ تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور اس سے وہ قحط ان لوگوں سے ٹل گیا۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (جامع البیان، اسباب النزول، خازن وغیرہ) ۔ لیکن ان حضرات اہل علم کی جلالت قدر اور عظمت شان کے اعتراف اور احساس کے باوجود کہنا پڑتا ہے کہ یہ روایت اس لئے صحیح نہیں ہوسکتی کہ یہ سورة کریمہ بغیر کسی استشناء کے پوری کی پوری مکی سورة ہے۔ اور تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔ جبکہ معرکہ بدر مدنی دور میں پیش آیا۔ سو معرکہ بدر کو اس کا مصداق اور سبب نزول قرار دینے سے متعلق یہ روایت اور اس پر مبنی یہ قول تو صحیح نہیں ہوسکتا۔ الا یہ کہ یوں کہا جائے کہ قتل و قید بدر کی صورت میں کفار مشرکین کو ملنے والا وہ عذاب بھی منجملہ اس ارشاد ربانی کے مصداق میں شامل اور داخل ہے۔ لیکن اس کے علاوہ قحط وغیرہ کے مذکورہ بالا کسی دنیاوی عذاب کو اس کا مصداق قرار دینے کی گنجائش بہرحال اس میں موجود ہے اور عذاب شدید کی تنکیر کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعْالٰی وَھُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلَامِہٖ وَاَسْرَارِ نِظَامِہٖ کَمَا اَسْلَفْنَا اٰنِفًا وَھُوَ الْھَادِیْ اِلٰی سَوَائِ الصِّراط وَاِلَی الرَّشْد وَالصّواب الْمُنْعِمِ الْمِفْضالِ الْعَزِیْزِ الْوَھَّاب جل وعلا شانہ ۔ اور یوں اگر بنظر غور دیکھا جائے تو ان دونوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق بھی نہیں بلکہ دونوں کا حاصل اور مآل ایک ہی نکلتا ہے۔ کیونکہ جن قوموں پر دنیا میں عذاب آیا ان کے حق میں قیامت کا عذاب بھی وہی ہے۔ کیونکہ انہوں نے تو بہرحال پھر کبھی دنیا میں واپس نہیں آنا اور " من مات فقد قامت قیامتہ " کے اصول کے مطابق ان کے لیے قیامت کا عذاب بھی وہی ہے کہ ان کا وہی دنیاوی عذاب قیامت کے عذاب کے ساتھ مل کر ہمیشہ کا عذاب بن گیا۔ جیسا کہ قوم نوح کے بارے میں فرمایا گیا کہ " وہ لوگ غرق ہوتے ہی دوزخ کے عذاب میں جا پہنچے " ۔ { مِمَّا خَطِیْئَاتِہِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا فَلَمْ یَجِدُوْا لَہُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْصَارًا } -
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل پیدا کیے مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔3

97 شکر خداوندی کے لیے تحریض و ترغیب : سو لوگوں کی نا شکری کی شکایت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو "۔ ورنہ تم سب کے سب دل و جان سے اس واہب مطلق کے حضور جھک جاتے جس نے تمہیں ان عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور محض اپنے کرم و احسان سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ اور بغیر تمہاری طرف سے کسی اپیل و درخواست کے تم کو نوازا ہے ۔ جَلَّ جَلالُہ وعَمَّ نَوَالُہ ۔ اور اس کی ان نوازشات اور کرم فرمائیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تم لوگ اس کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کو ان کے صحیح مصرف میں لگاؤ اور اس کے نتیجے میں تم اپنے اس خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کے شرف سے مشرف ہوجاؤ۔ اس نے تم کو کان دیئے تاکہ تم حق بات سنو اور مانو۔ اس نے تمہیں آنکھیں بخشیں تاکہ ان سے تم کائنات میں پھیلی بکھری ان نشانیوں کو دیکھو جو اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تم لوگوں کو دعوت غور و فکر دے رہی ہیں۔ اس نے تم کو دل و دماغ دیئے تاکہ تم صحیح طریقہ سے غور و فکر کرو اور صحیح نتائج اخذ کر کے راہ حق و صواب کو اپناؤ۔ مگر تم ہو کہ ان سب کے ان تقاضوں سے آنکھیں بند کرکے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو اور دلیل کی تنبیہہ کی بجائے اپنے لیے عذاب کا کوڑا مانگتے ہو۔ ایسے میں ایک انسان اور حیوان میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ سو تم لوگ کتنے اندھے اور کس قدر اوندھے ہوتے جارہے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہ وحدہ لاشریک وہی تو ہے جس نے پھیلا دیا تم کو اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے زمین میں اور آخرکار تم سب کو اس کے حضور لے جایا جائے گا اکٹھا کر کے

98 توحید وقدرت خداوندی کی ایک عظیم الشان دلیل کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہی ہے جس نے پھیلا دیا تم سب کو اس ۔ عبرتوں بھری ۔ زمین میں نہایت پر حکمت طریقے سے "۔ توالد و تناسل کے ذریعے اور پھر تمہاری ضرورت کی چیزوں کو اس نے اس زمین پر اس حکیمانہ طریقے سے اور حیرت انگیز طور پر پھیلا اور بکھیر دیا کہ ان کے حصول کے لئے تم ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ہر طرف دوڑے بھاگے جا رہے ہو۔ جس سے زندگی کی یہ حرکت اور یہ عظیم الشان چہل پہل قائم و دائم اور جہد و مشقت کا یہ سلسلہ رواں دواں ہے۔ بلاشبہ اس سب میں اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، عظمت بےنہایت، رحمت لا محدود، عطائے غیر متناہی اور حکمت بالغہ کے عظیم الشان مظاہر ہیں جو ہر طرف پھیلے اور بکھرے پڑے ہیں۔ اور ہر صاحب عقل کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں ۔ { فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرْ ؟ } ۔ اور جس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تم کو اس زمین میں اس طرح پھیلا دیا وہی تم سب کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے۔ سو جس طرح تمہارے اس انتشار اور پھیلاؤ میں تمہاری رضا ومرضی کا کوئی دخل نہیں، اسی طرح تم چاہو یا نہ چاہو اور مانو یا نہ مانو، بہرکیف تم سب کو بالآخر اکٹھے ہو کر اس کے یہاں حاضر ہونا ہے۔ 99 قیامت اور حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب کو اسی کے حضور لے جایا جائے گا اکٹھا کرکے "۔ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ سب نے اس کے حضور بہرحال حاضر ہونا ہے۔ مخلص اور ایماندار تو بصد شوق ورغبت جائیں گے ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ اور بےایمان و بدبخت کو بجبر واکراہ جانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پہنچ کر تم نے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا ہوگا اور اس کے مطابق ہر کسی کو اس کے اس صلہ وبدلہ سے نوازا جائے گا جس کا وہ اپنے ایمان و عمل کی بنا پر حقدار ہوگا۔ سو اس ارشاد سے قیامت اور حشر کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے اور اس پر تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم لوگ کبھی اس طرح کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا کہ تم یہیں پیدا ہوئے اور یہیں مر کھپ کر ختم جاؤ گے۔ سو ایسی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کہ اس کی نتیجے میں تمہارا راستہ بدل جائے گا اور تمہارا زاویہ نگاہ بگڑ جائے گا اور تم ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ تم کوئی برسات کے کیڑے مکوڑے نہیں ہو کہ یونہی مرمٹ کر ختم ہوجاؤ اور اس حقیقت کو تم لوگ اپنے سامنے رکھو کہ جب کوئی کسان اپنی زمین میں بیج ڈالتا ہے تو محض بکھیرنے اور ضائع کرنے کی خاطر نہیں ڈالتا بلکہ ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرتا ہے۔ سو اسی طرح جس نے تم کو زمین میں پھیلایا ایک دن وہ تم سب کو اکٹھا کر کے لائے گا اور تم نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔
Ayahs 23:80–82

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے رات اور دن کا ادلنا بدلنا تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

مگر اس سب کے برعکس یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو کہ ان کے پیش رو کہتے آئے ہیں،

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

یعنی یوں کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہمیں واقعی پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا ؟

100 زندگی بخشنا اللہ ہی کا کام اور اسی کی شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی زندگی بخشتا ہے۔ جو اس دنیا کی ایک عظیم الشان نعمت بلکہ سب نعمتوں کی اساس و بنیاد ہے۔ سو احیاء واماتت ۔ زندگی بخشنے اور موت دینے کی ۔ یہ صفت اسی وحدہ لاشریک کی صفت ہے۔ اس میں کسی بھی اور ہستی کو حصہ دار ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ جیسا کہ بعض جاہل لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ یا پیر صاحب نے فلاں شخص کو یا اس کی کسی گائے بھینس وغیرہ کو مار دیا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مارنا اور جلانا اللہ پاک ہی کی صفت و شان ہے۔ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جب تک چاہے زندہ رکھے۔ اور جب چاہے موت طاری کر دے کہ یہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اسی کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اس میں کسی بھی اعتبار سے اور کسی بھی درجے میں نہ کوئی اس کا شریک وسہیم ہے نہ ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 101 اور موت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی موت دیتا ہے اور اسی کا کام ہے موت دینا۔ جو آخرت کی دائمی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و سبب ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے ۔ " الَمَوْتُ جَسْرٌ یُّوْصِلُ الَحَبِیْبَ الی الْحَبَیْبِ " ۔ یعنی موت ایک ایسا پل ہے جو دوست کو دوست سے ملاتا ہے۔ سو احیاء واماتت یعنی زندگی اور موت دینا اسی وحدہ لاشریک کا کام اور اسی کی شان ہے۔ جسکو وہ زندگی بخشنا چاہے اس کو کوئی نہیں مار سکتا۔ اور جس کو وہ موت دینا چاہے اس کو کوئی زندہ نہیں رکھ سکتا۔ اور احیاء واماتت کا یہ پراسرار سلسلہ آج بھی جاری ہے اور برابر جاری ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کس طرح بےجان مٹی سے قسما قسم کی پیداواریں نکلتی ہیں۔ جن سے آگے انسان طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور ان کو کھاتا اور استعمال کرتا ہے۔ اور ان سے آگے نہایت ہی پر حکمت طریقے سے خون بنتا ہے اور اس سے مادئہ تولید بنتا ہے۔ اور اس سے آگے قسما قسم کی زندہ اور جاندار مخلوق وجود میں آتی ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی اس کائنات میں زندگی و موت کا سلسلہ لگاتار اور پیہم جاری وساری رہتا ہے جس میں کسی بھی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ جس سے ایک طرف تو یہ عظیم الشان حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ احیاء و اماتت یعنی زندگی بخشنے اور موت دینے کا یہ سارا سلسلہ اللہ وحدہ لا شریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اس میں اور کسی کا بھی کوئی عمل دخل نہیں۔ اور دوسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوجاتی ہے کہ یہ پوری کائنات ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکم وتصرف میں ہے اور اس کا حکم و تصرف اس میں ہر لحظہ اور ہر لمحہ جاری رہتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 102 عقل سے صحیح کام لینے کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا اور تحریض و ترغیب کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا " کیا تم لوگ پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ؟ "۔ کہ اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں اور اس کی قدرتوں کے ذریعے تم اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اس کی رضا حاصل کرسکو ؟ اور اس طرح تم نور حق و ہدایت سے سرفراز و بہرہ ور ہوسکو۔ سو تم لوگ اگر صحیح طور پر ان چیزوں میں غور وفکر سے کام لو تو تمہیں طرح طرح کے سامانہائے عبرت و بصیرت سے سرفرازی نصیب ہو۔ مثلاً یہ کہ یہ تمام چیزیں اپنے اس خالق ومالک کے وجود باجود کا پتہ دے رہی ہیں جس نے ان کو ان کا وجود بخشا ہے۔ نیز یہ کہ ان سے اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا پتہ چلتا ہے۔ نیز یہ کہ یہ تمام چیزیں باہم مختلف اور متضاد ہونے کے باوجود انسان کے بھلے اور اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ان سب میں ایک ہی ارادہ و تصرف کارفرما ہے۔ سو اس اعتبار سے یہ توحید کی ایک اہم دلیل ہے۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا حکم و تصرف اس کائنات میں ہر لحظہ اور مسلسل و لگاتار جاری ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ نہیں کہ اس کو بنا کر وہ اس سے علیحدہ ہوگیا۔ جیسا کہ کچھ ٹیڑھی کھوپڑی والوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ بلکہ اس میں حکومت و کارفرمائی بھی اسی وحدہ لا شریک کی چلتی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 23:83–84

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ تو ہم سے اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی مدتوں سے ہوتا چلا آیا ہے پس یہ اگلے لوگوں سے چلے آنے والے افسانوں کے سوا کچھ نہیں،

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

آپ ان سے ذرا یہ تو پوچھو کہ کس کی ہے یہ زمین اور جو کچھ کہ اس کے اندر ہے، اگر تم جانتے ؟

103 منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ تو اس سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے مگر اب تک یہ پورا نہیں ہوا۔ سو یہ انسان کی تنگ نظری اور کوتاہ ظرفی کا ایک قدیم اور مشترکہ مظہر ہے۔ اسے یہ خبر نہیں کہ جس اللہ پاک کے یہاں ایک دن ایک ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر ہے اس کے یہاں ماضی کے ان سالوں کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ نیز آخرت کی لامتناہی زندگی جس نے کبھی ختم نہیں ہونا اس کے مقابلے میں ماضی کی اس مدت کی کیا حیثیت ہے ؟ کیونکہ یہ اگرچہ ہزاروں لاکھوں سالوں پر بھی محیط ہو تو بھی یہ محدود ہے۔ جبکہ آخرت کی وہ زندگی غیر متناہی اور لامحدود ہے۔ تو محدود کا غیر محدود سے کیا مقابلہ ؟ سو محض اتنی بات پر اس کا وعدہ ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا رہا مگر وہ نہیں آئی اس کے انکار کی دلیل نہیں بن سکتا اور محض اس بناء پر اس کا انکار کرنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بڑی حماقت اور جہالت ہے۔ آخر تم لوگوں سے یہ کس نے کہا کہ وہ اتنے عرصے کے بعد یا اتنے سالوں میں آجائے گی ؟ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اس کا وقت مقرر ہے جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 23:85–86

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

اس کے جواب میں یہ لوگ ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی کا ہے یہ سب کچھ، کہو کیا پھر بھی تم لوگ ہوش میں نہیں آتے ؟

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

ان سے کہو کہ کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا اور رب عرش عظیم کا ؟

104 منکرین کی تضاد فکری پر انکو تنبیہ اور توبیخ : سو منکرین کی تضاد فکری پر ان کو جھنجوڑتے ہوئے اور تنبیہ کرتے ہوئے اور ان کے قلب و باطن پر دستک کے لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ کہو کیا تم لوگ پھر بھی ہوش میں نہیں آتے ؟۔ کہ مقدمات تو سب مانتے ہو مگر ان پر مرتب ہونے والے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے ؟ سو جس نے ابتدائً یہ سب کچھ پیدا کردیا اس کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور جس کا اس سب کے پیدا کرنے اور عطا فرمانے میں کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب یہ سب کچھ انسان کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان کیلئے ہو اور خود انسان اور اس کی زندگی بےمقصد ہو ؟۔ سو اس طرح غور و فکر سے کام لینے سے ان تمام نعمتوں میں توحید، رسالت اور آخرت سب کے لئے دلائل واضح ہوجاتے ہیں بشرطیکہ انسان ان سے متعلق صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے اور ان سے صحیح نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف مشرکین چونکہ آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ اپنے خود ساختہ اور من گھڑت شریک بھی مانتے تھے۔ اس لیے ان کے اپنے مسلمات کی بنیاد پر ان پر حجت قائم کی گئی ہے اور ان کے قلب و ضمیر پر دستک دی گئی ہے۔ سو انسان اگر کائنات کی کھلی کتاب میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے تو اس کو دین کی دعوت اپنی فطرت اور اپنے قلب و باطن کی پکار معلوم ہوگی۔ بشرطیکہ دل و دماغ ماؤف و معطل نہ ہوگئے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 23:87–88

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

تو اس کے جواب میں بھی انہوں نے ضرور یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے، کہو کہ کیا پھر بھی تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

نیز پوچھو ان سے کہ کون ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں ہے باگ ڈور ہر چیز کی ؟ وہ جس کو چاہتا ہے پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا، بتاؤ اگر تم جانتے ہوف 1

105 مشرکوں کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کون ہے رب ساتوں آسمانوں کا ؟ اور کون ہے رب عرش عظیم کا ؟ تو اس کے جواب میں بھی انہوں نے ضرور یہی کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے۔ تو ان سے کہو کہ کیا پھر بھی تم لوگ ڈرتے نہیں نو ؟ سو اس ارشاد میں خدا سے ڈرنے اور اس کے عذاب سے بچنے کی دعوت وتحریک ہے۔ بہرکیف اس سے ان کے قلب و ضمیر پر دستک دیتے ہوئے اور ان کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ پھر بھی ڈرتے نہیں ؟ "۔ اپنے اس خالق ومالک کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے کہ اس کی کائنات میں رہتے بستے اور اس کی نعمتوں پر پلتے بڑھتے ہو اور پھر بھی اس کی بغاوت اور کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہو ؟۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ جب تم مانتے ہو کہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب اور مالک اللہ ہی ہے تو پھر تم دوسروں کو اسکا شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ اور اس طرح شرک کے جرم عظیم کا ارتکاب کرتے ہو۔ سو اس ارشاد میں خداوند قدوس کی نافرمانی سے ڈرنے اور اس کی گرفت و پکڑ اور اس کے عذاب سے بچنے کے لیے دعوت ہے جو کہ انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی و بہرہ مندی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:89

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

تو اس کے جواب میں بھی یہ لوگ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کی شان ہے کہو ظالمو ! پھر کہاں سے تم پر جادو کیا جاتا ہے2

106 ہر چیز کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کون ہے وہ جس کے ہاتھ میں باگ ڈور ہے ہر چیز کی ؟ جو سب کو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔ سو بتاؤ اگر تم جانتے ہو۔ { ملکوت } سے یہاں پر مراد زمام اقتدار و اختیار ہے۔ سو جب تم لوگ اس حقیقت کو بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہو کہ ہر چیز کی باگ ڈور اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی شان ہے کہ وہ ہر کسی کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا تو پھر تم پر کہاں جادو کیا جاتا ہے جو ان کھلے دلائل، واضح براھین اور خود تمہارے اپنے ایسے اعترافات کے باوجودتم لوگ شرک کی دلدل میں طرح طرح سے پھنستے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تمہاری عقلیں کہاں کھو گئیں اور تمہاری مت کیسے مار دی گئی جو تم ان بنیادی اور ٹھوس حقائق کو جاننے اور ماننے کے باوجود شرک کا ارتکاب کرتے ہو اور بےحقیقت اور بےجان چیزوں کو اس قادر مطلق کا شریک ٹھہراتے ہو ؟ اور تم لوگوں نے کس طرح اور کس بنیاد پر اپنی یہ مشرکانہ میتھالوجی تیار کرلی جو عقل و نقل کے تقاضوں کے یکسر خلاف اور ان کے معارض ہے ؟ ۔ اللہ فکر و نظر کے ہر انحراف سے ہمیشہ محفوظ اور ہمارے پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 23:90

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

اور یہ پہلوں کے افسانے نہیں بلکہ ہم تو ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور یہ یقینا پرلے درجے کے جھوٹے لوگ ہیں،

107 مشرکین و منکرین قطعی طور پر جھوٹے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ یقینا پرلے درجے کے جھوٹے ہیں "۔ جو اس کلام حق و صدق کو پہلوں کے افسانے قرار دیتے اور شرک کے سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں وہ خود انکے اپنے اعترافات کیخلاف ہے تو یہ اپنے آپ کو خود اپنے مونہوں سے جھٹلا دیتے ہیں۔ اس لیے ان کی باتوں کا حق سے کوئی تعلق نہیں بلکہ حق وہ ہے جو ہم نے انکو قرآن کی صورت میں دیا ہے۔ اب اگر یہ اس کو صدق دل سے مانتے ہیں تو یہ خود انکے حق میں بہتر ہوگا ورنہ یہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و شرک والے اپنے عقیدوں، دعو وں اور کافرانہ و مشرکانہ میتھالوجی میں قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔ اور اس طرح اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کی ایسی باتوں کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد، محض من گھڑت ڈھکوسلے ہیں۔
Ayahs 23:91–93

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے نہ تو کسی کو اپنی اولاد بنایا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ دوسرا کوئی خدا ہے، اگر ایسا ہوتا تو اس صورت میں ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ان میں سے ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا، اللہ پاک ہے ان سب باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں،

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

ایک برابر جاننے والا نہاں وعیاں کا، وہ بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

اپنے رب کے حضور اے پیغمبر اس طرح عرض کرو کہ اے میرے رب اگر تو دکھا دے مجھے یعنی میرے جیتے جی لے آئے وہ عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے،

108 ساری کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس کی کائنات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ اور اگر بالفرض اس کے کوئی شریک ہوتے تو ایسی صورت میں ہر خدا اپنی مخلوق کو لیکر الگ ہوجاتا۔ تاکہ لوگوں کو اس کی قدرت اور سلطنت کا علم ہو۔ اور وہ اپنی مخلوق کو لے کر اپنی علیحدہ خدائی قائم کرے۔ تاکہ اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنا الگ تشخص قائم کرے۔ مگر جب ایسے نہیں ہوا اور یقینا اور قطعاً نہیں ہوا تو اس سے ثابت ہوگیا کہ معبود برحق ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ اور جب کسی ملک کے دو بادشاہ اور کسی ادارے کے دو سربراہ نہیں ہوسکتے تو پھر اس حکمتوں بھری کائنات کے دو مالک کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ اور ہر چھوٹی موٹی کمپنی کا الگ ٹریڈ مارک ہوتا ہے تاکہ اس کی مصنوعات دوسروں سے اپنی الگ شناخت رکھیں۔ تو دو خداؤں کی مخلوق باہم گھل مل کر کیسے رہ سکتی ہے ؟ پس اس سے یہ ثابت اور واضح ہوگیا کہ اس تمام کارخانہ ہست و بود کا خالق ومالک ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ وہی اس کائنات کا خالق ومالک بھی ہے اور وہی اس میں حاکم و متصرف بھی نہ اس کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ اس کی حکومت و سلطنت میں ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 109 شرک کا نتیجہ تصادم و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی اولاد ہے، جیسا کہ مشرک لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے اور انہوں نے اس لیے طرح طرح کی اولادیں گھڑ رکھی ہیں۔ اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے۔ ورنہ ایسی کسی صورت میں ان میں سے ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔ اور اس پر ہلہ بول دیتا تاکہ اس کا غلبہ ظاہر ہو۔ پس جب ان میں سے کوئی بات بھی آج تک نہیں ہوئی اور قطعاً اور یقینا نہیں ہوئی تو اس سے واضح ہوگیا کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اور کارساز و کار فرما ایک ہی ذات ستودہ صفات ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ ۔ ورنہ یہ کارخانہ ہست و بود کبھی کا تباہ و برباد ہوجاتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَوْکَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا } ۔ (الانبیائ : 22) ۔ سو شرک کا نتیجہ باہمی تصادم اور ہلاکت و تباہی ہے۔ پس حکمتوں اور عجائب بھری اس کائنات کا صدیوں اور قرنوں سے اس طرح محفوظ چلے آنا اس بات کا قطعی واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک جو کہ ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ اللہم فزدنا ایمانا بک و بوحدانیتک المطلقۃ وخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔ یا من بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayahs 23:94–95

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو میرے رب ایسی صورت میں مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیئو،3

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم اس پر پوری طرح قادر ہیں کہ وہ آپ کو وہ عذاب دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں،

110 پیغمبر کے کمال عبدیت اور شان بندگی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ آپ کو فرمایا جا رہا ہے کہ آپ اپنے رب کے حضور اس طرح دعا کریں کہ اے میرے رب اگر آپ ان بدبختوں کو میری زندگی ہی میں عذاب دیں تو مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے۔ سو اس میں کمال عبدیت اور عبودیت کا اظہار ہے۔ اور اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن سنانا درحقیقت دوسروں کو ہے۔ ورنہ اللہ پاک کے رسول اکرم ﷺ کا ظالموں کے ساتھ عذاب میں شامل ہونے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ بلکہ آپ کے وجود باجود کی برکت سے تو آپ ﷺ کی زندگی میں یہ ظالم لوگ بھی عذاب سے بچے ہوئے تھے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ { وَمَا کَان اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ } ۔ (الانفال : 23) سو یہ پیغمبر کی کمال عبدیت اور شان بندگی کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ ہے۔ اس لیے سنن ترمذی (رح) وغیرہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ اللہ پاک کے حضور دعا فرمایا کرتے تھے کہ " اللہ اگر تو کسی قوم کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے اس فتنے سے بچا کر اپنی طرف اٹھا لینا "۔ (ابن کثیر، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ اور آپ کی اس مشہور و معروف دعا کے کلمات کریمہ اس طرح مروی ہیں " اذا اردت بقوم فتنۃ فتوفنی غیر مفتون " ۔ اخرجہ الامام احمد والترمذی ۔ سبحان اللہ کیا کہنے اس شان عبدیت وانابت کے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی آلہ وصحبہ ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ وسار علی دربہ الی یوم الدین ۔ اللہ آپ کی سچی محبت اور اتباع و پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

پر آپ یہی برتاؤ کیے جاؤ کہ برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو سب سے اچھا ہو ہم خوب جانتے ہیں ان سب باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں4

111 برائی کے جواب میں اچھائی سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ برائی کے جواب میں اس طریقے سے کام لیں جو سب سے اچھا ہو۔ جو کہ آپ ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تقاضا ہے۔ اور اس طرح آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر مومن مخلص کے لئے بھی یہی درس عظیم ہے اور اس طرح دشمن بھی دوست بن جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پھر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فاذَا الّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عداوَۃ کَانَہ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ } ۔ یعنی اس طریقے کے نتیجے میں اور اس کی بنا پر آپ کا دشمن بھی ایسا موم ہوجائے گا کہ گویا کہ وہ جگری دوست ہے۔ بہرکیف آپ برائی کا جواب اچھائی ہی سے دیتے رہیں اور ان ظالموں کی شرانگیزیوں سے رنجیدہ اور دلگیر نہ ہوں۔ ان سے ہم خود نمٹ لیں گے۔ اور ان کی ہر شرارت اور شر انگیزی کا جواب ہم خود دیں گے۔ اور ان کو ان کے کیے کرائے کا مزہ ہم خود چکھا دیں گے۔ آپ کو ان کے رویے سے دل گیر اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کرو کہ اے، میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کی اکساہتوں سے

112 اللہ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوسکتی : کہ وہ ہر چیز کو اس کے ظاہر و باطن ہر اعتبار سے جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے۔ سو یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم خوب جانتے ہیں ان باتوں کو جو یہ لوگ بناتے ہیں۔ سو اس کے مطابق ہم ان سے خود نمٹ لیں گے اور ٹھیک ٹھیک نمٹ لیں گے۔ لہذا آپ ﷺ کو ان کے درپے ہونے کی اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کی یہ حرکتیں جو یہ حق اور داعی حق کیخلاف کر رہے ہیں ہم سے مخفی نہیں۔ ہم ان کے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتے ہیں۔ اس لیے آپ ان کا معاملہ ہم ہی پر چھوڑ دیں۔ ہم ان کو ان کی ایک ایک شرارت اور شرانگیزی کا مزہ چکھا کر رہیں گے۔ اور ایسا چکھائیں گے کہ کوئی کسر باقی نہیں رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 23:98–100

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب، اس سے کہ وہ شیاطین میرے پاس آئیں،5

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہ بدعقیدہ و بدکردار لوگ اسی طرح رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو آپہنچتی ہے موت تو اس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ کہنے لگتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں نیک عمل کرسکوں اس دنیا میں جسے میں چھوڑ آیا ہوں ایسا ہرگز ہونے کا نہیں یہ تو محض ایک حسرت بھری بات ہوگی جسے وہ کہے جا رہا ہوگا، اور ان کے آگے ایک پردہ حائل ہے،1 اس دن تک جس میں یہ لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے،

113 شیاطین کی اکساہٹوں سے بچنے کا طریقہ : سو اس ارشاد سے شیطانوں کی اکساہٹوں اور شرانگیزیوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ان کی کسی بھی قسم کی ضرر رسانی اور شر انگیزی سے بچنے کے لئے اور ان کی ایذاء رسانیوں اور شر انگیزیوں سے حفاظت کے لیے آپ ہی پناہ دے سکتے ہیں اے ہمارے رب۔ خواہ وہ شیطان شیاطینِ جن میں سے ہو یا شیاطین انس میں سے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے صبر و استقامت سے سرفرازی اور عفو و درگزر کے حصول اور شیاطین کے شرور و فتن سے حفاظت کے لیے یہ عظیم الشان دعا تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے ۔ فالحمد للہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر اس دن کی آمد پر جب صور میں پھونک مار دی جائے گی، تو ہول وہیبت کے اس عالم میں نہ تو ان کے درمیان کوئی رشتہ رہے گا اور نہ ہی وہ آپس میں ایک دوسرے سے کوئی حال ہی پوچھیں گے،

116 قیامت کی نفسانفسی کا ایک منظر : کہ وہاں پر ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی اور وہ تمام رشتے اور تعلقات ختم ہوجائیں گے جن پر یہ لوگ دنیا میں بڑے ناز اور فخر کیا کرتے تھے۔ البتہ ایمان وتقویٰ کا پاکیزہ رشتہ وہاں بھی باقی اور سرفراز رہے گا اور کام آئے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَلْاَخَلَّائُ یُوْمَئِذٍ بِعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ۔ (الزخرف : 67) ۔ سو یہ اس یوم عظیم کی نفسانفسی کی ایک تصویر ہے کہ کوئی وہاں پر نہ کسی کے کام آسکے گا اور نہ ہی کوئی کسی کے بارے میں پوچھنے ہی کی زحمت اٹھائے گا۔ سب رشتے ناطے کٹ جائیں گے اور ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی۔ سو بڑے ہی خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس یوم عظیم کو اور اس کے تقاضوں کو بھول کر غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس روز ہر کسی کو اپنی ہی پڑی ہوگی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِکُلِّ امْرِیٍ مِنْہُمْ یَوْمئِذٍ شَاْنٌ یُغْنِیْہِ } ۔ (عبس :37) اور نہ صرف یہ کہ سب رشتے کٹ جائیں گے بلکہ انسان اپنے رشتہ داروں سے دور بھاگے گا۔ جیسا کہ سورة عبس میں آیت نمبر 34 سے آیت نمبر 36 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہوگا کہ مجرم انسان اس دن یہ چاہے گا کہ اس کی اولاد اور بیوی بچوں سمیت سب رشتہ دار اس کی جگہ لگ جائیں اور وہ چھوٹ جائے۔ جیسا کہ سورة معارج کی آیت نمبر 11 تا آیت نمبر 14 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 23:102–103

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

پھر جس کے ایمان و اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا تو وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس کا پلڑا ہلکا ہوا تو وہی ہوں گے وہ لوگ جنہوں نے خود خسارے میں ڈال دیا ہوگا اپنی جانوں کو، ان کو ہمیشہ کے لیے جن ہم میں رہنا ہوگا،2

117 فلاح پانے والے اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہونے والوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز جن لوگوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہی ہوں گے فلاح پانے والے "۔ جن کو دوزخ کی آتش سوزاں سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا۔ اور اس حقیقت کو دوسرے کئی مقامات کی طرح یہاں بھی حصر کے کلمات کریمہ کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور بتادیا گیا کہ کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ فلاح اور حقیقی و ابدی کامیابی بہرحال ایسے ہی خوش نصیب لوگوں کو نصیب ہوگی ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحضِ مَنِّہِ وَکَرَمِہٖ فَاِنَّہ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَاَکْرَمُ الْاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ وہاں حسب و نسب جیسی کوئی چیز کام نہیں آئے گی، بلکہ اپنا ایمان اور کردار ہی کام آئیگا۔ سو جن کے پلڑے بھاری ہوئے ہوں گے وہی کامیاب ہوں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی ناکام ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ سب سے بڑے خسارے والے اور ناکام و نامراد لوگ وہ ہوں گے جو فیصلے کے اس یوم عظیم میں ناکام و نامراد ثابت ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اس ناکامی سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

جہاں آگ جھلس رہی ہوگی ان کے چہروں کو اور وہاں پر نہایت بری طرح بگڑی ہوں گی ان کی شکلیں

119 دوزخیوں کی انتہائی بدحالی کی ایک تصویر : کہ وہاں پر نہایت بری طرح بگڑی ہوئی ہونگی ان لوگوں کی شکلیں۔ دانت ان کے نکلے ہوئے ہوں گے۔ اوپر کے ہونٹ سکڑ کر کھوپڑیوں سے جا ملے ہوں گے اور نیچے کے لٹک کر ان کے نافوں تک جا پہنچے ہوں گے۔ جیسا کہ سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوزخ کی وہ ہولناک آگ ان کو جھلس رہی ہوگی۔ حضرت ابوداؤد ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ آگ جب ان پر ایک جھٹکا ماریگی تو ان کے گوشت پگھل کر ان کی ایڑیوں پر آگریں گے۔ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس کافر اور منکر کا انجام یہ ہونے والا ہو اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی اسے کیا ملا ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم وہی نہیں وہ کہ میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں، پر تم لوگ ان کو جھٹلاتے ہی چلے جا رہے تھے ؟

120 تکذیبِ حق جرموں کا جرم ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آیات ِ خداوندی کی تکذیب جرموں کا جرم اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب دوزخ میں پڑے یہ بدبخت چیخیں اور چلائیں گے تو ان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جن کے سامنے میری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم ان کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ سو اب ہمیشہ کے لئے چکھتے رہو مزہ اپنے اس کفر و استہزاء اور تکذیب و انکار کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی کیے کرائے کا بدلہ و نتیجہ ہے ۔ { اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ۔ سو تکذیب و انکار حق خرابیوں کی خرابی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 23:106–107

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

کہیں گے اے ہمارے رب، ہم پر غالب آگئی تھی ہماری بدبختی اور واقعی ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے رب، اب ہمیں یہاں سے نکال دے (اور دنیا میں اب ھر کام کرنے کی فرصت و مہلت عطا فرما دے) پھر اگر ہم دوبارہ قصور کریں تو جو مرضی سزا دے کیونکہ اس صورت میں ہم بلاشبہ ظالم ہوں گے،

121 منکروں کا بےوقت کا اقرار جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم پر غالب آگئی تھی ہماری بدبختی اور ہم واقعی گمراہ تھے اے ہمارے رب۔ ہمیں یہاں سے نکال دے اور ایک مرتبہ پھر ہمیں دنیا میں کام کرنے کی فرصت و مہلت عطا فرما دے۔ پھر اگر ہم قصور کریں تو جو مرضی ہمیں سزا دے کہ اس صورت میں بلاشبہ ہم پکے ظالم ہوں گے۔ سو اس وقت مجرم لوگ اپنی گمراہی اور بدبختی کا اس طرح اعتراف و اقرار کریں گے اور چیخ چیخ کر کریں گے۔ مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے ان کی حسرت و افسوس میں اضافہ کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے یہ سب کچھ پیشگی بتادیا تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے اور کل یہ نہ کہے کہ مجھے پتہ نہیں تھا۔ اور اس وقت کے اقرار و اعتراف جرم کا اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے اس کی ذلت و رسوائی میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 23:108–109

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

ارشاد ہوگا پھٹکارے ہوئے پڑے رہو تم لوگ اسی جن ہم میں اور مجھ سے کوئی بات مت کرو،3

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

تم لوگ وہی تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب یوں کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے پس تو ہماری بخشش فرما دے اور ہم پر رحم فرما کہ تو ہی ہے سب سے بڑا رحم کرنے والا

122 دوزخیوں کی تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر : کہ ان کی چیخ و پکار کے جواب میں ان کو دھتکارتے ہوئے ان سے کہا جائے گا کہ جاؤ دفع ہوجاؤ یہاں سے اور ہم سے کوئی بات مت کرو کہ تمہاری کسی بات کا کوئی فائدہ اب تم کو بہرحال نہیں پہنچ سکے گا۔ سو یہ اہل دوزخ کیلئے نہایت تذلیل و تحقیر کا جواب ہوگا۔ " اخسا " اصل میں کتے کو دھتکارنے کیلئے بولا جاتا ہے۔ سو انکو ایسی تحقیر سے کہا جائے گا کہ دفع ہوجاؤ کہ اب یہ عذاب نہ تم سے اٹھے گا نہ کم ہوگا۔ اس طرح ان کو ہمیشہ کے لئے اور قطعی طور پر مایوس کردیا جائے گا۔ اور بعض سلف سے مروی ہے کہ اس کے بعد ان کا بولنا بھی بند ہوجائے گا۔ وہ بس محض گدھوں کی طرف ہنکتے ہوں گے یا کتوں کی طرح بھونکتے ہوں گے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، خازن، مدارک وغیرہ) ۔ والعیاذ باللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرَہُ وَلَا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہُ جل وعلا ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ لوگ وہاں پر رہ رہ کر اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کریں گے اور چیخ چیخ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا والتجاء کریں گے مگر ان کو ایسا ذلت اور رسوائی کا جواب ملے گا کہ جاؤدفع ہوجاؤ اپنے اسی عذاب میں پڑے رہو جس میں تم لوگ پڑے ہوئے ہو۔ اور مجھ سے کوئی بات مت کرو کہ اب نہ تمہاری کسی بات کی کوئی شنوائی ہوگی اور نہ کسی بات کا کوئی اثر و فائدہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے، یہاں تک کہ ان سے تمہارے اس مذاق نے تمہیں میری یاد بھی بھلا دی تھی اور تم ان سے ہنسی ہی کرتے رہے

123 اللہ کے نیک بندوں کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو دوزخیوں کی تذلیل مزید کے لیے اور ان کی محرومی کے ایک اہم اور بنیادی سبب کو واضح کرتے ہوئے ان سے مزید کہا جائے گا کہ تم وہی تو ہو جو میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ َان دیکھی آخرت اور خیالی جنت و دوزخ کے اعتقاد سے خواہ مخواہ دنیا کی ان لذتوں اور عیاشیوں سے محروم ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح یہ جواب اس خدائے غیور۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی اس عبرت کا مظہر ہوگا جس کا اظہار وہ اپنے نیک بندوں کیلئے فرمائے گا۔ اور اس کی بناء پر وہ ان اتقیاء کو دھکتار کر ان سے فرمائے گا کہ تم مجھ سے بات مت کرو اور میرے سامنے زبان مت کھولو کہ تم وہی شقی اور بدبخت لوگ ہو جو میرے نیک بندوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے جبکہ وہ مجھ سے میری بخشش اور رحمت کا سوال کیا کرتے تھے۔ اور ان بندگان صدق و صفا سے مذاق اڑانے کے اس شغل میں تم لوگ اس قدر محو و منہمک ہوگئے تھے کہ میری یاد اور میری گرفت و پکڑ کے خیال سے بھی تم لوگ محروم ہوگئے تھے اور تمہیں اس کا بھی کوئی خیال و احساس نہیں رہا تھا کہ تمہیں مجھ سے بھی کبھی سابقہ پڑنا ہے اور میرے یہاں بھی کبھی پیش ہونا ہے۔ سو اب اپنے اس کیے کرائے کا مزہ چکھو اور چکھتے رہو ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

مگر انہوں نے صبر و استقامات کا دامن نہ چھوڑا، جس پر آج میں نے ان کو ان کے صبر کا پھل دیا کہ وہی ہیں کامیاب اور فائز المرام1

124 صبر کا پھل نہایت عمدہ اور بےمثال : سو ان بدبختوں سے اس موقع پر کہا جائے گا کہ تمہاری طرف سے تمام تر ظلم و ستم اور مذاق و استہزاء کے باوجود وہ سچے ایماندار راہ ِحق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رہے۔ سو آج میں نے ان کو ان کے اس صبر و استقامت کا یہ صلہ دیا کہ وہی ہیں حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہونے والے۔ اور اس کے مقابلے میں تم جو دنیا میں اپنی عقل مندی اور چالاکی کے زعم میں ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے آج ناکام و نامراد ہو۔ سو اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا و خوشنودی کا صلہ و بدلہ دائمی کامیابی کا بےمثال پھل اور ایسوں کا مذاق اڑانا ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -