23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 23:38

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 23:38 in the Quran reader

یہ تو ایک ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور ہم اس کو کبھی ماننے والے نہیں ہیں۔

50 پیغمبر پر افترا علی اللہ کا نہایت ہولناک الزام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں نے پیغمبر کے بارے میں مزید کہا کہ یہ شخص اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اور ہم اس کو کبھی ماننے والے نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی اس کا یہ کہنا افترا علی اللہ ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ قیامت قائم ہوگی اور ہر کسی نے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ہے اور اپنے کئے کا حساب دینا ہے وغیرہ۔ لہذا تم ایسے شخص کی ان باتوں پر کان مت دھرو۔ اور ہم نے کبھی بھی اس پر ایمان نہیں لانا۔ سو اس ہٹ دھرمی کے بعد محرومی اور ہلاکت ہی ایسے لوگوں کا مقدر بن کر رہ جاتی ہے جو پیغمبر کی بات کسی بھی طور پر ماننے کو تیار نہیں ہوتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو پیغمبر کی پاکیزہ ہستی پر افتراء علی اللہ جیسے ہولناک جرم کا الزام لگانا ایک بڑا ہی سنگین جرم ہے جس کا ارتکاب ان بدبختوں نے اپنے کفر و انکار کی بنا پر کیا اور اس طرح خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کیا اور یہی نتیجہ ہوتا ہے کفر وانکار اور عناد و ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 23:39–40

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

اس ضد اور ہٹ دھرمی پر اس پیغمبر نے دعا کی کہ اے میرے رب اب تو ہی میری مدد فرما اس لیے کہ یہ لوگ تو میری تکذیب ہی پر کمربستہ ہوچکے ہیں

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

اس کے رب نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عنقریب ہی ان کو سخت ندامت اور شرمندگی اٹھانا ہوگی۔

51 پیغمبروں کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو کفار کی اس ہٹ دھرمی اور بہتان بازی اور الزام تراشی کے جواب میں پیغمبر نے رب سے دعا کی کہ " رب میری مدد فرما کہ ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا "۔ کہ تو ہی ہے اے میرے مالک سب کی مدد کرنے والا اور ہر کسی کا حاجت روا و مشکل کشا اور فریاد رس۔ اور جب انبیاء و رسل بھی اسی وحدہ لاشریک کے محتاج ہیں اور ان میں سے بھی کوئی ہستی حاجت روا و مشکل کشا نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جسے حاجت روا و مشکل وغیرہ مانا جاسکے ؟ بہرکیف پیغمبر نے اپنے رب کے حضور دعاء کی کہ اے میرے رب ان لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے اور اب یہ میری کوئی بات ماننے کو تیار نہیں۔ اس لیے تو اے میرے مالک انکے مقابلے میں میری مدد فرما اور ان پر وہ عذاب لے آ جس کا تو نے مجھ سے وعدہ فرما رکھا ہے۔ کیونکہ اب ان لوگوں کے زندہ اور باقی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ اب ان کا وجود اس دھرتی پر ایک ناروا بوجھ بن کر رہ گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرات انبیائے کرام بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ہی دست دعا وسوال دراز کرتے ہیں کہ ان کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور وہ بھی اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے تھے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے ؟۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:41

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

آخرکار آپکڑا ان کو اس ہولناک آواز نے جو ان کے لیے مقدر ہوچکی تھی حق کے ساتھ، سو ہم نے ان سب کو کچرا بنا کر رکھ دیا، سو بڑی پھٹکار ہے ایسے ظالم لوگوں کے لیے1

53 ظالموں کے لیے لعنت و پھٹکار ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی پھٹکار ۔ اور دوری ۔ ہے ظالم لوگوں کیلئے "۔ جو کہ اپنے خود اختیار کردہ کفر وعناد کے نتیجے میں اور تکذیبِ حق کی بناء پر دائمی طوق لعنت میں گرفتار اور ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا و ماخوذ ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دین حق سے اعراض و روگردانی اور حق کی تکذیب اور اس کا انکار ظلم ہے۔ جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں آخرت میں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سب سے بڑے اور عظیم الشان و بےمثال مظہر جنت اور اس کی نعیم مقیم سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ظلم و انحراف کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ہم نے اور کئی قومیں پیدا کیں،

54 ظالموں کی ہلاکت کے بعد نئی قوموں کے وجود میں آنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر انکے بعد ہم نے اور کئی قومیں پیدا کیں "۔ جیسے قوم ابراہیم، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ۔ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس سے قوم بنی اسرائیل مراد ہے۔ (صفوۃ التفاسیر، المراغی، وغیرہ) ۔ اور ان میں سے ہر قوم کی ہدایت و راہنمائی کیلئے انبیاء و رسل بھیجے گئے تاکہ وہ ان کو راہ حق و صواب سے آگاہ کریں۔ تاکہ وہ اس پر چل کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں۔ مگر ایسی قوموں نے بالعموم حضرات انبیاء و رسل کی دعوت کو جھٹلایا۔ جسکے نتیجے میں وہ تباہ و برباد ہوئیں اور ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ سو کفر و انکار کا نتیجہ ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ـ
Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی بھی قوم اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکی، اور نہ ہی وہ اس کے بعد ٹھہر سکی،2

55 ہر قوم اپنے وقت مقرر پر اپنے انجام کو پہنچ کر رہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کوئی بھی قوم اپنی مقررہ مدت سے نہ آگے بڑھ سکی ہے اور نہ اس سے پیچھے رہ سکی ہے "۔ بلکہ تکذیبِ حق اور مخالفت انبیاء کے جرم میں ہر امت ٹھیک اپنے اسی وقت پر ہلاک ہو کر رہی جو کہ ان کے لئے قضائے الہی میں طے اور مقدر ہوچکا تھا۔ اور قوموں کی اس مدت کو قدرت نے ان کے اخلاقی زوال کے پیمانے سے ناپ تول کر مقرر کیا ہوتا ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس قوم کا اخلاقی زوال اس حد تک کب پہنچتا ہے جب اس کی اس مدت مہلت کو ختم کردیا جائے۔ بہرکیف جب وہ مقررہ مدت ختم ہوجاتی ہے تو پھر کسی بھی قوم کو ایک منٹ سیکنڈ کیلئے بھی باقی نہیں رکھا جاتا اور وہ اپنے کیفر کردار کو بہرحال پہنچ کر رہی ہے اور پہنچ کر رہتی ہے۔ سو اس میں کفار قریش کیلئے اور اس کے بعد ہر دور کے منکرین کیلئے یہ تنبیہ ہے کہ وہ اپنی روش کی اصلاح کرلیں اور باز آجائیں۔ قبل اس سے کہ ان کا وہ آخری وقت آپہنچے کہ پھر ان کو ایک منٹ سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں مل سکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے پے درپے اپنے رسول بھیجے مگر ان سب کا حال یہی رہا کہ جب بھی کبھی کسی قوم کے پاس اس کا رسول آیا تو اس نے اس کی تکذیب ہی کی، جس کے نتیجے میں ہم بھی ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے اور ہم نے ان سب کو قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا سو بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں کیلیے جو ایمان نہیں لاتے،

56 ہر قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہر قوم کی ہدایت و راہنمائی اور اس کی اصلاح و خیرخواہی کے لیے اس کے اندر رسول بھیجا مگر ان لوگوں نے حق سے منہ موڑ کر اپنی تباہی اور بربادی کی راہ ہی کو اپنایا۔ پس آج جو لوگ حق کو جھٹلاتے اور اہل حق کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ہی ایسے ہوتا آیا ہے۔ پس آپ ﷺ تسلی رکھیں اور اسی طرح صبر و برداشت ہی سے کام لیں جس طرح کہ پہلے انبیائے کرام نے کیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلَ لَّّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 57 تکذیب و انکار حق کا نتیجہ ہلاکت و تباہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرات انبیاء و رسل کی بعثت و تشریف آوری کے بعدلوگوں نے ان کو جھٹلایا اور ان کے لائے ہوئے پیغام حق کو جھٹلایا۔ تو ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے ان کے اختیار کردہ کفر و باطل کی بنا پر اور راہ حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور حضرات انبیائے کرام کی تکذیب کے باعث۔ سو کفر و باطل اور انکار وتکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال تباہی اور ہلاکت ہے۔ امتحان و اختیار کے تقاضوں کی بناء پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے جو ڈھیل اور مہلت انسان کو اس ضمن میں ملتی ہے اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ بہرحال ایک مہلت ہے جس نے بالآخر ختم ہوجانا ہے ۔ والعیاذ باللّٰہ مِنْ کَلِّ سُوْئٍ وَّشَرِّ وَزَیْغٍ انْحِراف ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 58 منکرین کے لیے عذاب استیصال کا ذکر : سو ان منکر قوموں کے عذاب استیصال کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو قصے کہانیاں بنادیا۔ جن کو لوگ پڑھتے پڑھاتے اور سنتے سناتے ہیں اور بس۔ اس کے سوا خارج میں ان کا نہ کوئی وجود رہ گیا ہے نہ کوئی نام و نشان ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنی جس قوت و طاقت پر ان کو ناز ہوا کرتا تھا اور جس کی بنا پر وہ کہا کرتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر قوت وطاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ وہ ان کے کچھ کام نہ آسکی۔ اور اپنی جس مادی ترقی، شان و شوکت، عددی کثرت اور عروج و اقبال کا ان کو گھمنڈ تھا وہ سب کچھ مٹ مٹا کر ماضی کی داستان اور قصہ پارینہ بن کر رہ گیا۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے کفر و انکار حق سے گریز و فرار اور بغاوت و سرکشی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 59 نور ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ بےایمانوں کے لیے بڑی ہی سخت محرومی اور پھٹکار ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی خرابی اور پھٹکار ہے ان لوگوں کیلئے جو ایمان نہیں رکھتے "۔ کہ اسطرح وہ دارین کی ذلت و رسوائی کا شکار ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور سب خرابیوں اور ناکامیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اس سے انسان اندھا اور اوندھا بن کر رہ جاتا ہے اور وہ اپنی منزل مقصود سے بیخبر اور راہ حق و صواب سے بےبہرہ ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 23:45

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا کر بھیجا، اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ،

60 موسیٰ اور ہارون کی بعثت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور ہم ہی نے بھیجا موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تاکہ ان کو حق کو پیغام پہنچایا جاسکے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں کو راہ حق و صواب کی راہنمائی کرنا ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی } ۔ (اللیل : 12) ۔ یعنی " ہدایت دینا ہمارے ہی ذمے ہے "۔ 61 اپنی نشانیاں اور کھلی سند کے ساتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ہاروں کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ تاکہ حق پوری طرح ان کے سامنے واضح ہوجائے جس کے بعد ان لوگوں کے لئے کسی طرح کا عذر اور کوئی حیل و حجت باقی نہیں رہ گئی تھی۔ یہ عطف تفسیری ہے اور اس کھلی سند سے مراد وہی نشانیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوا۔ یعنی عصا اور ید بیضا وغیرہ۔ (خازن، صفوہ وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ آیات سے مراد وہ عام معجزات ہیں جو حضرت کو دیئے گئے۔ اور سلطن مبین سے مراد وہ معجزئہ عصا ہے۔ اور یہ عطف خاص عن العام کے قبیل سے ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ اور ہارون کو ان عظیم الشان نشانیوں کے ساتھ بھیجا گیا۔
Ayah 23:46

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف، مگر انہوں نے بھی اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا (اور وہ حق کے منکر ہوگئے) اور وہ تھے بھی بڑے سرکش لوگ،3

62 اِعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے مقابلے میں ان لوگوں نے اعراض و استکبار سے کام لیا اور اس طرح وہ دائمی تباہی اور ہلاکت کے گڑھے میں گرگئے۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ محرومی کا ایک بنیادی سبب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ ایسا شخص اپنی بڑائی کے گھمنڈ کی بنا پر حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ اور وہ پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ حق سے منہ موڑ لیتا ہے۔ سو اعراض و استکبار محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 63 حق کے مقابلے میں سرکشی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے فرعونیوں کی سرکشی کی تصریح فرما دی گئی اور اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حق کے مقابلے میں سرکشی باعث محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑے ہی سرکش لوگ تھے "۔ یعنی ان کی سرکشی ان کی طبیعت اور مزاج کا ایک حصہ تھی۔ اور مال و دولت اور حکومت و اقتدار کی کرسی سے ان کی سرکشی میں اور اضافہ ہوگیا تھا۔ اور اپنی سرکشی کی بناء پر دوسروں پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنا ان کا عام وطیرہ تھا۔ (مراغی وغیرہ) ۔ سو سرکشی ایسا منبع شر و فساد ہے کہ اس کی بنا پر انسان حدود بندگی سے نکل کر بدترین مخلوق " شر البریۃ " بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ۔ { وَکَانُوْا قَوْمًا عَالِیْن } ۔ سے ان کے قومی مزاج کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی ان کا یہ استکبار ان کے کسی وقتی ہیجان و اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ تھے ہی سرکش اور مغرور لوگ۔ اور فرعونیوں کے اسی قومی مزاج کی بنا پر حضرت موسیٰ کو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہُ طَغٰی } ۔ ( طہ : 34) " جاؤ فرعون کے پاس کہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے " ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 23:47–49

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے کہا کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ؟ اور وہ بھی اس حال میں کہ ان کی قوم کے لوگ ہماری غلامی کر رہے ہیں

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

سو انہوں نے جھٹلا دیا ان دونوں کو اور ان کے پیغام حق کو جس کے نتیجے میں بالآخر وہ بھی شامل ہوگئے ہونے والوں میں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب بخشی تھی تاکہ وہ لوگ اس سے راہنمائی حاصل کریں

64 پیغمبر کی بشریت کی بنا پر ان پر ایمان لانے سے انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا " کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں "۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ یعنی وہی غلط فہمی جو گمراہوں اور باطل پرستوں کو ہمیشہ رہی کہ نبوت اور بشریت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ لہذا ہم اپنے ہی جیسے ان دونوں شخصوں کو نبی نہیں مان سکتے۔ اس کے برعکس آج کے بعض جاہلوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ حضرات نبی تھے اس لئے وہ بشر نہیں ہوسکتے۔ حالانکہ عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ بیک وقت نبی بھی ہوتے ہیں اور بشر بھی۔ اور ان دونوں صفتوں کا اجتماع ہی عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے۔ جیسا کہ ابھی کچھ ہی اوپر گزرا۔ بہرکیف فرعون اور اس کے درباریوں اور سرداروں نے کہا کہ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں ؟ یعنی ایسے کبھی نہیں ہوسکتا۔ 65 فرعونیوں کے استکبار کے ایک اور سبب کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے کہا کہ " کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور خاص کر جبکہ ان کی قوم ہماری غلامی میں لگی ہوئی ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ ہم ایسے دو شخصوں پر ایمان لے آئیں جو بشر ہونے کے علاوہ تعلق بھی اس قوم سے رکھتے ہیں جو ہماری غلام ہے۔ اس طرح تو ہماری عظمت اور شان میں اور بھی فرق آجائے گا اور ہمارا خسارہ اور بھی زیادہ ہوجائے گا۔ سو یہ نتیجہ وثمرہ ہوتا ہے تکبر اور انانیت کا کہ اس سے آدمی کی کھوپڑی الٹی اور اوندھی ہوجاتی ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے ان لوگوں کے اعراض و استکبار کے ایک اور سبب کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ فرعون اور اس کے سرداروں کی اس سرکشی اور ان کے کبر و غرور کا ایک اور ثبوت تھا جس سے وہ حق سے محروم رہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے مریم کے بیٹے کو اور اس کی ماں کو بھی بنایا تھا ایک عظیم الشان نشانی اور ان دونوں کو ہم نے جگہ دی تھی ایک ایسی بلند سرزمین پر لے جا کر جو ٹھہرنے کے قابل اور سرسبز و شاداب بھی،

67 حضرت عیسیٰ و مریم قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے مریم اور انکے بیٹے کو ایک عظیم الشان نشانی بنایا تھا "۔ اپنی قدرت کاملہ اور عظمت و عنایت بےپایاں کی۔ کہ مریم صدیقہ، طیبہ و طاہرہ بغیر شوہر کے اور بدوں کسی مرد کے چھونے کے ہماری قدرت و مشیت سے حاملہ ہوگئیں۔ اور ان کے بطن سے عیسیٰ (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور مبارک بچے نے جنم لیا جنہوں نے ماں کی گود میں ہی صاف وصریح طور پر اپنی والدہ ماجدہ کی براءت و پاکدامنی اور اپنے خالق ومالک کی توحید و وحدانیت کا اعلان کیا اور آگے چل کر ایک دنیا ان کے فیض سے مستفید ہوئی۔ اور حضرت عیسیٰ کو مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ٹھیک کرنے اور مردوں کو زندہ کردینے کے معجزات سے نوازا گیا اور حضرت عیسیٰ کی اس معجزانہ ولادت میں چونکہ وہ ماں بیٹا دونوں ہی شریک تھے اس لیے اس کو ان دونوں کی نشانی قرار دیا گیا۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَاہَا وَابْنَہَا آیَۃً لِلْعَالَمِیْنَ } ۔ (الانبیائ : 91) ۔ سو ایسی بےمثال ماں کے بطن سے ایسے بےمثال بیٹے کا جنم لینا اور ان کا ماں کی گود میں ایسا معجزانہ اور پر حکمت کلام کرنا بلاشبہ قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی تھا ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء والمرسلین خصوصا علی افضلہم و امامہم نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ اور مریم قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی تھے۔ 68 { ربوۃ } کا معنیٰ و مطلب ؟ اور ایک قادیانی دجل وتلبیس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں کو ایک بلند سرزمین پر جگہ دی "۔ یعنی { ربوہ } کے معنی " ٹیلے " اور " بلند جگہ " کے ہیں۔ نہ کہ یہ کسی خاص جگہ کا نام ہے۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں ۔ " الرَّبْوَۃُ الْمَکَانُ الْمُرْتَفِع مِنَ الارض " ۔ اور ایسی جگہ آب و ہوا اور پیداوار کے لحاظ سے چونکہ بہت عمدہ ہوتی ہے۔ اس لیے اس سے مراد جمہور اہل علم کے نزدیک ارض بیت المقدس ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، کبیر، روح، قرطبی، مراغی اور خازن وغیرہ) ۔ اور اس سرزمین میں صاف ستھرے چشموں اور عمدہ پھلوں وغیرہ کی کثرت ہوتی ہے۔ اور ارض بیت المقدس میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایسی سب خوبیاں موجود ہیں۔ قادیانی دجالوں نے اپنے مذموم اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے اور اس لفظ کے ذریعہ دنیا کو دھوکہ دینے کی غرض سے پاکستان بننے کے بعد پنجاب کے علاقہ جھنگ میں ایک وسیع رقبہ زمین اپنے مرکز کے لئے حاصل کیا اور اس کا نام " ربوہ " رکھا کہ یہی وہ " ربوہ " ہے جس کا ذکر قرآن حکیم میں آیا ہے۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ و مریم ۔ علیہما الصلوۃ والسلام ۔ کا یہ قصہ دو ہزار سال سے بھی پہلے کا ہے۔ جبکہ ان لوگوں نے اپنے اس مرکز کو قیام پاکستان کے بعد 48 ء میں قائم کیا۔ مگر اندھوں کی کمی تھوڑے ہی ہے۔ کتنے ہی لوگ اور ان میں سے وہ بھی جو کہ اپنے آپ کو پڑھا لکھا بھی سمجھتے اور کہتے ہیں ایسے ہیں جو کہ قادیانی دجل و تزویر کے اس جال میں پھنس گئے اور بری اور پوری طرح پھنس گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور انہوں نے مان لیا اور دنیا کو منوانے کیلئے پورا زور صرف کیا اور اسلام دشمن قوتوں اور استعماری طاقتوں کی مدد و پشت پناہی سے انہوں نے دنیا بھر میں اس کے لئے اپنی مذموم اور مسموم پروپیگنڈہ مہم چلائی کہ قرآن حکیم میں وارد لفظِ " ربوہ " سے ہمارا یہی " ربوہ " مراد ہے۔ یہاں تک کہ دوسرے ملکوں کے اور دینی تعلیمات سے ناواقف لوگ یہ کہنے اور پوچھنے لگے کہ قرآن حکیم کی اس آیت کریمہ کا مصداق دنیا میں اس قادیانی ربوہ کے سوا اور کہاں ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ حضرات علمائے حق کے پاس ایسے ذرائع و وسائل نہ تھے نہ ہیں کہ وہ اس پروپیگنڈے کے جواب میں اپنی آواز کو اسی پیمانے پر دنیا تک پہنچا سکیں مگر انہوں نے اپنی کوششیں اس دجل و فریب کا پردہ چاک کرنے کیلئے جاری رکھیں اور اس کے لئے قتل و قید وغیرہ کی طرح طرح کی اذیتیں اور مشقتیں برداشت کیں۔ یہاں تک کہ قادیانی پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ ان کے اس دجل و فریب کا پردہ دنیا کے سامنے چاک ہوا۔ حقیقت حال سب کے سامنے واضح ہوگئی اور اب جبکہ راقم آثم اپنی اس تفسیر کی پروف ریڈنگ کے دوران ان سطور کا اضافہ کر رہا ہے مسلمانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا کردیا گیا کہ ربوہ کے اس نام کو تبدیل کیا جائے کہ اس کے پیچھے بہت بڑا دجل کارفرما ہے۔ اور قادیانیوں کے دجل و فریب میں لپٹی ہوئی اس سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا۔ اور علمائے حقانیین کے ایک عظیم مجاہد مولانا منظور احمد چنیوٹی ۔ حفظہ اللہ ۔ رکن صوبائی اسمبلی کی پنجاب اسمبلی میں اس بارے میں پیش کردہ قرارداد کو بھاری اکثریت سے بلکہ پورے ہاؤس کے اتفاق سے پاس کردیا گیا جسکے بموجب اس نام کو بدل دیا گیا اور صوبہ پنجاب میں واقع " ربوہ " کے شرانگیز نام سے موسوم کردہ اس خطے کا نام اب چناب نگر رکھ دیا گیا ہے۔ اس طرح گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے جاری حضرات علمائے کرام کی کوششیں بار آور ہوئیں ۔ فالحمد للّہ رب الْعَالمین الذی لَا تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ اِلَّا بِتَوْفِیْقِ مِّنْہُ جلّ وعَلا ۔ بہرکیف حق غالب اور باطل مغلوب ہو کر رہا اور دنیا کو اس بڑے دجل و فریب سے آگہی ہوگئی ۔ فالحمدللہ ۔ اللہ تعالیٰ حق اور اہل حق کو ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور ہر شر سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اے پیغمبرو، تم کھاؤ پیو پاکیزہ چیزوں میں سے اور کام کرو نیک بلاشبہ میں ان تمام کاموں کو جو تم لوگ شب و روز کرتے ہو پوری طرح جانتا ہوں،

69 حضرات انبیاء و رسل کو ایک خاص ہدایت : کہ تم کھاؤ پیو پاکیزہ چیزوں سے اور کام کرو نیک "۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اے پیغمبرو ! تم کھاؤ (پیو) پاکیزہ چیزوں سے اور نیک کام کرو "۔ یعنی اپنے اپنے دور میں ہر پیغمبر کو اس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ اور اس کے مطابق انہوں نے اپنی اپنی امتوں کو اس کی تاکید و تلقین فرمائی۔ (الصفوۃ، المدارک وغیرہ) ۔ ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام انبیائے کرام کو کہیں ایک جگہ جمع فرما کر ان سے یہ ارشاد فرمایا گیا تھا۔ سو یہ ایسے ہی جیسے کہا جائے " یا تُجَّارُ اِتَّقُوْا الرِّبَائَ " ۔ " تاجرو ! سود سے بچنا "۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو یہی ہدایت فرمائی گئی کہ تم پاکیزہ چیزوں سے کھاؤ پیو اور نیک عمل کرو۔ اور انہوں نے آگے اپنی امتوں کو اسی کی تعلیم فرمائی کہ تم لوگ حلال اور پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ پیو اور نیک عمل کرو۔ مگر ان لوگوں نے اس کی پرواہ نہ کی اور اس کے برعکس انہوں نے بہت سی طیبات اور پاکیزہ چیزوں کو اپنے توہمات اور طرح طرح کے مفروضوں کی بناء پر حرام قرار دے دیا اور بہت سی خبائث کو حلال۔ اور اس طرح وہ دوہرے نقصان میں واقع ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو اپنانے اور اپنائے رکھنے کی توفیق بخشے ۔ آمین 70 اللہ اپنے بندوں کے تمام اعمال کو پوری طرح جانتا ہے : سو آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ " بیشک میں تمہارے سب کاموں کو پوری طرح جانتا ہوں "۔ اور اسی کے مطابق میں تم سب کو بدلہ دوں گا۔ (محاسن التاویل) ۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ یہ وعید سب کو شامل ہے۔ تو جب حضرات انبیائے کرام کا بھی یہ حال ہے تو پھر باقی لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ (القرطبی بحوالہ صفوۃ التفاسیر) ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں تہدید و وعید بھی ہے اور تسلیہ و تسکین بھی کہ اگر تم لوگ نیک عمل کرو گے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں اور تم کو اس کا پورا پورا صلہ و بدلہ دونگا۔ اور اگر تم نے برائی کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس کو بھی میں پوری طرح جانتا ہوں۔ وہ بھی میرے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس کا بھگتان بھی تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اب ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ وہ کیا اور کیسا عمل کرتا ہے۔ وہ کہاں اور کس حال میں ہے اور وہ اپنے لیے کس نتیجہ وانجام کی توقع رکھتا ہے۔ اس کو کیا کرنا چاہیے اور وہ کیا کر رہا ہے " فحاسبوا انفسکم قبل ان یحاسب علیکم وزنوا اعمالکم قبل ان توزن علیکم ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہاری یہ امت دین و ایمان کے لحاظ سے ایک ہی امت ہے جس کی اساس یہ ہے کہ میں ہی رب ہوں تم سب کا پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو

71 تمام انبیائے کرام کی دعوت ایک ہی رہی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں۔ پس تم سب مجھ ہی سے ڈرو "۔ " امت " کا لفظ ایسی جماعت اور گروہ کے لئے آتا ہے جو ایک خاص عقیدئہ و مسلک کے رشتے میں منسلک ہوں۔ اور حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ چونکہ سب کے سب ایک ہی دین پر تھے جو کہ اسلام ہے، جو کہ عبارت ہے اسلام لوجہ للہ سے۔ یعنی اپنے آپ کو اللہ پاک کے حوالے اور سپرد کردینا۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاِسْلامُ } ۔ سو تمام انبیائے کرام کا دین یہی ایک دین تھا جس کی اصل اور اساس متین توحیدِ رب العلمین ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سب نے اسی کی دعوت دی۔ اور جو کچھ اختلاف اس ضمن میں تھا وہ صرف فروع میں تھا۔ اس لئے ان تمام حضرات کو ایک ہی امت قرار دیا گیا۔ (ابن جریر، روح، قرطبی، محاسن اور مراغی وغیرہ) ۔ اس کے علاوہ امت کے اور بھی کئی معنیٰ آتے ہیں جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کا دین ایک ہی دین رہا۔ اور ان سب کی ملت ایک ہی ملت کہ معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ پس سب بندگی بھی اسی کی کرو اور ہمیشہ ڈرتے بھی اسی سے رہا کرو کہ وہی ہے جو ڈرنے کے لائق ہے۔ اور وہی ہے جو بخشنے کے لائق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کے باوجود ان کی امتوں نے طرح طرح کی اہواء و اَغراض کے مطابق آپس میں اختلاف کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا، ہر گروہ اسی ٹکڑے پر مگن اور مست ہے جو اس کے پاس ہے

72 تفریق دین کے جرم کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو حضرات انبیائے کرام نے تو ایک ہی دین کی دعوت دی مگر ان کی امتوں نے اس کے باوجود اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرات انبیاء و رسل کا دین بھی ایک تھا اور ان سب کی دعوت بھی ایک تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان کی امتوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا آپس میں اپنے دین کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جن کو حضرات انبیائے کرام نے ایک ہی دین و ملت کی تعلیم و تلقین فرمائی تھی انہوں نے آگے مختلف ناموں سے کئی دین بنا لئے۔ کوئی یہودی بن گیا، کوئی نصرانی، کوئی مجوسی اور کوئی کچھ اور۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو دین حق تو ایک ہی دین تھا اور ایک ہی ہے۔ اور حضرات انبیائے کرام نے اسی ایک دین کی دعوت دی تھی اور سب کو اسی کی طرف بلایا تھا۔ لیکن مختلف لوگوں اور ان کے نام نہاد مذہبی پیشواؤں نے اپنی مختلف اہواء و اَغراض اور خواہشات نفس کی بناء پر اس میں تفرقہ ڈالا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اور انہوں نے جانتے بوجھتے اور کھلے دلائل آجانے کے باوجود ایسے کیا۔ محض اپنی اہواء و اَغراض اور آپس کی ضد کی بناء پر۔ جیسا کہ سورة بقرۃ کی آیت نمبر 213 میں اس کی تصریح فرمائی گئی۔ سو اس آیت کریمہ میں صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ سب لوگ ایک ہی امت اور ایک ہی طریقے پر تھے۔ پھر جب انہوں نے اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق مختلف طریقے اور راستے اپنا لیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے رسول بھی بھیجے اور ان کے ساتھ اپنی کتابیں بھی اتاریں تاکہ اس طرح وہ لوگوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ کرسکے۔ مگر ان لوگوں نے کھلے اور واضح دلائل آجانے کے باوجود آپس میں ضد کی بنا پر اختلاف کیا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ان اختلافات کے بارے میں نور ہدایت سے نوازا جو ایمان لائے اس کے اذن سے۔ اور اللہ تعالیٰ نور ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف۔ (البقرۃ : 213) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 73 ہر گروہ اپنے ہی ٹکڑے پر مست ہے : سو اصل حقیقت تو یہی تھی اور یہی ہے کہ سب انبیائے کرام کی دعوت ایک ہی تھی۔ اور سب کا دین ایک ہی دین تھا۔ لیکن بعد میں لوگوں نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اس کے نتیجے میں ہر گروہ اپنے اسی ٹکڑے پر مست ہے جو اس کے پاس ہے۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں اور کامیابی کی راہ پر چل رہا ہوں۔ وہ اس بارے میں سوچنے اور غور و فکر سے کام لینے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا کہ حق اور حقیقت کیا ہے۔ تو پھر ایسوں کو حق اور ہدایت کا نور کیسے مل سکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بعینہ یہی بات تمام انبیائے کرام کی دعوت کا حوالہ دینے کے بعد سورة انبیاء میں ارشاد فرمائی گئی۔ ملاحظہ ہو سورة انبیاء آیت نمبر 92 تا 93 ۔ سو اس حقیقت کو اس طرح تکرار و تاکید کے ساتھ بیان کر کے واضح فرما دیا گیا کہ سب انبیائے کرام کی دعوت ایک ہی دعوت اور سب کا دین ایک ہی دین تھا۔ لیکن بعد میں لوگوں نے اپنی اہواء و اَغراض کی بناء پر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اور ہر گروہ اپنے ٹکڑے پر ایسا مست و مگن ہوگیا کہ حق بات سننے کو بھی تیار نہیں ہوتا ۔ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ ۔ اور حق اور حقیقت بہرحال کل کی طرح آج بھی یہی ہے کہ دین حق ایک ہی دین تھا اور ایک ہی ہے۔ یعنی اسلام جو کہ دین فطرت ہے اور جو اس کائنات کا دین ہے۔ اور نجات کی راہ وہی ہے جو اس دین نے پیش فرمائی ہے اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 23:54–55

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

پس تم چھوڑ دو ان کو ان کی مدہوشی میں کہ یہ اسی میں پڑے رہیں1 ایک وقت تک

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو مال اور اولاد میں جو کچھ ترقی دئیے چلے جا رہے ہیں

74 ہٹ دھرموں سے منہ موڑنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم چھوڑ دو انکو ان کی ۔ غفلت و مدہوشی ۔ میں ایک وقت تک "۔ یعنی ان کی موت کے وقت تک کہ اس سے پہلے ان کی آنکھیں کھلنے والی نہیں۔ سو اس وقت اصل حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیں گے اور ان کو پورا پتہ چل جائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون ؟ اور اس وقت یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان پوری طرح بھگت کر رہیں گے۔ پس آپ اس کی فکر میں نہ پڑیں۔ ان کو انکے اپنے آخری انجام تک چھوڑ دیجیئے۔ اور یہی طریقہ لائق ہے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے۔ کیونکہ جو حق سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے ان کو منہ لگانے اور ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں سوائے تضییع اوقات اور تکلیف نفس کے۔ کیونکہ پتھر پر جب جونک لگ سکتی ہی نہیں تو پھر اس کے لیے محنت کرنے اور مشقت میں پڑنے کا فائدہ ہی کیا ؟ پس ایسے ہٹ دھرموں کو جو کہ حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہ ہوتے ہوں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے یہاں تک وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں۔ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 23:56–58

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

وہ کوئی ان کے لیے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔2

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بیشک بھلائیوں میں سبقت کرنے والے لوگ وہ ہیں جو کہ اپنے رب کی عظمت وہیبت سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

جو اپنے رب کی آیتوں پر سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں

75 منکرین کے لیے ان کا مال ودولت کوئی خیر کی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو جو ان کے مال واولاد میں بڑھاوا دے رہے ہیں کیا اس سے ہم ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ [ نہیں اور ہرگز نہیں ] بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکر لوگ اصل حقیقت کے احساس و شعور سے عاری اور محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ اور اپنے سود و زیاں اور نفع و نقصان کا۔ اور یہ لوگ جانتے نہیں کہ یہ امہال و استدارج ہے جس کا نتیجہ و انجام دائمی تباہی اور ابدی خسران ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر یہ ہیں کہ استدراج کے اس پھندے کو اپنے لیے انعام کا تمغہ سمجھتے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اپنی گردنیں اس کیلئے اور بڑھائے جارہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے امہال خداوندی اور اس کی چال کا کہ وہ بڑی ہی سخت اور انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔ اس قدر کہ اس کا سمجھنا بھی ایسے لوگوں کے بس میں نہیں رہتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی ۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ وَاُمْلِیْ لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ} ۔ (القلم :44-45) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:59

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

جو اپنے رب کے ساتھ کسی طرح کا شرک نہیں کرتے،

76 خوف و خشیت خداوندی ایک اہم اور بنیادی صفت : سو اس سے کامیاب ہونے والوں کی بعض ان اہم صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و سرشار کرتی ہیں۔ سو کامیاب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے "۔ خواہ وہ شرک جلی ہو یا خفی۔ وہ ہر ایک سے بچتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شرک سب سے بڑا اور نہایت ہولناک گناہ ہے۔ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے اور یہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی عزت و عظمت اس کے اخلاق و کردار سے ہے اور عمدہ اور پاکیزہ صفات وہی ہوسکتی ہیں جن کی تعلیم و تلقین حق جل مجدہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ نے فرمائی ہو۔ ان میں جتنا آگے بڑھے گا اتنا ہی وہ بلند مرتبہ پائے گا ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ایسا کہ جو اس کی رضا و خوشنودی سے سرفراز کرنے والا ہو ۔ وہو العزیز الوہاب سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 23:60–62

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ دیتے ہیں اللہ کی راہ میں جو کچھ کہ ان کو دینا ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں، اس عقیدہ و احساس کی بناء پر کہ ان کو بہرحال اپنے رب کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے،

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جو دوڑتے ہیں بھلائیوں کی طرف اور یہی ہیں سبقت کر کے انکو پالینے والے3

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

ہم کسی بھی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک ایسی کتاب ہے (یعنی ہر شخص کا نامہ عمل) جو کہ (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتادے گی، اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہ ہوگا،

77 اللہ والوں کی شان انفاق کا خاص اور امتیازی پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں " خواہ ان کا وہ خرچ و انفاق فرض زکوٰۃ ہو یا کوئی نفلی صدقہ و خیرات کہ کلمہ { ٔما } کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کا یہ دیا اللہ کی راہ میں قبول ہوگا یا نہیں۔ اور یہ اس کی شان اور اس کی رضا کے لائق ہے کہ نہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے حضور ﷺ سے اس آیت کریمہ کے مصداق کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمائی۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ سو مومن صادق کی یہ خاص امتیازی شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کرتے ہوئے بھی اس سے لرزاں وترساں رہتا ہے کہ کیا پتہ کہ یہ اس خالق ومالک کے یہاں شرف قبولیت سے مشرف و سرفراز ہو سکے گی یا نہیں۔ اور یہ نتیجہ ہوتا ہے ان کی انابت و رجوع الی اللہ کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی وعلی ما یحب ویرضی جل وعلا - 78 انابت و رجوع الی اللہ صلاح و اصلاح کی اصل اساس و بنیاد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کا خرچ و انفاق کسی دکھلاوے اور نمود و نمائش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو بہرحال اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اور پتہ نہیں کہ وہاں کیا صورت پیش آئے گی۔ ہمارا دیا قبول ہوگا یا نہیں۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مومن نیکی کر کے بھی ڈرتا رہتا ہے اور منافق برائی کر کے بھی بےخوف رہتا ہے۔ اور مسند امام احمد (رح) اور سنن امام ترمذی (رح) وغیرہ میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ میں کن لوگوں کا ذکر ہے فرمایا گیا ہے ؟ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ کیا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو زنا اور چوری وغیرہ جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں اے صدیق کی بیٹی، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز روزہ کرتے اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں مگر پھر بھی وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے یہ اعمال قبول ہوں گے یا نہیں " ۔ لَا یا ابنۃ الصّدیق وَلٰکِنْ ھو الرّجُلُ الّذِیْ یُصَلِّیْ ویَصُوْمُ وَیَتَصَدَّقُ وَیَخَافُ اَلَّا یُقْبَلَ مِنْہُ " ۔ (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن، صفوۃ اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سچے پکے اور صدق و خلوص والے ایمان و یقین کا اثر و نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

مگر یہ لوگ ہیں کہ ان کے دل اس سے غفلت اور مدہوشی میں پڑے ہیں اور اس فساد عقیدہ کے علاوہ ان کے کچھ اور اعمال بھی ایسے ہیں جن کو یہ لوگ کرتے رہتے ہیں

80 منکروں کے دل غفلت میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے دل اس سے غفلت میں پڑے ہیں۔ اور ان کو خیال و احساس تک نہیں کہ جو کچھ یہ کہہ اور کر رہے ہیں وہ کہیں درج ہو رہا ہے۔ اور یہ پورا ریکارڈ کل قیامت کے روز ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پس یہ مشرک اور محروم لوگوں کا حال اور ان کا وصف ہے نہ کہ ان سچے اہل ایمان کا جن کی صفات اوپر بیان ہوئیں۔ جیسا کہ بعض حضرات نے ایسے کہا کہ یہ قرآن پاک کے دوسرے نظائر کے خلاف اور ذوق سلیم کے بھی منافی ہے۔ (تفسیر القاسمی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا کہ ان منکر اور متکبر لوگوں کا اصل مرض غفلت اور لاپرواہی ہے۔ سو یہ غافل ہیں اپنی آخرت اور اپنے انجام سے۔ اور اسی بناء پر یہ لوگ پیغمبر کے انذار اور ان کی تبلیغ پر کان نہیں دھرتے۔ اور ان امور کی طرف توجہ نہیں کرتے جو ان کو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں کام آئیں گے۔ بلکہ ان کی دلچسپی کے کام کچھ اور ہی ہیں جن میں یہ دن رات محو اور منہمک رہے ہیں۔ جن کا تعلق ان کی خواہشات کی تکمیل، دنیاوی مفادات کی تحصیل اور مادی فوائد و منافع سے ہوتا ہے اور بس۔ اور یہی حال ابنائے دنیا کا کل تھا اور یہی آج ہے کہ دنیا اور اس کی وقتی لذات ہی ان کیلئے سب کچھ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ اپنی رفاہیت اور خوشحالی کو اپنی صداقت اور نیک مآلی کی دلیل سمجھے بیٹھے ہیں۔ سو یہاں پر اس اضراب کا تعلق ان متکبرین کے اسی مغالطے سے ہے۔ اوپر ان کی اس مغالطے کے ذکر کے بعد کلام کا رخ اہل ایمان کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر اسی سلسلہ کلام کی طرف عود فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اپنی خرمستیوں میں اس طرح کھوئے ہوئے ہیں کہ ان کے لیے اہل ایمان کی ان عمدہ صفات اور اعمال خیر میں کوئی کشش نہیں جن کا ذکر اوپر آیات نمبر 57 تا 60 میں فرمایا گیا ہے۔ سو یہ ایسے ہی غافل اور خواہشات بطن و فرج کے تقاضوں کے تحصیل و تکمیل میں محو و منہمک رہیں گے یہاں تک کہ ان کو خداوند قدوس کا وہ عذاب آدبوچے گا جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو اپنے اعراض و انکار اور عجب و غرور کی بنا پر بنادیا۔ اور اس طور پر کہ پھر ان کے لیے اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ اور یہی ہے سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 23:64–65

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

اور یہ لوگ ایسے ہی غفلت و مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ جب ہم عذاب میں پکڑیں گے ان کے خوشحال اور عیش پرست لوگوں کو تو ان کا سب نشہ ہرن ہوجائے گا اور یہ چلانے لگیں گے،

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ اب چلاؤ مت کیونکہ ہماری طرف سے اب تمہاری کوئی مدد نہیں ہونے کی،

81 منکرین و مستکبرین پر اللہ کا عذاب اور اس کی مختلف شکلیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر اور مستکبر ایسے ہی غفلت اور مدہوشی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ اچانک آپکڑے گا ان کو ہمارا عذاب۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس سے مابعد الموت کا عذاب مراد لیا ہے لیکن اکثر حضرات اہل علم اور جمہور مفسرین کرام کے نزدیک اس سے مراد دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے۔ جیسے عذاب بدر وغیرہ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، مدارک، خازن، صفوۃ البیان، اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور ایسے عذاب اس دنیا میں طرح طرح کی صورتوں اور شکلوں میں آتے رہتے ہیں تاکہ منکر اور باغی لوگ اپنے کئے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس نے سنبھلنا ہو وہ سنبھل جائے۔ سو کبھی یہ عذاب کسی طوفان اور زلزلے کی شکل میں آتا ہے۔ کبھی کسی آگ اور حادثے کی صورت میں اور کبھی کسی جنگ اور دوسری تباہی کی شکل میں اور کبھی کسی قحط سالی اور بھوک مری کی صورت میں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ جیسا کہ ہمارے اس دور میں بھی اس کی طرح طرح کی مثالیں ہمارے سامنے وجود میں آتی رہتی ہیں اور وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر لوگوں کو عبرت پذیری کی دعوت دیتی رہتی ہیں ۔ چناچہ اس کی ایک تازہ مثال جو ابھی چند ہی سال قبل ہمارے سامنے رونما ہوئی دنیا کی اپنے دور کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور روس جو کہ افغانستان میں ان نہتے مجاہدوں سے ٹکرا کے اب پاش پاش ہوگئی ہے جو کہ ظاہری اسباب و وسائل کے لحاظ سے خالی لیکن قوت ایمانی سے لیس اور سرشار تھے۔ یہاں تک کہ سابقہ سوویت یونین کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ پھر بچے کھچے روس میں قحط سالی اور بھوک مری سے یہ حالت ہوگئی کہ وہ دنیا ساری سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوگیا اور دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کی طرح پاکستان جیسے محدود وسائل کے ترقی پذیر ملک کی طرف سے بھی اس کو اسی ہفتے دس ہزار ٹن چاول کی بھیک دی گئی۔ اور جیسا کہ روس ہی میں کچھ سال قبل چرنوبل کے ایٹمی پلانٹ سے رسنے والی گیس سے ایک ہولناک تباہی پھیلی۔ جس سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں اپاہج، معذور اور ہمیشہ کے لیے بیکار ہو گیے۔ اور جیسا کہ ایڈز کی بیماری کی صورت میں اس کی ایک اور مثال موجود ہے جس سے آج ساری دنیا خوف و ہراس میں مبتلا ہے۔ سو ایسے ایسے عذاب قدرت کی طرف سے آتے رہتے ہیں تاکہ باغیوں اور سرکشوں کو اپنے کئے کا کچھ پھل ملے اور دوسروں کو عبرت ہو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَاب الاَدْنٰی دُوْنَ العَذَاب الاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ۔ (السجدۃ۔ 21) لیکن غافل دنیا پھر بھی عبرت نہیں پکڑتی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ جبکہ منکروں کے لیے اصل عذاب تو آخرت میں ہوگا جو کہ بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

تم وہی تو ہو کہ اس سے پہلے جب میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں، تو تم اپنے کبر و غرور میں الٹے پاؤں پھر جایا کرتے تھے،1

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

اپنی بڑائی کا1 گھمنڈ کرتے ہوئے اس قرآن کو مشغلہ بناتے ہوئے اور بکواس کرتے ہوئے،2

82 اللہ کی آیتوں سے الٹے پاؤں پھرنا محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جانی چاہیے تھیں مگر تم لوگ ہماری آیتوں سے الٹے پاؤں پھر جایا کرتے تھے اور ان پر کان نہیں دھرتے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس کتاب حکیم سے منہ موڑنا دراصل عذاب الہٰی کو دعوت دینا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور طرح طرح کے ان عذابوں سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود میں قرآن پاک کی طرف سچے دل سے رجوع ہوجائے۔ اس پر صحیح و سچا ایمان لے آئے اور اس کے ارشادات و ہدایات کے مطابق اپنا عقیدئہ اور عمل درست کرلے۔ سو یہ کتاب حکیم اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو امن وامان کی نعمت و دولت سے سرشار کرتی ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا تَوْفِیْقًا وَّ صِدْقًا واِخْلاصًا ۔ بہرکیف غافل لوگوں نے ہمیشہ عذاب کے آنے پر چیخنا چلانا شروع کیا تو اس کے جواب میں ان کو اس طرح رسواء و ذلیل کیا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے اعراض و روگردانی اور ان سے الٹے پاؤں پھرنا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کے برعکس اس کتاب حکیم پر سچا پکا ایمان اور اس سے دلی تعلق و اشتغال، اس کو سیکھنا سکھانا اور اس کی تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنانا اور ان پر عمل پیرا ہونا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

تو کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی انوکھی چیز آگئی ہے، جو ان کے پہلے بڑوں کے پاس نہیں آئی تھی ؟

85 قرآن حکیم کے بارے میں غور و فکر کی دعوت وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے کبھی اس کلام کے بارے میں غور نہیں کیا ؟ تاکہ یہ اس کی حقیقت کو جانتے اور اس کی عظمت کو پہنچانتے۔ یعنی ان کو اس بارے غور و فکر سے کام لینا چاہئے۔ تاکہ اس کے نتیجے میں یہ نورحق و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہوسکیں اور دائمی ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں۔ سو اس ارشاد میں زجر و تحضیض ہے کہ یہ لوگ اس کلام حکیم میں غور و فکر سے کام لیں۔ آخر یہ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے۔ کیا ان لوگوں کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں یا یہ اس سے اس لیے بدکتے ہیں کہ ان کے پاس وہ کچھ آگیا جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آیا۔ سو اگر ایسا ہے تو آخر یہ اپنی ناک سے آگے کیوں نہیں دیکھتے۔ یہ لوگ اپنے قریب کے ان آباؤ اجداد کو تو دیکھتے ہیں جو علم کی روشنی سے محروم ہونے کے باعث کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے پڑے تھے۔ لیکن یہ اپنے آباؤ اجداد کے مورث اعلیٰ اور جدِّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو کیوں نہیں دیکھتے جو اسی دین فطرت اسلام پر قائم تھے۔ سو اگر یہ لوگ قرآن حکیم کی تعلیمات مقدسہ کو اپنے مشرک باپ دادا کی روایات کے خلاف سمجھ کر ان سے بدکتے ہیں تو یہ ان کی بڑی جہالت و حماقت اور ہٹ دھرمی ہے۔ باپ دادا کا طریقہ بجائے خود کوئی سند اور دلیل نہیں ہوتا بلکہ اس کو عقل و نقل کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور پھر یہ لوگ اپنے انہی باپ دادا کی لکیر کے فقیر کیوں بنے ہوئے ہیں جو دین سے بیخبر اور علم کی روشنی سے محروم تھے۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل جیسے باپ دادا کو کیوں نہیں دیکھتے جو ان کے جدِّ امجد اور مورث اعلیٰ تھے اور جن کے ساتھ اپنے انتساب پر یہ فخر بھی کرتے ہیں۔ سو ان کو ان ہی کے نقش ِ قدم پر چلنا چاہیے تاکہ ان کا بھلا ہو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا انہوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا تو انجان ہونے کی وجہ سے یہ اس کے منکر ہو رہے ہیں ؟

86 کیا ان لوگوں نے اپنے رسول کو پہچانا نہیں ؟۔ سو یہ بات بھی نہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کے حسب و نسب اور آپ ﷺ کی صداقت و امانت سے پوری طرح واقف و آگاہ تھے اور ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کا یہ انکار اور یہ مخالفت دراصل حسد کی اس آگ کی بناء پر ہے جس میں یہ لوگ جل رہے ہیں۔ اور اتباع ہویٰ کے اس سنگین روگ کے باعث ہے جس میں یہ مبتلا ہیں۔ اور حسد اور اتباع ہویٰ کے یہ دونوں روگ ایسے سنگین اور ہولناک روگ ہیں جو انسان کو حق کے نور اور ہدایت کی دولت سے محروم کردیتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کیلئے یہ بات واضح رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی آگہی اور ان پر اتمام حجت کیلئے اپنا رسول بھیجتا ہے تو وہ مرحلہ اس قوم کیلئے بڑا اہم اور نہایت ہی نازک ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے بعثت رسول کی اس عظمت کو پہچانا اور وہ صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ انکو اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے اور ان کو تمکین فی الارض کے شرف سے مشرف فرماتا ہے۔ اور اگر اس کے برعکس ان لوگوں نے کفر و انکار کا مظاہرہ کیا اور اس انتہائی نازک اور حساس معاملے میں لاپرواہی برتی اور لا ابالی پن سے کام لیا تو انکو فنا کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ سو اس قدیمی سنت الہی کی بناء پر نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے قریش کے لوگ بالخصوص اور دوسری قومیں بالعموم بڑے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر آئیں۔ اگر یہ ایمان لائے تو عزت پاگئے ورنہ مارے گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد میں قریش کے لیے ان کی ناعاقبت اندیشی پر تنبیہ ہے کہ یہ ہوش کے ناخن لیں۔ اور اپنے رویے کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مبتلائے عذاب ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اتنی ظالمانہ اور احمقانہ بات کہتے ہیں کہ اس شخص کو جنون ہوگیا ہے ؟ نہیں ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہوسکتی بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ رسول ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ان لوگوں کی اکثریت کو حق کا نور ہی ناگوار ہے

87 لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگوں کی اکثریت کو حق ناگوار ہے۔ کیونکہ حق کی پیروی سے ان کی نفس پرستی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے راستے بند ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کے اندر کا زیغ و ضلال ان کے لئے حق پرستی سے مانع ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک بڑے اہم اور خطیر مرض کی تشخیص اور نشاندہی فرما دی گئی ہے جو کہ افراد کے اندر بھی رہا اوراقوام و ملل کے اندر بھی۔ جو کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بلکہ آج تو وہ پورے عروج پر ہے۔ اور وہ مرض خطیر ہے اتباع ھویٰ کا مرض۔ جسکے بعد اس مرض میں مبتلاء انسان کو حق کا سننا اور قبول کرنا گوارہ نہیں ہوتا اور اس کے لئے سب سے زیادہ گراں شے اور ناگوار چیز نور حق و ہدایت ہی ہوتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور آج یورپ و امریکہ وغیرہ تمام مشرق و مغرب کے مادہ پرست معاشرے کی اصل اساس و بنیاد یہی اتباع ھویٰ ہے۔ جسکو ان لوگوں نے اساس و بنیاد کے طور پر طے اور تسلیم کر رکھا ہے کہ ہر کوئی اپنی خواہش کی تکمیل جیسے اور جس طرح چاہے کرے۔ اس کو اس سے کوئی نہیں روک سکتا سوائے اس کے کہ اس کی خواہش دوسرے کی خواہش پرستی میں حارج اور رکاوٹ بنے۔ اور اس طرح یہ لوگ اتباع ھویٰ کے ہولناک گڑھے میں گر کر خالص حیوان بن کر رہ گئے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئے ہیں اور۔ { اُوْلٓئکَ کَالْاَنْعَام بَل ھُمْ اَضَلّ } ۔ کے کھلے اور صریح مصداق بن گئے ہیں جو کہ سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ہے۔ آخر انسان اگر انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر گدھے، بیل اور کتے، خنریز وغیرہ کی سطح پر آجائے بلکہ اس سے بھی نیچے پہنچ کر وہ اسفل السافلین بن جائے تو اس سے بڑھ کر ہولناک خسارہ اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ الّذِی لَا اِلٰہ اِلَا ھُوَ وَلَا مَعْبُوْدَ بِحَقٍّ سِوَاہ ۔ اور مزید یہ کہ ان کو اپنے اس خسارے کا احساس بھی نہ ہو۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر بفرض محال کہیں حق ان کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا تو کبھی کے تباہ و برباد ہوچکے ہوتے یہ آسمان اور زمین اور وہ سب مخلوق جو کہ ان کے اندر موجود ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم ان کے پاس ان کا ذکر لائے ہیں، مگر یہ ایسے بدبخت اور بےانصاف ہیں کہ اپنے ذکر ہی سے منہ موڑے ہوئے ہیں،

88 کائنات کا وجود حق کا مرہون منت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض کہیں حق ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگتا تو آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی یہ ساری کائنات کبھی کی تباہ و برباد ہوگئی ہوتی۔ کیونکہ یہ سب کچھ حق کے وجود ہی سے قائم اور اسی سے وابستہ ہے۔ اور اگر بفرض محال حق خود ان کی خواہشات کا تابع ہوجائے تو پھر ان کے بچنے کا کیا سوال۔ سو اس میں عقل و فکر رکھنے والوں کے لئے زبردست دعوت اور زور دار تلقین ہے۔ اس امر کی کہ وہ خواہشات نفس کے پیچھے چلنے کی بجائے صدق دل سے حق و ہدایت کی پیروی کریں۔ اور یہ توقع نہ رکھیں کہ حق ان کی خواہشات کی پیروی کریگا۔ کیونکہ ایسا بالفرض اگر ہوجائے تو آسمان و زمین کا سارا نظام حق پر قائم ہے۔ جبکہ تمہاری زندگی کا سارا معاملہ خواہشات نفس کی تکمیل پر مبنی ہے۔ اور خواہشات نفس اور حق کے درمیان تو بعد المشرقین ہے۔ اب اگر بالفرض حق ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو خیر کی جگہ شر، عدل و انصاف کی جگہ ظلم و زیادتی، نیکی کی جگہ بدی اور امانت کی جگہ خیانت و بددیانتی کا دور دورہ ہوجائے اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ ایمان و توحید کی جگہ کفر و شرک اور قیامت و آخرت کے عقیدئہ و یقین اور اس کے لیے تیاری کی بجائے انکار آخرت اور غفلت و لاپرواہی کا دور دورہ ہوجائے کہ اکثریت اور میجورٹی تو ایسے ہی لوگوں کی ہے۔ سو اگر ان عظیم الشان حقائق کی بجائے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی جانے لگے تو دنیا کی تمام اخلاقی قدریں اور ان پر مبنی مستحکم نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ اور اگر اس کے اندر شرک کے وجود کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر ساری بنیاد ہی ختم ہوجائے کیونکہ شرک کے ساتھ اس کائنات کا نظام ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ آگے اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 91 میں واضح فرمایا گیا ہے ۔ سو اصل چیز حق اور اس کی پیروی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 89 ذکر و تذکیر خداوندی سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم تو ان کے پاس ان کے ذکر لائے اور ان کی تذکیر و یاددہانی کا سامان کیا لیکن یہ اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ یعنی قران حکیم جو کہ ایک ایسی کامل اور بےمثال نصیحت ہے جس میں کسی نقص و کمی کا کوئی سوال و احتمال نہیں اور جس کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں اور جس کو اپنانے میں ان کی اپنی عظمت و ناموری بھی ہے اور حقیقی عزت اور رفعت بھی۔ سو یہ ان کے حصے کی تذکیر و یاددہانی ہے جو ہم ان کیلئے لائے ہیں۔ اور اس سے ان پر اتمام حجت کردی گئی۔ اب اگر یہ اس کی قدر کریں گے اور صدق دل سے اس پر ایمان لاکر اس کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کریں گے تو یہ خود ان کیلئے بہتر ہوگا۔ دنیاوی زندگی کی اس عارضی اور محدود فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ ورنہ یہ بھی اپنے اس ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں جو اس کے پہلے کے منکروں کو پیش آچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 90 ہٹ دھرمی کا نتیجہ اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم تو ان کے پاس ان کے حصے کی تذکیر و یاددہانی لائے تاکہ ان کے لیے سعادت دارین کا سامان ہو سکے۔ مگر یہ لوگ اپنے اس ذکر ہی سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح دنیا و آخرت کی خیرات و برکات کے اس منبع ومصدر سے منہ موڑ کر یہ لوگ شقاوت و بدبختی اور حرمان نصیبی کی راہ پر چل رہے ہیں جو کہ نتیجہ ہے ان کی ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو خداوند قدوس کے اتارے ہوئے ذکر اور اس کی ارشاد فرمودہ تذکیر و یاددہانی سے اعراض برتنا اور اس سے منہ موڑنا بڑے ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔