Ayahs 20:117–120122 حکم خداوندی کی خلاف ورزی کا نتیجہ تعب و مشقت ۔ والعیاذ باللہ : سو آدم سے فرمایا گیا کہ " کہیں شیطان تمہیں جنت سے نکلوا نہ دے کہ پھر تم مشقت میں پڑجاؤ۔ پس اس کے مکر و فریب سے بہرحال ہوشیار رہنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تم دونوں میاں بیوی کو جنت سے نکلوا دے اور اس کے نتیجے میں تم دنیا میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑجاؤ۔ اور بیوی چونکہ مرد کے تابع ہوتی ہے اس لیے اس کی اصل ذمہ داری مرد ہی پر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہاں { تشقی } مفرد کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ " تشقیا " تثنیہ کا صیغہ نہیں اختیار فرمایا گیا۔ بہرکیف شیطان کی پیروی اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معصیت کا نتیجہ تعب و مشقت میں مبتلا ہونا ہے۔ اس لیے حضرت آدم کو ہدایت فرمائی گئی کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور ہر طرح سے آرام و سکون اور راحت و اطمینان کی زندگی گزارو۔ لیکن شیطان اور اس کے شر سے ہمیشہ محتاط و ہوشیار رہنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں کسی گمراہی اور معصیت میں مبتلا کر کے تمہیں جنت سے نکلوا دے تو پھر تم محروم و نامراد ہو کر رہ جاؤ اور مشقت میں پڑجاؤ کہ یہ تمہارا ابدی اور کھلم کھلا دشمن ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے مفہوم مخالف کے طور یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جس طرح ابلیس کی پیروی مشقت و مصیبت میں پڑنے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و اتباع رحمتوں، برکتوں اور عنایتوں و سعادتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayahs 20:121–122124 معصیت خداوندی کا نتیجہ حلہ جنت سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس شجرئہ ممنوعہ سے کھا لینے کے بعد آدم اور حوا دونوں حلہ جنت سے محروم ہوگئے اور اس کے نتیجے میں ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے ظاہر ہوگئے۔ اور جنت کا وہ لباس ان دونوں سے اتر گیا جو ان کو اس سے پہلے میسر تھا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ننگا کرنا اور حیا سے عاری کردینا شیطان کا پرانا حربہ ہے۔ جس سے وہ بنی آدم کو بہکانے بھٹکانے کیلئے کام لیتا ہے۔ آج اسی شیطانی حربے کی بنا پر عریانیت کے طرح طرح کے نمونے اور مظاہر جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔ مگر دنیا اور خود مسلمان ہے کہ شیطان کے اس حربے اور طریقہ واردات سے غافل و لاپروا ہے ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اطاعت خداوندی انسان کے لیے ذریعہ عزت و شرف اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی و بہرہ مندی کا وسیلہ ہے۔ جبکہ اس سے محرومی لباس عزت و شرف سے محرومی اور باعث ذلت و خواری ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہم فخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
125 شرم و حیا انسانی فطرت کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حلہ جنت سے محرومی کے بعد " وہ دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے "۔ اپنے اس فطری شرم و حیا کی بناء پر جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی طبیعت وجبلت میں ودیعت فرما رکھا ہوتا ہے اور جو کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ جو منبع و سرچشمہ ہے کئی عظیم الشان خوبیوں اور خصلتوں کا۔ چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پہلی نبوتوں سے جو کلام متوارث چلا آیا ہے وہ یہ ہے کہ " جب تمہاری شرم و حیا ختم ہوجائے تو تم جو مرضی کرو "، " اِنَّ مِنْ کَلام النَّبُوَّۃِ الاُوْلٰی اِذَا لَمْ تَسْتَحْ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ "۔ سو شرم و حیا کی روک انسان کو طرح طرح کے ایسے مفاسد و مفاتن سے بچاتی ہے جن سے بچانے والی اور کوئی چیز نہیں رہ جاتی۔ اسی لئے ابلیس لعین نے سب سے پہلے اسی کو نشانہ بنایا۔ اور آج بھی وہ اور اس کی ذریت طرح طرح سے اس کے قلع قمع کے درپے ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور خاص کر ہمارے اس دور میں ٹیوی، وی سی آر اور ڈش انٹینا وغیرہ جیسے ذرائع سے جس طرح شرم وحیا کی اس متاع عزیز کو مٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان کی تباہ کاریوں کا پوری طرح اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ اللہ پاک ہی ان تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے۔ ورنہ ان کی ہلاکت خیزیوں سے بچنا بڑا ہی مشکل ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ من الشیطن و مکرہ -
126 حضرت آدم سے صدور معصیت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح حضرت آدم سے اپنے رب کی معصیت کا صدور ہوگیا۔ کہ انہوں نے اس شجرہ ممنوعہ سے کھالیا جس کے قریب جانے سے آپ کو منع فرما دیا گیا تھا۔ مگر چونکہ آپ کی یہ نافرمانی قصد و ارادہ سے نہ تھی بلکہ اس کا صدور بھول چوک اور شیطان کی دھوکہ دہی سے ہوگیا تھا جیسا کہ اوپر اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 115 میں اس کی تصریح فرما دی گئی۔ سو وہاں ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہ عَزْمًا } ۔ اس لئے حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے اس فعل کا صدور و ارتکاب نہ کوئی جرم تھا نہ گناہ۔ مگر آپ کی شان رفیع اور مقام بلند کی بنا پر اس کو معصیت کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا۔ لہذا اس سے عصمت انبیاء کے متفقہ اور اجماعی عقیدے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اہل بدعت کے بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے " اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی " مگر اول تو یہ ترجمہ نہیں بلکہ تشریح و توضیح کے قبیل سے ہے جس کی جگہ ترجمہ نہیں تفسیر ہوتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ لغزش ترجمہ ہے " زَلّ " کا۔ جبکہ آیت کریمہ میں " زَلَّ " نہیں " عَصٰی " فرمایا گیا ہے۔ جو کہ عصیان اور معصیت سے ماخوذ ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ جس سوال سے بچنے کے لئے ایسا کیا گیا وہ تو پھر بھی باقی اور بدستور ہے۔ لہذا بہتر اور عمدہ طریقہ یہی ہے کہ لفظ کو تو اپنے حقیقی معنیٰ و مفہوم ہی پر رکھا جائے اور تشریح و تفسیر میں اصل اور صحیح بات کو واضح کردیا جائے۔ جیسا کہ جملہ ثقہ مفسرین و مترجمین کرام نے کیا ہے۔ ہم نے جمہور اہل علم کے اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے ۔ والحمد اللّٰہ رب العالمین ۔ اور جمہور علماء و مفسرین کرام اس ارشاد کی توضیح و تشریح اس طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں " ای خالف آدم ربہ بالاکل من الشجرہ فضل عن المطلوب الذی ہو الخلود فی الجنۃ " (ابوالسعود، المراغی، المدارک، المحاسن اور المعارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے اولاد آدم کو یہ تنبیہ فرما دی گئی ہے کہ وہ ابلیس لعین اور اس کی ذریت کی دھوکہ دہی اور وسوسہ اندازی سے ہمیشہ ہوشیار اور چوکنا رہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ وَالْعِصْمَۃُ ۔ بہرکیف شیطان کی دھوکہ دہی کی بناء پر حضرت آدم سے معصیت کا صدور ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی ارشاد فرمودہ ہدایت پر قائم نہ رہ سکے جس کے نتیجے میں وہ صحیح راستے سے بھٹک گیے۔
127 معصیت باعث خسارہ و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ معصیت کا نتیجہ وانجام راہ حق و ہدایت سے بھٹک جانا ہے جو کہ ہولناک خسارہ اور سب سے بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا کہ " آدم سے معصیت سرزد ہوگئی اور اس کے نتیجے میں وہ بھٹک گیا "۔ یعنی بھٹک گیا راہ مطلوب سے۔ جو کہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری کی راہ ہے۔ اور جو کہ امن و سلامتی کی راہ اور دارین کی سعادت و سرخروائی کی کفیل وضامن ہے۔ اور حضرت آدم سے ایسا شیطان کے دھوکہ اور فریب کی وجہ سے ہوا تھا۔ نیز وہ شیطان کے اس دھوکہ و فریب میں اس بناء پر آگئے تھے کہ شجرئہ خلد سے کھانے کے نتیجے میں دوام و خلود کی نعمت سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس یہ کہ جنت سے ہی نکلنا پڑا اور شجرئہ خلد کے بارے میں ابو داؤد، طیالسی اور امام احمد (رح) نے حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ وہ جنت کا ایک ایسا عظیم الشان درخت ہوگا کہ ایک سوار سو سال تک اس کے سائے میں چلے گا تو بھی وہ اس کو طے نہیں کرسکے گا۔ (ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ مَا اَعَظَمَ شَانُہ وَمَا اَکْرَمَ اِنْعَامُہ ۔ سو اس ارشاد سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ معاصی وذنوب راہ حق و صواب سے محرومی کا باعث ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے " المعاصی برید الکفر " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 20:123129 سلامتی و نجات کی راہ حق و ہدایت کی پیروی و اتباع : سو راہ حق پر چلنا اور ہدایت قرآن کی پیروی کرنا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ اور سلامتی و نجات کا ضامن و کفیل ہے۔ اور ایسا شخص نہ دنیا میں راہ حق و صواب سے بھٹکے گا اور نہ اس کے نتیجے میں وہ دنیا و آخرت میں مشقت و تکلیف میں پڑے گا۔ جیسا کہ حاکم اور بیہقی (رح) وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کی پیروی کرنے والے کو دنیا میں گمراہی سے محفوظ رکھے گا اور آخرت میں شقاوت و بدبختی سے۔ اور پھر آپ ؓ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ سو ایمان و یقین والوں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی بشارت ہے۔ جیسا کہ سورة نحل کی آیت نمبر 97 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ نیز جیسا کہ ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کتاب اللہ کی پیروی کی وہ دنیا میں محفوظ ہوگیا گمراہی سے اور آخرت میں بچ گیا برے عذاب سے۔ (روح، قرطبی، مراغی، ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو ہدایت قرآن کی اتباع و پیروی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے اور اس سے محرومی دارین کی خیر و برکت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 20:124–125130 ہدایت قرآن سے روگردانی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآن سے روگردانی و محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی اور ہر خیر و برکت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ ایسا شخص دل کے امن و سکون اور زندگی کی حقیقی لذت سے محروم ہوگا اگرچہ وہ خزانہ قارون ہی کا مالک کیوں نہ ہو۔ اور پھر قبر میں ۔ جیسا کہ صحیح روایات میں وارد ہے ۔ قبر اس پر تنگ کردی جائے گی۔ اور اس پر ستر ایسے اژد ہے مسلط کر دئے جائیں گے جن میں سے ہر ایک کے سات سات منہ ہوں گے۔ اور وہ یوم حشر تک اس کو ڈستے رہیں گے۔ اور پھر اس کے بعد اس کے لئے آخرت کا دائمی عذاب ہوگا۔ (ابن کثیر، مراغی، فتح وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مومن کو اپنے ایمان و یقین کے باعث اور اس کتاب عظیم کی برکت سے دنیا میں دل کا سکون و اطمیان نصیب ہوگا۔ اگرچہ وہ معمولی جھونپڑے ہی میں رہتا ہو۔ اور اس کے تن کے کپڑے بھی سالم نہ ہوں۔ پھر قبر میں اس کو ایک عظیم الشان سبز باغیچے اور اس کی سعادت و سرخروئی سے نوازا جائے گا۔ اس کی قبر ستر ہاتھ کشادہ کردی جائے گی اور اس کو ایسی عمدہ روشنی بخشی جائے گی جو چودہویں کے چاند کی روشنی سے بھی بڑھ کر ہوگی۔ اور پھر آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں وہ دائمی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوگا ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ ۔ سو ایمان و یقین کی دولت وہ عظیم الشان دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازتی ہے کہ دنیا میں اس سے انسان کو حیات طیبہ ۔ پاکیزہ زندگی ۔ نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی ملتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جو ہمارے اس ذکر اور یاددہانی سے اعراض کرے گا اور منہ موڑے گا وہ سکون قلب اور شرح صدر کی دولت سے محروم اور ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس کے پاس آرام و راحت کے ظاہری اسباب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہی رہے گا۔ اور یہ ظاہری اسباب و وسائل محض دھوکے اور بھلاوے کا سامان ہیں۔ بھوک سے رونے والے بچے کے منہ میں چوسنی یا نپل دے کر کچھ دیر کے لیے تو اس کو بہلایا جاسکتا ہے لیکن اس سے بھوک بہرحال رفع نہیں ہوسکتی۔ بھوک صرف اسی صورت میں رفع ہوگی جبکہ اس کی ماں اس کو چھاتی سے لگا کر اسے دودھ پلائے گی۔
131 ہدایت قرآن سے محرومی سعادت دارین سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت قرآن سے منہ موڑنے والوں کے لیے آخرت کا انجام بھی نہایت ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ہدایت قرآن سے محروم انسان کو آخرت میں اندھا کرکے اٹھایا جائے گا کہ اس نے دنیا میں اپنے آپ کو نور حق و ہدایت سے خود محروم اور اندھا بنا رکھا تھا۔ اور کفر و انکار کے مہیب اندھیروں کو اس نے اپنے ارادئہ و اختیار سے خود اپنا رکھا تھا۔ سو آخرت کے اس نادیدہ جہاں میں جو کہ کشف و ظہور اور مشاہدئہ و بروز کا جہاں ہوگا اس کا اپنا اختیار کردہ یہ اندھا پن سب کے سامنے آجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ گونگا اور بہرہ بھی ہوگا کیونکہ اس نے دنیا میں اپنے آپ کو حق کے سننے اور دیکھنے سے اندھا بنا رکھا تھا اور حق و ہدایت کی آواز اس کے دل و دماغ تک پہنچنے ہی نہیں پاتی تھی۔ سو اس روز اس کا یہ اندھا، بہرا اور گونگا پن ظاہر ہو کر سب کے سامنے آجائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَ بُکْمًا وَ صُمًّا، مَاوَاہُمْ جَہَنَّمُ ، کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاہُمْ سَعِیْرًا } ۔ (بنی اسرائیل :97) ۔ یعنی نور حق و ہدایت کے ایسے منکروں کو ہم قیامت کے روز ان کے چہروں کے بل اندھا گونگا اور بہرا کر کے اکٹھا کریں گے۔ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جب اس کی آگ بجھنے لگے گی ہم اس کو اور بڑھا دیں گے۔ سو جو لوگ ہدایت قرآن سے مستفید ہونے کی بجائے اپنی آنکھوں، کانوں اور دل و دماغ کو بند کیے رہے اور انہوں نے اپنے آپ کو حیوانِ لا یعقل کی سطح پر اتار دیا ان کو کل قیامت کے اس یوم فصل میں اللہ تعالیٰ کی ان عظیم الشان نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں جانوروں کی طرح اندھا بہرہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ اور یہ ایسا ہولناک انجام اور بھیانک خسارہ ہے کہ پھر اس سے نکلنے اور خلاصی پانے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 20:126132 اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو بھلا دینا انتہائی ہولناک جرم : سو اس سے کہا جائے گا " دنیا میں تو نے ہماری آیتوں کو بھلا دیا تھا اور ان کو تو نے اس طرح پس پشت ڈال دیا تھا جس طرح کسی بھولی بسری چیز کو ڈالا جاتا ہے "۔ اور تو آنکھیں رکھنے کے باوجود ان سے اندھا بن گیا تھا۔ دنیاوی امور کے بارے میں تیری نظریں بہت تیز تھیں لیکن حق اور حقیقت کے دلائل کو دیکھنے اور سننے سمجھنے سے تو اندھا بہرہ بن گیا تھا۔ سو دنیا میں تیرا اپنا اختیار کردہ وہی اندھا پن آج تیرے سامنے ہے۔ اب تو اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگت اور اپنے سوا کسی اور کی ملامت مت کر۔ سو قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان اور بےمثال احسان ہے کہ اس نے آخرت کے ان غیبی حقائق سے جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں دنیا کو اس قدر صراحت اور وضاحت سے آگاہ فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی غفلت اور گہری غفلت میں ڈوبی پڑی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آنکھوں کانوں اور دل و دماغ کے یہ عظیم الشان قوائے علم وادراک اور ان قوتوں کی یہ عظیم الشان نعمتیں اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ نے اس لیے نہیں بخشی تھیں کہ انسان ان کو محسوسات کا غلام بنا دے اور بطن و فرج کی خواہشات کا پجاری بن کر رہ جائے۔ اور اس کے نتیجے میں انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت اور بہیمیت کے قعر مذلت میں پہنچ جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس کو اس نے ان عظیم الشان قوتوں اور نعمتوں سے اس لیے نوازا تھا کہ وہ ان کے ذریعے ان حقائقِ جلیلہ کا مشاہدہ کرے جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ پر نقش و ثبت ہیں۔ تاکہ اس طرح وہ اپنے باطن کو نور معرفت سے منور و سرشار کرسکے اور سعادت دارین سے بہرہ ور ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
133 آخرت کے ان اندھوں کی فریاد کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کے یہ اندھے جب اس روز شکایت اور فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں اندھا کر کے کیوں اٹھایا جبکہ دنیا میں ہم بہت تیز دیکھنے والے تھے۔ جواب ملے گا کہ " تم نے دنیا میں ہماری آیتوں کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج تم کو بھلایا جا رہا ہے "۔ یعنی دنیا میں تو تم لوگ واقعی بہت تیز دیکھتے تھے مگر اللہ کی آیتوں سے تم لوگوں نے نظریں پھیر رکھی تھیں۔ سو اسی طرح آج تجھ کو بھلایا جارہا ہے اور تمہیں یہاں کے ان حقیقی اور دائمی انعامات سے محروم کر کے چھوڑ دیا جائے گا اور تمہیں ایسا چھوڑ دیا جائے گا جیسا کہ کسی بھولی بسری چیز کو چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ ـوَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم ۔ سو جس طرح تم دنیا میں ہماری آیتوں سے منہ موڑے اور اندھا بنا رہا اسی طرح آج تجھ کو اس طرح چھوڑ دیا جائے گا اور تجھ سے وہی معاملہ کیا جائے گا جو اندھے کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:127134 آخرت کے عذاب کی ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور آخرت کا عذاب انتہائی سخت بھی ہوگا اور سب سے بڑھ کر دیرپا بھی "۔ کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ رہے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے اعراض اور محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے محرومی کا باعث اور موجب اذیت و عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جبکہ ذکر الہی سے سرفراز و شادکام رہنے والوں کیلئے آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی جنت ہے۔ یعنی دل کا سکون و اطمینان اور پاکیزہ زندگی۔ اسی لیے بعض اسلاف کرام نے فرمایا کہ جو دنیا کی جنت میں داخل نہیں ہوسکا وہ آخرت کی اس حقیقی اور ابدی جنت میں بھی داخل نہیں ہوسکے گا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے اللہ کے رسول نے حلقات ذکر کو جنت کے باغیچے " ریاض الجنۃ " قرار دیا۔ (ترمذی، کتاب الدعوات) ۔
Ayah 20:128135 پہلی قوموں کے انجام سے درس عبرت کی ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کو اس سے بھی کوئی ہدایت نہ مل سکی کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں "۔ جیسے قوم عاد، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ سو وہ انجام آج کے ان منکروں کا بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا قانون سب کے لئے ایک اور بےلاگ ہے۔ سو ماضی کی ان ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے دور حاضر کے ان منکروں کو درس عبرت لینا چاہیئے اور اپنی اصلاح کرلینی چاہیئے قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کی خسارے میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 20:129136 منکرین کی طرف سے مطالبہ عذاب کا جواب : سو یہ لوگ جو لاپرواہی سے اور استہزا کے طور پر کہتے ہیں کہ " ہم پر عذاب لاتے کیوں نہیں ہو "۔ سو واضح رہنا چاہیے کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہوتی کہ اتمام حجت سے پہلے کسی قوم کو عذاب نہیں دیا جائے گا (ابن کثیر، المعارف وغیرہ) یا یہ کہ امت محمدیہ پر پہلی قوموں کی طرح عذاب مستاصل نہیں آئے گا بلکہ ان کا معاملہ قیامت کے لئے اٹھا رکھا گیا ہے (کشاف مراغی وغیرہ) ۔ سو اگر تمہارے ربِّ رحمان و رحیم کی طرف سے ایسی بنیادی بات پہلے سے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان پر عذاب کبھی کا آگیا ہوتا۔ پس اس تاخیر و امہال سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ اس فرصت کو غنیمت جان کر اپنی اصلاح کی فکر و کوشش کرنی چاہیے۔
137 عذاب کا وقت مقرر ہے : سو اگر ان کے عذاب کیلئے ایک مدت مقرر نہ ہوتی تو وہ عذاب کبھی کا آگیا ہوتا۔ جس کے یہ لوگ اپنے کردار و عمل کے اعتبار سے مستحق ہیں۔ مگر چونکہ ان کے آخری فیصلے اور عذاب کے لئے قیامت کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے اس لئے یہ بچے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ } ۔ اور قیامت کے اس آخری اور ہولناک عذاب سے پہلے اس دنیا میں بھی مختلف قوموں پر جو عذاب آئے ہیں یا اب بھی آتے ہیں ان سب کے لیے سنت خداوندی کے مطابق ایک خاص وقت اور حد مقرر ہے جس کا تعلق قوموں کے اخلاقی زوال و بگاڑ سے ہوتا ہے۔ جب ان کا اخلاقی زوال و بگاڑ اس خاص حد تک پہنچ جاتا ہے تو ان کو دھر لیا جاتا ہے۔ سو ان منکرین کے عذاب میں جو دیر اور تاخیر ہو رہی ہے وہ سنت خداوندی اور اس کے طے کردہ قاعدے اور ضابطے کے مطابق ہو رہی ہے۔ اس لیے اس بارے میں کسی کو یہ غلط فہمی کبھی نہیں ہونی چاہیے کہ عذاب آئے گا ہی نہیں۔ اور یہ کہ یہ کوئی ہوائی بات ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ عذاب نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر رہنا ہے اس لیے عقلمندی کا تقاضا اس سے بچنے کی فکر کرنا ہے۔
Ayahs 20:130–131138 منکرین کی باتوں پر صبر و برداشت کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ان لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں صبر سے کام لیں "۔ یعنی ان کی ان باتوں پر جو یہ بناتے ہیں حق اور اہل حق کے خلاف اور ان کا معاملہ اپنے خالق ومالک ہی کے حوالے کردیں۔ وہ ان سب سے خود ہی نمٹ لے گا۔ اور کمال عدل و انصاف کے ساتھ نمٹے گا۔ سو یہ لوگ جو آپ کے بارے میں طرح طرح کی دلآزار اور دکھ دہ باتیں کرتے ہیں۔ کبھی آپ کو ساحر کہتے ہیں کبھی شاعر اور کبھی مجنوں وغیرہ۔ تو آپ اے پیغمبر ﷺ ان کی ایسی تمام باتوں پر صبر ہی سے کام لیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو پھر آپ کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ ان کی ایسی یا وہ گوئیوں کو کبھی خاطر میں نہ لائیں۔ اور صبر کی بنیاد درحقیقت اس عقیدے پر ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے ہوتا ہے۔ اور اس کی مشیت ومرضی تمام تر مبنی ہوتی ہے حکمت پر اور اس عقیدے کو دل میں راسخ اور ذہن میں مستحضر رکھنے کے لیے سب سے بڑا اور موثر ذریعہ ذکر الہی اور نماز ہے۔
139 صبر و استقامت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ذکر و تسبیح : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اپنے رب کی حمد وثناء کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو "۔ کہ یہ سب دکھوں کا علاج اور تمام غموں کا مداوا ہے۔ اور دلوں کی تقویت اور ان کے سکون کا ذریعہ و وسیلہ ۔ فَسُبْحاَنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ و سُبْحَان اللّٰہِ الْعظِیم ۔ سو رب کی حمد وثناء کے ساتھ اس کی تسبیح کرنا بندئہ مومن کا اور خاص کر داعی حق کی تسکین وتسلیہ اور نصرت و امداد خداوندی سے سرفرازی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ تسبیح کا عام مفہوم تو ذکر الہی ہی ہے۔ اور یہ ہر وقت اور ہر حال میں مطلوب ہے کہ یہ مومن کی اصل قوت اور اس کی زندگی ہے۔ لیکن یہاں پر اس کا ذکر اوقات کی قید کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔ اس لیے اس قرینے کی بنا پر اس سے مراد نماز ہے جو کہ ذکر خداوندی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اور تسبیح کے ساتھ حمد کے ذکر سے ذکر الہی کی صحیح صورت کو واضح فرما دیا گیا کہ تسبیح میں تنزیہ کا پہلو غالب ہے۔ یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص و عیب سے اور ہر شائبہ شرک سے پاک ہے۔ جبکہ تحمید میں اثبات کا پہلو غالب ہے۔ یعنی وہ ہر خوبی و کمال سے متصف اور ہر حمد وثناء کا حقدار ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ہر طرح کی حمد وثنا اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
140 اوقات نماز کی تعلیم : سو اوقات پنجگانہ میں ذکر و تسبیح کی خاص اہمیت کا ذکر وبیان ہے۔ اور اس میں دراصل پانچ فرض نمازوں اور نماز تہجد کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو کہ حمد وثناء اور تسبیح کا بہترین ذریعہ وسیلہ ہیں۔ مگر ان میں سے ہر ایک کو کس طرح ادا کیا جائے اس کی تفصیل پیغمبر کے قول و فعل سے ہی مل سکتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ حدیث رسول کے بغیر نہ قرآن سمجھنا ممکن ہے نہ دینی احکام پر عمل کرنا۔ سو یہاں پر صبر و صلوٰۃ کے ان دو ذریعوں کو اپنانے اور اختیار کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو کہ نصرت و اعانت خداوندی کے حصول کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ } ۔ (البقرۃ : 45) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
141 استقامت وسیلہ ظفر وسعادت : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ راہ حق پر استقامت کا ثمرہ و نتیجہ خوشی اور سعادت مندی سے سرفرازی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ راہ حق پر ڈٹ جائیں تاکہ آپ کو خوشی حاصل ہو "۔ اپنے رب کی ان رحمتوں، عنایتوں اور برکتوں کے باعث جو کہ آپ کو حاصل ہوں گی اپنے ان اعمال خیر کے طفیل اور ان کے نتیجے میں۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی } ۔ " اور عنقریب ہی آپ کا رب آپ کو وہ کچھ دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے "۔ سو راہ حق و ہدایت پر استقامت اللہ پاک کی حمد وثناء اور اس کی تسبیح و تقدیس اور اس کی رضا کے لئے پنجگانہ نمازوں اور تہجد و نوافل کا قیام و اہتمام اور ان کی پابندی و التزام مومن کیلئے تایید وتقویت، عزت و عنایت خدا وندی حقیقی خوشی وسعادت مندی سے سرفرازی اور اپنے خالق ومالک کی رضا سے مشرف و فیضیاب ہونے کا عظیم الشان ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِکَ وَ السّدَادَ وَالثّبَات ۔ بہرکیف اس عظیم الشان بشارت سے سرفرازی و بہرہ مندی کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم اور اپنے موقف پر ڈٹے رہو اور اپنے کام میں لگے رہو۔ تمہارا رب تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں ایسی عظیم الشان عنایات اور کامرانیوں سے نوازے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے اور تمہارے لیے انہی نمازوں کے التزام اور پابندی میں سب کچھ مضمر و محفوظ ہے۔ اپنے رب کے سوا تمہیں اور کسی کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 20:132–133144 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ فوز و فلاح : پس تقویٰ والے ہی بہرکیف کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔ سو اصل دولت تقویٰ و پرہیزگاری ہی کی دولت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ بہرکیف بندے سے اصل مطلوب و مقصود عبادت و بندگی اور تقویٰ و طہارت ہی ہے نہ کہ روزی رسانی اور دنیاوی مال و متاع۔ جس طرح کہ دنیاوی آقا اور سردار اپنے نوکروں، خادموں اور ماتحتوں سے چاہتے اور کراتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ " اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر صرف اس مقصد کے لیے کہ وہ میری عبادت اور بندگی کریں "۔ نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں اور نہ یہ بات ہے کہ وہ مجھے کھلائیں۔ یقینا اللہ ہی ہے سب کا روزی رساں، بڑی قوت اور طاقت والا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ (الذاریات : 58-57) ۔ بہرکیف تقویٰ و پرہیزگاری بندہ سے اصل مطلوب اور ذریعہ فوز و فلاح اور دارین کی سعادت و سرفرازی کا وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 20:134–135147 انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک کھلا مظہر ہے کہ اگر ان کو پیغمبر کی بعثت سے پہلے ہلاک کردیا جاتا تو اس وقت یہ لوگ اس طرح کہتے۔ کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی قبل اس کے کہ ہمیں اس طرح ذلت اٹھانا پڑتی اور ہمیں اس رسوائی سے دوچار ہونا پڑتا۔ مگر اب جبکہ ان کے پاس وہ عظیم الشان پیغمبر اور آخری نبی تشریف لا چکے جو کہ نبیوں کے بھی امام و پیشوا ہیں تو اب یہ لوگ ان کے منکر اور درپے آزار ہوگئے ہیں۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان کس قدر بےانصاف اور کتنا ناشکرا ہے کہ اسلام کے اس نور مبین کے اترنے سے پہلے تو یہ لوگ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کتاب ہدایت آجائے تو ہم اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ مگر نور ہدایت کی یہ نعمت جب ان کے پاس پہنچ گئی اور کتاب ہدایت انکے پاس آگئی تو یہ اس کے منکر ہوگئے۔ قرآن حکیم میں اس حقیقت کو کئی جگہ اجاگر فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة فاطر میں ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَاَقْسَمُوْا باللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ لَئِنَ جَائَ ھُمْ نَذِیْرٌ لَیَکُوْنُنَّ اَھْدٰی مِنْ اِحْدَی الْاُمَمِ فَلَمَّا جَائَھُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا } (فاطر :42) ۔ یعنی پہلے تو یہ لوگ پکی اور پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا ۔ رسول ۔ آجائے تو یہ ہر امت سے بڑھ کر ہدایت والے بن جائیں۔ مگر جب ان کے پاس ایک عظیم الشان نذیر آگیا تو ان کی نفرت اور انکار ہی میں اضافہ ہوا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ منکر اور ناشکرے انسان کی ایک عمومی نفسیات ہمیشہ رہی۔ جب نعمت نہیں ملتی تو یہ اس کیلئے بہت دعوے کرتا ہے۔ لیکن جب وہ نعمت اس کو مل جاتی ہے تو یہ اس سے ناشکری اور بےقدری کا معاملہ کرتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ماشاء اللہ جل و علا ۔ والعیاذ بہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ذلت اور خزی کے یہ دونوں لفظ عموما ایک دوسرے کے مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ مگر جب یہ دونوں ایک ساتھ استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ یہاں ہے تو اس وقت ان دونوں کے درمیان ایک باریک فرق ملحوظ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ ایسی صورت میں ذلت سے مراد وہ ذلت ہوتی ہے جس کا احساس ذلیل ہونے والا شخص خود اپنے باطن میں کرتا ہے اور خزی سے مراد وہ رسوائی ہوتی ہے جو اس کو دوسروں کے سامنے ہوتی ہے۔ سو مطلب ان کے اس قول کا یہ ہوا کہ نہ ہم اپنی نگاہوں میں ذلیل ہوتے اور نہ ہی دوسروں کے سامنے فضیحت و رسوائی کی یہ نوبت آتی ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو جل وعلا -