Ayah 20:7976 بری قیادت کا برا نتیجہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون نے اپنی قوم کو بری راہ پر ڈالا تھا "۔ اور ان کو راہ راست نہ اختیار کرنے دی جس کے نتیجے میں ان کو اس ہولناک اور عبرت انگیز عذاب اور دائمی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو راہ حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بری قیادت کا نتیجہ و انجام بڑا برا اور نہایت ہی ہولناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔ ایسے بدبختوں کو ڈھیل خواہ کتنی ہی ملے لیکن آخرکار انہوں نے اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہنا ہوتا ہے کہ راہ حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کا ہوا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 20:80–8377 بنی اسرائیل کے لیے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تم کو نجات دی تمہارے دشمن سے اے بنی اسرائیل "۔ یعنی فرعون اور اس کے طرح طرح کے ہولناک مظالم سے۔ پس نجات دینے والے اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں نہ کہ اور کوئی ہستی۔ جیسا کہ گمراہ لوگوں کا کہنا ماننا ہے۔ سو تم ہمارے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور اس کے نتیجے میں شکر کے طور پر ہمارے آگے جھک جاؤ تاکہ اس طرح تم حقِّ شکر بھی ادا کرو اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بھی سرفراز ہوسکو کہ شکر نعمت سے نعمت کی قدردانی ہوتی ہے اور اس سے نعمت میں برکت و بڑھوتری نصیب ہوتی ہے اور وہ محفوظ رہتی ہے۔ سو شکر نعمت سے خود شکر کرنے والوں ہی کا بھلا ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے بنی اسرائیل کو ان عظیم الشان نعمتوں کی تذکیر و یاددہانی کرائی جا رہی ہے جن سے ان کو قدرت کی طرف سے نوازا گیا اور اسی کے ذیل اور ضمن میں ان کو اس عظیم الشان ذمہ داری کے بارے میں تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے جو اس کے نتیجے میں ان پر عائد ہوتی ہے۔
78 تورات کی نعمت سے سرفرازی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے تمہارے لیے کوہ طور کی دائیں جانب حاضری کا ایک وقت مقرر کیا تھا "۔ تمہیں تورات دینے کے لئے۔ جو کہ ایک عظیم دینی اور معنوی نعمت تھی جس سے تم کو نوازا گیا۔ تاکہ تم راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہوسکو اور زندگی اپنے رب کی ہدایات کے مطابق گزار سکو۔ اور اس طرح تم دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز ہوسکو ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ظاہری و باطنی اور حسی و معنوی دونوں قسم کی نعمتوں سے نوازا تھا جس کی نتیجے میں ان کو اس کے حضور سراپا شکر وسپاس بن جانا چاہیے تھا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 20:8482 حضرت موسیٰ کی عجلت سے متعلق سوال کا جواب : سو اس سے حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور عجلت کے بارے میں سوال کا جواب ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اپنی عجلت کے بارے میں عرض کیا کہ وہ تو میرے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ یعنی وہ سَتَّر نُقباء ۔ سرداران یہود ۔ جن کو حضرت موسیٰ اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے تھے۔ اور آپ لقائے خدا وندی کے شوق میں اور رضائے الہی کے شرف سے مشرف ہونے کے جذبے اور جوش میں جلدی کرکے تھوڑا آگے اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ اسی لئے جب رب کی طرف سے ان سے اس بارے پوچھا گیا تو آپ نے جواب میں عرض کیا کہ مالک وہ تو میرے پیچھے پیچھے ہی آ رہے ہیں۔ کچھ زیادہ فاصلہ نہیں۔ اور میں اے میرے مالک آپ کی رضا کے شرف سے مشرف ہونے کے لئے تھوڑا سا آگے چلا آیا۔ سو یہ ایک احتمال ہے کہ { ھم اولاء } سے آپ کی قوم کے وہ ستر نقباء ۔ سردار۔ مراد ہیں۔ اور اگر قوم سے یہاں پر مراد آپ کی وہ قوم لی جائے جس کو آپ پیچھے چھوڑ آئے تھے اور حضرت ہارون کو ان کی نگرانی کے لئے مقرر کر آئے تھے تو اس صورت میں آپ کے اس قول کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مجھ سے کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ میرے قریب ہی ہیں۔ حضرات مفسرین کرام سے یہ دونوں ہی قول و احتمال مروی و منقول ہیں۔ کسی نے ایک کو اختیار کیا اور کسی نے دوسرے کو۔ (روح، قرطبی، مراغی، جامع، فتح، محاسن اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ اپنے رب سے ملاقات اور فرط شوق کی بنا پر وعدہ کے مقام پر جلد پہنچ گئے جو کہ آنجناب کی محبت الہی کا طبعی تقاضا تھا۔ لیکن ان کی یہی عجلت پیچھے ان کی قوم کے لیے سخت ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ بن گئی۔ قوم کے اشرار نے آپ کی اس عدم موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کو گوسالہ پرستی کے ہولناک اور تباہ کن فتنے میں مبتلا کردیا اور حضرت ہارون اپنی پوری کوشش کے باوجود اس پر قابو نہ پا سکے۔
Ayah 20:8583 بنی اسرائیل کا ابتلاء اور گوسالہ پرستی کا شرک : سو حضرت موسیٰ کے جانے کے بعد آپ کی قوم سخت فتنہ میں مبتلا ہوگئی۔ اس بچھڑے کی بناء پر جو کہ سامری نے ان کے لئے ان کے زیورات سے بنایا تھا کہ وہ ان کی گمراہی کا سبب بن گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے سامری کی باتوں میں آکر اس کو اپنا معبود مان لیا اور اس کے آگے جھک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور { فتنا قومک } کے کلمات کریمہ سے اس سنت الہی کو واضح فرمایا گیا ہے جو اس کے بندوں کی پرکھ و آزمائش کے لیے ہمیشہ جاری رہتی ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے کے درمیان تمیز ہو سکے۔ اور یہاں پر اس کے ذکر سے اس امر کو واضح فرمایا گیا ہے کہ قوم موسیٰ کو آزمائش میں ڈالا گیا مگر وہ سب کی سب اس میں فیل ہوگئی۔ اور سامری نے ان کو گمراہ کردیا۔ اور یہ سب اس کے پیچھے لگ کر ہلاکت کی راہ پر چل پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 20:8684 حضرت موسیٰ کا غضبناک حالت میں واپس لوٹنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " موسیٰ غصے سے بپھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے "۔ اس ناہنجار قوم کی اس سنگین گمراہی کی بناء پر۔ یعنی آنجناب چالیس راتیں کوہ طور پر پوری کرنے کے بعد اپنی قوم کی طرف واپس لوٹے تو قوم کے بارے میں یہ سن کر غصے سے بھر گئے اور خزین و غمناک ہو کر واپس لوٹے کہ جس قوم کو اتنا عرصہ توحید کا درس دیا تھا وہ اس قدر سنگین اور ہولناک شرک میں مبتلا ہوگئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور حضرت موسیٰ کا یہ غم اور اس قدر حزن و ملال ایک طبعی امر تھا ۔ (علیہ السلام) ۔
85 حضرت موسیٰ کا اپنی قوم پر عتاب : سو واپس پہنچنے پر حضرت موسیٰ نے سب سے پہلے اپنی قوم کو سرزنش فرمائی کہ کم بختو " کیا تم سے تمہارے رب نے وعدہ نہیں کیا تھا، اچھا وعدہ "۔ اور استفہام تقریر و تاکید کے لئے ہے کہ رب نے تو ضرور ایسا وعدہ فرمایا تھا تو پھر تمہاری یہ گمراہی کس قدر افسوس ناک ہے ؟ سو تمہارے رب نے تم سے وعدہ فرمایا تھا کہ تم کو تورات جیسی کتاب سے بھی نوازے گا جس میں تمہارے لیے ہدایت اور نور کا عظیم الشان سامان ہوگا اور وہ تم کو اور بھی کئی عنایات سے سرفراز فرمائے گا۔ تو پھر تم لوگوں نے اتنے بڑے جرم اور اس ظلم عظیم کا ارتکاب آخر کیوں اور کس طرح کیا ؟۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
86 عتاب میں شدت مزید : سو آنجناب نے اپنی اس بدبخت قوم پر اپنے عتاب میں مزید فرمایا کہ " کیا تم پر کوئی زیادہ لمبا زمانہ گزر گیا ؟ "۔ جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم نے اس حرکت کا ارتکاب کیونکر کیا ؟ کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا ہولناک غضب ٹوٹ پڑے۔ آخر تم لوگوں نے اتنی بڑی بری سنگین حرکت کا ارتکاب کس طرح اور کیونکر کیا ؟ اور تم لوگوں نے میرے عہد و پیمان کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اور اس عہدسیمراد حضرت موسیٰ کی وہ ہدایت تھی جو آنجناب نے کوہ طور پر جانے سے پہلے اپنی قوم کے سرداروں کو فرمائی تھی کہ میں شریعت لینے جا رہا ہوں۔ لہذا جب تک میں واپس نہیں آتا تم لوگ یہیں ٹھہرے رہنا اور تمام معاملات میں حضرت ہارون کی ہدایات کی پیروی کرنا۔
Ayah 20:8787 قوم کی طرف سے حضرت موسیٰ کے حضور معذرت : سو اس پر اس قوم نے حضرت موسیٰ کے حضور معذرت کرتے ہوئے ان سے کہا کہ ہم نے ایسا اپنے اختیار سے نہیں کیا بلکہ ہم پر اس قوم کے زیورات کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ یعنی قبطیوں کے ان زیورات کا جو کہ ہم نے ان سے شادی وغیرہ کے بہانے سے عاریت پر لئے تھے تاکہ اس طرح ہم سرزمین مصر سے باہر نکل سکیں اور عاریت کے وہ زیورات چونکہ ہمارے لئے جائز نہ تھے اس لئے وہ ہمارے لئے ایک بوجھ بنے ہوئے تھے۔ اور ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کے ساتھ اب کیا کریں۔ تو سامری نے ایک گڑھا کھود کر اس میں آگ جلائی اور کہا کہ یہ سب زیورات تم لوگ لاکر اس میں ڈال دو تاکہ یہ جل جائیں اور اس طرح تمہارے سر سے یہ بوجھ اتر جائے۔ چناچہ ہم نے ایسے ہی کیا اور جو زیور سامری کے پاس تھا وہ بھی اس نے اس میں ڈالا اور اس پگھلے ہوئے زیورات کا اس نے ایک بچھڑا بنا لیا۔ ان زیورات کے بارے میں دوسرا قول و احتمال یہ ہے کہ یہ عاریت کے نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کے اپنے زیورات تھے جیسا کہ ان سے متعلق قرآن حکیم میں دوسری جگہ ارشاد فرمودہ ۔ { من حلیہم } ۔ کی تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور تورات میں ان سے متعلق دونوں قسم کی روایات پائی جاتی ہیں۔ بہرکیف ان کے ان زیورات کو پگھلا کر ان سے ایک بچھڑا ڈھال دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ اس کے پیچھے لگ گیے۔
Ayah 20:8888 بےحقیقت بچھڑے کے معبود ہونے کا دعویٰ و اعلان : سو سامری کے ساختہ پرداختہ اس بےحقیقت بچھڑے کو دیکھتے ہی وہ بدبخت پکار اٹھے کہ " یہی ہے تمہارا خدا "۔ یعنی سامری اور اس کے پیروکار پکار اٹھے کہ یہی ہے معبود تمہا را بھی اور موسیٰ کا بھی۔ جس سے " بھیں " کی ایک بےمعنیٰ آواز نکلی ہے۔ سو جب کفر و شرک کی نحوست کی بناء پر کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال یہی ہوجاتا ہے کہ وہ ایک بچھڑے کو ۔ اور بچھڑا بھی وہ جو کہ ایک بےحقیقت اور محض ایک بناوٹی بچھڑا تھا ۔ اس کو وہ اپنا معبود تک قرار دے دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس طرح کے سامری آج بھی جگہ جگہ موجود اور اپنے اسی طرح کے ابلیسی چکروں میں محو و منہمک ہیں اور اس طرح کے جھانسے دے کر وہ سادہ لوح عوام کو بہکاتے بھٹکاتے اور ان کو راہ حق و ہدایت سے منحرف کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
89 کفر بالائے کفر کا ارتکاب : سو اس طرح ان لوگوں نے کفر بالائے کفر کا ارتکاب کیا کہ ایک طرف تو اس بےحقیقت بچھڑے کو خدا مان لیا اور دوسری طرف حضرت موسیٰ کے بارے میں اس طرح کہا کہ موسیٰ بھول گیا ۔ اپنے رب کو ۔ والعیاذ باللہ : اور وہ اس کی تلاش میں کوہ طور پر چلا گیا۔ دیکھا شرک کی ماری ہوئی اس قوم کا حال ؟ کس طرح اس نے فوراً اپنے پیغمبر کے بارے میں ایسی بیہودہ بات تک کہہ دی کہ یہی مصنوعی اور بےحقیقت بچھڑا موسیٰ کا معبود ہے۔ مگر وہ بھول گیا اور اس کی تلاش میں اور اس سے کلام کرنے کی غرض سے کوہ طور پر چلا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف سامری نے اپنی فتنہ پرور ذہنیت اور شاطر طبیعت سے ان پگھلے ہوئے زیورات سے بچھڑے کا ایک دھڑ بنا لیا جس سے بچھڑے کی سی ایک مہمل اور بےمعنیٰ آواز نکلی۔ اور اس نے عقل کے ان اندھوں کو یہ بات باور کرائی کہ میں نے اس کے اندر جبریل کے گھوڑے کی سم کی خاک ڈالی ہے جس کے باعث اس کی اندر سے یہ آواز نکلتی ہے۔ جس طرح کہ آج کے کئی جاہل پیر اور نقلی اور بناوٹی صوفی اس طرح کے شعبدے دکھاتے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے -
Ayahs 20:89–9090 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا وہ لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے تھے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا "۔ تو پھر یہ معبود کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کیا ایسی واضح اور کھلی حقیقت پر بھی ان لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ جو نہ کسی کی بات کا جواب تک دے سکے اور نہ وہ ان کیلئے کسی نفع کا اختیار رکھتا ہو نہ نقصان کا وہ آخر ان کا معبود کس طرح بن سکتا ہے ؟ اور ایسی کسی بےحقیقت چیز کو اپنا معبود قرار دے کر اس کی پوجا پاٹ کرنا کس قدر حماقت اور کتنا بڑا ظلم ہے۔ مگر جب کفر و شرک کی نحوست سے کسی کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کا حال ایسا ہی ہوجاتا ہے اور وہ اتنا اوندھا اور اندھا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ـوالعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 20:91–9292 بنی اسرائیل کا حضرت ہارون کو جواب : سو حضرت ہارون کی اس موثر بات کے جواب میں انہوں نے کہا " ہم اسی پر چپکے بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ لوٹ آئیں ہمارے پاس "۔ اس وقت جو مناسب ہوا کرلیں گے۔ اس پر حضرت ہارون (علیہ السلام) اپنے پیروکاروں سمیت ان سے کنارہ کش ہوگئے۔ اور ان گوسالہ پرستوں کا یہ کہنا محض وقت کو ٹالنے کیلئے تھا اور بس۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں کے اس جواب سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ سامری کے چکمے میں آ کر حضرت ہارون کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ لوگ گوسالہ پرستی کی اس حماقت کا ارتکاب تو کر بیٹھے لیکن بعد میں ان کو اس کا احساس ہوا جیسا کہ سورة اعراف سے بھی واضح ہوتا ہے۔ لیکن کسی حماقت کا ارتکاب کرنے کے بعد اس سے پیچھا چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان لوگوں نے فوری طور پر اس سے دست برداری اور براءت و بیزاری کا اعلان کرنے کی بجائے حضرت موسیٰ کی واپسی تک اسی پر جمے رہنے کا اعلان کردیا جو کہ ان کے ڈھیٹ پنے کا ایک نمونہ و مظہر تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:9393 حضرت موسیٰ کا غصہ اور عتاب حضرت ہارون پر : سو اپنی قوم کے سرداروں سے پوچھ گچھ کے بعد حضرت موسیٰ حضرت ہارون کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا کہ " تم کو کس چیز نے روکا تھا کہ تم میری پیروی کرتے " کہ ان سے جہاد و قتال کرتے یا پھر میرے پاس کوہ طور پر چلے آتے مجھے اس کی خبر کرتے اور ان بدبختوں سے دور ہوجاتے۔ (بحر، بیضاوی، قرطبی، خازن وغیرہ) ۔ یعنی حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون سے کہا کہ آپ نے جب ان لوگوں کو دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں تو آپ ان سے جہاد و قتال کرتے۔ یا میرے پاس کوہ طور پر چلے آتے اور مجھے خبر کرتے۔ (المعارف وغیرہ) ۔ سو قوم کی گمراہی پر حضرت موسیٰ کا اس قدر غیظ و غضب اور اپنے بھائی ہارون سے غصے کا یہ معاملہ حضرت موسیٰ کی دینی غیرت اور للہیت کی بنا پر تھا۔ اور حضرات انبیاء و رسل اور صالحین کرام کی یہ امتیازی شان ہمیشہ رہی ہے کہ ایسے حضرات دنیاوی معاملات کے بارے میں رواداری اور درگزر سے کام لے لیتے ہیں لیکن دین کی معاملے میں کبھی کسی مداہنت کو برداشت نہیں کرتے جبکہ اہل دنیا کا معاملہ اس سے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ کہ وہ دنیاوی معاملات میں تو ٹکے پیسے کے لیے مرنے مارنے پر آجاتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں کشادہ ظرف (Broad minded) بن جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ کشادہ ظرفی نہیں ہوتی بلکہ یہ دینی بےحسی اور بےغیرتی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:9494 حضرت ہارون کا جواب اور بیان عذر : سو حضرت ہارون نے اس کے جواب میں کہا کہ " مجھے اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں کسی سخت اقدام سے ان میں تفریق نہ پیدا ہوجائے "۔ یعنی میں نے ان لوگوں کو سمجھانے کی تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی مگر انہوں نے میری کوئی بات نہ سنی۔ یہاں تک کہ یہ میرے قتل کے درپے ہوگئے۔ تب میں نے خاموشی اختیار کرلی کہ کہیں قوم کے اندر خانہ جنگی نہ بپا ہوجائے اور پھر آپ آ کر مجھ سے کہیں کہ تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا اور قوم کو آپس میں کیوں لڑوا دیا۔ آیت کریمہ کا یہ مطلب سورة اعراف کی آیت نمبر 15 کی روشنی میں واضح ہوتا ہے۔ ورنہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ میں نے قوم کے اتحاد کی خاطر اس کے کفر و شرک کو برداشت کرلیا۔ جیسا کہ عام سطحی لوگ سمجھتے ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جل و علا ۔ کہ کفر و شرک کا وجود کسی بھی طرح اور کسی بھی قیمت پر قابل برداشت نہیں ہوسکتا۔ اور پھر نبی اور حضرت ہارون جیسے جلیل القدر نبی کے اس کو برداشت کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے ہر شائبے سے بری ہیں۔
Ayah 20:9595 حضرت موسیٰ کا خطاب سامری سے : سو اس کے بعد حضرت موسیٰ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے غیظ و غضب بھرے انداز میں اس سے کہا کہ " تیرا کیا معاملہ ہے اے سامری "۔ تو نے یہ اتنا بڑا فتنہ اس قوم کے اندر برپا کیا اور ان کو راہ حق و ہدایت سے پھسلا کر ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔ آخر کیوں ؟ اور تو نے گوسالہ پرستی کے اس سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیوں کیا۔ اس ملعون سے یہ سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کو سب کے سامنے رسوا کیا جائے اور وہ اپنی گمراہی کا خود اعتراف کرلے۔ تاکہ اس سے واضح ہوجائے کہ اس کے بعد اس کو جو سزا دی گئی وہ درست تھی اور وہ اسی کا مستحق اور اسی کے لائق تھا۔ بہرکیف جب معاملے سے متعلق سب لوگوں اور تمام ذمہ داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی اور ثابت ہوگیا کہ اس سارے فتنے اور فساد کا بانی اور اصل ذمہ دار اور کرتا دھرتا سامری ہی ہے تو حضرت موسیٰ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر تیکھے انداز اور غضبناک لہجے میں اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کیا کیا اے سامری ؟ یہ کیا ماجرا ہے ؟ اور تو نے یہ کیا فتنہ کھڑا کردیا ؟
Ayah 20:9696 سامری کا حضرت موسیٰ کو منافقانہ اور شاطرانہ جواب : یعنی جبریل امین کے نقش قدم کی مٹی۔ جیسا کہ عام مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ اس ملعون نے حضرت جبریل امین کے نقش قدم کی مٹی میں یہ تاثیر دیکھی تھی۔ یا رسول سے اس کی مراد خود حضرت موسیٰ سے تھی تاکہ اس طرح وہ خوش ہو کر اس کو چھوڑ دیں۔ جیسا کہ بعض اہل علم نے کہا ہے۔ اسی رائے کو ابومسلم اصفہانی نے اختیار کیا اور اسی کی تائید امام رازی (رح) نے کی۔ اور اسی کو بعض اہل علم نے اقرب الی التحقیق قرار دیا۔ یعنی سامری نے حضرت موسیٰ کے جواب میں کہا کہ میں نے رسول یعنی جناب ہی سے ایک حصہ لیا تھا اور آپ ہی کے طریقہ پر چلا تھا۔ لیکن بعد میں جب مجھے اس کی غلطی معلوم ہوئی اور اس کی گمراہی واضح ہوگئی تو میں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کو پس پشت ڈال دیا لیکن آیت کریمہ کا یہ مطلب قرآن کریم کی عربی مبین کی صفت کے مطابق نہیں۔ اور آیت کریمہ کے ظاہر سے یہ مفہوم نہیں نکلتا۔ اس لیے کچھ حضرات اہل علم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ اس مکار کے اس جواب کا مطلب یہ تھا کہ میں نے جناب کے قدم کے نیچے کی مٹی کی ایک مٹھی اس میں ڈالی تھی۔ سو یہ اسی کا اثر و نتیجہ ہے اور اس طرح اس نے گویا حضرت موسیٰ کو ایک ذہنی رشوت دے کر راضی کرنے کی کوشش کی۔ اور یہ توجیہ و تاویل اس کی مکارانہ ذہنیت سے مطابقت رکھتی ہے۔ سو جمہور کے قول کے مطابق اگرچہ یہاں پر رسول سے مراد حضرت جبریل نہیں ہیں لیکن اس کی تصریح نہ تو قرآن پاک میں کہیں پائی جاتی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث میں ایسی کوئی تصریح موجود ہے۔ اور امام رازی نے کئی وجوہ سے اس کی تردید کی ہے۔ مثلا یہ کہ رسول کے لفظ سے حضرت جبریل امین مراد لینا معروف و متبادر نہیں اور یہ کہ اس صورت میں کلام کے اندر حذف ماننا پڑے گا یعنی " اثر حافر فرس الرسول " اور حذف خلاف اصل ہے۔ اور یہ کہ سامری کی معرفت جبریل سے متعلق قصے درست نہیں ہوسکتے۔ (مراغی و محاسن وغیرہ ) ۔ بہرکیف اس سے سامری کی فتنہ انگیز طبیعت کا نمونہ سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
97 سامری کا اعتراف جرم و قصور : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ملعون نے حضرت موسیٰ کے سامنے اپنے جرم و قصور کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض تسویل نفس کا شاخسانہ تھا۔ یعنی یہ محض میرے نفس کی تسویل اور اس کی خواہش کی پیروی تھی۔ ورنہ اس کے سوا عقل و نقل کی کوئی دلیل ایسی میرے پاس موجود نہ تھی جو اس امر کی تائید و تصویب کرتی ہو۔ سو اتباع ھویٰ اور تسویل نفس ہی اصل میں میرے اس فعل کا محرک بنی۔ اور اسی کی بناء پر میں نے اس کو اپنایا اور بات یہاں تک پہنچی۔ بہرکیف اس لعین نے مکارانہ طور پر پینترا بدلتے ہوئے کہا کہ جو کچھ میں نے سمجھا تھا یہ سب فریب نفس تھا اور میں غلط فہمی سے اس کا شکار ہوگیا اور نفس کے اس فریب کو حقیقت سمجھ بیٹھا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 20:9798 سامری کیلئے بڑی ہولناک اور نہایت عبرتناک سزا کا اعلان : کہ " تو لوگوں سے کہے گا کہ مجھ سے دور رہو، مجھے ہاتھ نہ لگاؤ "۔ جس سے تو اچھوتوں سے بھی بدتر زندگی گزارے گا اور تجھے خود لوگوں سے یہ کہنا پڑے گا کہ نہ مجھے کوئی چھوئے اور نہ میں کسی کو چھوؤں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد اگر کوئی اس کو چھو لیتا تو دونوں کو بخار ہوجاتا۔ یہاں تک کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بھی اس کا یہی حال تھا ۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ فِتْنَۃ وَزَیْعٍ وَّضلالِ ۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ تو بنی اسرائیل کے علاقے سے نکل جا تو وہ وہاں سے نکل کر جنگلوں کی طرف چلا گیا۔ جہاں وہ جنگلی جانوروں اور درندوں کے ساتھ رہتا رہا۔ (المراغی وغیرہ){ لا مساس } کے اندر یہ سب کچھ داخل و شامل ہے کہ اس کا معنی ہے کہ نہ مجھے کوئی ہاتھ لگائے اور نہ میں کسی کو ہاتھ لگاؤں۔ ( مراغی، معارف اور محاسن وغیرہ ) ۔
99 سامری کے لیے اخروی سزا کا بھی اعلان : سو حضرت موسیٰ نے اس کی سزا کے سلسلے میں مزید فرمایا " اور تیرے لیے ایک اور وعدہ ہے جو تجھ سے کبھی نہیں ٹلے گا "۔ یعنی آخرت میں کہ اصل اور پورا عذاب تو وہیں ہونا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے کہ دارالجزاء آخرت ہی ہے جبکہ دنیا دارالعمل ہے نہ کہ دارالجزائ۔ یہاں انسان کو اپنے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ اگر کچھ ملنا بھی ہے تو وہ " کچھ " ہی کے درجے میں ہوتا ہے۔ ورنہ پورا اور حقیقی بدلہ انسان کو تو بہرحال آخرت ہی میں ملے گا جو کہ دارالجزاء ہے جہاں انسان کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ ملے گا۔ اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ملے گا۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اس سے فرمایا کہ تیرے لیے عمر بھر کے لیے یہ سزا ہے کہ تو لوگوں سے کہتا پھرے کہ میں ناپاک ہوں نہ مجھے کوئی ہاتھ لگائے اور نہ میں کسی کو ہاتھ لگاؤں۔ اور یہ کہ تیرے لیے اصل سزا آخرت کی ہے۔ اس عذاب موعود نے بہرحال آ کر رہنا ہے۔ تو اس سے کسی بھی طرح اپنے آپ کو نہیں بچا سکے گا کہ وہ بہرحال شدنی اور قطعی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے انداز کیا جاسکتا ہے کہ شرک و بت پرستی کا جرم کس قدر ہولناک جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:98100 اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی اور اس کو محیط ہے : اس کائنات کا کوئی ذرہ اس کے علم سے باہر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی بلاشرکت غیر تنہا وہی ہے اور جب اس میں حکم وتصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے اور جب اس پوری کائنات کا کوئی ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتا تو پھر اس کا طبعی اور لازمی نتیجہ اور منطقی اثر یہی ہے اور یہی ہونا چاہیئے کہ معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہو۔ پس اس کی عبادت و بندگی میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جن لوگوں نے اس خود ساختہ اور مصنوعی بچھڑے کو اپنا معبود بنایا انہوں نے خود اپنی ہی شامت بلائی اور اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا۔ ورنہ معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ساتھ ہی اس کی توحید و وحدانیت کی دلیل بھی بیان فرما دی گئی کہ اس کا علم ہر چیز کو حاوی اور محیط ہے۔
Ayah 20:99101 گزشتہ قوموں کے حالات کا ذکر تسکین و عبرت کیلئے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ حالات اس لیے بیان کیے گئے کہ تاکہ اس سے آپ کے لئے تسلی کا سامان ہو اور آپ کی قوم کے لئے عبرت و نصیحت کا کہ گزشتہ انبیاء و رسل نے راہ حق میں کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائیں اور انہوں نے کس کس طرح صبر و استقامت سے کام لیا۔ اور یہ کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیش کردہ دین حق کی تکذیب کا آخری انجام کیا ہوا۔ اور ایسے منکر لوگوں نے اپنے کیے کرائے کا بھگتان کس طرح بھگتا۔ نیز اس میں آپ کی ۔ اے پیغمبر ۔ صداقت و حقانیت کی واضح دلیل بھی ہے کہ آپ بغیر کسی سے پڑھے سیکھے کے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تو اس کا ذریعہ وحی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا ۔ والحمد للہ جل وعلا بکل حال من الاحوال -
102 پیغمبر کے ایک عظیم الشان ذکر یعنی قرآن حکیم سے نوازنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے نوازا آپ کو اپنی طرف کے ایک عظیم الشان ذکر سے "۔ یعنی قرآن حکیم سے جو کہ ایک ایسی کامل اور جامع کتاب ہے جس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ممکن ہوسکتی ہے۔ جو گزشتہ قوموں کے ایسے عبرتناک احوال و کو ائف اور اخبار و قصص پر بھی مشتمل ہے جس میں عبرت و تذکیر کے عظیم الشان درس بھی پنہاں ہیں اور جو ایسی عظیم الشان ہدایات وتعلیمات پر مشتمل ہے جس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان موجود ہے۔ سو قرآن حکیم کے اس عظیم الشان ذکر کے ذریعے گزشتہ انبیاء و رسل کے حالات و واقعات اور ان کی تعلیمات کا وہ حصہ بھی محفوظ کردیا گیا جس کو محفوظ کرنا ضروری تھا اور آخری رسول کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ پر جو پیغام حق و ہدایت اپنی آخری اور کامل شکل میں نازل کرتا تھا وہ بھی نازل کردیا گیا۔ تاکہ قیامت تک دنیا کے لیے ہدایت و راہنمائی کا سامان ہو سکے۔
Ayahs 20:100–101103 قرآن حکیم سے اعراض و روگردانی کے ہولناک انجام کا بیان : سو اس ارشاد سے قرآن حکیم سے منہ موڑنے اور اعراض برتنے والوں کا ہولناک انجام بیان فرمایا گیا ہے کہ سب کو اٹھانا پڑے گا اپنے کفر و شرک، الحادو بےدینی اور معاصی وذنوب کا وہ بوجھ جو بڑا ہی سخت اور ہولناک بوجھ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم سے منہ موڑنے اور اعراض کرنے والوں کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ اور ایسوں کیلئے دارین کی محرومی اور شقاوت و بدبختی مقدر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قیامت کے روز ان کو ضلال واضلال یعنی گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ سو ان کو اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا اور ان کی گمراہی کا بھی جو کہ ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوئے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِیَحْمِلُوا اَوْزَارَہُمْ کَامِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلاَ سَائَ مَا یَزِرُوْنَ } ۔ (النحل :25) ۔ اللہ ضلال واضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 20:102–103105 یوم حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن صور پھونک دیا جائے گا "۔ دوسری مرتبہ ان کو زندہ کر کے اٹھانے کے لئے۔ تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کی بتمام و کمال تکمیل ہوسکے اور حکمتوں بھری اس کائنات کے مقصد وجود کی تکمیل ہوسکے۔ سو یہ نفخ صور حشر اور حساب کے قیام کیلئے اعلان ہوگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف غافل دنیا کو ان کی غفلت سے جھنجوڑنے کے لیے اس ہولناک دن کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔
106 کفار و منکرین کا حشر نہایت ہولناک شکل میں ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز مجرموں کا حشر نہایت ہی قبیح شکل میں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ : کہ کفر و انکار کی وہ سیاہی جو ان کے بواطن میں موجود تھی۔ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس فیصلہ کن دن میں انکے چہروں مہروں پر چھائی ہوگی جس سے ان کی شکلیں بھی بہت بری اور بگڑی ہوئی ہوں گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلَی اللّٰہِ وُجُوْہُہُمْ مُسْوَدَّۃٌ } (الزمر : 60) یعنی " قیامت کے روز تم ان لوگوں کو دیکھو گے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جس سے ان کی اس انتہائی پریشانی اور بڑی گھبراہٹ کی بھی عکاسی ہو رہی ہوگی جو وہاں پر ان کو لاحق ہوگی اور پھر چہروں کی اس سیاہی کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھیں بھی نہایت نیلی ہونگی۔ جس سے ان لوگوں کی شکلیں اور بھی بری اور نہایت قبیح ہونگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ { زرقا } " ازرق " کی جمع ہے جس کے معنی نیلگوں چشم کے آتے ہیں۔ لیکن عربی محاورہ و استعمال میں یہ خوف زدہ اور دہشت زدہ انسان کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس لیے کہ شدت خوف کی بنا پر آنکھیں نیلی پڑجایا کرتی ہیں اور ان کی سرخ ڈورے غائب ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال -
Ayah 20:104107 قیامت کے روز منکروں کی بد حواسی کا ایک مظہر۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے قیامت کے اس ہولناک دن میں مجرموں کی بدحواسی کا ایک منظر سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حیات دنیا کی جس فرصت کو یہ لوگ بہت طویل سمجھا کرتے تھے اور اسی بناء پر یہ عذاب لانے کا بار بار مطالبہ کیا کرتے تھے وہ وہاں پر ان لوگوں کو اس قدر مختصر معلوم ہوگی۔ سو اس سے ان لوگوں کی اس بدحواسی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جس سے یہ لوگ فیصلے کے اس یوم عظیم میں مبتلا ہوں گے۔ مگر آج یہ لوگ غفلت میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آج تو یہ لوگ قیامت کے اس یوم عظیم کو بہت دور کی چیز سمجھتے ہیں اور اس کی فکر و سعی کی بنا پر اپنے عیش کو مکدر کرنا حماقت قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب وہ اپنے وقت مقرر پر آپہنچے گا تو اس روز یہ آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کہ تم لوگوں نے تو دنیا میں بس دس ہی دن گزارے ہوں گے۔ سو انکار و تکذیب قیامت کا جرم نہایت ہولناک اور سنگین جرم ہے اور اس کا نتیجہ وانجام بڑا ہی برا اور انتہائی ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
108 دنیاوی زندگی ایک دن کے برابر : یعنی دس منکرین اس روز کہیں گے کہ دن والی بات الگ رہی۔ اس دن ان کا سب سے بڑا عقلمند آدمی کہے گا کہ تم تو صرف ایک دن رہے۔ سو دنیاوی زندگی آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ ایک دن بلکہ اس سے بھی کہیں کم۔ سو وہ وہاں پر ان لوگوں کو اپنی دنیوی زندگی اس قدر مختصر معلوم ہوگی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہاں پر یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ اس دنیا میں ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے تھے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ، مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ } ۔ (الروم :55) ۔ سو اس وقت ان لوگوں کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ دنیاوی زندگی کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ مگر افسوس کہ آج یہ انسان دنیا کی اس زندگی کو بہت کچھ، بلکہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ اور اس کی کامیابی کو ہی اصل کامیابی اور اس کی ناکامی کو بھی اصل ناکامی قرار دیتا ہے۔ اور زندگی کی اس فرصت محدود میں وہ آخرت کے لیے کمائی کرنے کی بجائے یہ اس کو یونہی ضائع کر رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " امثل " کے معنیٰ افضل و برتر کے ہیں۔ اور یہاں پر یہ لفظ بطور تعریض استعمال ہوا ہے۔ یعنی دنیاوی زندگی میں ان کے اندر جو سب سے زیادہ لال بجھکڑ مانا جاتا تھا وہ اس روز اپنے اندازے کے مطابق دنیاوی زندگی کے بارے میں ایسے کہے گا۔
Ayahs 20:105–107109 منکرین قیامت کا سوال پہاڑوں کے بارے میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ اے پیغمبر آپ سے پوچھتے ہیں ان پہاڑوں کے بارے میں "۔ مذاق اور استہزاء کے طور پر۔ کہ صاحب اس روز یہ دیو ہیکل اور فلک بوس پہاڑ کدھر جائیں گے ؟ اور ان کا کیا بنے گا ؟ وغیرو وغیرہ۔ روایات میں وارد ہے کہ کفار قریش نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کے روز ان دیوہیکل پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ سو ان کا یہ سوال جاننے اور ماننے کیلئے نہیں تھا۔ بلکہ مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا۔ (المراغی، المعارف اور ابن کثیر وغیرہ) اور نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کے اس سوال کے جواب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ میرا رب ان کو پاش پاش کر کے گرد و غبار کی طرح اڑا دے گا اور زمین کو ایسا صفا چٹ میدان بنا کر رکھ دے گا کہ نہ اس میں کسی درخت اور سبزے کا کوئی نشان ہوگا اور نہ اس میں کسی اونچ نیچ اور نشیب و فراز کا کوئی وجود۔ اور نہ ان وادیوں اور کوہساروں میں سے کچھ باقی رہے گا۔ ساری زمین ایک صاف اور چٹیل میدان بن جائے گی۔
Ayah 20:108110 منکرین کی قیامت کے روز داعی حق کی بےچوں و چرا پیروی و اتباع : سو اس روزان کی سب اکڑفوں ہرن ہوجائے گی اور یہ سب بلانے والے کی آواز پر سیدھے چلے آئیں گے۔ یعنی حضرت اسرافیل کی آواز پر۔ جو کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعلان کریں گے کہ اے بوسیدہ ہڈیو، پر اگندہ بالو، بکھرے ہوئے گوشت کے ٹکڑو، تمہارے رب کا تمہیں حکم ہے کہ تم سب فوری طور پر جمع ہوجاؤ۔ تو اس پر یہ سب کے سب بلا کسی چون و چرا اور بدوں کسی حیل و حجت اور قیل و قال کے اٹھ کر اپنے رب کی حمد وثنا کے ساتھ اس کے حضور چلے آئیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتجِیْبونَ بِحَمْدِہٖٖ } ۔ (بنی اسرائیل :52) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { اَسْمِعْ بِہِمْ واَبْصِرِ یَوْمَ یَاتُوتننَا } ۔ (مریم : 138) ۔ مگر اس وقت کا ان کا یہ سننا اور ماننا ان کو کچھ کام نہ دے سکے گا کہ وہ جہاں " دارالعمل " نہیں " دارالجزائ " ہے۔ اور " دارالعمل " یہ دنیا تھی جس میں انہوں نے مانا نہیں۔ یہاں تک کہ حیات دنیا کی یہ مختصر و محدود فرصت ان کے ہاتھ سے نکل گئی ہوگی اور یہ دائمی خسارے میں مبتلا ہوچکے ہوں گے۔ اور ایسے اور اس طور پر کہ اب اس سے بچنے کی کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہیں ہوگی۔ سو یہی ہے سب سے بڑا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ فکر وعمل کے ہر انحراف سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 20:109–110111 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز سفارش صرف اسی کے کام آسکے گی جس کو اجازت ملے گی "۔ کہ مشفُوع لَہ مومن ہو کافر نہ ہو۔ کہ کافر کے لئے شفاعت نہ ہوگی۔ سو اس روز شفاعت کے کام کی دو شرطیں ہونگی۔ اول یہ کہ خدائے رحمن کی طرف سے اس کی اجازت ملے اور دوسری یہ کہ جس کیلئے اجازت ملے۔۔۔۔۔ کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے لائق ہے اور کس کا جرم و قصور قابل معافی ہے۔ سو ان دونوں شرطوں کے وجود اور تحقق کے بغیر کوئی کسی کیلئے کسی طرح کی سفارش نہیں کرسکے گا۔ سو اس سے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی نفی فرما دی گئی جو مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم اور گھمنڈ پر مبنی تھا اور مبنی ہے کہ ہمارے معبود اور ہمارے حضرت بڑی پہنچی ہوئی سرکار ہیں۔ یہ اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے۔ پھر ہمیں کسی کی کیا پرواہ ؟ ہم جو چاہیں کریں۔ بس ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی مشرکانہ سفارش کی وہاں کوئی گنجائش نہیں۔ یہ سب مشرک لوگوں کے من گھڑت ڈھکوسلے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:111113 ظالموں کی ناکامی و نامرادی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ناکام و نامراد ہوگا وہ شخص جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا "۔ یعنی کفر و شرک اور بغاوت و سرکشی کا بوجھ۔ سو ایسا شخص بڑا ہی ناکام و نامراد ہوگا اور ایسا ناکام و نامراد کہ اس کے لئے اب تدارک و تلافی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ اس بوجھ سے بچنے اور دولت ایمان سے سرفراز ہونے کا موقع دنیاوی زندگی کی وہ فرصت تھی جو اس وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔ اور اب اس کے واپس آنے کی بہرحال کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز جھک جائیں گے چہرے اس حی وقیوم کے آگے جو خالق کل اور مالک مطلق ہے۔ اور جو اس کائنات کے نظام کو چلانے والا اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور جن لوگوں نے شفاعت باطل کی امید لگا رکھی تھی کہ ہمارے معبود اور ہماری خود ساختہ سرکاریں اڑ کر بیٹھ جائیں گی اور منوا کر چھوڑیں گی۔ ان کے وہ سہارے ان کی کچھ کام نہیں آئیں گے اور جنہوں نے کفر و شرک کے بوجھ اٹھا رکھے تھے وہ اس روز بڑے ہی ناکام و نامراد ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 20:112114 وہاں کسی سے کوئی زیادتی نہیں ہوگی : کہ کوئی ناکردہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیا جَائے یا کسی دوسرے کا کیا ہوا گناہ اس کے ذمے ڈال دیا جائے۔ سو ایسی کوئی بات وہاں نہیں ہوگی۔ اور ظلم کیا معنیٰ وہاں تو عدل و انصاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فضل و کرم کا معاملہ ہوگا بس انسان باغیانہ زندگی نہ گزارتا ہو اور کفر و شرک کی آلائشوں سے محفوظ و سلامت ہو۔ اور جب وہاں پر کسی ظلم و زیادتی اور کسی پیشی کا کوئی خوف و خدشہ نہیں تو پھر اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اس دن کام آنے والی نیکیوں کی کمائی کو اصل مقصد اور نصب العین بناؤ۔ وباللہ التوفیق -
115 اور نہ ہی وہاں کسی کے حق میں کوئی کمی ہوگی : کہ اس کو کسی نیکی کا اجر و صلہ نہ ملے یا اس کے استحقاق سے کم ملے۔ سو وہاں پر ایسی کوئی بھی صورت نہیں ہوگی بلکہ اس کے کیے کرائے کا اجر اس کو کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا۔ سو کامیابی و نجات کی اصل بنیاد ایمان اور عمل صالح ہے اور بس۔ یہاں پر { ظلم } اور { ہضم } کے دو لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں جو آپس میں قریب المعنی ہیں۔ لیکن جب یہ دونوں ایک ساتھ استعمال ہوں تو اس وقت ان دونوں کے درمیان یہ فرق ہوجاتا ہے کہ " ظلم " کے اندر حق تلفی کا مفہوم پایا چاتا ہے اور " ہضم " کے اندر غصب اور تعدی کا۔ یعنی ایک صورت تو یہ ہوتی ہے کہ آپ کے اوپر جو دوسرے کا حق واجب ہوتا ہے اسے آپ دبا بیٹھیں تو یہ ظلم ہوگا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ تعدی کر کے دوسرے کے پاس جو کچھ ہے اس سے چھینیں اور غصب کریں۔ یہ ہضم ہے۔ سو اس روز ان دونوں میں سے کسی بھی صورت کا کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہوگا کہ وہ دن کامل عدل و انصاف کا دن ہوگا۔ ہر کسی کو اس کا حق پورا پورا ملے گا۔
Ayah 20:113116 قرآن عربی کی نعمت عظمیٰ کی تذکیر و یاددہانی : سو اس نعمت عظمیٰ کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " اور اسی طرح ہم نے اتارا ہے اس کو عربی زبان کا قرآن بناکر " کہ اس کے اولین مخاطب عرب ہی تھے۔ اور وہی اس کے لائق تھے کہ ابدی صداقت کی حامل اس عظیم الشان امانت کو بلا کسی کم وکاست کے سب دنیا تک پہنچا سکیں۔ نیز عربی زبان ہی وہ واحد، جامع اور بیمثال باریکیوں اور لطافتوں والی ایسی زبان تھی اور ایسی ہے جو قرآن حکیم کے معانی و مطالب کو بقدر امکان اداء کرسکتی ہے۔ ورنہ اس کے سوا دنیا کی کسی بھی اور زبان میں اس کی اہلیت و صلاحیت ہے ہی نہیں کہ وہ قرآنی معانی و مطالب کو ادا کرسکے۔ سو قرآن حکیم کو عربی زبان کی اس لسان مبین میں اتار کر حق کو طرح طرح سے واضح کردیا گیا ہے۔ اور ایسا کہ اس میں نہ کوئی لبس و اشتباہ ہے اور نہ کوئی خفاء و غموض اور نہ ہی اس کے بعد کسی کے لئے کسی عذر کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اس کے ذریعے حق کو پوری طرح اور اس کی آخری اور کامل شکل میں ایسا واضح کردیا گیا کہ یہ قیامت تک کے سب زمانوں اور جملہ انسانوں کی ہدایت کیلئے کافی و وافی ہے۔ اور ایسا کہ اب راہ حق سے آگہی کے لیے اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 20:114–116117 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو اس سے بطور حصر و تاکید واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی ہے بادشاہ حقیقی۔ اس ساری کائنات کا اور اسی کا حکم اور تصرف چلتا ہے اس پوری کائنات میں۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا " سو بڑا ہی بالا و برتر ہے وہ اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے "۔ جس کی بادشاہی حقیقی اور ہر شئی پر حاوی ہے اور جو ظاہر و باطن سب پر اور ہر لحاظ سے حاوی ہے اور ازلی و ابدی ہے۔ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کے لئے رہے گی۔ اس کے سوا اور کسی کی یہ شان کہاں اور کیسے ہوسکتی ہے ؟ ۔ سو وہی ہے بادشاہ حقیقی جو کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خالق کل اور مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کا نازل فرمودہ یہ قرآن حکیم اور کلام مجید کس قدر عظمت شان کا حامل ہے اور کتنا بڑا حق بنتا ہے اس کا اس کے بندوں پر۔ بہرکیف یہ قرآن حکیم اسی بادشاہ حقیقی کا کلام اور اسی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اور جس طرح اس مالک مطلق کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں اسی طرح اس کے اس کلام عزیز اور فرقان حمید کی عظمت شان کی کوئی حد و انتہاء نہیں۔ یہی ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی عزت و عظمت سے سرفراز کرنے والا۔ سو اس کو صدق دل سے اپنانا اور اس کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کی راہیں استوار کرنا دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
118 اضافہ علم کی دعا کی تعلیم و تلقین : سو اس سے علم کی وسعتوں کا ایک عظیم الشان مظہر سامنے آتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسا بحر ناپیدا کنار ہے یہ علم کا سمندر کہ سید الاولین و الآخرین امام الانبیاء والمرسلین کو بھی اس میں ترقی و اضافہ کی دعاء کی تعلیم و تلقین فرمائی جا رہی ہے۔ تو پھر ہم جیسے کم سواد کس شمار و قطار میں ہوسکتے ہیں ؟ ۔ فَزِدْنَا اللّٰہُمَّ عِلْمًا نَّافِعًا وَفَہْمًا سَلِیْمًا وَرِزْقًا حَلَالاً وَّاسِعًا ۔ سو انسان کو چاہیئے کہ ہمیشہ نور علم میں اضافے اور اس میں بڑھوتری کیلئے کوشاں اور دعا گو رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں روایات میں وارد و منقول ہے کہ آپ ؓ جب یہ آیت کریمہ تلاوت کرتے تو یوں دعا کرتے ۔ اللہم زدنی ایمانا و فقہا و یقینا و علما ۔ یعنی " اے میرے اللہ میرے ایمان اور میری دین کی سمجھ میں اضافہ فرما اور میرے یقین اور علم میں اور زیادہ ترقی فرما "۔ اور سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ اس سلسلے میں ہمیشہ اس طرح دعا فرماتے ۔ اللہم انفعنی بما علمتنی و علمنی ما ینفعنی و زدنی علما ۔ والحمد للہ علی کل حال واعوذ باللہ من حال اہل النار۔ (المراغی، المعارف، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔