Ayahs 20:40–4334 حضرت موسیٰ کی حفاظت کی تدبیر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تمہاری بہن تمہاری خبرگیری کیلئے چلی جارہی تھیں "۔ دریا کے کنارے کنارے۔ اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق۔ تمہاری دیکھ بھال اور اطلاع و خبرگیری کے لئے۔ کیونکہ ان کی والدہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ تم دور سے ہو کر موسیٰ کے اس صندوق کو دیکھتی اور اس کی نگرانی کرتی جاؤ کہ یہ صندوق کدھر جاتا ہے اور کہاں جاکر رکتا ہے۔ سو وہ دور سے ہو کر اس کو اس طرح دیکھتی رہیں کہ ان لوگوں کو اس کا پتہ ہی نہ چلنے پائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح اس طرح فرمائی گئی ۔ { وَقَالَتْ لاُخْتِہ قُصِّیْہِ فَبَصُرَتْ بِہ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ } (القصص : 11) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس تدبیر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے دریا میں ڈالے جانے کے بعد حضرت موسیٰ کو ان کی والدہ ماجدہ کی طرف واپس لوٹائے جانے کے لیے اختیار فرمائی تھی ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
35 حضرت موسیٰ کی پرورش کے لیے ایک تجویز : سو اس سے اخت موسیٰ کی طرف سے ان کی پرورش کے لیے تجویز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " پھر وہ اجنبی بن کر بولیں جب کہ تم اے موسیٰ کسی بھی دایہ کا دودھ نہیں پی رہے تھے "۔ جس کی وجہ سے فرعونی پریشان ہو رہے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَحَرَّمْنَا عَلَیْہِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ } ۔ (القصص : 12) ۔ سو جب فرعونی اس بناء پر پریشان ہو رہے تھے کہ یہ بچہ کسی دایہ کا دودھ نہیں پیتا۔ اب اس کی پرورش کے بارے میں کیا کیا جائے۔ تو اس وقت موسیٰ کی بہن نے اجنبی بن کر ان سے یوں کہا۔ سو اپنی والدہ ماجدہ کی ہدایت کے مطابق حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ اس صندوق کو دیکھتی رہیں کہ یہ بہ کر کدھر جاتا ہے۔ بالآخر جب وہ فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا تو آپ نظر بچا کر دیکھتی دیکھتی وہاں پہنچ گئیں۔ دریا نے آپ کو کنارے پر ڈال دیا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے بچے کو فورا اٹھا لیا تو انہوں نے اس کو دودھ پلانے کی کوشش کی مگر بچہ کسی کی چھاتی سے منہ لگاتا ہی نہیں۔ تو اس موقعہ پر حضرت موسیٰ کی بہن نے ان لوگوں سے کہا کہ کیا میں آپ لوگوں کو ایک ایسے گھرانے کا پتہ نہ دے دوں جو بہت اچھے لوگ ہیں۔ اور وہ اس بچے کی نگہداشت اور دیکھ بھال کا پورا پورا خیال رکھیں گے۔ اور اس کی پرورش اچھی طرح کریں گے۔
36 اخت موسیٰ کی تجویز کی فوری منظوری : سو اخت موسیٰ نے فرعون اور اس کی گھر والوں کی پریشانی پر جب کہا کہ " کیا میں آپ لوگوں کو ایک ایسے گھرانے کا پتہ نہ بتادوں جو اس بچے کی اچھی طرح پرورش کریں "۔ کہ وہ لوگ بڑے اچھے لوگ ہیں۔ اگر وہ اجرت پر اس بچے کو دودھ پلانے پر راضی ہوجائیں تو اس کا خاص خیال رکھیں گے۔ اور اس کی تربیت و پرورش اچھی طرح سے کریں گے۔ سو اخت موسیٰ کی اس تجویز کو فوری طور پر قبول کرلیا گیا اور اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں ایسے گھرانے کا پتہ ہمیں ضرور بتاؤ۔ تب حضرت موسیٰ کی بہن ان لوگوں کے ساتھ اپنے گھر پہنچی۔ اپنی والدہ کو پورا قصہ سنایا اور اس کے بعد وہ لوگ ان کو لے کر شاہی محل میں پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے جونہی موسیٰ کو چھاتی سے لگایا تو انہوں نے فوراً دودھ پینا شروع کردیا۔ جس سے وہ سب لوگ خوش ہوگئے اور ان کی پریشانی جاتی رہی کہ بچے کو دودھ پلانے والی دایہ مل گئی اور بچے نے اس کا دودھ بھی قبول کرلیا۔ اور اس طرح قدرت کی طرف سے حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ سے کئے گئے اس وعدے کی تکمیل ہوگئی کہ ہم ضرور اس کو لوٹا کر واپس تمہارے پاس واپس لائیں گے { اِنَّا رَادُّوْہُ اِلَیْکِ } ( القصص :7) ۔ حضرت موسیٰ کو لوٹا کر واپس ان کی والدہ ماجدہ کے پاس پہنچا دیا گیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہوں۔ سو اس کی سبیل پیدا ہوگئی۔
37 حضرت موسیٰ کی پرورش کے لیے شاہی انتظام : سو اس طرح حضرت موسیٰ کی پرورش شاہی خرچ پر کرنے کا فیصلہ ہوگیا اور آپ کی والدہ ماجدہ کے لیے شاہی خزانے سے اکرامیے کا تقرر بھی طے پا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح ہم نے تمہیں اے موسیٰ تمہاری ماں کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں " اپنے نور نظر کو دیکھ کر۔ روایات کے مطابق فرعونیوں نے جب اس موقعہ پر حضرت موسیٰ کی والدہ کو شاہی محل میں رہنے کی پیشکش کی۔ تاکہ آپ وہاں پر شاہی آسائشوں میں رہ کر اس بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کرسکیں تو آپ نے یہ کہہ کر ان کی اس پیشکش کو ٹھکرادیا کہ میں اپنے گھر بار اور بال بچوں کو چھوڑ کر یہاں نہیں رہ سکتی۔ تم لوگوں نے اگر اس بچے کی پرورش کرانی ہے تو اسے میرے ساتھ میرے گھر بھیج دو ۔ میں اس کا پورا پورا خیال رکھوں گی اور کبھی کبھی تمہارے پاس بھی لے آیا کروں گی۔ انہوں نے آپ کی یہ بات مان لی اور آپ کے لئے ایک خاص اکرامیہ بھی بطور تنخواہ مقرر کردیا۔ اور بچے کو آپ کے حوالے کردیا جسے لے کر آپ واپس اپنے گھر پہنچ گئیں اور اپنے بچے کی آزادی سے پرورش کرنے لگیں اور شاہی خزانہ سے وظیفہ بھی برابر ملتا رہا ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کی عنایتوں کے کہ جس بچے کو مروانے کے لئے فرعون نے کتنے پاپڑ بیلے تھے، کتنے معصوم اور بےگناہ بچوں کا قتل اور خون اپنے ذمے لیا تھا، اب اس کی پرورش وہ خود اس اہتمام سے اور شاہی خرچ پر کرا رہا ہے۔ سو یہاں سے یہ بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب بندے کا تعلق اپنے خالق ومالک سے صحیح ہو اور اس کا باطن اور اس کی نیت درست ہو، تو اللہ پاک اس کو اپنی عنایتوں سے کس کس طرح نوازتا ہے کہ ظلم و سفاکی اور قتل و خونریزی کے اس ہولناک دور میں نہ صرف یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے ظلم اور اس کی بربریت سے بالکل محفوظ رہے بلکہ شاہی محل سے ہو کر اپنی والدہ کی گود میں واپس پہنچ گئے۔ اور آپ کی والدہ کے لئے شاہی خزانے سے مستقل اکرامیہ بھی جاری ہوگیا۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی محنت و مشقت میں خیر اور بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے اس کی مثال حضرت موسیٰ کی والدہ کی سی ہے کہ اپنے بچے کی پرورش بھی کرتی ہیں اور سرکاری خزانے سے تنخواہ بھی لیتی ہیں۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اخلاص اور صدق نیت بڑی اہم اور بنیادی چیز ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور توفیق بخشے ۔ آمین ۔ اور ہر حال میں اور ہر موقعہ پر اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 20:4438 دعوت حق کی سلسلے میں نرمی برتنے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت موسیٰ و ہارون کو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی تم دونوں فرعون سے نرمی ہی کی بات کرنا "۔ اس سے دعوت و تبلیغ کے کام کے سلسلہ میں ایک عظیم اور اہم اصول کی راہنمائی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ فرعون ایک بدترین کافر ہے جو کہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کا دعویٰ کرتا ہے اور تم دونوں اللہ کے رسول اور اپنے دور کے عظیم اور پاکیزہ ترین انسان ہو مگر اس سب کے باوجود تم اس کے ساتھ حق کی بات نرمی ہی سے کرنا تاکہ اس پر حجت تمام ہوجائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر کار دعوت کے بارے میں ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعَظَۃِ الْحَسَنَۃِ } ۔ (النحل : 125) ۔ سو نرم بات اپنے اندر بڑا زور اور قوت رکھتی ہے۔ اور اس سے بڑے بڑے سنگدلوں کے دل پسیج جاتے ہیں اور وہ حق کے آگے جھک جاتے ہیں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کو باوجود ان کی عظمت شان، جلالت قدر اور عصائے موسوی اور ید بیضا جیسے عظیم الشان معجزات رکھنے کے فرعون جیسے طاغیہ سے بات کرتے وقت نرمی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی گئی۔ کیونکہ لین اور نرمی دعوت حق کے طبعی لوازم میں سے ہے کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ کی بعثت و تشریف آوری تعلیم و اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی دعوت اور ان کے اندار میں ایک معلم کی شفقت اور غمگسار انسان کی ہمدردی اور دلسوزی ہمیشہ نمایاں رہی ہے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اقتداء و اتباع کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 20:4539 حضرت موسیٰ و ہارون کو فرعون سے زیادتی کا اندیشہ : سو ان دونوں نے عرض کیا " مالک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ کہیں ہم پر زیادتی نہ کر دے "۔ کہ دعوت و تبلیغ کی تکمیل اور معجزہ کے اظہار سے پہلے ہی وہ بدبخت ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں اپنی بات پوری کرنے اور اپنے معجزے کے اظہار کا موقع ہی نہ دے۔ اور کہیں وہ اس سے پہلے ہی ہمارا کام تمام نہ کر دے کہ وہ بہرحال ایک جابر اور ظالم حکمران ہے۔ اور ظلم و جبر کیلئے اس کے پاس تمام آلات و اسباب اور ذرائع و وسائل بھی بھرپور طور پر موجود ہیں۔ سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اب یہاں دیکھیے ایک نہیں دو پیغمبر ہیں۔ اور وہ بھی موسیٰ اور ہارون جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر۔ وہ دونوں رب تعالیٰ کے حضور اپنے خوف اور خدشات کا برملاطور پر اظہار کرتے ہیں۔ بہرکیف ان دونوں حضرات نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس طرح اپنے خوف و اندیشے کا اظہار کیا۔ تو اس پر ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی دی گئی ۔ علیہما الصلاۃ والسلام ۔
40 فرعون کی سرکشی کا خطرہ : سو ان دونوں نے عرض کیا کہ " وہ کہیں اس سے بھی زیادہ سرکشی پر اتر آئے "۔ کہ اس سے بھی بڑھ کر وہ تیری جناب اقدس و اعلیٰ کے بارے میں گستاخی و بدتمیزی پر اتر آئے۔ (روح، قرطبی وغیرہ) ۔ اور ایسی کوئی بھی بات اس سے بعید نہیں کہ وہ اپنی قساوت قلب اور سنگدلی میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے اور فسق و فجور اور ظلم وعدوان اس کے دل و دماغ میں پیوست ہوچکے ہیں۔ اس لیے اس سے کچھ بھی بعید نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ عربی زبان و اسلوب میں " فَرَطَ " کا صلہ جب " علیٰ " آتا ہے تو اس کے معنیٰ کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔ سو مطلب یہ ہوا کہ فرعون تو پہلے ہی غصے سے بھرا بیٹھا ہے۔ وہ ہمیں زبان کھولنے کی اجازت ہی کب دے گا۔ وہ تو بات سننے سے پہلے ہی یا تو ہمیں ختم کردینے کی تدبیر کرے گا یا اس کی طغیانی اور سرکشی میں اور اضافہ ہوجائے گا۔ تو ایسے میں ہم اس کو کلمہ حق کی تبلیغ کس طرح کرسکیں گے۔ اور ظاہری حالات کے اعتبار سے ان حضرات کا یہ اندیشہ بالکل درست اور بجا تھا۔
Ayah 20:4641 اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ و ہارون کو تسلی : سو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سے فرمایا کہ " ڈرو نہیں بیشک میں تم دونوں کے ساتھ ہوں "۔ اپنی نصرت و امداد کے اعتبار سے اور اپنی تائید و حمایت کے ذریعے۔ سو اس سے ان دونوں حضرات کے حوصلے اتنے بڑھے کہ وہ ظاہری اعتبار سے ہر طرح کے اسباب و وسائل سے تہی دامن ہونے کے باوجود اپنے وقت کے اس سب سے بڑے سرکش کافر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہوگئے۔ سو یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ السلام ۔ کی یہ مقدس ترین ہستیاں بھی جب اللہ تعالیٰ ہی کی تائید و نصرت کی محتاج ہیں تو پھر مخلوق میں اور کون ہوسکتا ہے جو کہ مافوق الاسباب طور پر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کا دم بھرسکے اور اس کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھا جاس کے ؟ اور جب ایسا کوئی نہیں، اور یقینا نہیں کہ سب سے بڑا درجہ و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں حضرات انبیائے کرام ہی کا ہوتا ہے۔ اور وہ بھی اللہ پاک کے ہی حضور دست دعاء والتجاء دراز کرتے ہیں۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی حاجت روا و مشکل کشا کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ بہرکیف حضرت موسیٰ و ہارون کی عرض والتجا کی جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی تسکین و تسلی کے لیے ان سے فرمایا کہ " یقینا میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہوں " اور جب اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی کے ساتھ ہو اور وہ سب کچھ سنتا دیکھتا ہو تو پھر اس کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ پھر تو اگر ساری خدائی بھی کسی کی دشمن بن جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو بھی وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ اللہم فکن لنا ولا تکن علینا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
Ayahs 20:47–5042 فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں سے فرمایا گیا کہ " تم جا کر فرعون سے کہو کہ ہم تیرے رب کے رسول ہیں۔ پس تو ۔ اے فرعون ۔ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کیلئے چھوڑ دے اور ان کو عذاب نہ دے "۔ جیسا کہ تو اب تک کرتا آیا ہے۔ اور ان کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر تو نے طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سو یہ دوسرا بڑا فریضہ تھا جو حضرت موسیٰ پر دعوت حق اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کے بعد عائد ہوتا تھا اور جس کیلئے آنجناب کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی کی جکڑ بندیوں سے رہائی دلانا پہلی اور اصل ذمہ داری تو آپکی بہرحال تبلیغِ حق ہی کی ذمہ داری تھی۔ جیسا کہ سورة نازعات کی آیت نمبر 17 سے لیکر آیت نمبر 20 تک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور یہاں پر ان دونوں حضرات نے اپنی اس اصل ذمہ داری کا ذکر اگرچہ ضمناً اور تبعًا فرمایا کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول اور اس کے فرستادہ ہیں، لہذا ہمارا اصل فریضہ اور بنیادی ذمہ داری وہی ہے جو دوسرے تمام انبیاء و رسل کی ہوتی ہے۔ یعنی دعوت الی اللہ۔ مگر دوسرے مقصد یعنی بنی اسرائیل کی آزادی کو صاف اور صریح طور پر بیان فرمایا کہ یہ نسبتًا آسان تھی۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کا منصب اور آپ کا مشن ایک قوم پرست لیڈر کی طرح صرف بنی اسرائیل کی آزادی کے مطالبے ہی کا نہیں تھا جس طرح کہ کچھ کم سوادوں نے سمجھا بلکہ آپ کا اصل منصب اور مشن ایک رسول اور اولو العزم رسول کی طرح دعوت حق کا تھا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 20:5144 ہر چیز کے مناسب ہدایت کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر اس نے ہر چیز کو خاص ہدایت سے نوازا۔ سو اس قادر مطلق نے ہر چیز کو اس کی اس ہدایت سے نوازا جس کی اس کو اپنے مقصد حیات کے لیے اور اپنی زندگی گزارنے کے سلسلے میں ضرورت تھی۔ سو اس نے کمال حکمت وقدرت سے اس فطری ہدایت کو ہر کسی کی فطرت وجبلت میں پیوست کردیا جس میں غورو فکر سے کام لینے پر ایسے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ملتے ہیں کہ انسان دل و جان سے اس قادر مطلق کے حضور جھک جھک جاتا ہے اگر اس کا دل مر نہ گیا ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ہر چیز کو اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کی تکمیل کیلئے جس ہدایت و راہنمائی کی ضرورت تھی وہ کمال حکمت کے ساتھ اس کی فطرت اور طبیعت میں ودیعت فرما دی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مثلا شہد کی مکھی کو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ نے جس مقصد کے لیے پیدا فرمایا اس کی تحصیل و تکمیل کے لیے ان تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو جو اس کے لیے ضروری تھیں قدرت نے کمال حکمت و عنایت کے ساتھ اس کے اس ننھے سے وجود میں ودیعت فرما دیا۔ پھر اس کی فطرت وجبلت کو اس بات کا الہام فرما دیا کہ وہ کس طرح اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کرے۔ اور شہد جیسے عظیم الشان مشروب کا ذخیرہ کرے۔ اور یہی حال اس پوری کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا ہے کہ اس کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا اس کے لیے اس کو پر حکمت ہدایت سے نوازا گیا۔
Ayah 20:5245 ایک نہایت معقول اور پر وقار جواب : سو فرعون کو اس کے لایعنی سوال پر حضرت موسیٰ نے ایک نہایت معقول اور پر وقار جواب دیا۔ سو فرعون نے جو کہا کہ پھر کیا حال ہے اور کیا بنے گا ان قوموں کا جو ـگزر چکی ہیں اس سے پہلے ؟ تو اس کے اس لایعنی اور غیر متعلق سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ " گزشتہ قوموں کے حالات کا علم تو میرے رب کے پاس ایک عظیم الشان کتاب میں موجود ہے "۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ اور لوح محفوظ میں ثبت و مندرج ان علوم کا تعلق غیب سے ہے جس کو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جاسکتا۔ نہ میں نے اس کے جاننے کا کوئی دعویٰ کیا ہے اور نہ ہی اس تک کسی کی رسائی ہوسکتی ہے۔ (روح، قرطبی، کبیر، مدارک اور مراغی وغیرہ) ۔ پس اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا یہ کہنا کہ لوح محفوظ کا علم اللہ کے ولیوں کی دسترس میں ہے ایک ایسی بےبنیاد اور لغو بات ہے جو جمہور اہل علم کی تصریحات کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر جب اس کا علم ایسے تمام لوگوں کی دسترس میں ہے تو پھر وہ محفوظ کیسے رہا ؟ سو لوح محفوظ کا علم محفوظ ہے۔ وہ کسی کی بھی دسترس میں نہیں۔ اور اس کو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی بھی نہیں جان سکتا۔ یہاں پر کتاب کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے ہے۔ سو اس کتاب عظیم کی عظمت شان کا عالم یہ ہے کہ کوئی جزئیہ یا کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں ہوگی جو اس میں درج ہونے سے رہ گئی ہو اور کل قیامت کے روز جب وہ کتاب کھلے گی اور انسان اس میں اپنا سب کچا چٹھا اور زندگی بھر کا سب کیا کرایا موجود و مندرج پائے گا تو چیخ اٹھے گا کہ " یہ کسی کتاب ہے جس نے کوئی بھی چیز خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی اس میں درج کیے بغیر نہیں چھوڑی " جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَا لِہٰذَا الْکِتَاب لاَ یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّ لاَ کَبِیْرَۃً الاَّ اَحْصَاہَا } ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 20:53–5446 توحید خداوندی کے بعض ارضی اور سماوی دلائل کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے زمین کے اس عظیم الشان کرے کو تمہارے لیے ایک عظیم الشان بچھونا بنادیا اور اس میں اس نے تمہارے لیے طرح طرح کے راستے بنائے "۔ مختلف پہاڑی سلسلوں، دروں اور ندیوں نالوں وغیرہ کی ایسی مستحکم حد بندیوں کے ذریعے جو کسی انسان اور حکومت بلکہ تمام انسانوں اور حکومتوں کے بس میں بھی نہیں۔ سو یہ بھی عظیم الشان مظہر ہیں قدرت و عنایت خداوندی کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ وبحمدہ جل و علا ۔ سو اسی سے تم لوگ یہ بھی سوچو کہ جس نے تمہاری ظاہری اور مادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے ایسے عظیم الشان انتظامات فرمائے اور زمین میں ایسے عظیم الشان راستوں کا جال بچھا دیا، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی اور معنوی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ کرے ؟ جبکہ اصل اور حقیقی ضرورتیں وہی ہوتی ہیں جن کا تعلق انسان کے باطن اور اس کی روح سے ہے۔ سو تمہاری ان روحانی ضرورتوں کی تکمیل ہی کیلئے اس نے وحی اور دین کا یہ عظیم الشان انتظام فرمایا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے توحید خداوندی کے بعض عظیم الشان ارضی اور سماوی دلائل کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو انسان اگر اپنے قدموں کے نیچے بچھے کرئہ ارضی کے اس عظیم الشان بچھونے کو دیکھے اور اس میں غور و فکر سے کام لے اور اس میں بچھے ہوئے طرح طرح کے راستوں کے عظیم الشان حال کو دیکھے اور آسمان سے اترنے اور برسنے والے پانی کے پر حکمت نظام میں غور کرے تو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی وحدانیت ویکتائی کے لیے دل و جان سے پکار اٹھے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
47 اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت کے بعض عظیم الشان مظاہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے قسما قسم کی پیداواریں نکالیں اپنے بندوں کی بھلائی کے لیے "۔ تو جب ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں کی تخلیق و پیدائش اور ان کی اس بخشش و عطا میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جس طرح خالق ومالک وہ وحدہ لاشریک ہے اسی طرح معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے اس کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے بعض اہم اور عظیم الشان دلائل توحید اور مظاہر قدرت و ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اس نے آسمان سے پانی کے اس ما بہ الحیاۃ جوہر کو اتارنے کے بعد زمین سے طرح طرح کی انگوریاں نکالیں اور قسما قسم کے درخت پیدا فرمائے جن سے انسان طرح طرح سے اور مسلسل و لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتا ہے۔ بالواسطہ طور پر بھی اور براہ راست و بلاواسطہ بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 20:55–5650 انسان کے مبدأ و آغاز کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا ہے جو کہ تمہارے پاؤں کے نیچے ہے "۔ کہ تمہارے جدِّ امجد آدم کو اسی سے پیدا کیا۔ نیز اس طرح کہ جس مادہ تولید سے تمہاری تخلیق ہوتی اور تمہاری ہستی وجود میں آتی ہے وہ حاصل ہوتا ہے مختلف قسم کی غذاؤں سے۔ اور وہ سب غذائیں اسی زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ سو اس طرح بھی بالواسطہ طور پر تم سب اسی مٹی سے پیدا کئے گئے ہو۔ تو پھر ذرا سوچو اور غور کرو اپنے خالق ومالک کی اس قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت پر جو خود تمہاری اپنی تخلیق میں کار فرما ہے کہ اس قادر مطلق نے اس بےجان مٹی سے کس پر حکمت طریقے سے پیدا فرما کر تمہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ؟۔ جلّ جلالہ وَعَمّ نَوالہ ۔ پھر اس کے حقِّ معرفت اور حقِّ بندگی سے اعراض برتنا اور منہ موڑنا کس قدر بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اپنے قدموں کے نیچے پڑی بچھی اس زمین میں غور و فکر سے کام لے کر اپنی اصل اور حقیقت کو پہچانو اور اس قادر مطلق کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت پر نظر کر کے اس کے حضور دل و جان سے جھک جھک جاؤ اور اس کی عبادت و بندگی بجا لاؤ۔ اور اس طرح اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو اور اپنی لیاقت و قابلیت پر اکڑنے کی بجائے اپنے خالق ومالک کے لیے سراپا شکر وسپاس بن جاؤ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
51 انسان کو اس کے انجام اور اس کی انتہاء کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی میں ہم تمہیں دوبارہ لے جائیں گے "۔ تمہاری موت کے بعد۔ سو موت کے بعد بھی یہی زمین تم کو سنبھالے گی جیسا کہ اس وقت بھی تم کو یہی زمین سنبھالتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَ لَمْ نَجْعَلِ الاَرْضَ کِفَاتًا، اَحْیَائً وَّاَمْوَاتًا } (المرسلات : 25-26) ۔ سو ذرا تم لوگ سوچو کہ یہ تمہارے رب کا تم پر کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ تم زندگی بھر اس زمین کے اوپر رہتے بستے اور طرح طرح سے اس کی بےحد و حساب نعمتوں سے مستفید و سرفراز ہوتے ہو اور پھر موت کے بعد یہی زمین تم لوگوں کو اس طرح عزت و احترام کے ساتھ اپنے اندر لے لیتی ہے۔ ورنہ تمہارے لاشے اگر یونہی زمین پر پڑے سڑتے گلتے رہتے اور طرح طرح کے وحشی درندے جانور ان لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہوتے تو پھر تمہارا کیا حال ہوتا ؟۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں کئی اہم درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اس اہتمام ربوبیت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک ایسا یوم فصل و جزاء آئے جس میں انسان اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پھل پائے۔ اچھے عمل کا اچھا اور برے عمل کا برا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوں۔ اسی طرح اس میں ایک اور درس عظیم یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی جو کہ ایک عارضی اور فانی زندگی اور عمل وسعی کی ایک مختصر و محدود فرصت ہے اصل میں آخرت کی کمائی ہی کے لیے ہے۔ ورنہ سرار خسارہ اور نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
52 انسان کو بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اسی سے ہم تمہیں ایک مرتبہ پھر نکالیں گے "۔ یعنی قیامت کے دن حساب و کتاب کے لئے۔ تاکہ اس طرح ہر کسی کو اس کے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ مل سکے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں۔ اور اس طرح اس حکمتوں بھری کائنات کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے۔ سو اس طرح تم ذرا اپنی زندگی سے متعلق ان مختلف مراحل کے بارے میں سوچو اور غور کرو کہ یہ سب کچھ آخر کس کی قدرت مطلقہ اور حکمت بالغہ کی کارستانی ہے ؟ اور تم اس کے ہاتھوں کس قدر بےبس ہو ؟ تمہاری زندگی کے ان مختلف مراحل میں سے کوئی بھی مرحلہ تمہارے بس اور اختیار میں نہیں۔ تو پھر کس قدر احمق اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو اپنے اسی خالق ومالک کو بھول کر آزاد و خود مختار بلکہ باغیانہ اور سرکشانہ زندگی گزارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آخر کار ایک دن ایسا بہرحال آئے گا جس میں اس کائنات کے رب کے عدل کا ظہور ہوگا۔ اور تم سب کو اس کے حضور دوبارہ زندہ ہو کر حاضر اور پیش ہونا ہوگا۔ سو جنہوں نے خداوند قدوس کی بخشی ہوئی نعمتوں کا حق ادا کیا ہوگا وہ اس کا بدلہ و صلہ پائیں گے اور جنہوں نے اس کے برعکس ان نعمتوں کی بنا پر کبر و غرور اور اعراض و روگردانی کا رویہ اپنایا ہوگا اور اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو انہوں نے اس کی زمین پر شر و فساد کا ذریعہ بنایا ہوگا ان کو اس کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہو سکیں اور اس کائنات کی حکمت تخلیق متحقق ہو سکے۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود عبث و بیکار قرار پاتا ہے جو خالق کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 20:5753 فرعون کی ایک شر انگیز سیاسی چال : سو حضرت موسیٰ کی موثر و معقول دعوت حق کا اثر زائل کرنے کے لیے فرعون نے ایک اور شر انگیز چال کے طور پر حضرت موسیٰ سے کہا کہ " کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال باہر کردو ؟ "۔ سو یہ بات ایک طرف تو اس لعین کی انتہائی بوکھلاہٹ کی نشانی تھی۔ بھلا ایک جادوگر اپنے جادو کے زور سے ایک بادشاہ اور اس کی پوری قوم کو ان کے ملک سے کیسے نکال باہر کرسکتا ہے ؟ اور دوسری طرف اس طرح دراصل وہ بدبخت اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا چاہتا تھا کہ یہ شخص اصل میں تم لوگوں کو اس ملک سے نکال دینا چاہتا ہے۔ کیونکہ اپنے ملک سے باہر نکل جانا انسان پر بڑا شاق ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن حکیم نے اس کو قتل کے برابر قرار دیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اَوِ اخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ } ۔ (النساء : 66) ۔ تو اس طرح اس ملعون نے اپنے اقتدار کو بچانے کی خاطر اپنی قوم کے جذبات کو ابھارنے اور ان کو برانگیختہ کرنے کے لئے گویا ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی۔ اور یہی حال ہوتا ہے بازیگران سیاست اور دلدادگان ریاست کی دسیسہ کاریوں کا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ وہ اپنی کرسی کی خاطر اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے ہر حال چلتے ہیں اگرچہ وہ نرا جھوٹ اور سراسر فراڈ ہی کیوں نہو۔ بہرکیف فرعون نے اس طرح حضرت موسیٰ کے خلاف ایک شر انگیز سیاسی چال چلی تاکہ اپنی قوم کو انکے خلاف بھڑکائے۔
Ayah 20:5854 فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ کو مقابلے کا چیلنج : سو فرعون نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ ہم اس کے جواب میں ایک ایسا ہی زور دار جادو لا کر رہیں گے۔ سو تم اس کے لیے اپنے اور ہمارے درمیان ایک جگہ اور وقت مقرر کرلو جہاں ہمارا باہم مقابلہ ہو اور وہ ایسا کھلا مقام ہو جہاں سب لوگ اپنی کھلی آنکھوں اس مقابلہ کو اور اس کے نتائج کو دیکھ سکیں۔ تاکہ اس کے بعد ہماری جیت اور فتح کے ترانے گائے جائیں اور ہماری دھاک سب پر اور بھی زیادہ سختی اور پختگی کے ساتھ بیٹھ جائے۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ یہ سب کچھ الٹا اسی کے خلاف جانے والا ہے اور ایسا کہ دھاک بیٹھنے کی بجائے اس کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ سو اللہ پاک کی مدد و عنایت اگر حاصل ہو تو خود دشمن کے ہاتھوں حق کے پھریرے لہرانے کا انتظام اسی طرح کرایا جاتا ہے ۔ فَکُنِ اللّٰھُمَّ لَنَا وَلَا تَکُنْ عَلَیْنَا ۔ وَخُذْ بِنَواصِبْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّکَ وَرِضَاکَ ۔ بہرکیف فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم مقابلے کے لیے کوئی ایسی جگہ مقرر کرلو جو فریقین کے لیے یکساں ہو اور دونوں طرف کے لوگ ایک معین وقت میں وہاں جمع ہوں۔ نہ تم اس کی خلاف ورزی کرو نہ ہم کریں۔ اور وہاں پر معاملہ سب کے سامنے اور پوری طرح واضح ہوجائے۔
Ayahs 20:59–6055 مقابلے کے لیے جشن کے دن کا تقرر : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں فورا اور بےدھڑک فرمایا کہ " وعدے کا وقت جشن کا دن ہے "۔ جس کو وہ لوگ جشن نوروز کے نام و عنوان سے سال کے شروع میں منایا کرتے تھے۔ (مراغی وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ مقابلہ اسی دن رکھا جائے کہ اس روز لوگ خودبخود اور بڑی تعداد میں جمع ہوں گے اور نتیجہ سب کے سامنے آجائے گا۔ اور حقیقت حال سب کے سامنے پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجائے گی۔ سو حضرت موسیٰ کو اپنی کامیابی کا چونکہ پورا یقین تھا کہ آپ بہرحال حق پر تھے۔ اس لیے آپ نے فرعون کے اس مطالبے کے جواب میں بےدھڑک ارشاد فرمایا کہ مقابلے کا دن میلے کا دن ہوگا اور اس کے لیے وقت چاشت کا۔ کیونکہ میلے کا دن فرصت و فراغت کا دن ہوتا ہے۔ لوگ بآسانی اور بڑی تعداد میں جمع ہو سکیں گے۔ اور چاشت کا وقت ایسے اجتماع کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب ہوتا ہے۔ سو اس طرح حضرت موسیٰ نے بھی یہی چاہا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھے ہوں تاکہ فرعون کا طلسم سب لوگوں کے سامنے آشکارا ہوجائے۔ سو دونوں کے قول وقرار کے مطابق مقابلے کا دن طے ہوگیا۔
56 مقابلے کے لیے چاشت کے وقت کا تقرر : سو وقت کی تعیین سے متعلق حضرت موسیٰ نے فرمایا " اور یہ کہ سب کو اکٹھا کردیا جائے دن چڑھے "۔ تاکہ معاملہ لوگوں کے سامنے دن کی روشنی میں واضح ہوجائے اور کسی طرح کا خفاء و التباس باقی نہ رہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کو اپنے موقف پر کس قدر وثوق اور یقین تھا جس کی بناء پر آپ اتنے بڑے ہولناک کفر کو اس قدر صاف اور صریح طور پر چیلنج کررہے ہیں اور تن تنہا اس پورے کفر کے مقابلے میں میدان معرکہ میں اترنے کا اعلان فرما رہے ہیں۔ سو یہی شان ہوتی ہے قوت ایمان و یقین کی کہ اس کی موجودگی میں نہ کوئی خوف و اندیشہ ہے اور نہ کسی طرح کا شک و تردد ۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوت والا ایمان و یقین نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے فرعون سے مقابلے کے وقت سے متعلق فرمایا کہ لوگوں کو چاشت کے وقت جمع کیا جائے تاکہ دن کی روشنی میں حق کا غلبہ اور باطل کی شکست کا منظر سب کے سامنے پوری طرح واضح اور آشکارا ہوجائے۔ اور اس طور پر اور اس طرح کہ کسی کے لیے کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے اور سب لوگ حق کے غلبے اور باطل کی شکست کو خود دیکھ لیں ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 20:6157 میدان مقابلہ میں حضرت موسیٰ کا ایک موثر تنبیہی خطاب : سو حضرت موسیٰ کے میدان مقابلہ میں فرعون اس کے حواریوں اور جادوگروں سے کہا کہ اللہ پر جھوٹ مت گھڑو کہ اللہ پر جھوٹے افتراء کا نتیجہ ہولناک عذاب ہوتا ہے۔ پس تم لوگ ایسا مت کرو ورنہ مارے جاؤ گے اور اس طرح تم لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ سو اس طرح حضرت موسیٰ نے پہلے ان سے حقِّ نصیحت ادا فرمایا اور اس کلمہ حق و صدق سے ان کو دعوت غور و فکر دی۔ اور اس کا ان لوگوں کے دل و دماغ پر ایسا اثر پڑا کہ وہ حضرت موسیٰ سے مقابلہ کرنے کے بارے میں آپس میں اختلاف میں مبتلا ہوگئے۔ کچھ نے کہا کہ نہ یہ چہرہ جادوگروں کا چہرہ ہوسکتا ہے اور نہ ایسا شخص جادوگر ہوسکتا ہے اور نہ ہی ایسا وثوق و اطمینان کسی جادوگر کو نصیب ہوسکتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ شخص کس وثوق و اطمینان سے بات کررہا ہے وغیرہ۔ جبکہ کچھ دوسرے جادوگروں وغیرہم نے کہا کہ نہیں یہ شخص جادوگر ہے اور ہم اس سے مقابلہ کریں گے۔ کیونکہ ہم مقابلے ہی کیلئے آئے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے جب میدان مقابلہ کے اندر مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ان سے یہ زور دار تنبیہی خطاب فرمایا تو اس سے ان لوگوں کے اندر ایک کھلبلی مچ گئی اور یہی نتیجہ ہوتا ہے حق کی ضرب کاری کا کہ اس سے اہل کفر وباطل کی دل ہل جاتے ہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 20:6258 فرعونیوں کے خفیہ صلاح مشورے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ لوگ باہم چپکے چپکے مشورے کرنے لگے " کہ ان سے مقابلہ کیا جائے یا نہیں۔ کہ نہ یہ چہرہ جادوگروں کا چہرہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کلمات صدق و صفا جن میں کسی خوف و اندیشہ کا کوئی ترشح ہے اور نہ ہی یہ کسی جادوگر کے کلمات ہوسکتے ہیں۔ اور اپنی یہ باتیں وہ لوگ آپس میں چھپا چھپا کر اور چپکے چپکے کر رہے تھے کہ کہیں فرعون کے لوگوں کو ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے کہ کہیں وہ ان کیلئے مشکلات نہ پیدا کردیں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کے قول حق کی ضرب کاری سے ان جادوگروں کے بواطن ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئے تھے۔ سو حق کی قوت بہت عظیم ہوتی ہے۔ یہ اس ارشاد کا ایک مفہوم ہے جو کہ عام طور پر لیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال یہ ہے { تنازعوا } کی ضمیر فاعل کا مرجع فرعون، اس کے اعوان و اَنصار اور جادوگر سب ہی تھے۔ سو ان سب ہی نے جمع ہو کر رازدارانہ طور پر خفیہ میٹنگ کی کہ موسیٰ کے مقابلے کے سلسلے میں کیا کیا جائے اور کیا طور طریقے اپنائے جائیں۔
Ayah 20:6359 طریقہ مُثْلیٰ کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : " مُثْلیٰ " تانیث ہے " اَمْثَل " اسم تفضیل کی۔ جس کے معنیٰ ہیں سب سے عمدہ اور بڑھیا۔ یعنی یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہارے دین، تمہاری تہذیب اور تمہارے بہترین طریقہ کو اس ملک سے باہر نکال دے اور اس کی جگہ اپنے دین اور طریقہ کو اس ملک میں رائج کردے۔ اور یہی بات فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کے جواز کے لیے کہی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے (المومن : 26) ۔ سو طریقہ مثلیٰ یعنی عمدہ طریقہ سے مراد ان لوگوں کا اپنا وہ دین اور طریقہ تھا جو ان کے اس ملک میں رائج تھا۔ اور اسی کو وہ سب سے عمدہ طریقہ قرار دے رہے تھے۔ اور ہر باطل والا اپنے باطل کے امثل اور افضل ہونے ہی کا دعویٰ کرتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ { کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمَ فَرِحُوْنَ } ۔ (الروم : 32) بہرکیف فرعون نے اپنے اس سیاسی حربے کے ذریعے اپنے حواریوں اور درباریوں کو بھڑکانے کی کوشش کی۔ سو ارباب اختیار اہل حق کے خلاف ہمیشہ اسی طرح کے حربے اختیار کرتے رہتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور تاریخ اس امر کی شاہد عدل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 20:64–6560 جادوگروں کا حضرت موسیٰ سے مقابلے کا فیصلہ : سو آخر کار انہوں نے باہم مشورہ کرنے کے بعد کہا کہ " تم اترو ۔ میدان میں ۔ صف باندھ کر "۔ اور یکبارگی ڈال دو وہ سب کچھ جو کہ تمہیں ڈالنا ہے۔ تاکہ تمہاری ہیبت چھا جائے اور تمہارا دبدبہ قائم ہوجائے۔ اور جو کچھ مکر و کید تم سے ممکن ہوسکے وہ سب لاکر ڈال دو تاکہ آج کے اس معرکے میں تم کامیاب ہوسکو۔ یعنی انہوں نے باہم مشورے کے بعد کہا کہ چونکہ مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اور معاملہ ملک و قوم اور اپنی تہذیب و ثقافت کی بقاء کا ہے۔ اس لیے تم اپنی سب قوت مجتمع کر کے میدان میں اترو اور اپنی بھرپور طاقت سے ان کا مقابلہ کرو۔
61 مقابلے کا دن فیصلے اور غلبے کا دن : سو انہوں نے مقابلے کے اس دن کو فیصلے اور غلبے کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یقینا غلبہ اسی کا ہے اور یقینا جیت اسی کی ہے جو آج غالب رہا۔ کیونکہ یہ معرکہ بہت کانٹے کا معرکہ ہے۔ اور اتنے بڑے مجمع کے سامنے ہورہا ہے۔ اور ملک بھر کے لوگوں کی نگاہیں اس پر لگی ہوئی ہیں۔ اور پھر ہمیں اس جیت پر انعام بھی ملے گا اور بادشاہ کے یہاں قرب خاص بھی نصیب ہوگا جیسا کہ اس نے ہم سے اس کا پختہ وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ سو آج کا دن بڑا اہم نازک اور غلبے اور فیصلے کا دن ہے۔ اگر آج کے اس معرکہ میں ہم ہار گئے تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے اور ان سب خطرات سے ہمیں دوچار ہونا پڑے گا جن کا موسیٰ اور ہارون کے غلبے کی صورت میں ہمیشہ خوف اور خدشہ ہے۔
Ayah 20:6662 موسیٰ کا جادوگروں کو اطمینان بھرا جواب : سو حضرت موسیٰ نے ان سے کہا کہ پہلے تم ہی ڈال لو جو کچھ کہ تم کو ڈالنا ہے تاکہ اس طرح تمہارا شوق بھی پورا ہوجائے اور حق بھی نکھر کر سامنے آجائے۔ سو اس سے حضرت موسیٰ کی قوت ایمان و یقین، عزم و استقامت اور اطمینان قلب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ جادوگروں کی اتنی بڑی فوج کو حضرت موسیٰ پورے اطمینان سے جواب دیتے ہیں اور ان کے چیلنج کے مقابلے میں نہایت سکون و وقار اور پورے اطمینان سے کہتے ہیں کہ تم ہی ڈال دو جو کچھ کہ تم کو ڈالنا ہے اور تم اپنے ارمان نکال لو۔
63 جادو کا اثر محض خیال تک : سو جادوگروں کی جادوگری کا اثر و نتیجہ محض خیال کی حد تک تھا۔ یعنی واقع میں وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ نہیں بن گئی تھیں بلکہ ان لوگوں کے جادو کے زور اور نظربندی سے ایسے نظر آرہا تھا کہ وہ سانپ ہیں جو دوڑ رہے ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جادو سے کسی شی کی حقیقت نہیں بدلتی۔ بلکہ یہ ایک طرح کی نظر بندی ہی ہوتی ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا ۔ { یُخَیَّلُ اِلَیْہِ } ۔ یعنی " اس سے موسیٰ کو یوں خیال ہونے لگا " اور ایسا نظر آنے لگا کہ گویا یہ سب سانپ ہیں جو دوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ سانپ نہیں تھے بلکہ رسیاں اور لاٹھیاں ہی تھیں جو ان کے جادو کے زور سے اس طرح نظر آرہی تھیں کہ گویا یہ سانپ ہیں۔ جن سے وہ میدان بھر گیا تھا اور وہ چاروں طرف دوڑ رہے تھے۔
Ayah 20:6764 جادو کے زور سے موسیٰ کے دل میں طبعی خوف کا پیدا ہونا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف سا محسوس کیا "۔ جو کہ ایک طبعی چیز اور فطری تقاضا ہے کہ انسان نقصان دینے والی اور موذی چیز سے خوف محسوس کرتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ اس موقعہ پر نہ اس طرح ڈرتے، نہ خوف کھاتے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے جب یہ منظر دیکھا کہ جادوگروں کے جادو کے زور سے پورا میدان سانپوں سے بھر گیا ہے اور آپ کی لاٹھی کا کمال ابھی تک ظاہر نہیں ہوا تھا ہرچند کہ آنجناب کو اللہ تعالیٰ کے وعدے پر یقین تھا کہ فتح اور غلبہ بہرحال آپ ہی کے لیے مقدر ہے۔ لیکن یہ اب طبعی امر ہے کہ جب صورت حال توقع سے زیادہ ہولناک شکل میں سامنے آجائے تو وقتی طور پر کچھ نہ کچھ خوف پیدا ہو ہی جاتا ہے اور لفظِ { خیفۃ } کی تنوین سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ خوف بالکل معمولی اور محض وقتی نوعیت کا تھا۔
Ayahs 20:68–6965 حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی : سو ارشاد فرمایا گیا " ہم نے موسیٰ سے کہا کہ ڈرو نہیں کہ غلبہ یقینا تمہارا ہی ہوگا " کہ غلبہ تو حق ہی کا ہوتا ہے۔ اور حق پر یقینی اور قطعی طور پر آپ ہی ہیں۔ اور جس حق پر آپ ہیں اس کے سامنے ان لوگوں کے جادو اور اس شعبدہ بازی کا کچھ بھی زور نہیں چل سکتا۔ سو اس سے ایک بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے اور انجام کار کامیابی اہل حق اور اہل ایمان ہی کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للمتقین } ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { والعاقبۃ للتقوی } ۔ اور دوسری بات یہ کہ اللہ والوں کی پشت پر اللہ تعالیٰ کی تائید و عنایت ہوتی ہے جو ہر موقعہ پر ان کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ پس جس کا تعلق اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ جس قدر قوی ہوگا وہ اسی قدر اس کی تائید وتقویت سے سرفراز و سرشار ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس ارشاد کے ذریعے حضرت موسیٰ کے خوف و ہراس کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ذرا خوف و اندیشہ نہ کریں کہ یہ لوگ کتنا ہی بڑا جادو کیوں نہ کر جائیں غلبہ اور سربلندی بہرحال آپ ہی کے لیے ہے۔
Ayahs 20:70–7166 جادوگروں کا برملا اعلان ایمان : سو وہ لوگ موسیٰ کا معجزہ دیکھتے ہی بےساختہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لائے موسیٰ اور ہارون کے رب پر کہ یہ جادو نہیں ہوسکتا بلکہ خدائی قوت کا مظہر ہے۔ پس حق وہی ہے جسکی دعوت موسیٰ اور ہارون دے رہے ہیں۔ پس ہمیں یقین آگیا ہے کہ موسیٰ اور ہارون ہی سچے ہیں اور رب حقیقی وہی ہے جس کو موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ اس لیے ہم صدق دل سے اس پر ایمان لے آئے اور اپنے سابقہ کفر اور کفریات سے تائب ہوگئے۔ سو انسان کے اندر اگر اعتراف حق کی کوئی رمق موجود ہو تو ساحر کے شعبدے اور نبی کی معجزے کے درمیان فرق کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔
Ayah 20:7269 اہل ایمان کا فرعون کو قوت ایمانی سے لبریز جواب : کہ تو کرلے جو کچھ تجھے کرنا ہے۔ تو تو اس دنیاوی زندگی ہی میں اپنا حکم چلا سکتا ہے اور بس۔ اس کے آگے تیرا کوئی زور نہیں۔ اور دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی ہے۔ اور یہ اگر راہ حق میں لگ جائے اور دائمی سعادت و کامیابی کا ذریعہ بن جائے تو اس سے بڑھ کر سعادت اور خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحان اللہ ۔ کیا دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت اور کیسی قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت ؟ اور کس قدر عظیم انقلاب برپا کردیتی ہے یہ انسان کے اندر جبکہ اتر جاتی ہے یہ اس کے دل و دماغ میں۔ یہاں پر اس کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو کہ کہاں وہ لوگ جو ابھی کچھ ہی لمحے قبل موسیٰ کے مقابلے میں جیتنے کی صورت میں فرعون سے اپنے لیے خاص اجر اور مزدوری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اور صاف طور پر کہہ رہے تھے ۔ { اِنَّ لَنَا اَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِیْنَ } ۔ (الاعراف : 113) ۔ مگر ایمان کی لذت و حلاوت سے سرشار اور شاد کام ہوجانے کے بعد کہاں اب وہی لوگ حق و ہدایت کے مقابلے میں اپنی جان عزیز کی بازی لگانے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِہٰذِہِ النَّعْمَۃِ الْکُبْرٰی نِعْمَۃِ الاِیْمَان ۔ فَزِدْنَا اللّٰہُمَّ اِیْمَانًا وَیَقِیْنًا بِکَ وَبِوَعْدِکَ وحُبًّا فِیْکَ وَخُضُوْعًا لاَمْرِکَ فِیْ کُلِّ مَوْطِنِ مِّنَ الْمَوَاطِنِ فی الحیاۃ وَبِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَالِ-
Ayahs 20:73–7470 سدا بقاء اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان بندگان صدق وصفا نے فرعون کی دھمکی کے جواب میں مزید کہا کہ اور اللہ ہی ہے سب سے اچھا اور سدا باقی رہنے والا۔ فرعون نے ان سے کہا تھا کہ تمہیں ابھی معلوم ہوا چاہتا ہے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ۔ { اَیُّنَا اَشَدُّ عَذَابًا وَّاَبْقٰی } ۔ سو اس کے جواب میں انہوں نے فرعون سے یہ بات کہی کہ اللہ ہی سب سے بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے۔ پس اسی کا اجر وثواب سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے نہ کہ تو اور تیری طرف سے ملنے والا بدلہ۔ جیسا کہ تو گھمنڈ رکھتا ہے اے فرعون۔ اس لیے ہم اللہ کے نام پر اور اس کی رضا کیلئے ہر قربانی دینے کو اور ہر دکھ سہنے کو تیار ہیں۔ یہاں تک کہ تو اگر ہمیں پھانسی بھی دے دے اور کھجوروں کے تنوں پر لٹکا دے جس طرح کہ تو نے ہمیں دھمکی دی ہے تو ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ آگے بعض حضرات اہل علم نے کہا کہ اس ملعون نے ان اہل ایمان کو یہ دھمکی تو دی مگر اس پر وہ عمل نہیں کرسکا۔ لیکن حضرت ابن عباس ؓ اور بعض دوسرے اسلاف کرام سے مروی ہے کہ اس ملعون نے ان حضرات کو یہ سزا دے ڈالی۔ اور اس طرح یہ حضرات جو صبح جادوگر تھے شام کو شہدا بن گئے۔ (ابن کثیر، الکبیر، المعارف اور المراغی وغیرہ) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 20:7571 کامیابی کی اساس و بنیاد ایمان اور عمل صالح : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو اپنے رب کے حضور ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا جبکہ اس نے کام بھی نیک کیے ہوں وہی ہے کامیاب ہے "۔ پس ایمان کی شرط بنیادی شرط ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اور ایمان کا بھی محض زبانی کلامی دعویٰ کافی نہیں بلکہ اس کے ثبوت کیلئے عمل صالح کا سرمایہ بھی ضروری ہے۔ اور یہی ثبوت ہے اس کے دعوائے ایمان کی صداقت کا۔ کیونکہ نور ایمان کا مرکز اور محل تو انسان کا قلب ہی ہے جو نظر آنے کی چیز نہیں۔ اس کا ظاہری ثبوت عمل صالح ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جاتا ہو۔ اور جو ایمان عمل صالح سے خالی ہوگا اس کی خدا تعالیٰ کے یہاں کوئی پوچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لیے قرآن حکیم میں اکثر و بیشتر ایمان کے ساتھ عمل صالح کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayah 20:7672 جنت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تزکیہ و پاکیزگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ جزا ہے ہر اس شخص کی جس نے پاکیزگی اختیار کی "۔ برے عقائد، گندے اعمال اور غلط اخلاق و کردار سے ۔ اللہ ایسا ہی تقویٰ و طہارت نصیب فرمائے اور اس پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔ سو ایمان وتقویٰ بالفاظ دیگر تزکیہ نفوس انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی اور سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی دولت نصیب ہوتی ہے اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں جنت کی نعیم مقیم اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس سے ظاہر فرما دیا گیا کہ جنت محض جھوٹی آرزوؤں سے ملنے والی چیز نہیں بلکہ اس سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تزکیہ ہے۔ اور یہی چیز انسان کو اس سے سرفرازی کا اہل بناتی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 20:7773 حضرت موسیٰ کو مصر سے کوچ کا حکم وارشاد : سو اس سے حضرت موسیٰ کو راتوں رات مصر سے چل نکلنے کا حکم وارشاد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ راتوں رات چل نکلو میرے بندوں کو لے کر یعنی ارض مصر سے "۔ تاکہ ان کو غلامی کی ان زنجیروں سے آزادی مل سکے جن میں یہ جکڑے ہوئے ہیں۔ اور اس گندے ماحول سے یہ الگ ہوجائیں جس میں رہ کر انہوں نے اپنادین و ایمان سب کچھ بگاڑ دیا ہے۔ اور یہ شرک کی طرح طرح کی نجاستوں اور غلاظتوں سے آلودہ ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ میرے ان مظلوم بندوں کو راتوں رات لیکر یہاں سے نکل جاؤ تاکہ یہ آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوسکیں اور اس گندے ماحول اور صدیوں کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ اور ان کی غلامی کے مظلومانہ دور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے۔ اور وہ آزادی کی نعمت سے سرفراز ہو سکیں۔
74 موسیٰ کے لیے سکون و اطمینان کا پیغام : سو حضرت موسیٰ کو امن وامان کا پیغام دیتے ہوئے اور ان کو اطمینان سے نوازتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " نہ تو آپ کوئی اندیشہ رکھنا پکڑے جانے کا اور نہ غرق ہونے کا "۔ کہ ہماری تائید و نصرت تمہارے ساتھ ہے۔ پھر ڈر کا ہے کا اور خوف و ہراس کس کا ؟ سو اصل حمایت و حفاظت اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ وہ اگر حاصل ہے تو پھر کسی کی کیا پرواہ ؟ سو راتوں رات مصر کے اس ظلمت کدے سے بنی اسرائیل کو اپنے ہمراہ لے کر نکل جاؤ اور اپنے بارے میں نہ آگے سمندر میں ڈوبنے اور غرق ہونے کا کوئی خوف رکھنا اور نہ فرعون کی طرف سے پکڑے جانے کا۔ سو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اسی طرح اپنی خاص عنایات سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 20:7875 فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی کا ذکر : سو اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کے بعد حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل گئے اور ان کے تعاقب میں ان کے بعد فرعون بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت نکل پڑا۔ یہاں تک کہ یہ بھی سمندر کے اسی مقام پر پہنچ گیا جہاں سے حضرت موسیٰ معجزانہ طور پر بنی اسرائیل سمیت پار ہو گیے۔ تو سمندر کے پھٹنے سے ان کے لیے بننے والے خشک راستوں میں یہ ملعون گھس گیا تو سمندر کی غضبناک اور خوفناک موجیں ان پر ٹوٹ پڑیں اور ان پر چھا گیا سمندر سے جو کچھ کہ چھانا تھا۔ اور ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا سمندر کی طوفانی موجوں نے۔ اور اسے غرق کردیا مع اس کے لاؤ لشکر کے۔ اور وہ پہنچ کر رہے اپنے ہولناک انجام کو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -