17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو عطا کی تھیں نو کھلی نشانیاں، پس تم پوچھ لو بنی اسرائیل سے کہ جب موسیٰ ان کے پاس آیا تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تجھے یقینی طور پر ایک جادو کا مارا ہوا انسان سمجھتا ہوں،

186۔ ایمان و ہدایت سے سرفرازی کی اصل بنیاد طلب صادق ہے :۔ سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و ہدایت سے سرفرازی کا ذریعہ معجزات نہیں بلکہ طلب صادق ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور بلاشبہ ہم ہی نے موسیٰ کو عطا کی تھیں نوکھلی نشانیاں “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی نشانیوں اور عظیم معجزات سے نوازا تھا۔ تفسیر مراغی واغیرہ میں اس موقع پر سولہ بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس لئے ان نونشانیوں کی نعیین و تخصیص میں حضرات علماء ومفسریں کرام کے اقوال مختلف ہیں۔ ابن جریر اور ابن منذر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ نونشانیاں یہ ہیں۔ عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، سنین اور نقص ثمرات۔ (روح، ابن کثیر، مراغی، اور صفوۃ وغیرہ) ۔ مگر اس قدر کھلی نشانیوں کے باوجود فرعون اور اس کے اعوان و انصار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے اور الٹا فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ میں تم کو ایک جادو کا مارا ہوا شخص سمجھتا ہوں۔ یہاں تک کہ وہ غرق دریا ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر ہوگئے۔ اسی طرح تم لوگوں کی فرمائش کے مطابق حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ تمہارے فرمائشی معجزے ظاہر کردیئے جائیں تو تم نے بھی نہیں ماننا۔ جس کے نتیجے میں تم نے بھی تباہی کے اسی گھاٹ پر اترنا ہے۔ جس پر فرعون اور اس کی جماعت اتر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ایمان و ہدایت سے سرفرازی کا ذریعہ معجزات نہیں بلکہ طلب صادق ہے۔ 187۔ فرعون کا فرعونیت بھرا جواب :۔ سو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعونیت بھرا جواب دیا اور نہایت متکبرانہ اور گستاخانہ انداز تخاطب کیا۔ یعنی اس قدر عظیم الشان معجزات اور نشانیاں دیکھنے کے باوجود اس لعین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا تھا۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان کثرت معجزات سے نہیں ملتا بلکہ اس کی اصل اساس و بنیاد طلب صادق ہے۔ سو طلب صادق اگر آدمی کے اندر موجود نہ ہو تو کتنے ہی معجزات پیش کردیئے جائیں ہٹ دھرم لوگ پھر بھی نہیں مانتے۔ سو انسان کے بناؤبگاڑ کا اصل تعلق اس کے قلب وباطن سے ہے فبااللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب میں کہا کہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان بصیرت افروز نشانیوں کو آسمانوں اور زمین کے مالک کے سوا اور کسی نے نہیں اتارا اور میں تجھے اے فرعون، قطعی طور پر ایک ہلاک ہونے والا انسان سمجھتا ہوں،

188۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خطاب فرعون سے :۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ ان نشانیوں کو رب کائنات ہی نے اتارا ہے۔ مگر بدبخت نے پھر بھی انکار کیا ظلم وتکبر کی بناء پر۔ سو ظلم وتکبر اور عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ سو معلوم ہوا کہ فرعون ان نشانیوں کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھا۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر وہ ان کا انکار کررہا تھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلماوعلوا، الایۃ (النمل : 14) سو ظلم وتکبر اور عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ، ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین۔ 189۔ حضرت موسیٰ ﷺ کا مبنی برحق و حقیقت جواب :۔ سو فرعون کے اس گستاخانہ اور متکبرانہ قول کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق اور حقیقت پر مبنی اپنے جواب میں فرعون سے کہا کہ ” میں تو تجھے ہلاکت زدہ شخص سمجھتا ہوں “۔ کیونکہ تو حق کا منکر اور ہٹ دھرمی وضدی شخص ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ تو ایسے انجام سے دوچار ہو۔ حضرت موسیٰ ﷺ نے یہ ارشاد اپنے اس تجربے کی بناء پر فرمایا جو مدتوں کی محنت کے نتیجہ میں فرعون کے بارے میں آپ کو حاصل ہوا تھا۔ اس لئے اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں نے جو اس سے اپنے شرکیہ عقائد پر دلیل کشید کرنے کی کوشش کی وہ ان کی اپنی ذہنی اپج اور تحریفانہ ذہنیت کی عکاس و آئینہ دار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی اس بیہودہ اور اشتعال انگیز بات کے جواب میں بغیر کسی قسم کے اشتعال اور کسی طرح کی جذباتیت کے ٹھوس اور حقیقت پسندانہ جواب دیا کہ فرعون میں تجھے یقینا ایک ہلاک اور تباہ ہونے والا انسان سمجھتا ہوں۔ کیونکہ کفر وانکار کی جس راہ پر تو چل رہا ہے اس کا آخری انجام یقینی طور پر یہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

سو فرعون نے چاہا تھا کہ اکھاڑ پھینکے ان سب کو اس سرزمین سے، مگر اس کے نتیجے میں ہم نے غرق کردیا خود فرعون کو اور ان سب کو جو اس کے ساتھ تھے یکجا طور پر،2

190۔ فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کو اکھاڑ پھینکنے کا مصوبہ :۔ سو اس کے بعد فرعون نے چاہا کہ اکھاڑ پھینکے ان سب کو اس سرزمین سے۔ یعنی سرزمین مصر سے طرح طرح کے مظالم ڈھا کر اور قسما قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کام لے کر تاکہ اس طرح اس کیخلاف کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھنے پائے۔ مگر اس کی ان سازشوں اور مکر وکید کا وبال الٹا اسی پر پڑا اور وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق قلزم ہو کر فی النار والسقر ہوگیا۔ اور ایسا کہ اس کا نام ونشان بھی ہمیشہ کیلئے مٹ گیا۔ سو سب پر غالب قوت قاہرہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ترکی بہ ترکی جواب سے فرعون کے سامنے اس بات کو واضح کردیا کہ آسمانوں اور زمین کے رب کی طرف سے اتاری گئی ان عظیم الشان نشانیوں سے بھی اگر تیری آنکھیں نہیں کھلتیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تجھ پر اللہ کی حجت تمام ہوگئی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تیری ہلاکت کا وقت اے فرعون آپہنچا ہے تو اس کے بعد اس ملعون نے اپنا پورا زور اس پر لگا دیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے قدم سرزمین مصر سے اکھاڑ پھینکے اور ان کا وہاں سے خاتمہ کردے مگر وہ خود ہی فی النار والسقر ہو کر رہا۔ 191۔ فرعون کا آخری انجام اور اس کی غرقابی :۔ سو اپنے اس مکروہ پروگرام اور مذموم منصوبہ بندی سے فرعون نے خود اپنی ہی ہلاکت اور تباہی کا سامان کیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” ہم نے غرق کردیا فرعون کو اور اس کے ساتھیوں سب کو “ پس ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے اور بس۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے اور اس کی طرف سے باغیوں اور سرکشوں کو جو ڈھیل ملتی ہے اس سے کبھی بھی کسی کو غلط فہمی اور غفلت میں نہیں پڑنا چاہئے کہ وہ بہرحال ایک مہلت اور ڈھیل ہی ہوتی ہے جس نے اپنے وقت پر بہرحال ختم ہوجانا ہوتا ہے۔ پھر اس کی پکڑ بڑی ہی سخت اور انتہائی ہولناک ہوتی ہے۔ ان اخذہ الیم شدید (ہود : 102) سو فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو نکالنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن اس کے نتیجے میں وہ خود ہی غرقاب ہو کر ہمیشہ کیلئے مٹ گیا۔ سو بری چال اپنے چلنے والوں ہی کو اپنی گرفت میں لے کر رہتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولا یحیق المکر السییء الا باہلہ (فاطر : 43) یعنی بری سازش اس کے گھڑنے اور بنن والے ہی کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے والعیاذ باللہ جل وعلابکل حال من الاحوال۔
Ayah 17:104

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم لوگ رہو بسو، اس زمین میں، پھر جب آپہنچے گا آخرت کے وعدے کا وقت، تو ہم لے آئیں گے تم سب کو اکٹھا کر کے،

192۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کیلئے انعام کا ذکر وبیان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ رہو بسو تم اس سرزمین میں “۔ جس کو ہم نے ظاہری اور باطنی طرح طرح کی برکتوں سے نوازا ہے اور جو کہ ارض مقدسہ اور ارض مبارکہ کہلاتی ہے۔ یعنی ارض شام و فلسطین۔ (مراغی، و محاسن وغیرہ) سو اس طرح اس ارشاد ربانی سے فتح مکہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو سرزمین مصر سے نکالنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن اس کے نتیجے میں وہ اپنی قوم سمیت خود ہی غرقاب ہو کر فی النار والسقر ہوگیا اسی طرح مشرکین مکہ نے بھی حضرت خاتم الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام) اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو سرزمین مکہ سے نکال باہر کرنے پروگرام بنالیا تھا۔ مگر اس کے برعکس خود انہی کے اقتدار کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ سو اس کے کچھ ہی عرصہ بعد فتح مکہ کے ذریعے ایسے ہی ہوا۔ والحمد للہ۔ سو جو الفاظ حضرت موسیٰ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو ارض مصر سے نکالنے کے بارے میں ارشاد فرمائے گئے تھے وہی آنحضرت ﷺ سے متعلق مشرکین مکہ کے بارے میں بھی ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ جیسا کہ اسی سورة کریمہ کی آیت نمبر 76 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے وان کادوا لیستفزونک من الارض لیخرجوک منھا، چناچہ اس کے بموجب سرزمین مکہ کو مشرکین کے ناپاک قدموں سے ایسا پاک اور صاف کردیا گیا کہ ان کا ناپاک وجود وہاں سے ہمیشہ ہمیش کیلئے مٹ گیا اور توحید کا ہمیشہ کیلئے بول بالا ہوگیا۔ والحمد للہ رب العالمین۔ 193۔ بنی اسرائیل کیلئے دوسرے وعدے کا ذکر اور اس سے مقصود و مراد ؟:۔ سو ان سے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر دوسری مرتبہ ہم پھر تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے (اے یہودیو ! ) “ ارض محشر کی طرف جہاں تم اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاؤگے۔ (روح، ابن کثیر، مراغی وغیرہ ) ۔ یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں ایک قول و احتمال ہے اور یہی قول زیادہ مشہور بھی ہے۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال اس بارے میں یہ بھی ہے کہ اس حشر سے مراد بنی اسرائیل کا ارض فلسطین ہی میں دوبارہ جمع ہونا ہے۔ جیسا کہ آج کل ہے ارض فلسطین میں یہود تمام اطراف اور اکناف عالم سے کھنچ کھنچ کر جمع ہورہے ہیں۔ جہاں ان پر دوسرا عذاب واقع ہوگا۔ رہ گئی یہ بار کہ وہ کب ؟ کس شکل میں ؟ کس طرح ؟ اور کن کے ہاتھوں ہوگا ؟ تو ان سب امور کا علم اللہ پاک ہی کو ہے۔ البتہ اتنی بات بطور اصول موضوعہ کے یاد رکھنے کی ہے کہ قوموں کے فیصلے دنوں اور مہینوں میں نہیں، صدیوں سالوں میں بدلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے پیمانے اور اس کا حساب بندوں کے پیمانوں سے بہت مختلف ہے۔ بندوں کی گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک دن کے برابر ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں اس کی تصریح موجود ہے۔ وان یوما عند ربک کالف سنۃ مماتعدون، (الحج : 47) ۔ 67 ء میں عرب اسرائیل جنگ میں جو عربوں کو نہایت ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا اور بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر یہود کے قبضے میں چلا گیا اور اب تک ان ہی کے ناپاک قبضے میں ہے۔ اور اس موقع پر اور اس بناء پر پورا عالم اسلام غم وغصہ میں ڈوب کر رہ گیا تھا، اس وقت یعنی آج سے کوئی تیس بتیس سال پہلے راقم آثم نے اس بارے میں مضمون لکھا تھا جو کہ مختلف اخبارات وغیرہ میں بھی شائع ہوا تھا اس میں راقم آثم نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی تھی کہ اس حشر سے مراد بنی اسرائیل کا وہی حشر ہے جو اسی دنیا میں ارض فلسطین میں ہوگا اور وقت آئے گا کہ یہ ارض فلسطین۔ انشاء اللہ العزیز۔ یہود بےبہبود کا اجتماعی قبرستان بنے گی۔ کیونکہ حشر کا جمع ہونا تو کوئی بنی اسرائیل کیلئے خاص نہیں بلکہ عام اور سب ہی کو شامل ہے کہ اس روز تو تمام اقوام عالم جمع ہونگی۔ نہ کہ صرف یہود۔ سو یہ ہماری رائے ہے والعلم عند اللہ سبحانہ وتعالیٰ وھو اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم فی کل باب۔
Ayah 17:105

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور حق ہی کے ساتھ اتارا ہے ہم نے اس (قرآن حکیم) کو اور حق ہی کے ساتھ نازل ہوا ہے یہ، اور ہم نے نہیں بھیجا آپ کو (اے پیغمبر ! ) مگر خوشخبری سنانے والا، اور خبردار کرنے والا بنا کر

194۔ قرآن حکیم کو حق ہی کے ساتھ اتارا گیا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے حق کے ساتھ اتار اس (قرآن حکیم) کو “ کہ اس میں جو کچھ فرمایا گیا وہ بھی سب حق وصدق ہے اور جس غرض کیلئے اس کو اتارا گیا وہ بھی حق وصدق ہے۔ اس کے سوا اور کہیں حق ہے ہی نہیں۔ پس جو لوگ اس کتاب حکیم پر ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں وہ یقینا حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، 195۔ اور یہ حق ہی کے ساتھ نازل ہوا :۔ کہ اس حق صریح میں کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہوئی۔ بلکہ جس طرح اس کو حق نے اتارا اسی طرح یہ آگے پہنچا اور اسی طرح یہ اب تک محفوظ ہے نہ اس میں کوئی کمی ہوئی نہ بیشی اور یہی ایک کتاب ہے، جو اس طرح اور اس شان سے باقی اور محفوظ ہے۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اس کے اتارنے والے اس خالق ومالک نے خود لیا ہے جو کہ قادر مطلق ہے۔ اور اس کا صاف وصریح طور پر اپنا ارشاد ہے کہ ” اس کو ہم ہی نے اتارا ہے اور اس کے محافظ بھی خود ہم ہی ہیں “۔ (الحجر : 9) اور یہی وہ کتاب حکیم ہے جو ” خالصتا اتاری ہوئی کتاب ہے خدائے حکیم وحمید کی طرف سے اور جس پر باطل نہ اس کے آگے سے حملہ کرسکتا ہے نہ پیچھے سے “۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ضحم السجدۃ : 41۔ 42)
Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا، تاکہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کو سنائیں، اور ہم نے اسے (موقع بموقع) ایک خاص تدریج سے اتارا ہے،

196۔ قرآن حکیم کا نزول تدریج کے ساتھ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ہی نے اس کو خاص تدریج کے ساتھ اتارا ہے “ تئیس سال کے طویل عرصے میں حالات و واقعات اور حوادث ونوازل کے مطابق۔ تاکہ یہ دلوں میں اترتا اور ذہنوں میں بیٹھتا چلا جائے اور لوگ اس کے معانی ومطالب کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اس کے احکام کو صحیح طور اپنا لیں۔ سو اس کے تدریجی نزول پر اعتراض کرتے ہیں یہ ان کی حماقت اور کوڑھ مغزی کا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:107

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

کہو کہ تم لوگ اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ (اے لوگو ! یہ بہر حال حق ہے) بلاشبہ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب یہ انھیں سنایا جاتا ہے، تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں،

197۔ قرآن حکیم بہرحال حق اور صدق :۔ کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے اس سے اس کی عظمت شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سو فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ تم اس پر ایمان لاؤیا نہ لاؤ“ (تمہاری مرضی) تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔ بلکہ اس کا تعلق دراصل تمہارے اپنے ہی نفع و نقصان سے ہے۔ ایمان لاؤگے تو اس سے خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا۔ نہیں تو خود تمہارا ہی نقصان۔ حق بہرحال حق ہے وہ کسی کی تصدیق کا محتاج نہیں۔ اگر کوئی اس پر ایمان لائے گا تو اس سے خدواندقدوس کے خزانوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوجائے گا اور جو اس سے منہ موڑیں گے، تو اس سے اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں واقع ہوگی۔ بلکہ ایسی سب باتوں کا تعلق انسان کے اپنے بھلے برے سے ہے اور بس۔ قرآن حکیم کی عظمت شان میں اس سے کوئی فرق نہیں واقع ہوسکتا۔ بلکہ منکر لوگ خود اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا سامان کرینگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 198۔ قرآن حکیم کی قدروقیمت اور عظمت شان اہل ایمان کے یہاں :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” علم والے اس کو سن کر ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان نعت کے شکریے میں۔ اور اس کی قدر دانی کرتے ہوئے۔ کیونکہ وہ اپنے علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب ہے جس کا وعدہ اس سے پہلے فرمایا گیا تھا۔ سو اگر منکرین اس کا انکار کرتے ہیں تو اس سے اس کتاب حکیم کی عظمت شان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ وہ علماء جو گزشتہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں پیشنگوئیوں کی بنا پر اس کے انتظار میں تھے۔ اس لیے اس کے نزول پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس کے شکریہ کے طور پر سجدے میں گرجاتے ہیں۔ تو ایسے میں اگر یہ منکر نہ مانیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا سوائے ان کی اپنی محرومی اور بدبختی کے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال ،
Ayah 17:108

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور وہ پکارا اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، بیشک ہمارے رب کے وعدے نے بہر حال پورا ہو کر ہی رہنا تھا،

199۔ قرآن حکیم کا نزول عہد خداوندی کا ایفاء :۔ سو اہل علم نزول قرآن سے خوش ہو کر کہتے ہیں کہ ” بیشک ہمارے رب کے وعدے نے پورا ہوکررہنا تھا “ جو اس نے اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں فرمایا تھا کہ وہ نبی آخرالزمان کو مبعوث فرمائے گا اور اس پر اپنا آخری کلام نازل فرمائے گا۔ (المحاسن، المراغی، المعارف وغیرہ) سو یہ پیغمبر وہی پیغمبر ہیں اور یہ کتاب وہی کتاب ہے جس کے بارے میں ایسی پیشینگوئیاں پہلی آسمانی کتابوں میں موجود و مذکور تھیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے نے بہرحال پورا ہونا تھا سو وہ پورا ہوگیا اور جس آخری اور کامل کتاب نے نازل ہونا تھا وہ نازل ہوگئی۔ جس کی ہدایت و راہنمائی قیامت تک کے تمام زمانوں اور جملہ انسانوں کیلئے ہے اور اب راہ نجات اسی میں منحصر ہے۔ جو لوگ اس پر ایمان سے محروم ہیں وہ نورحق و ہدایت اور ہر خیر سے محروم ہیں۔ اور وہ حق و ہدایت کے نور سے محروم ہوکر جہالت و ضلالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ گرجاتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے اور اس سے ان کے خشوع (اور عاجزی) میں اور اضافہ ہوجاتا ہے،1

200۔ عظمت قرآن کیلئے رونا ایک عظیم الشان سعادت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گرپڑتے ہیں روتے ہوئے “۔ جو کہ علامت ہے انتہائی عاجزی اور انتہائی تاثر کی۔ اسی لئے اس کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ یعنی تلاوت قرآن پر رونے کی۔ چناچہ ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” تم لوگ قرآن پڑھتے ہوئے رویا کرو اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنا لیا کرو “۔” اتلوا القرآن وابکوافان لم تبکوا فتباکوا “ (ابن ماجہ، تاب الاقاعۃ، باب فی حسن الصوت بالقرآن) سو رونا اور عاجزی کرنا بندے کی شان ہے اور اس کی یہی شان عبدیت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ وباللہ التوفیق اور سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں۔” ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روتی ہے اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی ہے “ (المراغی ابن کثیر وغیرہ ) ۔
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

کہو کہ تم (اے لوگو ! اپنے رب کو) اللہ کہہ کر پکارو، یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو (خیر ہی خیر ہے کہ یہ) سب اچھے نام اسی (وحدہ، لا شریک) کے ہیں، اور اپنی نماز میں نہ تو تم بہت بلند آواز سے پڑھو، اور نہ بالکل پست آواز سے، بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو

201۔ رحمان بھی اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے سبحانہ وتعالیٰ :۔ اس لئے اس بارے میں ہدایت فرمائی گئی کہ ” ان سے کہو کہ تم اللہ کہہ کر پکارویارحمن کہہ کر دونوں میں خیر ہی خیر ہے “۔ اور یہ دونوں اسمائے گرامی حضرت حق جل مجدہ کے انہی اسمائے حسنی میں سے ہیں۔ نہ جیسا کہ مشرکین اپنی، کوڑ مغزی سے سمجھ رہے ہیں کہ یہ دوالگ الگ ہستیاں ہوگئیں۔ مکحول روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ ایک مرتبہ سجدے میں فرما رہے تھے ” یارحمن یارحیم “ تو اس پر ایک مشرک نے کہا ان کو دیکھو دعوی تو کرتے ہیں ایک خدا کو پکارنے کا مگر پکارتے دو کو ہیں تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ ) ۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی بہرحال بہت سے ہیں۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان کا کوئی کنارہ نہیں اور ہر نام اس کی عظمت شان کے ایک اہم پہلو کو روشن اور واضح کرتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 202۔ نماز میں آواز کو زیادہ بلند کرنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اپنی نماز میں بہت اونچی آواز سے مت پڑھو “۔ جو نہ دوسروں کے ازعاج اور تکلیف کا باعث بنے اور نہ مشرکین کے سخریہ واستہزا کا۔ اور وہ سنکر قرآن کو اور قرآن کے اتارنے والے کو گالیاں دینے لگیں۔ والعیاذ باللہ۔ (المراغی اور المعارف وغیرہ) صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مکہ مکرمہ مخفی طور پر نماز ادا فرمایا کرتے تھے تو جب آپ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے وقت اونچی آواز سے قرات فرماتے تو مشرک لوگ قرآن، قرآن نازل کرنے والے اور قرآن لانے والے سب کو گالیاں دیتے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس پر آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ قرآن زیادہ اونچی آواز سے نہ پڑھا کرو (تفسیر المراغی وغیرہ) سو اس سے حالات کے تقاضوں کی مراعات کا درس ملتا ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔ 203۔ زیادہ پست آواز سے پڑھنے کی بھی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور نہ بالکل پست آواز میں پڑھو “ کہ جس سے آپ ﷺ کے پیچھے والے بھی نہ سن سکیں۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ مکرمہ میں چھپ کر نماز پڑھا کرتے تھے تو اس دور میں جب آپ اونچی آواز سے پڑھتے تو مشرکین مکہ سنکر قرآن کو، قرآن اتارنے والے کو اور قرآن لانیوالے کو گالیاں دیتے تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور اس میں توسط اور اعتدال کی تعلیم دی گئی۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن التاویل اور معارف القرآن وغیرہ) سو جہاں اونچی آواز میں پڑھنے سے اس طرح کا کوئی مفسدہ لازم آتا ہو، یا کسی کے آرام یا اس کے کام میں خلل واقع ہوتا ہو تو اونچی آواز میں پڑھنے سے منع فرمایا گیا، اسی طرح بالکل پست آواز سے بھی منع فرمایا گیا۔ 204۔ توسط واعتدال کی تعلیم :۔ جوکہ توسط واعتدال کی راہ ہے۔ روایات میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر ؓ بہت آہستہ اور پست آواز سے پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ” میں اپنے اس رب کو پکارتا ہوں جو میری حاجت کو اس سے پہلے ہی جانتا ہے۔ انا حی ربی وقد علم حاجتی، جبکہ حضرت عمرفاروق ؓ بہت اونچی آواز سے پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ” میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوئے ہوؤں کو جگاتاہوں “۔” اطرد الشیطان واولقظ الوسنان “ پھر جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے فرمایا کہ ” آپ تھوڑا سا اپنی آواز کو اور اونچا کردو “۔ اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ ” آپ تھوڑا سا اپنی آواز کو پست کردو “ (المراغی، ابن کثیر، وغیرہ) بہرکیف اس سے توسط واعتدال کی تعلیم دی گئی ہے۔
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو سب تعریفیں اس اللہ ہی کے لئے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے، نہ اس کی سلطنت میں اس کا کوئی شریک، اور نہ ہی اس کا کوئی حمایتی (مددگار) ہے عاجزی (اور کمزوری) کی بنا پر، اور اسی کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی۔2

205۔ رب کی حمد وثناء اور اسی کی تعظیم وتکبیر کی تعلیم و تلقین :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کہوسب تعریف اور حمد وثنا اللہ تعالیٰ ہی کی ہے “ کہ وہی وحدہ لاشریک اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور رب ہے۔ اور اسی کی بڑائی بیان کرو کمال درجے کی بڑائی۔ یعنی مصدر یہاں پر تاکید کیلئے ہے۔ اور اپنے رب کی یہ بڑائی، قول و اقرار، اعلان واظہار اور اطاعت و بندگی ہر طرح سے کرو کہ بڑائی کا حقدار و سزاوار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ ہر نقص وعیب اور ہر شائبہ شرک سے پاک اور ہر خوبی و کمال سے موصوف و متصف ہے۔ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے اور اس کائنات میں جو بھی کوئی خوبی و کمال ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ واخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین۔