Ayah 17:73134۔ پیغمبر کیلئے خاص حفاظت و حمایت خداوندی کا ذکر وبیان :۔
چنانچہ پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگرچہ ان لوگوں نے اپنی اس کوشش میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی کہ آپ کو فتنے میں دال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے آپکی طرف کی ہے تاکہ اس طرح آپ ہمارے خلاف ہماری طرف کسی اور بات کی نسبت کریں، لیکن اللہ کی طرف سے آپ کیلئے جو خاص حفاظت و حمایت ہے، اس کی وجہ سے آپ محفوظ رہے، اور یہ لوگ اپنی ایسی شرانگیزیوں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سو اس سے پیغمبر حق کو اور ان کے توسط سے ہر داعی حق کو یہ درس دیا گیا ہے کہ کفار واشرار کی طرف سے آپ کو راہ حق سے پھیرنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے آپ ان کے علی الرغم حق پر قائم اور ثابت قدم رہیں۔ سو یہ لوگ ایسا کریں گے۔ کئی طرح کی سودابازیوں اور تنازلات کی پیشکش کرکے۔ جیسا کہ روایات میں اس کی مختلف شکلیں ذکر فرمائی گئی ہیں۔ ملاحظہ ہو روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، وغیرہ۔ سو ان روایات کے مطابق ابو جہل اور قریش کے کچھ دوسرے سرداروں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ ﷺ آکر ہمارے بتوں پر ہاتھ پھیر دیں تو ہم آپ ﷺ کے دین میں داخل ہوجائیں گے اور آپ ﷺ چونکہ اپنی شفقت کی بناء پر یہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ کسی طرح دین حق میں داخل ہو کر دوزخ سے بچ جائیں اس لیے آپ ﷺ کے دل میں ان کیلئے کچھ نرمی پیدا ہوگئی۔ تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں (تفسیر المراغی وغیرہ ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مخالفین نے آپ کو راہ حق سے پھیرنے کیلئے بہت کچھ زور لگایا تھا مگر آپ ہمارے فضل وکرم کی بناء پر اس سے محفوظ رہے۔
135۔ کفار و مشرکین کی اصل دشمنی حق کے ساتھ :۔
سو اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ مشرکین کی اصل دشمنی حق کے ساتھ ہے اور اہل حق یہاں تک کہ حضرت امام الانبیاء سے ان کی دوستی وتعلق بھی راہ حق سے پھرنے کی قیمت پر ہے 136۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر آپ ان کی باتوں میں آجاتے تو ایسی صورت میں یہ لوگ یقینا آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے “۔ اور یہ لوگوں سے کہتے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی ہے اور ہمارا ان سے سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ اس لئے ہم نے ان کو دوست بنا لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ حق اور باطل کے درمیان کسی اشتراک اور سمجھوتے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حق بہرحال حق ہے۔ اس میں کسی قسم کی آمیزش وملاوٹ کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا اور خوب کہا۔ باطل دوئی پسند ہے حق لاشریک ہے۔ شریک میانہ حق وباطل نہ کر قبول۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض ایسے ہوجاتا تو یہ لوگ تو آپ کو اے پیغمبر اپنا دوست بنا لیتے۔ مگر اس صورت میں آپ ہماری دوستی اور ولایت سے محروم ہوجاتے۔ مگر اللہ پاک نے اپنے فضل وکرم اور اپنی رحمت و عنایت سے آپ کو اس طرح کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھا۔ ولکن اللہ سلم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کفر و شرک کی میل کے جم جانے کے بعد آدمی کس قدر سیاہ بخت اور کتنا محروم ہوجاتا ہے کہ وہ نور حق و ہدایت کو اپنانے اور اس سے سرفراز و فیضیاب ہونے کی بجائے الٹا خود داعی حق کو بھی اپنی طرف مائل کرنے کی تگ ودو میں لگ جاتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے لئے حضرت امام الانبیاء ﷺ پر بھی ڈورے ڈالنے کی جسارت سے گریز نہیں کرتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اپنی خاص ہدایت و عنایت سے نوازکر ایسے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھا۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ابنائے کفر وباطل اہل حق میں سے کسی کو اسی صورت میں اپنا دوست بنا سکتے ہیں جبکہ وہ راہ حق و ہدایت سے پھر کر انہی کے طریقے کو اپنا لے اور انہی کی راہ پر چلنے لگے۔ لیکن خداونخواستہ اگر کوئی ایسا کرلے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کی تائید و حمایت سے محروم ہوجائے گا جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (روایات میں وارد و منقول ہے کہ ان آیات کریمات کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ ہمیشہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔” اللہم لاتکلنی الی نفسی طرفۃ عین “ یعنی ” اے اللہ مجھے کبھی پل بھر کیلئے بھی اپنی ذات کے حوالے نہیں کرنا “ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 17:74136۔ پیغمبر پر اللہ تعالیٰ کے خاص الخاص کرم واحسان کا ذکر وبیان :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ مگر چونکہ ہم نے آپ ﷺ کو ثابت قدم رکھا اور آپ ﷺ براہ راست ہماری نگرانی اور حفاظت میں تھے۔ اس لئے آپ ﷺ سے ایسی کسی بھی بات کا کوئی صدور ووقوع نہیں ہوا۔ ورنہ آپ ضروری کسی قدران کی طرف جھک جاتے۔ اسی لئے روایات میں ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد آپ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے ” اللہم لا تکنی الی نفسی طرفۃ عین “ کہ ” اے میرے اللہ مجھے کبھی لمحہ بھر کیلئے بھی اپنے نفس کے حوالے نہیں کرنا “۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) سبحان اللہ جب حضرت امام الانبیاء صلوت اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم کا حال یہ ہے تو پھر ہماوشما اس طرح کی دعاؤں کی کس قدر محتاج ہیں۔ اللہ ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ! فکن اللہم لنا ولا تکلنآالی نفوسنا طرفۃ عین۔ سو حفاظت اللہ ہی کی حفاظت ہے۔ وہی قادر مطلق وحدہ لاشریک جس کو محفوظ رکھے وہی محفوظ رہ سکتا ہے۔ ورنہ انسان ازخود کچھ بھی نہیں ہے اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین !
Ayah 17:75137۔ راہ حق سے پھرنے کا انجام بڑا ہی ہولناک۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر کہیں ایسے ہوجاتا تو یقینا آپ کو دوہرا عذاب چکھاتے، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی “۔ اس عظیم الشان اور بےمثال مرتبہ ومقام کے باعث جو آپ ﷺ کو ہمارے یہاں حاصل ہے کا قاعدہ اور ضابطہ عام یہی ہے کہ جتنا مرتبہ ومقام بڑا ہوتا ہے اتنا ہی خدشہ وخطرہ بھی سخت اور بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة احزاب میں ازواج مطہرات کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین۔ الایۃ (الاحزاب : 30) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور رحمت و عنایت سے آپ ﷺ اس طرح کے ہر شائبہ سے محفوظ رہے صلوٰت اللہ وسلامہ علیہ۔ بہرکیف اس سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جن کا مرتبہ بلند ہوتا ہے اسی قدر ان کی مشکل بھی بلند ہوتی ہے۔ اور دوسری طرف یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بھی بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہوتا ہے اور تیسری طرف اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ اختیارکلی اللہ تعالیٰ ہی کی صفت وشان ہے وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے، سبحانہ وتعالیٰ فایاہ نعبد وبہ نستعین۔
Ayah 17:76138۔ اہل کفر وباطل کی عداوت و دشمنی کی انتہا :۔
سو اس سے کفار و مشرکین کی حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی کی انتہاواضح ہوجاتی ہے کہ ایسے منحوس اور بدبخت لوگ اہل حق یہاں تک کہ حضرت امام الانبیاء کا وجود بھی اپنے درمیان برداشت نہیں کرتے۔ سو کفار مکہ نے پیغمبر کو اپنی سرزمین سے نکالنے کی پوری کوشش کی۔ یعنی مکہ مکرمہ سے جو کہ آپ کا مولد ومسکن تھا۔ اور جو آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا و عزیز تھا۔ لیکن ان ظالموں کو آپ ﷺ کا اس میں رہنا برداشت اور گوارہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کو وہاں سے نکالنے کی ٹھان لی۔ لیکن یہ ایسا کر نہیں سکے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کو آپ کے رب نے خود وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا۔ ورنہ یہ لوگ اگر اپنے منصوبے کے مطابق آپ ﷺ کو وہاں سے نکال دیتے تو اس کے بعد یہ بھی وہاں رہنے نہ پاتے بجز تھوڑے سے عرصے کے (الکبیر، الصفوۃ اور المعارف وغیرہ) اور جب انہوں نے نے اپنی طرح طرح کی ایذاء رسانیوں سے آپ کو وہاں سے نکال دیا تو اس کے سال ڈیڑھ بعد ہی یہ لوگ آپ کے مقابلے میں بدر میں پہنچ کر فی النار والسقر ہوئے۔ ان کی جڑ کٹ گئی اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد سرزمین مکہ سے بھی ان کا ہمیشہ کیلئے صفایا ہوگیا۔ والحمد للہ رب العالمین۔
139۔ پیغمبر کا وجود باعث رحمت وامان :۔
سو اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا وجود رحمت و عنایت خدواوندی اور امن وامان کا ذریعہ و وسیلہ ہوتا ہے پس پیغمبر کا کسی بستی سے نکل جانا وہاں کے باشندوں کیلئے عذاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ یعنی اللہ کا عذاب کسی نہ کسی شکل میں ان کو آپکڑتا اور یہ آپ ﷺ کے بعد کچھ زیادہ وہاں ٹھہرنے نہ پاتے۔ چناچہ آپ ﷺ کی ہجرت مدینہ کے بعد بھی جب وہ لوگ اپنی ایذاء رسانیوں اور شرانگزیوں سے باز نہ آئے تو ہجرت کے ٹھیک اٹھارہ ماہ بعد بدر میں فرقان و فیصلے کے دن ان کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی۔ ان کے بڑے بڑے صنادید اور متکبرین میں سے بہت سے قتل ہوئے اور بہت سے قید اور ذلیل وخوار اور اگر نبی ﷺ کا وجود رحمت وہاں موجود نہ ہوتا تو ان کی کبھی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی۔ فصدق اللہ القآئل، وما کان اللہ الیعذبہم وانت فیہم، الایۃ (الانفال : 33) ۔ سو پیغمبر کی کسی بستی سے ہجرت وہاں کے باشندوں کیلئے عذاب کا باعث اور اس کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو پیغمبر کا وجود باعث رحمت اور ذریعہ امان ہوتا ہے اور جب قوم کی روش سے تنگ آکر وہ وہاں سے ہجرت کرلیتا ہے تو وہ قوم بالکل ایک جسد بےروح ہو کر رہ جاتی ہے اور ان کیلئے اتمام حجت کا مرحلہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یا تو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی کوڑا برستا ہے جو اس بدبخت قوم کے ناپاک وجود سے اللہ کی دھرتی کو پاک کردیتا ہے یا پھر اہل ایمان کی تلواران کیلئے بےنیام ہوجاتی ہے اور اس کے ذریعے ان کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ اہل مکہ کے کفار، اشرار کیلئے یہی دوسری صورت پیش آئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 17:77140۔ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ” آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے “ سو پیغمبروں کے بارے اللہ تعالیٰ کے اس دستور میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ کہ ان کی قوموں نے جب ان کو اپنے یہاں سے نکالا تو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے بالآخر ان کو آپکڑا اور وہ لوگ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللہ، سو یہ ہماری سنت اور ہمارا دستور رہا ہے کہ جس کسی قوم نے بھی اپنے رسول کو ہلاک کیا یا اس کو اپنی بستی سے نکالا اس پر ہمارا عذاب آکر رہا اور ہماری اس سنت و دستور میں آپ کو اے پیغمبر یہاں سے نکلنے پر مجبور کردیا تو اس کے بعد یہ بھی یہاں ٹکنے نہیں پائیں گے۔ آپ سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے ان کے بارے میں ہماری سنت اور ہمارا دستور ہی رہا۔ سو ان رسولوں کی ہجرت کے بعد جو حشر ان کی قوموں کا ہوا وہی ان کا ہوگا کہ ہمارا دستور اور ہماری سنت سب کیلئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ اس میں کسی کیلئے کوئی رورعایت نہیں۔
Ayahs 17:78–79141۔ اقامت صلوۃ نصرت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ :۔
سو اقامت صلوۃ کے اس حکم وارشاد سے یہ درس دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے سرفرازی کا سب سے اہم ذریعہ نماز ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے حصول اور دشمنوں کے شروروفتن سے بچنے کا سب سے اہم اور بنیادی ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس عبادت مقدسہ میں انسان اپنے ظاہر وباطن، قلب و قالب اور اعضاء وجوارح سب کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ اور اس میں وہ نہایت عاجزی کے ساتھ اس قادر مطلق خدائے مہربان سے مدد کی درخواست ودعاء کرتا ہے۔ اس لئے حدیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی دشواری پیش آتی تو فوری طور پر نماز کی طرف رجوع کرتے۔ سو راہ حق میں جو سخت مراحل ابتلاء و آزمائش کے پیش آتے ہیں ان میں صبر واستقامت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور استقامت وثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت اور اس کی نصرت ومعیت کے بغیر ممکن نہیں اور اس کی معیت اور نصرت و عنایت سے سرفرازی کا سب سے بڑا ذریعہ نماز اور خاص کر تہجد کی نماز ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
142۔ پنچگانہ نمازوں اور ان کے اوقات کی طرف اشارہ :۔
سو لدلوک الشمس، یعنی ” سورج ڈھلنے سے لے کر “ رات کے اندھیرے تک میں ظہر وعصر اور مغرب و عشاء کی چاروں نمازیں آگئیں۔ اور قرآن الفجر میں صبح کی نماز کی طرف اشارہ ہوگیا اس طرح اس آیت کریمہ میں اجمالی طور پر پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا۔ لیکن ان کی تفصیلی صورت و کیفیت کو نبی ﷺ نے اپنے قول وفعل سے واضح فرمایا۔ سو پیغمبر ﷺ کی سنت اور آپ ﷺ کا عمل قرآن پاک کی سب سے اہم تفسیر اور تشریح ہے اس کے بغیر قرآن پاک کو سمجھنا ممکن نہیں۔ آج پوری امت اور شرق وغرب کے تمام مسلمان جس طرح اپنی پنجگانہ ادا کرتے ہیں اس سب کا علم سنت ہی سے ہوا ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔
143۔ نماز فجر کی خصوصی اہمیت اور عظمت شان :۔
سو نماز فجر خاص اہمیت اور اس کی عظمت شان کی بناء پر اس کیلئے خاص طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ” بلاشبہ صبح کی نماز کا وقت حضوری واجتماع کا وقت ہے “ سو یہ خاص حضور واجتماع کا وقت ہے۔ یعنی رات اور دن کے فرشتوں کے حضوری واجتماع کا کہ یہ آرہے ہیں اور وہ جارہے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرۃ ؓ کی حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) پھر فجر کی نماز کا وقت چونکہ نیند سے اٹھنے کے باعث نفس پر گراں اور کافی مشکل وقت ہوتا ہے اس لئے اس کا ذکر علیحدہ طور پر فرمایا گیا۔ نیز اس کو صلوۃ کے معروف لفظ کی بجائے قرآن الفجر، سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں قرآن پاک زیادہ پڑھا جائے اور اس کی قرات لمبی ہو۔ (معارف وغیرہ) اور ملائکہ کی حضوری واجتماغ کے علاوہ اس میں قلب ودماغ کی حضوری کی ایک خاص کیفیت بھی نمازی کو نصیب ہوتی ہے جس سے امام اور مقتدی سب ہی سرشار ہوتے ہیں اور ان کو ایک خاص کیفیت وسرور نصیب ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 17:80145۔ پیغمبر کو ایک خاص دعاء کی تعلیم و تلقین :۔
سو اس سے پیغمبر کو ہجرت سے قبل ایک خاص دعاء کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ” اے میرے رب مجھے سچائی کے ساتھ لے جانا اور سچائی کے ساتھ نکالنا “ خواہ وہ مکہ مکرمہ سے خروج اور مدینہ طیبہ کا دخول ہو یا قبر کا دخول اور حشر کا خروج و قیام وغیرہ کہ کلمات کریمہ کا عموم وشمول ان سب ہی کو حاوی و محیط ہے۔ اگرچہ یہ دعاء حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آپ ﷺ کو ہجرت سے قبل تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی اس لئے اس کا اولین مصداق تو ہجرت مدینہ ہی ہے مگر الفاظ کا عموم ایسے تمام ہی مواقع کو عام اور شامل ہے اور حضور کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر شخص کیلئے بھی یہ تعلیم و تلقین ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتارہا کرے وباللہ التوفیق بہرکیف جب آنحضرت ﷺ کی مکہ مکرمہ سے ہجرت ناگزیر ہوگئی لیکن اللہ کا رسول اللہ کے اذن کے بغیر ہجرت نہیں کرتا اس لئے آپ سب مشکلات اور اہل کفر وباطل کی جملہ فتنہ سامانیوں اور ایذاء رسانیوں کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹے رہے تاآنکہ آپ کو اپنے رب کی طرف سے اس دعاء کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی جس میں نہ صرف یہ کہ ہجرت کی طرف اشارہ تھا بلکہ یہ بشارت بھی مضمر تھی کہ آپ کے اپنے وطن مالوف سے نکلنے سے پہلے ہی آپ کے داخل ہونے کا انتظام کرلیا اور یہ کہ آپ کا نکلنا اور داخل ہونا دونوں ہی عزت ووقار اور رسوخ واستحکام کے ساتھ ہوں گے جیسا کہ بعد میں بالفعل ہوا، مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی حکومت قائم ہوئی، مکہ مکرمہ فتح ہوا اور اسلام کا نور چاردانگ پھیلا، اور ظلمت شرک کا وہاں سے ہمیشہ ہمیش کیلئے خاتمہ ہوگیا، والحمد وللہ جل وعلا۔
146۔ اللہ تعالیٰ کے حضور نصرت والے غلبے کی دعاء و درخواست :۔
سو اس ارشاد سے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے نصرت والے غلبے کی دعاودرخواست تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ یعنی ” ایسا غلبہ عطا فرما جو حق اور اہل حق کے غلبے اور ان کی عزت و عظمت کا باعث بنے۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ اللہ پاک کی نصرت و عنایت سے اسلام کو جملہ ادیان پر غلبہ نصیب ہوا اور مسلمانوں کی عزت و عظمت کو استحکام ملا۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا کیونکہ اختیار کلی اور دعا کے درمیان منافات ہے۔ جو مختار کل ہوتا ہے وہ کسی سے مانگتا نہیں ہے اور جو دوسرے سے مانگتا اور دعا کرتا ہے وہ مختار کل نہیں ہوسکتا۔ پس پیغمبر کا کام ہے اپنے خالق ومالک سے مانگنا اور بس۔ آگے اس کی دعا کو قبول کرنا یا نہ کرنا اس مالک مختار کے حوالے اس کی مشیت ومرضی پر موقوف اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہوتا ہے۔ وہ جو چاہے اور جب چاہے قبول فرمائے۔ جیسا کہ اس کے مختلف نمونے خود قرآن پاک کے اندر موجود ہیں اور نہ چاہے تو نہ قبول فرمائے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ان کے والدین کیلئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا ان کے بیٹے کیلئے اور خود سرکاردوعالم کی دعا اپنے چچا ابو طالب کیلئے قبول نہیں فرمائی گئی۔ جیسا کہ قرآن وسنت کی مختلف نصوص کریمہ میں اس کی پوری صراحت و وضاحت موجود مذکور ہے۔ بہرکیف پیغمبر کو ہجرت مدینہ سے پہلے اس خاص دعا کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی جس میں ایک عظیم الشان بشارت بھی مضمر تھی جو بعد میں سفر ہجرت کے دوران حرف بحرف پوری ہوئی اور ظاہر ہے کہ یہ اسی نصرت خداوندی کا نتیجہ تھا جس کی تعلیم و تلقین آنحضرت ﷺ کو فرمائی تھی۔
Ayah 17:81147۔ اعلان حق کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور کہو اور اعلان کردو (اے پیغمبر ! ) کہ حق آگیا “ یعنی دین حق اسلام جو کہ سراسر حق وصدق ہے۔ اور جس کا نہ کوئی بدل ممکن ہوسکتا ہے نہ مقابل۔ پس اب تمہارے لئے اے مشرکو ! اور منکرو ایک ہی صورت ہے کہ تم صدق دل سے حق کو قبول کرکے اہل حق کے زمرے میں شامل ہوجاؤ اور اس طرح اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرلو۔ ورنہ ابدی ہلاکت اور دائمی تباہی و بربادی کیلئے تیار ہوجاؤ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دین حق وہی اور صرف وہی ہے جو قرآن حکیم کی صورت میں اللہ رب العالمین کی طرف سے دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے نازل فرمایا گیا ہے تاکہ دنیا کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے اور یہ اس لئے آیا ہے تاکہ سب دینوں پر غالب ہو کر رہے۔ اگرچہ یہ بات مشرکوں کو ناگوار گزرے۔ لیظہرہ علی الدین کلہ ولوکرہ المشرکون، سوغلبہ حق ہی کا حق اور اسی کا مقدر ہے والحمد للہ جل وعلا۔
148۔ باطل ہے ہی مٹ کر رہنے والی چیز :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور باطل مٹ گیا اور یقینا باطل ہے ہی مٹ کر رہنے والی چیز “ یعنی کفر و شرک جو کہ ہے ہی مٹنے والی چیز کہ اس کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ صحیح روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ جب فتح مکہ کے موقعہ پر بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے اور مشرکین نے اس کے اندر جو تین سو ساٹھ بت نصب کر رکھے تھے ان کو توڑا اور آپ ﷺ یہی آیت کریمہ پڑھتے ہوئے اپنی چھڑی سے ان کو ٹھوکر لگاتے جارہے تھے جس سے وہ اوندھے منہ گرتے جارہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کو ٹکڑے کروا کر اللہ کے گھر کو ان کے وجود سے ہمیشہ کیلئے پاک کردیا سو باطل کی مثال پانی کے اوپر اٹھنے والی جھاگ کی سی ہے۔ جس طرح وہ عارضی ہوتی ہے اسی طرح باطل کا ابھار بھی عارضی اور وقتی ہوتا ہے یا اس کی مثال ان خود روجھاڑیوں کی سی ہے جن کا وجود اور پھیلاؤاسی وقت تک ہوتا ہے جب تک کہ ان کو صاف کرنے والے ہاتھ سامنے نہ آئیں۔ جب ایسے ہاتھ سامنے آجاتے ہیں تو وہ ان کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔ کیونکہ باطل کی انسان فطرت میں کوئی اساس و بنیاد نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کے ثبات وقرار کیلئے کوئی اساس و بنیاد نہیں ہوسکتی۔
Ayah 17:82149۔ قرآن حکیم سراسر شفاء :۔
اور شفاء کی تنوین تعطیم کیلئے ہے۔ یعنی یہ ایک عظیم الشان اور بےمثال شفاء ہے دل اور روح کی بیماریوں کیلئے۔ یعنی کفر و شرک اور ہر طرح کے زیغ وضلال سے شفاء بخشنے والی کتاب عطیم۔ نیز جسمانی بیماریوں کیلئے بھی۔ جبکہ اس سے صحیح طریقہ سے استفادہ کیا جائے جیسا کہ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں اور امام ابن القیم (رح) نے اپنی کتاب زاد المعاد اور اغاثۃ اللہ فان میں اس کی تصریح اور تفصیل بیان فرمائی ہے۔ (ابن کثیر محاسن التاویل، صفوۃ البیان، المراغی اور المعارف وغیرہ) عام طور پر مترجمین حضرات جو شفاء کا ترجمہ شفاء دینے والی یا اس طرح کے دوسرے الفاظ سے کرتے ہیں وہ اس لفظ کا پورا ترجمہ نہیں بنتا، کیونکہ شفاء دینے والی جیسے الفاظ دراصل ترجمہ ہیں شافی کا۔ جبکہ یہاں پر شافی نہیں شفاء فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ جس میں زیادہ زور اور بلاغت ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے والحمد للہ سو اس میں منکرین و مکذبین کی محرومی اور شامت زدگی پر اظہار افسوس بھی ہے اور ان کی مالمت بھی کہ قرآن حکیم تو ان کیلئے ان کے خالق ومالک کی طرف سے ان کے قلب وروح کی بیماریوں کیلئے ایک عظیم الشان اور بےمثال نسخہ کیمیا کی صورت میں آیا تھا مگر انہوں نے اپنے اعراض وانکار سے اس کو اپنے لئے باعث محرومی بنادیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
150۔ ظالموں کیلئے خسارہ در خسارہ۔ والعیاذ باللہ :۔
ان کی بدنیتی اور کور باطنی کے سبب جیسا کہ آسمان سے اترنے والی باران رحمت سے پاکیزہ اور زرخیز زمین میں تو طرح طرح کی عمدہ اور مفید انگوریاں اگتی اور فصلیں پیدا ہوتی ہیں لیکن گندی اور بیکار جگہ میں گندی اور بیکار بلکہ مضر اور نقصان دہ جڑی بوٹیاں سرنکالتی ہیں۔ والعیاذ باللہ، سو اسی طرح قرآن حکیم کی باران رحمت سے اہل ایمان کی دلوں کو تو زندگی، قوت اور شفاء نصیب ہوتی ہے لیکن کافروں اور منکروں کیلئے ان کی محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی ہدایت سے منہ موڑنا اور اس کے انکار و تکذیب سے کام لینا ظلم اور سراسر ظلم ہے اور یہ ظلم اللہ تعالیٰ کے حق میں ہے کہ اس کے بندے اور اس کی مخلوق ہونے کے باوجود اس کی ہدایت سے منہ موڑا اور یہ ظلم اس کے کلام مجید اور خود اپنی جانوں کے حق میں ہے کہ اس طرح اپنے آپ کو دنیا وآخرت کی سعادت و سرخروئی سے محروم کرکے دائمی محرومی اور نارجحیم کا مستحق بنایا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور دوسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس طرح کے اعراض وانکار سے انسان حق کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا بلکہ خود اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 17:83–85151۔ تھڑ حوصلہ اور تنگ ظرف انسان کا حال :۔
کہ کوئی نعمت ملی تو منہ موڑ لیا اور کوئی تکلیف پہنچی۔ والعیاذ باللہ، تو مایوس ہوگیا۔ جو علامت اور دلیل ہے اس کے تنگ ظرف اور تھڑ حوصلہ ہونے کی۔ بجز ان لوگوں کے جو سچے ایمان اور پکے عقیدے کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں کہ ان کی شان ان کے مالک کے فضل وکرم سے اس سے مختلف اور بہت بلند وبالا ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک تو اس دنیائے دوں کی ساری دولت کی حیثیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں ہوتی۔ فیاعجبا لعظمۃ الایمان وخشیۃ الکفر والحرمان، سو مومن صادق اس کے برعکس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کیلئے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت پر صبر کرتا ہے تو وہ بھی اس کیلئے خیر بن جاتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف منکر اور محروم انسان کی تنگ ظرفی اور اس کی حرمان نصیبی پر اظہار افسوس و ملامت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے انسان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے کہ جب ہم اس پر کوئی انعام واحسان کرتے ہیں تو یہ اکڑنے اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اور جب ہم اس کے اپنے اعمال کی پاداش میں کسی مصیبت میں گرفتار کرتے ہیں تو یہ دل شکستہ اور مایوس ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس کیلئے صحیح طریقہ یہ تھا کہ یہ نعمت سے سرفرازی پر ہمارا شکر ادا کرتا اور مصیبت پر صبر سے کام لیتا تاکہ اس طرح اس کی ہر حالت اس کیلئے خیر ہی خیر بن جاتی۔ مگر دین و ایمان اور عقیدہ و یقین سے محرومی کے بعد اس کا موقعہ کہاں اور کیسے ؟ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے جبکہ اس سے محرومی دنیا وآخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:86155۔ وحی ربانی محض انعام واحسان خداوندی :۔
جس میں پیغمبر کا نہ کانہ کوئی اختیار ہوتا ہے اور نہ عمل دخل۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور اگر ہم چاہیں تو چھین لیں آپ سے اے پیغمبر وہ سب کچھ جو ہم نے آپ کو بذریعہ وحی عطا کیا ہے “۔ یعنی قرآن حکیم کو آپ ﷺ کے سینے سے اٹھادیں کہ یہ ہماری ہی ایک عظیم الشان بخشش اور عطیہ واحسان ہے۔ اور ہم جس طرح اس کے دینے پر قادر ہیں اسی طرح اس کے اٹھا دینے اور سینوں سے مٹادینے پر بھی پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ قرآن کا اٹھانا اور لے جانا یہ ہے کہ سینوں اور سفینوں سے ایسا محو کردیا جائے کہ اس کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔ (المراغی والمعارف وغیرہ) سو اس کا نہ اٹھایا جانا اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ پر ایک عظیم الشان احسان ہے۔ لہذا اس کی قدر کرو کہ اس نے آّپ کو قرآن کی اس عظیم الشان نعمت سے نوازا اور اس کو آپ کے سینے میں محفوظ بھی رکھا۔ (محاسن وغیرہ) پس اس میں ان علمائے کرام کیلئے بھی ایک درس عظیم ہے جن کو قدرت نے اپنی فیاضیوں سے قرآن حکیم کے علوم و معارف سے سرفراز فرمایا ہو کہ وہ دل وجان سے اس نعمت عظمی کی قدر کریں۔ ورنہ ناقدری کرنے کی صورت میں یہ نعمت ان سے چھن سکتی ہے کہ ناشکری کا نتیجہ وانجام سخت عذاب ہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہم ارزقنا التوفیق والسداد الما تحب وترضی وخذنا بنواصینآالی ماتحب وترضی ولا تکلنآ الی انفسنا طرفتہ عین یاذالجلال والاکرام۔
156۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کا کوئی کارساز نہیں ہوسکتا :۔
جو اس کا کام بناس کے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم بالفرض آپ سے اس وحی کو سلب کرلیں تو پھر آپ ہمارے مقابلے میں کوئی حمائتی اور کارساز نہ پاس کیں جو ہمارے ارادے میں آڑے آسکے یا چھینی ہوئی نعمت آپ ﷺ کو واپس دلا سکے۔ اس میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کو ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے (صفوۃ، مراغی اور معارف وغیرہ) سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے کرے نہ کوئی اس کے ارادے میں حائل ہوسکتا ہے اور نہ کوئی اس سے باز پرس کرسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کہ وہ علی کل شیء قدیر بھی ہے اور اس کی شان لایسئل عما یفعل وہم یسئلون (الانبیاء : 23) کی شان ہے۔ یعنی وہ ” جو کرے کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا لیکن لوگوں سے بہرحال پوچھ ہوگی “۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayah 17:87157۔ پیغمبر پر رب کا خاص فضل وکرم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” آپ کے رب کی مہربانی سے ایسا نہیں ہوا “ اور قرآن حکیم کے اس مصدر فیض وشفاء اور منبع رشد و ہدایت کو نہیں اٹھایا گیا جو کہ اس کی رحمت بیپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ فلہ الحمد والمنۃ، اسی سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم کا علم اور اس کا حفظ اللہ پاک کا دوہراکرم ہے۔ فالحمد للہ۔ امام رازی کہتے ہیں اس میں علماء پر دوہرے کرم واحسان کا بیان ہے کہ ایک تو ان کو قرآن حکیم کے علم سے نوازا گیا اور دوسرا اس کو ان کے سینوں میں محفوظ رکھا گیا۔ (تفسیر المراغی، المحاسن وغیرہ) سواول تو آپ کو نزول قرآن کے شرف سے نوازا پھر اس کو آپ کے سینے اور صحیفوں میں رکھا۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کیلئے بھی اس کو ان کے سینوں اور سفینوں میں محفوظ رکھنے کا انتظام فرمایا۔ ورنہ ہم اگر چاہتے تو اس طرح اٹھا دیتے کہ اس کا کوئی اثر اور نشان باقی نہ رہنے دیتے نہ سینوں میں اور نہ اوراق ومصاحف میں۔ اور تم پھر اسی پہلی حالت میں پہنچ جاتے کہ نہ ایمان کا پتہ ہوتا اور نہ کتاب کا۔ یعنی ماکنت تدری مالکتاب والایمان، والی حالت میں۔ مگر اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ایسے نہیں کیا۔ (المراغی وغیرہ) سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔
158۔ پیغمبر پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے آپ ﷺ کو نبوت و رسالت کے عظیم منصب پر فائز فرمایا۔ قرآن حکیم کی اس عظیم الشان نعمت کو آپ ﷺ پر نازل فرمایا ختم نبوت کا تاج آپ ﷺ کے سر پر رکھا۔ پوری اولاد آدم کا آپ ﷺ کو سردار بنایا۔ مقام محمود اور شفاعت کبری کے شرف و امتیاز سے آپ ﷺ کو نوازا۔ رفع ذکر کے اعزاز سے سرفراز فرمایا۔ جملہ انبیاء ورسل کی امامت و پیشوائی کا شرف بخشا۔ آپ ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو قیام قیامت تک خولد ودوام بخشا۔ اور آپ ﷺ کو ” اجر غیرممنون “ یعنی ” کبھی نہ ختم ہونے والے اجر “ کے شرف سے مشرف فرمایا۔ اس لئے اس نے قرآّن حکیم اور اپنی وحی کے شرف سے آپ ﷺ کو مشرف فرمانے کے بعد آپ ﷺ سے اس کو سلب نہیں فرمایا بلکہ اس کو قیامت تک باقی رکھا اور اس کی حفاظت کو خود اپنے ذمے لیا چناچہ ارشاد فرمایا۔ انانحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ، (الحجر : 9) یعنی ” اس ذکر کو ہم ہی نے نازل کیا ہے اور یقینا اس کے محافظ بھی خود ہم ہی ہیں “۔ والحمد للہ جل وعلا۔
Ayahs 17:88–89159۔ قرآن حکیم ایک زندہ جاوید اور بےمثال معجزہ :۔
ایسا بڑا معجزہ کہ تمام انسان اور جن مل کر بھی اس جیسا کلام بنا کر نہیں لاسکتے اگرچہ وہ سب مل کر بھی اس کیلئے کوشش کریں۔ اور سب ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔ جس میں ان کے تمام بڑے بڑے فصحاء وبلغاء سب موجود ہوں۔ مگر اس کے باوجود اگر یہ سب اس کی نظیر الانے سے عاجز اور قاصر ہیں تو پھر اس سے بڑھ کر اور کون سا معجزہ تم لوگوں کو چاہئے ؟ سو معجزہ قرآن ایک بےمثال اور زندہ جاوید معجزہ ہے اور یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا ہے بلکہ یہ خالق بشر کا کلام ہے جس کی شان اور صف ہے ” عالم الغیب والشھادۃ “ یعنی نہاں وعیاں کو ایک برابر جاننے والا سبحانہ وتعالیٰ اور یہ امتیازی اور اعجازی شان اس کتاب حکیم کے سوا دنیا بھر کی کسی بھی دوسری کتاب کو نہ آج تک کبھی نصیب ہوئی ہے اور نہ قیامت تک کبھی نصیب ہوسکتی ہے۔ اور اس کتاب حکیم کے سوا دنیا کی دوسری کوئی بھی ایسی کتاب نہ آج تک کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک دوسری ایسی کتاب کا پایا جانا کبھی ممکن ہوسکتا ہے جس نے پوری دنیا کو اس قدر صاف وصریح اور اتنا زور دار اور واضح چیلنج کیا ہو۔ خواہ وہ کوئی آسمانی اور الہامی کتاب ہو یا کوئی انسانی اور زمین۔ مگر اس کے باوجود دنیا ساری اس چیلنج کے سامنے آج تک عاجز ہے اور قیامت تک عاجز رہے گی۔ انشاء اللہ العزیز۔ سو اس سے بڑھ کر معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے جس سے نبی امی کو نوازا گیا ؟ علیہ الصلوۃ والسلام۔ سو یہ سب سے بڑا اور تاقیام قیامت زندہ جاوید رہنے والا معجزہ ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 17:90162۔ منکرین کے فرمائشی معجزوں کا ذکر وبیان :۔
سو اس سے کفار قریش کی معجزات سے متعلق فرمائشوں کے چند نمونے پیش فرمائے گئے ہیں کہ آپ ہمارے لئے مکہ کے ان کالے پہاڑوں سے ایک عظیم الشان چشمہ جاری کردیں۔ یعنی ایسا چشمہ جس سے صاف ستھرا اور میٹھا پانی بہہ رہا ہو۔ اور وہ کبھی ختم نہ ہو۔ سو یہ لوگ جب معجزہ قرآن کے سامنے عاجز آگئے تو انہوں نے ایسی فرمائشیں شروع کردیں۔ سو ان کی ان فرمائشوں سے جہاں ایک طرف ان لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا پتہ چلتا ہے وہیں دوسری طرف اس سے ان کی مادہ پرستانہ ذہنیت بھی آشکارا ہوجاتی ہے۔ اور مادہ پرست دنیا کا ہمیشہ یہی حال رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ ان کی فکر وسوچ اور کوشش و کاوش کا محور دنیائے دوں کا متاع فانی اور اس کا حطام زائل ہی ہوتا ہے۔
Ayah 17:91163۔ ایک عظیم الشان باغ کی فرمائش :۔
یعنی اگر آپ ایسا عظیم الشان چشمہ جاری نہیں کرسکتے تو کم از کم آپ کیلئے ایک عظیم الشان باغ ہو۔ ایسا عظیم الشان باغ جو کہ مکہ کی اس بےآب وگیاہ وادی میں بلاد شام وعراق کے سرسبز باغوں کا نمونہ پیش کرے۔ تب تو کوئی بات ہو اور ہم یہ یقین کرسکیں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ورنہ موجودہ صورت تحال میں ہم کیسے مان لیں۔ سو اپنا دینا کا یہی حال کل تھا اور یہی آج ہے کہ ان کے سامنے دنیا فانی اور اس کا حطام زائل ہی سب کچھ ہے تو اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
164۔ باغ بھی خاص قسم کا :۔
یعنی کھجوروں اور انگوروں کا ایسا باغ جس میں کھجوروں اور انگوروں کے ان خاص درختوں اور پھلوں کی فراوانی ہو جن سے ہماری طرح طرح کی ضرورتیں بھی پوری ہوں اور آپ کی آن بان اور ٹھاٹھ باٹھ بھی ظاہر ہو۔ کھجوروں اور انگوروں کا ذکر ان کی اہمیت اور عظمت کی بناء پر ہے ورنہ اصل مقصد مطلقا ایک باغ کا ہونا ہے جس میں سب ہی قسم کے اچھے اور عمدہ پھل موجود ہوں۔ یعنی آپ کے پاس ایک ایسا عظیم الشان باغ ہو جس میں کھجوروں کے درخت اور انگوروں کی بیلیں ہوں۔ جس سے آپ کا ٹھاٹھ باٹھ قائم ہوں اور ملک وقوم کے معاشی حالات درست ہوں۔ سو یہ بعینہ وہی منطق ہے جو دور حاضر کے مادہ پرست لوگ کہتے ہیں کہ ان کا سارا زور مادہ اور معدہ کے تقاضوں کی تکمیل پر مرکوز ہوتا ہے اور بس۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ ان کے نزدیک اصل چیز مادیت ہی ہے، والعیاذ باللہ۔
165۔ نہریں چلادینے کا مطالبہ :۔
یعنی صرف ایسے باغ ہی پر بس نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کہ پھر آپ اس میں جاری کردیں طرح طرح کی نہریں۔ جو اس میں روادواں ہوں اور اس کو سیراب کرتی ہوں۔ جس سے عمدہ منظر بھی قائم ہو اور باغ کے پھلوں اور اس کے میوہ جات میں اضافہ اور بڑھوتری ہو۔ تب ہم مانیں۔ سو کوئی ایسا عظیم الشان باغ ہو جس کے بیچوں بیچ ایسی عظیم الشان نہریں چل رہی ہوں جن سے مکہ کی یہ بےآب وگیاہ وادی ” وادی غیر ذی زرع “ لہلہا اٹھے۔ اور ہر طرف سرسبزی اور شادابی کا منظر ہو۔ تو تب پتہ چلے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور آپ ایسی کوئی مافوق الفطرت طاقت اور قوت رکھتے ہیں۔
Ayahs 17:92–93166۔ آسمان کے ٹکڑے کرادینے کا مطالبہ :۔
سو انہوں نے کہا یا گرا دو ہم پر آسمان کے ٹکڑے جیسا کہ آپ کا دعوی ہے کہ قیامت آئے گی جس میں آسمان پھٹ پڑے گا اور ایسے اور ایسے ہوگا۔ اور اس سے آپ ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں حالانکہ وہ احمق اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے کہ قیامت کا وہ حادثہ اور اس کا وہ منظر اس دنیا میں اور اس طرح نہیں آئے گا کہ یہ زندہ سلامت بیٹھے دیکھتے رہیں، اور اوپر سے آسمان کے ٹکڑے گرپڑیں اور بس۔ نہیں بلکہ وہ تو اس وقت ہوگا جب یہ سارا علم درہم برہم ہوجائے گا جسکے بعد کسب واکتساب کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
167۔ اللہ اور اس کے فرشتوں کو سامنے لاکھڑا کرنے کا مطالبہ :۔
سو ان بدبختوں نے اپنے مطالبات اور فرمائشی معجزات کے سلسلے میں ترقی کرتے ہوئے اس سے بھی آگے بڑھ کر کہا کہ یا آپ ہمارے سامنے لئے آئیں اللہ اور اس کے فرشتوں کو۔ جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ اور وہ آپ ﷺ کی صداقت و حقانیت کی گواہی دیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس مطالبے کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے۔ وقال الذین لا یرجون لقائنا لولا انزل علینا الملئکۃ اونری ربنا، (الفرقان : 21) یعنی ” جو لوگ ہماری ملاقات اور ہمارے یہاں حاضر اور پیش کی امید اور توقع نہیں رکھتے انکا کہنا ہے کہ ہم پر فرشتوں کو کیوں نہیں اتاردیا جاتا یا ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ہم لوگ اپنے رب کو خود دیکھ لیتے “ سو اس کے جواب میں وہاں ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے ہیں جو ایسی باتوں کا مطالبہ کرتے ہیں “۔ سو ارشاد فرمایا گیا۔ لقد استکبروا فی انفسہم وعتوا عتوا کبیرا، یعنی ” انہوں نے اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھا اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کا ارتکاب کیا “۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔
Ayahs 17:94–95173۔ منکرین کے انکار کے سبب کی نشاندہی :۔
چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ لوگوں کو ہدایت سے نہیں روکا مگر ان کے اس اچھنبے نے کہ کیا اللہ نے بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا ؟ یعنی ان کے نزدیک نبوت اور بشریت میں تضاد تھا کہ یہ دونوں صفتیں یکجا نہیں ہوسکتیں۔ سو یہی غلط فہمی کل کے ان مشرکوں کو تھی اور یہی غلطی فہمی آج کے کلمہ گو مشرکوں کو ہے۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے اس بناء پر پیغمبر کی بشریت پر نظر کرکے ان کی نبوت کے ماننے کا دعوی کرکے آنحضرت ﷺ کی بشریت طاہرہ کا انکار کردیا کہ پیغمبر بشر نہیں نور ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اور امر واقعہ یہ ہے کہ پیغمبر بیک وقت نبی و رسول بھی ہوتا ہے اور بشر انسان بھی۔ اسی لئے کلمہ شہادت میں ہمیں ” عبدہ و رسولہ “ کے الفاظ سے دونوں کو یکجا ماننے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ اس مسئلہ کی مزید بحث ہماری کتاب ” تحفہ علم وحکمت “ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو اب سے کوئی پچیس سال قبل چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔
Ayah 17:96175۔ اللہ کی گواہی کافی اور سب پر حاوی :۔
سو پیغمبر کو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہہ دو کہ کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو “ اور ایسا کافی کہ اس کے بعد کسی اور کسی گواہی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی کہ اس خالق ومالک کی گواہی سب سے بڑی گواہی اور سب پر حاوی ہے اور وہ طرح طرح سے میری نبوت و رسالت کی گواہی دے چکا ہے جن میں سب سے بڑا ذریعہ گواہی کا یہ قرآن حکیم ہے۔ جو کہ سب سے بڑا اور زندہ جاوید معجزہ ہے اور جو اس نے محض اپنی رحمت و عنایت سے مجھ پر نازل فرمایا ہے۔ جس کے مقابلے سے دنیا ساری عاجز ہے اور جس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہے۔ اور جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل ہے۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے میری صداقت و حقانیت کی گواہی طرح طرح سے دے دی۔ اس کے باوجود تم لوگ اگر نہیں مانتے تو تمہارا اور ہمارا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے اور اسی کے سپرد ہے۔ وہ اپنے بندوں کے ظاہر وباطن سب کو پوری طرح دیکھتا اور جانتا ہے۔ اور وہی وقت آنے پر تمہارے اور ہمارے درمیان عدل وانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق فیصلہ فرما دے گا کہ اس خبیروبصیر سے کسی کے ظاہر وباطن کی کوئی بھی کیفیت کسی بھی طور پر اور کسی بھی درجے میں مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے بندوں کے بارے میں اس کا ہر فیصلہ ہر طرح سے صحیح اور درست ہوتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بندے کا کام اسی کے حضور سرتسلیم خم کردینا ہے۔
Ayah 17:97176۔ ہدایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :۔
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور جس کو اللہ ہدایت بخشے “ اس کے صفائے باطن اور اس کی طلب صادق کی بناء پر کہ اس کے یہاں کے فیصلے محض ظاہر پر مبنی نہیں ہوتے بلکہ حقائق اور بواطن پر مبنی ہوتے ہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہ ہر کسی کے دل کو اور اس میں مخفی ومستور اس کی نیتوں اور ارادوں کو جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس کا باطن کیسا ہے اور کون کس کے لائق ہے۔ وہ اسی کے مطابق اس سے معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو دولت ہدایت سے سرفرازی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے کہ اس کا دارومدار انسان کے قلب وباطن پر ہے۔ اور قلوب وبواطن کا علم اللہ وحدہ لاشریک ہی کو ہے پس بندے کو چاہیے کہ وہ اپنا معاملہ اپنے اس رب علیم وخبیر سے صحیح اور صاف رکھے کہ وہ اگر راضی ہوگیا تو سب کچھ بن گیا ورنہ کچھ بھی نہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
177۔ مشیت اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت ہے، سبحانہ وتعالیٰ :۔
سو اسی بناء پر ارشاد فرمایا گیا ” اور جس کو وہ گمراہی میں ڈال دے تم اس کیلئے کوئی یارومددگار نہیں پاس کو گے “ ، سو گمراہ کی اپنی بدنیتی اور کور باطنی کی وجہ سے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ اپنی محرومی کے ذمہ دار خود ہیں کہ یہ ہدایت چاہتے ہی نہیں۔ جبکہ ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین اساس و بنیاد طلب صادق ہے اور جو ہدایت کی روشنی چاہتا ہی نہ ہو اس کو زبردستی ہدایت ہدایت سے نوازے، کیسے ممکن ہے ؟ اور جس کو وہ گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے اس کے اپنے زیغ باطن اور سوء اختیار کی بناء پر اس کیلئے تم کوئی حامی اور مددگار نہیں پاس کو گے جو اس کو دولت ہدایت سے سرفراز کردے۔ پس ہدایت وغوایت کا اصل دارومدار انسان کے قلب وباطن پر ہے۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکروفریب سے ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔
178۔ منکروں اور محروموں کیلئے کوئی مددگار نہیں ہوسکتا :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کیلئے آپ کوئی حمایتی اور (مددگار) نہیں پاس کیں گے “۔ جو ان کو ہدایت کی دولت سے نواز سکے۔ کیونکہ اصل مالک اور ولی وکار ساز حقیقی تو اللہ پاک ہی ہے۔ اس سے انہوں نے منہ موڑ دیا اور حق کا انکار کرکے انہوں نے محرومی کی راہ کو اپنا لیا اور جو موہوم اور جھوٹے سہارے انہوں نے اپنا رکھے ہیں ان کی کوئی اصل اور حقیقت ہے ہی نہیں۔ تو پھر ان کا کوئی ولی کیسے اور کہاں سے ہوسکتا ہے ؟ سو انکار حق محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے اور ایسے لوگ اندھے بہرے اور گونگے ہوکررہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
179۔ منکرین کا حشر ان کے مونہوں کے بل ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ایسوں کو ہم قیامت کے روز ان کے مونہوں کے بل کھینچ کر لائیں گے ‘۔ یہ ایک اور ذلت اور ہولناک ذلت ہوگی جس سے اہل دوزخ دوچار ہوں گے۔ والعیاذ باللہ، صحیحین وغیرہ میں مروی ہے کہ حضرت انس ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ وہ چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ان کو پاؤں پر چلایا وہ ان کو چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ الذین امشاھم علی ارجلہم قادر علی ان یمشیہم علی وجوہہم “ سونورحق و ہدایت سے محروم منکروں کو ایسے ہولناک اور رسواکن انجام سے دوچار ہونا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
180۔ منکرین حق اندھے بہرے اور گونگے۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” قیامت کے روز ایسوں کو ان کے چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اندھے، بہرے اور گونگے کر کے “۔ ان کے اپنے اس کردار وعمل کے باعث جس کی وجہ سے وہ دنیا میں حق کے دیکھنے اور سننے اور کہنے سے اندھے بہرے اور گونگے بنے ہوئے تھے۔ سو اس روز وہ سب کچھ ظاہر ہوجائے گا جو دنیا میں وہ اپنائے رہے تھے ان کے چہروں مہروں پر عیاں وہویدا ہوجائیں گے۔ اور سب سب کے سامنے ان کی ذلت و رسوائی کا باعث بنیں گے۔ والعیاذ باللہ، پھر بعد میں ان کو یہ حواس وادراکات لوٹادیئے جائیں گے تاکہ وہ جہنم کے زفیر وشہیق وغیرہ کا احساس و ادراک کرسکیں اور دوزڈ کے طرح طرح کے عذابوں کے مزے چکھ سکیں۔ (ابن کثیر، المراغی، الصفوۃ وغیرہ) تاکہ اس طرح وہ اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ وہاں کے ہولناک عذابوں کی شکل میں پاس کیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ دنیا میں حق کو سننے ماننے اور اپنانے واختیار کرنے سے اندھے بہرے اور گونگے بنے ہوئے تھے ان کو وہاں اس طرح محشور کیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
181۔ جہنم کی آگے کبھی بجھنے نہ پائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” جہنم کی آگ جونہی بجھنے لگے گی ہم اس کو اور بڑھکا دیں گے “ اور جونہی ان کی کھالیں جل کر بھسم ہوجائیں گی ان کو نئی کھالیں دی جائیں گی تاکہ وہ ہمیشہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ کلما نضجت جلودھم بدلنا ھم جلودا غیرھا لیذوقو العذاب ، (النساء : 56) سو نہ تو وہ آگ بجھنے پائے گی اور نہ ان کے جسم ختم ہونے پائیں گے کہ جان چھوٹ جائے۔ بلکہ اس میں پڑے جلتے رہیں گے اور ایسی زندگی کاٹیں گے جن میں نہ جینا ہوگا نہ مرنا۔ یعنی لایموت فیھا ولا یحی۔ والی ہولناک زندگی گزارنا ہوگی جو کبھی ختم نہ ہونے پائے گئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یارب العالمین، ویا ارحم الراحمین۔
Ayah 17:98182۔ انکار حق جرموں کا جرم۔ والعیاذ باللہ :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ ان لوگوں کی جزا اور بدلہ ہوگا اس بات کا کہ انہوں نے کفر کیا تھا ہماری آیتوں سے “۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب اور ان کا انکارتمام جرائم کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ، اس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے اور فساد ابھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب وانکار کا آخری انجام بہرحال دوزخ ہے اور وہ بھی ہمیشہ کیلئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت وحکمت اور حیات بعد الموت کی نشانیاں دیکھنے کے بوجود اس کا انکار کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 17:99183۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے بعث بعد الموت پر استدلال :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ لوگ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا وہ یقینا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے “ یعنی آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے والے قادر مطلق کیلئے ان کو دوبارہ پیدا کردینا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کی حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمادیا بھلا اس کیلئے یہ امر آخرکیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کردے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو آسمانوں اور زمین کے اس حکمتوں بھری کائنات کو اس نے پیدا فرمادیا اور بغیر کسی نمونہ اور مثال کے پیدا فرما دیا اور یہ سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہے اور تم کھلی آنکھوں اس کو دیکھتے ہو اور جب اس سب کو اس نے اس طرح پیدا فرمادیا تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر اس کے لئے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ اسی حقیقت کو قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمادیا گیا۔ لخلق السموات والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لایعلمون۔ (المومن : 57)
184۔ بعث بعد الموت کیلئے ایک وقت مقرر ہے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور اس نے ان کیلئے ایک ایسی مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں “ یعنی ان کی موت اور ان کے دوبارہ اٹھانے کیلئے پس اپنے وقت پر یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔ مگر اس وقت کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ لہذا تو لوگ عمررواں کی اس محدود فرصت ومہلت کو اس طرح کے بےمقصد سوالات اور لایعنی شکوک و شبہات میں ضائع کرنے بجائے اس کو آخرت کی کمائی کی فکر و کوشش میں خرچ کرو کہ یہ لمحہ بہ لمحہ تمہارے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔ اور ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد پھر اس کے ملنے اور حاصل ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 17:100185۔ انسان کی تنگ ظرفی کا ایک نمونہ ومظہر :۔
اگر تم لوگ رب کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو روک اور بند کرکے رکھتے اور ایسے میں تم لوگ کسی کو دینے اور بلاعوض دینے کا نام تک نہ لیتے۔ اور خود بھی رک رک کر خرچ کرتے کہ یہ خزانے کہیں خرچ اور ختم نہ ہوجائیں۔ مگر یہ اس واہب مطلق جل جلالہ۔ کا ایک عظیم الشان کرم واحسان ہے کہ اس نے ان خزانوں کو اپنے ہی قبضہ قدرت واختیار میں رکھا اور ان کو اپنی مخلوق پر اس بےمثال فیاضی اور بےنہایت کرم کے ساتھ تقسیم فرمایا اور لگا تار تقسیم فرما رہا ہے اور اس قدر کہ اس کا علم و احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سو اور کسی کے بس میں نہیں۔ فلک الحمدیا ربی حمدا یلیق لجلال وجھک و عظیم سلطانک۔ سو یہ انسان کی تنگ ظرفی کا ایک مظہر و نمونہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے تنگ ظرف انسان کو نبوت و رسالت کے شرف سے آخر کس طرح نوازا جاسکتا تھا ؟ سو اس میں ان کفار و مشرکین پر رد ہے جو کہا کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اور یہ دین اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو ہم میں سے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ اس کو عبداللہ کے یتیم پر ہی کیوں اتارا گیا۔ لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔ سو اس کے جواب میں اور ان لوگوں کی تردید کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم جیسے کوتاہ نظر اور تنگ ظرف اس کے اہل کہاں اور کیسے ہوسکتے تھے۔ تم دنیا کے جن خزف ریزوں کے حق دار تھے وہ تم کو دے دیئے گئے۔ جبکہ قرآن اور دین کی نعمت سے سرفرازی کے جو اصل حقدار تھے ان کو اس سے نوازا گیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کے شرف سے کس کو نوازے۔ اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ۔