17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا اور کوئی ایسی مخلوق بن جاؤ جس کا زندہ ہونا تمہارے خیال میں بہت مشکل بات ہو، (پھر بھی تم نے اٹھ کر رہنا ہے) ، اس پر یہ کہیں گے کہ (اچھا تو) وہ کون ہے جو ہمیں (اس حالت پر بھی) دوبارہ زندہ کر دے گا ؟ کہو وہ وہی ہے جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا، (جب کہ تمہارا کوئی نام و نشان تک بھی نہ تھا1) اس پر یہ لوگ سر ہلاتے ہوئے یہ سوال کریں گے کہ (اچھا تو) یہ کب ہوگا ؟ جواب دو کہ کیا عجب کہ وہ وقت تمہارے قریب ہی آگیا ہو،

88۔ تم لوگوں کو بہرحال دوبارہ اٹھنا ہے :۔ تاکہ حساب کتاب ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ اور تم کو اٹھانا اس ذات اقدس واعلیٰ کے لئے جو قادر مطلق ہے، کچھ بھی مشکل نہیں اور اس کیلئے کوئی بھی چیز ناممکن اور مشکل نہیں ہوسکتی کہ اس کی صفت وشان ہے۔ علی کل شیء قدیر، کہ ” وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ جو چاہے اور جیسا اور جب چاہے کرسکتا ہے۔ اور اس کیلئے اس کو صرف حکم دینا اور ارشاد فرمانا ہوتا ہے اور بس کہ اس کی شان ” کن فیکون “ کی شان ہے جو صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 89۔ منکرین بعث کیلئے مختصر اور بھر پور جواب :۔ جس کے بعد انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تم کو دوبارہ وہی اٹھائے گا جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا فرمایا ہے “ یعنی اپنے اس سوال کے جواب کے لئے تمہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لئے تم لوگ خود اپنی ذات اور اپنے اس وجود ہی میں غور کرلو کہ جس نے تم لوگوں کو یہ وجود بخشا اور تمہیں نیست سے ہست کیا ہے۔ اس کیلئے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آخر کیونکر اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو آج سے ایک زمانہ پہلے جب تمہارا کوئی نام ونشان تک نہ تھا اس نے تمہیں پیدا کرکے یہ وجود بخشا۔ تو پھر اس کیلئے تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟۔ 90۔ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے :۔ سومنکرین کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” ہوسکتا ہے کہ اس کا وقت قریب ہی آلگاہو “ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے کہ اس نے بہرحال آکر ہی رہنا ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے ” کل ماہو ات فھوقریب “ یعنی ” جس چیز نے آنا ہوتا ہے وہ بہرحال قریب ہی ہوتی ہے۔ “ (المراغی، الصفوۃ، ابن کثیر وغیرہ) پس عقل مند وہ ہے جو آنے والی اس حقیقت کبری کیلئے تیاری کرے قبل اس سے کہ فرصت عمل جو کہ عبارت ہے اس کی حیات محدود ومستعار سے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق وھو المستعان، اور ہر انسان کی قیامت تو اس کی اپنی موت سے ہی قائم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ موت کے آنے کے بعد پھر تمہارے لئے اس دنیا میں واپس آنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اور تمہاری موت کبھی بھی آسکتی ہے۔ (معارف القرآن وغٰیرہ) سو اس ارشاد سے کہ ” کہو کہ ہوسکتا ہے کہ اس کا وقت قریب ہی آلگا ہو “ اس اہم اور بنیادی حقیقت کو آشکارا فرما دیا گیا ہے کہ جہاں تک وقوع قیامت کا تعلق ہے وہ تو ایک قطعی حقیقت اور ہونی شدنی چیز ہے۔ اس نے اپنے وقت پر بہرحال آکر اور واقع ہو کر رہنا ہے۔ لیکن جہاں تک اس کے وقت وقوع کا تعلق ہے اس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو بھی نہیں۔ یہاں تک کہ پیغمبر کو بھی اس کا علم نہیں۔ اس کو اپنے وقت پر اللہ ہی ظاہر کرے گا۔ لایجلیھا لوقتھا الا ہوا۔ (الاعراف : 178) لیکن اس بناء پر انکار کرنا کہ اس کے وقوع کا وقت معلوم نہیں ہوسکتا تو کیا محض اس بناء پر کہ اس کا وقت معلوم نہیں کسی کیلئے اس کا انکار درست ہوسکتا ہے ؟ سو قیامت نے آنا تو بہرحال ہے لیکن اس وقوع کے وقت کا اللہ کے سوا کسی کو بھی علم نہیں۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی پکار پر (بلا کسی چوں چرا کے فوراً ) چلے آؤ گے اس کی حمد (ثناء) کرتے ہوئے، اور (آج جلدی مچانے والے منکرو، اس روز) تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم (مدت اس دنیا میں) رہے تھے،2

91۔ قیامت کے روز منکرین کا حال :۔ سو منکرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ” اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز تم سب اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے اس کے حضور پیش ہوں گے “ تمہاری یہ سب اکڑفوں اس روز ختم ہوجائے گی اور تم چیخ چیخ کر مانو گے۔ مگر اس وقت کی وہ تعریف و توصیف اور حمد وثناء تمہیں کچھ کام نہ دے گی۔ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا۔ کیونکہ اس کا موقعہ دنیاوی زندگی کی فرصت محدود میں تھا جبکہ تمہارے لئے ایمان بالغیب سے مشرف ہونے کا موقعہ موجود تھا۔ اور وہ موقعہ تمہارے ہاتھ سے اس وقت بہرحال نکل چکا ہوگا۔ تمہاری آنکھیں پوری طرح کھل جائیں گی۔ اور تم اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہوؤگے۔ 92۔ اس روز دنیا کی زندگی تم کو بہت تھوڑی لگے گی :۔ سو ان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ” اس روز تم لوگ گمان کروگے کہ تم دنیا میں بہت ہی تھوڑا رہے ہو۔ “ اور حیات دنیا کی جس فرصت اور مہلت کو آج تم لوگ بہت لمبی سمجھتے ہو اس روز وہ تمہیں کچھ بھی معلوم نہ ہوگئی اور تم رہ رہ کر افسوس کروگے کہ کاش ہم نے ایمان لایا ہوتا اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی میں صرف کیا ہوتا۔ مگر اس وقت کی اس حسرت اور افسوس کا تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا سوائے تمہارے اپنے عذاب میں اضافے کے اور اس طرح تم دوزخ کی ظاہری آگ کے ساتھ ساتھ یاس وحسرت کی اس اندرونی آگ میں بھی جلوگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کشف حقائق کے اس روز جبکہ غیب کے تمام مخفی حقائق اپنی اصل شکل میں کھل کر تمہارے سامنے آجائیں گے اور تم سب کچھ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لوگے تو اس روز تمہیں یوں لگے گا کہ تم دنیا میں صرف ایک صبح یا شام ٹھہرے تھے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا یوم تقوم الساعۃ یقسم المجرمون مالبثوا غیرساعۃ کذالک کانوا یؤفکون، (الروم : 55) مگر بےوقت کے اس اعتراف و اقرار کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ کہ کمائی کا وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور کہو میرے بندوں سے (اے پیغمبر ! ) کہ وہ بات ہمیشہ وہی کریں جو ہر لحاظ سے اچھی ہو، کہ شیطان (ناروا بات کے ذریعے) ان کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش میں رہتا ہے، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے،

93۔ مسلمانوں کو حسن تخاطب کی تعلیم و تلقین :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” میرے بندوں سے کہو کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو۔ “ جس میں حق کا بیان واظہار وہ اور جو حق کیلئے اور حق کے ذریعے کہی جائے اور اس سے مقصود نصیحت وخیر خواہی ہو۔ فایاک نسئال اللہم التوفیق لذالک والسداد والثبات علیہ بہرکیف بھلی بات کہنے کی تعلیم ایک بڑی اہم اور بنیادی تعلیم ہے جس سے بسا اوقات بڑے بڑے فساد ٹل جاتے ہیں اور حالات کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ جبکہ غلط بات سے آگ لگ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ ” میرے بندوں سے کہو کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو۔ “ مخالفین کی بیہودہ باتوں سے متاثر ہو کر اور اشتعال میں آکر انہی کی زبان میں ان کا جواب نہ دیں بلکہ صحیح اور سچی بات کہنے اور پہچانے ہی کو اپنا شیوہ اور طریقہ بنائیں۔ سو حسن تخاطب اور ملاطفت کا نتیجہ وانجام بہرحال بہت اچھا اور عمدہ ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔ وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ 94۔ شیطان کے شر اور فساد سے محتاط رہنے کی ضرورت :۔ سو اس اہم حقیقت سے خبردار کرنے اور آگہی بخشنے کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک شیطان تمہارے درمیان فساد ڈالونے کی کوشش کرتا ہے۔ “ اور اس کیلئے وہ لعین ایسے مواقع کی تاڑ اور تاک میں رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اس لیے تمہیں اے مسلمانوں اس کی شرانگیزی سے ہمیشہ محتاط رہنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ایسی ہر بات سے گریز کرنا چاہئے جو فتنے اور فساد کا باعث بن سکتی ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تمہیں ہمیشہ محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ تمہارا وہ کھلا دشمن ایسے کسی مواقع سے فائدہ اٹھا کر فتنہ و فساد برپا کردے اور تمہارے سارے کام کو بگاڑ کر رکھ دے کہ وہ اس طرح کے مواقع کی تاک میں رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم من الشیطان ومکرہ وشرہ فی کل موطن المواطن فی الحیاۃ، 95۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ “ اور اپنی اس دشمنی کا اعلان وہ حضرت حق۔ جل مجدہ کے سامنے کرچکا ہے کہ ” میں جہاں تک میرا بس چلا آدم کی اولاد کو گمراہ کرکے اور دوزخ کی راہ پر ڈال کر چھوڑوں گا۔ “۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے تم لوگ اندازہ کرسکتے ہو کہ وہ تم سے کس قدر دشمنی رکھتا ہے اور کس طرح تمہارے تعاقب میں رہتا ہے۔ لہذا تمہیں ہمیشہ اور ہر موقع پر اس کے مکروفریب سے محتاط اور چوکنا رہنا ہوگا۔ وہ ہمیشہ اور ہر موقعہ پر تمہیں نقصان پہنچانے کی تاک میں رہے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ہتھیار کے ذریعے دوسرے کی طرف اشارہ نہ کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار چھھین کر اگلے کو نقصان پہنچا دے اور اس کے نتیجے میں یہ سیدھا جاکر دوزخ کے گڑھے میں جاگرے۔ (صحیح بخاری ومسلم وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے (کہ تم میں سے کون کس قابل ہے، پس) وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے، اور اگر چاہے تو تم کو عذاب میں ڈال دے، اور ہم نے آپ کو (اے پیغمبر ! ) ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا،3

96۔ رب اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تمہارا رب تمہیں اور تمہارے ظاہر وباطن کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ پس وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے۔ “ اور تم کو ہدایت و ایمان کی دولت سے نواز دے جبکہ تمہارے دلوں میں اس کیلئے طلب صادق پائی جائے اور تمہارے دلوں کا حال دنیا سے تو پوشیدہ اور مخفی رہ سکتا ہے لیکن تمہارے اس خالق ومالک سے مخفی ومستور نہیں رہ سکتا جو کہ دلوں کے حال کو پوری طرح جاننے والا اور علیم بذات الصدور ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے تمہیں ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہئے کہ اس کے ساتھ ہمارا معاملہ اور تعلق صحیح اور درست رہے کہ اس کی رضاء و خوشنودی اگر مل گئی تو پھر سب کچھ مل گیا اور اس کے بغیر اگر دنیا ساری بھی مل گئی تو بھی کچھ نہیں ملا۔ وباللہ التوفیق۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ تم سب کو جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ وکون اس کی رحمت و عنایت اور ہدایت کا مستحق ہے اور کون محرومی اور اس کے عذاب کے لائق ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنا ہی بنائے رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ 97۔ اور وہ اگر چاہے تو تم کو عذاب میں ڈال دے :۔ نور ایمان و یقین سے محروم وبے بہرہ رکھ کر۔ جب کہ تمہارے اندر اس کیلئے طلب صادق موجود نہ ہو کیونکہ اس کے یہاں فیصلہ دراصل دل کی کیفیت ہی پر مبنی ہوتا ہے کیونکہ وہ علیم بذات الصدور۔ پوری طرح جانتا ہے کہ کس کے دل کی کیفیت کیا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اسی کے مطابق وہ فیصلہ فرماتا ہے کہ فیصلے کا اختیار اسی وحدہ لاشریک کو ہے اور اسی کا فیصلہ ہر حق اور عدل وانصاف اور حکمت کے تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو پیغمبر اور اس کے پیروکاروں کا کام اور ان کی اصل ذمہ داری تبلیغ حق ہے اور بس۔ آگے منوا لینا نہ ان کے بس میں ہے اور نہ ان کی ذمہ داری۔ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے کہ دلوں کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے اپنے علم وحکمت کے مطابق نور ایمان و یقین سے نوازتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کے خبث باطن اور سوء اختیار کے نتیجے میں عذاب دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین۔ 98۔ پیغمبر کی اصل ذمہ داری تبلیغ حق ہے اور بس :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے آپ کو (اے پیغمبر ! ) ان لوگوں پر ذمہ داری بناکر نہیں بھیجا “ کہ آپ ان کو راہ حق پر لاکرچھوڑیں۔ آپ ﷺ کا کام تو حق کو پہنچا اور بتلا دینا ہے اور بس۔ اس کے بعد حساب لینا اور ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا بھرپور بدلہ دینا ہمارے ذمے ہے۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔ سو آپ کی ذمہ داری تبلیغ حق اور انذار وتبشیر ہے اور پس۔ اس سے آگے بڑھ کر حق کو منوالینا نہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کے پس میں ہے پس آپ لوگوں کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی سے خواہ مخواہ غمگین اور پریشان نہ ہوں۔ فلاتذھب نفسک علیہم حسرات۔ (فاطر : 8) سو ماننے نہ ماننے کی ذمہ داری خود ان ہی لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ اور اس کی پوچھ خود انہی سے ہوگی نہ کہ آپ سے۔ لست علیہم بمصیطر۔” آپ کوئی ان پر داروغے نہیں ہیں۔ “ پس منوا لینا اور راہ حق پر ڈال دینا نہ پیغمبر کی ذمہ داری ہے اور نہ اس کے بس میں۔ ان کا کام تو صرف تبلیغ حق ہے اور بس، ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب،
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور آپ کا رب خوب جانتا ہے ان سب کو جو کہ آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں موجود ہیں، اور بلاشبہ ہم نے فضیلت بخشی بعض نبیوں کو بعض پر، اور ہم ہی نے داؤد کو زبور عطا کی تھی،

99۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” تمہارا رب خوب جانتا ہے ان سب کو جو کہ آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں موجود ہیں۔ “ اور اپنے اسی علم محیط کی بناء پر اور اپنی حکمت بالغہ کے مطابق وہ ہر کسی سے وہی معاملہ کرتا ہے جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا ہے۔ لہذا اس کے کسی حکم و فیصلہ کا کوئی بدل ممکن ہی نہیں ہوسکتا اور اس پر اعتراض کرنا اعتراض کرنے والے کی اپنی ہی دماغی خرابی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر، لہذا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ عبداللہ کا یتیم کیسے نبی بن سکتا ہے یا یہ کہ اس قرآن کو مکہ اور طائف کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہیں اتارا گیا یا یہ کہ بلال، صہیب اور خباب وغیرہ جیسے فقراء صحابہ قریش کے سرداروں سے کیسے بڑھ گئے وغیرہ وغیرہ تو ان لوگوں کے ایسے تمام اقوال اور سوالات واعتراضات باطل و مردود اور بےحقیقت ہیں کہ اللہ جو بھی کرتا ہے بہتر کرتا ہے اور جس کو جس شرف واعزاز سے نوازتا ہے درست ہی نوازتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین کی اس وسیع کائنات میں سب رہنے والوں کو خوب اور اچھی طرح جانتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ (المراغی اور المحاسن وغیرہ) ۔ 100۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا اصل شرف عطاء زبور تھا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ہی نے داؤد کو زبورعطا کی تھی۔ “ کیونکہ ہمارے علم ازلی اور کامل و محیط کی بناء پر وہ اس کے اہل تھے اور ان کا اصل اعزازوہ بادشاہی نہیں تھی جو ان کو بخشی گئی تھی بلکہ زبور کی وہ کتاب ہدایت تھی جس سے ان کو سرفراز فرمایا گیا تھا اور جس میں مذکور تھا کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہوں گے۔ اور ان کی امت خیر الامم ہوگئی۔ اسی لئے یہاں پر آنجناب کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا۔ (المراغی وغیرہ) سوزبور ہی اصل میں حضرت داؤد (علیہ السلام) کے شرف اور آپکی فضیلت کا ذریعہ بنی جو کہ حکمت اور فصل خطاب پر مشتمل تھی۔ حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے بھائیوں میں سب سے پستہ قد اور عام لوگوں کی نظر میں حقیر و فقیر تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود آپ کو نبوت اور بادشاہت دونوں کے شرف سے نوازا اور مشرف فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار فضیلت ظاہری شکل وصورت یا دنیاوی مال ودولت نہیں بلکہ باطنی کمالات اور فطری وجبلی خصائل وشمائل ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ پوری طرح جانتا ہے۔ اور انہی کی بناء پر وہ نوازتا ہے۔ پس اگر یتیم عبداللہ محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شرف نبوت و رسالت سے نوازا اور قرآن حکیم کی دولت بےمثال کو آپ ﷺ ہی پر اتارا تو اس میں کسی کو کوئی سوال و اعتراض کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ وغیرہ۔ (معارف از کاندھلوی (رح)
Ayahs 17:56–57

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ تم لوگ پکار دیکھو اپنے ان (خود ساختہ) معبودوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے ہو، اس (معبود حق) کے سواء وہ نہ تمہاری تکلیف کو دور کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کو کچھ پھیر سکتے ہیں،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

وہ ہستیاں جن کو یہ لوگ (اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی، اور وسیلہ جوئی کے لئے) پکارتے ہیں، وہ (ان کے کام کیا آتے وہ تو) خود اپنے رب کے حضور پہنچنے کے لئے (نیکیوں کے ذریعے) قرب ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں، کہ کون اس کا زیادہ مقرب بنتا ہے وہ اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، بلاشبہ آپ کے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کی چیز،1

101۔ ابطال شرک کیلئے مشرکوں سے خطاب :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ پکارو دیکھو تم لوگ (اے مشرکو ! ) اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے ہو۔ “ یعنی ان کے بارے میں تم یہ زعم اور گھمنڈ رکھتے ہو کہ یہ اللہ کے پیارے ہیں اس کی صفات کے اوتار اور مظہر ہیں۔ انکو خاص اختیارات حاصل ہیں۔ اس لئے یہ ہماری بگڑی بنادیں گے اور ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ مقبول اور پیارے بندے ہیں جن کو ایسے مشرک لوگوں نے از خود حاجت روا ومشکل کشا قرار دے کر پوجا پکارا۔ جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) ، اور حضرت مریم وغیرہ۔ جملہ ثقہ اور معتبر مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ نمونہ کیلئے ملاحظہ ہو۔ روح المعانی مدارک، قرطبی، صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، جامع البیان اور تفسیر المراغی وغیرہ وغٰیرہ۔ اور جیسا آیات کریمہ کا سیاق وسباق بھی اس پر صریح دلالت کررہا ہے اور خود اہل بدعت کے بعض بڑوں نے بھی یہاں پر اس آیت کریمہ اولئک الذین یدعون، کا ترجمہ اس طرح کیا ہے ” وہ مقبول بندے جنہیں یہ کافر پوجتے ہیں “ اور اگر کسی تفسیر میں اس موقع پر بت وغیرہ کا ذکر کیا بھی گیا ہے تو وہ بھی اس لئے کہ ان مشرک لوگوں نے اپنے ایسے ہی مشرکانہ تصورات اور فلسفوں کی بناء پر ان پاکیزہ ہستیوں کے ناموں پر ان کے مجسمے اور ان کی مورتیاں بنا کر اپنے عبادت خانوں میں رکھ دی تھیں۔ جیسا کہ آج تک ان کے گرجاؤں وغیرہ میں جابجا ایسا موجود ہے۔ سو من دون اللہ اور من دونہ کے کلمات کا عموم ہر معبود من دون اللہ کو شامل ہے۔ پس اس سب سے واضح ہوگیا کہ اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں کا آیت کریمہ کا مصداق صرف بتوں کو قرار دینا حقیقت کے خلاف اور ان لوگوں کی اپنی جہالت یا تجاہل عارفانہ کا غماز و آئینہ دار ہے تاکہ اس طرح کلمہ گو مشرکوں کیلئے اس طرح کی شرکیات کا دروازہ کھلا رہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اللہ وحدہ لاشریک کے سوا نہ کوئی ہستی مافوق الاسباب طور پر حاجت روا ومشکل کشا ہوسکتی ہے اور نہ ہی کسی کو حاجت رواومشکل کشا قرار دے کر اس طرح غائبانہ طور پر یا اس کی موت کے بعد اس کا پکارنا جائز ہے۔ ایسی پاکیزہ ہستیوں میں سے کسی سے زندگی بھر میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں جس سے ان کے حاجت روا ومشکل کشا ہونے کا عندیہ ملتاہو۔ بلکہ یہ سب کچھ بعد کے لوگوں کے مشرکانہ خیالات کی فتنہ سامانیاں ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ ورنہ یہ تمام ہستیاں زندگی بھر خود اپنی مشکلوں اور مصیبتوں میں اللہ وحدہ لاشریک ہی کو اپنی حاجت روائی ومشکل کشائی کیلئے نہ پکارتی رہتیں۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے کہ یہ سب حضرات اپنی نمازوں میں دست بستہ کھڑے ہو کر اپنے رب کے حضور اس طرح عرض کرتے تھے۔ ایاک نعبد وایاک نستعین۔ اور یہ حضرات اگر حاجت رواومشکل کشا ہوتے تو خود بیماریوں وغیرہ مشکلات اور پریشانیوں میں کبھی نہ پھنستے کہ مشکل کشا وہی ہوتا ہے جو خود کبھی کسی مشکل میں نہ پھنسے اور حاجت روا وہی ہی سکتا ہے جس کو خود بھی کوئی حاجت پیش نہ آئے اور وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اور اگر یہ ہستیاں حاجت روا ومشکل کشا ہوتیں تو خود موت کے ہاتھوں میں عاجز آکر اس دنیا سے رخصت نہ ہوتیں۔ سو غلط کہتے اور شرکیہ بات کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں ” یاعلی مدد “ ،” یاحسین “ اور ” یا پیر دستگیر “ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 17:58–59

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی بستی ایسی نہیں، جسے ہم ہلاک (اور تباہ و برباد) کردیں قیامت سے پہلے، یا اسے کوئی سخت عذاب نہ دے دیں، یہ بات اس کتاب میں لکھی ہوئی ہے،2

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہمیں ایسی نشانیاں (یعنی فرمائشی معجزات) بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اس طرح کی نشانیوں کو جھٹلا چکے ہیں پہلے لوگ، چناچہ (نمونے کے طور پر دیکھ لو کہ) ہم نے قوم ثمود کو وہ اونٹنی بخشی آنکھیں کھول دینے والی ایک عظیم الشان نشانی کے طور پر، مگر انہوں نے اس پر ظلم کیا، اور ہم اپنی نشانیاں نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لئے،

105۔ ظالموں نے اپنے ظلم کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے :۔ کہ یہ مکافات عمل کا لازمی اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اس سلسلے میں ملنے والی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہر سرکش کو عذاب بہرحال آنا ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ وعمل کو روکنے کی قدرت وطاقت کسی بھی ہستی میں نہیں اور تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پھل مل کر رہے اور اس طرح پاداش عمل کا ظہور ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اور یہ ان لوگوں کے اپنے کئے کرائے کا لازمی نتیجہ اور طبعی ثمرہ ہوتا ہے۔ ورنہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وما ظلمنا ہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ (النخل : 118) سو ایسی بستیوں کو یعنی ان کے باشندوں کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور ان کا انجام بہت خسارے کا ہوگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ فذاقت وبال امرھا وکان عاقبۃ امرھا خسرا، (الطلاق : 9) سو ظالموں کو اپنے ظلم کا انجام بہرحال بھگتنا ہوگا۔ کسی کو اس بارے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ سو اس سے کفار کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو وہ لوگ مطالبہ عذاب کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ لے آؤ ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہر سرکش بستی پر قیامت سے پہلے ہی عذاب لے آئیں گے۔ پھر یا تو اسے بالکل ہلاک کردیں گے یا اس کو سخت عذاب دیں گے مگر ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ قدجعل اللہ لکل شیء قدرا۔ (الطلاق : 3) سو عقل وخرد کا تقاضا یہ ہے کہ عذاب مانگنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر کی جائے اور ہمیشہ عافیت ہی مانگی جائے اور ہمیشہ عافیت ہی مانگی جائے۔ 106۔ نوشتہ تقدیر کا حوالہ وذکر :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” یہ بات لکھی ہوئی ہے اس عظیم الشان کتاب میں۔ “ جو سب مقادیر کو حاوی، سب کی جامع اور عظیم الشان کتاب ہے۔ یعنی لوح محفوظ جو کہ داراصل کنایہ ہے اللہ پاک کے علم محیط وشامل سے۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا۔ پھر اس سے فرمایا لکھ “ (اخرجہ الترمذی (رح)) ۔ سو نوشتہ تقدیر کے اس حوالے سے بتادیا گیا کہ خداوند قدوس کے دفتر میں یہ سب کچھ مرقوم و مذکور ہے کہ فلاں قوم اپنے ارادہ واختیار سے ان اور ان جرائم کا ارتکاب کرے گی جس کے نتیجے میں اس کو اس طرح اس کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پس ظالموں کو اس سلسلے میں جو ڈھیل مل رہی ہے اس سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے رب نے گھیر رکھا ہے، ان لوگوں کو (اپنے علم اور قدرت سے) ، اور (ان عجائب قدرت کا) وہ دیکھنا جو کہ ہم نے آپ کو دکھایا تھا (اپنی قدرت و عنایت سے) اور اس درخت کو جس پر لعنت وارد ہوئی ہے قرآن میں، (نہیں بنایا ہم نے اس سب کو) مگر آزمائش کا سامان لوگوں کے لئے، اور ہم انھیں برابر ڈراتے (اور تنبیہ کرتے) رہتے ہیں، (تاکہ یہ لوگ باز آجائیں) ، مگر اس سب سے ان کی اس بڑی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے،3

108۔ تنبیہی نشانیوں کے بارے میں کفار قریش کا رویہ :۔ کہ انہوں نے بھی ایسی نشانیوں کا مذاق اڑایا اور ان کی تکذیب کی۔ مثلا جب ہم نے آپ کو خبر دی کہ بیشک آپ کے رب نے سب لوگوں کو گھیرے میں لے کر رکھا ہے اپنے علم قدرت کے اعتبار سے۔ سو یہ نہ تو اس کے علم محیط سے باہر ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی گرفت وپکڑ اور دائرہ قدرت سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی یہ اس بل بوتے کے مالک ہوسکتے ہیں کہ حق کے غلبہ و انتظار کو روک سکیں۔ سو یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔ لہذا آپ ان کی پرواہ کیے بغیر حق کی تبلیغ کیے جائیں۔ یہ اب تک آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکے نہ آئندہ بگاڑ سکیں گے۔ اور یہ ایک بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ کی تائید ونصرت آپ کے ساتھ ہے۔ (المعارف وغیرہ) سو جب ان لوگوں کو اس حقیقت کی خبر دی گئی تو بجائے اس کے کہ یہ اس سے متنبہ ہوتے اور اپنے کفر و بغاوت کو ترک کرتے الٹا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا اور اپنے کفر وعناد کی بناء پر کہا کہ یہ یونہی خواہ مخواہ کی ہوائی باتیں ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 109۔ معجزہ معراج اور منکرین کی فتنہ سامانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور آپ کا وہ دیکھنا (عجائب قدرت کا) بھی ان لوگوں کے لئے فتنہ و آزمائش کا ذریعہ بن گیا۔ “ یعنی معجزہ اسراء و معراج کے موقع پر عجائب قدرت کا دیکھنا جو کہ بیداری میں اور جسم و روح کے ساتھ ہوا۔ اور رو بھی اصل لغت میں رویت (بحالت بیداری دیکھنا) کے معنی میں آتا ہے۔ (المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) اس لئے یہاں پر اس سے مراد اسراء و معراج کا دیکھنا ہے۔ (ابن کثیر، محاسن اور معارف وغیرہ) سو سفر اسراء و معراج میں آپ کا وہ دیکھنا جو ہم نے آپ کو دکھایا یا جس کا ذکر سنسریہ کے کلمات کریمہ سے اس سورة کریمہ کے شروع میں ہوچکا ہے۔ سو وہ دیکھنا جہاں آپ کیلئے قدرت کی طرف سے ایک بڑا انہام و اکرام تھا وہیں وہ ان لوگوں کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ بن گیا۔ سو کچھ نے تصدیق کرکے اپنے ایمان و یقین کی تقویت کا سامان کیا جبکہ کچھ دوسروں نے اس کی تکذیب کرکے اپنی محرومی اور بدبختی میں اور اضافہ کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) سو ان منکرین و مکذبین نے اس کو مان کر اپنے ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کا ذریعہ بنانے کی بجائے اس کا انکار کرکے اور اس کا مذاق اڑا کر اپنی حرمان نصیبی کو اور پکا کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 110۔ شجرہ ملعونہ سے مراد اور اس کی وجہ ابتلاء ؟:۔ یعنی ” زقوم “ جو کہ دوزخیوں کا کھانا ہوگا۔۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ دونوں امور یعنی رؤیاء معراج اور شجرہ زقوم بھی ابتلاء و آزمائش کید و عظیم الشان سبب اور ذریعے بن گئے تھے۔ لوگوں کی جانچ اور تمیز کیلئے کہ اس سے اہل ایمان اور اصحاب صدق وصفا کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوا اور اہل باطل کے کفر وضلال میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ معجزہ اسراء معراج کی طرف کفار نے شجرہ زقوم کا بھی مذاق اڑایا۔ چناچہ رورایات کے مطابق جب شجرہ زقوم کے بارے میں یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ انا جعلنا ھافتنہ للظالمین انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم طلعھا کانہ رء وس الشیاطین ، (الصافات : 62 تا 66) تو اس پر کفار نے اس کا مذاق اڑایا اور ابو جہل اینڈ کمپنی نے کہا کہ لو جی یہ کہتا ہے کہ ” زقوم “ کا درخت دوزخ کے بیچوں بیچ اگے گا۔ بھلا آگ میں کسی درخت کے اگنے کا کیا سوال ؟ تو یہ محمد کی اپنی گھڑت نہیں تو اور کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح شجرہ ” زقوم کے بارے میں قرآن حکیم کے اس ارشاد سے اہل ایمان و یقین میں اضافہ ہوا اور اس میں مزید قوت آئی اور اہل کفر وباطل کے انکار میں اضافہ ہوا اور ان کے کفر وانکار اور ضدوعناد کی سیاہی مزید گہری اور گاڑی ہوگئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (معارف القرآن، روح المعانی اور ابن کثیر وغیرہ) 111۔ قدرت کی طرف سے تخویف و تنبیہ کی عنایت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم ان کو برابر ڈراتے اور خبردار کرتے رہتے ہیں “ تاکہ یہ سنبھل جائیں اور باز آجائیں اور ہولناک تباہی اور خوفناک انجام سے جس کی طرف یہ بڑھے جارہے ہیں۔ مگر یہ لوگ یہ ہیں کہ نہ کوئی سبق لیتے ہیں نہ اس طرف توجہ کرتے ہیں۔ سو قدرت کی طرف سے تنبیہ و تخویف کی یہ عنایت ایک عظیم الشان عنایت ہے تاکہ غافل انسان نوم غفلت سے چونک کر اپنے اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے جس کی طرف وہ اپنی غفلت و لاپرواہی اور اپنے کفر وعناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بڑھے چلا جارہا ہے اور ہاویہ دوزخ کے اس ہولناک گڑھے سے بچنے کا سامان کرلے جس کی گہرائی گیرائی اور ہولناکی کا اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کیلئے ممکن نہیں۔ اور وہ آنکھیں کھول لے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق والحمد للہ جل وعلا، 112۔ منکرین کی طغیانی اور سرکشی ہی میں اضافہ۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اس سے ان لوگوں کی طغیانی اور سرکشی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ “ ان کی اپنی قساوت قلبی اور بدباطنی کی وجہ سے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے میں اگر ان کے فرمائشی معجزے پورے کردیئے جاتے تو انہوں نے ان کو بھی نہیں ماننا تھا تو پھر ان کا بھی انجام وہی ہوتا جو پہلی قوموں کا ہوچکا ہے کہ ان کو بھی اسی طرح ہلاک اور برباد کردیا جاتا جیسا کہ ان کو کیا گیا ہے۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) سو ایسے میں انکے فرمائشی معجزے نہ دکھانا خود ان کیلئے بہتری اور بھلے کی چیز ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ ہم تو برابر ان کی تخویف و تنبیہ کا انتظام کرتے ہیں مگر یہ ایسے بدبخت ہیں کہ سبق لینے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے اور بھی بگڑتے اور بہکتے جارہے ہیں۔ اور ان کی طغیانی اور سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور یہ آخرت کے اس عالم غیب و مشاہدہ کو دنیا کے اس عالم حضور و مجاہدہ پر قیاس کرکے ان غیبی حقائق کا مذاق اڑاتے ہیں جن سے ان کو بذریعہ وحی آگاہ و خبردار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں بھی کتنے ہی ایسے حقائق ہیں جو عام قاعدہ و ضابطہ کے خلاف ہیں۔ مثلا یہ کہ شترمرغ دہکتے انگارے کھاتا ہے مگر جلتا نہیں۔ اسی طرح سے ” مندیل “ نامی ایک چھوٹا سا جانور ہے جو بعض بلاد ترک میں پایا جاتا ہے۔ اس کی اون جب میلی ہوجاتی ہے تو اس کو آگ میں ڈالتے ہیں جس سے اس کی میل جل جاتی ہے اور باقی مندیل رہ جاتا ہے۔ یعنی ” رومال “۔ سو اس کی اون سے رومال بنائے جاتے ہیں اور اسی بناء پر ان کو ” مندیل “ کہا جاتا ہے۔ (مدارک التنزیل وغیرہ) جبکہ آخرت کے اس جہان غیب کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم سجدہ کرو آدم کے لئے، تو وہ سب سجدے میں گرپڑے بجز ابلیس کے (کہ اس نے سجدہ نہ کیا) ، کہنے لگا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے پیدا کیا ہے مٹی سے ؟

113۔ قصہ آدم کی تذکیر ویاد دہائی برائے عبرت پذیری :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور وہ بھی یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کیلئے سجدہ کرو۔ “ کیونکہ آدم و ابلیس کے اس قصے میں بھی تمہارے لئے یہ بڑا اہم اور بنیادی درس ہے کہ ابلیس لعین تمہارا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن ہے۔ پس اس کے دھوکے میں آکر کہیں تم راہ حق سے پھسل نہیں جانا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیزیہ کہ تکبر اور سرکشی ابلیس کا کام ہے نہ کہ کسی بنی آدم کا۔ اور یہ کہ اسی تکبر اور سرکشی کی بناء پر ابلیس ہمیشہ کیلئے مردود ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کی بجائے تمردو سرکشی سے کام لیتے ہیں وہ دراصل ابلیس لعین کے پیرو اور اس کے دام تزویر کے اسیر ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ 114۔ ابلیس کی متکبرانہ ابلیسی منطق اور اس کا انجام :۔ سو اس ملعون نے کہا کہ ” میں آدم کو سجدہ کیسے کروں جبکہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں “ جو کہ مٹی کے مقابلے میں افصل اور ایک جوہر لطیف ہے۔ اور آدم کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کیسے کروں ؟ سو یہ تھی اس لعین کی متکبرانہ ابلیسی منطق جو اس نے حضرت حق۔ جل مجدہ کی بارگاہ اقدس میں بگھاری۔ اور جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کیلئے مردود ومطرود ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ آج اپنے استکبار اور غرور وگھمنڈ کی بناء پر دعوت حق پر لبیک نہیں کہتے وہ دراصل اپنے اسی امام ابلیس کی پیروی کرتے اور اس کی منطق ابنائے ہیں اور اسطرح وہ خود اپنی محرومی کا سامان کرتے ہیں مگر ان کو اس کا شعور نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 17:62–65

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

مزید کہا کہ بھلا دیکھ تو سہی، یہ جس کو تو نے مجھ پر فوقیت دی ہے اگر تو نے مجھے مہلت دے دی قیامت کے دن تک، تو میں جڑ نکال کر رکھ دوں گا اس کی سب نسل کی، بجز تھوڑے سے لوگوں کے

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ جا (اور جو کچھ تجھ سے ہو سکے کر گزر، پر یاد رکھنا کہ) ان میں سے جو بھی کوئی تیرے پیچھے چلا، تو یقینی طور پر جہنم ہی بدلہ ہوگا تم سب کا پورا پورا بدلہ،1

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور پھسلا لے تو ان میں سے جس کو بھی پھسلا سکتا ہے، اپنی آواز (اور چیخ و پکار) سے،2 اور دوڑالے ان پر اپنے سوار اور پیادہ (لشکر) ، اور ساجھا کرلے تو ان کے ساتھ ان کے مالوں میں بھی،3 اور ان کی اولادوں میں، اور پھانستا جا ان کو اپنے (جھوٹے) وعدوں کے جال میں، اور شیطان کے وعدے کچھ نہیں ہوتے سوائے دھوکے کے سامان کے،4

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

(پر واضح رہے کہ) میرے خاص بندوں پر یقیناً تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا، اور کافی ہے تمہارا رب کارسازی کیلئے،

115۔ ابلیس کا چیلنج حضرت حق جل مجدہ کے حضور :۔ سو اس ملعون نے کہا کہ ” اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں جڑنکال دونگا اس کی سب نسل کی “ اور ان سب کو راہ حق سے پھسلا کر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑوں گا سوائے ان میں کے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے خود بھی ارشاد فرمایا ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین (الحجر : 42) کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بہکے بھٹکے ہوئے گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے اور انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتنا اور تیرے ساتھ دوزخ میں داخل ہونا ہے کہ یہی تقاضا ہے عدل وانصاف ومکافات عمل کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا رب ہی تو ہے جو تمہارے (طرح طرح کے فائدوں کے) لئے کشتیاں (اور جہاز) چلاتا ہے سمندر میں، تاکہ تم لوگ تلاش کرسکو اس کا فضل، (اور اس کی روزی) ، بیشک وہ تم پر بڑا ہی مہربان ہے

121۔ دلائل توحید و عظمت خداوندی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے قلب وضمیر اور عقل وفکر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لئے کشتیاں (اور طرح طرح کے جہاز) چلاتا ہے سمندر میں “۔ حالانکہ پانی کی طبیعت اور خاصیت یہ ہے کہ اس میں معمولی سا کنکر پتھر بھی اگر پھینکا جائے تو وہ ڈوب جاتا ہے مگر تمہارے فائدے کیلئے اس قادر مطلق نے اس کو تمہارے لئے ایسا مسخر کردیا کہ طرح طرح کی کشتیاں اور ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز اس پر اس سہولت اور آسانی سے تیرتے پھرتے ہیں اور تمہارے لئے طرح طرح کے فوائد اور قسما قسم کے منافع کا ذریعہ بنتے ہیں کہ انہی بحری ذرائع حمل ونقل سے تمہاری ضرورتوں کے سامان مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق اور شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال جاتے ہیں اور اسی سے تمہاری روزی کے بھی طرح طرح کے ذرائع و وسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سو اس سے تم لوگ یہ اندازہ کرسکتے ہو کہ تمہارا وہ رب کتنا مہربان، کس قدر قادر اور کیسی عظمت شان کا مالک ہے سبحانہ وتعالیٰ جس نے تمہاری طرح طرح کی ضرورتوں کی تکمیل اور ان کی بہم رسانی کا اس قدر پر حکمت طریقہ سے انتظام فرمایا ہے سبحانہ وتعالیٰ پھر اسی سے تم لوگ خود سوچو کہ اس کا تم پر کیا حق ہے ؟ اور اس کے اس حق کی ادائیگی کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب اس کی ان رحمتوں عنایتوں اور مظاہر قدرت کی تخلیق وابراز میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو صحیفہ کائنات میں ہر طرف پھیلے بکھرے قدرت کے یہ عظیم الشان مظاہر اس کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت اور اس کی توحید و وحدانیت وغیرہ صفات عالیہ کے کھلے اور واضح دلائل ہیں لیکن ان کے لئے جو صحیح طور پر غور فکر سے کام لیتے ہیں ورنہ جو حیوان بلکہ بدترین حیوان اور ” شرالبریہ “ بن جائیں گے ان کے لئے حق و ہدایت کے کسی درس کی کوئی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم لوگوں کو سمندر (کی ان ہولناک موجوں) میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو گم ہوجاتے ہیں (تمہارے وہ سب خود ساختہ حاجت روا و مشکل کشا) جن کو تم لوگ پکارا کرتے تھے، سوائے اس (معبود برحق) کے، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے، تو تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو، واقعی انسان بڑا ہی ناشکرا ہے

122۔ انسان کی فطرت میں دلیل توحید کا وجود :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جب تمہیں سمندر میں کوئی مصیبت اور مشکل پیش آتی ہے تو تم اسی وحدہ لاشریک کو پکارتے ہو “۔ اور کھوجاتے ہیں تم سے تمہارے تمام وہ خود ساختہ معبود جن کو تم لوگ پکارتے ہو آگے پیچھے اور یسر و آسانی کے حالات میں۔ مگر تنگی کے اور مصیبت کے ایسے وقت میں تم ان سب کو بھول جاتے ہو سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے اور تمہارے یہ خود ساختہ معبود خواہ لکڑی پتھر وغیرہ کے بت ہوں یا کوئی جن اور فرشتہ یا کوئی زندہ و مردہ انسان۔ (المراغی، الفتح وغیرہ) مگر افسوس کہ آج کا کلمہ گو اس وقت بھی اللہ کے سوا اس کی عاجز اور بےبس مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے۔ چناچہ وہ کہتا ہے ” بہاء الحق بیڑا دھک “ ،” خواجہ اجمیری پارلگا دے کشتی میری “ ،” یا پیردستگیر “ وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کا کلمہ گو مشرک کل کے اس کھلے مشرک سے بھی اپنے شرک میں کس قدر سخت اور کتنا پکا ہے کہ وہ ایسے مشکل مواقع میں اس طرح کے تمام سہاروں کو بھول کر اور ان کو پس پشت ڈال کر اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتا ہے تھا جو کہ مالک حقیقی اور کارساز مطل ہے۔ جیسا کہ حضرت عکرمہ کا واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ اپنے زمانہ کفر و شرک میں مکرمہ مکرمہ سے بھاگ کر حبشہ کی طرف جارہے تھے تو دوران سفر ان کا جہاز طوفان میں گھر گیا۔ تو اس وقت انہوں نے دیکھا کہ جہاز میں سوار سب ہی مشرک اپنی تمام معبودان باطلہ کو بھول کر اور ان کو پس پشت ڈال کر اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارنے لگے تو اسی وقت یہ بات حضرت عکرمہ کے دل میں بیٹھ گئی کہ جو خدا اس مشکل وقت میں کام آنے والا ہے اور جس کو یہ سب لوگ ایسے وقت میں پکار رہے ہیں وہی ہے معبود برحق۔ باقی سب جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ اس پر انہوں نے یہ ٹھان لی کہ اگر ہم اس طوفان سے بچ کر نکل گئے تو آئندہ اس خداوند قدوس پر ضرور ایمان لے آئیں گے جس پر ایمان لانے کی دعوت اسلام دے رہا ہے۔ چناچہ اسی کے مطابق بعد میں یہ ایمان لا کر اسلام کے حظیرہ قدس میں داخل ہوگئے۔ مگر افسوس کہ اس کے برعکس آج کا یہ مشرک ایسے مواقع پر بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو اور ان ہستیوں کو پکارتا ہے جو کہ خود اپنے آپ کو بھی موت سے نہ بچا سکیں اور وہ خود اپنی موت آپ مرگئیں۔ فالی اللہ المشتکی وھو المنعان۔ 123۔ انسان کی ناشکری اور بےانصافی کا ایک نمونہ ومظہر :۔ کہ اللہ تعالیٰ جب اس طوفان سے بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یہ اس کو بھول کر پھر شرک میں لگ جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” مگر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑلیتے ہو “۔ اور پوری ڈھٹائی سے کہنے لگتے ہو کہ مجھے تو فلاں آستانے یا فلاں ہستی نے بچایا ہے۔ پھر اس کیلئے ایسے مشرک لوگ بکرے کاٹتے، دیگیں پکاتے، پھیرے لگانے لگے ہیں اور ان کی خوشنودی کیلئے چادریں چڑھانے اور ڈالیاں پیش کرنے کے چکروں میں لگ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس بات کو بھی بھول جاتے ہیں کہ ان کو پھر کبھی سمندر جانے اور ایسے مصائب میں پھنسنے کا موقع آسکتا ہے۔ جیسا کہ اگلی آیت کریمہ میں اس کی یاد دہانی فرمائی گئی ہے۔ سو یہ انسان اور ایسے مشرک انسان کی بےانصافی اور ناشکری کا ایک کھلا مظہر اور نمونہ ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سوسچ اور حق فرمایا حضرت حق جل مجدہ نے کہ ” انسان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے “ ان الانسان لربہ لکنود۔ 124۔ واقعی انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ والعیاذ باللہ :۔ جو ایسے ایسے عظیم الشان اور کھلے احسانات پر بھی اپنے اس منعم حقیقی کو بھول کر اور اس سے منہ موڑ کر ایسے فرضی اور وہمی سہاروں کی طرف لوٹتا، ان کے آگے جھکتا اور اس طرح اپنی تحقیر و تذلیل کا سامان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور پھر اسی سے تم لوگ اپنے رب کے اس کرم واحسان کا بھی اندازہ کرلو کہ وہ کتنا مہربان اور کسی قدر کرم واحسان والا ہے کہ تمہاری طرف سے اس قدر ناشکری اور احسان فراموشی کے باوجود وہ تمہیں ڈھیل دئیے ہوئے ہے۔ نہ تمہیں فوری پکڑتا ہے نہ تمہارا دانہ پانی بند کرتا ہے اور نہ تمہاری زندگی ختم کرتا ہے۔ سو یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہوسکتی ہے اور بس، سبحانہ وتعالیٰ واقعی انسان بڑا ہی بےقدر اور ناشکرا ہے جو اپنے خالق ومالک کی شان کرم واحسان کے یہ سب مظاہر دیکھتا ہے لیکن پھر بھی اس سے منہ موڑ کر ناشکری کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

اچھا تو کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے ہو اس بات سے کہ وہ کبھی تم کو خشکی کی جانب ہی زمین میں دھنسا دے یا وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی کوئی آندھی، پھر تم نہ پاسکو اپنے لئے کوئی کار ساز

125۔ خدا کے عذاب سے کبھی بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے :۔ کیونکہ اس کا عذاب کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” تو کیا تم لوگ اس بات سے نڈر اور بےخوف ہوگئے کہ وہ تمہیں زمین ہی میں کہیں دھنسادے “ جیسا کہ اس نے قارون اور اس کے لاؤولشکر کے ساتھ کیا کہ اس کو اپنے لاؤ لشکر اور سازوسامان سمیت زمین میں دھنسا کر ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر کردیا۔ اور اس کے اس انجام کو رہتی دنیا تک کیلئے نشان عبرت بنادیا۔ اور جیسا کہ زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں، زمینی تودوں (Land Slidis) کے گرنے کے ذریعے آج تک جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سوسمندر کی موجوں سے نکل آنے کے بعد تم لوگ کہیں اس کی دسترس اور اس کی گرفت وپکڑ کے دائرے سے باہر نہیں ہوگئے کلہ اب تم نچنت اور بےفکر ہو کر بیٹھ جاؤ۔ وہ تمہیں کہیں بھی اور کسی بھی طرح پکڑ سکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے کبھی بھی بےفکر اور بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔ 126۔ اللہ کا عذاب پتھر برسانے والی ہوا کی شکل میں بھی آسکتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” کیا تم لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی کوئی ہولناک آندھی “۔ جیسا کہ قوم عاد اور قوم لوط وغیرہ سے کیا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور آج تک اس کے نمونے جابجا اور طرح طرح سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ سو کتنے کتنے ملکوں اور شہروں میں ایسے ہولناک طوفان آتے اور جھکڑ چلتے ہیں کہ پتھر تو پتھر رہے وہ بڑے بڑے درختوں کو اٹھا اٹھا کر پھینکتے اور جگہ جگہ دے مارتے ہیں۔ چناچہ کچھ ہی عرصہ قبل ہندوستانی ریاست اڑیسہ میں ایک ایسا ہولناک سمندری طوفان آیا کہ اس نے تھوڑی سی دیر میں کتنے بڑے علاقے کو ملیامیٹ کردیا۔ اور صدیوں سے رہتے بستے لوگوں کو آنافانا صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ اور اس سے کچھ ہی عرصہ قبل امریکی ریاست شکاگو میں اسی طرح کا ایک ایسا ہولناک طوفان آیا کہ اس نے گاڑیوں کو اٹھا اٹھا کر ستر ستر منزل بلڈنگوں پردے مارا وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس طرح کا کوئی بھی ہولناک عذاب کبھی بھی آسکتا ہے۔ تو پھر اس قادر مطلق کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے بےفکری اور بےخوفی کس طرح روا ہوگئی ہے۔ ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے اس سے کہ وہ کبھی تم کو پھر لے جائے سمندر میں، اور تم پر کوئی سخت طوفانی ہوا بھیج کر تم سب کو اس میں غرق کر دے، تمہارے کفر (و ناشکری) کی پاداش میں، پھر تم نہ پاسکو اپنے لئے ہم سے کوئی پوچھنے والا،

127۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ :۔ کہ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلی وبالا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر تم نہ پاس کو اپنے لئے ہمارے خلاف کوئی پوچھنے والا “۔ جو ہمارا پیچھا کرکے تمہارے لئے کسی بدلے کا مطالبہ کرسکے اور ہم سے کوئی باز پرس کرسکے۔ یعنی ان قسما قسم عذابوں میں سے کوئی بھی عذاب تم پر کبھی بھی اور کہیں بھی آسکتا ہے تو پھر اس قادر مطلق کی گرفت اور پکڑ سے بےفکری اور بےخوفی آخر کس طرح روا ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کی گرفت وپکڑ سے بےفکری اور لاپرواہی بڑے ہی ہولناک خسارے کا پیش خیمہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف وہ اس طرح کے کسی بھی عذاب کے ذریعے تمہیں تہس نہس کرسکتا ہے اور ایسے میں نہ کوئی تمہارا وکیل و کارساز ہوسکتا ہے اور نہی ہی کوئی ایسا حامی اور مددگار جو ہم سے اس بارے میں کوئی باز پرس کرسکے۔ تو پھر تم لوگ اس طرح کے کسی بھی عذاب سے نچنت اور بےفکر کیسے ہوسکتے ہو ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 17:70–71

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے عزت بخشی بنی آدم کو، اور ان کو طرح طرح کی سواریوں سے نوازا خشکی میں بھی اور تری میں بھی اور ہم نے ان کو روزی کا سامان کیا طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے، اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر طرح طرح کی فضیلت (و بزرگی) بخشی،1

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

(اور یاد کرو اس ہولناک دن کو کہ) جس دن ہم بلائیں گے لوگوں کے ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ پھر جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ (خوش ہو ہو کر) اپنے نامہ اعمال کو پڑھیں گے، اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہوگا،2

128۔ بنی آدم کی تکریم و تفضیل اور اس کے مقتضی کی تذکیر ویاد و دہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے بنی آدم کو تعظیم و تکریم سے نوازا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت و بزرگی بخشی “۔ ان کو حسن صورت اور عمدہ قامت کے علاوہ عقل کا وہ عظیم جوہر بخش کر جس سے ان کو اس پوری مخلوق پر فوقیت اور غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور ان کو مخدوم ومطاع بنا کر دوسری تمام مخلوق کو ان کے کام اور اس کی خدمت میں لگادیا۔ پھر تم لوگ سوچو کہ یہ کتنا بڑا احسان ہے تمہارے خالق اور مالک کا تم پر۔ اور اس کی بناء پر کیا حق بنتا ہے اس کا تم لوگوں پر۔ پھر کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے کہ یہ انسان اپنے اسی خالق ومالک کو بھول جائے اور اس سے منہ موڑ لے۔ اور اس سے بڑھ کر ظلم یہ کہ یہ اپنے اس خالق ومالک کو بھول کر اور اس سے منہ موڑ کر اپنے ہی جیسے کسی دوسرے انسان یا اس سے بھی کسی کمتر مخلوق کے آگے جھک جائے اور اس کیلئے مراسم عبودیت و بندگی ادا کرنے لگے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے انسان کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی گئی ہے کہ جس خالق ومالک نے اس کو ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کو خاص تعظیم و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ خشکی اور تری دونوں میں اس کیلئے سواری کا انتظام فرمایا۔ اس کو پاکیزہ چیزوں سے روزی بخشی۔ اور اس کو اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت و بزرگی عطا کی، تو اس کے ذمہ یہ فرض بنتا ہے کہ یہ اس واہب مطلق کی ان عظیم الشان نعمتوں کا حق پہچانے ،۔ اور دل وجان سے اس کے آگے جھک جائے۔ اور نعمتوں کی بناء پر اکڑنے کے ابلیسی طریقہ سے بچے۔ ورنہ اس کا بھی وہی حشر ہوگا جو اس ملعون کا ہوچکا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے ذکر وشکر سے سرفراز رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو کوئی اندھا بن کر رہا ہوگا، اس (دنیا کی زندگی) میں تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گمراہ،

131۔ نورحق و ہدایت سے منہ موڑنے والے اندھے اور اوندھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جو کوئی اندھا بن کر رہا ہوگا دنیا میں “ حق کے دیکھنے اور اس کے ماننے اور قبول کرنے سے اور اس نے اپنی زندگی کی پونجی اپنے پیٹ کو بھرنے اور خواہشات نفس کی تکمیل ہی میں صرف کردی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو انسانیت کے منصب شرف و امتیاز سے گرا کر حیوانیت کے قعر مذلت میں ڈال دیا ہوگا۔ جس کے نتیجہ میں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگیا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے اندھے اور اوندھے ہیں اگرچہ وہ چاند پر کمندیں ڈالنے والے ہوں۔ کیونکہ وہ نہ اپنے انجام اور حقیقی منزل سے آگاہ ہیں اور نہ ان کو اپنے مقصد زندگی کا پتہ اور نہ راہ حق و ہدایت سے کوئی آگہی۔ سو ایسے بدنصیب اور محروم لوگ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوان محض بلکہ بدترین حیوان اور ” شرالبریہ “ بن کر رہ جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 132۔ نورحق و ہدایت سے محروموں کیلئے دنیا وآخرت کی دائمی محرومی ،۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ نور حق و ہدایت سے محروم ایسا بدبخت انسان آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا۔ سو وہ محروم رہے گا راہ جنت اور شرف نجات سے کہ ایسوں کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا طبعی اور لازمی نتیجہ یہی تھا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” وما الثمر الا بحسب الشجر “ یعنی پھل ویسے ہی ملے گا جیسا کہ درخت ہوگا۔ سو دنیا کی اس کھیتی میں انہوں نے جو کاشت کی ہوگی اسی کا پھل ان کو وہاں اس صورت میں ملے گا۔ والعیاذ باللہ پس جو لوگ ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں اور وہ آخرت کو بھول کر صرف دنیا ہی کیلئے جی رہے ہیں وہ یقینا اندھے اوندھے اور پرلے درجے کے محروم ہیں اگرچہ دنیاوی اعتبار سے وہ کتنے ہی تیز کیوں نہ ہوں اور دنیا ان کو کیا کچھ کہتی اور مانتی کیوں نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اصحاب الیمین کے بالمقابل اصحاب الشمال کا حال اور ان کا انجام ومآل بیان فرما دیا گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان اپنے ارادہ واختیار سے راہ حق وصواب کو اپنائے۔ 133۔ منکرین و مکذبین کی آخرت کی محرومی و بدحالی بدرجہا زیادہ ہوگی :۔ سو اس روز ان کی یہ محرومی اتنی بڑی اور اس قدر ہولناک ہوگی کہ اس کے بیان کا احاطہ و ادراک بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ سو فرمایا گیا کہ اس سے بھی کہیں زیادہ گمراہ ہوں گے۔ کیونکہ اس کے بعد ایسوں کیلئے راہ نجات اور دولت ہدایت پانے کا سرے سے کوئی موقع اور کوئی امکان ہی نہیں ہوگا۔۔ والعیاذ باللہ۔ حیات دنیا کی جو فرصت محدود انکو ملی تھی وہ ان کے ہاتھ سے جا چکی ہوگئی۔ روح ان سے نکل چکی ہوگی۔ اب جو کچھ دنیا میں کمایا تھا وہ ہی ان کا سرمایہ ہوگا۔ خیر ہوگا تو بھی اور شر ہوگا تو بھی۔ اب ایسے کسی شخص کیلئے نہ کسی نیکی کے اضافے کا کوئی موقعہ اور نہ توبہ واستغفار وغیرہ سے کسی گناہ کے مٹانے اور معاف کرانے کی کوئی گنجائش۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے ان بدبخت اور محروم لوگوں کی اپنی اصل اور حقیقی منزل سے جو دوری آج ہے اس روز ان کی یہ دوری اس کی نسبت کہیں زیادہ ہوگی کہ آخرت کے اس جہان غیب کے ظہور وبروز کے بعد ان کیلئے صراط مستقیم کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔ اس آیت کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ اصحاب شمال کی وہ محرومی ان کے اپنے عمل و کردار کی بناء پر ہوگی کہ وہ دنیا میں اندھے بن کر رہے تھے۔ اس لیے اس روز اندھے ہی اٹھیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کے مقابلے میں اصحاب الیمین کی یہ سعادت مندی اور سرفرازی ان کے اپنے عمل و کردار کی بناء پر ہوگی کہ انہوں نے نور حق و ہدایت سے سرفرازی کیلئے اپنی آنکھوں کو کھلا رکھا۔ اور راہ حق کو روشن کرنے کیلئے قدرت کی قائم فرمودہ ایک ایک نشانی کو انہوں نے صحیح طور پر دیکھا اور اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ اور اس طرح وہ سعادت دارین سے سرفراز و سرخرو ہوئے، والحمد للہ جل وعلا۔