17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

(رہی دنیا تو اس میں) ہم (اپنی پروردگاری اور بخشش سے) ہر فریق کو مدد دئیے جا رہے ہیں، ان کو بھی اور ان کو بھی، اور تمہارے رب کی بخشش (ان دونوں میں سے کسی فریق پر بھی) بند نہیں،

42۔ اللہ تعالیٰ کی دنیاوی عطاو بخشش سب کے لئے عام :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ” تمہارے رب کی دنیاوی عطاء وبخشش سب ہی کیلئے ہے “۔ یعنی ایمان والوں کو بھی اور کفر والوں کو بھی۔ فرماں برداروں کو بھی اور نافرمانوں کو بھی، اطاعت شعاروں کو بھی اور باغیوں اور سرکشوں کو بھی۔ کہ دنیا دے اس دار فانی کے دارالامتحان ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ دنیا کے اس دار غرور میں دنیائے فانی کے متاع قلیل کا حصہ ہر کسی کو اس کی محنت و مشقت کے مطابق ملتا رہے۔ کہ وہ رب غفور و رحیم سب ہی کا خالق ومالک اور رب العالمین ہے۔ اور اس کی ربوبیت عامہ کا تقاضہ یہی ہے کہ ضروریات زندگی مومن و کافر سب ہی کو ملتی اور برابر ملتی رہیں۔ سو زمین کا فرش اور آسمان کی چھت سب کیلئے۔ ہوا و پانی سب کیلئے۔ سورج کی گرمی اور چاند کی روشنی سب ہی کیلئے ہے۔ تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنی ضروریات زندگی سے فائدہ اٹھائے اور اس پر حجت قائم ہوجائے۔ سو دنیاوی نعمتوں کا اصل دارومدار چونکہ انعام و اکرام پر نہیں بلکہ اس کی اصل بنیاد ابتلاء و آزمائش پر ہے۔ اس لیے یہ مومن و کافر سب کیلئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ جبکہ دارآخرت کی نعمتوں کی اصل اساس و بنیاد انعام و اکرام پر ہے۔ اس لیے وہ اہل ایمان وتقوی ہی کیلئے ہونگی۔ جیسا دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (قل ھی للذین امنو فی الحیوۃ الدنیاخالصۃ یوم القیامۃ) ۔ (الاعراف : 32) ۔ اللہ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 43۔ رب کی عطا و بخشش کسی کیلئے بند نہیں :۔ سوارشادفرما گیا ” تمہارے رب کی عطاء و بخشش کسی پر بھی بند نہیں “ چناچہ یہاں پر کافر بھی حصہ پارہا ہے اور مومن بھی۔ عاصی بھی بہرہ ور ہو رہا ہے اور مطیع بھی۔ کیونکہ ایک تو یہ دنیا حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ اور جب اس دنیا کی ساری دولت کی حیثیت بھی آخرت کے مقابلے میں پرکاہ کے برابر بھی نہیں تو پھر اس میں سے اگر کچھ کروڑ یا کچھ ارب یا کچھ کھرب بھی کسی کو مل گئے تو بھی اسے کیا ملا ؟ اور اس کی آخرت کے مقابلے میں کیا حیثیت ہوسکتی ہے۔ پھر یہ فیصلہ آخرت کے اس جہاں میں ہوگا جہاں آخرت سے منہ موڑ کر زندگی بسر کرنے والے ایسے طالبان دنیا کیلئے عذاب جحیم اور ہمیشہ کا خسارہ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور طالبان آخرت کیلئے جنت کی نعیم مقیم اور وہاں کی حقیقی اور ابدی سعادت سے سرفرازی اور بہرمندی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی عطاء تو کسی کیلئے بند نہیں سب کے لئے عام ہے لیکن آگے لوگ ہر دو قسم پر ہیں۔ ایک وہ جو صرف دنیا ہی چاہتے ہیں اور بس۔ سو ایسوں کے دنیا میں سے جو کچھ ملنا ہوا مل جائے گا لیکن آخرت میں ان کیلئے دوزخ کی آتش سوزاں کے سوا کچھ نہیں انکے اپنے ارادہ واختیار کی بناء پر۔ اور دوسری قسم ان خوش نصیب لوگوں کی ہے جو آخرت کی سچی اور حقیقی طلب اور تڑپ رکھتے ہیں۔ سو ایسوں کو بقدر کفایت دنیا بھی ملے گی اور پھر ان کو آخرت کے اس ابدی جہاں اور وہاں کی حقیقی زندگی میں سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی بھی نصیب ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو (دنیا میں) ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت تو یقیناً اپنے درجات کے اعتبار سے بھی اس سے کہیں بڑی ہے، اور اس کی فضیلت بھی اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہوگی،2

44۔ دنیا میں لوگوں کیلئے ایک دوسرے پر فضیلت و فوقیت :۔ سو دنیا میں بعض کو بعض پر فوقیت و فضیلت بخشی گئی اور اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ کوئی غریب تر۔ اور کوئی امر۔ کوئی امیر تر۔ کوئی محروم۔ اور کوئی محروم تر وغیرہ وغیرہ۔ سو انسان قادر مطلق اور مختیار کل نہیں کہ جو چاہے کرے۔ ہم جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ اور جیسے چاہتے ہیں ویسے ہی ہوتا ہے۔ اور ہماری یہ مشیت نہایت حکمت اور رحمت و عنایت پر مبنی ہوتی ہے۔ سو اس تفاوت درجات سے تمہارے درمیان باہمی روابط و تعاون کی طرح طرح کی صورتیں نکلتی ہیں۔ اور تم ایک دوسرے کے کام آتے اور کام لیتے ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات الیتخذ بعضہم بعضاسخریا) ۔ (الزخروف : 32) نیز اس میں تمہارے لیے یہ درس عظیم بھی ہے کہ تم خود مختیار نہیں ہو بلکہ تم میں سے ہر کوئی ان حدود وقیود میں جکڑا اور بندھا ہوا ہے جس میں ہم نے اس کو پابند کیا ہے۔ پس تم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی ان خلقی حدود اور فطری قیود کو بدل سکے اور ان کے حصار سے نکل سکے۔ نہ کوئی اپنے پیدائشی رنگ کو بدل سکتا ہے نہ اپنے قد کو چھوٹا یا بڑا کرسکتا ہے نہ اپنے اعضاء وجوارح کو گھٹایا بڑھا سکتا ہے اور نہ ہی اپنی عمر اور اس کے مختلف مراحل میں سے کسی مرحلے کی مدت کو کم یا زیادہ کرسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تو پھر کتنے احمق ہیں وہ لوگ جن کے دماغوں میں یہ ہوا بھر جاتی ہے کہ ہم سب کچھ کرسکتے ہیں اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے بھٹک کر کہیں سے کہیں جاپہنچتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 45۔ اور آخرت کے درجات تو یقینا اس سے کہیں بڑھ کر ہوں گے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ مؤکد کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کے درجات اس سے کہیں بڑھ کر مختلف ہوں گے کہ اس کی نعمتیں حقیقی بھی ہیں اور دائمی وابدی بھی۔ اور وہاں پر حضرت حق۔ جل مجدہ۔ نے اپنے بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کس دل پر اس کا گزر ہی ہوا۔ اللہ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے۔ آمین۔ پس اصل چیز آخرت کے ان درجات و مراتب ہی کو اپنے پیش نظر رکھنا اور انہی کے حصول کیلئے فکر و کوشش کرنا ہے نہ کہ دنیائے فانی کے متاع فانی اور حطام زائل کیلئے۔ سو یہی عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے اور یہی دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا مفاد و مدعا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
Ayahs 17:22–24

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنانا کہ اس کے نتیجے میں تمہیں بیٹھنا پڑے بد حال اور بےیارو مددگار ہو کر،

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارا رب یہ فیصلہ کرچکا کہ تم نے بندگی نہیں کرنی مگر اسی کی، اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے،3 اگر تمہارے سامنے ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائے، یا دونوں، تو تم انھیں اف بھی نہ کہنا، اور انھیں جھڑکنا بھی نہیں، اور ان سے بات بھی پورے احترام سے کرنا،

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور جھکائے رکھنا اس کے سامنے عاجزی کے بازو و نیازمندی کی بناء پر، اور (ان کے حق میں) یہ دعاء بھی کرتے رہنا کہ اے میرے رب، رحم فرما ان دونوں پر، جیسا کہ انہوں نے مجھے پالا پوسا بچپن میں،

46۔ فوز آخرت سے سرفرازی کی اساس عقیدہ توحید :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور (خبردار ! ) اللہ کے ساتھ کوئی معبود کبھی نہ بنانا “ کیونکہ معبود برحق اور کارساز حقیقی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اس سے جب منہ موڑ لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو پھر بدحالی اور بیکسی کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو جس کسی نے بھی اسکے ساتھ کوئی اور فرضی اور خود ساختہ معبود ٹھہرا لیا اس نے بڑے ہی سنگین اور ہولناک جرم کا ارتکاب کیا۔۔ والعیاذ باللہ۔ سو قرآن کریم جس طریق اقوام اور صراط مسقیم کی دعوت دینا ہے اس کی اولین اساس اور بنیادی دفعہ یہ ہے کہ خداوند قدوس کے ساتھ اور کسی کو بھی شریک اور معبود نہ ٹھہرایا جائے۔ اور جب خالق ومالک حاکم و متصرف اور رازق وہی وحدہ لاشریک ہے تو پھر اس کے حقوق واختیار میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا بڑا ظلم ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں شرک کو صریح طور پر اور تاکیدی الفاظ کے ساتھ ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (ان الشرک لظلم عظیم) القمان : 13)
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

تمہارا رب جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ تمہارے دلوں کے اندر (موجود) ہے، اگر تم نیک کردار ہوئے تو (بتقاضائے بشریت سرزد ہوجانے والی کسی ناشدنی سے مایوس نہیں ہوجانا کہ) بیشک وہ سچی توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا ہی بخشنے والا ہے

52۔ سچی توبہ کرنے والوں کیلئے بخشش کا مژدہ جانفزا :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک تمہارا رب سچی توبہ کرنے والوں کیلئے بڑا ہی بخشنے والا ہے “ سو گناہ جتنے اور جیسے بھی ہوں سچی توبہ پر وہ اپنے کرم سے سب بخش دے گا۔ پس راستہ صحیح ہو اور نیت درست ہو تو پھر اس کی طرف سے رحمت و عنایت اور مغفرت وبخشش ہی کی توقع رکھی جائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں صدق دل سے اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ پس معیصت و سرکشی کی راہ کو ترک کر کے توبہ وانابت الی اللہ کی راہ کو اپنانے والوں کیلئے رحمت ہی رحمت ہے۔ سو جو صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے رہیں گے اور اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے رہیں گے اللہ ان کو معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی غفور اور رحیم ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ بس توبہ صحیح معنوں میں توبہ ہونی چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویدید
Ayahs 17:26–28

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ دار کو اس کا حق دے دیا کرو، اور مسکین اور مسافر کو بھی، پر بےجا خرچ نہیں کرنا،

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ بےجا خرچ کرنے والے یقینی طور پر شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے،

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر کبھی تمہیں ان (اہل حقوق) سے پہلو تہی کرنا پڑے، اپنے رب کی کسی ایسی رحمت کی تلاش میں جس کی تمہیں امید ہو، تو تم ان سے نرم (اور آسان) بات کہہ دیا کرو،1

53۔ بےجا خرچ کرنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور بےجا خرچ نہیں کرنا “۔ یعنی مال کو اس کی معصیت و نافرمانی میں نہیں صرف کرنا کہ یہ اسراف ہے جبکہ نیکی میں جتنا بھی خرچ کیا جائے وہ اسراف نہیں۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تبذیر واسراف ناحق میں خرچ کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی سارا مال بھی راہ حق میں خرچ کرلے تو اسراف نہیں کہلائے گا۔ اور اگر غیر حق میں ایک مد بھی خرچ کرے گا تو وہ اسراف اور تبذیر کہلائے گا۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینے کی تعلیم و تلقین کے ساتھ اس کی بھی ہدایت فرما دی گئی کہ مال کا بےجا مت خرچ کرنا۔ اور فرمایا گیا کہ اسراف و فضول خرچی سے کام لینے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اسراف اور تبذیر سے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے آمین ثم آمین
Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور نہ تو تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ رکھو، اور نہ ہی اسے اس طرح پورا کھول دو کہ اس کے نتیجے میں تم الزام خوردہ اور تنگ دست ہو کر رہ جاؤ،2

55۔ بخل اور کنجوسی سے ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ کر نہیں رکھنا “۔ یعنی ایسے بخیل اور کنجوس نہیں بن جانا کہ ضروری امور میں بھی خرچ نہ کرو۔ کہ ضرورت مند اور سائل کو کچھ بھی نہ دو کہ ایسا کرنا برا اور مکارم اخلاق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ نہایت خست ودناءت کی نشانی ہے جو کہ مومن صادق کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ مومن صادق مکارم اخلاق کا اعلی اور عمدہ نمونہ ہوتا ہے اور انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے مکارم اخلاق ہی سے ہے۔ جتنے کسی کے اخلاق صحیح اور اونچے ہوں گے اتنا ہی انسان اونچا اور سر بلند ہوگا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ 56۔ فضول خرچی سے ممانعت اور توسط واعتدال کی تعلیم و تلقین :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور نہ ہی اپنے ہاتھ کو پورے کا پورا کھول دینا “۔ اور یہ تعبیر ہے فضول خرچی کی پس ارشاد فرمایا گیا کہ تم ایسا نہیں کرنا کہ ایسا کرنا فضول خرچی کے زمرے میں آتا ہے۔ پس اس قدر اسراف اور فضول خرچی سے بھی کام نہیں لینا کہ خالی ہاتھ اور تنگدست ہو کر رہ جائے۔ بلکہ تو سط اور اعتدال کی راہ کو اپنایا کرو۔ پس نہ کنجوس اور بخیل بن جائے اور نہ ہی مسرف اور فضول خرچ۔ بلکہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان توسط واعتدال کی راہ کو اپناؤ۔ اور اسی کو اپنا شعار بناؤ۔ وباللہ التوفیق۔ پس اپنی جائز ضروریات میں بھی خرچ کرو اور دوسروں کے حقوق بھی ادا کرو۔ اور اعتدال و کفایت شعاری کی روش کو اپناؤ۔ کہ یہی تقاضا ہے عقل ونقل دونوں کا اور یہی راہ ہے صحت و سلامتی کی۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بیشک تمہارا رب روزی کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے، اور تنگ فرماتا ہے (جس کے لئے چاہتا ہے) ، بیشک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر بھی ہے، اور سب کچھ دیکھتا (سنتا) بھی،3

57۔ روزی کی تنگی و کشادگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :۔ سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب روزی کشادہ کرتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر بھی ہے۔ اور سب کچھ دیکھتا جانتا بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے حالات سے پوری طرح باخبر بھی ہے اور ان کو سنتا دیکھتا بھی ہے اور اس کا ہر حکم و فیصلہ حق وصدق اور اس کے بندوں کے لئے ہر لحاظ سے بہتر ہوتا ہے سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اسی کے حکم کی پابندی کرو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔ وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا تنگ دستی کے خوف سے، کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں ان کو بھی، اور تم کو بھی، بلاشبہ (بےگناہوں) کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے

58۔ ہر کسی کی روزی اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” روزی سب کو ہم ہی دیتے ہیں ان کو بھی اور تم کو بھی “ کہ روزی رساں سب کے ہم ہی ہیں۔ اور جب روزی سب کی ہمارے ذمے ہے تو پھر تمہارے لئے اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے قتل کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے ؟ پس تم لوگ اپنی جہالت کی بناء پر اور شیطان کی اکساہٹ کے نتیجے میں کبھی بھی اپنی اولاد کے قتل کرنے کی اس ہولناک اور وحشیانہ جرم کا ارتکاب نہ کرنا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ بچوں کو خود قتل کرنا اور اس قسم کے ادہام کی بنا پر قتل کرنا بڑا ہی وحشیانہ اور سنگدلانہ فعل اور ہولناک گناہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور (خبردار ! ) زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا بیشک وہ ایک بڑی بےحیائی اور بہت ہی بری راہ ہے،4

59۔ زنا کے قریب پھٹکنے کی بھی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور (خبردار) کبھی زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کہ یہ بڑی سخت بےحیائی اور کھلی برائی ہے “ پس تم لوگ ان اسباب و وسائل اور دواعی محرکات سے بھی بچنا اور دور رہنا جو زنا کے اس سنگین جرم کا ذریعہ بن سکتے ہیں والعیاذ باللہ۔ جیسا کہ غیرمحرموں سے آزادنہ میل جول رکھنا۔ اجنبی عورتوں کو دیکھنا ایسی کسی عورت کو ہاتھ لگانا یا تنہائی میں اس کے پاس بیٹھنا اور آمد و روفت رکھنا وغیرہ وغیرہ کہ یہ سب ہی امور ممنوع اور اس بےحیائی میں مبتلا کرنے والے میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس حکم وارشاد کے مخاطب افراد بھی ہیں اور پورا معاشرہ اور حکومت کے ذمہ دار لوگ بھی۔ اس لیے ان کی حسب مراتب و درجات یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر اس سوراخ کو بند کردیں جس سے یہ ناسور پھوٹ سکتا ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے، آمین ثم آمین ـ۔ 60۔ زنا کاری کھلی بےحیائی اور بہت بری راہ ہے۔ والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ بڑی بےحیائی اور بہت بری راہ ہے “۔ کہ اس سے نسب خراب ہوتے ہیں۔ عزتیں تباہ ہوتی ہیں۔ قتل و خونریزیاں ہوتی ہیں۔ امن برباد ہوتا اور آبادیاں اجرتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور حدیث صحیح میں وارد ہے کہ بنی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک شرک کے بعد اس سے بڑھ کر اور کوئی گناہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اپنا نطفہ کسی ایسے رحم میں رکھے جو اس کے لیے حلال نہ ہو (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ سو زنا ایسی مہلک اور ہولناک برائی ہے جو صالح معاشرے کی جڑ بنیاد کو کاٹ کر رکھ دینے والی ہے۔ کیونکہ صالح معاشرے کی اساس و بنیاد صالح خاندان پر ہے۔ اور صالح خاندان کی صحیح فطری جذبات کے ساتھ صرف اسی صورت میں وجود پذیر ہوسکتا ہے جبکہ والدین کے ساتھ اولاد کا تعلق صحیح خون، صحیح نسب اور پاکیزہ رحمی رشتہ پر استوار ہو۔ اگر یہ یز مفقود ہوجائے تو پھر وہ خاندان انسانوں کا خاندان نہیں بلکہ فطرتی اور روحانی عواطف سے عاری و محروم حیوانات کا ایک گلہ بن جاتا ہے۔ بلکہ اس بھی گر کو وہ ” شرالبریہ “ یعنی بدترین مخلوق کا ایک درندہ صفت انبوہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پھر کسی صالح معاشرے کے قیام ووجود کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور قتل نہیں کرنا کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرام کر رکھا ہو، مگر حق کے ساتھ، اور جس کو قتل کیا گیا ظلم (و زیادتی) کے ساتھ، تو اس کے وارث کو ہم نے ایک بڑا زور (اور غلبہ) دیا ہے، پس وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، یقیناً اس کی مدد کی جائے گی

61۔ قتل ناحق کی ممانعت :۔ سو فرمایا گیا ” اور قتل نہ کرنا کسی حرمت والی جان کو مگر حق کے ساتھ قتل کرنے کی صحیح حدیث کے مطابق بنیادی طور پر صورتیں ہیں۔ احصان کے بعد زنا کرنا۔ یا ناحق کسی کو قتل کرنا یا مرتد ہوجانا۔ والعیاذ باللہ۔ یعنی اگر کسی نے جریمہ زنا کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ وہ محصن ہو تو اس کو سنگسار کیا جائے یا اگر کسی نے کسی حرمت والی جان کو قتل کیا تو اس کے بدلے میں اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ یا اگر کوئی دین حق سے پھر گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس کے نتیجے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ کہ اسیے میں اس شخص کی جان محترم نہیں رہتی مباح الدم ہوجاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے کسی سبب کے بغیر کسی جان کو قتل کرنا ان بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے جن کو لسان نبوت کے فرمان حق ترجمان میں سبع موبقات یعنی سات تباہ کن گناہوں میں سے قرار دیا گیا ہے مگر اس کے باوجود قتل ناحق کے اس کبیرہ گناہ کا ارتکاب اعلانیہ کیا جا رہا ہے اور جگہ جگہ اور طرح طرح سے کیا جارہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 62۔ اولیائے مقتول کیلئے پورا اختیار :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ہم نے مقتول کے وارث کو بڑا زور اور پورا اختیار دیا ہے “۔ سو اس کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو قاتل سے قصاص لے، یا دیت پر راضی ہوجائے۔ یا اس کو یونہی معاف کردے۔ جو بھی کرے اس کا اس کو پورا حق واختیار ہے۔ (ابن کثیر، فتح القدر، المراغی، صفوۃ اور جامع وغیرہ) ۔ اور نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو مقتول کے وارثوں کو دو میں سے ایک کا اختیار ہے۔ اگر وہ چاہیں تو قاتل کو قتل کردیں اور اگر چاہیں تو دیت قبول کرلیں۔ (تفسیر المراغی وغیرہ) سو اس طرح سارا زور اور اختیار مقتول کے ولی اور وارث کو دے دیا گیا۔ اور جس کا کوئی وارث موجود نہ ہوگا یہ اختیار حاکم کو دیا جائے گا۔ جو کہ مقتول کے وارث کے قائم مقام ہوگا۔ (المعارف اور المراغی وغیرہ) 63۔ ولئی مقتول کو حد سے بڑھنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” پس وہ قتل میں سے حد سے نہ گزرے “ یعنی جب ہم نے اس کو ایک زور اور غلبہ دیا ہے تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے۔ کہ قاتل کے سوا اور کسی کے قتل کے درپے ہوجائے۔ یا ایک کے بدلے دو کو یا زیادہ کو قتل کر دے۔ جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا اور آج بھی کئی جگہوں پر ایسا ہوتا ہے جہاں لوگ قانون سے آزاد قبائلی ماحول میں رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو جب اللہ نے ولئی مقتول کیلئے غلبہ رکھا ہے اور اس کو منصور بنایا ہے کہ اس کیلئے قصاص یا دیت کا حق مقرر فرمایا گیا اور امراء وحکام کو اس کو حق اس کو دلانے کا حکم دیا ہے، اس لیے اس کو قتل میں زیادتی نہیں کرنی چاہئے۔ ورنہ وہ ظالم اور معتدی قرار پائے گا۔ پس اس کو حد کے اندر رہنا چاہیے۔ (المعارف اور المحاسن وغیرہ)
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکنا، مگر اس طریقے سے جو کہ سب سے اچھا ہو، یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے اپنی (جوانی کی) قوتوں کو، اور پورا کیا کرو تم لوگ اپنے عہد کو، بیشک عہد کی باز پرس ہوگی

64۔ مال یتیم کی حفاظت کی تعلیم و تلقین :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکنا مگر اسی طریقے سے جو کہ سب سے اچھا ہو “۔ جس سے اس کا مال محفوظ رہے اور اس میں اسی کا فائدہ اور بھلا ہو۔ لہذا نیت اصلاح اور بہتری کی ہو نہ خورد برد اور ظلم و زیادتی کی۔ اور نیتوں کا معاملہ اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ پس یتیم کے مال میں اس کے ولی کا وہی تصرف درست ہوسکتا ہے جس میں اس کے مال کی حفاظت ترقی اور اس کی نشوونما پیش نظر ہو۔ اور جس تصرف اور مداخلت میں خیانت اور خورد برد کا خوف وخدشہ ہو وہ درست نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یتیم کے ولیوں کو بھی اس کے مال میں اس مداخلت اور تصرف کا حق اور اختیار صرف اسی وقت تک ہے جب تک کہ وہ بالغ ہو کر اپنی قوتوں۔ اشد کون نہیں پہنچتا۔ سو جب وہ بالغ ہو کر اپنے فہم و ادراک کی ان قوتوں کو پہنچ جائے گا تو پھر اس کے مال میں مداخلت کا حق کسی کا نہیں بلکہ وہ اپنے مال اور اس میں حق تصرف کا مالک خود ہوگا۔ کسی اور کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں رہے گا۔ 65۔ اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے کا حکم :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور پورا کیا کرو تم اپنے عہد کو “ خواہ وہ عہد تم نے اپنے خالق ومالک سے کر رکھا ہو، جس میں اللہ پاک کے سب اوامر احکام آگئے اور خواہ وہ عہد تم نے آپس میں باہم دگر کر رکھے ہوں۔ ان سب کی پابندی کرو۔ (المراغی، الفتح وغیرہ) سو عہد کو بہرکیف پورا کرو کہ عہد کی پوچھ بہرحال ہوگی۔ جس میں عہد الست بھی آتا ہے۔ جو انسان سے قدرت نے عالم ازل میں لیا تھا۔ پھر عہد ایمان بھی اسی میں داخل ہے جس سے انسان اپنے خالق ومالک سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اس کے احکام واومر کی پابندی کرے گا۔ اور وہ سب عہد جو تم لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کیے ہوں ان سب ہی کو پورا کرنا تم پر لازم آتا ہے۔ اور یہ سب ہی اس حکم ایفاء کے عموم میں داخل ہیں۔ اور ان سب کے بارے میں تم سے پوچھ ہوگی۔ (المعارف وغیرہ) وباللہ التوفیق لما یحب ویرید کعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب تم ناپو تو پورا ناپو، اور (جب تولو تو) ٹھیک ترازو سے تولو، کہ یہ (فی نفسہ بھی) اچھی بات ہے، اور اس کا انجام بھی اچھا ہے،1

66۔ ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم وارشاد :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” جب تم نا پوتو پورا ناپو اور جب تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو “ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ اس سے معاشرے کی اصلاح بھی ہوگی اور خود تمہاری اپنی نیک نامی اور اچھی شہرت بھی اور سب کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ کیونکہ اگر تم دوسروں کا خیال رکھو گے اور ان کے حقوق پورے طور پر ادا کرو گے اور ناپ تول میں کمی نہیں کرو گے تو دوسرے بھی تمہارا خیال رکھیں گے۔ اور تمہارے حقوق پورے طور پر ادا کریں گے۔ اور وہ بھی باہمی ہمدردی کی ایک ایسی فضاء قائم ہوگی جس میں امن وسکون اور احترام والفت کا دور دورہ ہوگا۔ اس کے برعکس جو ڈنڈی مارے اور دوسروں کے حقوق میں کمی اور کوتاہی کرنے کے طریقے کو اپناتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ اپنے چند ٹکوں کی اس ناجائز اور منحوس کمائی سے وہ عدل وانصاف اور حق و صداقت کی اس بنیاد کو ڈھانے میں مصروف ہیں جس پر صالح معاشرہ اور متوازن معیشت کا مدارو انحصار ہے۔ سو اس اعتبار سے ناپ تول میں کمی کی خطورت و برائی کہیں بڑھ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی زیادتی اور حق تلفی سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ 67۔ ناپ تول کو پورا کرنے میں دنیا وآخرت کی بہتری اور بھلائی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ناپ تول کو پورا کرنے کا انجام بھی بہت اچھا ہے “۔ کہ اس سے دنیاوی بہتری کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کا اجر وثواب بھی ملے گا۔ (المراغی، ابن کثیر وغیرہ ) ۔ کسی کا حق اس کے ذمے نہیں ہوگا جس کے بارے میں اس سے کوئی پوچھ اور پرسش ہو۔ اور اس سے پہلے اس دنیا میں ایسے لوگوں کیلئے جب ان کی امانتداری کی شہرت ہوگی اور لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ شخص کسی کا حق نہیں مارتا تو لوگوں کا اس پر اعتماد قائم ہوگا جو کہ تجارت اور کاروبار میں کامیابی کی ایک اہم بنیاد ہے۔ اور اس طرح لوگ اس پر اعتماد کریں گے وہ سب اس کی طرف کو متوجہ ہوں گے جس سے اس طرح کے امانتدار لوگوں کا کاروبار ایسا چمکے گا کہ وہ دنیاوی اعتبار سے بھی بہت دولت مند اور مالدار ہوجائیں گے۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ سو ناپ تول میں عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے اور دوسروں کے حقوق کیلئے عدل وانصاف کو اپنانے کے فوائد وثمرات سے انسان آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی متمتع ہوتا ہے۔ پس ناپ تول کو پورا کرنا ایک عظیم الشان عمل اور مبارک طریقہ ہے جو انسان کیلئے دنیا وآخرت کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور اس میں ہر کسی کے حقوق کی حفاظت ہے۔ جو یہ امن وامان کی ایک اہم بنیاد ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔ وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، کہ بلاشبہ کان، آنکھ اور دل، سب ہی کے بارے میں باز پرس ہوگی،2

68۔ بغیر علم کے کسی چیز کے پیچھے لگنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم کسی ایسی بات کے پیچھے مت پڑاکرو جس کا تمہیں علم نہ ہو “۔ پس کسی ایسی چیز کے بارے میں جو تم نے دیکھی نہیں مت کہو کہ میں نے دیکھی ہے۔ اور جو سنی نہ ہو اس کے بارے میں مت کہو میں نے سنی ہے۔ قالہ قتادہ۔ (ابن کثیر المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ پس جس چیز کے بارے میں تم کو تحقیق نہ ہو ایسے مت کہا کرو وہ اس طرح ہے۔ اور جس چیز کے بارے میں تم کو صحیح علم نہ اس کی گواہی مت دیا کرو۔ (المعارف وغیرہ) سو علم کے بغیر یونہی محض ظن و گمان کی بناء پر کسی کے پیچھے لگنا اور اس بناء پر کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلینا یا حکم لگا دینا سخت برا اور گناہ کا کام ہے۔ اسی لیے دوسرے مقام ہر صاف اور صریح طور پر تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ظن و گمان گناہ ہوتے ہیں۔ سو ارشاد ہوتا ہے۔ (ان بعض الظن اثم ) ۔ (الحجرت : 12) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 69۔ آخرت کی باز پرس کی تذکیر ویاد دہانی :۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ” بیشک کان، آنکھ اور دل کے بارے میں پوچھ ہوگی “ کہ ان کو تم نے کہاں کہاں استعمال کیا تھا اور ان سے کیا کام لیا تھا ؟ وللہ العصمۃ۔ نیز خود ان اعضاء وجوارح سے بھی پوچھ ہوگی کہ تم نے کیا سنا اور کیوں سنا تھا ؟ کیا دیکھا اور کیوں دیکھا تھا ؟ اور دل سے بھی پوچھ ہوگی کہ تو نے کیا سوچا اور کیوں سوچا تھا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ (المعارف۔ المحاسن وغیرہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ جو اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ اور بےبنیاد باتیں کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ایسا روز حساب آنے والا ہے جس میں ان سے ان کے کان، آنکھ، اور دل کے بارے میں پوچھ ہوگی۔ سو اس باز پرس کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویردید علی ما یحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 17:37–38

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور اکڑ کر نہیں چلنا (اللہ کی) زمین میں، بیشک نہ تو تم پھاڑ سکتے ہو اس زمین کو (ایڑیاں مارمار کر) ، اور نہ ہی تم پہنچ سکتے ہو پہاڑوں کی بلندی کو (اپنی گردن کو تان کر) ،

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب باتوں میں سے ہر ایک کا برا پہلو تمہارے رب کے یہاں ناپسندیدہ ہے،

70۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تم اکڑ کر مت چلو اللہ کی زمین میں “۔ پس جب تم اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق کے مقابلے میں اس قدر عاجز اور کمزور ہو تو پھر یہ اکڑ اور یہ تکبر کس لئے ؟ اور کا ہے کا ؟ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ) ۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم زمین پر متکبر اور مغرور لوگوں کی طرح ایڑیاں مار کر اور اکڑ کر نہ چلا کرو بلکہ اللہ کے عاجز اور فرماں بردار بندوں کی طرح چلا کرو۔ جس سے اللہ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہارے پاؤں کے نیچے زمین کے اس عظیم الشان فرش کو بچھا دیا اس پر تو تمہاری حیثیت ایک چیونٹی اور بھنگے کی بھی نہیں ہے۔ اور جن عظیم الشان پہاڑوں کو اس نے اپنی اس زمین میں گاڑ دیا ان کے سامنے تم ایک گلہری کے برابر بھی نہیں ہو۔ تو پھر یہ اکڑ اور اس قدر تکبر آخر کیوں ؟ اور کیا تم زور سے ایڑیاں مار کر زمین کو پھاڑ دو گے ؟ اور کیا تم اکڑ کر اور سینہ تان کر ان فلک بوس پہاڑوں کے برابر پہنچ جاؤگے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں۔ تو پھر یہ اکڑفوں آخر کیوں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثإ آمین یا رب العالمین۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ سب باتیں ہیں اس حکمت (لا یزال) کی، جس کی وحی فرمائی ہے تمہاری طرف تمہارے رب نے (اپنے کرم سے) اور مت ٹھہرانا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود، کہ اس کے نتیجے میں تم کو پھینک دیا جائے جہنم میں ملامت زدہ اور راندہ (و محروم کر کے) ،3

71۔ یہ نصیحتیں قطی طور پر حق اور صدق ہیں :۔ جن میں کسی خطاء اور تقصیر کا کوئی احتمال نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ سب باتیں وحی کی حکمت میں سے ہیں۔ جن میں ان عظیم الشان آداب وحکمت کی تعلیم دی گئی ہے۔ سو جب یہ باتیں سراسر صدق اور حکمت کی ہیں تو ان کو صدق دل سے اپناؤ اور جب یہ حکمت بھی اس وحی کی بناء پر ہجے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف فرمائی ہے تو ان کو اور بھی جزم و یقین اور صدق و اخلاص سے اپناؤ کہ ان میں کسی غلطی اور کسی طرح کی خطاء و قصور کا کوئی خدشہ و امکان نہیں ہے۔ سو ایسے میں یہ باتیں وہ عظیم الشان باتیں ہیں جو تمہارے لیے اور پورے انسانی معاشرے کیلئے خیروبرکت کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ اور ان کی کوئی نظیر و مثال اور کوئی متبادل ممکن نہیں۔ اور یہ سراسر خیر وبرکت ہیں۔ پس ان کی پوری پابندی کی جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما ٰیحب ویرید۔ 72۔ عقیدہ توحید ہر خیر کی اساس و بنیاد :۔ سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ عقیدہ توحید حکمت اور ہر خیر کی اساس و بنیاد ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پر عقیدہ توحید سارے دین کی اصل اور اساس و بنیاد ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور تم مت ٹھہرانا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود “۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کے کسی بےجان بت کی شکل میں ہو یا کسی زندہ و مردہ انسان کی شکل میں۔ (صفوۃ وغیرہ) ۔ یا کسی اور فرضی اور وہمی شئی کی صورت میں کہ (الھا) کی تنکیر وتعمیم ان سب ہی صورتوں کو محیط اور شامل ہے۔ سو اللہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی معبود ٹھہرانا جائز نہیں کہ یہ شرک اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اٹھارہ آیات الواح تورات میں مذکور ومندرج تھیں جن کا آغاز بھی عقیدہ توحید سے فرمایا گیا ہے اور ان کا خاتمہ بھی اسی پر فرمایا گیا ہے۔ سو عقیدہ توحید حکمت کی اساس و بنیاد ہے اور 3 اس سے محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ہر خیر سے محرومی ہے۔ اور اس سے محرمی کے بعد۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ انسان کے اندر کسی حکیم کی کوئی حکمت اثر نہیں کرسکتی۔ (مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ 73۔ شرک کا انجام سیدھا جہنم۔ والعیاذ باللہ :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تم اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں بنانا کہ تم کو پھینک دیا جائے جہنم میں “ کیونکہ شرک سب سے بڑا گناہ اور ایسا سنگین جرم ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اسی لئے یہاں پر ان احکام کا آغاز بھی اسی تنبیہ سے فرمایا گیا ار اختتام بھی اسی پر فرمایا یگا۔ سو اس سے عقیدہ توحید کی عظمت و اہمیت واضح فرما دی گئی کہ اب احکام واوامر کا نقطہ آغاز بھی یہی ہے اور انتہائے مقصود بھی یہی۔ (ابن کثیر، المراغی، الفتح وغیرہ) مزید یہ کہ پہلے موقعہ پر شرک کے ان برے نتائج کو ذکر فرمایا گیا ہے جو اس پر اس دنیا میں مرتب ہوتے ہیں۔ چناچہ فرمایا گیا کہ تم اس کے نتیجے میں بدحال اور بےیارو مددگار ہو کر بیٹھ جاؤ۔ سو شرک سے ایک طرف تو انسان بدحال، ذلیل وخوار اور رسوا ہو کر رہ جاتا ہے اور دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و عنایت سے محروم ومطرود ہوجاتا ہے۔۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہاں پر شرک کا آخروی انجام ذکر فرمایا گیا کہ ایسے میں تم کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا بدحال اور دھتکارا ہوا کرکے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پھر یہاں پر دنیا میں چونکہ معاملہ انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے اس لئے وہاں (تقعد) معروف کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے جبکہ آخرت کا معاملہ چونکہ انسان کے اپنے بس میں نہیں ہوگا اس لیے وہاں (تلقی) مجہول کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے قرآن حکیم کی ان بلاغتوں اور باریکیوں کے۔ فللہ الحمد رب العالمین۔ سو ان آیات کریمات سے ایک طرف تو عقیدہ توحید کی عظمت شان کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ عقیدہ جلیلہ تمام احکام کی اساس و بنیاد ہے جس پر پورے دین کی عمارت قائم ہے۔ اور یہی عقیدہ دین متین اور اس کے احکام جلیلہ کیلئے حصار اور شہر پناہ بھی ہے۔ سو جس طرح اساس اور مضبوط و متین اساس و بنیاد کے بغیر کوئی عمارت قائم نہیں ہوسکتی اسی طرح دنی متین کی عمارت مقدسہ بھی عقیدہ توحید کی اساس کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی۔ اور جس طرح مضبوط حصار کے بغیر کوئی عمارت قائم نہیں ہوسکتی اسی طرح عقیدہ توحید میں خلل اور رخنہ اندازی کے بعد۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حکمت کی یہ ساری باتیں بھی رفتہ رفتہ ایک ایک کرکے ناپید ہوجائیں گی۔ سو عقیدہ توحید ہی سے ان احکام کا آغاز اور اسی پر ان کا اختتام فرما کر عقیدہ توحید کی عظمت و اہمیت کو واضح فرما دیا گیا اور اس حقیقت کی تصریح بھی فرما دی گئی کہ شرک کا نتیجہ انجام سیدھا جہنم ہے۔ سو جس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس کو ذلیل وخوار کرکے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

تو کیا تمہارے رب نے تمہیں تو چن لیا بیٹوں کے ساتھ، اور خود اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنادیا ؟ یقیناً تم لوگ ایک بڑی بھاری بات منہ سے نکالتے ہو

74۔ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے شرک کا ذکر وبیان :۔ سو یہ مشرکوں کے اندھے اور اوندھے پن کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا۔ سو ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” کیا تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں ؟ “ یعنی تم لوگوں نے اے مشرکو اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے حق میں ڈبل جرم کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ اول تو تم نے اس کے لئے اولاد تجویز کی، جبکہ وہ اولاد اور اس کے جملہ شوائب و متعلقات سے پاک اور وراء الوراء ہے کہ اس کی صفت وشان ہے۔ (لم یلدولم یولد) سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پھر تم نے اس کیلئے اولاد بھی وہ تجویز کی جو تم لوگ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ یہ کتنی ٹیڑھی اور کس قدر اوندھی تقسیم ہے ؟ اپنے خالق ومالک اور رب ورازق کے بارے میں یہ جسارت ؟ سو تم لوگ کس قدر بیباک، کتنے اندھے و اوندھے اور کس قدر ڈھیٹ ہوگئے ہو۔ اور تمہاری مت کس قدر مار دی گئی ہے ؟ یہ ایک بڑی بھاری بات ہے جو تم لوگ اپنے مونہوں سے نکالتے ہو مگر تمہیں اس کی خطورت اور سنگینی کا شعور و احساس نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا ہے اس قرآن میں (حق اور حقیقت کو) ، تاکہ کہ لوگ سمجھیں، مگر اس سے ان (بدبخت ہٹ دھرموں) کی نفرت (اور محرومی) ہی میں اضافہ ہوتا گیا،

75۔ عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اسی لیے قرآن حکیم کے بیان حق ترجمان سے حق کو سمجھنے اور اپنانے کی بجائے کفار و مشرکین کی نفرت و محرومی ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ان کے دل ٹیڑھے اور عقلیں مسخ ہوچکی ہیں۔ اور ان کی نیتیں بری اور ارادے فاسد ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے میں قرآن حکیم کے ارشادات کریمہ سے ان کی ہدایت کی بجائے ان کی ضلالت و گمراہی میں اور بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور یہ ایک طبعی امر اور منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ کسی کا معدہ جب خراب ہوجائے تو اچھی اور مقوی غذا سے اس کی صحت قوت کی بجائے اس کی بیماری ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا ہم نے اس قرآن میں انداز اور اسلوب بدل بدل کر حق اور حقیقت کو اور خاص کر عقیدہ توحید کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ اور اس کو اس قدر نکھار دیا ہے اور ایسا اجاگر کردیا ہے کہ کسی طرح کا کوئی خفا وغموض باقی نہیں رہ گیا۔ اور غبی سے غبی انسان بھی سمجھ سکتا ہے لیکن منکرین و مکذبین کی ہٹ دھرمی سے ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سو عناد و ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اگر اس (وحدہ، لا شریک) کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے، جیسا کہ ان کا کہنا ہے، تو یقیناً انہوں نے عرش والے تک پہنچنے کے لئے ضرور کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا،

76۔ تردید شرک کے لئے ایک ٹھوس عقلی دلیل :۔ سو اس سے شرک کی تردید کیلئے ایک ٹھوس دلیل کو پیش فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہارے کہنے کے مطابق بالفرض اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہوتے تو وہ ضرور صاحب عرش تک پہنچنے کیلئے کوئی راستہ ڈھونڈ لیتے اس پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے۔ جیسا کہ بادشاہوں کا حال ہوتا ہے۔ اور اس صورت میں آسمان و زمین کا یہ سارا نظام کبھی کا درہم برہم ہوگیا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (لو کان فیھمآالھۃ الا اللہ لفسدتا ) ۔ الایۃ (الانبیاء : 22) یہ جمہور کا قول ہے اور اسی کو ابو السعود، صاحب کشاف وغیرہ نے اختیار کیا ہے۔ اور یہی بعد والی آیت کریمہ کے مناسب ہے کہ وہ اس انکار میں صریح ہے (ابو السعود، کشاف، معارف، محاسن، وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا قول اس کی تفسیر میں یہ ہے کہ اگر بالفرض اس وحدہ لاشریک کے سو اور بھی کوئی معبود ہوتے تو وہ بھی یقینا عرش والے کا قرب ڈھونڈتے اور اس کی رضاء جوئی کی کوشش کرتے۔ کہ معبود برحق تو بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ یہ قول ابن جریر اور ابن کثیر وغیرہ حضرات کا ہے۔ لیکن پہلا قول انسب اور اظہر ہے۔ والعلم عند اللہ تعالیٰ ۔ بہرکیف دونوں صورتوں میں یہ شرک کی تردید کیلئے ایک ٹھوس عقلی دلیل ہے جس سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ معبود برحق ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی صرف اللہ وحدہ لاشریک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نظام کائنات اس کا شاہد عدل ہے۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

پاک ہے وہ (اللہ) اور بہت ہی بلند اور بالا، ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ اس (کی شان اقدس) کے بارے میں بنا رہے ہیں

77۔ اللہ تعالیٰ کی شان نتزیہ کا ذکر وبیان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اللہ پاک ہے ایسی تمام باتوں اور اس طرح کی تمام مثالوں سے جو لوگ اس کے بارے میں بناتے ہیں “ مثلا یہ کہ اس کا کوئی شریک ہے یا اس کے سوا اور کسی میں بھی کوئی خدائی صفت پائی جاتی ہے۔ یا اس کی کوئی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح کی تمام باتوں سے پاک اور بالا ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ سہیم۔ نہ اس کی ذات وصفات میں اور نہ اس کے حقوق واختیارات میں۔ وہ یکتا ہے اور بےمثل وبے مثال ہے سبحانہ وتعالیٰ اس طرح کی تمام باتیں جو یہ لوگ اپنے طور پر بناتے اور اپنی عقلوں سے گھڑتے ہیں مخلوق کے شایان شان اور اسی کے لائق ہیں کہ ان کی کھوپڑیاں مخلوق اور ان کی عقلوں کی دسترس محدود اور صرف مخلوق تک ہے اور بس۔ جب کہ وہ وحدہ لاشریک دائرہ مخلوق سے وراء الوراء ہے۔ اور اس طرح کی تمام خرافات اور ایسے تمام ظنون وادہام سے پاک اور ان سے کہیں اعلیٰ وبالا ہے۔ اس کے بارے میں صحیح مثال اور صحیح بات وہی ہوسکتی ہے جو وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کے وہ رسول بتائیں جن کے پاس اس کی طرف سے وحی آتی ہے اور بس۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

اسی کی پاکی بیان کرتے (اور اس کی عظمت کے گن گاتے) ہیں یہ ساتوں آسمان اور زمین، اور اس کے اندر کی سب مخلوق، (خواہ زبان حال سے خواہ زبان قال سے) ، اور کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو تسبیح نہ کرتی ہو، اس کی حمد (وثناء) کے ساتھ، مگر تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، یقیناً وہ نہایت ہی بردبار، بڑا ہی بخشنے والا ہے،1

78۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے “ یعنی وہ ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کہتی ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ہم کھانا کھا رہے ہوتے تھے اور اس سے تسبیح کی آواز سنائی دے رہی تھے۔ (کنا نسمع تسبیح الطعام وھو یؤکل) یعنی جب کھانا کھایا جاتا تو ہم اس کی تسبیح سنا کرتے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، معارف، محاسن وغیرہ) سو تم لوگوں کو اس خالق ومالک نے ایک محدود دائرہ کے اندر جو اختیار بخشا ہے اس کی بناء پر اور اس سے فائدہ اٹھا کر تم جو خود ساختہ اور ناروا باتیں چاہو اس کی طرف منسوب کرو لیکن ساتوں آسمان اور زمین اور ان کے اندر کی ساری مخلوق تسبیح کرتی ہے اپنی زبان حال سے بھی، اور اپنی زبان قال سے بھی۔ لیکن تم لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ فسبحان اللہ وبحمدہ و سبحان اللہ العظیم ماتتعاقب الیل والنہار۔ 79۔ اللہ تعالیٰ کی صفت حلم اور مغفرت کا حوالہ وذکر :۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ وہ بڑا ہی بردبار اور انتہائی بخشنہار ہے۔ سو اس کی تصریح فرما دی گئی کہ وہ بڑا ہی حلیم و بردبار اور غفور و غفار ہے۔ اسی لیے وہ اپنے بندوں کو ان کے کفر و معاصی پر فورا نہیں پکڑتا۔ بلکہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دئے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ عمروں کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ سو اس کے حکم اور کرم کی بناء پر دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اور دل وجان سے اس کے آگے جھکے رہا کرو۔ اور اس کی ناراضگی اور اس کی گرفت وپکڑ سے بچنے کی فکر و کوشش میں رہنا چاہیے کہ جہاں اس کا حلم وکرم بہت بڑا ہے وہاں اس کی گرفت وپکڑ بھی بہت سخت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا تو آپ نے اپنے دونوں بیٹوں سے فرمایا کہ میں تمہیں ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کی تسبیح کی تاکید کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہر چیز کی عبادت ہے اور اسی سے ہر چیز کو روزی ملتی ہے۔ اخرجہ احمد وابن مردویہ۔ (المراغی وابن کثیر وغیرہ) والحمد للہ جل وعلا۔ 80۔ ایک عظیم الشان تسبیح کی تعلیم و تلقین :۔ سو اللہ تعالیٰ کے حلم وکرم کے ساتھ اس کی مغفرت وبخشش کا بھی ذکر فرمایا دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” وہ بڑا بخشنے والا ہے “ پس جو کوئی سچے دل سے اور صحیح طور پر توبہ کرکے اس کی طرف رجوع کرے گا وہ اس کی بخشش فرما دے گا خواہ اس کے گناہ کتنے ہی بڑے اور کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اس کی رحمت وبخشش کا کوئی کنارہ نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے حضور توبہ اور رجوع صدق دل سے اور صحیح طور پر کیا جائے۔ وباللہ التوفیق۔ مسند احمد وغیرہ میں حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی وفات کے وقت اپنے دونوں بیٹوں سے فرمایا کہ میں تم دونوں کو ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کی تسبیح کا حکم دیتا ہے۔ کیونکہ یہی کائنات کی ہر چیز کی نماز ہے اور اسی سے ہر چیز کو روزی ملتی ہے۔ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ ) ۔ سو جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا یہ ایک بڑی عظیم الشان تسبیح ہے۔ اس لئے اس کو حرز جان بنائے رکھنا چاہیے کہ یہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارا اور ان لوگوں کے درمیان جو کہ ایمان نہیں رکھتے آخرت پر، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں،

81۔ عناد اور ہٹ دھرمی و فساد کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ :۔ چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم قرآن پڑھنے لگتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور یہ پردہ ایسا مخفی ومستور ہوتا ہے کہ ظاہر میں نظر بھی نہیں آسکتا لیکن ہوتا ایسا سخت ہے کہ ظاہری اور حسی پردوں سے بھی کہیں بڑھ کر رکاوٹ بنتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اپنے زیغ وضلال اور کج طبعی و بدنیتی کے باعث ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگ حق کو سننے اور سمجھنے سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس ارشاد ربانی سے اس سنت الہیہ اور دستور خداوندی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی والے لوگ نور حق و ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ سو عناد وہٹ دھرمی محرومی و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے (ان کی اپنی بدنیتی کی بنا پر) اس بات سے کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بھاری ڈاٹ رکھ دئے (اس سے کہ یہ اسے سنیں) ، اور جب تم قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو، تو یہ لوگ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،2

82۔ ہٹ دھرموں کے کان بند، اور انکے دل ماؤف۔ والعیاذ باللہ :۔ چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے اس سے کہ یہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ رکھ دئے اس سے کہ یہ اس کو سنیں۔ اور ان کے ساتھ یہ معاملہ ان کے اپنے خبث باطن اور سوء اختیاری کی بنیاد پر کیا گیا، سو اس کے نتیجے میں ان کے دل ماؤف، اور کان بند ہوگئے۔ جس سے یہ لوگ قول حق کے سننے اور سمجھنے سے محروم ہوگئے اور یہ اسلئے کہ ہماری سنت اور ہمارا دستور یہی ہے کہ جس کا باطن ٹیڑھا ہو اور وہ خود نور حق و ہدایت کی روشنی چاہتا ہی نہ ہو وہ حق سے محروم ہی رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے لوگ جو اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر حق بات سننے ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتے، سو ان کی اس ہٹ دھرمی کے نتیجے میں انکے دلوں پر ایسے پردے ڈال دئے جاتے ہیں کہ ان کے فہم واداراک کی اہلیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے اسی اوپر والے مضمون کی مزید وضاحت اور تاکید فرما دی گئی ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں۔ اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیئے ہیں کہ یہ لوگ نہ اس کو سن سکیں اور نہ سمجھ سکیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین یارب العالمین، ویا ارحم الرحمین۔ 83۔ مشرکوں کی توحید سے نفرت وناگواری کا ذکر وبیان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور جب تم قرآن میں اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو جو کہ خالق ومالک حقیقی اور معبود برحق ہے۔ اور اس وحدہ لاشریک کے ساتھ ان کے ان معبودان باطلہ کا کوئی ذکر تذکرہ نہیں کرتے اور اللہ وحدہ لاشریک ہی کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں میں سے کسی کا کوئی ذکر نہیں کرتے تو ان کے دل بگڑ اور ان کے تیور بدل جاتے ہیں۔ اور ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوتا ہے کہ شرک کا روگ ان کے دلوں میں رچ بس گیا ہے۔ اور اس کی سیاہی ان کے دلوں پر جم گئی ہے۔ (محاسن التاویل، مدارک التنزیل اور ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے مشرکوں کی توحید سے چڑ اور نفرت واضح فرمادیا گیا ہے کہ یہ لوگ قرآن میں توحید کا ذکر سنتے ہی اس سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ اور ان کی اس نفرت اور چڑ کا ذکر دوسرے مقام پر اس طرح فرمایا گیا ہے۔ (واذاذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکرالذین من دونہ اذا ہم یستبشرون ) ۔ (الزمر : 45) یعنی ” جب صرف اللہ وحدہ لاشریک کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل سکڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اللہ کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ لوگ خوشی سے کھل کھلا کر اٹھتے ہیں “۔ اور کچھ یہی حال آج کے کلمہ گو مشرکوں کا ہے کہ جب خالص توحید کا ذکر کیا جائے تو یہ لوگ منہ بسورنے اور تیوریاں چڑھانے لگتے ہیں۔ لیکن جب کوئی من گھڑت شرکیہ قصہ سنایا جائے یا کسی خود ساختہ سرکار کا ذکر کیا جائے تو یہ لوگ طرح طرح کے خود ساختہ نعروں کے ڈونگرے برسانے لگتے ہیں۔ سو مرض بھی ایک اور مریض بھی ایک جیسے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 84۔ مشرکوں کے ذکر توحید سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کا ذکر :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرک لوگ توحید کا ذکرسنتے ہی نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کو اصل نفرت اور بغض عقیدہ توحید ہی سے ہے۔ کل کے مشرک کا حال بھی یہی تھا اور آج کے مشرک کا حال بھی یہی ہے اگر خالص توحید بیان کی جائے تو ان کے دل سکڑتے، تیوربدلتے اور ان کے چہرے بگڑتے ہیں اور اگر اس میں ان کی خود ساختہ ہستیوں اور بناوٹی سرکاروں کی بھی شامل کرلیا جائے تو پھر یہ کھل کھلا اٹھتے ہیں۔ قرآن حکیم میں اس حقیقت کو کئی جگہ بیان فرمایا گیا ہے مثلا سورة زمر میں ارشاد ہوتا ہے واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لایؤمنون بالاخرہ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ہم یستبشرون ، (الزمر : 45) یعنی ” جب اکیلئے اللہ رب العزت کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل سکڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور جب اس کے ساتھ دوسروں کا ذکر کیا جائے تو یہ لوگ خوشی سے کھل کھلا اٹھتے ہیں “۔ اور اسی حقیقت کو سورة مومن کی آیت نمبر 12 میں بھی اسی صراحت و وضاحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ وہاں ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے روز مشرکوں سے کہا جائے گا کہ تمہارا یہ ہولناک انجام اسی لیے ہوا کہ دنیا میں تمہارا حال یہ تھا کہ جب اللہ وحدہ لاشریک کی دعوت دی جاتی تو تم لوگ انکار کرتے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جاتا تو تم ایمان لے آتے۔ سو اب حکم اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے جو کہ نہایت بلند بہت بڑا ہے۔ ذلکم اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم وان یشرک بہ تو منوا فالحکم للہ العلی الکبیر، (المومن : 12) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہمیں خوب معلوم ہے وہ غرض جس کے لئے یہ لوگ کان لگا کر سنتے ہیں، جب کہ یہ تمہاری طرف کان لگائے ہوتے ہیں، اور جب یہ آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوتے ہیں، جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو محض ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو،3

85۔ بدنیتی کا سننا باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو اس سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ بدنیتی کا سننا باعث محرومی ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا ” اور ہمیں خوب معلوم ہے جس غرض کیلئے یہ سنتے ہیں “۔ کہ ان کے دلوں کی کیفیات لوگوں سے تو چھپ سکتی ہیں لیکن ہم سے کسی بھی طرح نہیں چھپ سکتیں۔ ہمیں سب کچھ معلوم ہے اور نہاں وعیاں ہمارے یہاں ایک برابر ہے۔ سو ہم جانتے ہیں کہ ان کا سننا استہزاء اور مذاق اڑانے کیلئے ہوتا ہے اور حق کو جھٹلانے کی غرض سے، اور یہ بھی کہ یہ لوگ آپ کو انہیں مجلسوں میں ساحر، مجنوں اور کاہن وغٰیرہ کہہ رہے ہیں ہوتے ہیں۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ ) ۔ سو ان کا سننا اور سننے کیلئے کان لگانا نیک نیتی سے اور ماننے کیلئے کبھی نہیں ہوتا۔ بلکہ عیب جوئی اور نکتہ چینی کیلئے ہوتا ہے تاکہ اس طرح اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کا سامان کرسکیں۔ ان کا یہ سننا بھی باعث محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو تو سہی (عقل کے دشمن اور نصیب کے کھوٹے) یہ لوگ آپ کے لئے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں، سو یہ ایسے بھٹکے کہ اب انھیں کوئی راہ دکھائی ہی نہیں دیتی

86۔ انکار حق کا نتیجہ مت ماری اور حواس باختگی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ ایسے بھٹک گئے کہ ان کو کوئی راستہ مل ہی نہیں رہا۔ سو اظہار تعجب اور حیرت وحسرت کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا ” سودیکھو تو سہی کہ یہ لوگ آپ کیلئے کیسی کیسی عجیب مثالیں بیان کرتے ہیں۔ “ جن کا حقیقت اور واقعہ سے کوئی تعلق اور جوڑ نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے بلکہ یہ ایسی مثالیں بیان کرتے ہیں جو خود باہم متصادم ومعارض اور ایک دوسرے کی تردید کررہی ہوتی ہیں۔ مثلا کبھی آپ ﷺ کو ساحر کہتے ہیں اور کبھی مسحور۔ کبھی شاعر اور کبھی مجنون۔ سو اس سے خود ان کی اپنی سخافت عقل اور ان کے اندھے اور اوندھے پن کا پتہ چلتا ہے۔ اور اس طرح ان لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے اور ان کو راہ حق وصواب سے سرفرازی نصیب نہیں ہوسکتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بلکہ اپنی اس طرح کی حرکتوں سے یہ لوگ راہ حق و ہدایت سے مزید دور ہوتے اور بھٹکتے جاتے ہیں اور ان کی محرومی اور پھٹکار میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو منہ میں آیا وہی بک دیتے ہیں اور اس طرح اپنے دلوں کی بھڑاس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سو ایسوں کے جواب میں صبر و برداشت ہی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 17:49–50

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیا جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور چورا ہوجائیں گے، تو کیا پھر ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے ؟

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہو کہ (ہڈیاں اور چورا تو کیا) تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ،

87۔ منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا :۔ یعنی ان کے خیال میں یہ بڑی انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اسی لئے یہ لوگ تعجب اور استہزاء کے طور پر اس طرح کہتے ہیں کہ ” جب ہم مر کر ہڈیاں اور چورہ بن جائیں گے تو کیا پھر بھی ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائیگا۔ “ یعنی یہ تو ایک انہونی بات ہے۔ سو ان کی کھوپڑیوں کے مطابق اور انسانی طاقت کے اعتبار سے واقعی ایسے ہی ہے۔ لیکن جس قادر مطلق نے انکو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کی طاقت کے اعتبار سے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ بلکہ صرف ایک حکم اور اشارے کی دیر ہے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ہم بالساہرۃ ، (النازعات : 13۔ 14) یعنی ” وہ تو محض ایک ڈانٹ اور جھڑکی ہوگی جس کے نتیجے میں یہ سب کے سب ایک بڑے کھلے میدان میں آموجود ہوں گے۔ “ ان کیلئے کسی انکار یا تسویف کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔