Ayah 12:105170۔ نشانیوں کے مطالبے کا جواب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ایسی ہیں جن پر ان لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے مگر یہ ان کے بارے میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے۔ سو نشانیوں سے تو یہ کائنات بھری پڑی ہے مگر فقدان غور و فکر کا ہے۔ پس اس ارشاد میں دراصل زمین و آسمان کی اس کائنات میں پھیلی بکھری گوناگوں نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت ہے۔ مگر یہ لوگ ان سے اور کوئی سبق نہیں لیتے۔ جس طرح کہ آج کل بھی آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے کروڑوں کے خرچے تو کئے جارہے ہیں اور کتنے کتنے سیاح اور عام لوگ ان کو دیکھنے آتے جاتے ہیں مگر عبرت گیری اور پندپذیری کا جو اصل مقصد تھا اس کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں جاتی۔ الا ماشاء اللہ۔ بلکہ الٹاوہاں پر غفلت بھری سیروتفریح اور پکنک کی رنگ رلیوں کا دوردورہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد ربانی میں زمین و آسمان میں پھیلی بکھری ان عظیم الشان نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت وتحریک ہے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف منکر لوگ جو طرح طرح کی نشانیوں اور فرمائشی معجزوں کے لیے نت نئے مطالبے کرتے تھے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نت نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہو لیکن نشانیوں سے تو زمین و آسمان کی یہ پوری کائنات بھری پڑی ہے جو دن رات کے ہر حصے میں ایک عظیم الشان کھلی کتاب کی صورت میں تمہارے سامنے موجود رہتی ہے۔ لیکن لوگوں نے اگر اپنی آنکھوں ہی کو بند کر رکھا ہو تو اس کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ سو اس میں اصل قصور ان منکر اور ہٹ دھرم لوگوں کا اپنا ہے جو آنکھیں کھول کر کسی چیز کو دیکھتے اور اس سے عبرت پکڑنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اور یہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے بن گئے ہیں سو عناد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 12:106171۔ اکثر لوگ ایمان کے باوجود مشرک۔ والعیاذ باللہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اکثر لوگ خدا کو مانتے ہیں تو بھی شرک کرتے ہوئے "۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے قرآنی صداقتوں کے کہ کس قدر سچا اور مطابق واقعہ ہے اللہ پاک کا یہ ارشاد کہ انسانوں کی اکثریت اللہ پر ایمان رکھتی بھی ہے تو بھی شرک کی آمیزش کے ساتھ۔ چناچہ امرواقعہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ شرک جلی کے اعتبار سے بھی اور شرک خفی کے لحاظ سے بھی چناچہ شرک جلی کے مرتکب مشرکین کا حال کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ اللہ پاک کو خالق، مالک، رازق اور مدبر سب کچھ ماننے کے باوجود اپنے بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو از خود وسیلے اور واسطے قرار دے کر ان کو پوجتے، پکارتے، ان کے آگے جھکتے اور ان کے لیے بھینٹ چڑھاتے اور ان کو خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کے پاپڑبیلتے تھے اور بیلتے ہیں، اور صاف وصریح طور پر اور فخریہ انداز میں کہتے تھے اور کہتے ہیں۔ (ھولاء شفآؤنا عنداللہ) کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں۔ اور یہ کہ ہم ان کی پوجا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں خدا کے قریب کردیں۔ (مانعبدہم الا لیقربونآالی اللہ زلفی) اور یہ لوگ اس کے لیے تلبیہ کے اندر بھی اس طرح ملاوٹ کرتے تھے۔ لاشریک لک الا شریکاھو لک، تملکہ وما ملک۔ " تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جو تیرے ماتحت ہو، تو اس کا بھی مالک ہے اور اس کی ہر چیز کا بھی " اور اسی طرح کی تکنیک آج کے کلمہ گو مشرک اور بدعت پرست ملاں نے بھی اپنا رکھی ہے۔ اور اس نے بھی اس کے لیے از خود طرح طرح کے وسیلے بنا رکھے ہیں۔ اور مختلف ناموں سے طرح طرح کی " سرکاریں " گھڑ رکھی ہیں۔ کھلے مشرکین کے علاوہ یہود و نصاری جو توحید کے دعویدار اور آسمانی دین کے قائل تھے، انہوں نے بھی نص قرآن کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا قرار دے رکھا تھا۔ اور اپنے مولویوں اور پیروں کو بھی انہوں نے خدائی اختیارات سونپ رکھے تھے جیسا کہ قرآن تصریح فرماتا ہے۔ (اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ) اور آج کے جاہل مسلمان نے تو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے جگہ جگہ اور طرح طرح کے معبود گھڑ رکھے ہیں۔ کہیں وہ بچے مانگتا ہے۔ کہیں نوکری مانگتا ہے اور کہیں بیماری سے شفاء کی درخواست پیش کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور ان مقاصد کے حصول کے لیے وہ غیر اللہ کی نذریں مانتا، نیازیں دیتا، دیگیں پکاتا، پھیرے لگاتا، طواف کرتا اور چادریں چڑھاتا ہے، بلکہ کتنے ہی ایسے ہیں جو اپنی بھاری بھر کم ڈاڑھیوں اور جبوں قبوں سمیت ایسی بنی ٹھنی قبروں اور سجے سجائے آستانوں اور خود ساختہ سرکاروں کے آگے صاف اور سیدھے طور پر سجدے میں جاگرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اگر ایسے کسی مشرک کو سمجھائے بتائے تو آگے سے وہ کہتا ہے۔ تجھے کیا پتہ میرے تو سارے کام یہیں سے بنتے اور بگڑتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح کہ ایک بت پرست اپنے بت کے لیے کہتا اور کرتا ہے۔ اور اسی لیے اس نے اللہ کی عاجزمخلوق میں سے ازخود کسی کو داتا، کسی کو غریب نواز اور کسی کو مشکل کشا و فریادرس بنارکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تو حال ہے شرک جلی کا۔ رہ گیا معاملہ شرک خفی یعنی ریاء اور دکھلاوے کا۔ تو وہ اس سے بھی زیادہ سنگین اور خطرناک و افسوس ناک ہے کہ وہ تونص حدیث کے مطابق اس کالی چیونٹی کی آہٹ سے بھی زیادہ مخفی اور پوشیدہ ہے جو اندھیری رات میں کسی املس (چٹیل) چٹان پر چل رہی ہو۔ تو پھر اس سے کون بچ سکتا ہے سوائے اس کے جس کو اللہ ہی بچائے اور محفوظ رکھے ؟ اسی لیے نبی رحمت۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ نے اس سے بچنے کے لیے اپنی امت کو خاص دعاء تلقین فرمائی ہے جو " اللہم انانعوذبک " الخ سے آگے آرہی ہے۔ سو اس پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھئے کہ کس قدرسچا ہے اللہ پاک کا یہ ارشاد (ومامؤمن اکثرہم باللہ الا وہم مشرکون) اللہ اپنے کرم سے اس سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ فلاعصمۃ الا لمن عصمہ اللہ۔ اللہم انا نعوذبک من ان نشرک بک شیاء نعلمہ ونستغفرک لما لانعلمہم۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم اور توفیق عنایت سے شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ مجھے بھی، میری آل اولاد اور جملہ متعلقین کو بھی اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو بھی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 12:107–108172۔ غافلوں کے لیے ایک تنبیہ وتہدید :
سو اللہ کے عذاب سے نڈر اور بےخوف ہوجانے والوں کے لیے اندار اور تنبیہ وتہدید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا پھر بھی یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آدبوچے ان کو اللہ کے عذاب سے کوئی ایسی آفت جو چھا جائے ان سب پر ہر طرف سے۔ یا آپہنچے ان پر قیامت کی وہ گھڑی ایسی اچانک کہ ان کو خبرتک نہ ہو۔ یعنی ان میں سے کوئی بھی صورت وقوع پذیرہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے ایسے مشرکوں سے انذاز اور تنبیہ کے طور پر یہ سوال کیا گیا کہ یہ لوگ نڈر اور بےخوف ہوگئے اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے ؟ یعنی ایسے لوگ اپنی غفلت و جہالت کی وجہ سے اور اپنے ایسے خود ساختہ شفعاء وشرکاء اور من گھڑت سفارشیوں کے سہارے اور اعتماد پر اس بات سے نچنت اور بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی ایسی آفت ان پر ٹوٹ پڑے جو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے یا قیامت کی وہ ہولناک گھڑی ہی ان پر ایسے اچانک آدھمکے کہ ان کو اس کا کوئی شعورواحساس اور خیال و گمان تک بھی نہ ہو۔ اور اس کے بعداس کے لیے اپنی آخرت کے لیے کچھ کمانے بنانے اور سنبھلنے سدھرنے کی کوئی فرصت اور کوئی موقع ہی باقی نہ رہ جائے۔ یعنی ان لوگوں کو ایسی غفلت شعاری سے کام نہیں لینا چاہئے کہ عمررواں کی یہ محدود ومختصرفرصت اور نادرونایاب دولت کبھی بھی اور کسی بھی طور پر ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ اور ایسی کہ پھر اس کے ملنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ پس اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس میں ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کے لیے تیاری کرنی چاہئے اور اپنے آپ کو شرک کے ہر شائبے سے بچا کر خالص توحید کو اپنائے رکھنا چاہئے اللہ توفیق بخشے۔ آمین۔ بہرکیف اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے کبھی بھی غافل ونڈر نہیں ہونا چاہئے کہ یہ بڑے ہی خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 12:109174۔ رسول ہمیشہ مردوں ہی سے آئے :
اسی لیے یہاں پر کلمات حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ہم نے آپ سے پہلے اے پیغمبر مردوں کے سوا کسی کو بھی رسول بناکر نہیں بھیجا۔ یعنی آپ ہی کی طرح۔ تو پھر یہ لوگ آپ کی بشریت پر اچنبھا اور اعتراض کیوں کرتے ہیں اور نبوت اور بشریت میں منافات کیوں سمجھتے ہیں ؟ افسوس کہ قرآن پاک کے طرح طرح سے سمجھانے کے باوجود دور حاضر کے بہت سے جاہل مسلمان بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ بشریت اور نبوت دونوں جمع نہیں ہوسکتیں۔ اور اسی بناء پر ایسے لوگ بشریت نبوی کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ قرآن وسنت کی نصوص میں طرح طرح کی تحریفات وتاویلات سے کام لیتے ہے۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف نبوت و رسالت سے ہمیشہ مردوں ہی کو سرفراز فرمایا گیا۔ نہ کسی نوری مخلوق اور فرشتہ کو نبی و رسول بنایا گیا اور نہ کسی عورت کو۔ اس میں ان مشرکین پر رد ہے جن کا کہنا تھا کہ بشرہی کو کیوں رسول بناکر بھیجا گیا۔ اگر اللہ نے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا ہی تھا تو اس کے لیے آسمان سے فرشتوں کو رسول بناکر اتاردیتا۔ سو ان کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ہمیشہ انسانوں اور مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ سو یہ رسول کوئی انوکھے رسول تو نہیں ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا (قل ماکنت بدعامن الرسل) ( : 9) یعنی " اے پیغمبران سے کہو کہ میں کوئی انوکھا رسول تو نہیں ہوں " جو تم لوگوں کو مجھ پر اس طرح اچنبھا ہو۔ بہرکیف اس سے ان منکرین و مکذبین کے سوال و اعتراض کا جواب بھی دے دیا گیا اور اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ آپ سے پہلے جو بھی رسول آئے ہیں وہ سب مرد اور بشر ہی تھے۔ کسی جن یا فرشتہ یا کسی عورت کو کبھی بھی نبی نبی اور رسول نہیں بنایا گیا۔ اور بشر کے لیے بشر ہی کو رسول بناکر بھیجنا تقاضائے عقل و فطرت ہے۔ تاکہ وہ زندگی کے ہر دائرے میں ان کی اطاعت و اتباع کرسکیں۔ والحمد للہ جل وعلا۔
175۔ عبرت پذیری کے لیے سفر کی ترغیب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں ہیں تاکہ اس طرح یہ لوگ اس سے سبق لیتے اور عبرت پکڑتے۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی سیروسیاحت، عبرت گیری اور پندپذیری کی غرض سے ہونی چاہئے۔ نہ کہ صرف گھومنے پھرنے اور وقت اور دولت کو ضائع کرنے کے لیے۔ مگر افسوس کہ آج کا مسلمان بھی دوسروں کی طرح اس مقصد سے غافل وبے خبر ہے۔ اس کے سفر بھی دوسرے دنیاداروں کی طرح وقت اور دولت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ الاماشاء اللہ۔ والیعاذ باللہ جل وعلا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگوں کے سفر ان کے لیے غفلت میں اضافے اور طرح طرح کے معاصی وذنوب کے ارتکاب کا ذریعہ وباعث ہوتے ہیں الا ماشآء اللہ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس ارشاد میں ترغیب وتحریض ہے اس بات کی کہ یہ لوگ عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ ان سے پہلے کی منکر قوموں کی تکذیب وانکار کا نتیجہ وانجام کیا ہوا۔ اور اہل صدق وصفا اور اصحاب ایمان و یقین کی نجات کے سامان قدرت کی طرف سے کس کس طرح کیے گئے۔ اور ان قوموں کے آثار و کھنڈرات میں دور حاضر کے ان بدمست لوگوں کے لیے کیا کچھ درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مگر یہ سب کچھ انہی لوگوں کے لیے ہے جو صحیح طور پر غورفکر سے کام لیتے ہیں اور قبول حق کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید،۔ وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔
176۔ آخرت ہی کو اصل مقصد بنانے کی ترغیب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کا گھر یقینا کہیں بہتر ہے پرہیزگاروں کے لیے اس دنیائے فانی اور اس کی تمام نعمتوں کے مقابلے میں کہ اس کی نعمتیں اعلی وارفع بھی ہیں اور دائمی وابدی بھی۔ اور ہر تکلیف و پریشانی سے خالی اور محفوظ بھی۔ جبکہ اس دنیائے دوں کی ان فانی نعمتوں میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔ پھر کس قدر خسارے میں ہیں وہ لوگ جو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی گھر کو بھول کر اور اس کو اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیا کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ساتھ ہی اس ارشاد میں اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ آخرت کے اس گھر اور اس کی ان عدیم النظیرو بےمثال نعمتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ تقوی و پرہیزگاری ہے اور تقوی و پرہیزگاری کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اس بات کو اپنے پیش نظر رکھے کہ میرا خالق ومالک وغیرہ ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کرے جو کہ اس مالک الملک کی ناراضگی کا باعث ہو۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید،۔ وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔
177۔ عقل سے کام لینے کی تحریک و ترغیب :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟۔ تاکہ اس طرح تم ایمان و یقین کی راہ کو اپنا کر سعادت دارین سے بہرہ ورہونے کا سامان کرسکو اور اس ہولناک خسارے سے بچ سکو جو ابنائے دنیا، دنیا کو آخرت پر ترجیح دے کر اور آخرت کی حیات ابدی کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اپنا رہے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اہل ایمان کے اجروصلہ کی اصل جگہ آخرت ہی ہے جو کہ دنیا کی ان عارضی اور فانی نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ پس عقل وخرد کا تقاضا یہی ہے کہ اصل مقصد آخرت ہی کو بنایا جائے۔ سو کائنات کی یہ کھلی کتاب جو طرح طرح کی نشانیوں اور دلائل وعبر سے بھرپور اور مملوومعمور ہے اور گزشتہ قوموں کی ہلاکت و تباہی کے یہ آثار و نشانات تم لوگوں کے لیے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں تو کیا تم لوگ سوچتے نہیں اور ان سے درس نہیں لیتے ؟ یعنی تم لوگوں کو ان میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت کو اپنانا چاہئے تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید،۔ وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ
Ayahs 12:110–111178۔ منکرین کی مہلت کا ذکر وبیان :
سوان منکروں کو بڑی بڑی مہلتیں دی گئیں یہاں تک کہ جب مایوس ہونے لگے پیغمبر اپنی قوموں اور امتوں کے ایمان اور ان کی تصدیق سے۔ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تو ان پر عذاب آکر رہا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کی قوموں کو اللہ پاک نے اپنی سنت اور دستور کے مطابق ڈھیل دی۔ اور ان کے کفر و انکار کے باوجودان پر دنیاوی رزق اور دولت کے دروازے کھولتا گیا۔ تو وہ لوگ مست اور نڈر ہوگئے کہ کوئی عذاب وغیرہ نہیں ہونے والا۔ اور ہم جو کچھ کررہے ہیں ٹھیک کررہے ہیں۔ سو جب وہ لوگ عناد اور ہٹ دھرمی کی انتہاء کو پہنچ گئے تو ان پر عذاب آکررہا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
179۔ عذاب الہی کے بارے میں سنت الہی کا ذکر وبیان :
سو اس سے عذاب الہی کے بارے میں خداوند قدوس کی سنت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ منکروں کو فورا نہیں پکڑتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل بلکہ ڈھیل پر ڈھیل دیے جاتا ہے۔ مگر جب وہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اللہ کے رسولوں کے ذریعے ان پر حجت تمام کردی جاتی ہے۔ اللہ کے رسول ان کے ایمان سے مایوس ہوجاتے ہیں اور تاخیر عذاب کی بناء پر وہ لوگ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ یعنی وہ لوگ جن کو حضرات انبیائے کرام نے خبردار فرمایا تھا کہ اگر وہ حق کی تکذیب اور اس کی دشمنی سے باز نہ آئے تو ان پر قہر خداوندی نازل ہوگا۔ تو انہوں نے اس بارے میں حضرات انبیائے کرام کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا کہ ہمارے کفر انکار کے باوجود ہم پر ایسا عذاب آخر کیوں نہیں آیا۔ اس ارشاد کی تفسیر میں اور بھی کئی اقوال اور احتمال ہیں۔ والتفصیل فی المفصل انشاء اللہ العزیز۔ بہرکیف جب انتہائی مایوس کن صورتحال پیدا ہوگئی تو ہماری مدد رسولوں کے لیے پہنچ گئی کہ اندھیری رات کے بعد طلوع صبح یقینی ہے۔ سو اس سے اللہ پاک کی اس سنت کو واضح فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں پر اپنی حجت پوری کرتا ہے اور عذاب تب آتا ہے جبکہ اللہ کے رسول اپنی قوموں کے ایمان سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ اور ان کی قوموں کے لوگ یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ان پر جھوٹ موٹ عذاب کی دھونس جمائی گئی تھی۔ فرمایا ایسے وقت ہمارے رسولوں کے لیے ہماری مدد ظہور میں آتی ہے۔ سو اس وقت ہم جسے چاہتے ہیں نجات سے سرفراز کردیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی ہر مشیئت اس کے عدل وحکمت ہی پر مبنی ہوتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
180۔ اللہ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کا عذاب ٹالا نہیں جاتامجرم لوگوں سے۔ جبکہ اس کا وقت آجاتا ہے۔ چناچہ آپکڑاقوم نوح کو طوفان نے۔ قوم عاد کو سخت زور کی آندھی نے۔ قوم ثمود کو ایک سخت ہولناک آوازنے اور قوم لوط کو ان کی بستیوں کی تباہی نے وغیرہ وغیرہ۔ اور پہنچ کررہے یہ لوگ اپنے انجام کو۔ جیسا کہ سورة توبہ کی آیت نمبر 70 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان تمام قوموں کو اپنے اپنے وقتوں میں ان کے بارے میں مقرر اور طے شدہ عذابوں نے آپکڑا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس تم لوگ اے دورحاضر کے مجرمو اور منکرو، اپنی اصلاح کرلوقبل اس سے کہ آپہنچے تم کو اپنے کیے کرائے کے نتیجے میں ایسا کوئی ہولناک عذاب جس سے بچ نکلنے کی پھر کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہ ہو۔ سو اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی گرفت وپکڑ سے بےفکری اور لاپرواہی بڑے خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔