Ayah 12:2546 ۔ دونوں کے دروازے کی طرف دوڑنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوڑ پڑے وہ دونوں دروازے کی طرف " یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) اور زلیخا دونوں، سو یہ اسی برہان رب اور نصرت و حمایت خداوندی ہی کا ایک حصہ تھا جس سے قدرت نے آپ کو نوازا تھا کہ آپ برائی کے اس مقام سے فورا بھاگ کھڑے ہوئے۔ روایات میں ہے کہ گھر کے دروازے مقفل تھے مگر اس کے باوجود حضرت یوسف (علیہ السلام) جب بھاگ کر ان تک پہنچے تو ان کے قفل خود بخود ایک ایک کرکے کھلتے چلے گئے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ انسان برائی سے بچنے کے لیے اگر سچی نیت کے ساتھ اپنے بس کی حد تک تگ و دو اور سعی و کوشش کرے تو اللہ پاک اس کے لیے راستے خود بخود کھولتا جاتا ہے۔ (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا) سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دامن ہر لحاظ سے پاک و صاف تھا اور اس ضمن میں ایسے تمام قصے موضوع من گھڑت اور زنادقہ و یہود وغیرہ دشمنان اسلام کی کارستانی اور شرانگیزی کا نتیجہ ہیں، جن سے آنجناب کی نزاہت و پاکدامنی پر حرف آتا ہو اور ان میں سے کسی کی نسبت اگر کسی صحابی کی طرف ہو تو وہ نسبت صحیح نہیں۔ اور ایسی بات بھی جھوٹ اور جعل سازی ہے جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (تفسیر المراغی، تفسیر القاسمی وغیرہ) اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
47 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے دردناک مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے دردناک سزا کا مطالبہ کیا۔ مثلا یہ کہ ضرب شدید سے کام لیا جائے یا کوئی اور ایسی سزا دی جائے جو دوسروں کے لیے تادیب و عبرت کا ذریعہ و سامان بنے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس عورت نے اپنے شوہر کو دیکھتے ہی فورا پینترا بدل کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قصور وار قرار دے دیا اور ان کے لیے سخت سزا کا مطالبہ کردیا تاکہ اس طرح وہ اپنے کیے کرائے پر پردہ ڈال سکے۔ سو دروازہ کھلنے پر اپنے خاوند کو سامنے کھڑا دیکھتے ہی اس کا سارا نشہ عشق ہرن ہوگیا اور وہ فورا پلٹ کر بولی کہ کیا بدلہ اور کیا سزا ہوسکتی ہے اس شخص کی جو آپ کی بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے سوائے اس کے کہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے یا اور کوئی ایسی دردناک سزا دی جائے۔ سو یہ ایسی حیا باختہ اور بیکار عورتوں کے مکر و خداع کا ایک نمونہ و مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہر طرح کے شرور و فتن اور مکاریوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 12:2648 ۔ ایک معقول گواہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر عورت کے خاندان کے ایک شخص نے ایک معقول گواہی دی اور اس شخص کی بات کو شہادت (گواہی) اس لیے قرار دیا گیا کہ اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت ثابت ہوگئی اور بعض کہتے ہیں کہ (شہد) یہاں پر " حکم " کے معنی میں ہے۔ یعنی یہ کہ ایک حاکم نے فیصلہ اس طرح دیا کہ الخ (جامع البیان وغیرہ) جو بھی ہو یہ بات بہرکیف معقول تھی۔ کیونکہ کرتے کا آگے سے پھٹا ہونا اقدام اور حملہ آور ہونے کا قرینہ اور ثبوت تھا۔ اور پیچھے سے پھٹنے کا مطلب یہ تھا کہ ان کو بھاگتے ہوئے پیچھے سے پکڑا گیا تھا۔ بہرحال اس موقعہ پر اس مکار عورت کے خاندان ہی کے ایک شخص نے یہ گواہی دی اور اس معاملہ کے فیصلے کے لیے یہ سجھاؤ پیش کیا کہ اس کا فیصلہ یوسف کا کرتا دیکھ کر کیا جائے کہ اگر وہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف قصور وار ہیں اور یہ عورت سچی ہے۔ کیونکہ کرتے کے آگے سے پھٹنے کا مطلب آگے بڑھ کر دست درازی کرنا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ورنہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ جیسا کہ ظاہر ہے، سو یہ ایک اہم اور واضح دلیل تھی اس معاملے کے بارے میں۔
Ayahs 12:27–2849 ۔ ایک فیصلہ کن قرینے کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عورت کے خاندان کے اس شخص نے ایک فیصلہ کن قرینے کے ذکر کے طور پر کہا کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتا آگے سے پھٹا ہو تو وہ قصور وار ورنہ یہ عورت قصور وار۔ حضرات مفسرین میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ شاید زلیخا کے خاندان کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس نے معجزانہ طور پر یہ گواہی دی تھی۔ جیسا کہ بعض روایات میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی بڑا آدمی تھا جس نے ایک معقول بات ان لوگوں کے سامنے پیش کی (معالم، ابن کثیر، ابن جریر، کبیر، قرطبی، وغیرہ) جو بھی ہو بہرحال بات اس شخص کی بڑی درست اور معقول تھی۔ اور ایسی معقول اور درست کہ اس سے پورا معاملہ واضح ہوگیا، سو اس نے کہا کہ اگر یوسف کا کرتا آگے سے پھٹنا ہو تو عورت سچی اور یوسف جھوٹے۔ اور اگر اس کے برعکس ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو پھر یہ عورت جھوٹی اور یوسف سچے۔ اور یہ ایسی معقول رائے تھی کہ اس سے عورت کے شوہر کو بھی اطمینان ہوگیا اور معاملہ بھی پوری طرح واضح ہوگیا۔ سو اس کے مطابق جب اس نے یوسف کے کرتے کو دیکھا تو وہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ تو اصل حقیقت واضح ہوگئی کہ یوسف قطعی طور پر سچے اور بےقصور ہیں اور یہ عورت یقینا جھوٹی ہے۔ تو اس نے اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ یہ سب تمہارا فریب ہے اور تم عورتوں کا فریب بڑا ہی خطرناک ہوتا ہے۔ بہرکیف اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت اور بیگناہی ثابت ہوگئی۔
Ayah 12:2950 ۔ عزیز مصر کی بےغیرتی کا ایک مظہر و نمونہ : کہ بیوی سے اتنا بڑا سنگین جرم ثابت ہوجانے کے باوجود اس شخص کا اس کو اس قدر نرم الفاظ سے خطاب کرنا اس شخص کے بےغیرت اور بےحس ہونے کا ایک کھلا اور واضح ثبوت ہے۔ اسی لیے صاحب البحر کہتے ہیں کہ مصر کی مٹی ہی ایسی بےغیرت ہے۔ اسی لیے وہاں شیر پیدا نہیں ہوتا۔ اور اگر کہیں اور سے اسے وہاں لے جایا جائے تو وہ فوری طور پر مرجاتا ہے (حاشیہ جامع البیان) لیکن علامہ رشید رضا مرحوم نے اپنی تفسیر المنار میں صاحب بحر کے اس زعم اور دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا یہ دعوی کسی صحیح بنیاد پر قائم نہیں، اور (كَيْدِكُنَّ ) جمع کا صیغہ لاکر یہ بھی بتادیا کہ ایسی بیہودہ حرکت کا ارتکاب کوئی تمہاری پہلی حرکت نہیں بلکہ اس ملک و معاشرے اور اس اعلی سوسائٹی کی عورتوں کے عام مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔ (نفس المرجع) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قدرت کی طرف سے اس شخص میں اس وقت غصہ پیدا نہ ہوا ہو تاکہ وہ اشتعال میں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف کوئی سخت اقدام نہ کر بیٹھے۔ بہرکیف اس شخص نے اس طرح معاملہ کو ہلکے انداز میں لیکر یونہی رفع دفع کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کی مزید رسوائی نہ ہو اور معاملہ یونہی رفع دفع ہوجائے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس شخص یعنی عزیز مصر نے اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ اس معاملے سے اب درگزر کریں اور اپنی بیوی سے کہا کہ تو اپنے جرم و قصور کی معافی مانگ کہ یقینا تو ہی ہے خطا کاروں میں سے اور واضح ہوگیا کہ یہ سب کچھ تیرا ہی گھڑا گھڑایا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کوئی قصور نہیں۔
Ayah 12:3051 ۔ عزیز مصر کی بیوی کے خلاف پروپیگنڈے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ شہر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے خلاف چرچا اور پروپیگنڈا شروع کردیا کہ وہ اپنے غلام پر لٹو ہوگئی ہے " شغف " اصل میں " شغاف " سے ماخوذ ہے اور " شغاف " اس پردہ کو کہتے ہیں جو دل پر محیط ہوتا ہے۔ اس لیے " شغفہ فلان " کے معنی ہوتے ہیں کہ " وہ اس دل کے پردے تک پہنچ گیا " یعنی " اس دل میں اتر گیا " اس میں گھر کر گیا " وغیرہ۔ سو اس مفہوم کو ظاہر کرنے کی غرض سے ہم نے اس کا ترجمہ ان لفظوں میں کیا ہے۔ والحمدللہ۔ بہرکیف شہر کی عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے خلاف یہ چہ میگوئیاں اور پروپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ کیسی عورت ہے جو عزیز مصر کی بیوی ہونے کے باوجود اپنے غلام پر لٹو ہوگئی۔ اور یہ چرچا اور پروپیگنڈا افسانہ بزم و انجمن اور ٹیبل ٹاک بن گیا۔ اور شہر کی عورتوں نے جو ہوسکتا ہے اسی طبقے کی ہوں جس طبقے کی عزیز مصر کی بیوی تھی۔ سو انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام پر لٹو ہوگئی اور وہ اس کے عشق میں دیوانی ہو کر اس پر ڈورے ڈال رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
52 ۔ عزیز مصر کی بیوی کی ملامت و شماتت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کے بارے میں کہا کہ ہم اس کو کھلی گمراہی میں پڑا دیکھ رہی ہیں کہ اتنے بڑے مرتبے پر فائز اور اس قدر اونچے منصب کی مالک ہو کر ایک غلام پر لٹو ہو رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر خطا اور غلطی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ سو یہ خطا اور غلطی ایسی صاف وصریح اور کھلی غلطی ہے جس کا خطا اور غلطی ہونا بالکل صاف اور واضح ہے۔ سو ان کے اس جملے میں ملامت، شماتت اور ادعاء کے کئی پہلو مضمر ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ اول تو یہی بات بڑی عجیب ہے کہ اس قدر عظیم شخصیت اور اتنے بڑے اعلی عہدیدار کی بیوی ہونے کی باوجود وہ اپنے آپ کو ایک غلام کے پیچھے خوار کرے اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس غلام کو بھی وہ رام نہ کرسکے۔ سو یہیں سے اس ملامت کے اندر ادعاء کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ عورت بڑی احمق ہے کہ بدنام بھی ہوئی اور نامراد بھی رہی۔ اگر اس کی جگہ ہم ہوتیں تو کیا کچھ کردکھاتیں وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 12:3153 ۔ لفظ " مکر " کے استعمال سے مقصود ؟ : سو یہاں پر ان عورتوں کی اس بدگوئی کو قرآن حکیم میں " مکر " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ حالانکہ " مکر " پوشیدہ چیز اور خفیہ سازش کو کہا جاتا ہے۔ سو یہ شاید اس لئے کہ ان عورتوں کے اس پروپیگنڈے کے پیچھے دراصل دوسرا مقصد کارفرما تھا کہ وہ چاہتی تھیں کہ اس طرح کسی بہانے ہم بھی یوسف کو دیکھ لیں کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس کو عزیز مصر کی بیوی اس طرح اپنا دل دے بیٹھی ہے۔ اور اس پر وہ اس طرح لٹو ہوگئی ہے۔ سو عام لوگوں سے تو دل کی ایسی کیفیت چھپ سکتی ہے مگر اس (علیم بذات الصدور) سے یہ کس طرح چھپ سکتی ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے ان بیگمات مصر کی اس چال کو یہاں پر " مکر " کے لفظ سے تعبیر کرکے اصل حقیقت کو واشگاف و آشکار فرما دیا گیا۔ سو عزیز مصر کی بیوی نے جب ان عورتوں کی ان چہ میگوئیوں اور ان کے اس پروپیگنڈے کے بارے میں سنا تو اس کے دل کو چوٹ لگی، تو اس نے چاہا کہ کسی طرح ان کو بھی یوسف کا جلوہ دکھا دیا جائے تاکہ یہ بھی اپنا ہنر آزما کر دیکھ لیں اور ان کو بھی یوسف کی عظیم الشان شخصیت کا کچھ اندازہ ہوسکے۔ اور ان کو اپنی قدر و قیمت بھی معلوم ہوجائے۔ سو اس غرض کے لیے اس نے ایک خاص دعوت کا اہتمام کیا اور اس کے لیے ان سب کو بلا بھیجا۔
54 ۔ حاضرات مجلس کو چھریاں دینے کے پیچھے اصل مقصد ؟ : سو اس نے آنے والی ہر عورت کو ایک ایک چھری دی کہ ظاہری مقصد تو اس کا یہی تھا کہ ان چھریوں سے وہ مہمان عورتیں پھل کاٹ کر کھائیں۔ مگر اصل مقصد اس کا کچھ اور ہی تھا، جیسا کہ بعد میں ظاہر ہوا۔ کہ یہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر حواس باختہ ہوجائیں گی اور پھلوں کی بجائے اپنے ہاتھوں کو کاٹ دیں گی جس سے ان کو خود اندازہ ہوجائے گا کہ کیا چیز ہے یوسف جس پر وہ لٹو ہوگئی ہے۔ جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک ان عورتوں کا اپنے ہاتھوں کو کاٹنا بھی ان کی ایک چال تھی کہ اس طرح وہ دراصل اپنے ہاتھوں کو زخمی کرکے اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنا اور اس طرح یوسف کے دل کو اپنی طرف مائل کرنا چاہتی تھیں۔ اس لیے انہوں نے خود کشی کی دھمکی بھی دی تھی۔ اور اس کی تصدیق کے لیے انہوں نے اپنے ہاتھوں کو کاٹ بھی دیا تھا۔ بہرکیف جب ان عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ ان کی عظمت شان کی معترف ہوگئیں اور انہوں نے اپنے ہاتھوں کو بھی کاٹ ڈالا۔
55 ۔ حسن بےمثال کی ایک خاص تعبیر : سو یوسف کو دیکھتے ہی وہ ششدر رہ گئیں اور پکار اٹھیں کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ کوئی معزز فرشتہ ہے۔ یہ اس لیے کہا کہ عام طبیعتوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فرشتے سے بڑھ کر کوئی خوبصورت نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ یہ بات بھی عام طبیعتوں میں بیٹھی ہوئی ہے کہ شیطان سے بڑھ کر کوئی بدشکل نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے عام طور پر نیکی اور خوبصورتی میں بےمثال ہونے پر فرشتہ سے تشبیہہ دی جاتی ہے اور بدصورتی و برائی میں بےمثال ہونے پر شیطان سے۔ اور کچھ اسی طرح کی غلط فہمیوں کی بناء پر اہل بدعت بھی حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔ کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ بشر نہیں نور ہوتے ہیں۔ حالانکہ وہ بشر، بلکہ بشر کے بھی اعلی نمونے ہوتے ہیں۔ اور انسان کی اصل خوبی اس کی سیرت و اخلاق سے ہے۔ اور باطن کی یہ خوبی بجائے خود بڑی دلربا چیز ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جب حسن ظاہر بھی شامل ہوجائے تو اس کی دلربائی دو چند ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 12:3256۔ عزیز مصر کی بیوی کا اپنے لیے مجبوری ومعذوری کا استدلال :
سواب تم خود ہی بتاؤکہ کیا میں نے جو کچھ اس ضمن میں کیا اس میں میں معذور اور مجبور نہیں ہوں ؟ سو اس طرح اس عورت نے اپنے لیے مجبوری اور معذوری کا استدلال کیا اور اپنی بےقصوری کے لیے بہانہ ڈھونڈا کہ اس حسن بےمثال پر اگر میں فریفتہ نہ ہوتی تو اور کیا کرتی ؟ سو ان عورتوں کے اس اظہار پر عزیز مصر کی بیوی نے بڑے تیکھے انداز میں ان سے کہا کہ یہی ہے وہ چیز جس کی بناء پر تم نے مجھے طعن وتشنیع کا نشانہ بنالیا تھا ؟ اب تم یہ دیکھ کر خود بتاؤکہ میں ایسے نہ کرتی تو اور کیا کرتی ؟ اور میں اس طرح اس صورت سے کس طرح بچتی ؟
57۔ عزیز مصر کی بیوی کی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دھمکی :
کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو اس کو اس کا بھگتان بھگتنا ہوگا کیونکہ میں اپنے خاوند سے جو چاہوں کرواسکتی ہوں۔ اور میرا مطلب اس سے ختم نہیں ہوگیا بلکہ آئندہ کے لیے بھی باقی و موجود ہے۔ پس اس کے سامنے اب دوہی صورتیں ہیں۔ یا تو میری مراد پوری کرکے ہر طرح کے اور من پسندعیش وآرام میں رہے۔ یا پھر اس سے منہ موڑ کر اور انکار کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کرنے لیے تیار ہوجائے۔ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں مقیدومحبوس ہوکرزندگی گزارے۔ سو اگر یہ اس سے پہلے میرے قابو میں نہیں آیاتویہ نہ سمجھے کہ یہ بچ گیا اور ہم سے چھوٹ گیا۔ بلکہ اگر اس نے اب بھی میری بات نہ مانی توجیل کی ہوا کھانا پڑے گی، سو اس طرح اس عورت نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اپنے دباؤکوجاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
Ayahs 12:33–3558۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و عظمت شان کا ایک مظہر و نمونہ :
کہ اس عورت کی اس دھمکی سے بھی آپ ذرا مرعوب نہیں ہوئے۔ سبحان اللہ۔ کتنا اونچا اور کس قدر پاکیزہ ہوتا ہے حضرات انبیائے کرام کا باطن کہ طرح طرح کے مخاوف اور ہولناک خطرات بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پائے استقلال واستقامت میں ذرہ برابر کوئی لغزش وجنبش پیدا نہ کرسکے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا ایک نیادور شروع ہوتا ہے کہ اپنی ہوی وہوس میں ناکامی کے بعداب وہ عورت انتقام لینے پر آمادہ ہوگئی اور اس کے لیے اس نے آنجناب کو اتنی بڑی صاف وصریح اور کھلی دھمکی دے ڈالی۔ اور وہ تھی بھی ایک بڑے با اختیار شخص کی بیوی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
59۔ پیغمبر کی شان عبدیت اور رجوع الی اللہ کا ایک نمونہ ومظہر :
یہ بھی پیغمبرانہ شان کا ایک اعلی نمونہ ہے کہ اپنی کسی بڑائی اور تعلی کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ بلکہ اللہ ہی کی پناہ اور اسی کی عنایت و کارفرمائی اور رحمت ومشکل کشائی کا سہارا وآسرا ہے۔ اور جب پیغمبروں کا حاجت رواومشکل کشا بھی وہی۔ جل جلالہ۔ ہے تو پھر دوسرا کوئی حاجت رواومشکل کشا کیونکر ہوسکتا ہے ؟ پس غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے دین کی تعلیمات مقدسہ کے برعکس ازخودمختلف ناموں سے طرح طرح کے مشکل کشا اور حاجت رواگھڑرکھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 12:3661۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جیل میں دوساتھیوں کا ذکر وبیان :
ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا اس کے نانبائیوں کا انچارج۔ ان دونوں پر بادشاہ کو زہر کھلانے کا الزام تھا۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل۔ جامع البیان وغیرہ) سو جیل کے ان دونوں ساتھیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزہ اور مقدس شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے سامنے اپنے اپنے خواب پیش کیے اور ان سے ان کی تعبیر پوچھی۔ ان میں سے ایک نے یہ خواب دیکھا تھا کہ وہ انگورنچوڑ رہا ہے اور دوسرے نے یہ کہ اس نے اپنے سر پر روٹیوں کا ایک ٹوکرا اٹھا رکھا ہے جس سے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ ان دونوں کے اپنے یہ خواب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے۔ تاکہ وہ ان کو اس کی صحیح تعبیربت اس کیں۔
62۔ عظمت کردار کی بلندی و تاثیر :
عظمت کردار کی بلندی دیکھئے کہ اس کی بدولت انسان کس طرح دوسروں کے دلوں میں گھر کرلیتا ہے اور اپنا مقام بنالیتا ہے۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسی کی بدولت جیل میں بھی کس طرح ان لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ سو اصل قدروقیمت ظاہری دکھلاؤوں کی نہیں۔ بلکہ باطن اور اخلاق و کردار کی حسن وخوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ کہ یہی وہ دولت ہے جس سے انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدوعلی مایحب ویریدبکل حال من الاحوال۔
Ayah 12:3763۔ خواب کی تعبیر اور دین کی دعوت :
(الا نباتکما بتاویلہ) کی ضمیر مجرور کے مرجع اور اس ارشاد کے مفہوم ومطلب میں دواحتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع خواب ہو۔ کما ہوالمتبادر، یعنی میں تم کو تمہارا کھانا آنے سے پہلے ہی اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ پس تم گھبرانا نہیں کہ کوئی لمبی بات میں تم سے نہیں کروں گا۔ پس دین کے بارے میں مختصر اور ضروری بات کرنے بعد تم کو جلد ہی تمہارے اس خواب کی تعبیر بتادوں گا۔ اور بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ضمیرکامرجع طعام ہے۔ یعنی یہ کہ میں وہ کھانا تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی اس کی حقیقت تمہیں بتا دونگا کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے۔ پس میں جو بات دین کے بارے میں تم کو کہنا اور بتانا چاہتا ہوں اسے تم خوب غور اور توجہ سے سننا اس صورت میں آپ کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس ارشاد کے قبیل سے اور ایک معجزہ ہوگا (وانبعکم بماتاکلون وماتدخرون فی بیوتکم) ہم نے ترجمہ میں دونوں کی رعایت کی ہے۔ دونوں صورتوں میں اس ارشاد سے آپ کی اس حرص اور تڑپ کا پتہ چلتا ہے جو آپ خلق خدا کی اصلاح و ہدایت کے لئے اپنے دل میں رکھتے تھے۔ اور جو خاصان خدا کا اصل مشن ونصب العین ہوتا ہے۔ اور بلاشبہ یہ مشن بہت ہی پاکیزہ، اونچا اور نہایت ہی مقدس مشن ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ سے وارد ہے کہ آپ نے حضرت علی ؓ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہاری وجہ سے ایک شخص بھی راہ راست پر آجائے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں کی عظیم دولت سے بھی بڑھ کر ہے۔ اللہ توفیق بخشے اور اس شرف سے مشرف فرمائے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضاء اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔
64۔ پیغمبرانہ علوم و معارف کی ایک امتیازی شان :
کہ ان کے جملہ علوم و معارف جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہاں پر ارشاد فرمایا سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتے ہیں۔ پس نہ تو یہ کسی انسانی تعلیم کا ثمرہ و نتیجہ ہے اور نہ ہی اس کا کسی شعبدہ اور کہانت وغیرہ سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔ بلکہ یہ خالص حق و ہدایت کا سامان ہے۔ اس لیے اس کو تم غور سے سنو اور اس کو اپنے دل ودماغ میں بٹھا کر سعادت دارین کی راہ کو اپناؤ۔ سو یہ پیغمبر کے علوم کی ایک امتیازی شان ہے کہ ان کے علوم و معارف براہ راست اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں۔ کسی انسان کی تعلیم و تربیت اور بشری کسب واکتساب کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ خوابوں کی تعبیرکایہ علم بھی ان علوم و معارف میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھائے اور عطا فرمائے ہیں۔ پس تم اگر اس علم کو قدروقیمت کی چیزسمجھتے ہو تو یہ بات یاد رکھو کہ اس کا منبع و سرچشمہ میری ذات نہیں ہے بلکہ میرا رب ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جس نے اپنے فضل وکرم سے مجھے ان علوم و معارف سے نوازا ہے اور تعبیرمنام کا یہ علم بھی انہی علوم میں سے ہے۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے مجھے عطا فرمایا ہے۔ فلہ الحمدولہ الشکر۔
65۔ بےایمانوں سے کنارہ کشی نورعلم وعرفان سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جیل کے اپنے ان دنوں ساتھیوں سے فرمایا کہ میں نے ترک کردیا بےایمانوں کے دین کو سو اس سے معلوم ہوا کہ بےایمانوں، مشرکوں اور ان کے طور طریقوں سے علیحدگی اور کنارہ کشی نورعلم و ایمان سے سرفرازی کا اصل ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو معلوم ہوا کہ مشرکوں، بےایمانوں، بدعتیوں اور دوسرے گمراہوں کے طریقوں سے الگ ہونا، نور ایمان سے منور و فیضیاب ہونے اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور ان لوگوں کی معیت ورفاقت اور ان سے دوستی اور محبت، ظلمت و کدورت کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو کامیابی اور فائز المرامی کی راہ یہی ہے کہ انسان تقوی و پرہیزگاری کی روش کو اپنائے، اور سچوں کا ساتھ دے۔ اور انہی کے ساتھ رہے، ارشاد ربانی ہے (یا ایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین) (توبہ : 119) ۔ سبحان اللہ۔ تقوی و پرہیزگاری کو اپنانے اور سچوں کا ساتھ دینے کا یہ دو نکاتی پروگرام کس قدر متخصر، جامع عظیم الشان اور انقلاب آفریں پروگرام ہے۔ اگر آج امت اس سے غافل و لاپرواہ ہے۔ الاماشاء اللہ جل وعلا۔ ان کی اکثریت مادہ اور معدہ کے تقاضوں کی تکمیل ہی میں محوومنہمک ہے۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اس ارشاد سے ایک طرف تو اس امر کو واضح فرمادیا کہ میں نے ان لوگوں کے دین اور ان کی ملت کو ترک کردیا ہے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ جس سے آپ نے ان دونوں نوجوانوں کے لیے راہ حق و ہدایت کو واضح کردیا کہ اگر تم دونوں بھی نورحق و ہدایت سے اپنے باطن کو معمور ومنور کرنا چاہتے ہو تو تمہیں ان لوگوں کی ملت اور ان کے طور طریقوں کو چھوڑنا ہوگا جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور دوسری طرف اس سے انہوں نے اس حقیقت کو بھی واضح کردیا کہ میں نے اس راستے کو اپنایا ہے تو اس لیے نہیں کہ یہ میرے باپ دادا کی میراث ہے۔ بلکہ اس لیے کہ یہی راہ حق وصواب ہے۔ اور باطل کو جو چھوڑا تو اسی لیے کہ اس کا باطل ہونا میرے سامنے پوری طرح واضح ہوچکا ہے۔ اور راہ حق کو اپنانا ہی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔
Ayahs 12:38–3966۔ باپ دادا کی پیروی مشروط بالحق ہے :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ باپ دادا کی پیروی مطلوب و محمود ہے جبکہ وہ حق پر ہوں۔ کہ وہ پیروی ان کی نہیں بلکہ اصل میں حق ہی کی پیروی ہوتی ہے۔ پس اپنے باپ دادا اور بڑے بزرگ جب راہ حق وصواب پر ہوں تو ان کی اتباع و پیروی کرنا مذموم نہیں، بلکہ محمود و مطلوب ہے۔ اور یہ اندھی تقلید کے زمرے میں نہیں آئے گا بلکہ اتباع حق وصدق کے ہی قبیل سے ہوگا۔ اور حق وصدق کی اتباع و پیروی دین حق کا تقاضا بلکہ اصل دین ہے۔ اور اسی پر سارا مدارو انحصار ہے سعادت دارین کا۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ سو عقیدہ توحید عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضا ہے کہ شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ نہ ہماری عقل و فطرت میں اور نہ آفاق وانفس میں۔ یہ عقل ونقل سب کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
67۔ عقیدہ توحیدعقل و فطرت کا تقاضا :
پس ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں کہ اس وحدہ لاشریک کا کسی بھی طرح کوئی شریک نہ ہے اور نہ ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ نہ اس کی ذات وصفات میں، اور نہ ہی اس کے حقوق واختیارات میں۔ وہ احدوصمد اور یکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جس کا کوئی شریک سرے سے ہو ہی نہ اور نہ اس کا کوئی شریک ممکن ہی ہوسکے، اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا سب سے بڑا ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
68۔ عقیدہ توحید ایک عظیم الشان فضل خداوندی :
کہ عقیدہ توحید عقل سلیم کا تقاضا اور فطرت مستقیم کی پکار ہے۔ اور یہ عظیم الشان نعمت انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہم کنار کرنے والی حقیقی اور دلی امن وسکون سے بہرہ ور کرنے والی، شرک اور شرکیات کی ذلتوں سے بچاکر انسان کو اس کے حقیقی مرتبہ ومقام اور عزوشرف سے سرفراز کرنے والی ہے فالحمد للہ رب العالمین۔ لیکن دنیا ہے کہ اس کی اکثریت اس توحید سے منہ موڑ کر شرک اور شرکیات کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ جگہ جگہ ذلت و خواری کے دھکے کھاتی پھر رہی ہے اور اپنی ہلاکت و تباہی کے راستے پر بڑھتی چلی جارہی ہے اور اس کو احساس تک نہیں کہ وہ کتنے بڑے خسارے کا سامان کر رہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 12:4071۔ معبودان من دون اللہ محض من گھڑت نام ہیں اور بس :
سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا تمہارے خود ساختہ معبود محض نام ہیں جن کو تم نے خود گھڑا ہے۔ کہ اس کے سوا ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔ جو کہ کہیں " عزی " ہیں اور کہیں " اساف " و " نائلہ "۔ کہیں فلانی دیوی اور فلاں دیوتا۔ اور کہیں " کانواں والی سرکار " اور " بلیوں والی سرکار " وغیرہ وغیرہ۔ سو ان سب کی ان خود ساختہ ناموں کے سوا اور کوئی اصل اور حقیقت نہیں۔ والیعاذ باللہ العظیم۔ سو ان خود ساختہ معبودوں کی نہ کوئی اصل ہے نہ حقیقت سوائے ادہام و خرافات کی پیروی اور ظن و گمان پر مبنی ڈھکوسلوں کے۔ حالانکہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا تقاضایہی ہے کہ معبودبرحق ایک اور صرف ایک ہی ہے۔ جیسا کہ وحی خداوندی اور کلام حق میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جآء ہم من ربہم الھدی) (النجم : 23) یعنی یہ لوگ پیروی نہیں کرتے مگر محض ظن اور گمان کی اور ان چیزوں کی جو ان کے نفس چاہتے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔
72۔ فرمانروائی کا حق اللہ ہی کے لیے ہے :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ حکم اور فرمانروائی نہیں مگر صرف اللہ کے لیے پس حاکم حقیقی اور معبود برحق وہی اور صرف وہی ہے کہ خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہ کائنات ساری اسی کی ہے اور اس میں حکومت و فرمانروائی اسی وحدہ لاشریک کی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ اس میں کسی بھی اس کا شریک ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم اور ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو توحید خداوندی عقل ونقل اور فطرت سلیم و مستقیم سب کا تقاضا ہے۔ اگر ایک غلام کو یہ کہا جائے کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی آقا کی غلامی چاہتا ہے یا کئی اور مختلف آقاؤں کی ؟ تو وہ یقینا اور یکدم یہی کہے گا کہ ایک ہی آقا کی۔ کہ یہ اس کی عقل و فطرت کی پکار ہے۔ تو پھر مختلف اوخودساختہ آقاؤں کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ازخود ڈالنا اور مختلف خودساختہ خداؤں کی خدائی کو اپنے سروں پر خودمسلط کرنا آخرکہاں کی دانشمندی ہے ؟ بہرکیف ایک ہی خدا کو پکارنا جو کہ معبود برحق اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اسی کے لیے بجالانا ہی سیدھا راستہ اور دین فطرت ہے اس کے سوا ہر طریقہ ٹیڑھا اور حق و ہدایت سے ہٹا ہوا ہے۔ اور بیماریوں کی بیماری اور فتنہ و فساد کی جڑ بنیاد ہے۔ جس کا نتیجہ وانجام سراسر محرومی اور ہلاکت و تباہی ہے۔ والیعاذ باللہ العظیم بکل حال من الاحوال۔
73۔ اکثر لوگ علم سے محروم اور بےبہرہ :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ سو وہ جانتے نہیں کہ حق اور حقیقت کیا ہے اور باطل و بناوٹ کیا ؟ اور اسی وجہ سے وہ طرح طرح کے شرک میں مبتلاہوتے ہیں اور انہوں نے خالق اور مخلوق کے درمیان قسماقسم کے واسطے اور وسلیے از خود کھڑے کر رکھے ہیں۔ سو بیماریوں کی بیماری اور سب فسادوخرابی کی اصل اور جڑبنیاد جہالت وبے خبری ہی ہے۔ حق و حقیقت کے بارے میں لوگوں کی غالب اکثریت ایسی ہی ہے جو
صرف مادہ ومعدہ کے تقاضوں کی تکمیل میں لگی ہوئی ہے اور وہ حق اور حقیقت کو سمجھنے اور اس کی فکر ہی نہیں کرتے کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ (یعلمون ظاہرامن الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غافلون) ۔ (الروم : 6) سو علم یعنی حق اور حقیقت کا علم وہ نور ہے جو انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں روشن کرتا ہے۔ اور اس کے بغیر انسان اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ پس علم سے مرادوحی اور دین کا علم ہے۔ اس سے سرفرازی سعادت دارین کی سرفرازی ہے اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 12:4174۔ حسن ادب اور لطف تخاطب کا ایک عمدہ نمونہ :
حسن ادب اور لطف تخاطب ملاحظہ ہو کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا انجام جدا اور واضح ہونے کے باوجود ان کو صراحت کے ساتھ یوں نہیں فرمایا کہ تم رہا ہوگے اور تم کو پھانسی دی جائے گی۔ بلکہ عموم کے صیغے کے ساتھ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا اور ایک ساتھ یہ تاکہ دل شکن بات کو صراحت کے ساتھ اپنی زبان پر بھی نہ لائیں۔ کیونکہ شان تبشیرو تیسیر ہے نہ کہ تنفیر اور تندخوئی وترشروئی۔ العیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) دعوت حق سے جب فارغ ہوئے تو حسب وعدہ ان دونوں کی خواب کی تعبیربتلادی۔
Ayahs 12:42–4375۔ رہا ہونے والے ساتھی سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ایک مطالبہ :
کہ اپنے آقا کے سامنے میرا ذکر بھی کردینا۔ جیسا کہ تم نے مجھے یہاں دیکھا اور جو کچھ میرے بارے میں سنا۔ شاید کہ اس طرح وہ میرے بارے میں غور کرے اور عدل وانصاف سے کام لے۔ اور اس طرح میرے جیل سے باہر نکلنے کی سبیل پیدا ہوسکے۔ مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا۔ کہ اللہ پاک یہ نہیں چاہتا کہ اس کے اور اس کے ایسے پاکیزہ بندوں کے درمیان کوئی واسطہ حائل ہو، خواہ وہ جائز اور صحیح واسطہ ہی کیوں نہ ہو۔ سو کسی جائز مقصد کے لیے حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے تدابیرو وسائل کا اختیار کرنا نہ منع ہے۔ اور نہ توکل اور اعتماد علی اللہ کے خلاف ہے۔ مگر حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ کی عظمت شان اور رفعت مقام کے تقاضے الگ ہوتے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کا تقاضایہی ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی مزید کچھ اور سال جیل کے اندرگزاریں۔ سورة ائی پانے والا وہ شخص حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ذکر اپنے مالک سے کرنا بھول گیا۔ اور اس اس نسیان کو شیطان کی طرف اس لیے منسوب کیا گیا کہ نیکی کے کسی کام سے غافل کرنا شیطان ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اپنے مقاصد کے لیے تدابیرو وسائل کا اختیار کرنا تو انسان کا کام ہے لیکن ان کا مفید ومؤثرہونا اور ان کا کام دینا اللہ تعالیٰ ہی کی تقدیر اور اس کی مشیت اور حکمت پر موقوف ومنحصر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
76۔ (بضع سنین) سے مراد ؟ :
" بضع " کا اطلاق تین سے لے کر نو تک کے عدد پر ہوتا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس کا اطلاق سات پر ہوتا ہے۔ اور اکثر کے نزدیک یہاں پر یہی مراد ہے۔ (المراغی وغیرہ) حضرات مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے حضرت حق۔ جل و مجدہ کی بجائے اس کی مخلوق پر تکیہ کیا تو اس لیے ان کو اتنا عرصہ مزیدجیل میں رہنا پڑا۔ (القرطبی، الصفوۃ وغیرہ) حالانکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ عمل وارشادصرف ظاہری سبب اور وسیلہ کے درجے میں تھا۔ جو کہ ایک جائز اور مشروع امر ہے۔ مگر آپ کی شان رفیع اور مقام عالی کی بناء پر اس پر بھی آپ کی گرفت ہوئی۔ تو پھر کیا خیال ہے آپ کا ان لوگوں کے بارے میں جو کہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کی بجائے اس کی کسی مخلوق ہی کو پکارتے ہیں اور وہ ایمان واسلام کا دعوی کرنے کے باوجودصاف اور صریح طور پر کہتے ہیں کہ ہمارا کام تو انہی ہستیوں اور سرکاروں سے بنتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 12:44–4577۔ (اضغاث) کا معنی و مفہوم ؟ :
" اضغاث " جمع ہے " ضغث " کی۔ جس کے معنی اس گھٹڑ کے آتے ہیں جس میں سوکھی اور گیلی ہر طرح کی لکڑیاں جمع ہوں۔ یہیں سے یہ لفظ بےحقیقت باتوں اور خوابہائے پریشان کے بارے میں استعمال ہونے لگا، پس مطلب یہ ہوا کہ یہ یونہی پریشان خیالات ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس لیے ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ اور ہم لوگ جو امور سلطنت کو سمجھنے سنبھالنے میں تجربہ اور مہارت رکھتے ہیں، ایسی خوابہائے پریشان کی کوئی تعبیر نہیں بتاسکتے۔ کیونکہ اس طرح کے پریشان خیالات کی کوئی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ ایسے خیالات یونہی آتے جاتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان کی بناء پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سو اس طرح ان درباری لوگوں نے ایک طرف تو بادشاہ کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی کہ جہاں پناہ ایسے خوابوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ یہ یونہی خواب پریشان کی نوعیت کے خیالات ہوتے ہیں جن کی نہ کوئی اصل اور حقیقت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی کوئی تعبیردی جاسکتی ہے۔ اور دوسری طرف اس سے انہوں نے اپنا بھرم رکھنے کی بھی کوشش کی کہ ہمارا کام بامعنی خوابوں کی تعبیربتانا ہوتا ہے نہ کہ ایسے خوابہائے پریشان کی۔
Ayah 12:4678۔ یوسف سراپاصدق وصفا :
سوجیل پہنچنے پر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس طرح کے معزز وصف سے یاد کیا۔ " اے یوسف سراپا صدق " کیونکہ یہاں پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو صادق نہیں، صدیق سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ جو کہ صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جیل کے دوران حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صداقت شعاری اور عظمت کردار سے وہ لوگ اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ کو صادق کی بجائے صدیق کے وصف سے یاد کیا۔ یعنی " اے سراپاصدق " اے پیکر صداقت "، " اے صدق مجسم "۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اس شخص نے جب بادشاہ کے دربار میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اس بات کا ذکر کیا اور انہوں نے اس کی بات پر اعتماد کرکے اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملنے کے لیے جیل جانے کی اجازت دے دی اور وہ جیل کے لیے چل پڑا اور وہاں پہنچ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس طرح خطاب کیا توبیچ کے اس سارے کلام کو حذف کردیا گیا۔ کہ یہ سب کچھ خودسمجھ میں آنے والا ہے۔ اس لیے اس سب کو قاری اور سامع کے ذہن اور اعتماد پر چھوڑدیا گیا، سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن حکیم کا مقصد محض قصہ گوئی اور داستان سرائی نہیں کہ اس کے ہر ہر جزء کو بیان کرے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد درس عبرت وموعظت ہے۔ اسی کے حساب سے ضروری اور مفید حصوں کو ذکر کیا جاتا ہے اور باقی کو قاری اور سامع کے ذہن پر چھوڑدیا جاتا ہے۔
79۔ تعبیرخواب کے اصل مقصد کی وضاحت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس جاکران سے کہا کہ اے یوسف (علیہ السلام) ان خوبوں کے تعبیربتاؤتاکہ میں جاکران سے آگاہ کرسکوں تاکہ وہ لوگ جن لیں، یعنی وہ جان لیں اس خواب کی حقیقت وتعبیرکو بھی اور آپ کے فضل و کمال کو بھی۔ اور اس طرح بادشاہ اور اس کے متعلقین کی پریشانی کا بھی ازالہ ہو اور آپ کے علم وفضل سے آگہی پانے کے بعد آپ کی رہائی کی بھی کوئی صورت نکل آئے۔ سو اس میں اس بارے بھی لطیف اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ تو یوں ہی اٹکل کے تیرچلاتے ہیں البتہ آپ جو بتائیں گے وہ علم صحیح کی روشنی پر مبنی ہوگا۔ اور اسی سے ان لوگوں کو علم کی روشنی نصیب ہوسکے گی۔ اسی لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔
Ayah 12:4780۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کمال اخلاق کا ایک نمونہ و مثال :
سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال اخلاق یہاں پر بھی ملاحظہ ہو کہ نہ تو آپ نے اس شخص سے کوئی گلہ شکوہ کیا کہ تم کو اتنا عرصہ اپنے مالک سے میرے بارے میں کلمہ خیرکہنے کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ اور اب مطلب پڑنے پر فورا میرے پاس پہنچ گئے ہو۔ اور نہ ہی ایسی کوئی شرط رکھی کہ پہلے مجھے جیل سے رہاکرو۔ پھر میں اس کی تعبیر بتلاؤنگا وغیرہ وغیرہ۔ اور مزیدیہ کہ ان لوگوں نے تو صرف تعبیرپوچھی تھی مگر آپ نے ازخود ان کو تدبیر بھی بتلادی۔ تاکہ وہ لوگ اس کے مطابق پیش بندی کرلیں اور آنے والے اس ہولناک قحط کی ضرررسانیوں سے بچنے اور محفوظ رہنے کا سامان کرلیں۔ اور یہی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام کی فیض رسانی اور ہمدردی و خیرخواہی کی۔ اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ کہ انسان کی اصل خوبی یہی ہے کہ وہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔ وباللہ التوفیق۔
81۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ایک تدبیر کی تعلیم و تلقین :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آنے والے قحط سے نبھٹنے کے لیے ایک تدبیر کی تعلیم و تلقین کے طور پر اس شخص سے فرمایا کہ جو کچھ تم کاٹو اس کو تم ان بالیوں ہی میں رہنے دینا تاکہ وہ گھن وغیرہ سے محفوظ رہے اور اتنا عرصہ تمہیں کام دے سکے کہ خوشے کے چھلکے کے اندرگھن نہیں لگ سکتا۔ سبحان اللہ۔ کہ کہنے قدرت کی مصنوعات و مخلوقات کی حکمتوں اور حیرت انگیزیوں کے کہ اس کی ہر چیز بےمثال ہے۔ جب غلہ تیار ہوتا ہے تو ایک ایک کھیت میں کتنے ہی لاتعدادو بیشمار دانے ہوتے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک دانے پر قدرت کی طرف سے ایسے پر حکمت طریقے سے ایک غلاف چڑھادیا جاتا ہے جو اس کو اس طرح کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے جس کی کوئی نظیرو مثال دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی حکومت بھی اپنی ترقی کے تمام تر اور بلندبانگ دعو وں کے باوجود نہیں پیش کرسکتی۔ بلکہ دنیا کی تمام حکومتیں اپنے تمام تر وسائل کو یکجا کر کے اور اجتماعی کوشش سے بھی اس کا کوئی نمونہ یا مثال پیش نہیں کرسکتیں۔ سبحان اللہ من خالق عظیم جلیل۔ سو کس قدر ظالم اور بےانصاف ہے وہ انسان جو اس خالق ومالک رب رحمن ورحیم اور وہاب و کریم سے منہ موڑے اور غفلت برتے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر وہ اس ظلم وبے انصاف کا ارتکاب کرے کہ وہ اس کو چھوڑ کر اوروں کے آگے جھکے۔ سجدہ ریز ہو اور ان کو حاجت وروامشکل کشاجان کر پوجے پکارے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہم مالک الملک خذنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یاذالجلال والاکرام۔
Ayah 12:4882۔ سالوں کے جمع شدہ غلہ کھاجانے کا مطلب :
یہ اسناد مجازی ہے۔ یعنی قحط کے ان سات سالوں میں تم اپنا وہ سب غلہ کھالوگے جو تم نے اس سے پہلے جمع کر رکھا ہوگا۔ کیونکہ سال کوئی ایسی چیز نہیں جو غلہ کھا سکے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس دوران انسان اور جانور وہ جمع شدہ غلہ کھالیں گے۔ (معارف القرآن وغیرہ) سو اس سے خواب کے دوسرے حصے کی تعبیر بتائی گئی کہ سات متواتر سال نہایت قحط کے آئیں گے جو اس سارے ذخیرے کو چٹ کرجائیں گے جو تم نے ان کے لیے جمع کیا ہوگا بجز ایک تھوڑے سے حصے کے۔ کہ وہ محفوظ رہیگا اور مشکل وقت میں تم لوگوں کو کام آئیگا۔
83۔ قحط کے زمانہ میں کام آنے والے غلے کے استثناء کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ قحط کے وہ سات سال اس تمام غلے کو چٹ کرجائینگے جو تم نے ان کے لیے جمع کیا ہوگا اپنی ضرورتوں اور بیچ وغیرہ کے لیے۔ سو سات موٹی تازہ گایوں اور ہری بھری بالوں سے مراد خوشحالی کے یہ سات سال ہیں اور سات دبلی پتلی گایوں لیے۔ سو سات موٹی تازہ گایوں اور سوکھی سڑی بالوں سے مراد قحط وخشک سالی کے یہی سات سال ہیں۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ وحی خداوندی ہی سے ان کو بتایا۔ (المراغی، المحاسن، الکشاف، المنار وغیرہ) ۔ اور ظاہر ہے کہ جس چیز کی اساس وحی خداوندی پر ہو اس میں کسی شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ہے اور نہ کسی کا کوئی خدشہ و امکان۔ اور پیغمبر جو کہتے ہیں نور وحی کی بنیاد ہی پر کہتے ہیں۔ اس لیے ان کے ہر قول وارشاد کی حیثیت سب سے بالکل مختلف اور الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔
Ayah 12:4984۔ قحط سالی کے بعد خوشحالی کے سال کی خوشخبری :
کہ قحط سالی کے ان سات سالوں کے بعد خیروبرکت اور خوشحالی کا ایک سال ایسا آئے گا جس میں خوب بارش ہوگی اور اس میں لوگ خوب رس نچوڑیں گے۔ انگور اور زیتون وغیرہ کے رس جو وہ لوگ نچوڑا کرتے تھے۔ نیزدودھ دینے والے جانوروں کے دودھ بھی جو کہ بارش کے اس سال کے دوران بڑھ جائیں گے۔ یہ خواب کی تعبیر کا حصہ نہیں تھا بلکہ آپ نے اس پر زیادتی کے طور پر ازراہ کرم و عنایت، اللہ پاک کے القاء والہام سے ان لوگوں کو از خودبتادیا۔ تاکہ اس طرح یہ ان کے لیے امن واطمینان اور خوشی کا پیغام ہوجائے کہ یہ بھی ایک بڑی نیکی ہے کہ کسی مغموم انسان کے لیے خوشی ومسرت کا سامان کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ سے صحیح حدیث میں ثابت و وارد ہے کہ مومن کے لیے خوشی کا سامان کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ وانہ علی کل شیء قدیروھو الھادی الی سواء السبیل۔
Ayah 12:5085۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مکارم اخلاق کا ایک اور نمونہ :
کہ آپ نے بادشاہ کی دعوت کو فورا قبول کرنے کی بجائے قاصد سے کہا کہ تم واپس جاکر اپنے مالک سے کہو کہ وہ ان عورتوں کے بارے میں اصل حقیقت واضح کرے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے تاکہ اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے۔ اور میری بیگناہی ثابت ہوجائے کہ راہ حق کے راہی اور پیغام حق کے مبلغ وداعی کا دامن ہر طرح کے داغ دھبے سے پاک وصاف ہونا ضروری ہے۔ فایاک نسال اللہم التوفیق لذالک والثبات علیہ۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی اس پوزیشن کو واضح کرنے کے لیے بادشاہ کے قاصدوں کو یوں ارشاد فرمایا کہ جاکران عورتوں کے بارے میں پتہ کرو کہ ان کا کیا حال تھا کہ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ سو یہاں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مکارم اخلاق کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ آپ نے اس موقع پر ان عورتوں کا نام لیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے، مگر عزیز مصر کی بیوی کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔ حالانکہ اس پورے قصے اور فتنے میں اصل کرداراسی کا تھا۔ اور یہ اس لیے کہ آپ نے کچھ عرصہ اس کے یہاں کھایا پیا تھا اور پرورش پائی تھی، اس لیے اس کے اس احسان کی بناء پر اس کا نام نہیں لیا۔ (معارف القرآن وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یرید ویحب وعلی مایحب ویرید۔
86۔ بادشاہ کا عورتوں سے صیغہ جمع کے ساتھ خطاب :
اگرچہ اصل بنیاداس میں عزیز مصر کی اپنی بیوی تھی لیکن دوسری بیگمات بھی اس قصے میں کسی نہ کسی طور پر اور کسی نہ کسی حد تک ضرورشریک اور ملوث تھیں۔ اس لیے سوال میں ان کو بھی شامل کیا گیا اور (خطبکن) کے صیغہ جمع سے ان کو مخاطب کیا گیا۔ اور ان سے پوچھا گیا کہ یوسف کو پھسلانے ورغلانے کے سلسلہ میں تمہارا کیا معاملہ تھا ؟ یہاں پر بھی قرینے کی بناء پر کلام کا اتنا حصہ محذوف ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے اس ہدایت کے بعد قاصد نے واپس جاکر بادشاہ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ پیغام پہنچایا۔ اس پر بادشاہ نے ان تمام عورتوں کو بلوا کر ان سے پوچھا کہ تمہارا کیا ماجرا ہے جب تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ یعنی اصل حقیقت کیا ہے ؟