12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

(اس پر) بادشاہ نے (ان عورتوں سے دریافت کرنے کے لئے) کہا کہ کیا معاملہ ہے تمہارا اے (ہماری اعلیٰ سوسائٹی کی) عورتو ! جب کہ تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، اس پر ان سب نے (ایک زبان ہو کر) کہا حاش اللہ، ہم نے تو اس میں برائی کا کوئی شائبہ تک نہیں پایا اس موقع پر عزیز کی بیوی بول اٹھی کہ اب تو حق پوری طرح کھل چکا ہے (امر واقعہ یہ ہے کہ) میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، ورنہ یہ قطعی طور پر (اور ہر لحاظ سے) سچا ہے،3

87۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عفت و پاکدامنی کا اعلان و اقرار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ان سب عورتوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کہا کہ اللہ کی پناہ اس کے اندرہم نے برائی کا کوئی شائبہ تک نہیں پایاسو اس طرح ان سب نے اس امر کی تصریح کردی کہ یوسف نے کوئی جرم نہیں کیا یعنی معاذ اللہ یوسف نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا دامن ایسے ہر داغ دھبے سے پاک اور صاف ہے۔ سو یہ ایک بڑاشرف اور اعزاز ہے کہ مدعی خود اپنے جھوٹا ہونے کا اور ملزم کے پاک اور بری ہونے کا اقرار و اعتراف کرے۔ والفضل ماشہدت بہ الاعداء کما قال بہ الزمخشری۔ بادشاہ کے سوال کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مرحلے پر اس کے سامنے اصل حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی تھی کہ یہ ساراچھل فریب اصل میں ان عورتوں ہی کا تھا۔ یوسف کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں تھا۔ اگر بادشاہ کے سامنے یہ حقیقت واضح نہ ہوچکی ہوتی تو اس کا سوال کا انداز اس سے مختلف ہوتا اور وہ ان سے اس کی بجائے اس طرح پوچھتا کہ وہ کیا واقعہ ہے جو یوسف کے ساتھ تمہیں پیش آیا ہے ؟ مگر اس نے اس موقع پر ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ 88۔ عزیز مصر کی بیوی کا اقرارجرم : کیونکہ اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہیں رہ گیا تھا کہ حق اور سچ اب پوری طرح صاف اور واضح ہوگیا تھا۔ اس لیے اس نے صاف اور صریح طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی براءت وبے قصوری اور اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ دراصل سچائی اپنے ظہور کے لیے صبر کا مطالبہ کرتی ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ اس کو اختیار کرلیتا ہے اور اس صبروبرداشت اور استقلال واستقامت سے کام لیتا ہے جو کہ اس کے لیے مطلوب ہوتا ہے اور اس کا حق صحیح طور پر اور پوری طرح ادا کردیتا ہے تو یقینا اور لازما وہ و قت آتا ہے کہ جب اس کی صداقت کی صدائے بازگشت درودیوار سے سنائی دینے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے دشمن بھی اس کی صداقت و سچائی کی گواہی دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور ان کے لیے بھی اس کی تصدیق کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔ 89۔ حق اور سچ ظاہر ہوکررہتا ہے : سوعزیز مصر کی بیوی نے صاف اور صریح طور پر کہا کہ اب حق پوری طرح واضح ہوچکا ہے۔ یعنی یہ کہ سب قصور اور جرم میرا تھا۔ یوسف اس سے بہرحال بری اور بےقصور ہیں۔ سو جب انسان کا اپنا دامن پاک اور باطن صاف ہو اور پائے استقلال واستقامت میں لغزش نہ آئے تو آخرکار اس کی صداقت اس طرح نکھر کر اور واضح ہو کر سامنے آتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق اور ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔ پس حق اور سچ کی اپنی قوت ہے۔ وہ اپنے وقت پر پوری طرح واضح ہوکررہتا ہے مگر اس کے لیے ایک خاص حدتک صبروبرداشت اور استقلال واستقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر والے حاشیے میں بھی گزرچکا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 90۔ یوسف ہر لحاظ سے سچے : اس الزام میں جو اس نے اس پر لگایا ہے۔ سو یہ ہے سچائی کا نتیجہ اور صبر کا پھل جو آج حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سب کے سامنے اس طرح مل رہا ہے۔ فصدق اللہ القائل۔ (ان اللہ مع الصابرین) سو صدق و سچائی میں نجات ہے اور کذب بیانی میں ودروغ گوئی میں ہلاکت۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عظیم الشان صبرنے حالات کا رخ اس طرح پلٹ دیا تھا کہ اب کسی کے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا تھا کہ وہ ان کے خلاف کچھ کہہ سکے، سو ان عورتوں نے بھی اس موقعہ پر صاف وصریح طور پر حق کا اقرار کیا اور تاکیدی الفاظ و کلمات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نزاہت و براءت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم نے اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا لیکن ان پر برائی کا کوئی نقش نہیں پایا۔ اور خودعزیز کی بیوی جس نے یہ سارافتنہ اٹھایا تھا وہ اعتراف حق میں ان عورتوں سے بھی آگے نکل گئی اور اس نے کہا کہ حق پوری طرح آشکاراہو گیا ہے۔ اب اس کو چھپانے سے کیا فائدہ ؟ میں نے ہی اس کو پھسلانے اور پھانسنے کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ بچ نکلا اور بالکل محفوظ رہا۔ بلاشبہ یہ سچوں اور راست بازلوگوں میں سے ہے۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

(یوسف نے کہا) یہ سب کچھ (میں نے) اس لئے کیا تاکہ وہ (عزیز) جان لے کہ میں نے اس سے کوئی خیانت (و بددیانتی) نہیں کی اس کی غیر موجودگی میں، اور تاکہ (واضح ہوجائے یہ حقیقت کہ) اللہ چلنے نہیں دیتا خیانت کرنے والوں کی فریب کاریوں کو،

91۔ خیانت کاری چلنے والی چیز نہیں : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ خیانت کاروں کی فریب کاریوں کو نہیں چلنے دیتا جس طرح کہ یہاں عزیزمصر کی بیوی کی فریب کاری نہیں چل سکی اور اس کے برعکس مجھے یہ عزت بخشی گئی۔ سو ابتلاء و آزمائش کے مراحل تو پیش آتے ہیں لیکن آخرکار کامیابی بہرحال حق اور سچ ہی کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے کا دامن پاک ہو اور وہ راہ حق پر استقلال واستقامت سے کام لے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وہوالہادی الی سواء السبیل۔ سو اپنا دامن بےداغ ثابت ہوجانے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس کی وجہ بھی بیان کردی کہ انہوں نے اس قصے کو از سرنو چھیڑنا کیوں ضروری سمجھا۔ سو فرمایا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ بادشاہ کے سامنے یہ حقیقت اچھی اور پوری طرح واضح ہوجائے کہ مجھے بالکل بےگناہ جیل میں ڈالا گیا تھا۔ میں نے عزیز کے ساتھ اس کی پیٹھ پیچھے کوئی خیانت نہیں کی تھی۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ خیانت اور بددیانتی کرنے والوں کی چالوں کو کامیاب اور بامراد نہیں ہونے دیتا۔ سوخیانت بڑی بری چیز ہے، اسی لیے صحیح حدیث میں اس کو منافق کی علامت قراردیا گیا ہے، چناچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی نشانیاں تین ہیں، کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے سوخیانت منافق کی صفت اور اس کی علامت ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلابکل حال من الاحوال۔ اللہم اھدنا لاحسن الاخلاق ولایھدی لاحسنھا الا انت واصرفناعن سیئھا ولایصرف عن سیئھا الا انت بیدک الخیرانک علی کل شیء قدیر۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں برات نہیں کرتا اپنے نفس کی کہ یقینا نفس کا تو کام ہی ہمیشہ برائی پر اکسانا ہے، مگر جس پر رحم فرما دے میرا رب، بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔1

92۔ پیغمبر کی شان عبدیت کا ایک نمونہ ومظہر : سو یہ پیغمبر کی شان عبدیت کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ آپ اپنی پاکیزگی کے دعوے سے اس طرح اظہار براءت کرتے ہیں۔ سو یہ ہے شان نبوت کا تقاضا اور اس کا امتیاز کہ اپنے آپ سے خیانت کی نفی کرتے ہی یہ خیال آگیا کہ اس میں اپنی بڑائی اور پاکیزگی کا بول پایا جاتا ہے۔ اس لیے فورا اس کے تدارک کے لیے متوجہ ہوگئے کہ اپنی پاکیزگی اور بڑائی کا دعوی اللہ پسند نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ (فلاتزکوا انفسکم ھواعلم بمن اتقی) یعنی " تم لوگ اپنی پاکیزگی اور بڑائی کے دعوے مت کرو۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ کون ہے پاکیزہ "۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 93۔ بچے گا وہی جس کو اللہ بچائے : سونفس و شیطان کی شرارتوں سے وہی بچ سکے گا جس پر اللہ رحم فرمائے۔ اور وہ اپنے کرم سے اسے بچالے کہ وہی بچانے والا ہے رونہ اس کے کرم کے بغیر کوئی بھی نفس و شیطان کے شرور اور ان کی ہلاکت خیزیوں سے نہیں بچ سکتا۔ فایاک نسال اللہم ان تعیذنا من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا وان تاخذنا بنواصینا الی مافیہ صلاح دنیانا وفوز عقبانا۔ فانک انت مولانایا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین۔ یاذالاجلال والاکرام۔ بہرکیف یہ ہے حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت و تواضع کہ ہر حال میں اور ہر موقہ پر اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی سے اس کی رحمت و عنایت کا سوال کرتے ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

(یہ سن کر) بادشاہ نے کہا کہ ان کو میرے پاس لے آؤ، تاکہ میں ان کو خالص اپنے لیے (مقرر) کرلوں، پھر جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی، تو اس نے کہا کہ اب آپ ہمارے یہاں بڑے معزز معتمد ہیں، 2 ف

94۔ آزمائشوں کے بعدعنایات کے دور کا آغاز : سو یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر آزمائشوں کے بعدعنایات کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ بادشاہ نے ان کو اپنے لیے چن لیا کہ بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر عمدہ اور نفیس چیز کو اپنے لیے مخصوص کرلیتے ہیں۔ اور گوہر شناسی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے گوہر کو فورا اپنایا جائے۔ اور جوہر تابدار کا حق بھی یہی ہے کہ وہ تاج شاہی میں سجے۔ اس لیے بادشاہ کو جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اور آپ کے کمالات کے بارے میں علم ہوا تو اس نے فورا آپ کے لیے بلاوا بھیجا۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا دوراب ختم ہوگیا اور اب عنایات ونوازشات کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔ بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان گوناگوں کمالات کی بناء پر آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ اس لیے اس نے کہا کہ ان کو میرے پاس لے آؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے چن کر اپنا خاص معتمد بنالوں۔ اور شخصی حکومتوں میں جہاں سارے اختیارات کا مرکز بادشاہ کی ذات ہوتی ہے وہاں پر بادشاہ کا کسی کو اپنا معتمدخاص بنالینا اور وہ بھی اس عقیدت اور گرویدگی کے ساتھ جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اس بادشاہ کی دل میں پیدا ہوگئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گویا بادشاہ نے اپنے اختیار اور اقتدار کی پوری باگ ڈور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالے کردینے کا اعلان کردیا۔ والحمد للہ جل وعلا۔ 95۔ حسن تخاطب سے شخصیت کا اندازہ واظہار : سوملاقات اور باہمی گفتگوپر بادشاہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اور بھی زیادہ گرویدہ ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ باہمی تخاطب اور گفتگوایسی چیز ہے کہ اس سے آدمی کی شخصیت اور اس کے مرتبہ ومقام کا پتہ چل جاتا ہے۔ اور گوہرشناس نظریں اس سے اپنے گوہر مطلوب کو پہچان لیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے لطف کرم سے حسن تخاطب اور سلیقہ گفتگو نصیب فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف ملاقات اور باہمی گفتگو سے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بادشاہ کی گرویدگی میں اور اضافہ ہوگیا اور اس نے آنجناب سے صاف اور واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اب آپ ہماری حکومت میں ایک با اقتدار اور معتمد شخصیت ہیں۔ اس طرح بادشاہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنی حکومت میں بڑے سے بڑے منصب کی پیشکش کردی اور معاملہ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر چھوڑدیا کہ آپ اس کو کس صورت میں قبول کرتے ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

(پھر جب اس متوقع قحط سے نمٹنے کی بات چلی) تو یوسف نے کہا آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر (و مامور) کرلیں، میں پوری پوری حفاظت بھی کروں گا اور میں پوری واقفیت بھی رکھتا ہوں (اس پر اس نے آپ کو پورے اختیارات سونپ دئیے) 3 ف

96۔ اصلاح نظام اور خدمت خلق کے لیے منصب کا مطالبہ : کہ آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں۔ تاکہ اس طرح مجھے نظام کار کی اصلاح اور خدمت خلق کا موقع مل سکے۔ سو یہ کوئی اپنی نوکری کا مطالبہ نہیں تھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی شخصی منفعت کے لیے جھٹ کردیا ہو کہ نظام کفر میں ایک کل پرزے کی طرح کام کرنا تو نبی کی شان ہی نہیں۔ بلکہ یہ مطالبہ دراصل اصلاح احوال اور خدمت خلق کے جذبے کے تحت تھا۔ تاکہ اس طرح کار سلطنت میں شریک اور دخیل بن کر اور ضروری اختیارات حاصل کرکے آپ اس نظام کفر کی حتی المقدور اصلاح کرسکیں۔ لوگوں کی صحیح راہنمائی اور خدمت کا فریضہ انجام دے سکیں تاکہ ان کی بگڑی اور اس طرح بن جائے۔ اور آپ نے ایسا کرکے دکھادیا۔ چناچہ اس کے بعدوہاں کی زندگی کے دھارے بدل دیئے گئے اور ملکی خزانوں پر مامور ہونے کی تخصیص آپ نے اس لیے کی کہ ملکی اصلاح و فساد اور بناؤبگاڑ اور عدل وانصاف کا قیام و اہتمام اور تعمیروترقی وغیرہ جملہ اہم امور مملکت کا مدارو انحصار بنیادی طور پر اور بڑی حد تک اسی شعبہ پر ہوتا ہے۔ خاص کر اس وقت اور ان حالات میں جبکہ ملک کو ایک بڑی ہولناک قحط سالی سے واسطہ پڑنے والا تھا۔ اس لیے آپ نے خدمت خلق اور اصلاح احوال کے جذبے کے تحت اس کو اختیار کیا۔
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے یوسف کو اقتدار سے نواز دیا اس سرزمین میں، اس میں آپ جہاں چاہیں رہیں سہیں، ہم اپنی رحمت (و عنایت) سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم ضائع نہیں کرتے اجر نیکوکاروں کا،4

97۔ اقتدار دینا اور چھیننا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : یعنی سرزمین مصر میں جو کہ اس دور کی سب سے بڑی ترقی یافتہ اور متمدن سرزمین تھی۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ اقتدار دینا اور چھیننا اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ (مالک الملک تؤتی الملک من تشآء وتنزع الملک ممن تشآئ) سو بڑے احمق اور بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس مالک مطلق سے منہ موڑ کر عزت و اقتدار اس کی ضعیف مخلوق بلکہ فرضی اور وہمی چیزوں سے مانگتے اور اس کے لیے طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے اور شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ (وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لایعلمون) (المنافقون : 8) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں اقتدار بخشا۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عملا پورے ملک مصر پر وہ تمام اختیار اور اقتدار حاصل ہوگیا جو بادشاہ کو حاصل تھا۔ اور بادشاہ نام کو تو اگرچہ اس کے بعد بھی باقی رہا لیکن عملی طور پر اس نے حکومت کے تمام اختیارات حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سونپ دیے تھے۔ اس طرح قدرت کی رحمت و عنایت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل سے نکل کر اپنے دور کے اس بڑے متمدن اور ترقی یافتہ ملک کے اقتدار کے مالک بن گئے۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ الذی بیدہ ازمۃ الامورکلھا۔ 98۔ احسان کرنے والوں کا اجرضائع نہیں ہوتا : جن کی نیتیں اور ارادے بھی درست اور پاکیزہ ہوتے ہیں اور ان کے کام بھی صحیح اور درست ہوتے ہیں۔ جو اپنے خالق ومالک کا حق احسان و بندگی بھی ادا کرتے ہیں اور اس کے بندوں کا حق احسان وخدمت اور نصح و خیرخواہی بھی پوری طرح ادا کرتے ہیں۔ سو احسان ایک عظیم الشان صفت ہے جس پر انسان کو اپنے خالق ومالک کی عنایات سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اختیار اور اقتدار سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ وہ جو چاہے کرے اور جیسے چاہے کرے۔ وہ اگر کسی کو نوازنا چاہے تو کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑسکتا۔ جیل کی کوٹھڑی سے نکال کر ایک قیدی کو تخت حکومت پر بٹھا دینا اس کی قدرت کا ایک ادنی کرشمہ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ وہ محسنوں یعنی نیکوکاروں کے اجرکوضائع نہیں فرماتا۔ آزمائشیں تو ان کو ضرورپیش آتی ہیں لیکن ان آزمائشوں میں جو راہ حق وصواب پر پکے اور ثابت قدم رہتے ہیں وہ ان کو ان کے صلہ وبدلہ اور اجروثواب سے ضرور نوازتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی وعلی مایحب ویرضی۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور آخرت کا اجر تو یقینی طور پر کہیں بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو (دولت) ایمان رکھتے ہیں، اور وہ تقوٰی (پرہیزگاری) کی زندگی گزارتے ہیں،

99۔ آخرت کا اجروثواب کہیں بہتر وبرتر ہے : یعنی دنیا کی ان نعمتوں سے ان کے سرمایہ آخرت میں نہ کوئی فرق پڑے گا نہ کمی آئے گی۔ سبحان اللہ۔ کیا دولت ہے یہ ایمان وتقوی کی دولت کہ اس کے ہوتے ہوئے دنیا کی اتنی بڑی عزت اور رفعت شان سے سرفرازی کے باوجود آخرت کے اجروثواب میں بھی کمی نہیں آتی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی نعمتوں سے بھی فائدہ اصل میں وہی حضرات اٹھاتے ہیں جو طالب آخرت ہوتے ہیں۔ بخلاف اس کے جو محض طالب دنیا بن کر جیتے ہیں ان کی آخرت تو گئی ہی دنیا میں بھی وہ دل کے سکون وچین اور حقیقی آرام سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ فاتنا ربنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ بہرکیف اس میں یہ تذکیر و یاددہانی ہے کہ اصل آخرت ہی کی کامیابی اور وہاں کی نعمتیں ہیں۔ اور ان سے سرفرازی کے لیے ایمان وتقوی کی دو شرطوں کا پایا جاتا ضروری ہے۔ ان کے بغیروہاں کی ان عظیم الشان نعمتوں سے سرفرازی ممکن نہیں۔ لہذا دنیا کی ان عارضی اور فانی نعمتوں پر مست ومگن ہوکرآخرت کو بھول جانا اور وہاں کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بہت بڑا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دنیا بقدر ضرورت ہو لیکن اصل مقصودآخرت ہی ہو۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور آپہنچے یوسف کے بھائی (قحط پڑنے پر کنعان سے مصر، غلہ لینے کی غرض سے) پھر وہ حاضر ہوئے آپ کی خدمت میں، تو یوسف نے تو ان کو (فوراً ) پہچان لیا، مگر وہ آپ کو نہ پہچان سکے،

100۔ برادران یوسف حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نہ پہنچان سکے : ایک تو اس لیے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تو انہوں نے اپنے طور پر ختم کردیا تھا۔ اور ان کا خواب وخیال بھی گویا انہوں نے اب بھلادیا تھا کہ چالیس برس کے لگ بھگ کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اور دوسرے یوں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) جو اس وقت چھوٹے بچے تھے اب بڑے ہوکربہت کچھ بدل چکے ہوں گے۔ جیسا کہ چھوٹی عمر میں عام طور پر ہوتا ہے۔ بخلاف بڑی عمر کے آدمی کے کہ اس کے اندر کوئی خاص اور بنیادی تبدیلی نہیں آتی بلکہ آدمی عموماوی سے ہی رہتا ہے۔ بہرکیف اس سے اس دور کا ذکر فرمایا جارہا ہے کہ جب سات سال کے بعد مصر اور اس کے آس پاس کے ملک، شام و فلسطین وغیرہ قحط کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ یہ قحط اگرچہ مصر میں بھی تھا لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیش بندی اور ان کے حسن انتظام کی بدولت مصرنہ صرف یہ کہ اپنی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہا تھا بلکہ اپنے آس پاس کے ملکوں سے آنے والے ضرورت مندوں کی ضرورتیں بھی ایک خاص حد تک سرکاری ڈپوؤں سے پوری کی جاتی تھیں۔ چناچہ اسی سلسلے میں برادران یوسف غلہ لینے لیے مصرپہنچے تو یہ صورت پیش آئی تھی جس کا ذکریہاں فرمایا جارہا ہے۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب آپ نے ان کا سامان تیار کرا دیا، تو ان سے فرمایا کہ (آئندہ آتے وقت) تم اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لیتے آنا، کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کردیتا ہوں، اور میں کیسا اچھا مہمان نواز ہوں

101۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائی کو لانے کا مطالبہ : یعنی بنیامین کو۔ جو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سگے بھائی تھے۔ روایات میں ہے کہ قحط کے اس دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو صرف ایک اونٹ کا بوجھ دیتے تھے۔ تو ان لوگوں تو ان لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ ہمیں دو اونٹوں کا بوجھ اور بھی دیجئے۔ کیونکہ ہمارے گھر میں ہمارے بوڑھے والد بھی ہیں جو کہ ضعف اور کبرسنی کے باعث خود نہیں آسکتے۔ اور ایک ہمارا چھوٹا بھائی بھی ہے جو کہ ان کی خدمت کے لیے وہاں موجود ہے۔ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو دو بوجھ اور دئے اور کہا کہ آئندہ اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لیتے آنا۔ (المراغی، الجامع، ابن کثیر وغیرہ)
Ayahs 12:60–61

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

اور اگر تم اس کو میرے پاس نہ لائے تو تمہارے لئے نہ تو میرے یہاں کوئی غلہ ہوگا اور نہ ہی تم میرے قریب پھٹکنا،1

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ سے مطالبہ کریں گے اور ہم یہ کام ضرور کریں گے۔

102۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب سے کام لینے کا ذکر وبیان : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم لوگ اپنے بھائی کو نہ لانے کی صورت میں میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ کیونکہ اگر تم اپنے اس بھائی کو اپنے ساتھ نہ لائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم جھوٹے ہو۔ اور اس کے نام کا جو غلہ تم نے لیا ہے وہ فریب اور فراڈ تھا۔ لہذا یسی صورت میں تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔ اس طرح یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے ترغیب کے بعد ترہیب کا پہلو تھا تاکہ وہ آئندہ اپنے بھائی کو ضرور اپنے ہمراہ لے آئیں۔ سو اس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اس خواہش کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو آپ اپنے اندر اپنے بھائی کی ملاقات کے بارے میں رکھتے تھے، اور یہ ایک طبعی اور فطری امر تھا جیسا کہ ظاہر ہے۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

ادھر یوسف نے اپنے نوکروں سے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کی پونجی (جس کے عوض انہوں نے مال حاصل کیا ہے وہ) بھی ان کے سامان میں واپس رکھ دو ، تاکہ یہ اس کو پہچان لیں جب کہ یہ لوٹ کر اپنے گھر واپس پہنچیں، تاکہ (اس سے متاثر ہو کر) یہ پھر آئیں،2

103۔ بھائیوں کے واپس لوٹنے کے لیے اور ترغیب : اول تو غلے کی ضرورت ہی بڑاسبب اور داعی ہے ان کے لوٹنے کا۔ اور مزید یہ کہ غلہ بھی بالکل مفت اور بغیر کسی عوض کے۔ پھر قیمت کی واپسی بھی ایسے شریفانہ طور پر کہ ان کی طبیعتوں پر کوئی بوجھ نہ بننے پائے کہ اس کو چپکے سے ان کے سامان کے اندرچھپاکر رکھ دیا گیا۔ سو یہ سب امورقوی ووافع اور بواعث تھے اس بات کے کہ وہ لوگ آئندہ اپنے بھائی کو ہمراہ لے کر آئیں۔ جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کی دیدولقاء کے کس قدرمشتاق اور خواہش مند تھے۔ اور یہ ایک طبعی اور فطری امر تھا کہ آپ ایک عرصہ سے جدائی کے صدمے برداشت کررہے تھے۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور آپ کے حقیقی بھائی وہی ایک تھے۔
Ayahs 12:63–64

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب وہ واپس اپنے باپ کے پاس پہنچے تو کہنے لگے، ابا جان (آئندہ کے لئے بنیامین کو اپنے ہمراہ نہ لے جانے کی صورت میں) ہمیں غلہ دینے سے انکار کردیا گیا، لہذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو بھی بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں، اور ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے،3

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

باپ نے جواب دیا کیا میں اس کے بارے میں بھی تم پر ویسا ہی اعتماد کرلوں جیسا کہ اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کرچکا ہوں ؟ پس اللہ ہی سب سے اچھا نگہبان ہے اور وہی ہے سب سے بڑا مہربان،4

104۔ برادران یوسف کی اپنے والد کو پختہ یقین دہانی : سو برادران یوسف نے اپنے والد کو یقین دلایا کہ ہم اس کی حفاظت کا پوراخیال رکھیں گے۔ اپنے اس سفر میں۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دیں گے۔ انہیں چونکہ باپ کے انکار کا پورا اندیشہ تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں دھوکہ اور خیانت سے کام لے چکے تھے جس کی بناء پر وہ باپ کی نظروں میں گرچکے تھے اور ان کے یہاں ان کا اعتبارو اعتماد ختم ہوچکا تھا۔ اس لیے ان کو یقین دلانے کے لیے اب وہ اس قدر تاکیدی الفاظ و کلمات کا سہارا لیتے ہیں مگر وہ بات کہاں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اعتماد صنوبرکا وہ درخت ہے جو ٹوٹنے کے بعد دوبارہ نہیں جڑتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو سچائی کی صفت سے انسان کو جو عظمت ملتی ہے اور اس کا لوگوں کے درمیان جو اعتماد قائم ہوتا ہے اس سے انسان معتبرہو جاتا ہے وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب انہوں نے کھولا اپنے سامان کو، تو دیکھا کہ ان کی پونجی بھی ان کو واپس لوٹا دی گئی ہے، تو اس پر وہ سب پکار اٹھے ابا جان، ہمیں اور کیا چاہیے، یہ دیکھئے ہماری پونجی بھی ہم کو واپس لوٹا دی گئی ہے، اور (اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنے بھائی کو لے کر دوبارہ جائیں کہ) ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلہ بھی لے آئیں گے اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے، اور ہمیں ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ بھی مل جائے گا، اور یہ بوجھ آسانی سے مل جائے گا،

107۔ کریمانہ روش اور اس کا تقاضا : کہ ہمیں ہماری رقم بھی واپس کردی گئی اور اس کریمانہ انداز میں اور شریفانہ طور پر کہ ہمیں اس کا پتہ بھی نہیں چلا۔ سو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے کریم و فیاض شخص کی طلب و خواہش کو پورا کیا جائے۔ یعنی احسان کا بدلہ احسان ہی ہوسکتا ہے کہ اصول و ضابطہ کے لحاظ سے بھی ہم پر لازم آتا ہے کہ ہم ان کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے ہمراہ لے جائیں۔ بہرکیف انہوں نے جب اپنا سامان کھولا اور دیکھا کہ ان کی وہ پونجی جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر ادا کی تھی وہ بھی پوری کی پوری غلے کی بوریوں کے اندر موجود ہے تو وہ خوشی سے اچھل پڑے۔ اور چیخ کر بولے کہ اباجان ہمیں اور کیا چاہیے۔ یہ ہماری قیمت بھی ہمیں واپس کردی گئی ہے۔ اب تو ہمیں ضروردوبارہ جانا چاہیے۔ 108۔ ایک اونٹ کے بوجھ کے مزیدغلے کی امید : کہ بادشاہ اور ایسے کرم والے بادشاہ کے لیے اتنا اضافہ کردینا کچھ مشکل و دشوار نہیں (المراغی) سو اس اعتبار سے بھی ہمیں اپنے بھائی کو ہمراہ لے جانا چاہیے تاکہ ہم اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ ل اس کیں۔ اپنے بھائی کے حصے کا غلہ بھی ہم حاصل کرسکیں اور ایک اونٹ کا بوجھ ہم مزیدل اس کیں۔ مطلب یہ کہ اب جبکہ ہماری رقم بھی ہمیں واپس مل گئی ہے تو اب ہمیں ضرورجانا چاہیے۔ کہ اس میں ہر طرح ہمارا فائدہ ہے۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

ان کے باپ نے کہا میں اس کو کسی قیمت پر بھی تمہارے ساتھ بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہوں مگر صرف اس صورت میں کہ تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ پختہ عہد کرو، کہ تم اسے ضرور واپس لے آؤ گے، مگر یہ کہ (خدانخواستہ) تم سب ہی گھیر لئے جاؤ، پھر جب ان سب نے ان کو اپنا پختہ عہد دے دیا تو یعقوب نے فرمایا اللہ گواہ ہے ان سب باتوں پر جو ہم کہہ رہے ہیں،1

109۔ اللہ کی نام کی قسم کا مطالبہ : یعنی اس کے نام کی قسم کھاکر مجھے اس بارے یقین دلاؤکہ مومن کے لیے سب سے بڑھ کر تاکید و توثیق کا ذریعہ یہی ہے کہ اپنے اس خالق ومالک کے نام پاک کی قسم کھائی جائے کہ اس کا نام بہت بڑا ہے۔ اسی لیے حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تم اسے دے دیاکرو۔ اور جو کوئی اس کے نام کے ذریعے پناہ مانگے تم اس کو پناہ دے دیاکرو۔ سو اللہ پاک کا نام بڑی ہی عظمتوں والا ہجے۔ اس لیے اس کی ہر طرح کی تعظیم اس کے بندوں پر واجب ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ 110۔ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پہلے بیٹوں سے فرمایا مگر یہ کہ تمہیں گھیرلیا جائے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے، کہ پھر تو اور بات ہے کہ یہ مجبوری اور لاچاری کی صورت ہوگی جس پر گرفت نہیں ہوسکتی، یہ استثناء آنجناب نے خود فرمادیا تاکہ ان کے لیے گنجائش رہے اور وہ بلاوجہ قسم توڑنے کے گناہ کے مرتکب قرار نہ پائیں۔ سو ان تمام باتوں سے یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختار کل۔ ورنہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس طرح پریشان ہوتے اور نہ ہی ان کو اس طرح کی شرطیں عائد کرنے کی ضرورت پڑتی۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ اس کے باوجود پیغمبر کے عالم غیب اور مختار کل ہونے کا شرکیہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیجنے کے لیے اس طرح کی شرطیں عائد کیں تاکہ وہ اس کا خاص خیال رکھیں اور ضروربحفاظت ان کو واپس لے آئیں۔ اور اس کی حفاظت میں کسی طرح کی غفلت اور کوتاہی نہ برتیں۔ 111۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی ونگہداشت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو اس حقیقت کی تذکیر و یاددہانی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہماری باتوں پر نگہبان ہے، پس ہمارا بھروسہ اور اعتماد اسی پر ہے اور ہم اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ جو اس کو منظور ہوگا وہی ہوگا۔ اور جو وہ کرے گا اسی میں خیر اور بہتری ہوگی۔ پس تمہیں بھی ہر حال میں اور ہر موقع پر اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ ہم پر نگہبان ہے اور ہر حال میں ہمیں دیکھ رہا ہے لہذا اس کے ساتھ ہمارا معاملہ ہر حال میں صحیح رہنا چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف جب انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے اللہ کے نام کی قسم کھا کر پختہ عہد کیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اور جو عہدوپیمان ہم کررہے ہیں اس پر اللہ ہمارا ضامن ووکیل ہے اور وہی ہمارا گواہ ہے۔ پس اصل بھروسہ اور اعتماداسی وحدہ لاشریک پر کرنا چاہیے۔
Ayahs 12:67–68

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور (چلتے وقت) یعقوب نے ان کو (نصیحت کے طور) پر یہ بھی کہہ دیا کہ میرے بیٹو (مصر کے دارالحکومت میں) تم سب ایک ہی دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا، (تاکہ نظر بد سے دور رہو، اور یہ بھی محض ایک ظاہری تدبیر ہے ورنہ) میں خدا کے حکم کے مقابلہ میں تمہیں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا، حکم تو بس اللہ ہی کا ہے، میرا بھروسہ بھی اسی پر ہے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے، سب بھروسہ کرنے والوں کو،2

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

چناچہ جب وہ اپنے باپ کی نصیحت (و ہدایت) کے مطابق شہر میں داخل ہوگئے تو (باپ کی بتائی ہوئی) وہ تدبیر ان کے کچھ کام نہ آسکی، سوائے اس کے کہ وہ یعقوب کے دل کی ایک خواہش تھی، جسے انہوں نے پورا کرلیا تھا (اور بس) اور بلاشبہ وہ بڑے علم والے تھے اس تعلیم کی بناء پر جو ہم نے ان کو دی تھی، لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں،3

112۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنے بیٹوں کو ایک خاص نصیحت : کہ تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہیں ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور پہلی مرتبہ ان کو آپ نے یہ نصیحت نہیں فرمائی تھی۔ ایک توشاید اس لیے کہ اس وقت وہ غیر معروف تھے اور دوسرے اس لیے کہ اس وقت ان کے ساتھ بنیامین نہیں تھے (حاشیہ جامع البیان) اور پہلے وہ عام مسافروں کی طرح داخل ہوئے تھے اور اب بادشاہ کی دعوت پر اور خاص اہتمام سے جارہے تھے اور تھے بھی سب کے سب خوبصورت اور جوان۔ ایک ہی باپ کی اولاد۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ نصیحت فرمائی تاکہ نظربد سے محفوظ رہیں۔ (معارف وغیرہ) سو بندے کے ذمے صرف تدبیر واحتیاط ہے اور بس ! 113۔ حاجت روا و مشکل کشا اللہ سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے معاملے اور اس کے مقابلے میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتا، کہ مالک و مختار بہرحال اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے سبحان اللہ۔ پیغمبر، پیغمبر کا بیٹا، پیغمبر کا پوتا اور پیغمبروں کا باپ دادا اور بنی اسرائیل کا مورث اعلی اور جد امجد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تو یہ کہتا ہے کہ خدا کے حکم کے مقابلے میں میں تمہیں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا کہ معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے لیکن آج کا بدعتی ملاں اور جاہل و گمراہ کن پیر ہے کہ اس نے جگہ جگہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے دربار لگا رکھے ہیں اور جاہل قوم کو یہ لوگ زبانی کلامی اور تحریر و تقریر وغیرہ ہر طرح سے کہتے بتاتے اور سکھاتے پڑھاتے ہیں کہ تم اتنی اتنی نذرپہنچا دو اور اپنی حاجت بھی بتادوسب کچھ ٹھیک کردیا جائے گا (قاتلہم اللہ انی یؤفکون) اور جاہل قوم ہے کہ وہ اتنا نہیں سوچتی کہ جو ہمارے نذرانوں کا محتاج اور سوالی ہے وہ ہماری حاجت روائی کیا کرے گا ؟ (ضعف الطالب والمطلوب) بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اس ارشاد سے یہ امر واضح کردیا کہ حاجت رواومشکل کشا اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ 114۔ اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے خطاب میں کہا کہ اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے سب بھروسہ کرنے والوں کو کہ بھروسے کے لائق وہی ذات اقدس واعلی ہے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اب دیکھئے یہاں پر حصر کے ساتھ فرمایا جارہا ہے کہ بھروسہ کے قابل درحقیقت وہی ذات وحدہ لاشریک ہے۔ مگر اس کے باوجودآج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ اس کا بھروسہ غیر اللہ پر اور زندہ و مردہ طرح طرح کی مخلوق پر ہے۔ اور وہ اعلانیہ کہتا ہے " سہاراپنجتن تن دا " " غوث الاعظم دستگیر "، " بری بری کھوٹی کردے کھری " اور " یا علی مدد " وغیرہ وغیرہ۔ کوئی اگر پوچھے کہ تم کو کس نے کہا کہ ان ہستیوں کو پکارو ؟ جو خودساری عمر ایک اللہ کو پکارتی اور اسی کو پکارنے کی تعلیم دیتی اور تلقین فرماتی رہیں ؟ تو کہتے ہیں دیکھوناں جی یہ بھی تو اللہ کے پیارے ہیں ناں وغیرہ وغیرہ۔ (ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس) یعنی ایسے لوگ پیروی نہیں کرتے مگر ظن و گمان اور خواہشات نفس کی، حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے واضح ہدایت آچکی ہے، جیسا کہ اسی آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا گیا " ولقدجاء ھم من ربھہم الھدی " اور نورحق و ہدایت کے آجانے کے بعداس سے منہ موڑ کر ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرنا محرومیوں کی محرومی ہے۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور جب یہ لوگ یوسف کے حضور پہنچے تو انہوں نے (ملتے ہی) اپنے بھائی کو اپنے پاس بلا لیا (اور چپکے سے) ان کو بتادیا کہ میں آپ کا بھائی (یوسف) ہوں، پس اب آپ ان باتوں پر غم نہ کھائیں، جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں،

117۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے بھائی کو تسلی دینا : سوملنے پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو تنہائی میں اپنے پاس بلاکر بتادیا کہ میں آپ کا بھائی ہوں۔ یعنی گمشدہ بھائی یوسف۔ پس ان لوگوں نے اب تک جو کچھ کیا اس کے بارے میں غمزدہ اور آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ دوربہرحال اب گزرچکا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے شروروفتن سے بچا لیا۔ پس اس کے بارے میں غمگین نہ ہونا جو کچھ کہ انہوں نے کیا اس سے پہلے ہمارے بارے میں۔ کہ اللہ پاک نے ہمیں اپنے فضل وکرم سے ان کے شرور سے محفوظ رکھا۔ اور اپنی طرح طرح کی عنایتوں سے از خود نوازدیا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اب ان کو اپنے کئے پر خودہی پچھتانا پڑے گا۔ اور وہی سزا ان کے لیے کافی ہے والعیاذ باللہ من کل سوء و فتنۃ۔ سو اس سے ایک طرف تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عالی ظرفی اور وسعت قلبی کا پتہ چلتا ہے اور دوسری طرف یہ درس عظیم بھی ملتا ہے کہ قدرت پانے کے بعدمعاف کردینا سب سے بہتر انتقام ہے۔ جیسا کہ قرآن و سنت کی مختلف نصوص کریمہ میں اس کی طرح طرح سے تصریح و توضیح فرمائی گئی ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید، وعلی مایحب ویرید بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 12:70–71

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب (روانگی کے وقت) یوسف نے ان کا سامان تیار کرایا تو اپنا پیمانہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھوا دیا، پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا، اے قافلے والو (ٹھہرو) تم لوگ تو بڑے چور ہو،

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

انہوں نے پلٹ کر پوچھا (کیوں صاحب) تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے ؟

118۔ برادران یوسف پر چوری کے الزام کا ذکر وبیان : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ایک پکارنے والے نے پکار کر برادران یوسف سے کہا کہ تم بڑے چورہو۔ یہ آواز اگر نوکروں نے اپنی طرف سے لگائی تھی تب تو کوئی بات نہیں کہ ان کو اصل صورت حال کا پتہ نہیں تھا۔ اور اگر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کہنے پر ایسا کیا تھا تو پھر بڑے چور ہونے کا کیا مطلب یہ تھا کہ تم نے اس سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو چوری کیا تھا۔ اس لیے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) پر افتراء وغیرہ کا کوئی الزام نہیں آسکتا۔ نیزیہ سب کچھ چونکہ ان کے بھائی کی مرضی سے اور ایک خاص مقصد کے لیے تھا اس لیے اس میں کسی افتراء و بہتان کا بھی کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ بہرکیف منادی نے اعلان کیا تم لوگ چورہو اس لیے ذراٹھہرو تمہاری تلاشی لی جاتی ہے۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

سرکاری ملازموں نے کہا، ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں مل رہا اور (ان کے کمانڈر نے کہا کہ) جو شخص اسے لا کر دے گا، اسے ایک اونٹ کا بوجھ (بطور انعام) ملے گا،1 اور میں اس کا ذمہ دار ہوں

119۔ گمشدہ پیالہ لانے والے کے لیے انعام کا اعلان : سوچوری کے اس الزام کے جواب میں برادران یوسف نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کی کیا چیز کھوگئی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ شاہی پیمانہ کھو گیا ہے اور جو اس کو لائے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ بطور انعام ملے گا۔ اور میں اس کا ضامن ہوں۔ سو اسی سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اصل اور سند ہے ضمانت اور کفالت مالی کے ثبوت وجواز کی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) بہرکیف اعلان کرنے والے نے اس بات کا اعلان کیا کہ جو کوئی گمشدہ پیالے کو لے آئے گا اس کے لیے یہ انعام ہے۔ اگرچہ وہ چور کے علاوہ کوئی اور شخص ہو اور اس انعام کا ذمہ دار میں خود ہوں۔ اس لیے وہ مطمئن رہے کہ اس کو یہ انعام ضرور ملے گا۔ لہذا اس پیمانہ شاہی (سقایہ) کو ڈھونڈلاؤکہ اس میں تمہارے لیے بڑا فائدہ اور بہتری ہے۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے، خدا کی قسم آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ تو ہم اس ملک میں فساد پھیلانے آئے ہیں، اور نہ ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں،

120۔ برادران یوسف کا چوری سے انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کی طرف سے لگائے جانے والے چوری کے اس الزام کی تردید میں انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کر کہا کہ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ ہم اس ملک میں فساد کرنے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چوری کرنے والے لوگ ہیں، اور ایسا انہوں نے اس بناء پر کہا کہ اس سے پہلے کے سفر میں ان کی نیک نامی کی مصر میں شہرت ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواریوں کے منہ بھی باندھ رکھے تھے کہ راہ چلتے ناحق طور پر کسی کا چارہ نہ چرلیں۔ (حاشیہ جامع البیان) سو اپنی اسی سابقہ شہرت اور نیک نامی کی بناء پر انہوں نے یہ بات کہی کہ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم لوگ نہ اس ملک میں فساد پھیلانے کے لیے آئے ہیں اور نہ ہی ہم لوگ چور ہیں۔ اس لیے ہم پیمانہ شاہی کو چوری کرنے کی اس بری حرکت کا ارتکاب بھلا کس طرح کرسکتے ہیں۔ لہذا آپ لوگوں کو ہم پر بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہئے۔
Ayahs 12:74–75

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا اچھا تو پھر کیا سزا ہوگی اس کی اگر تم جھوٹے ثابت ہوگئے ؟

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان سے وہ (مسروقہ سامان) برآمد ہو، خود اسی کو اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے یہاں تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دی جاتی ہے،

121۔ تمہاری کیا سزا ہوگی اگر تم جھوٹے ثابت ہوگئے ؟ : اپنی پاکیزگی اور براءت کے اس دعوے میں ؟ سو منادی کرنے والے نے جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ جب اس تہدید و ملامت اور اس انعام و کفالت کے باوجود ماننے اور اقرار کرنے کو تیار نہیں ہوتے تو اس نے ان سے کہا کہ اچھا تو یہ بتلاؤکہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں جھوٹے نکلے اور تم سے مسروقہ مال برآمد ہوگیا تو پھر تمہاری کیا سزا ہوگئی ؟ تو انہوں نے کہا کہ جس کے سامان سے وہ کٹورا برآمد ہو اسی کو اس کے بدلے میں روک لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں تو ان کے جواب کے بعدسامان کی تلاشی شروع کردی گئی۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

تب یوسف نے (ان کی تلاشی لینی شروع کی اور) اپنے بھائی کے اسباب سے پہلے ان کے اسباب کی تلاشی شروع کی، آخر میں اسے اپنے بھائی کے اسباب سے برآمد کرلیا، اس طرح ہم نے یہ تدبیر کی یوسف کے لئے، ورنہ آپ ایسے نہ تھے کہ اپنے بھائی کو پکڑتے بادشاہ کے دین میں، مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے، ہم جس کے درجے چاہیں بلند کردیتے ہیں، مگر یہ کہ اللہ ہی ایسا ہے، اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہے،

122۔ سامان کی تلاشی کا آغاز : ان کے بھائی کے سامان سے پہلے تاکہ اس طرح کسی شبہ اور بدگمانی کی گنجائش نہ رہے اور کسی کو اعتراض کرنے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ اور اس طرح آخرکاروہ پیالہ ان کے بھائی کے سامان سے برآمد کرلیا۔ اور بھائیوں کی تجویز کے مطابق بنیامین کو اپنے پاس روک لیا۔ اور یہی اصل مقصود تھا اس ساری کارروائی کا۔ تاکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بنیامین کو وہیں روک لیا جائے۔ کسی کو اس اصل مقصدکا پتہ بھی نہ چلے اور مصر کے اس وقت کے کافرانہ قانون پر عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے۔ سو اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مقصد کی تکمیل کے لیے قدرت کی طرف سے ان کے لیے اس تدبیرکا انتظام فرمایا گیا جیسا کہ اگلے حاشیے میں مزید تفصیل سے آرہا ہے۔ سو جو اللہ کا ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اسی طرح تدبیر فرماتا ہے۔ فکن اللہم لنا ولاتکن علینا واجعلنا لک یاذالجلال والاکرام۔ 123۔ اسی طرح ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے : کہ اس میں بہت سے فائدے اور حکمتیں مضمرتھیں۔ مثلا یہ کہ برادران یوسف کی تادیب و اصلاح ہوجائے تاکہ اس سے ان کو اپنے ان گناہوں کی کسی قدرسزا مل جائے جن کا ارتکاب انہوں نے اس پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے متعلق کیا تھا۔ اور تاکہ یہ بھی بنیامین کی جدائیکامزہ چکھ لیں۔ اور وہ بھی اس طور پر کہ اپنے سوا اور کسی کی ملامت نہ کرسکیں۔ اس ارشاد ربانی سے حیلہ شرعی کے جواز کا ثبوت ملتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی غرض صحیح تک پہنچنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے حیلہ ومکر نظرآتاہو مگر اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے وہ درست ہو۔ مگر اس کے لیے شرط ہے کہ یہ کسی حکم شرعی کے خلاف نہ ہو اور کسی غرض فاسد کے لیے نہ ہو۔ جیسا کہ زکوٰۃ سے بچنے کے لیے کوئی حیلہ کرنا۔ یا جیسا کہ روزہ سے بچنے کے لیے خواہ مخواہ کوئی غیرضروری سفراختیار کرنا وغیرہ۔ کہ اس طرح کے سب حیلے حرام اور ممنوع ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح کی ممنوع ومحظورحیلہ جوئی عام لوگوں کی نظر سے اگرچہ مخفی اور اوجھل رہ سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں رہ سکتی کہ اس " علیم بذات الصدور " کی ذات اقدس واعلی سے کوئی بھی چیز کسی بھی طرح مخفی اور مستور نہیں رہ سکتی اس لیے اس کے ساتھ ہمیشہ اور ہر طرح سے صدق و اخلاص کا معاملہ ہی کیا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید اللہم فخذ بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ یاذالجلال والاکرام۔ 124۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے تدبیرحق تعالیٰ کی طرف سے : اس سے اس حقیقت کی تصریح فرمادی گئی کہ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے اس تدبیر کا انتظام حق تعالیٰ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ورنہ یوسف ایسے نہیں تھے کہ اپنے بھائی کو بادشاہ وقت کے قانون کے مطابق پکڑتے کہ یہ آپ کی شان کے خلاف تھا۔ کہ آپ شاہ مصر کے اس کافرانہ نظام و قانون پر عمل کرتے جو اس وقت تک اس ملک میں مروج اور لاگو تھا۔ اور وہ بھی اپنے بھائی کے روکنے جیسے ایک ذاتی نوعیت کے مقصد کے لیے، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے آنجناب کو اس سے بچالیا۔ اور دوسرا مطلب اس ارشاد کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ چونکہ شاہ مصر کے قانون میں چور کو قیدی بنانے کا کوئی ذکر نہیں تھا، بلکہ اس کے قانون کی رو سے چور کے لیے جرمانے وغیرہ کی سزا تھی اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ تدبیر بتائی (المراغی، الصفوۃ اور تفہیم وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) کی یہ تدبیرحق تعالیٰ کی طرف سے تھی جو قدرت نے آپ کو سکھائی تھی، تاکہ وہ حسب منشاء اپنے بھائیوں کو اپنے پاس روک سکیں۔ 125۔ مشیئت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے تدبیر کی تھی، یعنی ان کو یہ تدبیر سمجھائی تھی ورنہ وہ ایسے نہ تھے کہ بادشاہ کے دین و مذہب کے مطابق اپنے بھائی کو پکڑ سکتے، مگر یہ کہ اللہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر حاوی اور محیط ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے اس کے لیے نہی کوئی مشکل ہے اور نہ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ اور حائل ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے دلوں میں اسی چیز کا القاء والہام کیا جس سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مراد پوری ہوگئی اور مقصد حاصل ہوگیا۔ ورنہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ایسے نہ تھے کہ ازخود ایسا کرسکتے۔ اور ان کی یہ تدبیر اور طریقہ ان کی اپنی طرف سے نہیں تھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے القاء والہام کا نتیجہ تھا۔ (محاسن التاویل اور تفسیر المراغی وغیرہ) سو اللہ جو چاہے کرے۔ اس کی مشیت وقدرت ہر شے پر حاوی و محیط ہے۔ سبحانہ وتعالی۔۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید اللہم فخذ بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ یاذالجلال والاکرام۔ 126۔ درجات کی بلندی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں واختیار میں : چنانچہ صاف طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے درجے چاہیں بلند کردیں، جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو آپ کے بھائیوں کے مقابلے میں دئے اور پھر کس کو کتنے اور کس طرح کے درجے عطا کرنے میں، اس کا علم بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی کو ہے۔ اسی لئے درجات کو یہاں نکرہ لایا گیا ہے۔ سو اللہ وحدہ لاشریک ہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے ؟ کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے اور کس کو کن درجات سے نوازا جائے ؟ اور کیسے اور کب نوازا جائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس ارشاد میں جہاں ایک طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مراتب بلند کی طرف اشارہ ہے وہیں اس میں ان لوگوں پر تعریض بھی ہے جو اپنے ناقص اور محدود علم کو سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ان کو دنیا کی مادی زندگی کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوجاتا ہے وہ اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں اور اپنے اسی نشے میں وہ بہت سی اہم اور بنیادی حقیقتوں کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنے خسارے میں اور بھی اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ 127۔ ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے : یہاں تک کہ یہ سلسلہ جاکرحضرت حق۔ جل مجدہ۔ پر منتہی ہوتا ہے جس کا علم حقیقی ہر اعتبار سے کامل اور ظاہرا و باطنا اور ماضی وحال اور مستقبل سب پر حاوی و محیط ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور مخلوق میں سے جس کو اور جو بھی کچھ روشنی علم کی ملتی ہے وہ اسی واہب مطلق۔ جل وعلا۔ کی جودوسخا اور بخشش وعطاء ہی سے ملتی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو کسی عالم کے لیے یہ امر جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو سب کچھ اور سب سے اوپر سمجھے۔ اور اپنی بات اور اپنی رائے کو حرف آخر قرار دینے لگے۔ کہ یہ شان حضرت حق۔ جل مجدہ۔ ہی کی ہوسکتی ہے جہاں کہ علم کی انتہاء ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (وان الی ربک المنتھی) (النجم : 42) سو برادران یوسف بھی اگرچہ خاندان نبوت کے افراد ہونے کے اعتبار سے علم کا نور رکھتے تھے مگر حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ضمن میں ان سے کہیں آگے اور کہیں بڑھ کر تھے۔ سو حالات کا اصل اور حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ وہی جاتنا ہے کہ ظاہر کے پیچھے کیا ہے اور مستقبل کے پردوں میں کیا چھپا ہوا ہے۔ پس بندے کا کام یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنے رب کی رضا پر راضی رہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

کہنے لگے اگر اس نے چوری کی تو (یہ کوئی نئی بات نہیں کہ) اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے، پھر بھی یوسف ان کی اس بات کو پی گئے، اور حقیقت ان کے سامنے نہیں کھولی، بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گئے کہ تم بڑے ہی برے لوگ ہو، اور اللہ خوب جانتا ہے، اس (الزام کی حقیقت) کو جو تم لوگ (میرے روبرو مجھ پر) لگا رہے ہو،1

128۔ برادران یوسف کی طرف حضرت یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا الزام : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی پر صاف طور پر چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ چوری کی تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں کہ یقینا یہ اور اس کا بھائی دونوں چور ہیں، یعنی چوری کی یہ عادت ہم میں سے کسی میں نہیں۔ سوائے اس کے اور اس کے دوسرے بھائی یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے۔ سو ان میں یہ بری عادت ان ماں کی طرف سے آئی ہے۔ اتنی سنگین بات انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے روبروکہی مگر آپ اس کو پی گئے۔ اور ان کو کچھ نہیں کہا۔ رہ گئی یہ بات کہ اس چوری سے ان کی مراد حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ایسی کون سی چوری تھی تو اس بارے مختلف روایات ہیں۔ مگر زیادہ صحیح اور قابل اعتماد وہ روایت ہے جو کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے نانا کے پاس سونے اور چاندی کا بناہو ایک بت تھا جو آپ نے چرا کر توڑ دیا تھا۔ اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے چورا ہے میں پھینک دیا تھا۔ (المراغی، الکبیر، المعارف وغیرہ) ۔ سو یہ فطری نورتوحید کا نتیجہ وثمرہ تھا جو قدرت کی طرف سے انسانی فطرت میں ودیعت فرمایا گیا ہوتا ہے اور جو ایسے نفوس قدسیہ میں ہمیشہ محفوظ رہتا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

کہنے لگے اے عزیز، اس کا باپ ایک بہت بوڑھا شخص ہے، اس لئے آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے، ہم آپ کو بڑا ہی احسان کرنے والا دیکھ رہے ہیں،2

129۔ (شیخاکبیرا) کے دو مطلب ؟ : یعنی اس کا والد بہت بوڑھا شخص ہے۔ وہ اس کے بغیرصبر نہیں کرسکے گا کہ اس بڑھاپے میں یہ اس کے لیے اس کے مفقود بھائی کی طرف سے بھی ایک سہارا ہے۔ یہ معنی اور مطلب اس صورت میں ہے جبکہ " کبیرا " کے معنی بوڑھے شخص کے لیے جائیں اور " کبیرا " کے معنی بڑے کے بھی ہوسکتے ہیں۔ تب مطلب یہ ہوگا کہ ان کے والد ایک بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں۔ اس لیے آپ ان کا لحاظ کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیجئے۔ سو " کبیرا " کے معنی " کبیرالسن " کے بھی ہوسکتے ہیں اور " کبیرالقدر والشان " کے بھی۔ اور یہ دونوں ہی معنی مہتم بالشان ہیں۔ (المراغی وغیرہ ) ۔ سو جب انہوں نے دیکھا کہ اب وہ پھنس گئے اور اپنے قول وقرار کے مطابق اب ان کے لیے بچنے اور خلاصی پانے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ تو انہوں نے لجاجت اور عاجزی کا پہلواختیار کیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو " عزیز " کے سرکاری خطاب سے جو کہ اس وقت اعلی سرکاری عہدیداروں کے لیے مخصوص تھا خطاب کرکے ان کے حضور عرض کیا اور نہایت لجاجت اور عاجزی سے عرض کیا کہ جناب اس کا باپ بہت بوڑھا شخص ہے۔ تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیں اور اس کو چھوڑ دیں۔ یہ آپ کا ہم پر بڑا احسان ہوگا۔ ہم آپ کو ایک محسن شخص دیکھ رہے ہیں۔ لہذا آپ ہمیں اپنے احسان سے محروم نہ کریں۔ اور ہمارے اس بھائی کی جگہ ہم میں سے کسی دوسرے کو روک لیں۔ 130۔ برادران یوسف کی طرف سے احسان کی درخواست : کہ ہم آپ کو ایک محسن اور نیکوکار شخص دیکھتے ہیں۔ اس لیے آپ ہم پر یہ احسان بھی فرمادیجئے کہ ہمارے اس بھائی کو ہمارے لیے اور ہمارے والد بزرگوار کی خاطر چھوڑ دیجئے کہ نیکوکاروں کا کام ہی احسان اور نیکی کرنا ہوتا ہے۔ اور آپ نے اپنی نوازشات کی بناء پرہ میں اسی کا عادی اور خوگربنادیا ہے۔ لہذا آپ ہمارے اس بھائی کی بجائے ہم میں سے کسی اور کو روک لیں اور اس کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دیں۔ سو انہوں نے اس طرح لجاجت سے کام لیا لیکن اس کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ نہ ہونا تھا۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

اس نے جواب دیا اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو پکڑیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے، ایسی صورت میں تو ہم بڑے ہی ظالم قرار پائیں گے،3

131۔ ظلم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے اس مطالبے کے جواب میں ان سے فرمایا کہ اللہ کی پناہ کہ ہم اس شخص کے سوا کسی اور پکڑ لیں، جس کے پاس ہم نے اپنا سامان برآمد کیا ہے، ایسی صورت میں ہم یقینا ظالم ٹھہریں گے اور ہم ہر قسم کے ظلم سے اللہ تعالیٰ کی امان وپناہ مانگتے ہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ قصور کسی کا ہو اور پکڑلیا جائے کسی اور کو۔ سو اس طرح کے کسی ظلم کے مرتکب اور ایسی کسی زیادتی کے روادار ہم نہیں ہوسکتے۔ لہذا اس کو ہم کسی قیمت پر بھی چھوڑ نہیں سکتے اور ایسے نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی اور کو پکڑ کر اس کے بدلے میں اس کو چھوڑ دیں کہ یہ ظلم ہے۔ اور ہم ظلم سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اور اس موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی احتیاط ملاحظہ ہو کہ یہ نہیں فرمایا کہ " جس نے چوری کی " بلکہ یہ فرمایا کہ " جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا "۔
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

آخرکار جب وہ اس سے بالکل مایوس ہوگئے، تو باہم مشورہ کرنے کے لئے الگ بیٹھ گئے، ان میں سے بڑے نے کہا، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ نے تم سے (اس کے واپس لانے کا) پختہ عہد لے رکھا ہے، اور اس سے پہلے یوسف کے معاملہ میں جو قصور تم لوگ کرچکے ہو (وہ بھی تم سے کوئی ڈھکا چھپا نہیں) لہذا میں یہاں سے ہرگز واپس نہیں جاؤں گا، یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے حکم دیں، یا اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ صادر فرما دے، کہ وہی ہے سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا،4

132۔ بڑے بھائی کا فیصلہ : کہ تم واپس جاؤمیں یہیں رہونگا۔ والد کی طرف سے اس بارے کسی صاف اور صریح حکم کے بغیر میں یہاں سے ہرگز نہیں ٹلوں گا۔ ہاں اگر میرے والد مجھے اس بات کی اجازت دیدیں کہ میں بنیامین کو یہیں چھوڑ کر واپس آجاؤں یا اللہ تعالیٰ میرے لیے غیب سے کوئی فیصلہ فرمادے۔ مثلا یہ کہ بادشاہ کے دل میں ڈال دے کہ وہ ہمارے بھائی کو رہا کردے یا کسی اور طریقے سے اس کو مجبور کردے کہ وہ ہمارے بھائی کو یوں ہی چھوڑ دے وغیرہ (المراغی وغیرہ) کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اور وہ بڑا ہی مہربان اور انتہائی لطیف تدابیر سے کام لینے والا ہے۔ اور یہاں پر اس بڑے بھائی سے مرادیہودا ہیں جو کہ اپنی عقل وفکر اور اپنی اصابت رائے کے اعتبار سے ان میں سب سے بڑے تھے۔ (المراغی وغیرہ) اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ یہاں پر بڑے سے مراد عمر کے اعتبار سے بڑا ہو۔ اور وہ روبیل تھا۔ لفظ میں ان دونوں ہی احتمالوں کی گنجائش موجود ہے لیکن قرینے کی دلالت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر بڑے سے مرادعمر کے اعتبار سے بڑا نہیں۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو یہاں پر کبیرہم کی بجائے اکبرہم فرمایا جاتا۔ سو اس اعتبار سے اقرب اور ظاہر پہلا احتمال ہی ہے کہ اس سے مراد یہودا ہے اور تورات میں بھی اسی کا نام آیا ہے۔ 133۔ اللہ ہی ہے سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا : پس اسی کا فیصلہ سب سے زیادہ صحیح، حکمت بھرا اور خیر سے لبریز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا فیصلہ کامل علم، عین عدل وانصاف اور مکمل حق اور غیرجانبداری پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے اس خیرالحاکمین کے فیصلے میں کسی خطاونسیان، بھول چوک اور کوتاہی و قصور کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہم اس کے فیصلے پر راضی اور مطمئن ہیں۔ جو فیصلہ وہ فرمائے گا اسی میں ہماری بہتری اور بھلائی ہوگی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہی ہے جو اسباب کو پیدا فرماتا اور ان کو مہیا کرتا ہے۔ اور وہی ہے جو تقدیروں کو مقدر فرماتا ہے۔ مسبب الاسباب اور مقدر الاقدار وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔