Ayah 12:81134۔ ہم وہی کچھ بیان کررہے ہیں جو ہم نے خوددیکھا :
کہ بادشاہ کی طرف سے تفیش ہونے پر اس کا وہ گمشدہ پیالہ ہمارے سامنے اس کے سامان سے برآمد ہوا۔ اور یہ سب کچھ بالکل ہمارے سامنے ہوا۔ اور آپ کے بیٹے کا یہ جرم و قصور سب کے سامنے ظاہر ہوا جس کے نتیجے میں بادشاہ کے وزیرنے جو کہ اس کا قائم مقام تھا مسروقہ پیالہ برآمدہونے پر ہماری ہی شریعت اور ہمارے ہی دین و قانون کے مطابق اس کو اپنے یہاں روک لیا۔ کیونکہ ہم نے اس کے پوچھنے پر یہ بتایا تھا کہ ہماری ہی شریعت اور ہمارے دین و قانون میں چور کے بارے میں یہی حکم ہے۔ سو ایسے میں ہم بالکل بےبس ہوگئے تھے۔ ہمارا اس میں کوئی قصور نہیں۔ یہاں پر کلام کا اتنا حصہ محذوف ہے کہ بھائیوں کی آپس کی سرگوشی اور اپنے درمیان صلاح مشورے کے بعدان کا بڑا بھائی تو وہیں رہ گیا اور باقیوں نے واپس آکر اپنے والد ماجد کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی۔ یہ حصہ چونکہ قرینے کہ بناء پر واضح تھا اس لیے اس کو حذف کردیا گیا۔
135۔ اور ہم نہیں تھے غیب کی خبر رکھنے والے :
جو ہمیں پہلے سے ہی پتہ ہوتا کہ اس کی چوری کا یہ قصہ اس طرح پیش آئے گا۔ ورنہ ہم آپ سے اس کے واپس لانے کا اس طرح پختہ عہد نہ کرتے۔ اور اس طرح کا کوئی استثناء پہلے ہی کرلیتے۔ مگر ہمیں اس کی کیا خبر تھی، نیزیہ کہ بادشاہ کا پیالہ تو واقعی ہمارے سامنے اس کے سامان سے برآمد ہوا لیکن ہمیں کیا پتہ کہ یہ اس نے خود رکھا تھا یا یہ حرکت کسی اور نے کی اور کس مقصد کے لیے کی کہ اس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ ہم نے بہرحال کوئی کوتاہی نہیں کی، اور ہمارا اس ضمن میں کوئی قصور نہیں۔ لہذا آپ ہم پر ناراض نہ ہوں۔ ہم تو آپ کی خدمت میں وہی کچھ پیش کررہے ہیں جو ہم نے خود دیکھا۔ اور اگر آپ کو ہم پر یقین نہیں آتا تو آپ اس بستی کے باشندوں سے پوچھ لیں جس میں ہم فروکش تھے، اور اس قافلے سے بھی دریافت کرسکتے ہیں جس میں ہم واپس آئے۔ ہم بہرحال اس بارے سچے ہیں۔
Ayah 12:82136۔ اپنی سچائی کی تائید و تصدیق کے لیے اہتمام مزید کا ذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی سچائی کی تائید و تصدیق کے لیے اپنے باپ سے مزید کہا کہ آپ پوچھ لیجئے اس بستی سے جس میں ہم لوگ فروکش تھے اور اس قافلے سے بھی جس میں ہم آئے تھے اور بلاشبہ ہم ہر طرح سے سچے ہیں بستی سے مراد اس کے باشندے ہیں۔ سو برادران یوسف نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ پوچھ لیجئے اس بستی کے باشندوں سے جس میں ہم لوگ فروکش تھے۔ اور اس قافلے سے جس میں ہم واپس آئے۔ وہ سب ہماری صفائی اور سچائی کی گواہی دیں گے کہ واقعتہ ہم ہر طرح سچے ہیں۔ دیکھ لیجئے کہ ایک مرتبہ جب کسی کا اعتماد کھوجائے تو پھر اس کو دوبارہ اپنا اعتماد بحال کرنے کے لیے کس طرح جتن کرنے پڑتے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اعتماد صنوبر کا درخت ہے جو ایک مرتبہ ٹوٹ جائے تو پھر جڑنے نہیں پاتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ہمیشہ سچ ہی کو اپنا شعاربنائے رکھنا چاہئے اور جھوٹ کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ سچ میں نجات ہے اور جھوٹ میں ہلاکت۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔
Ayah 12:83137۔ صبر جمیل ہی کو اپنانے کے عزم کا اظہار وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیٹوں کی ان باتوں کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ ایسے نہیں بلکہ تمہارے نفسوں ہی نے تمہارے لیے کسی بات کو گھڑ کر اس کو تمہاری نگاہوں میں کھبادیا ہے۔ پس میرا کام تو صبر جمیل ہی کو اپنائے رکھنا ہے۔ سو میں پہلے کی طرح اب بھی مخلوق کے آگے کسی طرح کی کوئی جزع وفزع نہیں کرونگا۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے حوالے کرتا ہوں کہ میرا چارہ کار صبر جمیل ہی ہے۔ اور میری امیدوں کا مرکز میرا اللہ ہی ہے۔ وہی بہتری فرمائے گا اور اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ صبر جمیل اس صبر کو کہتے ہیں جو اظہارغم کے اوچھے طریقوں سے پاک ہو کہ نہ اس میں جزع وفزع اور ماتم وواویلا ہو اور نہ سینہ کو بی وغیرہ کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد تو انسان کو صبر آہی جاتا ہے۔ لیکن اس کا فائدہ کوئی نہیں کہ اس طرح کرنے سے صبرکا اجرموعود ضائع ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اسی لیے صحیح احادیث میں ارشاد فرمایا گیا " انما الصبرعند الصدمۃ الاولی " یعنی " صبر تو وہ ہوتاجوصدمے کے شروع میں کیا جائے " نہ کہ رونے پیٹنے کے ارمان نکال کر۔ سو صبر جمیل اصل میں ان لوگوں کا صبر ہوتا ہے جو غم کو اس طرح برداشت کرتے ہیں کہ نہ ان کی زبان کسی حرف شکایت سے آلودہ ہوتی ہے اور نہ ان کے ہاتھ پاؤں سے کسی خلاف شرع اور کسی خلاف وقار حرکت کا صدور ہوتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن۔
138۔ حضرت یعقوب کی شان امیدورجائ :
سو اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی شان امیدورجاء کی بناء پر کہا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے تینوں بیٹوں کو میرے پاس لے آئے گا، یعنی یوسف، بنیامین، اور ان کے اس تیسرے بھائی کو جو کہ اب مصر میں رہ گیا تھا اور شرم کے مارے واپس نہیں آسکا تھا۔ یہ بات حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس حسن ظن اور امید کی بناء پر کہی جس سے آپ کا دل منور ومعمور تھا۔ کیونکہ اللہ پاک کی سنت اور اس کا دستور یہی ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ملتی ہے۔ نیز آپ کو اپنے دل میں یہ یقین تھا کہ یوسف ابھی تک زندہ موجود ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو خواب دیکھا تھا وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا تھا۔ اس نے بہرحال پورا ہونا تھا اور وہ اسی صورت میں پورا ہوسکتا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) زندہ و سلامت اپنے بھائیوں سمیت مجھ سے ملیں (معارف وغیرہ) لیکن اس قلبی یقین کے باوجود آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یوسف ہیں کہاں ؟ حالانکہ وہ قریب ہی واقع مصر جیسے اتنے بڑے اور متمدن ملک کے بادشاہ تھے۔ سو یہ کس قدر واضح اور کھلا ثبوت ہے اس بات کا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ ان کی آنکھیں پھر بھی نہیں کھلتیں اور وہ اس سب کے باوجود کہتے ہیں کہ پیغمبر عالم ماکان ومایکون اور مختار کل ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر صورت سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ ہر حال میں ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
139۔ اللہ تعالیٰ کی صفت علم وحکمت کا حوالہ وذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب اپنے امیدورجاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم وحکمت کے حوالہ وذکر کے طور پر فرمایا اور حصروقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ ہی ہے سب کچھ جانتا نہایت ہی حکمت والا ہے " پس نہ کوئی چیز اس کے علم و احاطہ سے باہر ہوسکتی ہے کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی ہوسکتا ہے کہ وہ حکیم بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس وہ جو کچھ کرتا ہے اور کرے گا وہی بہتر ہوگا۔ اسی میں خیر ہوگی۔ اور ہمارا ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک پر بھروسہ و اعتماد ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جس طرح گرمی کی شدت سے بارش کی امید بڑھ جاتی ہے اسی طرح ابتلاء و آزمائش کی شدت سے امید ورجاء کو قوت ملتی ہے۔ سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) جب یکے بعد دیگرے تینوں بیٹوں کی دیدوزیارت سے محروم ہوگئے۔ یعنی پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) پھر بنیامین اور اب یہودا۔ تو اس سے ان کو یکایک روشنی کی ایک کرن نظرآئی کہ اب سب کے یکجا ہونے کا وقت قریب آگیا اور اس کا پورا علم اللہ ہی کو ہے جو کہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے میں اپنا معاملہ اسی کے حوالے کرتا ہوں۔
Ayah 12:84140۔ فراق یوسف کے غم میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے رخ پھیر کردرد بھرے انداز میں کہا کہ اے افسوس یوسف پر اور ان کے غم میں روتے روتے آپ کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں اور آپ دل ہی دل میں گھٹے جارہے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک طبعی اور غیراختیاری امر ہے۔ اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بلکہ یہ تو فطرت کا تقاضا ہے۔ جیسا کہ ہمارے حضور نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کے انتقال کے موقعہ پر ارشاد فرمایا تھا۔ ممنوع اور مذموم تو وہ جزع وفزع اور پیٹنا کوٹنا وغیرہ امورجاہلیہ ہیں جو انسان ایسے موقعہ پر اپنے اختیار سے کرتا ہے۔ جیسا کہ روافض وغیرہ گمراہ فرقوں کا حال ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ورنہ محض غم اندوہ نہ برا ہے اور نہ ہی ممنوع ومحظور کہ یہ تو فطرت انسانی کا تقاضا ہے۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا فراق یوسف سے یہ حال کیوں ہوتا ؟ سو یہ کس قدر کھلا ثبوت ہے اس بات کا کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ اس سب کے باوجودعلم غیب کلی اور اختیارکلی جیسے شرکیہ عقائد رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر صورت سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ اور ہمیشہ ہر حال میں ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔ یارب العالمین ویا ارحم الراحمین۔
Ayah 12:85141۔ برادران یوسف کی اپنے باپ کو تسلی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ اباجان آپ یوسف کو یاد کرتے کرتے یونہی جاں بلب یا ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ انہوں نے آپ کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے کہا۔ حالانکہ اس سب کا باعث اور سبب وہ خود ہی تھے۔ بہرکیف اس طرح انہوں نے باپ کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ ان کی اس نصیحت کا انداز اگرچہ بظاہر بڑا ہمدردانہ ہے لیکن درپردہ اس کے اندران کا وہی جذبہ حسدکارفرما ہے جو ان کے ان تمام اقدامات کا باعث بناجن کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا۔ کیونکہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس توقع پر باپ سے دور کیا تھا کہ اس کے بعدباپ کی ساری توجہ ان ہی کی طرف مبذول ہوجائے گی۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معاملہ اس سے مختلف ہوگیا اور نتیجہ الٹانکلا۔ باپ کی توجہ اور نظرالتفات کا جو کوئی گوشہ ان کو اس سے پہلے حاصل تھا اب وہ اس سے بھی محروم ہوگئے۔ اور باپ ہر وقت یوسف ہی کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ تو انہوں نے اپنے باپ سے اس طرح کی بات کہی۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کی ہر حرکت سے محفوظ اور ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے اور ہر قدم اپنی رضا کی راہوں پر ہی اٹھانے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔ یارب العالمین۔
Ayah 12:86142۔ اللہ پاک کے حضور اپنی شکایت پیش کرنا ممنوع نہیں، محمود و مطلوب ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیٹوں کی اس بات کے جواب میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں تو اپنے غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں جو کہ ممنوع و محذور نہیں بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کی اس حاسدانہ بات کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ میں تو اپنے غم اور پریشانی کی شکایت اللہ کے حضور ہی کرتا ہوں۔ نہ کہ کسی اور کے آگے۔ پھر تم کو اس پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟ براتو وہ ہے کہ انسان رب کی طرف سے آئی ہوئی مصیبت کی شکایت اس کی مخلوق کے سامنا کرے۔ میں تو اپنی شکایت اسی قادر مطلق کے حضور کررہا ہوں۔ اور رب کے حضور اپنی شکایت کرنا اور اسی سے اپنی عرض والتجاء پیش کرنا برا نہیں مطلوب و محمود ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس میں اس وحدہ لاشریک کی کا رسائی پر بھروسہ و اعتماد بھی ہے اور اس کی طرف انابت ورجوع بھی۔ اور یہی اساس و بنیاد ہے سعادت دارین سے سرفرازی کی۔ سورونا دھونا وہ برا اور مذموم ہے جو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے آگے ہو جبکہ اپنے رب کے آگے رونا اس کی عبادت و بندگی کا حصہ اور ایک امر مطلوب ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوالصراط۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ
143۔ پیغمبر کی امتیازی شان کا حوالہ وذکر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جس کا علم تم لوگوں کو نہیں " کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور میرے پاس اللہ پاک کی طرف سے وحی آتی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ اس ابتلاء و آزمائش کا یہ دور بالآخر ختم ہوگا۔ میرا یوسف مجھے واپس زندہ ملے گا۔ اس کے خواب کی تعبیرپوری ہوگی۔ اس کو سجدہ کیا جائے گا۔ تم سب اس کے آگے سجدہ ریز ہوؤگے۔ اور میں بھی اس کو سجدہ کروں گا۔ کما روی ذالک عن ابن عباس ؓ (تفسیر المراغی وغیرہ) اور یہ دورجواب ایک آزمائشی دور ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا یہ دور کب ختم ہوگا۔ سو یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختار کل۔ اور ان کو غیب کا وہی اور اتناہی علم عطا فرمایا جاتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اور جو ان کے منصب نبوت کے لائق اور ادائے رسالت کی غرض کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور مجھے یقین ہے کہ یوسف زندہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ اپنی نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ ان پر اپنی وحی نازل فرمائے گا اور اس پر اور آل یعقوب پر، اپنی نعمت کو پورا فرمائے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس تم مجھ پر اعتراض کرنے کی بجائے مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو ۔
Ayah 12:87144۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کی ممانعت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت نے ان سے کہا اور پیار کے انداز میں اور نہایت صاف لفظوں میں کہا کہ اے میرے بیٹوتم جاؤ اور جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہوؤکہ اللہ کی رحمت سے مایوس کافر لوگ ہی ہوا کرتے ہیں " جو اس کی قدرت، حکمت اور رحمت ورافت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اور وہ نہیں جانتے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے پس پردہ اس کی کیا کچھ حکمتیں کارفرما ہیں۔ اسی لئے وہ صبر سے عاری ہوتے ہیں اور اپنے مقصد میں ناکامی کے بعدوہ خود کشی بھی کرلیتے ہیں۔ بخلاف مومن صادق کے کہ وہ خیروشر کی ہر حالت میں اپنے رب کی رحمت و عنایت سے مطمئن، پرامید اور شادکام رہتا ہے۔ نعمت ملنے پر وہ اپنے رب منعم کا شکر بجالاتا ہے۔ جس سے وہ اس کے لیے خیربن جاتی ہے۔ اور تکلیف و مصیبت آنے پر وہ صبروبرداشت سے کام لیتا ہے۔ جس سے وہ بھی اس کے لیے خیروبرکت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ سو اس کے لئے ہر حالت خیر ہی خیر کی ہے۔ جیسا کہ نبی معصوم حضرت امام الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام۔ نے اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو کہ مٹی کو بھی سونا بنادینے والی اور اس انسان کی اس مشت خاک کو کہیں سے کہیں پہنچا دینے والی بےمثال دولت ہے فالحمد للہ الذی شرفنا بہذہ النعمۃ العظمی والمنۃ الکبری۔ فثبتنا اللہم علیہاوزدنا منہایا ارحم الراحمین۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی پیغمبرانہ شان اور پیغمبرانہ ایمان و یقین کے مطابق ان سے فرمایا کہ میں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوسکتا کہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا کافروں کا کام ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور بیٹوں سے آپ نے پیار کے انداز میں کہا کہ تم جاؤ اور جاکریوسف اور اس کے بھائی کے بارے میں کھوج لگاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور اس کی مشکل کشائی اور کرم فرمائی سے مایوس مت ہوؤکہ اس کی رحمت سے مایوس کافر لوگ ہی ہوتے ہیں۔ تم اگر صدق و اخلاص سے اور جان کی بازی لگانے کے جذبہ سے نکلوگے تو رحمت خداوندی کا ایک جھونکا ہی تمہارا سارا کام بنادے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدوعلی مایحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 12:88–89145۔ برادران یوسف کی لجاجت والتجاء :
سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس حکم وارشاد پر برادران یوسف پھر مصر کے سفر پر روانہ ہوئے اور مصر میں انکے حضور ہوئے تو ان کے سامنے نہایت رقت انگیزانداز میں اپنی پریشانی اور خستہ حالی کا ذکر کیا۔ سرگزشت کا یہ حصہ چونکہ ظاہر اور واضح تھا اس لیے اس کو ذکر نہیں فرمایا گیا بلکہ درباریوسفی میں حاضری کے بعدکاحال بیان فرمایا گیا۔ بہرکیف اس سے واضح فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے حاضرہوکر اپنی لجاجت اور حاجت و ضرورت کا ذکر بڑے ہی رقت انگیزانداز میں کیا کہ حضرت قلت کثرت عیال اور ہولناک قحط سالی کے باعث ہمارا حال بہت برا ہوگیا ہے۔ اور ہم اپنے ساتھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں جو اگرچہ آپ کے حضور پیش کرنے اور قبول کرنے کے لائق نہیں مگر ہم عرق ندامت میں غرق ہوکرعرض کرتے ہیں کہ ہم وہی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ اس کے سوا ہمارے پاس اور کچھ نہ تھا نہ ہے۔ اس لیے ہمیں مجبورا اسی کو لے کر حاضرہونا پڑا۔ لہذا آپ چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے اسی کو قبول کرلیں اور ہمیں اس کے عوض صدقہ اور احسان کے طور پر غلہ عنایت فرمادیں۔ یہ آپ کا ہم پر احسان ہوگا اور یقینا اللہ تعالیٰ صدقہ اور احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا اور ان کو اپنی طرف سے جزائے خیر سے نوازتا ہے۔
Ayah 12:90147۔ احسان خداوندی کی تذکیر و یاددہانی :
سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ افشاء راز کے اس موقع پر برادران یوسف نے چونک کر حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ ہائیں کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ تو اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا حقیقی بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ احسان فرمانے والا وہی وحدہ لاشریک ہے۔ بس بڑی پھٹکار ہے ان لوگوں پر جو اس کے سو اوروں کے دروں پر جھکتے ہیں اور مافوق الاسباب طور پر غیر اللہ سے مدد مانگ کر جریمہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ جو کہ سنگین جرم اور ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس انکشاف پر وہ چونک کر بولے کہ ہائیں کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ تب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت بڑا احسان فرمایا کہ کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچایا۔ کس طرح اٹھایا اور کن کن لطیف تدابیر سے کام لیا۔ سو یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم اور اسی کا انعام واحسان ہے۔ نہ اس میں کسی اور کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ خود ہی ہماری اپنی کسی خوبی کا۔ بلکہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے۔ فالحمد للہ رب العالمین۔
148۔ صبروتقوی وسیلہ نجات و سرفرازی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ جو کوئی تقوی و پرہیزگاری کا اپنائے رکھے وہ صبروضبط سے کام لے اور راہ حق وصواب پر مستقیم وثابت قدم رہے تو (وہ یقینا مراد کو پا گیا کہ) بیشک اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں کے اجروثواب کو کبھی ضائع نہیں فرماتا۔ سو اس سے آنجناب نے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا کہ بیشک اللہ نیکوکاروں کا اجرضائع نہیں کرتا۔ جو صبروتقوی کے جامع ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ صبروتقوی کی دولت بھی کیا شاہ کلید ہے جو کہ ہر خیرکا دروازہ کھولنے والی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو احسان والوں کو اللہ پاک ان کے احسان کے بدلے میں اس دنیا میں بھی اپنی طرح طرح کی عنایات سے نوازتا ہے جبکہ ان کا اصل اجروثواب اور بدلہ وہ ہے جس سے وہ ان کو آخرت کے اس ابدی جہاں میں نوازے گا جس کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صفت احسان سے سرشارومالا مال رکھے۔ آمین ثم آمین۔ احسان کا لفظ یہاں پر صبروتقوی کی بنیادی شرط وصفت کی طور پر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں صبروتقوی وہی مقبول و معتبر ہے جس کے اندراحسان کی روح پائی جاتی ہو۔ یعنی بندہ صبروتقوی کا حق اس طرح ادا کرے کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر یہ نہیں تو کم ازکم یہ یقین رکھے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ بندے کا خدا بہرحال اس کو دیکھ رہا۔ کما وردذالک فی حدیث جبریل الصحیح المعروف۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھوالھادی الیٰ سوآالسبیل۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین۔
Ayah 12:91149۔ برادران یوسف کا اعتراف جرم و قصور :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر انہوں نے کہا کہ " بلاشبہ اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی "۔ علم وحلم اور فضل و کمال ہر اعتبار سے۔ اور یقینا ہم سخت خطاکار تھے۔ سو اللہ نے آپ کو حسن ظاہر وباطن کے کمال اور جامعیت سے نوازدیا ہے۔ اور ایسا اور اس قدر کہ ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ لہذا اب آپ للہ ہمیں معاف کردیں کہ آپ کی اس فضیلت و برزگی اور عظمت شان کا تقاضایہی ہے کہ آپ ہمیں معاف کردیں۔ بہرکیف اس موقع پر برادران یوسف نے خدا کی قسم کھاکر اقرار کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی اور ہم بڑے خطاکار تھے جو اپنے باپ کو آپ کی بناء پر خطاکار سمجھتے تھے کہ وہ آپ سے ہمارے مقابلے میں زیادہ محبت کیوں کرتے ہیں اور اس بناء پر ہم نے وہ سب پاپڑ بیلے۔ سو اب ظاہر ہوگیا کہ آپ واقعی اس کے سزاوار تھے۔ اور ہم یقینا سخت غلطی پر تھے۔
Ayah 12:92150۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے بھائیوں کے لیے معافی کا اعلان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ بےفکر رہوں کہ اب تم پر کوئی الزام نہیں۔ میں نے تمہیں سچے دل سے معاف کردیا ہے۔ یہی بات ہمارے حضور ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر کفار قریش سے فرمائی تھی۔ یعنی تم پر کوئی الزام نہیں۔ جاؤتم سب آزاد ہو۔ سو انتقام کا موقع مل جانے کے باوجودمعاف کردینا اور عفو و درگزر سے کام لینا حضرات انبیائے کرام کی سنت اور ان کے اخلاق عالیہ میں سے ہے۔ وباللہ التوفیق۔ " تثریب " کے معنی کسی قابل ملامت فعل پر ملامت کرنے کے ہیں۔ سوا گر کوئی سچے احساس ندامت کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے تو کریم بن کریم اس کو معاف کردیتا ہے۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جب محسوس فرمالیا کہ یہ لوگ سچے دل سے اپنی غلطی کے معترف اور اس پر نادم ہیں تو انہوں نے بڑی فیاضی سے ان کو معاف فرمادیا اور ان سے یہ بھی فرمایا کہ اب تم لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ اور یہ کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے بھی معافی کی امید دلائی۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش فرمائے سو اس طرح آپ نے ان کی مغفرت وبخشش خداوندی کی امید دلائی۔
151۔ سچی توبہ ذریعہ بخشش و معافی :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں سے بھی معافی کی امید دلائی اور ان سے فرمایا کہ اللہ بھی تم کو معاف فرمادے گا کہ وہ بڑا ہی مہربان ہے۔ پس وہ ہراس شخص کی بخشش فرما دیتا ہے جو سچے دل سے توبہ کرکے اس کے یہاں حاضرہو۔ خواہ اس کا گناہ کیسا ہی کیوں نہ ہو۔ فاغفرلی یاربی ذنبی کلہ دقہ وجلہ، اولہ واخرہ، سرہ وعلانیتہ، ماعلمت منہ وما لم اعلم۔ فمغفرتک اوسع من ذنوبی، ورحمتک ارجی عندی من عملی۔ اور جب میں تم کو معاف کردیا حالانکہ میں بندہ بشرہوں تو وہ تم کو کیوں نہیں معاف فرمائے گا جبکہ وہ سب سے بڑا مہربان " ارحم الراحمین " ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ (معارف ازکاندھلوی) ۔ سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے نہ صرف یہ کہ خودان کو بڑی فیاضی اور فراخدلی سے معاف فرما دیا بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں سے بھی معافی کی امیددلادی جو کہ آپ کے مکارم اخلاق کا ایک اور نمونہ ہے۔
Ayah 12:93152۔ یوسف کے کرتے کی عظمت شان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ تم یہ کرتالے جاؤ اور اس کو لے جاکر میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا۔ اس سے ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور تم اپنے سب گھر والوں کو میرے پاس لے آؤ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتابھی عجیب تھا کہ تین عجیب اور عظیم الشان نشانیاں اس سے وابستہ ہیں۔ آپ کے بھائی جب اس پر جھوٹاخون لگا کرلے گئے تو ان کے والد نے کہا کہ وہ بھیڑیا کیسا تھا جس نے یوسف (علیہ السلام) کو کھالیا مگر ان کے کرتے کو پھاڑا تک نہیں۔ اس طرح اس کرتے سے ان کا جھوٹ کھل گیا۔ پھر اسی کرتے نے زلیخا کی تہمت کے موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صفائی بیان کردی۔ اور اب یہی کرتا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی کھوئی ہوئی بنیائی واپس لانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کرتے کے میں بارے میں جو اس طرح فرمایا تو یا تو یہ وحی خداوندی کی بناء پر تھا اور یا اس لیے کہ آپ نے کہا کہ جب میرے والد کی بینائی میری جدائی اور کثرت بکاء کی وجہ سے گئی تو اب میرا کرتہ ان کے چہرے پر ڈال دینے سے ان کو شرح صدر حاصل ہوجائے گا۔ اور ان کو وہ خوشی نصیب ہوگی جو کہ سب سے بڑی اور عظیم الشان خوشی ہوگی۔ تو اس کے نتیجے میں ان کی کھوئی ہوئی بینائی لوٹ آئے گی اور شدت غم اور حزن وملال کی وجہ سے پیدا ہونے والی کیفیت زائل ہوجائے گی۔ (تفسیر المراغی وغیرہ ) ۔ سو جس ضعف بصارت کا سبب وہ غم والم اور گریہ وزاری تھا جو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی جدائی سے ان کو لاحق ہوا تھا اس کا واحد علاج بھی یہی تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا پتہ دینے والی کوئی چیزان کے سامنے لائی جائے۔ خاص کر کوئی ایسی چیز جو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے جسم کے ساتھ لگی ہوئی ہو اور ان کی خوشبو کے اثرات اس کے اندر موجود ہوں۔ تاکہ اس کی لائی ہوئی خوشی ان کے رگ رگ میں حیات تازہ دوڑادے۔ یہاں پر یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی زندگی کا سب سے بڑا غم پیراہن یوسف ہی کی شکل میں آپ کے سامنے آیا تھا جبکہ ان کے بھائی اس پر جھوٹاخون لگا کر بوڑھے باپ کے سامنے لائے تھے۔ اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی پیراہن یوسف ہی کی شکل میں ملنے والی تھی۔ سبحان اللہ۔ کیا کیا شانیں ہیں رب رحمان کی رحمتوں اور عنایتوں کی جو اس کی حکمتوں بھری کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں۔ اللہ ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 12:94153۔ اللہ پاک کی شؤن مختلفہ کا ایک نمونہ ومظہر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب یہ قافلہ یوسف کا کرتا لے کر مصر سے روانہ ہوا تو (کنعان میں بیٹھے) ان کے والد نے اپنے گھریں موجوداپنے بیٹوں سے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے دیوانہ قراردینے لگو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ " مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہورہی ہے " سبحان اللہ۔ اللہ پاک کی شانیں بھی کیا عجیب ہوتی ہیں۔ بتانے پہ آئے تو کنعان میں بیٹھے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مصر میں موجوداپنے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کے کرتے کی خوشبو محسوس ہونے لگے۔ اور نہ بتائے تو کچھ ہی فاصلے پر موجود کنعان کے کنویں میں پڑے مظلوم وبے سہارا یوسف کا پتہ نہ چلے اور اس کے فراق میں روتے روتے یعقوب کی آنکھوں کی بینائی تک جاتی رہے۔ سو معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے اختیار میں اور اسی کی مشیت ومرضی پر موقوف اور اسی کے تابع ہے۔ چناچہ یہی بات جب کسی نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے پوچھی تو آپ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ ہماری شان تو آسمان سے چمکنے والی بجلی کی طرح ہوتی ہے کہ اس کے چمکنے اور روشنی پھیلنے پر آس پاس کی سب چیزیں فورا نظرآنے لگتی ہیں۔ اور جونہی وہ بجھتی ہے تو چہارسو اندھیرا چھا جاتا ہے۔ کبھی تو ہم لوگ عالم بالا کی سیر کررہے ہوتے ہیں اور کبھی اپنے پاؤں کی پیٹھ پر بھی کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ اسی کو شیخ سعدی۔ علیہ الرحمۃ۔ نے اس طرح منظوم فرمایا ہے۔ یکے پر سیدزاں گم کردہ فرزند۔ کہ اے روشن گوہر پیر خردمند۔ زمصرش بوئے پیراہن شمیدی۔ چرادرچاہ کنعانش نہ دیدی۔ گفت احوال مابرق جہانند۔ دمے پیدا ودیگر نہاں اند۔ گہے برطارم اعلی نشینم۔ گہے پر پشت پائے خودنہ بینم۔ سو حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ بلکہ معاملہ سب اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہوتا ہے۔ وہ جب چاہے اور جس قدر اور جیسے چاہے ان کو عطا فرمائے۔ جیسا کہ اس قصے سے واضح ہے۔ اور جیسا کہ حضرت امام الانبیاء، صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔ کی شان تھی کہ غیب کی کتنی ہی خبریں اور کتنے ہی علوم تھے جو آپ کو عطا فرمائے گئے۔ جن کا احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ لیکن جب وہ نہ بتائے تو سامنے رکھے ہوئے کھانے میں پڑے زہر کا بھی پتہ نہ چلے۔ یہاں تک کہ جبریل نے آکر خبردی۔ ورنہ اس سے پہلے آپ نے خود بھی اس سے تناول فرمالیا تھا جس کا اثر اور درد آپ کو آخرتک رہا۔ اور آپ کے ساتھیوں نے بھی اس سے کھالیا جس سے وہ شہید بھی ہوگئے۔ سو انسان اگر صحیح طور پر غور و فکر سے کام لے تو حق اور حقیقت کی راہ اس کے سامنے پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayah 12:95154۔ برادران یوسف کی بدتمیزی کا ایک اور نمونہ ومظہر :
سو اس سے برادران یوسف کی بدتمیزی اور بےقدری کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد کو جو کہ ایسی عظیم الشان اور جلیل القدرشخصیت کے مالک تھے، ان کو ان کے منہ پر خبطی قرار دیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی آل واولاد میں سے ان لوگوں سے جو وہاں ان کے پاس موجود تھے کہا کہ اگر تم لوگ مجھے دیوانہ نہ قراردو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہورہی ہے مگر انہوں نے وہی بات کی جس کے خدشے کا اظہارحضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ سو انہوں نے جواب میں کہا اور قسم کھا کر کہا کہ اللہ کی قسم آپ پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں یوسف کی یاد اور اس کی محبت کے سلسلہ میں۔ حالانکہ ان کی گمشدگی کو اب ایک زمانہ گزرچکا ہے۔ اب کہاں یوسف ؟ اور کیسی ان کی واپسی ؟ مگر آپ ہیں کہ اب تک ان کے خیال میں پڑے ہیں۔ (صفوۃ، معارف اور المراغی وغیرہ) اور ظاہری صورت حال تھی بھی ایسی ہی کہ اتنے عرصے کے بعدیوسف کے زندہ رہنے کی اور زندہ واپس آنے کی کوئی صورت بہت بعید تھی۔ لیکن ایمان و یقین کی قوت بڑی عظیم الشان اور بےمثال قوت ہوتی ہے۔ اس کے بعد کچھ بھی بعید اور ناممکن نہیں رہ جاتا۔ اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنی جگہ اور اپنی اسی قوت ایمانی اور بصیرت ایقانی کی بناء پر مطمئن تھے کہ یوسف ابھی تک زندہ ہیں۔ اور وہ ضرورزندہ ہی مجھ سے ملیں گے۔ اور ان کے خواب کی تکمیل ہوکر رہے گا۔ سبحان اللہ۔ کیسی روح پرور ایمان افروز اور انقلاب آفرین قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت کہ اس کے بعدنہ کوئی مایوسی ہے نہ افسوس۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ ہے کہ اس کے بعدہرحالت خیرہی خیربن جاتی ہے۔ نعمت ملی تو بھی خیر اور تکلیف آئے۔ والعیاذ باللہ۔ تو بھی خیر۔ دنیا میں بھی خیر اور اس کے بعدآخرت کے ابدی جہاں اور حقیقی زندگی میں بھی خیر۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند اور سرفراز کرنے والی دولت ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یاذالجلال والاکرام۔ دوسری طرف اس سے بےقدری اور بدتمیزی کی ایک بری مثال بھی سامنے آتی ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان کی اولاد و احفاد کی طرف سے آپ کے رودررو خبطی قراردیا گیا۔ " تفیند "۔ " فند " سے ماخوذ ہے اور " فند " اس کم عقلی کو کہا جاتا ہے جو بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے انسان پر طاری ہوتی ہے (مدارک التنزیل، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور مراغی وغیرہ) اسی کو اردو میں " سٹھیاجانا " اور خبطی و دیوانہ ہوجانا وغیرہ الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 12:96–97155۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی کے لوٹ آنے کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب پہنچ گیا وہ خوشخبری لانے والا اور اس نے ڈال دیا وہ کرتا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر تو فورا لوٹ آئی آنجناب کی کھوئی ہوئی بصارت اور آپ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم لوگوں سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور روایات کے مطابق یہ یہودا تھا جس نے کہا کہ چونکہ میں ہی باپ کے سامنے یوسف کا وہ کرتاجھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے گیا تھا۔ اب میں ہی خوشخبری والے اس کرتے کو لیکر جاؤں گا تاکہ اس قصوروغلطی کا ازالہ وتدارک ہوسکے۔ (روح، ابن جریر، قرطبی وغیرہ) کہتے ہیں خوشی کے اس عظیم الشان موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس خوشخبری لانے والے سے پوچھا کہ یوسف کیسا تھا ؟ اس نے کہا کہ واہ یوسف کے کیا کہنے۔ وہ تو مصر کے بادشاہ ہیں۔ فرمایا میں یہ نہیں پوچھتا بلکہ میں اس کے دین کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ اس کا دین کیسا ہے ؟ کیا " علی الاسلام "۔ وہ اسلام پر قائم ہے " تب آپ نے فرمایا " الان تمت النعمۃ " اب اس انعام کی تکمیل ہوگئی " کہ یوسف دین پر قائم ہے۔ (الروح، القرطبی وغیرہ) ۔ سبحان اللہ۔ کیسی امتیازی شان ہوتی ہے حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی اور کس قدر عظیم نعمت ہے یہ دین و ایمان کی نعمت کہ اس قدر طویل اور صبر آزما محنت اور ابتلاء کے بعد کہ بیٹے کی جدائی میں روتے روتے آنکھوں کی بینائی بھی چلی جاتی ہے۔ بیٹے کی زندگی اور موجودگی کی خوشخبری ملتی ہے اور وہ بھی اس خوشخبری کے ساتھ کہ وہ مصر جیسے اس وقت کے سب سے بڑے متمدن اور ترقی یافتہ ملک کے بادشاہ اور سربراہ ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں کہ کہتے ہیں کہ میں یہ نہیں پوچھتا۔ میں نے بادشاہی کو کیا کرنا ہے۔ بلکہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرے یوسف کے دین و ایمان کی کیفیت کیا تھی ؟ پھر جب بتایا جاتا ہے کہ دین فطرت یعنی اسلام پر قائم ہیں توتب آپ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں " الان تمت النعمۃ " اب اس انعام اور خوشخبری کی تکمیل ہوئی ہے اور وجہ اس کی ظاہر وباہر ہے کہ ایمان و یقین کی دولت ہی وہ دولت ہے جس سے درحقیقت انسان کی قدروقیمت بنتی ہے اور اس کی دنیا وآخرت سنورتی ہے۔ ورنہ انسان محض کچرا اور کوڑے کرکٹ کا ایک ڈھیر ہے۔ بلکہ اس سے بھی برا اور گیا گزرا کیونکہ اس کچرے اور کوڑے کرکٹ سے کل حساب کتاب نہیں ہونا۔ اور اس کے لیے جنت دوزخ کا کوئی سوال نہیں۔ جبکہ اس انسان ضعیف البنیان نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب بھی دینا ہے اور کامیابی کی صورت میں اس کے لیے جنت کی سدابہار نعمتیں بھی ہے۔ اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور ناکامی کی صورت میں اس کے لیے نہ صرف یہ کہ جنت کی ان عظیم الشان نعمتوں سے محرومی کا خسارہ ہے بلکہ اس کو دوزخ کے ہاوئیے میں گرنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہاں سے یہ بھی اندازہ کیجئے کہ آخرت کے یقین اور دین و ایمان کی نعمت سے انسان کتنا بڑا اور کس قدر وسیع الظرف ہوجاتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی بادشاہت کی بھی اس کی نظر میں کوئی حیثیت و حقیقت اور اہمیت ووقعت نہیں رہ جاتی۔ جبکہ اس کے برعکس ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان اس قدر اوچھا اور اتنا تنگ ظرف ہوجاتا ہے کہ بادشاہی تو درکناروہ معمولی انتخاب جیتنے پر بھی کیسی کیسی اچھل پھلانگ کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ ڈھول دھمکے، ناچ گانے، رقص وسرود، رنگ رلیوں اور عیش کوشیوں وغیرہ وغیرہ کن کن غفلت شعاریوں سے کام لیتا ہے۔ سودیکھئے اور موازنہ کیجئے کہ کہاں ایمان و یقین کی دولت سے مالامال مومن صادق کا وہ نمونہ ؟ اور کہاں لذت ایمان اور قوت یقین سے محروم انسان کا یہ نمونہ ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ فزدنا اللہم ایمانا بک، ویقینابوعدک، ووفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل وما یقربنا الیک والی جنتک یا ارحم الراحمین ویا اکرم۔ بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 12:98–100156۔ حضرت یعقوب کی طرف سے ان کے لیے بخشش کی دعا کا وعدہ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے آنجناب سے عرض کیا کہ اے ہمارے اباجان آپ ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعاء فرمائیں۔ ہم واقعی بڑے ہی خطاکار تھے۔ تو اس پر آپ نے ان سے فرمایا کہ میں عنقریب ہی تمہارے لیے بخشش کی دعاء کرونگا " یعنی قبولیت کے وقت میں۔ سحری کے وقت یا جمعہ کی رات میں۔ یا یہاں تک کہ یوسف سے بھی تمہارا قصورمعاف کرالوں کہ تمہارا قصوربہت سنگین ہے۔ یہ سب ہی احتمال اواقوال اس ضمن میں موجود ہیں۔ (القرطبی، الجامع ابن کثیر وغیرہ) سو برادران یوسف نے اپنی طلب و درخواست میں (یا ابانا) کہہ کر اپنے گناہوں کا ذکر تو کیا لیکن اللہ پاک کا ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ ان کو اپنے گناہ اپنی نگاہوں میں بہت بڑے لگے۔ اور یہی حال ہوتا ہے انسان کا اس وقت جبکہ اس کا ضمیر جاگتا ہے اور اس کی نظر اپنے گناہوں پر پڑتی ہے کہ اس وقت اس کو اپنی وہ خطائیں جن کو وہ اس سے پہلے کچھ نہیں سمجھتا تھا بہت بڑی نظر آنے لگتی ہیں۔ جبکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس کے برعکس اپنے جواب میں رب کا ذکر فرمایا مگر ان کے گناہوں کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔ کیونکہ رب تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کے سامنے ایسے گناہوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی اور اس کی وسعت رحمت و مغفرت ناپیدا کنار ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ قرآن حکیم کے دقائق تعبیر میں سے ہے۔ (محاسن التاویل للامام القاسمی الدمشقی) والحمد للہ جل وعلا۔ فاغفرلنا ذنوبناکلھا وجلھا اولھا وآخرھایارب العالمین۔
157۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ وذکر :
سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے " اس لیے اس کی بخشش اور رحمت سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ خواہ قصورکتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ کیونکہ وہ " غفور " یعنی بڑا بخشنہار ہے۔ اور صرف بخشتاہی نہیں، رحم بھی فرماتا ہے۔ کہ وہ " غفور " کے ساتھ ساتھ " رحیم " یعنی انتہائی مہربان بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس ضرورت اس کی طرف سچے دل سے رجوع کرنے کی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید بکل حال میں الاحوال وفی لحظۃ من اللحظات فی الحیوۃ۔ یہاں پر یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی یہ استدعا تو قبول فرمائی لیکن ان کے فوری دعا کرنے کے بجائے دعاء کا وعدہ فرمایا کہ میں عنقریب ہی تمہارے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا۔ سو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کے لیے خاص اہتمام کے ساتھ خاص وقت میں دعا کرنے کا وعدہ فرمایا۔ اور ان کو اس طرح کی سرسری بات کہ کرٹالنے کی کوشش نہیں کی کہ جاؤ اللہ تمہیں معاف فرمائے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ ظاہر ہوتی ہے کہ آدمی کا دل اگر اپنے گناہوں پر پیشمان ہو تو اس کو صالحین سے دعا کی درخواست کرنی چاہئے اور یہ کہ اس کے حق میں صالحین کی دعا قبول بھی ہوتی ہے۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یوں توبندہ اپنے رب سے ہر وقت ہی دعا کرسکتا ہے لیکن خاص اہتمام، خاص اوقات اور خاص جگہوں میں دعا کی قبولیت کی امید زیادہ ہوتی ہے۔ احادیث صحیحہ میں ایسے اوقات واماکن کو جگہ جگہ فرمایا گیا ہے اور راقم آثم نے اپنی کتاب قرآن وسنت کی مقدس دعائیں " میں ان کو خاصی تفصیل سے بیان کردیا ہے جس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ والحمد للہ رب العالمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین۔
Ayah 12:101164۔ حکومت و فرمانروائی سے نوازنا اللہ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع پر اللہ پاک کے حضور عرض کیا " اے میرے رب تو نے ہی مجھے حکومت بخشی " کہ حکومت دینے اور چھیننے والا تو ہی تو ہے۔ عزت وذلت سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ اور خیر کے سب خزانوں کا مالک تو ہی ہے اے میرے خالق ومالک۔ اب دیکھئے کہ ایک طرف تو عبدیت و بندگی اور عجزوانکسار اور للہیت کا یہ نمونہ ہے اور دوسری طرف آج کے جاہل مسلمان کو دیکھئے کہ اس کو جب کسی چھوٹے موٹے الیکشن میں کامیابی نصیب ہوجاتی ہے یا چھوٹا بڑا کوئی عہدہ اسے مل جاتا ہے تو وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ تو وہ جا کر کسی قبریا آستانے پر بکرے چھترے کاٹتا ہے۔ اور وہاں سلامی پیش کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ یہ سب کچھ مجھے انہوں نے ہی دیا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور بدعتی ملاں اور قبر پرست پیر اس کی پیٹھ ٹھونکتا ہے کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو۔ یہ سب کچھ یہیں سے ہوتا ہے اور اس طرح وہ ایسے جاہلوں کے شرکیہ عقیدوں کو اور پکا کرتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس طرح وہ کیسی شرکیات کا ارتکاب کرتا اور اپنے لیے ہلاکت و تباہی کا سامان کررہا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دل یہ منظر دیکھ کر خداوند قدوس کی حمد وثنا میں ڈوب جاتا ہے۔ اور آپ اس کے شکر وسپاس سے رطب اللسان اور دل وجان سے اس کی متوجہ ہوکرمحو دعا ہوجاتے ہیں۔ اور یہی شان ہوتی ہے خاصاں خدا کی کہ وہ نعمت کی ملنے پر منعم حقیقی کی طرف ہوجاتے ہیں وباللہ التوفیق۔
165۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی اللہ تعالیٰ سے اس کی کارسازی کی دعاء و درخواست :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ پاک کے حضور عرض کیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے والے تو ہی میرا کا زساز ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا اور اس کی نعمتیں جتنی بھی زیادہ اور جتنی بھی طویل ہوں آخرفانی ہیں۔ اصل حقیقی اور دائمی نعمتیں تو آخرت ہی کی ہیں۔ سو اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعاء کی کہ وہ اپنی عنایت وعطاء فرمودہ ان نعمتوں کا کامل فرمائے اور ان کو محفوظ رکھے۔ کیونکہ نعمتوں سے نوازنے والا بھی وہی ہے اور ان کو محفوظ رکھنا بھی اسی کی شان ہے۔ سو پیغمبر کا نمونہ اور اس کا اسوہ تو یہ ہے کہ ہر صورت اور ہر حال میں اللہ ہی کی طرف رجوع کیا جائے۔ لیکن آج کا کلمہ گو مشرک طرح طرح سے شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کو جب کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ جا کر کسی قبر پر چادر ڈالتا ہے۔ چڑھاوے چڑھاتا ہے۔ اور وہاں دیگیں پکاتا ہے۔ اور صاف طور پر کہتا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے اسی قبر سے ملا ہے وغیرہ وغیرہ اور اس طرح وہ نعمت پاکر منعم حقیقی کی یاد دلشاد اور اس کے شکر وسپاس سے سرشار ہونے کی بجائے الٹا کفران نعمت اور شرک کے ہاوئے میں جاگرتا ہے۔ جس سے اس کی نعمت اس کے لیے خیر کی بجائے شر اور اس کی محرومی میں اضافے کا باعث بن جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ من کل زیغ وضلال وسوء وانحراف۔
166۔ خاتمہ بالخیر کے لیے ایک عظیم الشان دعاء :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اللہ پاک کے حضور عرض کیا کہ اے میرے مالک، جب تو مجھے دنیا سے اٹھائے تو میرا خاتمہ اسلام پر فرمانا اور مجھے نیک لوگوں کے زمرے میں اٹھانا۔ کہ کامیابی کی راہ بھی یہی ہے اور میرے باپ دادا کی وصیت بھی یہی ہے کہ تم اسلام پر ہی مرنا۔ (تموتن الا وانتم مسلموں) اور زندگی کا خاتمہ ہو تو اسلام پر اور اللہ کے نیک بندوں یعنی انبیاء ورسل کے ساتھ ہو۔ سو اس دعاء میں موت کا مطالبہ نہیں۔ جیسا کہ کچھ لوگوں نے سمجھا۔ بلکہ یہ حسن خاتمہ کی دعاء ہے۔ یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ دعاء نہیں فرمائی کہ مجھے ابھی موت آجائے اور میں فوری طور پر مرجاؤں۔ کیونکہ یہ تو ممنوع ہے۔ چناچہ صحیحین یعنی صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی کسی مصیبت وغیرہ کی بناء پر کبھی موت کی تمنا نہ کرے۔ کیونکہ وہ اگر نیک ہوگا تو اس کے لیے نیکی میں اضافے کا موقع باقی رہے گا۔ اور اگر وہ برا ہوگا توشاید وہ توبہ کرلے۔ (بخاری کتاب الدعوات، باب الدعاء بالموت والحیاۃ، مسلم کتاب الذکر و الدعاء والتوبۃ والاستغفار) سو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے موت کی تمنا نہیں کی بلکہ یہ دعاء کی کہ جب وقت مقرر پر میری موت آجائے تو اسلام کی حالت میں آئے اور میرا حشرنیک بندوں کے ساتھ ہو۔ (محاسن التاویل، معارف القرآن اور مراغی وغیرہ) سو یہ حسن خاتمہ کے لیے ایک عظیم الشان دعاء ہے۔ اس لیے امام رازی (رح) کہتے تھے کہ میں ہمیشہ یہی دعاء کرتارہتا ہوں (تفسیر کبیر، المعارف وغیرہ) اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف یہاں تک حضرت یوسف (علیہ السلام) کا وہ قصہ مکمل ہوگیا۔ اب آگے چند اہم درس ہائے عبرت بیان فرمائے جارہے ہیں۔ کیونکہ قرآن حکیم کا مقصد محض قصہ گوئی نہیں بلکہ ان قصوں کے ذریعے اور ان کے ضمن میں بندوں کے لیے درسہائے عبرت و بصیرت کا سامان کرنا ہے۔ وباللہ التوفیق لمایحب، ویریدوعلی مایحب ویرید، حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وانت العزیز الوھاب۔
Ayah 12:102167۔ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک کھلا ثبوت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ اے پیغمبران (برادران یوسف) کے پاس موجود نہیں تھے۔ کہ ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہونا صرف اللہ جل شانہ ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ وہ اس کے باوجود اللہ تبارک و تعالیٰ کی مخلوق میں سے اس کے مختلف بندوں کو ہر جگہ حاضر وناظر مانتا ہے۔ اور ان کو حاجت روا ومشکل کش اقرار دیتا ہے۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے ڈھکوسلے گھڑتا اور مفروضے پیش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے لیے وہ قرآن و سنت کی مقدس نصوص تک میں تحریف اور تلبیس سے کام لیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہ قصہ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک کھلا کھلاثبوت اور ایک واضح دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نہ وہاں موجود تھے اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی سے ایک حرف بھی نہ پڑھا تھا۔ تو پھر آپ نے اس قصہ کو اس قدراہم اور اتنی باریک تفصیلات کے ساتھ آخر کیسے بیان فرمادیا۔ سو وحی الہی کے سوا اس کا کوئی اور ذریعہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ پس اس سے یہ امر پوری طرح ثابت اور واضح ہوجاتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کے پاس اس کی وحی آتی ہے اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں۔ وہ وحی خداوندی ہی کی بناء پر فرماتے ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔
Ayah 12:103168۔ لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں :
سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ خواہ کتناہی چاہیں لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں " بلکہ ان کی اکثریت بےایمانوں اور نافرمانوں ہی کی رہے گی۔ والعیاذ باللہ۔ پس آپ افسردہ و غمگین نہ ہوں ان کی اس بےرخی اور قدر ناشناسی پر کہ آپ کا کام تو صرف پیغام حق پہنچادینا ہے اور بس۔ اور وہ آپ کرچکے۔ آگے منوا لینا اور حق کو ان کے دلوں میں اتاردینانہ آپ کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی یہ آپ کے بس اور اختیار میں ہے۔ (فلاتذھب نفسک علیہم حسرات) یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ بات واضح ہوگئی کہ اکثریت ہمیشہ غلط کار، بےایمان اور فاسق وفاجرلوگوں کی رہی ہے۔ امرواقعہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ اب بھی یہی ہے اور جب بھی یہی تھا، آج بھی یہی ہے کل بھی یہی تھا۔ پس عوام کالانعام کی اکثریت کا کسی بات کے حق میں ہوجانا اس کے صحیح اور حق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ جس طرح کہ نام نہادمغربی جمہوریت کے پرستاروں کا کہنا اور ماننا ہے اور جس طرح کے اہل بدعت نے سمجھ رکھا ہے۔ سو ایسے نہیں بلکہ حق اور صدق وہی اور صرف وہی ہے جس کو اللہ حق فرمائے۔ اور اس کے رسول اس کو حق بتلائیں۔ اگرچہ اس کا حامل و علمبردار فرد واحد ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہ انہی کا قول وقرار اور فرمان وارشاد عین حق وصدق تھا، جبکہ ان کے خلاف اور ان کے مقابلے میں نمرود و فرعون اور ان کی قومیں اپنی کثرت کا ثرہ اور واضح اکثریت کے باوجود سراسر باطل وزور پر تھی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیـغمبرمختارکل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ حضرت امام الانبیاء کی حرص اور کوشش کے باوجود لوگوں کی اکثریت بےایمان نہ رہتی۔ نیز یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جب انسان کے اندر نورحق و ہدایت سے سرفرازی اور بہرہ مندی کی طلب وچاہت موجود نہ ہو تو اس کو اس سے کوئی بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اور اس کے لیے محرومی ہی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 12:104169۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ (قرآن) تو ایک عظیم الشان نصیحت ہے سب جہانوں کے لیے سو جس نے اس کو قبول کیا اور مانا اس کا اپنا فائدہ۔ اور جس نے اس سے اعراض کیا اور منہ موڑا، اس نے اپنے ہی آپ کو خسارے میں ڈالا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بس نہ کسی کے ماننے سے اس کی عظمت میں اضافہ ہوجائے گا اور نہ کسی کے انکار اور اعراض سے اس کی شان میں کوئی فرق آسکے گا۔ یہ بہرحال حق و صداقت سراسر ذکر و نصیحت اور عین نور و برکت ہے۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ یہ لوگ اگر نہیں مانتے تو اس میں نہ آپ کا کوئی قصور ہے اور نہ آپ کو اس بارے میں غمگین اور پریشان ہونے کی ضرورت ہے، کہ آپ کا کام تو صرف تبلیغ حق ہے اور بس، اور وہ آپ کرچکے۔ اور آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ اس کے بعد اگر یہ لوگ اس کو قبول نہیں کرتے تو اپنی محرومی اور بدبختی کے داغ کو اور پکا کرتے ہیں کہ یہ تو ایک عظیم الشان نعمت ہے جس کو سب دنیا جہاں کی بہتری اور بھلائی کے لیے اتارا گیا ہے۔ اور اس کی تعلیمات مقدسہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ووسلیہ ہیں۔