Ayahs 11:93–95189 ۔ منکرین و معاندین کے لیے آخری جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے آخری جواب کے طور پر ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ۔ میں اپنے طریقے پر کام کرتا ہوں۔ عن قریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ سو تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ سو اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ جھوٹا کون تھا تم یا ہم۔ کیونکہ وہ لوگ آپ کو کاذب کہتے تھے۔ (جامع البیان) جیسا کہ دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی کہا گیا ہے۔ بلکہ " کاذب " سے بڑھ کر ان کو " کذاب " کہا گیا جو کہ کذب سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی بہت بڑا جھوٹا۔ جیسا کہ قرآن پاک کی تصریح کے مطابق قوم ثمود نے اپنے پیغمبر کے لیے کہا تھا۔ (بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ) (القمر : 25) اور وہاں پر بھی اس بدبخت قوم کے اس بےہودہ قول کے جواب میں یہی ارشاد فرمایا گیا کہ کل تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ (کذاب) اور (اشر) کون ہے ؟ (سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ ) (القمر : 26) کہ فیصلے کے اس موقع پر اصل حقیقت پوری طرح واضح ہو کر اور نکھر کر تمہارے سامنے آجائے گی۔ تب تم لوگوں کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ بہرکیف حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ان متکبر اور منکر لوگوں سے کہا کہ اگر تم لوگ اپنی اس روش سے باز نہیں آتے تو تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں اپنا کام کر رہا ہوں۔ اور میری مخالفت میں تم نے جو کچھ کرنا ہے کرلو۔ میں انذار وتبشیر کے جس مشن پر اپنے رب کی طرف سے مامور ہوں وہ کرتا رہوں۔ وقت آنے پر تم لوگوں کو خود معلوم ہوجائے گا کہ رسواکن عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے۔ اس وقت کا انتظار تم بھی کرو میں بھی کرتا ہوں۔ کیونکہ غیب کا علم مجھے بھی نہیں کہ میں تم کو ٹھیک ٹھیک اس وقت بتادوں کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 11:96192 ۔ بعثت موسوی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ۔ سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت و تشریف آوری آیات خداوندی اور سلطان مبین کے ساتھ ہوئی تھی اور آنجناب کو دیئے جانے والے اس سلطان مبین یعنی واضح دلیل اور کھلی سند سے مراد ہے تورات اور دوسرے کھلے معجزات کے ساتھ کہ ان میں آپ کی صداقت و حقانیت کے لئے سلطان مبین یعنی واضح دلیل اور کھلی سند موجود تھی (محاسن التاویل وغیرہ) کہ یہی خصوصی عنایات خداوندی تھیں جن سے حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی طرف سے آنجناب کو نوازا گیا تھا اور جن سے آپ کے دعوائے نبوت و رسالت کی حقانیت و صداقت ثابت اور واضح ہوتی تھی۔ اور دوسرا قول و احتمال اس ارشاد کے بارے میں یہ ہے کہ یہاں پر آیات سے مراد وہ عام نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قدم قدم پر ظاہر ہوئیں۔ اور سلطان مبین سے مراد وہ خاص نشانی ہے جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے درباریوں پر اور ساحروں پر کھلا ہوا غلبہ حاصل ہوا۔ یعنی معجزہ عصا۔ سو یہاں پر عام کے بعد خاص کا ذکر فرمایا گیا اور اس کو سلطان مبین کے لفظ سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا کہ اس کی حیثیت دراصل ایک ایسی حجت قاہرہ کی تھی جس کے بعد فرعون اور اس کے درباریوں کی ساکھ خود ان کے اپنے لوگوں کی نگاہوں میں اکھڑ جائے گی اور فرعون کے خدائی دعوے کی حقیقت کھل جائے گی۔ جیسا کہ بعد میں فی الواقع ہوا، سو عصاء موسوی قدرت خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر تھا۔
Ayah 11:97193 ۔ بعثت موسوی فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ سو بعثت تو آنجناب کی اگرچہ اس پوری قوم کی طرف تھی مگر ارباب بست و کشاد چونکہ ان لوگوں میں فرعون اور اس کے یہی سردار تھے اس لیے ذکر بطور خاص انہی کا فرمایا گیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مدارو انحصا ارباب بست و کشاد ہی کی اصلاح پر ہوتا ہے کہ ان کی اصلاح سے پورے ملک و قوم کی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے بگاڑ سے سب بگاڑ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ پاک نے تو ان لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات اور سلطان مبین یعنی کھلی سند کے ساتھ بھیجا لیکن ان بدبختوں نے اپنی مت ماری کی بناء پر پیروی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بجائے فرعون کے حکم ہی کی کی۔ جس سے بالآخر وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے گہرے کھڈے میں گر کر رہے۔ اور یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے حضرات انبیاء و رسل کی دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور ان کی تکذیب و انکار کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
194 ۔ گمراہوں کی پیروی کا نتیجہ ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بعثت و تشریف آوری کے باوجود جو کہ ہماری نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ تھی ان لوگوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی۔ حالانکہ فرعون کا معاملہ راستی کا نہ تھا بلکہ ہلاکت و تباہی کا تھا۔ کہ وہ کفر و انکار کی راہ پر تھا جو کہ بغاوت و سرکشی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں سے مفہوم مخالف کے طور پر یہ بات نکلتی ہے کہ حاکم اگر رشد و ہدایت والا ہو اور وہ راہ حق و صواب کی راہنمائی کرتا ہو تو اس کی پیروی کرنا درست بلکہ مطلوب ہے۔ محض مخالفت برائے مخالفت جس طرح کہ آج کی نام نہاد جمہوریت میں ہوتا ہے، اسلامی تعلیمات کا تقاضا و مدعا نہیں۔ بلکہ اسلام کا اصول تو یہ ہے (وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى ۠ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) کہ " نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو " خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ لیکن گناہ اور زیادتی کے کام میں کسی کا تعاون نہیں کرنا " سبحان اللہ۔ کیسا صاف ستھرا اور جامع اور پاکیزہ اصول و ضابطہ ہے جو اس کتاب حکیم نے دنیا کو عطا فرمایا ہے۔ اور پندرہ سو برس قبل کے اس دور میں عطا فرمایا جب کہ دنیا تہ بہ تہ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور آج بھی جو لوگ قرآن و سنت کے اس نور مبین سے منہ موڑے ہوئے ہیں وہ اسی طرح ڈوبے ہوئے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے فرعون کے حکم ہی کی پیروی کی حالانکہ اس کا حکم مان کر وہ تباہی کے گھاٹ پر اتر کر رہے اور ہمیشہ کے لیے فی النار والسقر ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے آمین ثم آمین۔
Ayah 11:98195 ۔ آدمی کا حشر اپنے قائد اور محبوب کے ساتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز فرعون اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ ان کو دوزخ میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ سو بڑا ہی برا گھاٹ ہوگا جس پر ان لوگوں کو اتارا گیا ہوگا۔ سو جس طرح وہ دنیا میں کفر و ضلال میں ان کا پیش رو تھا اسی طرح وہاں بھی وہ ان کے آگے آگے ہوگا۔ اور جس طرح ان لوگوں نے اس کو دنیا میں اپنا قائد و پیش رو تسلیم کر رکھا تھا اسی طرح وہاں بھی یہ بدبخت اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے۔ پس ہر شخص کو اور خاص کر ہر مسلمان کو دیکھنا چاہئے کہ وہ دنیا میں کس کی پیروی کرتا ہے۔ اس کے عقائد و اعمال وغیرہ کیسے ہیں کہ اس کا حشر اسی کے ساتھ ہونا ہے جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا " المرء مع من احب " یعنی " آدمی کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے " سو جس قوم اور جماعت نے کسی کو اپنا قائد اور لیڈر بنایا ہوگا وہ وہاں اس کی پیشوائی میں حاضر ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے " سو جس قوم اور جماعت نے کسی کو اپنا قائد اور لیڈر بنایا ہوگا وہ وہاں اس کی پیشوائی میں حاضر ہوگی۔ جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کے نمونے سے واضح ہے اور جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ) (بنی اسرائیل : 71) بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے چونکہ دنیا میں فرعون ہی کی پیروی کی تھی تو وہ قیامت میں ان کو ہمیشہ کے عذاب میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 11:99–100196 ۔ فرعونیوں پر لعنت و پھٹکار کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پیچھے لگا دی گئی لعنت اس دنیاوی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی۔ بڑا برا انعام ہے جو دیا گیا ان بدبخت لوگوں کو۔ سو فرعون اور اس کے پیروں کاروں کا انجام نہایت ہی ہولناک انجام ہوا۔ یعنی لعنت پر لعنت اور دارین کی رسوائی و پھٹکار اور ہمیشہ کا عذاب۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے نور حق و ہدایت سے اعراض برتنے اور منہ موڑنے کا اور عناد و ہٹ دھرمی سے کام لینے کا۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ اس کے تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " رفد " کے معنی عطیہ و انعام کے ہیں اور " مرفود " اسی سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ یعنی بڑا ہی برا عطیہ و انعام تھا جو ان بدبختوں کو عطا کیا گیا ان کے کفر و انکار اور سرکشی وعناد کے نتیجے میں۔ اور ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر برا انجام اور برا انعام اور کیا ہوسکتا ہے کہ دنیا میں بھی ان کے بعد کے ہر دور میں اور ہر قوم کی زبان پر ان کے لیے اور قیامت میں بھی ان کے لیے لعنت و پھٹکار ہی ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں اس طرح ارشاد فرمایا گا۔ (وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ ) (القصص : 42) سو یہ ہوتا ہے نتیجہ و انجام ان لوگوں کا جو حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کرتے اور ان کی دعوت سے اعراض و روگردانی سے کام لیتے ہیں اور ان کے اس ہولناک انجام کو رفد یعنی انعام کہنا تہکم و تذلیل کے طور پر ہے (المراغی وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 11:101–102197 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں کچھ حالات ان بستیوں کے جو ہم سناتے ہیں آپ کو اے پیغمبر ان میں سے کچھ اب تک کھڑی ہیں اور کچھ کی فصل کٹ چکی ہے۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا کہ ہمارا کام اور ہماری شان ظلم کرنا نہیں رحمت کرنا ہے۔ ظلم تو یہ نادان انسان اپنی جان پر خود کرتا ہے جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑتا ہے۔ ورنہ ہماری طرف سے تو رحمت ہی رحمت ہے۔ اور ہماری رحمت سب کے لیے عام ہے۔ (رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ) سو حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض و بےرخی برتنا سب سے بڑا ظلم ہے جس کا ارتکاب باغی سرکش انسان کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ظالم انسان کا یہ ظلم حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی ذات اقدس و اعلی کے بارے میں بھی ہوتا ہے اور اس کی مخلوق کے بارے میں بھی۔ اور خود انسان کی اپنی ذات کے بارے میں بھی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 11:103200 ۔ عقیدہ آخرت اصلاح احوال کی اساس و بنیاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ہر شخص کے لیے جو ڈرتا ہو عذاب آخرت سے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ عبرت پذیری کے لیے اولین شرط اور بنیادی امر عذاب آخرت کا خوف اور اس کا ڈر ہے کہ اس کے بغیر انسان بےفکر اور لاپرواہ بن جاتا ہے۔ اور صرف بطن و فرج اور مادہ و معدہ کے تقاضوں کے لیے جینے اور مرنے کا عادی بن جاتا ہے جس کے بعد حق و ہدایت اور وعظ و نصیحت کی آواز اس کے کانوں کے پردوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس ہوتی ہے۔ اس کے دل و دماغ تک نہیں پہنچ پاتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ان قوموں کی ان سرگزشتوں میں بڑی بھاری نشانی اور سامان عبرت و بصیرت ہے مگر ان سے آنکھیں ان ہی لوگوں کی کھلتی ہیں اور درس عبرت و بصیرت ان ہی کو ملتا ہے جو آخرت کا خوف و اندیشہ رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے ڈرتے ہوں کہ دل اصل میں ایسے ہی لوگوں کے زندہ اور ہر قول حق و ہدایت کے لیے کھلے ہوتے ہیں۔ ورنہ آخرت کے منکر ایسے شخص بیل اور اندھے جانور کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کو نہ کوئی تنبیہ کام دیتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی نشانی۔ وہ کسی بھی طرح ماننے اور ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ ) (یونس : 101) سو عقیدہ آخرت ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین عقیدہ ہے کہ اسی سے آدمی فکر مند ہوتا اور سنجیدہ بنتا ہے اور وہ حق بات سننے اور ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ اور بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جبکہ اس عقیدہ و ایمان سے محرومی کی صورت میں۔ والعیاذ باللہ۔ انسان کے دل و دماغ کے منافذ و مداخل قبول حق سے بند ہوجاتے ہیں اور وہ محروم سے محروم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
201 ۔ یوم آخرت سب لوگوں کے لیے جمع ہونے کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ہولناک دن ہوگا جس میں جمع کیا جائے گا سب لوگوں کو تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ اور بدلہ پاس کے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے اور اپنی آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ جس کے نتیجے میں سچے ایمان و یقین والے جنت اور اس کی ابدی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ اللہ ہمیں انہی سب میں کرے۔ اور اس کے برعکس کفر و انکار والے دوزخ کے ہولناک عذاب سے دوچار ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو وہ ایسا عظیم الشان دن ہوگا کہ اس میں اولین اور آخرین سب کو اکٹھا کرکے لایا جائے گا۔ یعنی سب اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی۔ حضرات انبیائے کرام کو بھی اور ان کی امتوں کو بھی۔ نیکی کی تعلیم دینے والوں کو بھی اور برائی کی راہیں دکھانے والوں کو بھی۔ حاکموں کو بھی اور محکوموں کو بھی۔ زیردستوں کو بھی اور زبردستوں کو بھی۔ ظالموں کو بھی اور مظلوموں کو بھی۔ تاکہ نیکی کی کمائی کرنے والوں کو ان کی نیکیوں کا پھل ملے اور برائی کی فصل کاشت کرنے والے اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگت سکیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
202 ۔ یوم آخرت، حضوری اور پیشی کا دن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دن ہر کسی کی پیشی ہوگی اپنے رب کے حضور جہاں وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا ریکارڈ حاضر اور موجود پائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا (وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا) (الکہف : 49) اور اسی کے مطابق ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور اور کامل طریقے سے پورے ہوں۔ سو وہ یوم مشہود سب کی حاضری کا دن ہوگا جس میں سب کو حاضر کیا جائے گا تاکہ سب یکجا اور آمنے سامنے موجود ہوں تاکہ سب کے سامنے واضح ہوسکے کہ کس نے اپنی دنیاوی زندگی کس طرح گزاری اور حق کی اشاعت و تبلیغ یا اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کے لیے کس نے کیا کردار کیا ؟ تاکہ اس کے مطابق ان کے درمیان ہر معاملے کا فیصلہ پورے عدل و انصاف کے ساتھ ہوسکے۔ اور یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے جس کو قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر بیان فرمایا گیا۔ مثلا سورة نحل : 89 سورة نور : 24، سورة غافر : 51، اور سورة بروج : 1 ۔ 3 وغیرہ۔
Ayah 11:104203 ۔ یوم حساب کی تاجیل و تاخیر ایک مقررہ مدت تک کے لیے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نفلی واثبات کے اسلوب حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اس کو مؤخر نہیں کرتے مگر ایک گنی چنی مدت تک کے لیے جس کا علم ہمارے سوا کسی کو بھی نہیں ہوسکتا۔ سو اس نے اپنے مقرر وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے۔ نہ وہ اس سے ایک لمحہ پہلے آسکتا ہے اور نہ ایک لمحہ کے لیے پیچھے ہوسکتا ہے۔ سو عقل و خرد اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حیات دنیا کی اس مختصر و محدود فرصت کو وہاں کی کامیابی اور فائز المرامی کے لیے صرف کرے کہ وہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جو کہ ہمیشہ رہے گی۔ نہ یہ کہ اس سے غفلت برتے اور اس کے آنے کے لیے جلدی مچائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آخرت کی کامیابی اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور دائمی اور ابدی بھی۔ اور اس کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی تمام کامیابیاں ہیچ اور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس جو لوگ آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کو بھول کر اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر محض دنیا کے لیے جی رہے ہیں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں۔ یہ ایسا بڑا اور اس قدر ہولناک خسارہ ہے کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا اور یہ ایسا خسارہ جس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن ہی نہیں۔
Ayahs 11:105–106204 ۔ مشرکانہ عقیدہ شفاعت کی تردید : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہاں کوئی اللہ کے اذن کے بغیر بات بھی نہیں کرسکے گا چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ جس دن وہ آپہنچے گا اس دن کوئی بات بھی نہیں کرسکے گا مگر اس کے اذن سے۔ پس بڑی غلطی پر ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں ہستی یا فلاں سرکار کا لڑ پکڑ رکھا ہے۔ وہی ہمارا کام بنادیں گی۔ ہم ان کی نذر و نیاز دیتے رہیں گے۔ ان کو خوش رکھیں گے۔ باقی عمل وغیرہ ہم سے کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہی ہمارا سارا کام کروا دیں گے کہ یہ خدا کے پیارے ہیں جو اڑ کر بیٹھیں گے اور ہمارا کام کرا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ایسے لوگ نعمت عمر کی فرصت محدود کو یونہی ضائع کررہے ہیں اور اس طور پر کہ ان کو اس کا احساس بھی نہیں۔ اور یہ ایک ہولناک خسارہ ہے کہ پھر اس کی تلافی وتدارک کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے بتادیا گیا کہ وہاں کوئی بات بھی نہیں کرسکے گا مگر اس کے اذن سے۔ ہر کسی کو اپنا ایمان و عمل ہی چھڑا اور بچا سکے گا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
205 ۔ قیامت کے دن میں لوگوں کی تقسیم دو حصوں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز لوگوں کی تقسیم دو حصوں پر ہوگی۔ ایک وہ جو بدبخت ہوں گے اپنے کفر و شرک اور نور حق و ہدایت سے دوری و محرومی اور اپنی سرکشی و طغیانی اور معصیت و نافرمانی کے باعث۔ والعیاذ باللہ۔ اور ایسے بدبختوں کو اپنے کیے کرائے کا نتیجہ دوزخ کی اس ہولناک آگ میں جلنے کی صورت میں بھگتنا ہوگا جس کا اس جہان و مادہ و معدہ میں سمجھنا اور تصور کرنا بھی ممکن نہیں جبکہ نیک بخت لوگ اس روز جنت کی سدابہار نعمتوں میں ہوں گے۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے دنیا کو وہاں کے ان غیبی حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت سے آگہی بخش دی۔ تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف جن لوگوں نے حق سے محرومی کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کی محرومی اور بدبختی اس روز سب کے سامنے عیاں ہوجائے گی۔ اور اس کے بالمقابل جنہوں نے اپنی زندگی نور حق و ہدایت کی روشنی میں گزاری ہوگی وہ وہاں کی حقیقی اور دائمی و ابدی کامیابی سے سرفراز و سرشار ہوں گے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 11:107206 ۔ نیک بختوں کی کامیابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بدبخت لوگ وہاں پر دوزخ میں پڑے چیختے چلاتے اور دھاڑیں مار رہے ہوں گے اور ان کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے۔ لیکن نیک بخت جنت میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا جب تک کہ زمین و آسمان قائم رہیں گے۔ اپنے ایمان و عقیدہ اطاعت و بندگی اور اعمال صالحہ کی بناء پر۔ اللہم اجعلنا منہم۔ اور ایسے نیک بخت اور سعادت مند جنت کی ان سدابہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے جن کا اس جہان رنگ و بو میں تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اور یہی وہ کامیابی ہے جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے اور جو سدابہار اور ابدی و دائمی کامیابی ہے۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو اس یوم فصل وتمیز میں لوگ اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے دو حصوں میں بٹ جائیں گے۔ ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز لوگ سعادت مند ہوں گے جن کو حضرت واہب مطلق۔ جل وعلا۔ کی طرف سے بےمثال اور ابدی و دائمی اجر وثواب سے نوازا جائے گا۔ جبکہ شقی اور بدبخت لوگوں کو اپنے زندگی بھر کے کفر و انکار کا پھل پانا اور ہمیشہ کا عذاب بھگتنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ نیک بختی اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
207 ۔ اللہ کی مشیت سب پر حاوی و غالب : سو یہاں پر اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کے انجام کے ذکر وبیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو وہاں رہنا ہوگا جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ مگر یہ کہ تمہارا رب ہی کچھ اور چاہے کہ تمہارے رب کی مشیت بہرحال سب پر حاوی اور سب پر غالب ہے اور زمین و آسمان سے یہاں پر مراد وہاں کے زمین و آسمان ہیں۔ کیونکہ یہ موجودہ آسمان و زمین تو اس وقت ختم ہوچکے ہوں گے۔ اور ظاہر ہے کہ وہاں کے آسمان و زمین ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ اس لیے ان بدبختوں کو ہمیشہ وہاں رہنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یا اس محاورے کے طور پر دوام اور ہمیشگی مراد ہے کہ عرب جب کسی چیز کے دوام و خلود کو بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ چیز باقی رہے گی جب تک کہ آسمان و زمین باقی ہیں۔ " دائم ما تدوم السماء والارض " بہرکیف دونوں صورتوں میں مقصود ان لوگوں کے وہاں پر رہنے کے دوام و خلود کا بیان کرنا ہے کہ ایمان والے اور جنتی ہمیشہ جنت ہی میں رہیں گے۔ اللہ ہمیں انہی میں کرے۔ اور کفر و بغاوت والے دوزخی ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ میں ہی رہیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ (طبری، قرطبی، روح، کشاف وغیرہ) سو جنتی وہاں کی سدا بہار نعمتوں میں ہمیشہ کے بےمثال آرام و راحت میں رہیں گے جبکہ دوزخی دوزخ کے ہولناک عذابوں میں پڑے چیختے چلاتے رہیں گے۔ مگر ان کی چیخ و پکار کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا، سوائے ان کی آتش یاس و حسرت کی تیزی کے۔
Ayahs 11:108–109208 ۔ اللہ جو چاہے کرے : کہ وہ مختار کل اور حاکم مطلق ہے اور اس کی مشیت سب پر حاوی اور سب سے بالا و برتر ہے۔ پس وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ کہ وہ (علی کل شیء قدیر) بھی ہے اور (فعال لما یرید) بھی اس کے کسی ارادے میں نہ کوئی روک نہ رکاوٹ اور نہ کسی کو اس سے کسی طرح کی پرسش و پوچھ کا یارا۔ کہ اس کی صفت ہے (لایسئل عما یفعل وہم یسئلون) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو یہ بدبخت وہاں کے ان ہولناک عذابوں میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے کہ ان کا عذاب دائمی ہوگا اور ان کو اس دائمی عذاب میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ کوئی ان کو اس سے چھڑانے والا نہیں ہوگا مگر یہ کہ تمہارا رب ہی کچھ چاہے۔ سو وہ اگر چاہے تو کسی کے عذاب میں تخفیف کردے یا کسی کو خاک اور راکھ بنا دے کہ اس کی شان " فعال لما یرید " کی شان ہے۔ کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے یا اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس استثناء سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ ان لوگوں کے احوال و مراتب میں تبدیلیاں ہوں گی۔ لیکن یہ تبدیلیاں خیر سے شر کی طرف نوعیت کی نہیں ہوں گی۔ بلکہ خوب سے خوب تر کی طرف کی نوعیت کی ہوں گی۔ اس لیے کہ ان کے واسطے خداوند قدوس کی عطاء و بخشش میں کبھی انقطاع نہیں ہوگا۔ (عطاء غیر مجذوذ) ۔ سو ان کو جنت کی وہ عظیم الشان، بےمثال اور کبھی نہ منقطع ہونے والے عطیے کے طور پر ملے گی۔ سو یہی اصل اور حقیقی نعمت جو کہ نعمتوں کی نعمت ہوگی۔ اللہ نصیب فرمائے۔
209 ۔ کبھی نہ ختم ہونے والی عطاء و بخشش : سو جنت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسی عظیم الشان عطاء و بخشش ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ سو ہوگی تو وہ محض بخشش نہ کہ بدلہ۔ کہ انسان کا عمل اول تو ہے ہی کیا ؟ اور پھر وہ ہے بھی محدود جبکہ وہاں کی نعمتیں بےمثال بھی ہوں گی اور ہمیشہ کے لئے اور لازوال بھی۔ اس لئے وہ محض اللہ پاک کے انعام و احسان کے طور پر ہی نصیب ہوں گی۔ دنیاوی نعمتوں کی طرح ان کے ختم ہوجانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوگا۔ (ورزق ربک خیر وابقی) ۔ یعنی " تمہارے رب کی عطاء و بخشش سب سے بہتر بھی ہوگی اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ سو اسی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنانا چاہئے۔ وباللہ التوفیق۔
Ayahs 11:110–112212 ۔ پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کے سامان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی مگر اس میں بھی اختلاف کیا گیا کہ کچھ نے مانا اور کچھ نے نہ مانا۔ پس قرآن پاک کے بارے میں ان کفار اشرار کے اختلاف کے باعث آپ ﷺ اے پیغمبر رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ بلکہ پہلے سے ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ (المراغی، الفتح، الجامع وغیرہ) سو آپ بھی اسی طرح صبر ہی سے کام لیتے رہیں جس طرح کہ انہوں نے صبر سے کام لیا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ) (الاحقاف : 35) سو اس ارشاد میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف منکرین و مکذبین کے لیے تنبیہ و تذکیر کہ اگر تم لوگ اپنے اس جرم کفر و انکار سے باز نہ آئے تو تمہیں بھی اسی ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑے گا جس سے تم سے پہلے کے منکرین ہوچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تکذیب و انکار حق کے جس جرم کی سزا وہ لوگ بھگت رہے ہیں اسی جرم کا ارتکاب اگر تم لوگ کرو تو کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کی پاداش اور بھگتان سے تم محفوظ رہو ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
213 ۔ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کا فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا۔ یعنی یہ بات کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے کہ پورا عذاب اور بدلہ آخرت ہی میں ہوگا نہ کہ دنیا میں۔ دنیا " دار الجزاء " نہیں " دار العمل " اور " دار الابتلاء " ہے (المراغی، الجامع، الصفوۃ وغیرہ) سو اگر یہ بات طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کفار و مشرکین کا فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا۔ مگر چونکہ یہ اصول و ضابطہ ایک طے شدہ اصول و ضابطہ ہے اس لیے ان کو ڈھیل ملی ہوئی ہے۔ مگر اپنے وقت پر یہ اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہیں گے۔ کہ یہی تقاضا ہے قانون مکافات اور عدل و انصاف خداوندی کا۔ والحمد للہ جل وعلا۔
214 ۔ حق کے انکار کا نتیجہ خلجان و اضطراب : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ لوگ اس کتاب حکیم کی بناء پر ایک خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور شک و ارتیاب کے چبھنے والے اس کانٹے نے ان کو ہمیشہ کے لیے بےچین کر رکھا ہے کہ امن وامان اور سکون و اطمینان کی دولت تو ایمان و یقین کی قوت اور اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد ہی سے ملتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ اور تنبیہ و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ (اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ) ۔ (الرعد : 28) یعنی " آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے " سو حق و ہدایت اور توحید و وحدانیت کی جو دعوت آپ ان کو دے رہے ہیں وہ قطعی طور پر صاف اور واضح ہے لیکن یہ لوگ چونکہ اس کو ماننا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے یہ اس کے بارے میں سخت تردد اور خلجان آمیز شک میں پڑے ہیں۔ نہ مانے بنتی ہے نہ انکار کرتے۔ سو انکار حق کی یہ ایک نقد سزا ہے جو ایسے بدبختوں کو یہیں ملتی ہے اور برابر ملتی رہتی ہے کہ اس کی بنا پر ایسے لوگ سکون و اطمینان کی دولت سے محروم اور ہمیشہ کے قلق و اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 11:113218 ۔ ظالموں کی طرف جھکنے کی ممانعت : سو اہل ایمان کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اور تم کبھی جھکنا نہیں ظالموں کی طرف کہ ایسے لوگ تو بہرحال ہلاکت اور تباہی کی راہ پر ہیں۔ پس کھلے کفار و مشرکین کی طرح دوسری گمراہ قوموں اور دوسرے مختلف گروہوں، گروپوں اور فرقوں میں سے کسی کی طرف بھی جھکنا اور ان سے دلی میلان اور لگاؤ رکھنا ایک مسلمان کے لئے جائز نہیں جو کہ اپنے کفریہ شرکیہ اور ملحدانہ عقائد و نظریات پر اسلام کا لیبل لگا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ جیسے قادیانی دجال کے پیرو، روافض، چکڑالوی، منکرین حدیث اور اہل حق کی تکفیر کرنے والے وہ قبر پرست اہل بدعت جو ائمہ حرمین شریفین تک کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے اور ان کے بارے میں وہ طرح طرح کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ وہ ایسے اور ایسے ہیں وغیرہ۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے ظالموں اور بہکے بھٹکے لوگوں سے دور و نفور رہنا ہی دین کا تقاضا ہے۔ اور یہی صحت و سلامتی کا راستہ اور دینی غیرت کا مقتضی ہے۔ ورنہ ان کے کفر و شرک کی میل تم پر بھی اثر انداز ہوجائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
219 ۔ ظالموں کی طرف جھکاؤ کا نتیجہ دوزخ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ظالموں کی طرف کبھی نہیں جھکنا کہ اس کے نتیجے میں تم لوگوں کو دوزخ کی آگ آپکڑے اور اس وقت اللہ کے سوا تمہارا کوئی حامی ہوگا اور نہ ہی تم لوگوں کو کہیں سے کوئی مدد مل سکے گی۔ سو ظالموں کی طرف جھکاؤ اور میلان رکھنے کا نتیجہ و انجام بڑا برا اور نہایت ہولناک ہوتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب ان ظالموں کی طرف جھکنا اور ان سے کچھ میلان رکھنا بھی اتنا بڑا جرم و گناہ ہے تو پھر ان سے دلی تعلق و دوستی اور بےروک ٹوک روابط و محبت رکھنا اور ان سے رشتے ناطے تک کرنا کس قدر بڑا جرم اور ہولناک گناہ ہوگا ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس میں اہل ایمان کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے کہ کسی خوف یا طمع وغیرہ میں آکر ان لوگوں کی طرف مائل نہیں ہوجانا جو کفر و شرک کے ظلم پر اڑے ہوئے ہیں۔ ورنہ دوزخ کی وہی آگ جو ایسے بدبختوں کے لیے مقدر ہے تمہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اور اس وقت اللہ کے مقابلے میں تمہارا کوئی یار و مددگار نہ ہوگا۔ اور (ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ ) کے اس جملے سے اس اہم حقیقت کو واضح فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ان کفار و مشرکین کی طرف ذرا بھی مائل ہوئے تو تم خداوند کی اس نصرت سے بھی محروم ہوجاؤ گے جس کا اس نے تم سے اس دنیا میں وعدہ فرما رکھا ہے۔ کیونکہ اس کا یہ وعدہ استقامت کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ اس کے بغیر تم لوگ نصرت خدوندی کے سزاوار نہیں ہوسکتے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayahs 11:114–115220 ۔ نماز قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور نماز قائم رکھو تم نماز کو دن کے دونوں سروں پر۔ یعنی صبح و شام۔ اس میں فجر، ظہر اور عصر کی تین نمازیں آگئیں۔ سو اقامت صلوۃ دین حنیف کا ایک اہم حکم و ارشاد اور بنیادی مطالبہ ہے۔ اور اسی سے انسان اپنے رب کی رضا اور اس کی نصرت و امداد اور اعانت سے سرفراز ہوتا اور مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ سو اس ارشاد سے صبر و استقامت کے حصول کی تدبیر بیان فرمائی گئی اور قرآن حکیم میں اس حقیقت کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے کہ راہ حق میں شیطان اور اس کے اعوان و انصار کی طرف سے پیش آنے والی مشکلات اور مزاحمتوں کے لیے روحانی قوت کے حصول اور اس سے سرفرازی کا ذریعہ نماز ہی ہے۔ یہی چیز بندے کو خدا سے جوڑتی ہے اور جب خدا سے جڑ جاتا ہے تو اس پر خداوند قدوس کی طرف سے انوار و برکت کا فیضان ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا دل وسوسوں اور کمزوریوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ اور جو پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
221 ۔ رات کو بھی نماز قائم کرنے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور رات کے کچھ حصوں میں بھی۔ سو اس میں مغرب و عشاء کی نمازیں آگئیں۔ سو اس طرح اشارتًا یہاں پر پانچوں نمازوں کا ذکر ہوگیا اور اس طرح اجمالی طور پر پانچوں نمازوں کا ذکر تو قرآن حکیم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے مگر ان کی تفاصیل دوسرے تمام ارکان اسلام کی طرح احادیث نبویہ کے ذخیرہ مقدسہ ہی سے مل سکتی ہیں۔ پس یہ امر حجیت حدیث کی ایک بڑی اہم اور قطعی دلیل ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن حکیم کے مفاہیم و مطالب کو صحیح طور پر سمجھنا اور ان کی مراد کو متعین کرنا اور قرآنی احکام پر صحیح طریقے سے اور پورے طور پر عمل کرنا ممکن ہی نہیں۔ اسی لئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن پاک آپ کی طرف اے پیغمبر اسی لیے اتارا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے اس کی مراد کھول کر بیان فرمائیں۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے (وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ) (النحل : 44) سو حدیث رسول دین حنیف کا قرآن حکیم کے بعد دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ اس کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔ اور اس کا انکار قرآن کا انکار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو نماز ایک عظیم الشان عبادت اور خداوند قدوس کی رحمتوں، عنایتوں اور برکتوں سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
222 ۔ نیکیاں تزکیہ و تطہیر کا ایک عظیم الشان ذریعہ و وسیلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور " ان " کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک نیکیاں لے جاتی ہیں برائیوں کو۔ کہ نیکیوں سے اصلاح اور تزکیہ نفس کی جو سعادت اور جلا انسان کو نصیب ہوتی ہے اس سے برائیوں کے اثرات مٹ جاتے ہیں۔ اور ان کی میل دور ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ مسند امام احمد اور سنن ترمذی وغیرہ کی حدیث میں فرمایا گیا ہے (اتبع السیئۃ الحسنۃ تمحھا) کہ " برائی اگر ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو تاکہ وہ اس کے اثرات بد کو مٹا دے " مگر واضح رہے کہ یہاں " سیئات " سے مراد صغائر ہیں کہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھ سے یہ گناہ سرزد ہوگیا کہ میں نے مدینے کے دور کے کنارے پر ایک عورت سے چھیڑ خانی کی۔ بغیر اس کے کہ اس سے بدکاری کا ارتکاب کرتا۔ سو اب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں، اس جرم کی جو سزا بنتی ہے وہ مجھ پر جاری کیجئے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے جو کہ وہاں موجود تھے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر پردہ ڈالا ہوا تھا، تو کاش کے تو اس پردہ کو ایسے ہی رہنے دیتا۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اس کو کچھ نہیں فرمایا یہاں تک کہ وہ شخص اٹھ کر چلا گیا۔ تو آپ نے اس کو واپس بلوایا اور پھر یہی آیت کریمہ اس کو پڑھ کر سنائی۔ اس پر حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول کیا یہ خاص اسی شخص کے لیے ہے ؟ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں۔ بلکہ سب لوگوں کے لیے عام ہے (بخاری، مختصرا کتاب التفسیر، مسلم کتاب التوبہ) سبحان اللہ۔ کیا کہنے رب غفور و رحیم کی شان رحمت و بخشش اور کرم و عنایت کے۔ اور کیا کہنے نبی رحمت کی پیش فرمودہ ان تعلیمات مقدسہ کی عنایتوں اور فیض رسانیوں کے۔ اور کیا کہنے حضرات صحابہ کرام کے نفوس قدسیہ کی عظمتوں اور ان کی پاک دامنیوں کے کہ کس طرح ایک شخص بغیر کسی کے دعوی کے اور بغیر کسی گواہ اور ثبوت کے، جرم کی سزا کے لیے فورا اور از خود اپنے آپ کو بارگاہ نبوت کی عدالت عالیہ میں پیش کرکے سزا کی درخواست کرتا ہے اور پھر بارگاہ رسالت سے اس کو اور اس کے واسطے سے پوری امت کے لیے یہ خوشخبری ملتی ہے کہ اس طرح کے چھوٹے موٹے گناہ نماز روزہ وغیرہ اعمال صالحہ سے ازخود معاف ہوجاتے ہیں۔ فالحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی نبیہ المصطفی الامین وعلی الہ الطیبین الطاہرین ومن اھتدی بھدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین۔ ورضی عنہم وعنا معہم اجمعین۔ وھو ارحم الراحمین واکرم الاکرمین۔ سو حسنات یعنی نیکیوں کی تکثیر کی فکر و کوشش کرو تاکہ شبہات کی صفائی ہوتی رہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید جل وعلا شانہ۔
Ayah 11:116223 ۔ فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و عظمت : سو ارشاد فرمایا گیا اور تحریک تحضیض کے لیے حرف تحضیض کے ساتھ فرمایا گیا کہ پھر کیوں نہ ہوئے ان لوگوں کے اندر نیک اور اہل خیر لوگ جو لوگوں کو روکتے زمین میں فساد پھیلانے سے۔ یعنی ان کے اندر ایسے لوگ ہونے چاہیے تھے تاکہ یہ قومیں بچ جاتیں اس ہولناک انجام سے جس سے دوچار ہو کر وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ اور ایسی مٹیں کہ قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں۔ سو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو قوموں اور ملکوں کو ہلاکت اور تباہی سے بچاتا اور محفوظ رکھتا ہے۔ ورنہ جب قومیں اجتماعی طور پر برائیوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں تو پھر ان کو اسی طرح ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں پھینک دیا جاتا ہے جس طرح کہ گلے سڑے پھلوں کے ٹوکرے کو اٹھا کر کوڑے کرکٹ کے اس ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے جس کو آگ سے جلا کر نیست و نابود کرنا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ مقدسہ کی اہمیت و عظمت واضح ہوجاتی ہے کہ یہی چیز ہے فساد سے بچانے والی۔ لیکن افسوس کہ آج امت مسلمہ اس سے غافل و لاپرواہ ہے۔ الا ماشاء اللہ جل وعلا۔ اور اسی کے نتیجے میں آج دھرتی فساد اور فسادیوں سے بھر گئی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت و عنایت اور فضل و کرم سے نوازے۔ آمین۔
224 ۔ امر بالمعروف ذریعہ سلامتی و نجات : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ امر بالمعروف ذریعہ سلامتی و نجات ہے اور اس کے برعکس کلمہ حق و ہدایت سے منہ موڑنا باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو ارشاد فرمایا گیا بجز ان تھوڑے سے لوگوں کے جن کو ہم نے بچا لیا اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے ان کے انبیاء و رسل کے ساتھ۔ مگر قلیل تعداد کے ان بندگان صدق و صفا کی آواز اور تبلیغ و تلقین کا ان بہکے، بھٹکے اور بگڑے ہوئے لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا اور ان بگڑی ہوئی قوموں نے نہ صرف یہ کہ اپنے ان خیر خواہوں کی باتوں پر کان نہیں دھرا اور حق کی طرف رجوع نہیں کیا۔ بلکہ وہ الٹا ان کے درپے آزار ہوگئے اور انہوں نے ان کو طرح طرح سے ستایا اور تنگ کیا۔ (المنار، المراغی وغیرہ) جس کا نتیجہ و انجام ان کو ایسی ہولناک تباہی اور دائمی عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑا کہ یہ ہمیشہ ہمیش کے لیے مٹ گئے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس سے امر بالمعروف اور نہی المنکر کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب لوگ برائی کو اپنے درمیان ہوتا دیکھیں اور اس سے نہ روکیں تو وہ وقت دور نہیں کہ جب اللہ کا عذاب ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے (ابن کثیر وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
225 ۔ نور حق سے محروم عیش پرستوں کا انجام بہت برا۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم پر وہ اپنی انہی عیش پرستیوں کے پیچھے لگے رہے جن کا سامان ان کو فراوانی کے ساتھ دیا گیا تھا اور وہ تھے ہی محروم لوگ۔ سو اس سے اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ دنیاوی سامان عیش و عشرت کے پیچھے لگ کر حق سے منہ موڑ لیتے ہیں اور ناصح کی نصیحت پر کان نہیں دھرتے وہ آخرکار اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ اور ایسے اور اس طور پر کہ پھر ان کے لیے اس سے بچنے اور نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان عذاب پانے والی قوموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح فرمایا گیا کہ کیا چیز ان کی ایسی ہولناک تباہی کا باعث بنی اور اس سے مقصود دور حاضر کے کفار و منکرین اور دوسرے مجرموں کو متنبہ کرنا ہے کہ اگر تم لوگوں نے بھی کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کی اسی روش کو اپنائے رکھا جس کو کل کے ان منکروں نے اپنایا تھا تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ تمہارا انجام ان کے انجام سے مختلف ہو کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور بہرحال ایک اور سب کے لیے یکساں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کل کے ان منکروں میں ایسے لوگ باقی نہیں رہ گئے تھے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے بجز تھوڑے سے لوگوں کے۔ سو عذاب آنے پر ان کو تو ہم نے بچا لیا لیکن ان منکروں کی اکثریت اپنی خواہشات پرستی اور خر مستی میں ہی محو و مگن رہی۔ حق بات کو انہوں نے مان کر نہ دیا اور اپنے اختیار کردہ کفر و باطل پر یہ اڑے ہی رہے۔ اس لیے مدت مہلت ختم ہوتے ہی ان کو دھر لیا گیا۔ اور یہ لوگ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے کہ یہ مجرم لوگ تھے۔ اور مجرموں کا انجام بہرحال بہت برا ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 11:117–118226 ۔ اصلاح احوال کی ضرورت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ناحق طور پر یونہی ہلاک کردے جبکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے میں لگے ہوں۔ سو اس سے اصلاح کی ضرورت و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ پس اپنی ذاتی اصلاح کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ ذکر صلاح کا نہیں اصلاح کا ہے۔ یعنی صرف یہی مطلوب نہیں کہ آدمی خود نیک بن کر رہے اور بس۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ دوسروں کو بھی صالح بنانے کی اور معاشرے کے بگاڑ کو سنوارنے کی فکر و کوشش کرے۔ ورنہ جب فساد و بگاڑ عام ہوجائے گا تو ظالموں اور مفسدوں ہی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّةً ) (الانفال : 25) سو اپنی ہی نہیں دوسروں کی اصلاح کی فکر و کوشش بھی مومن صادق کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ پھر کیا کہیے گا اس صورتحال کے بارے میں جس سے آج ہم لوگ گزر رہے ہیں کہ صلاح اور اصلاح کے یہ دونوں ہی عنصر غائب و مفقود ہیں۔ الاماشاء اللہ۔ دنیا مادہ اور معدہ کی ضرورتوں کی تحصیل و تکمیل کے پیچھے اس طرح لگ گئی کہ گویا یہی مقصود حیات ہے اور گویا ان لوگوں کو اسی لیے پیدا کیا گیا ہے اور بس۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ زیغ و ضلال کی ہر قسم سے محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے آمین۔
Ayah 11:119228 ۔ اصل مدار انسان کے اپنے قلب و باطن پر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ ہمیشہ اسی اختلاف میں پڑے رہیں گے مگر جن پر تمہارا رب رحم فرما دے۔ بس وہی بچ سکیں گے اس طرح کی بےراہ روی سے۔ اور رب کی رحمت و عنایت کا مدارو انحصار انسان کے قلب و باطن پر ہوتا ہے۔ سو اس سے یہ اہم حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ صفائے باطن اور طلب صادق اصلاح احوال کی اولین اساس اور بنیادی شرط ہے۔ اور اس کی توفیق اسی خوش نصیب ہی کو ملتی ہے جس کے دل کی دنیا درست ہو اور وہ نور حق و ہدایت سے سرفرازی چاہتا ہو کہ اس علام الغیوب کے یہاں کے فیصلے دلوں کی نیتوں اور قلبی ارادوں ہی پر مرتب ہوتے ہیں نہ کہ محض ظاہر داریوں پر۔ پس انسان کو ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے دل کا تعلق اس کے خالق ومالک سے درست ہو اور اس کی نیت و ارادہ کا معاملہ صحیح ہو۔ اللہ توفیق فرمائے۔ آمین۔ فانہ ھو الموفق لکل خیر والمیسر لکل عسیر۔ بہرکیف باطن کی صفائی اور نیت و ارادہ کی درستی اور طلب صادق اصلاح احوال کی اولین اساس اور اہم بنیاد ہے۔ اسی پر حضرت واہب مطلق۔ جل وعلا شانہ کی عنایات متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ علام الغیوب انسان کے ظاہر اور اس کے باطن کو پورا اور برابر جانتا ہے اس سے کسی کی کوئی کیفیت مخفی نہیں رہ سکتی، اس لیے اس کے ساتھ اپنے قلب و باطن کا معاملہ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے۔
229 ۔ منکرین و معاندین قانون قدرت کی زد میں۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور پوری ہوگئی تمہارے رب کی بات یعنی وہ بات جو اس کی قضا و قدر، علم محیط اور حکمت بالغہ کی بناء پر طے ہوچکی ہے کہ حق و ہدایت کی دولت سے سرفرازی انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے لیے اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہوں۔ اور جو طلب صادق سے محروم ہوں گے وہ بہرحال دولت حق و ہدایت سے محروم ہوں گے اور ان کا ٹھکانہ و انجام دوزخ کی ہولناک آگ ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بارے میں جبر کو پسند نہیں فرمایا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہدایت وغوایت کے سلسلے میں لوگ مختلف راہوں پر چلیں گے۔ بہت سے خوش نصیب اگرچہ حق و ہدایت ہی کی راہ کو اپنائیں گے لیکن بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو تمام تر تعلیم و تذکیر کے باوجود نفس و شیطان کی پیروی میں برائی کی راہ ہی کو اپنائیں گے اور وہ اسی پر چلیں گے۔ اور اسی پر مریں گے۔ سوائے ان کے جن پر تمہارے رب کی رحمت ہوجائے۔ (الا من رحم ربک) اور رب کی یہ رحمت انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے اور اس کے اہل اور سزاوار وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنی عقل و فکر، سمع و بصر اور دل و دماغ کی قوتوں اور صلاحیتوں کو زندہ رکھ کر ان سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ورنہ جو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے بن جاتے ہیں اور دن کی روشنی میں بھی ٹھوکریں کھاتے ہیں وہ اس سے محروم رہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کی سنت کے مطابق نور حق و ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ سو ایسے منکر اور معاند لوگ اللہ تعالیٰ کے قانون اور اس کے دستور کی زد میں ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا ہی اسی لیے کیا ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے صحیح راستہ اپنائیں اور اپنے آپ کو اپنے رب کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت کا حقدار بنائیں (ولذلک خلقہم) سو امتحان و اختیار انسانی خلقت کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس سے گزرے بغیر کوئی شخص رحمت خداوندی کا حقدار نہیں بن سکتا۔ ابتلاء و آزمائش کے مرحلے سے گزر کر اور امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ہی انسان اس کی خاص رحمت و عنایت کا مستحق بن سکتا ہے۔
230 ۔ دوزخ کو جنوں اور انسانوں سے بھرنے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پوری ہوگئی تمہارے رب کی بات کہ میں ضرور بالضرور بھر کر رہوں گا دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے۔ سو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کے سب لوگ دوزخ میں جائیں گے بلکہ مقصود و مراد یہ ہے کہ ہر طرح کے اور ہر صنف اور ہر قسم کے لوگ جو بھی اس کے مستحق ہوں گے وہ اس میں داخل ہوں گے۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں اور کسی بھی قوم، قبیلہ اور نسل و رنگ سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ آپ کہیں کہ مجلس سب ہی لوگوں سے بھری ہوئی تھی، یعنی اس میں ہر طرح کے لوگ موجود تھے یہ نہیں کہ سب لوگ وہاں آگئے تھے۔ اس لیے حضرات علمائے کرام اس سے متعلق لکھتے ہیں کہ " عُصَاتُھُمَا " (محاسن التاویل وغیرہ) یعنی جنوں اور انسانوں کے ان دونوں گروہوں کے باغی و سرکش اور عاصی و نافرمان لوگوں سے دوزخ کو بھرا جائے گا۔ خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں۔ سو اس ارشاد ربانی میں دراصل رد ہے ان یہود و نصاری پر جن کا دعوی اور کہنا یہ تھا کہ ہمیں تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں بجز گنتی کے چند دنوں کے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ان کا یہ قول اس طرح نقل فرمایا گیا ہے۔ (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ ) یا جیسے روافض نے اپنے خود ساختہ ائمہ معصومین کے بارے میں اس طرح کے عقیدے گھڑ رکھے ہیں کہ وہ جس کو چاہیں جنت کا ٹکٹ دے دیں اور جس کو چاہیں دوزخ میں بھیج دیں۔ جیسا کہ آج کل ان کے ایسے خود ساختہ اور من گھڑت عقائد کی طرح طرح سے تشہیر کی جارہی ہے یا جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ دوسرے اہل زیغ و ضلال طرح طرح کے نام اور لقب اختیار کرکے اور خاص مراتب و شان کے دعویدار بن کر اپنے لیے خصوصی حقوق و امتیازات کا ادعا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو اس آیت کریمہ اور اسی طرح قرآن و سنت کی دیگر نصوص اور تعلیمات مقدسہ میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے واضح کردیا گیا ہے کہ اس طرح کے خود ساختہ امتیازات وہاں کچھ بھی کام نہیں آئیں گے بلکہ اصل چیز جو وہاں کام آسکے گی وہ ہے صحیح ایمان و عقیدہ اور اس کے مطابق عمل صالح۔ سو اس سے جو بھی سرشار و سرفراز ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت و عنایت سے جنت میں جائے گا خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ اور جو اس سے محروم ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ وہ دوزخ کا مستحق ہوگا خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ محض حسب و نسب یا زبانی کلامی دعوؤں سے وہاں کام نہیں چلے گا بلکہ ایمان و یقین اور عمل صالح کی پونجی ہی کام دے گی۔ اس لیے ہمیشہ اسی کے حصول اور اس سے سرفرازی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید بکل حال من الاحوال۔