Ayah 11:1847 ۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب سے بڑا ظالم وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ اور یہ جھوٹ خواہ اس کے اقوال و افعال کے بارے میں ہو یا اس کے احکام وصفات سے متعلق۔ یا اس کے اذن کے بغیر اس کے لیے اپنے طور پر مختلف قسم کے اولیاء و شفعاء مانے اور تجویز کرے۔ (المراغی وغیرہ) اور اس کے لیے طرح طرح کی فلسفہ طرازیاں کرنے لگے کہ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا۔ اور یہ کہ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے۔ یا کوئی اللہ کے لیے اولاد تجویز کرے جیسا کہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب کرتے تھے یا اپنے لیے یہ سب کچھ افتراء علی اللہ میں داخل ہے اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسوں سے بڑھ کر ظالم بدبخت اور محروم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
48 ۔ افتراء پردازوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو ان کے رب کے حضور پیش کیا جائے گا ان کے زندگی بھر کے کئے کرائے کی جوابدہی اور اس کا بدلہ پانے کے لیے۔ جس طرح کہ بادشاہ پر افتراء باندھنے والے اس کے مجرم غلام اس کے حضور پیش کئے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ ان کی پیشگی اور اس صراحت و وضاحت سے بتادیا گیا تاکہ ایسے لوگ اپنی روش کی اصلاح کرسکیں اور اپنے اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکیں قبل اس سے کہ فرصت حیات کی یہ مختصر و محدود مہلت ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اللہ پر افتراء کرنا اور جھوٹ باندھنا بہت ظلم اور سنگین جرم ہے۔ اور ایسے لوگوں کو قیامت کے روز اپنے رب کے یہاں پیش ہونا اور اپنے کیے کرائے کا جواب دینا اور اس کا پھل پانا ہوگا۔ اور اس وقت یہ حقیقت پوری طرح کھل کر ان کے سامنے آجائے گی، کہ جن کی زندگی بھر وہ پوجا پاٹ کرتے رہے تھے اور جن کی حمیت و حمایت میں انہوں نے اللہ کی کتاب کو جھٹلایا تھا وہ سب ان سے ہوا ہوگئے۔ اور جو کچھ انہوں نے سوچ اور سمجھ رکھا تھا وہ سب بےحقیقت و بےبنیاد اور وہم و گمان اور سراب و خیال تھا سو اس وقت ایسے بدبختوں کی یاس و حسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا مگر بےوقت کے اس افسوس سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
49 ۔ افتراء پردازوں کے جرم کے اثبات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز گواہ کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ گھڑا تھا اپنے رب پر۔ سو اس روز مجرموں کے جرم پر گواہوں کی گواہی دلائی جائے گی جس سے ان کا جرم پوری طرح عیاں ہوجائے گا اور یہ گواہ مختلف ہوں گے۔ فرشتے، انبیاء، پوری امت محمدیہ اور خود ان کے اپنے اعضاء وجوارح کہ اس روز یہ سب ہی گواہ ہوں گے (جامع البیان، روح، بیضاوی اور محاسن وغیرہ) اہل بدعت کے ایک بڑے گروہ کی رگ شرک و بدعت یہاں بھی پھڑکی اور اس نے اس سے غیر اللہ کے لیے علم غیب کلی کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لیے استدلال کیا، حالانکہ یہ گواہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سامنے اور ان کی موجودگی میں افتراء پردازوں نے اپنی افتراء پردازیوں کا ارتکاب کیا ہوگا۔ یہ کوئی غائب نہیں ہوں گی تاکہ اہل بدعت کے ایسے لچر اور واہی استدلال کے لیے گنجائش نکل سکے۔ نیز اس عقیدہ کے قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ کے خلاف ہونے کے علاوہ اگر موصوف کے اس پر استدلال کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر اس سے تو ساری امت ہی عالم الغیب قرار پا جائے گی۔ جو کہ لچر ہونے کے علاوہ خود اہل بدعت کا بھی عقیدہ نہیں کہ ساری امت کو تو خود یہ لوگ بھی عالم غیب نہیں مانتے۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ پھر تو انسانی اعضاء وجوارح کو بھی عالم غیب ماننا پڑے گا کہ اشہاد میں وہ بھی داخل ہیں۔ جیسا کہ حضرات مفسرین کرام نے ذکر فرمایا ہے۔ سو اہل بدعت کے ایسے تحریف پسندوں کی یہ منطق جہاں عقل و نقل کے خلاف ہے وہاں یہ ان لوگوں کی جہالت اور ان کی مت ماری کا بھی کھلا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس روز گواہوں کی گواہی سے مجرموں کا جرم پوری طرح ثابت اور واضح ہوجائے گا۔ اور ان کے لئے کسی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
50 ۔ افتراء پردازوں پر خدا کی لعنت و پھٹکار : سو ارشاد فرمایا گیا اور الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ خدا کی لعنت اور پھٹکار ہے افتراء کرنے والوں پر۔ والعیاذ باللہ۔ پس جب افتراء علی اللہ " اللہ پر جھوٹ باندھنے " کو قرآن کریم اتنا بڑا سنگین جرم قرار دیتا ہے تو پھر خود یہ کتاب حکیم افتراء علی اللہ اور خود ساختہ کتاب کیسے ہوسکتی ہے ؟ جیسا کہ ان منکر اور ظالم لوگوں کا کہنا ہے سو ایسے لوگ بڑے ہی ظالم و بےانصاف اور لعنت و پھٹکار کے مستحق ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو اللہ کی لعنت و پھٹکار ہے ایسے ظالموں پر اور یہ خدا کی رحمت سے دور اور محروم ہیں۔ جو سزا ہے ان کے اپنے کیے کرائے کی اور افتراء علی اللہ کے اس سنگین جرم کی۔ سو یہ وہ منادی ہے جو گواہوں کی گواہی کے بعد اس روز مشرکین پر لعنت کے لیے کی جائے گی۔ اور اس لعنت و پھٹکار سے ان بدبختوں کے لیے تمام مصیبتوں اور طرح طرح کے عذابوں کا دروازہ کھل جائے گا جن کے اندر ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شرک کس قدر سنگین اور ہولناک جرم ہے اور مشرک کتنے بدبخت لوگ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:1951 ۔ اللہ کی راہ سے روکنا ایسے لوگوں کا دوسرا بڑا جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگ روکتے ہیں راہ حق و ہدایت سے دوسروں کو۔ تاکہ جس طرح یہ خود گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں دوسروں کو بھی لے ڈوبیں۔ سو اس طرح ان کا جرم ڈبل اور مزید سخت سنگین ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کا عذاب بھی دوہرا اور ڈبل ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ افسوس کہ آج بھی منکرین و ملحدین اور دوسرے اہل ہوی اور اصحاب زیغ و ضلال کی طرف سے اس جرم و ظلم کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور برابر کیا جارہا ہے۔ اور طرح طرح سے کیا جارہا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ لوگ سادہ لوح عوام کی طرح طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے راہ حق و ہدایت سے روکتے اور ان کو اہل حق سے دور کرنے اور دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
52 ۔ راہ حق میں کجی تلاش کرنا ان کا تیسرا بڑا جرم۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کجی تلاش کرتے ہیں اللہ کی راہ میں۔ اور یہ آخرت کے منکر ہیں۔ سو یہ لوگ اللہ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں طرح طرح کے شکوک و شبہات ڈال کر اور قسما قسم کے حیلے حوالوں اور ملمع سازیوں سے کام لیکر اور اس طرح یہ لوگ سادہ لوح عوام کو حق اور اہل حق سے دور کرکے ان کو طرح طرح کے اندھیروں میں دھکیلنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ منکرین و ملحدین اور اہل زیغ و ضلال آج بھی اہل حق سے لوگوں کو متنفر کرنے اور دور رکھنے کے لیے طرح طرح کے جھوٹے پروپیگنڈے کرتے، کتابیں لکھتے، مضامین چھاپتے اور اشتہار بازی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (قاتلہم اللہ انی یؤفکون) ۔ وحفظ اللہ الحق واھلہ من شرہم ومکرہم وجعل کیدھم فی نحورہم۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان ظالمین کی مزید صفات بیان کردی گئیں تاکہ ان کی پوری تصویر سامنے آجائے۔ کلام مطابق حال بھی ہوجائے اور ان لوگوں کے وہ جرائم بھی سامنے آجائیں جو ان کی اس لعنت و پھٹکار کا موجب اور اس کا باعث بنیں گے۔ تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے اور جس نے ہلاک ہونا ہو وہ دلیل اور بینہ کے بعد ہلاک ہو اور اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہو۔ سو حق اور حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد لوگوں کو راہ حق سے روکنا سیدھے راستے میں کجی اور ٹیڑھ تلاش کرنا اور لوگوں کو صراط مستقیم کی شاہراہ سے ہٹا کر طرح طرح کی کچ پیچ راہوں اور مختلف پگڈنڈیوں میں ڈال دینا اور لوگوں کو اپنے رب تک رسائی کی مستقیم و ہموار راہ سے پھیر کر مختلف تھانوں، استھانوں، دیویوں، دیوتاؤں اور طرح طرح کی خود ساختہ سرکاروں کی راہوں پر ڈال دینا سنگین اور ہولناک جرائم ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:2053 ۔ افتراء پردازوں کی بےبسی اور لاچارگی کا ذکر وبیان : سو اس سے افتراء پردازوں کی اللہ کی گرفت و پکڑ کے مقابلے میں بےبسی و لاچارگی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا کیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں کہ اللہ کو عاجز کردیں کہیں زمین میں چھپ کر اور نہ ہی ایسوں کے لیے کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا۔ جو ان کو چھڑا اور بچا سکے اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے اور ان کے وہ خود ساختہ اور من گھڑت حمایتی اور سفارشی ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے جو انہوں نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے ہیں کہ ان کے اندر اس کی سرے سے کوئی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔ سو فیصلے کے اس دن ان لوگوں کی وہ تمام ملمع کاریاں اور سخن سازیاں " ھبآء منثورا " ہوجائیں گی جس سے یہ لوگ دنیا میں کام لیتے تھے۔ جبکہ حقائق اپنی اصل شکل میں سامنے آجائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر ارشاد فرمایا گیا (وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) (الاعراف : 53 و یونس :30، ہود : 29، القصص : 75 وغیرہ) اور دنیا میں جو ان کو مہلت دی گئی تھی تو وہ اس لیے نہیں تھی کہ یہ خداوند قدوس کے قابو سے باہر تھی، بلکہ وہ ڈھیل ان کو اس لیے دی گئی تھی کہ یہ لوگ اگر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ ورنہ اپنا پیمانہ جرم لبریز کرلیں تاکہ اس کے نتیجے میں اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہیں۔
54 ۔ افتراء پردازوں کے لیے دوہرے عذاب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسوں کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ ضلال کا بھی اور اضلال کا بھی کہ یہ گمراہ بھی تھے اور گمراہ کن بھی۔ والعیاذ باللہ من کل شآئبۃ من شوآئب الضلال والاضلال۔ سو ایسے لوگ اپنی اس طرح کی کارروائیوں سے آج خوش ہوتے ہیں اور ان کو اپنی چالاکی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ اس طرح یہ لوگ اپنے لیے دوہرے عذاب اور ہولناک انجام کا سامان کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس روز ان کا آخری انجام ان کے سامنے ہوگا۔ حقیقت حال پوری طرح واضح ہوچکی ہوگی ان کے خود ساختہ من گھڑت اور فرضی سہارے سب کے سب ہوا ہوچکے ہوں گے اور ان کو اس دوہرے عذاب میں دھر لیا جائے گا جس کے یہ لوگ اپنے ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم کی بناء پر مستحق ہوچکے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان کے خود ساختہ شرکاء و شفعاء میں سے کوئی بھی ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا۔ کہ وہ سب کچھ من گھڑت اور بےبنیاد تھا، جس کے کام آنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
55 ۔ یہ اندھے اور بہرے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ نہ تو سن سکتے تھے (پیغام حق و ہدایت کو) اور نہ ہی ان کو کچھ سوجھتا دیکھتا تھا۔ سو یہ لوگ اندھے اور بہرے بن گئے تھے اور ان پر مہر جباریت لگ گئی تھی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہی نتیجہ اور انجام ہوتا ہے عناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس سے انسان کو نہ کچھ سوجھتا ہے نہ دکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ فہم و ادراک کی قوتوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور دستور خداوندی کے مطابق ان پر مہر جباریت لگ جاتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ان لوگوں کا یہ اندھا اور بہرا پن ان کا خود اپنا اختیار کردہ تھا کہ عناد و ہٹ دھرمی اور نفرت و بیزاری کی بناء پر یہ حق بات سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے اور دنیا کی محبت کا پردہ ان کی آنکھون پر ایسا چھا گیا تھا کہ حق کی نشانیاں دیکھنے اور ان سے سبق لینے اور عبرت پکڑنے کے لیے ان کی آنکھیں کھلتی ہی نہیں تھیں اور اس طرح ان کی محرومی کا داغ اور پکا اور مزید گہرا ہوتا جاتا تھا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی بیماریوں کی بیماری ہے۔ جس کے نتیجے میں انسان اندھا اور بہرہ ہو کر گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔
Ayah 11:2156 ۔ حق سے محرومی سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا تھا اپنے آپ کو۔ سو دین حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی اور خسارہ ہے۔ اور اس محرومی کا باعث یہ لوگ خود تھے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس خسارے کا ارتکاب انہوں نے خود کیا تھا نور ایمان و یقین سے منہ موڑ کر اور ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو اپنا کر۔ والعیاذ باللہ۔ سو نور ایمان و یقین سے منہ موڑنا اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنا ہے۔ اور یہ خسارہ ایسا خسارہ ہے جو خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ اور ایسا خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان لوگوں نے اپنی صلاحیتوں کو خود ضائع کیا، اس کے برعکس جن لوگوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو محفوظ رکھا اور نور حق و ہدایت کو اپنا کر انہوں نے اس کو جلا بخشی کا انتظام کیا وہ نور علیٰ نور کا مصداق بن گئے۔ اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز ہوگئے۔ سو اس سے یہ اصولی اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کی صلاح و فساد اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید۔
57 ۔ افتراء پردازوں کے سب سہارے غائب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کھو چکی ہوں گی ان کی سب افتراء پردازیاں جو دنیاوی زندگی میں انہوں نے اپنا رکھی تھیں۔ مثلا یہ کہ فلاں فلاں دیویاں اور دیوتا اور فلاں فلاں سرکاریں ہماری حاجت روا و مشکل کشا ہیں اور فلاں فلاں حضرات ہمارے سفارشی ہیں، ہم نے بس ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے۔ ان کے ساتھ ہم بھی تر جائیں گے۔ آخر جہاں سے اونٹ گزرتا ہے اس کی دم بھی گزر جاتی ہے۔ پس ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ سو ان لوگوں کے ایسے تمام فرضی سہارے اور خود ساختہ وسیلے سب کے سب ھباء منثورا ہوجائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکے گی، تب اصل حقیقت ان کے سامنے پوری طرح منکشف ہوجائے گی اور ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہوجائے گی کہ یہ کس قدر اندھیرے میں پڑے ہوئے تھے اور کیسے دھوکے میں مبتلا تھے۔ مگر اس وقت ان کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس وقت یہ رہ رہ کر تمنا و آرزو کریں گے کہ کاش ہم نے دین حق کو قبول کیا ہوتا اور ہم مسلمان ہوتے مگر بےوقت کی ان آرزوؤں اور تمناؤں سے ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا۔ سوائے اس کہ اس طرح ان کی آتش و حسرت کی باطنی آگ کا لاوا اور تیز ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 11:2258 ۔ آخرت کا خسارہ سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینی اور لازمی طور پر یہی ہیں وہ لوگ جو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے۔ سو کفر و شرک والے جملہ باطل پرست یقینی طور پر آخرت میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑے خسارے میں ہوں گے کہ جنت کی دائمی نعمتوں کی بجائے یہ لوگ دوزخ کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے اور جنت کمانے کے لیے زندگانی دنیا کی جو فرصت ان کو ملی تھی اس کو انہوں نے دنیاوی مشاغل میں اور اس کے حطام زائل اور متاع فانی کو جوڑنے جمع کرنے اور شہوات بطن و فرج اور ملذات کام و دہن کی تحصیل و تکمیل میں ضائع کردیا اور اپنی آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی کے لیے کوئی فکر و کوشش نہ کی۔ یہاں تک کہ وہ اعراض و غفلت اور کفر و بغاوت ہی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اس عذاب الیم کے ہاوئے میں گرگئے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو خود بنا لیا تھا اور اس طرح کہ اب ان کے لیے اس سے نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اور یہ وہ خسارہ و نقصان ہے جس کی تلافی وتدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوسکتی۔ سو اس سے بڑھ کر خسارہ اور نقصان کیا ہوسکتا ہے ؟ پس آخرت کا خسارہ سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے۔ اور وہیں کی کامیابی اصل، حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی ہے۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ آخرت کی کامیابی ہی کو اپنا اصل مقصد اور نصب العین بنایا جائے۔ اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود اور اس کے ہر لمحہ و لحظہ کو اسی کے حصول اور اس سے سرفرازی کے لیے صرف کیا جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 11:2359 ۔ جنت کے سزاواروں کی نشاندہی۔ وباللہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے اور وہ جھکے اپنے رب کی طرف وہ جنتی ہیں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سو دولت و ایمان سے سرفرازی، عمل صالح کی پونجی اور اپنے رب کے حضور جھکنے کی دولت ایک عظیم الشان دولت ہے۔ پس جو لوگ اس دولت سے سرفراز ہوئے اور انہوں نے زندگی بھر اسی وحدہ لاشریک کی رضاء و خوشنودی کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا۔ سو ایسے لوگ جنت کی ان سدا بہار نعمتوں میں رہیں گے جن کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے ساتھ عمل صالح اور اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے کی دولت وہ دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے اور جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ یہی دولت ہے اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔ سو اس صاف اور سیدھے طریقے کو چھوڑ کر جو کہ عقل و نقل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے خود ساختہ حیلے وسیلے گھڑنا اور من گھڑت شرکاء و شفعاء پر تکیہ کرنا اور اس کے لیے طرح طرح کی افتراء کاریوں اور بہانہ بازیوں سے کام لینا محض خود فریبی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:2460 ۔ اہل کفر اور اہل ایمان کے فرق کی توضیح مثال کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان دونوں فریقوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک آدمی اندھا بہرہ ہو اور دوسرا سنتا دیکھتا۔ تو کیا یہ دونوں باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ " اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی یہ دونوں باہم برابر نہیں ہوسکتے تو پھر مومن و کافر اور موحد و مشرک آپس میں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ پس یہ دونوں نہ حال کے اعتبار سے باہم برابر ہوسکتے ہیں کہ ان میں سے ایک ایمان و یقین اور نور ہدایت کی راہ پر ہے اور دوسرا کفر و باطل کے اندھیروں میں غلطاں و پیچاں اور نہ ہی یہ اپنے انجام اور مآل کے اعتبار سے باہم برابر ہوسکتے ہیں کہ ان میں سے ایک جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوگا۔ اللہ ہمیں انہی میں کرے۔ جبکہ دوسرے نے دوزخ کی ہولناک آگ میں جلنا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کے ہوش کے کان اور ان کی بصیرت کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ اس لیے ایسے لوگ حق کا پیغام سننے اور نشانہائے عبرت و بصیرت کو دیکھنے سے محروم ہیں جبکہ اس کے برعکس ایمان والوں کی آنکھیں بھی کھلی ہیں اور دل بھی۔ اس لیے پیغام حق و ہدایت ان کے دلوں تک پہنچتا اور ان کے دلوں کی دنیا کو معمور ومنور کرتا ہے اور وہ حق و ہدایت کی نشانیوں سے بھی صحیح طور پر عبرت و بصیرت سے کام لیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا ہر قدم بہتر سے بہتر ہی کی طرف بڑھتا ہے تو جب ان دونوں فریقوں میں سے ایک اندھا بھی ہو اور بہرہ بھی اور دوسرا بینا بھی اور شنوا بھی تو آخر یہ دونوں کس طرح باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ سو قرآن حکیم کی دعوت سراسر عقل و بصیرت پر مبنی ہے۔ اس لیے اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے کان اور دل کھلے ہوں اور جنہوں نے قدرت کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کو محفوظ رکھا ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
61 ۔ کیا تم لوگ سبق نہیں لیتے ؟ : کہ اتنی موٹی بات اور ایسی واضح حقیقت کو سمجھ کر حق کو پہچان سکو۔ اور اس کو اپنا کر تم لوگ خود اپنی ہی بھلائی کا سامان کرسکو ؟ یعنی تم لوگوں کو سبق لینا چاہئے اور اپنے حال و مآل کے بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہئے کہ عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے بھلے برے کے لیے غور و فکر سے کام لیکر حق و حقیقت کی اس راہ کو اپنائے جس میں اس کے لیے دارین کی کامیابی اور سعادت و سرخروئی کا سامان ہوتا کہ اس طرح خود اس کا بھلا ہوسکے۔ سو اس ارشاد ربانی میں غور و فکر کرنے کے لیے تحریک وتحریض ہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو تم لوگ اگر سوچو اور غور کرو اور سبق لینے کی فکر و کوشش کرو تو تمہیں اس تمثیل سے نظر آجائے گا کہ جب یہ دونوں گروہ اس طرح ہیں کہ ان میں سے ایک اندھا اور بہرا ہے اور دوسرا بینا اور شنوا تو پھر ان دونوں کا رویہ قرآن کے بارے میں ایک سا آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور ان کا حال اور مآل دونوں یکساں کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ پس قرآن حکیم کی دعوت سراسر عقل و بصیرت پر مبنی ہے اور اس پر ایمان وہی لوگ لائیں گے جن کے کان اور دل کھلے ہوں اور جنہوں نے حضرت واہب مطلق کی بخشی ہوئی صلاحیتوں کو محفوظ رکھا ہو۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 11:2562 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو یہاں سے گذشتہ انبیاء و رسل اور ان کی قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیا جارہا ہے جس سے ان حقائق کی تائید و تصدیق ہوتی ہے جو عقل و فطرت کے دلائل کی روشنی میں اوپر بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ان کی قوم کی طرف جس سے اس اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ان کی قوم کی طرف تھی اور بس۔ کہ دوسرے انبیاء کرام کی طرح ان کی بعثت و نبوت بھی عام اور عالمی نہیں تھی بلکہ ایک خاص دور کے لئے اور ان ہی کی قوم کے لیے تھی اور بس۔ ساری اقوام اور قیامت تک کے جملہ ازمان کے لیے نبوت عامہ کے شرف سے صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہی کو نوازا گیا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا یعنی " ہم نے آپ کو اے پیغمبر سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے " اور اس کے علاوہ بھی قرآن و سنت کی بیشمار نصوص کریمہ میں آپ کی اس عالمی بعثت کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ سو عالمی دین صرف اسلام ہے جو قیامت تک کے تمام انسانوں اور جملہ زمانوں کے لیے ہدایت و رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور اب قیامت تک ہدایت و نور کا سرچشمہ یہی رہے گا۔ بہرکیف یہاں سے لیکر آگے آیت نمبر 99 تک تاریخی ترتیب کے مطابق گزشتہ قوموں اور ان کے انبیاء و رسل کی سرگزشتوں سے متعلق کئی اہم، عبرت انگیز اور سبق آموز قصص و واقعات کو بیان فرمایا جارہا ہے جن میں ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کے لیے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ منکرین و مخالفین کی طرف سے جن کٹھن اور صبر آزما حالات سے آج آپ کو واسطہ پڑ رہا ہے یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں بلکہ پہلے سے ہی ایسے ہوتا چلا آیا ہے۔ لہذا آپ بھی اسی طرح صبر و برداشت اور ثبات و استقامت سے کام لیں جس طرح کہ آپ سے پہلے کے انبیاء و رسل نے لیا۔ اور ان منکرین و مکذبین کے بارے میں کسی طرح کی جلد بازی سے کام نہ لیں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ ) (الاحقاف : 35) جبکہ دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبین کے لیے یہ تنبیہ و تذکیر ہے کہ اگر تم لوگوں نے کفر و انکار کی اپنی روش نہ بدلی تو تمہارا حشر بھی گزشتہ منکرین کی طرح ہوگا کہ اللہ کا قانون سب کے لیے ایک اور یکساں و بےلاگ ہے۔ تم لوگوں کو کوئی سرخاب کے پر تو نہیں لگے ہوئے کہ تم اسی جرم تکذیب کا ارتکاب کرو جس کا ارتکاب ان گزشتہ قوموں نے کیا۔ اور پھر تم اس نتیجہ و انجام سے بچے رہو جو ان لوگوں کو پیش آیا۔ اور تم کو وہ بھگتان نہ بھگتنا پڑے جو ان لوگوں نے بھگتا ہے۔
63 ۔ پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تم لوگوں کو خبردار کرنے والا ہوں کھول کر کہ تم سب کو کفر و شرک کے انجام بد سے خبردار کردوں اور حق اور حقیقت سے تم لوگوں کو آگاہ کردوں اور بس۔ باقی اس سے آگے بڑھ کر حق کو منوا لینا اور راہ ہدایت پر ڈال دینا اور تم کو اس پر چلا دینا نہ میرے بس میں ہے اور نہ ہی یہ میرا وظیفہ و منصب ہے۔ سو پیغمبر کا اصل کام انذار و تبلیغ اور دعوت دینا ہوتا ہے اور بس۔ اس سے آگے منوا لینا نہ ان کے ذمے ہوتا ہے اور نہ ان کے بس میں۔ آگے جنہوں نے ان کی دعوت کو قبول کیا ان کا اپنا بھلا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور جنہوں نے ان کی دعوت سے منہ موڑا انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا دنیا میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضاء و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 11:2664 ۔ معبود برحق صرف ایک اللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ عبادت و بندگی نہیں کرو مگر صرف اللہ کی کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو یہ ہر پیغمبر کی اصل اولین اور سب سے اہم دعوت رہی ہے کہ عبادت اللہ کے سوا کسی کی نہ کرو کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود حقیقت میں ہے ہی نہیں۔ اور یہی عقیدہ توحید دین کی اصل اور اساس ہے۔ اس لئے ہر پیغمبر نے اپنی دعوت کا آغاز اسی نقطہ سے کیا۔ سو معبود برحق صرف ایک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی ہے ہی نہیں۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ اس کے سوا کوئی ہے ہی نہیں۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا جو کہ قرآن حکیم کی صریح نص کے مطابق ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
65 ۔ کفر و شرک کا نتیجہ دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے مزید کہا کہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں ایک بڑے ہی دردناک دن کے عذاب کا سخت اندیشہ ہے۔ اگر تم لوگ کفر و شرک کے اس سنگین جرم سے باز نہ آئے کہ کفر و شرک کے اس سنگین جرم کا نتیجہ و انجام ایسا دردناک عذاب ہے اور اس طور پر کہ پھر اس سے بچنے اور نکل بھاگنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ سو یہ حضرات انبیائے کرام کا دنیا پر ایک عظیم الشان احسان ہے کہ وہ دنیا کو اس عذاب سے خبردار کرتے ہیں جس کے جاننے کا اور کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ اور یہ دردناک عذاب جو کفر و شرک کے نتیجے میں آتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور جس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو خبردار کیا اس دنیا میں بھی کسی نہ کسی شکل میں آسکتا ہے ورنہ آخرت میں تو لازمی ہے۔ اور آخرت کا عذاب بہت ہی بڑا ہے۔ (ولعذاب الاخرۃ اکبر) اور وہ بڑا ہی رسوا کن ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا گیا (ولعذب الاخرۃ اخزی) سو عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ اس سے بچنے کی فکر و کوشش کی جائے کہ کفر و شرک کا نتیجہ و انجام بہرحال دردناک عذاب ہے۔
Ayah 11:2766 ۔ بشریت انبیاء سے متعلق ایک قدیم اور مشترک غلط فہمی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح کے کافر سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو تم کو اپنے ہی جیسا ایک بشر اور انسان دیکھ رہے ہیں تو پھر تم کو اللہ کا رسول کس طرح مان لیں ؟ سو حضرات انبیائے کرام کے بشریت طاہرہ سے متعلق لوگوں کی یہ ایک مشترکہ غلط فہمی رہی کہ نبوت اور بشریت میں منافات ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پھر تم کو ہم نبی کیسے تسلیم کرلیں ؟ ہاں اگر تم کوئی مافوق البشر ہستی ہوتے۔ کوئی نوری فرشتہ ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔ بحالت موجودہ ہم تم کو کیونکر نبی مان لیں اور اپنا راہبر تسلیم کرلیں ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ سو یہی وہ حقیقت ہے جس کو سمجھنا ٹیڑھے دماغ کے لوگوں کے لئے ہمیشہ مشکل رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ ایسے لوگ نبوت اور بشریت میں منافات سمجھتے ہیں۔ کل کے کھلے مشرکین بھی اسی غلط فہمی کا شکار تھے اور آج کے کلمہ گو مشرک کا بھی یہی حال ہے۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ کل کے کھلے مشرکین نے منافات کی اپنی اس غلط فہمی کی بناء پر انبیاء کرام کی بشریت کو دیکھتے ہوئے ان کی نبوت کا انکار کیا اور آج کا کلمہ گو مشرک ان کی نبوت پر ایمان کا دعویدار بن کر ان کی بشریت کا انکار کرتا ہے۔ غلط فہمی بنیادی طور پر دونوں کو بہرحال ایک ہی رہی ہے کہ یہ دونوں بشریت اور نبوت میں منافات جاننے کی وجہ سے ان دونوں کو یکجا تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح، صاف اور بالکل عیاں ہے کہ نبی بیک وقت نبی بھی ہوتا ہے اور بشر بھی۔ اور یہی اس کی شان کمال ہے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے بشر ہونے کے باوجود خداوند قدوس کے انتخاب کے باعث اور نبوت و رسالت کے منصب عالی پر فائز ہونے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کی کائنات میں سب سے افضل و برتر قرار پاتا ہے۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر ایمان اور اس کے اقرار و اعلان کا ہر مومن پابند ہے۔ اور وہ کلمہ شہادت میں عبدہ و رسولہ کے الفاظ سے ان دونوں حقیقتوں کا یکجا اقرار و اظہار کرتا ہے۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ بدعت کی نحوست کے سبب ان کو یہ اس قدر واضح حقیقت بھی سمجھ میں نہیں آتی اور وہ بشریت انبیاء کے انکار پر گویا ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے وہ قرآن و سنت کی صاف وصریح نصوص میں طرح طرح کی تاویلات بلکہ تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ چناچہ ان کے ایک بڑے تحریف پسند یہاں پر اس بارے اس طرح گوہر افشانی کرتے ہیں کہ " خیال رہے کہ انبیاء کرام کو یا تو رب نے بشر فرمایا یا خود انہوں نے یا کفار نے۔ چوتھے کسی نے بشر نہ پکارا۔ اب جو حضور ﷺ کو بشر کہہ کر پکارے سمجھ لے کہ وہ کون ہے " (انتہی بلفظہ) غور فرمائیے کہ کس قدر الٹی منطق اور کیسی دجل وتلبیس اور فریب کاری ہے یہ۔ بھلا جس حقیقت کا اظہار خدائے پاک بھی فرما دے اور صاف وصریح طور پر فرما دے جس کا اعلان حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ خود بھی فرما دیں اور صاف وصریح طور پر فرما دیں اور جس کو تسلیم کرنے کفار تک بھی مجبور و متفق ہوں۔ آخر اس کے اقرار و اظہار اور ذکر وبیان کی صحت اور اس کے جواز میں کسی شک و شبہ کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے ؟ اور جو کوئی ایسی صاف وصریح اور واضح حقیقت کا بھی انکار کرے اور اس کو ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو آخر اس سے بڑھ کر کوڑھ مغز اور مت کا مارا اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو موصوف کی مذکورہ بالا یہ منطق ایسے ہی ہے جیسے کوئی یہ کہے کہ " انسان کو انسان یا تو خدائے پاک نے فرمایا یا حضرات انبیائے کرام نے یا کفار نے۔ لہذا اب جو کوئی انسان کو انسان کہے وہ خود سمجھ لے کہ وہ کون ہے ؟ " سو جس طرح اس خود ساختہ حجت بازی کی لغویت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح موصوف کی اس خانہ ساز منطق کی لغویت میں بھی کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کی عقلوں کو کیا ہوگیا اور ان کی مت اس طرح کیوں مار دی گئی۔ والعیاذ باللہ۔ شرک و بدعت کی نحوست اور اہل حق سے ضد وعناد کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسوں کو صاف وصریح اور سیدھے حقائق بھی الٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ مزید تلبیس ملاحظہ ہو کہ موصوف لکھتے ہیں کہ اب جو حضور ﷺ کو بشر کہہ کر پکارے بھلا ایسا کوئی شخص ہے یا ہوا ہے یا ہوسکتا ہے ؟ جو پیغمبر کو بشر کہہ کر پکارے ؟ تو پھر کیسی دجل وتلبیس ہے جس سے اس قماش کے لوگ کام لیتے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے مکر و فریب اور زیغ و ضلال سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
67 ۔ ابنائے دنیا کے لیے متاع دنیا باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم : کہ اس بنا پر ایسے دنیا دار لوگ کبر و غرور میں مبتلا ہو کر نور حق و ہدایت سے اور دور اور محروم ہوجاتے ہیں اور وہ غریب اور نادار اہل حق کو اپنے سے گھٹیا سمجھنے لگتے ہیں جس سے وہ حق بات کو سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ یہ دنیاوی مال و دولت کا ایک نہایت خطرناک پہلو ہے کہ اس کی بناء پر انسان کبر و غرور میں مبتلا ہو کر حق سے منہ موڑ لیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قوم نوح کے ان متکبر سرداروں نے اپنے اسی کبر و غرور کی بناء پر حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ متکبرانہ جواب دیا کہ آپ کی پیروی کرنے والے گھٹیا لوگ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جن کی دنیاوی مآل و منال اور عزت و جاہ کے اعتبار سے ہمارے یہاں کوئی حیثیت نہیں۔ سو اس سے دو اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ایک یہ کہ مادہ پرست دنیا داروں کی نظر میں اس دنیائے دوں کا متاع فانی اور حطام زائل ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کے یہاں پوری دنیا اور اس کی تمام دولت کی حقیقت و حیثیت بھی مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ سے اس کی تصریح موجود ہے۔ اور دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ دنیا دار لوگ اپنے دنیاوی مال و دولت اور اس کے چند ٹکوں پر مست و مگن ہو کر حق والوں کو حقیر جاننے لگتے ہیں جس سے وہ دولت حق و صداقت سے محروم اور مزید دور ہوتے جاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا خسارہ و نقصان ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور متاع دنیا کا یہ پہلو سب سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتا ہے کہ اس سے انسان حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایسا کہ وہ اپنی مستی اور تکبر کے نشے میں کلمہ حق کو سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ اندھیروں میں ڈوبا رہتا اور دائمی ہلاکت کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور اپنے کبر و غرور کے باعث اس کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور اپنی رضا کی راہوں پر ہی گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
68 ۔ دنیاوی مال و دولت ذریعہ کبر و غرور۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح کے ان متکبر اور کافر سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہاری پیروی تو وہی لوگ کرتے ہیں جو ہم میں سب سے گھٹیا ہیں اور ہم لوگ اپنے مقابلے میں تمہارے اندر کوئی بڑائی نہیں دیکھتے ہم تو تمہیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یعنی ان رذیل اور گھٹیا لوگوں نے بھی تمہاری دعوت کو یونہی قبول کرلیا بغیر سوچے سمجھے اور بدوں غور و فکر سے کام لئے۔ ورنہ وہ بھی تمہاری پیروی نہ کرتے اور ہم ایسے نہیں ہیں بلکہ ہم بڑے چالاک اور زیرک لوگ ہیں۔ ہم معاملات کو سمجھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی اہلیت رکھتے ہیں وغیرہ۔ سو یہ دنیاوی مال و دولت کے گھمنڈ سے پیدا ہونے والے اسی کبر و غرور کا ایک مظہر اور شاخسانہ ہے جس سے ایسے لوگ نور حق و ہدایت کی دولت سے اور محروم اور مزید دور ہوتے چلے جاتے ہیں اور حق و ہدایت کی دولت سب سے بڑی اور سعادت دارین سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی دولت ہے۔ اور اس سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ مگر ایسے لوگوں کو اپنی اس محرومی کا احساس ہی نہیں جو کہ خسارے پر خسارے کا مصداق ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
69 ۔ مادہ پرستی باعث محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مادہ پرستی باعث محرومی ہے اور اس بناء پر ایسے مادہ پرست ابنائے دنیا کی آنکھوں پر مادہ پرستی کی سیاہ پٹی بندھ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور یہ اس لیے کہ اہل دنیا کے نزدیک دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب ہی سب کچھ ہے جس کی بناء پر ہم تمہاری پیروی کرنے لگیں۔ سو ایسے میں ہم کسی بھی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں۔ نہ تمہارے پاس کوئی عہدہ و منصب ہے نہ حکومت و اقتدار اور نہ مال و دولت۔ تو پھر تم پر کیسے ایمان لائیں۔ سو یہ مادہ پرستوں کی کوتاہ نظری ہے کہ ان کے نزدیک دنیاوی مال و دولت اور جاہ و منصب ہی سب کچھ ہے۔ اسی کے لیے وہ جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ اور ان کی آنکھوں پر مادہ پرستی کی ایسی سیاہ پٹی بندھ جاتی ہے کہ اس کی بناء پر ان کو پیغمبر کی پاکیزہ اور مقدس ہستی میں بھی کوئی فضیلت اور بزرگی نظر نہیں آتی۔ اور اس طرح وہ انکار حق کے سنگین اور ہولناک جرم میں اور آگے بڑھ کر اپنی محرومی اور سیاہ بختی میں مزید اضافہ کرتے جاتے ہیں اور محروم سے محروم تر ہوتے جاتے ہیں اور وہ بھی اس طور پر کہ ان کو اپنی اس محرومی کا شعور و احساس ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:2870 ۔ پیغمبر کی دعوت نور علی نور کا مصداق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو تم ذرا اتنا تو سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی دلیل پر قائم ہوں۔ یعنی فطرت اور نبوت کی روشن دلیل پر۔ جو کہ میرے کسب و اختیار سے نہیں بلکہ میرے رب ہی کی طرف سے ہے جس سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوجائے۔ اور پھر بھی اگر تم لوگ اس کا انکار کرو گے تو تم کس قدر محروم اور بدبخت لوگ ہوؤگے کہ حق اور ہدایت کے نور سے سرفراز و فیضیاب ہونے کی بجائے تم لوگ اس سے منہ موڑ کر اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کر رہے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری دعوت دو اہم بنیادوں پر قائم ہے۔ ایک اس نور فطرت " بینہ " پر جو کہ قدرت کی عنایت سے میرے اندر پہلے سے موجود تھا۔ جس کو قدرت نے میری طبیعت و فطرت میں پہلے سے ہی ودیعت فرما رکھا تھا۔ اور دوسرے اس نور وحی (رحمت) پر جس سے قدرت نے مجھے اپنی رحمت و عنایت سے اب نوازا ہے۔ سو اس طرح پیغمبر کی دعوت نور علیٰ نور کا مصداق ہوتی ہے۔ پس جن لوگوں کے اندر نور فطرت موجود و محفوظ ہوتا ہے۔ ان کو پیغمبر کی دعوت اپنی فطرت کی پکار اور اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اور جن کا نور فطرت بجھ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ان کا معاملہ اس سے مختلف اور دگر گوں ہوتا ہے۔
71 ۔ نبوت ایک عظیم الشان رحمت : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید کہا کہ نور فطرت کے علاوہ میرے رب نے مجھے ایک خاص رحمت سے بھی نوازا ہے۔ یعنی نبوت سے جو کہ سب سے بڑی اور عظیم الشان رحمت ہے۔ ایسی عظیم الشان جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے جس سے وہ اپنے رب اور اس کائنات کے خالق ومالک کی معرفت سے سرفرازی حاصل کرتا ہے اور اس کو وہ صحیح راہ نصیب ہوتی ہے جس پر چل کر وہ اپنے مقصد حیات کو پاسکتا ہے۔ سو ایسے میں تم ذرا سوچو اے میری قوم کے لوگو کہ اس طرح تم لوگ ایک عظیم الشان رحمت سے محروم ہو کر کس قدر ہولناک خسارے کا ارتکاب کر رہے ہو اور اپنے لیے کتنی بڑی محرومی اور ہلاکت کا سامان کر رہے ہو ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
72 ۔ عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر میں نور علی نور کے مصداق قطعی طور پر راہ حق و ہدایت پر قائم ہوں مگر تم کو وہ نظر نہ آتی ہو تو اس میں میرا کیا قصور ؟ کہ تم لوگوں نے اپنی آنکھوں پر ضد اور عناد کی پٹی باندھ رکھی ہے اور تم اپنی دنیا اور اس کے مال و متاع کے غرور اور اس کے دھوکے میں مبتلا ہو۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی اصل جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے فرمایا کہ اگر تمہارے اندر بھی نور فطرت کی روشنی موجود و محفوظ ہوتی تو تم لوگوں کو میری یہ دعوت اپنی فطرت کی آواز اور دل کی پکار معلوم ہوتی اور تم لوگ اس کو اللہ پاک کی عظیم الشان رحمت سمجھ کر اس کو اپناتے اور دل و جان سے اس کو قبول کرکے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتے مگر تم لوگوں نے چونکہ اپنی ناشکریوں اور بد اعمالیوں سے اپنے اس نور فطرت کو گل کردیا اس لیے تمہارے دل سیاہ ہوگئے اور ان کے اندر حق و ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہ گئی۔ اس لیے تم لوگ اندھے اور اوندھے ہو کر رہ گئے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
73 ۔ قبول حق کے لیے کوئی جبر واکراہ نہیں : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے بطور استفہام فرمایا کہ کیا ہم اس کو تم لوگوں پر چپکا دیں گے ؟ استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ تم ہدایت نہ چاہو اور ہم اس کو تم پر مڑھ دیں۔ سو قبول ہدایت انسان کی اپنی مرضی و اختیار پر مبنی ہے نہ کہ جبر واکراہ پر کہ تم اسے ماننے پر مجبور ہوجاؤ اور تم اس کو نہ ماننا چاہو تو بھی ہم تمہیں منوا کر چھوڑیں ؟ سو ایسا نہیں ہونے کا کہ یہ جبر واکراہ فی الدین ہے جس کے ہم روادار نہیں۔ سو ہمارا کام تو صرف حق کی تبلیغ کرنا اور اس کی دعوت دینا ہے اور بس۔ اس کے بعد ہمارا تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہ جو چاہے فیصلہ فرمائے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو حق و ہدایت کی روشنی کو قبول کرنا انسان کی اپنی آزادی اور مرضی ہے۔ اور یہ موقوف ہے اس کے اپنے ارادہ و اختیار پر نہ کہ جبر واکراہ پر کہ قبول حق کے لیے نہ کوئی جبر ہے نہ اکراہ یہ اپنی مرضی کا سودا ہے۔ جو لوگ اپنی مرضی اور اختیار سے پیغام حق و ہدایت کو اپنائیں گے وہ دراین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑیں گے وہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
74 ۔ ہدایت طلب صادق پر موقوف ہے : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں گے جبکہ تم لوگ اس سے برابر نفرت ہی کرتے رہو ؟ سو استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ تم اس سے نفرت کرتے رہو اور ہم اس کو تم پر مڑھ دیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی روشنی سے سرفرازی انسان کی طلب صادق پر موقوف ہے نہ کہ جبر واکراہ پر۔ پس جب تک انسان کے اندر طلب صادق کا جوہر موجود نہ ہو وہ کبھی نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتا۔ اور کس کے اندر طلب ہے اور کس کے اندر نہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے کہ وہ دلوں کے حال کو بھی پوری طرح جانتا ہے اور اسی کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ پس رشد و ہدایت کا معاملہ اسی کی مشیت اور اسی کے اذن پر موقوف ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فوفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل بکل حال میں الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام۔ بہرکیف نور حق و ہدایت سے سرفرازی کا معاملہ جبر واکراہ پر نہیں بلکہ ارادہ و اختیار اور اپنی خواہش و چاہت پر ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلیٰ ما یحب ویرید۔
Ayahs 11:29–3075 ۔ اصل چیز ہے صدق و اخلاص : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متکبروں کے اس مطالبے کو کہ غریب لوگوں کو اپنی مجلس سے ہٹا دو کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں تم لوگوں کے مطالبے پر ان مخلص مسلمانوں کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرسکتا کہ یہ سچے اور مخلص ایماندار ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت صدق و اخلاص ہی کی ہے۔ پس میں ان مخلص ایمانداروں کو دور نہیں کرسکتا جیسا کہ تمہارا مطالبہ ہے۔ سو میں ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ایمان کے شرف سے مشرف ہونے کے باعث اپنے رب کے یہاں ایک خاص مرتبہ پاچکے ہیں پھر میں ان بندگان صدق و صفا کو کس طرح دور کرسکتا ہوں ؟ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت صدق و اخلاص اور ایمان و یقین ہی کی ہے۔ اور اس سے یہ لوگ سرفراز ومالا مال ہیں۔ تو پھر میں ان کو تمہارے کہنے پر اپنے سے دور کس طرح کرسکتا ہوں ؟ سو میں تم لوگوں کی دلداری میں ان مخلص مسلمانوں کو دھتکارنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہ سب اپنے رب پر ایمان لائے ہیں اور اپنے اسی ایمان کے ساتھ یہ لوگ کل اپنے رب سے ملنے والے ہیں اگر تمہارے کہنے سے آج میں ان کو دھتکار دوں تو کل اپنے رب کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ شرافت و رذالت کا اصل فیصلہ تو اسی کے یہاں ہونے والا ہے۔ وہی بتائے گا کہ کون شریف ہے اور کون رذیل۔ ایسے میں یہ مطالبہ کرکے تو تم لوگ نری جہالت برت رہے ہو۔ اس لیے تمہاری یہ بات سننے ماننے کے قابل نہیں۔
76 ۔ صرف مادیت کو معیار فضیلت قرار دینا نری جہالت۔ والعیاذ باللہ۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ تو نری جہالت برت رہے ہو کہ انسانی شرف کو محض دنیاوی مال و دولت کے پیمانوں سے ناپنا چاہتے ہو اور ان مخلصوں کو اراذل قرار دیتے ہو۔ اور تم انسان کی قدر و قیمت اور اس کے مرتبہ و شرف کو دنیاوی مال و دولت کے باٹوں سے بانٹتے اور انہی پیمانوں سے ناپتے تولتے ہو۔ اور ان بندگان تسلیم و رضا کے ساتھ مل بیٹھنے کو تم لوگ اپنی سعادت جاننے کی بجائے الٹا اس کو اپنی توہین اور کسر شان سمجھتے ہو۔ حالانکہ انسان کی عزت و شان کی کمی بیشی اس طرح کے امور پر نہیں بلکہ ایمان و یقین اور اپنے ذاتی اخلاق اور اوصاف و کردار پر مبنی ہوتی ہے۔ سو انسانی شرف کو دنیاوی مال و دولت کے پیمانوں پر ناپنا حماقت و جہالت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اے میری قوم اگر میں مخلص بندوں کو تمہاری ناز برداری میں اور تمہارے اس مطالبے پر دھتکار دوں تو کل اللہ کی پکڑ سے مجھے کون چھڑائے گا اور اس کے حضور میں کیا جواب دوں گا ؟ دنیاوی مال و دولت کے نشے میں اور کبر و غرور کی بناء پر تم لوگ اتنے اندھے اور اس قدر اوندھے ہوگئے ہو کہ معاملے کے اس پہلو پر غور و فکر کے لیے تم لوگ تیار ہی نہیں ہوتے اور تم کو اس کی توفیق ہی نہیں ملتی۔ اور اس طرح تم اپنی محرومی اور بدبختی کی سیاہی کو اور پکا کر رہے ہو۔ مگر تم لوگوں کو اس کا شعور و احساس ہی نہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔