Ayah 11:71153 ۔ ظالموں کی ہلاکت بھی قدرت کا ایک انعام ہے : سو فرشتوں کے اس جواب پر کہ ہمیں قوم لوط کے عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہنس پڑیں۔ امن وامان کی خبر پاکر اور خوف کے جاتے رہنے سے۔ نیز ظالم اور خبیث قوم سے اللہ کی دھرتی کی تطہیر کی خبر سے۔ اسی لیے ان کو بچے کی خوشخبری دی گئی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ظالموں کی ہلاکت بھی قدرت کا ایک انعام ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نوازتا ہے کہ اس سے دوسروں کو امن وامان کی نعمت نصیب ہوتی ہے اور اللہ کی دھرتی ایسے خبیث عناصر کے وجود سے پاک ہوتی ہے۔ فللہ الحمد رب العالمین۔ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے ان معزز مہمانوں کی خاطر مدارات کے اہتمام سے فارغ ہوگئے اور اس انکشاف سے ان کو اطمینان نصیب ہوگیا کہ یہ آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جن کو قوم لوط کے عذاب کے لیے بھیجا گیا ہے تو انہوں نے حضرت ابراہیم کو یہ خوشخبری سنائی اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ جو قریب ہی کہیں کھڑی تھیں، سن کر ہنس پڑیں۔ جو ایک طبعی اور فطری امر تھا۔
154 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایک خوشخبری میں کئی خوشخبریاں : یعنی صرف بیٹے کی بشارت نہ تھی بلکہ یہ بھی کہ وہ بیٹا بڑا ہوگا اور اس کے بھی آگے بیٹا ہوگا جس کا نام یعقوب ہوگا۔ یہاں پر (فبشرنھا) کے ارشاد سے حضرت سارہ کی بشارت کو ذکر فرمایا گیا ہے جبکہ دوسرے مقام پر ضمیر مذکر کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بشارت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سورة صافات میں ارشاد ہوتا ہے۔ (فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ ) (الصافات : 101) اور سورة ذاریات میں ارشاد فرمایا گیا (وَبَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ ) (الذاریات : 28) تو ان مختلف آیات کریمہ سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ اس بشارت میں وہ دونوں شریک تھے۔ حضرت سارہ اس بشارت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تابع تھیں مگر یہاں پر یعنی سورة ہود کی اس آیت کریمہ میں حضرت سارہ کے ذکر میں یہ بلاغت ہے کہ یہ خوشخبری ان کے لیے زیادہ اہم تھی کہ ان کے لیے یہ پہلے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مولود ہوچکے تھے۔ بہرکیف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ کو ایسے عظیم الشان بیٹے کی خوشخبری سے نوازا گیا اور اس طور پر کہ اس ایک خوشخبری میں آگے کئی خوش خبریاں مستور و پوشیدہ تھیں۔ ایک یہ کہ بڑھاپے کی اس عمر میں ان کے یہاں بچہ ہوگا جو کہ عام حالات میں بچے سے سرفراز ہونے کی عمر نہیں ہوتی۔ دوسری یہ کہ وہ بچہ بڑا علم والا ہوگا۔ تیسری یہ کہ وہ بڑا بردبار اور حلم والا ہوگا۔ چوتھی یہ کہ وہ بڑی عمر بھی پائے گا اور اتنی بڑی کہ اس کے یہاں آگے بیٹا ہوگا۔ اور چھٹی یہ کہ وہ بیٹا بھی حضرت یعقوب جیسا عظیم الشان بیٹا ہوگا جن سے آگے ایک امت اور نسل چلے گی جو انہی کی طرف منسوب ہوگی یعنی بنی اسرائیل۔ فالحمد للہ رب العالمین۔ اللہ ہمیشہ خوشیاں ہی سننا نصیب فرمائے۔ اور ہر قسم کے دکھ اور صدمے سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 11:72155 ۔ بچے کی ولادت سے موانع کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس خوشخبری پر حضرت سارہ تعجب سے بول اٹھیں کہ ہائے میری کم بختی کیا میں بچہ جنوں گی ؟ جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرے میاں بھی اتنے بوڑھے ہیں۔ یہ تو واقعی ایک بڑی ہی عجیب بات ہے۔ یعنی یہ بہت ہی عجیب چیز ہے کہ میں ایک بوڑھی اور بانجھ عورت اس عمر اور اس حالت میں بچے کو جنم دوں اور حضرت سارہ کے اس اظہار تعجب کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ اس بشارت کے ظہور کی راہ میں جو ظاہری رکاوٹیں ہیں ان کا ذکر کرکے اس بارے اطمینان حاصل کرلیں کہ ان سب کے باوجود ایسا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا و پکا ہے اور اس کی قدرت لامحدود اور کامل ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے انہوں نے مزید وثوق اور اطمینان کے لیے اس طرح تعجب کا اظہار کیا۔ تاکہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔
156 ۔ بچے کی ولادت سے متعلق اظہار تعجب کا ذکر وبیان : سو انہوں نے اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا کہ ہائے میری کم بختی کیا میں اس عمر میں بچہ جنوں گی جبکہ میں اتنی بوڑھی ہوچکی ہوں۔ اور دوسری جگہ " عجوز عقیم " کے دو لفظ آئے ہیں۔ یعنی جبکہ میں بوڑھی بھی ہوں اور بانجھ بھی۔ یعنی ایسے ہونا بہت عجیب اور بعید ہے کہ اس عمر میں اور ایسے حالات میں ہمارے یہاں کوئی بچہ پیدا ہو کہ عام حالات میں ایسے نہیں ہوتا اور ان کا یہ تعجب ایک طبعی امر تھا کہ یہ خوشخبری ایسے حالات میں تھی جن میں اس خوشخبری کا تحقق اور وقوع بڑا مستبعد امر ہوتا ہے۔ سو اس سے اس خوشخبری کی عظمت شان اور بڑھ جاتی ہے۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو کوئی ناقابل یقین قسم کی خوشخبری سنائی جائے اور وہ اس کے بارے میں از راہ تعجب یوں کہے کہ کیا ایسے فی الواقع ہوسکتا ہے ؟ بہرکیف بیٹے کی خوشخبری سننے پر حضرت سارہ نے خالص نسوانی انداز میں اظہار تعجب کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں اس عمر میں بچہ جنوں گی جبکہ میں بوڑھی بانجھ ہوں، اور میرے میاں بھی اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں۔ یہ تو ایک بڑی ہی عجیب قسم کی بات ہے لیکن اس اظہار تعجب میں ایک خاص قسم کی مسرت اور بےقراری کا پہلو بھی موجود ہے جو اہل ذوق سے مخفی نہیں۔ سو اس خوشخبری کے ظہور کی راہ میں جو رکاوٹیں تھیں۔ انہوں نے اپنے سوالوں سے ان سب کا ازالہ کرا دیا۔
Ayahs 11:73–75157 ۔ کسی کے اہل بیت اصل میں اس کی بیوی ہی ہوتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت سارہ کے تعجب کے جواب میں ان سے کہا کہ کیا تم اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہو حالانکہ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اے نبی کے گھر والو برابر برستی رہتی ہیں۔ سو یہ بھی مزید ایک کرامت و رحمت ہے جو اس کی طرف سے تمہیں نصیب ہو رہی ہے۔ پس تمہیں اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کی گھر والی ہی اس کی اصل اہل بیت ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہاں " اہل البیت " کا مصداق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ہی ہیں۔ پس اس سے ہمارے حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے دشمنی رکھنے والے ان روافض کے منہ پر بھی ایک بھرپور تھپڑ رسید ہوتا ہے جو ان کو اہل بیت ماننے کے لیے تیار نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کی اہلیہ کو بتایا گیا کہ جب تم اہل بیت پر حق تعالیٰ کی رحمتیں، برکتیں اور عنایتیں ہمیشہ اور لگاتار ہوتی رہتی ہیں تو پھر تمہیں اس رحمت و برکت پر تعجب کیونکر ہوسکتا ہے ؟ یعنی ایسے میں آپ کو بچے کی اس نئی خوشخبری پر تعجب نہیں کرنا چاہئے۔ اور تمہارے خالق ومالک جو کہ قادر مطلق ہے کے لیے اس طرح ظاہری اسباب کے خلاف بچے سے نوازنا کچھ مشکل نہیں کہ اس کی شان علی کل شیء قدیر کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف فرشتوں نے حضرت سارہ کے اس تعجب کے جواب میں پورے ادب و احترام کے ساتھ کہا کہ نبی کی اہل بیت ہونے کے اعتبار سے آپ کے لیے تعجب کی گنجائش کس طرح ہوسکتی ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر دن رات برستی رہتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں سے متعلق سب سے آگاہی آپ کو ہوسکتی ہے۔
Ayahs 11:76–77158 ۔ اللہ کے عذاب کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ ابراہیم اب جانے دو اس قصے کو کہ اب بہرحال آکر رہنا ہے ان لوگوں پر ایک ایسے ہولناک عذاب نے جس کے ٹلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ کہ اللہ پاک کی طرف سے طے شدہ کسی امر کو کوئی بھی نہیں ٹال سکتا۔ اور جب ابو الانبیاء جد الانبیاء افضل الانبیاء بعد نبینا محمد حضرت ابراہیم خلیل۔ علیہما الصلوۃ والسلام۔ بھی اللہ کے حکم کو ٹالنے کے مجاز نہیں تو پھر اور کس کی یہ شان ہوسکتی ہے کہ وہ ایسے کرسکے ؟ پس غلط اور مردود ہے وہ کچھ جو کہ فرزندان شرک و بدعت کہتے ہیں کہ ولی اور بزرگ سب کچھ کرا سکتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر بھی واپس لاسکتے ہیں وغیرہ۔ کیونکہ کوئی ولی اور بزرگ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ کسی نبی کے مرتبہ و مقام کو بہرحال نہیں پہنچ سکتا۔ اور جب اس طرح کے اختیارات کسی نبی اور پیغمبر کو بھی حاصل نہیں تو پھر اور کسی کو کس طرح حاصل ہوسکتے ہیں ؟ سو اختیار سب کا سب اللہ پاک ہی کے قبضہ وقدرت و اختیار میں ہے کہ وہی وحدہ لاشریک مالک مطلق اور مختار کل ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی سکت و طاقت کسی میں بھی نہیں ہوسکتی۔ سو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا گیا کہ اب ان لوگوں سے عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں۔
Ayah 11:78160 ۔ قوم لوط کا عمل بد اور دور حاضر کے ایک جمہوری ملک کا حیا باختہ کردار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پہنچے ان کے پاس ان کی قوم کے بد اطوار لوگ رسیاں توڑ کر۔ اور وہ پہلے سے ہی برائیاں کرتے آرہے تھے کہ ان میں یہ خبیث مرض موجود تھا کہ مرد مرد سے بدکاری کرتا تھا۔ اور یہ ایسا قبیح اور خلاف وضع فطرت فعل تھا کہ شرافت کی زبان پر اس کو لانا اور بیان کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں اس کی تصریح کئے بغیر اس کو (السیات) کے عمومی اور کنائی لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ مگر دور حاضر میں جمہوریت کے بت نو کے ایک پجاری اور جمہوریت کے چمپئن کہلانے والے ملک برطانیہ نے کچھ ہی سال قبل اس خلاف وضع فطری فعل کو قانونی جواز فراہم کرنے لیے ایک باقاعدہ بل اپنی پارلیمنٹ میں پیش کیا اور تالیوں کی گونج میں اس کو بھاری اکثریت سے پاس بھی کرلیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اہواء اغراض اور خواہشات نفس کے پیچھے چلنے والے لوگ کس قدر حیا باختہ اور کتنے بےشرم ہوجاتے ہیں کہ جس بات کو زبان پر لانا بھی شریف انسان کے لیے مشکل ہے اس کو ایک جمہوری ملک میں تالیوں کی گونج میں اپنی پارلیمنٹ سے پاس کرا کر قانون کا درجہ دے دیتا ہے۔ ببیں تفاوت از کجا ست تا بکجا ؟ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا کہیے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔
161 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی اپیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ان بدبختوں سے کہا کہ یہ میری بیٹیاں موجود ہیں جو تمہارے لیے بڑی پاکیزہ ہیں۔ یعنی تمہاری وہ بیویاں جو تمہارے گھروں میں ہیں اور شہر کی وہ عورتیں جو شادی کے قابل ہیں اور جن کو قدرت نے پیدا ہی اس غرض کے لیے فرمایا ہے۔ (قالہ مجاہد و سعید بن جبیر وغیرہ) اور نبی چونکہ اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اس لیے آپ نے ان کو اپنی بیٹیاں قرار دیا (ابن جریر، ابن کثیر، الصفوۃ، الکبیر اور المراغی وغیرہ) اور یہ قول اس لئے بھی راجح قرار پاتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی تورات وغیرہ کی تصریح کے مطابق اپنی صرف دو بیٹیاں تھیں جبکہ یہاں پر (بنات) فرمایا گیا ہے جو کہ جمع کا صیغہ ہے۔ اور یوں بھی دو بیٹیوں کو اتنے لوگوں کے نکاح میں دینے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اس طرح اس بات کی کوئی تک ہی نہیں بنتی کہ اس سے آپ کی صلبی بیٹیاں مراد ہوں۔ اس لئے ثقہ مفسرین کرام کے نزدیک راجح قول اوپر والا قول ہی ہے کہ (بناتی) کا لفظ یہاں مجاز پر محمول ہے۔ یعنی اس سے مراد قوم کی بیٹیاں ہیں جو کہ پیغمبر کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں جبکہ بعض حضرات مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے آنجناب کی صلبی بیٹیاں مراد ہیں۔ بہرکیف اس سے حضرت لوط (علیہ السلام) کی کمال بےبسی کا پتہ چلتا ہے جس سے ان لوگوں کی گمراہی آشکارا ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ پیغمبر مختار کل اور عالم غیب ہوتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اگر یہ بات ہوتی تو حضرت لوط (علیہ السلام) اس درجہ تشویش و اضطراب میں مبتلا نہ ہوتے۔ بلکہ وہ پوری طرح مطمئن ہوتے کہ یہ تو فرشتے ہیں۔
162 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی طرف سے ان لوگوں کے دلوں پر ایک دستک : سو حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا مت کرو۔ کیا تمہارے اندر کوئی بھی بھلا انسان نہیں ؟ جو کسی قدر شرافت و انسانیت سے کام لے۔ میری اس نازک پوزیشن پر رحم کھائے اور مجھے میرے ان معزز مہمانوں کے بارے میں رسوا و پریشان نہ کرے۔ یہ سوال و ارشاد انسانی عقل و ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والا ہے۔ مگر جب عقلیں ہوا و ہوس کے اندھیروں میں ڈوب کر ماؤف ہوچکی ہوں اور دلوں پر خواہشات و خرمستی کی ظلمتیں چھا چکی ہوں اور ان پر کفر و انکار کے بھاری بھرکم تالے پڑچکے ہوں تو ایسے میں ایسی آوازوں کا ایسے لوگوں پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے خواہشات نفس کو اپنا معبود اور قبلہ بنا دینے کا کہ اس کے بعد انسان کے دل و دماغ پر نصیحت و خیر خواہی کی کوئی بات اثر نہیں کرتی اور ایسے لوگ بالآخر اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ سو نور وحی سے محرومی دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:79163 ۔ اخلاقی گراوٹ کی انتہاء کا مظہر و نمونہ۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اس درد بھری اپیل کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمیں آپ کی بیٹیوں سے کوئی غرض نہیں اور آپ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ سو قوم لوط کا حضرت لوط (علیہ السلام) کو یہ جواب اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے کہ انسان گندگی کے اس کیڑے کی طرح بن جائے جو گندگی ہی کو پسند کرتا ہے اور طیبات سے اس کا کوئی لگاؤ ہی نہیں رہتا۔ ایسے کیڑوں کو کیڑے مار دوا چھڑک کر فورا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو پھر خدائے پاک اپنی دھرتی پر ایسے کیڑوں کو کیونکر برداشت کرسکتا ہے ؟ چناچہ اس کے بعد قوم لوط کا وہ حشر ہوا جو اور کسی قوم کا پوری تاریخ انسانیت میں نہ اس سے پہلے کبھی ہوا نہ اس کے بعد۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل سوء و شر ومن کل زیغ وضلال۔ سو ناصحین کی نصیحت اور خاص کر حضرات انبیاء و رسل کی دعوت و نصیحت کو ٹھکرا دینے کا نتیجہ و انجام بہت برا اور نہایت ہی ہولناک ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayah 11:80164 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی کمال بےبسی کا ایک مظہر اور نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر لوط نے ان لوگوں سے کہا کہ کاش کہ تمہارے مقابلے میں میرے پاس کوئی طاقت ہوتی یا کوئی ایسا مضبوط سہارا جس کی میں پناہ لیتا یعنی قوم قبیلہ۔ کیونکہ آپ اس قوم میں سے نہیں تھے بلکہ باہر سے آئے تھے۔ کیونکہ آپ اصل میں عراق کے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ وہاں سے شام کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں سے آپ کو اللہ کی طرف سے سدوم وغیرہ کی ان بدنصیب و بدبخت بسیتوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اسی بناء پر حضرت قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ اس کے بعد کسی نبی کو اس کی قوم قبیلہ سے باہر مبعوث نہیں فرمایا گیا تھا۔ (جامع البیان، روح المعانی، ابن کثیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی رحمتیں ہوں حضرت لوط (علیہ السلام) پر کہ آپ مضبوط سہارے اور رکن شدید کی پناہ مانگتے تھے۔ یعنی ان کا محافظ اور حامی و ناصر تو اللہ تھا۔ بہرکیف قوم لوط کے ان کفار اور فساق و فجار کے سامنے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بےکسی اور بےبسی اور اس منظر کو دیکھئے اور پھر اپنے دور کے اہل بدعت کے ان شرکیہ عقائد کو بھی پیش نظر رکھئے جو وہ انبیائے کرام کے حاضر و ناضر، عالم غیب اور مختار کل ہونے کے بارے میں رکھتے ہیں اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ قرآن کیا کہتا ہے اور یہ لوگ دنیا کو گمراہی کے کن گڑھوں کے طرف دھکیل رہے ہیں ؟ اور اس کے لئے یہ لوگ کیسی کیسی تحریفات سے کام لیتے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayahs 11:81–82165 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی عذاب پانے والوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ رات کا کچھ حصہ اپنے لوگوں کو لیکر یہاں سے اس طرح نکل جائیں کہ تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے سوائے تمہاری بیوی کے۔ کہ اس پر بھی وہی بلا آنے والی ہے جو ان لوگوں پر آنے والی ہے۔ اور آخرکار ایسے ہی ہوا۔ اور وہ بدبخت عورت بھی عذاب پانے والوں میں شامل ہو کر رہی۔ اور پیغمبر کی زوجیت کا عظیم الشان رشتہ بھی اس کو اس عذاب سے بچانے کے لیے کام نہ آسکا۔ سو اپنے ایمان و عقیدہ کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا رشتہ بھی انسان کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ پس اس سے دو بنیادی باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ اپنا عقیدہ و عمل اگر صحیح نہ ہو تو پیغمبر کی بیوی ہونے کے باوجود مبتلائے عذاب ہو کر رہی ہے اور دوزخ میں جارہی ہے۔ سو آخرت میں کام آنے والی اصل چیز انسان کا اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے۔ جیسا کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓ سے فرماتے ہیں کہ بیٹی دنیا میں تو جو چاہے مجھ سے مانگ لے، میں دینے کو تیار ہوں۔ مگر آخرت میں تمہارا اپنا ایمان و عمل تمہیں کام دے سکے گا۔ میں کچھ بھی کام نہیں آسکوں گا۔ اور دوسری بنیادی بات یہاں سے یہ معلوم ہوئی کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کا کہنا ماننا ہے۔ بلکہ وہ صرف داعی حق ہوتا ہے اور بس۔ اختیار کلی کا مالک اللہ اور صرف اللہ ہے۔ ورنہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی اس طرح اپنے کفر پر اڑی نہ رہتی اور بالآخر قوم لوط کے ساتھ لقمہ عذاب نہ بنتی۔ سو اختیار کلی اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ وہی ہے جو کہ خالق کل بھی ہے اور مالک کل بھی۔ اور اس کائنات پر حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے اور اس کی ہر چیز اسی کے حکم و ارشاد کی پابند ہے۔ وہ جو چاہے ہوتا ہے۔ اس کی مشیت میں کوئی دخل نہیں دے سکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اصل چیز ایمان و عمل کی پونجی ہے جو وسیلہ نجات ہے۔ والحمد للہ جل وعلا۔
166 ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان۔ سو حضرت لوط (علیہ السلام) کی تسکین وتسلیہ کے لیے ان سے فرمایا گیا کہ ان بدبختوں کی ہلاکت و تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے ؟ یعنی ہاں وہ وقت دور نہیں، ابھی آیا ہی چاہتا ہے۔ سو یہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے استعجال کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا۔ اور آپ کو تسلی دی گئی کہ اب ان لوگوں کا آخری انجام بہرحال قریب آچکا ہے اور یہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے کہ ان کی مدت مہلت اب ختم ہوچکی ہے اور ان پر اب وہ عذاب آیا چاہتا ہے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو اپنے کفر و انکار کی بناء پر خود بنادیا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو صبح کا وقت کچھ زیادہ دور نہیں۔ اب انہوں نے اپنے انجام کو پہنچ کر ہی رہنا ہے اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا گیا کہ اس وقت یہ سب لوگ اپنے گھروں کے اندر موجود ہوں گے، کسی کو عذاب سے چھوٹنے اور بچ نکلنے کا کوئی موقع نہیں مل سکے گا۔ (المراغی وغیرہ) اور اس طرح ان کا ہولناک اور عبرت انگیز انجام سب کے سامنے آجائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:83167 ۔ قوم لوط کے عذاب کے لیے خاص نشان زدہ پتھر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپہنچا ہمارا حکم تو ہم نے تلپٹ کردیا ان بستیوں کو اور تابڑ توڑ برسائے ان پر کھنگر کے ایسے پتھر جن پر خاص نشان لگے ہوئے تھے تمہارے رب کی طرف سے۔ اور وہ بستیاں کچھ زیادہ دور نہیں دور حاضر کے ان ظالموں سے۔ سو ان پر برسائے جانے والے ان پتھروں پر خاص نشان لگے ہوئے تھے۔ کہ فلاں پتھر سے فلاں کافر کا کام تمام کیا جائے تاکہ وہ انہی کو لگیں جو ان کے حق دار تھے۔ نیز یہ کہ وہ پتھر عام زمینی پتھروں سے الگ اور خاص قسم کی امتیازی شکل والے پتھر تھے جو اس مجرم قوم کے لیے بطور خاص تیار کئے گئے تھے۔ (قرطبی، مراغی، وغیرہ) سو ان پتھروں کی حیثیت ایسی ہی ہوگی جیسا کہ دور حاضر کے مختلف اسلحہ کی ہوتی ہے کہ ہر ایک کی ساخت الگ، غرض الگ اور ہدف و مقصد الگ وغیرہ وغیرہ۔ سو وہ پتھر تمہارے رب کے علم اور اس کی قدرت میں پہلے سے مقرر تھے اور ان پر خاص نشان لگا دیے گئے تھے کہ ان کو ظالم اور بدبخت قوم پر برسایا جائے گا اور سنگ گل (سجیل) کے یہ پتھر ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہ تھے کہ ان کو وہاں سے اٹھا کر لانے میں کچھ وقت لگتا۔ نیز ان بدبختوں کی یہ تباہ حال بستیاں دور حاضر کے ان منکروں سے بھی کچھ دور نہیں اور وہ اپنی زبان حال سے پکار کر سب کو دعوت غور و فکر دے رہی ہیں سو (وماھی) میں ضمیر " ھی " کے مرجع میں دو احتمال ہیں۔ یعنی الحجارۃ اور السری اور یہ دونوں صحیح اور درست ہیں اور حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی مروی و منقول ہیں (محاسن التاویل، فتح القدیر، قرطبی، مراغی اور صفوۃ وغیرہ)
Ayah 11:84168 ۔ حضرت شعیب کی بعثت اور ان کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب کو پیـغمبر بنا کر بھیجا تو انہوں نے بھی ان لوگوں سے یہی کہا کہ تم عبادت و بندگی کرو صرف اللہ کی کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ تم لوگ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ سو ناپ تول میں کمی کرنا ان لوگوں کا دوسرا قومی مرض تھا جس میں وہ لوگ بحیثیت مجموعی مبتلا تھے کہ وہ لوگ ناپ تول میں کمی کیا کرتے تھے۔ اس لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے دعوت توحید کے بعد ان کو اسی قومی روگ سے روکا اور منع فرمایا تاکہ وہ اس کے ہولناک نتیجہ و انجام سے بچ سکیں۔ سو توحید تمام انبیائے کرام کی دعوت حق کا مشترکہ مقصد مرکز ثقل اور مدارو محور رہا ہے۔ اس سے انحراف تمام انحرافات کے دروازے کھولتا ہے۔ اور اسی کی طرف بازگشت سے صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوتی ہے جو کہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کا تقاضا اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا واحد ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اس لئے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید ہی سے فرمایا اور اس کے بعد ان لوگوں کو ان کے اس قومی روگ کی طرف متوجہ فرمایا جو ناپ تول میں کمی کے مرض کی صورت میں اس قوم پر مسلط تھا اور جس نے ہوس زر کے نتیجے میں ان کے پورے قومی مزاج کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
169 ۔ ناپ تول میں کمی کے ایک سنگین پہلو کا ذکر وبیان : یعنی یہ کہ وہ لوگ اپنی اچھی حالت میں ہونے کے باوجود ناپ تول میں کمی کے اس جرم کا ارتکاب کرتے تھے جس سے اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو حضرت نے اپنی قوم کو اچھی حالت میں ہونے کے باوجود ناپ تول میں کمی کرنے کے جرم پر تنبیہ فرمائی کہ تم لوگ کھاتے پیتے اور خوشحال ہو۔ تو پھر تم اس طرح جھک مار کر اپنے حلال میں حرام کی آمیزش کیوں کرتے ہو ؟ سو یہ بھی انسان کی ایک عمومی نفسیات میں سے ہے جس سے یہ کتاب حکیم پردہ اٹھاتی ہے کہ ایمان و یقین کی قوت اگر مضبوط نہ ہو تو حریص الطبع دنیا دار انسان جتنا بھی مالدار ہوجائے طبعی خست و رذالت اور ہیرا پھیری کی عادت ایسے لوگوں سے جاتی نہیں۔ چناچہ پہلے کی طرح آج بھی یہی حال ہے کہ اس قماش کے لوگ دنیاوی مال و دولت کے اعتبار سے جتنے بھی بڑھ جائیں نہ ان کے پیٹ بھرتے ہیں اور نہ ان کی ہوس ختم ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے طرح طرح کی فریب کاریوں اور چکر بازیوں سے کام لیتے اور قسما قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ چناچہ ہم آئے دن ایسی خبریں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ اس قماش کے لوگ دھوکہ بازی، سمگلنگ اور منشیات فروشی وغیرہ کے مختلف کالے دھندوں کے لیے کیا کیا جتن کرتے اور کس کس طرح نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور ایسا کرنے والے لوگ وہی ہوتے ہیں جو بالعموم لاکھوں نہیں کروڑوں اور اربوں کے مالک ہوتے ہیں۔ مگر وہ ہوی و ہوس کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ پس ایک ایمان و یقین کی قوت ہی وہ قوت ہے جو انسان کو ایسے تمام مہالک سے بچاتی اور اس کو قناعت پسند بناتی ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جو انسان کو مادیت کی ان تمام ہلاکتوں اور پستیوں سے اٹھا کر اور بچا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بھذہ النعمۃ۔ بہرکیف ایمان و یقین کی دولت سے محروم وہ لوگ جن کے نزدیک منہ اور معدہ ہی سب کچھ ہے وہ ہمیشہ ان مہالک میں ڈوبے رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
170 ۔ عذاب محیط کے آجانے کا ڈر : سو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ مجھے تمہارے بارے میں ایک ایسے ہولناک عذاب کا ڈر ہے جو تم لوگوں کو ہر طرف سے گھیر لے گا۔ اور ایسا کہ پھر اس سے بچنے اور بھاگ نکلنے کی کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہ ہوگی۔ تب تم لوگ رہ رہ کر افسوس کرو گے مگر بےوقت کے اس افسوس کا کوئی فائدہ تمہیں بہرحال نہ ہوگا۔ اس لئے میں تمہاری ہی بھلائی اور خیر خواہی کے لئے تم کو یہ دعوت دے رہا ہوں کہ تم آج حق کو قبول کرلو اور لوٹ آؤ راہ حق و صواب کی طرف۔ تاکہ اس طرح تم دنیا و آخرت کی سعادتوں اور کامرانیوں سے سرفراز و بہرہ ور ہو سکو۔ پس تم لوگ ناپ تول میں کمی کے اس جرم سے باز آجاؤ اور میں جو تم لوگوں کو اس وقت جس خوشحالی اور فارغ البالی میں دیکھ رہا ہوں تو اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تم لوگ اس طرح کی چکر بازیوں سے بچ کر حلال اور جائز ذرائع و وسائل پر اکتفا کرو۔ ورنہ میں تم لوگوں کے بارے میں ایک ایسے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں جو تم سب کو اپنے گھیرے میں لے لے گا۔ سو جو رفاہیت اور خوشحالی تم لوگوں کو آج میسر ہے اس کا طبعی اور فطری تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ دل و جان سے اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے قانون عدل و قسط کے فرماں بردار بنو اور اس کی ناقدری سے ڈرو اور بچو۔ ورنہ تمہاری یہی خوشحالی اور رفاہیت و فارغ البالی تمہارے عذاب کے لیے دیباچہ اور پیش خیمہ بن جائے گی اور وہ ہولناک عذاب تمہیں اس طرح گھیر لے گا کہ پھر کوئی اس سے کسی طرح نکل نہیں سکے گا۔ مجھے تمہارے اس موٹاپے اور پھیلاؤ کے اندر تمہاری ناگہانی موت اور ہولناک تباہی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ پس تم لوگ اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ تم اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہو۔ اور اس طور پر کہ پھر تمہارے لئے اس سے بچنے اور چھوٹ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہی نہ رہے۔
Ayah 11:85171 ۔ لوگوں کی چیزوں کو کم کرنے کی ممانعت : سو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ ناپ تول کو پورا کرو انصاف کے ساتھ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے نہ دو ۔ یعنی ان کے حقوق خواہ وہ حسی ہوں یا معنوی۔ افراد کے ہوں یا گروہوں، قوموں اور نسلوں کے (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو جس کا جو حق بنتا ہو وہ اس کو پورا پورا ادا کرو خواہ اس کا تعلق کیل سے ہو یا وزن سے یا عدد سے یا کسی اور اعتبار سے (اشیاءھم) کا عموم ان سب ہی صورتوں اور شکلوں کو عام اور شامل ہے۔ اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی دینی تعلیم کا ایک نہایت ہی اہم حصہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ قسط کے معنی عدل و انصاف کے ہیں۔ سو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم لوگ عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق لوگوں کو ان کے حقوق دو اور ان کی چیزوں میں کسی طرح کی کمی مت کرو اور جس کا جو حق بنتا ہے وہ پورے کا پورا اس کو دیا کرو۔ سو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کے بنیادی عنصر دو ہیں۔ ایک تو توحید خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کہ یہ حضرت حق جل مجدہ کا حق ہے جو کہ بندے پر عائد اور واجب ہونے والا سب سے پہلا، سب سے مقدم اور سب سے اہم اور بنیادی حق ہے۔ اور دوسرا عنصر آنجناب کی دعوت و تبلیغ کا یہ تھا کہ لوگوں کو ان کے حق پورے پورے دو جو کہ خلاصہ ہے بنیادی حقوق العباد کا۔ اور توحید کی ضد شرک ہے اور عدل و قسط کی ضد ظلم اور حق تلفی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ توحید اور عدل و قسط اصل اور اساس ہے تمام تر اصلاح کی، اور انہی دو بنیادی امور پر دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار ہے۔ اور اس کے برعکس شرک اور ظلم جڑ بنیاد ہے تمام شر و فساد کی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
172 ۔ فساد فی الارض کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور مت پھرو تم لوگ اللہ کی زمین میں فساد مچاتے ہوئے۔ اپنی بےدینی اور ان بدکرداریوں کے ذریعے جو کہ فتنہ و فساد کا مصدر و منبع ہیں کہ اس سے اخلاق تباہ ہوتے ہیں۔ معاشرے کا امن و سکون خراب ہوتا ہے اور نظام زندگی میں خلل اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کہ راہ حق سے اعراض و انحراف جڑ بنیاد ہے سب خرابیوں اور بربادیوں کی۔ جیسا کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ دنیا ساری میں اور خود ہمارے اپنے ملک کے اندر جو کہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا اور جس کو " اسلامی جمہوریہ " کہا جاتا ہے اس میں فتنہ و فساد، قتل و خونریزی، چوری و ڈکیتی، دنگے و فساد، لڑائیاں جھگڑے، گالی گلوچ، سر پھٹول وغیرہ کا دور دورہ ہے اور ان بد عملیوں کے نتیجے میں سیلاب و زلزلے، طوفان و آندھیاں اور قحط سالیاں اور کافروں اور مشرکوں کا تسلط وغیرہ وغیرہ کیا کیا عذاب ہیں جو ہم پر نازل اور مسلط ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں، مگر دنیا ہے کہ فساد کی اس اصل جڑ کی طرف توجہ ہی نہیں کر رہی۔ فالی اللہ المشتکی، وانا للہ وانا الیہ راجعون۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو فساد فی الارض سے روکا اور منع فرمایا کہ یہ سب کچھ ہلاکت و تباہی کا باعث ہے، اور فساد فی الارض کی جڑ بنیاد اور حضرت حق جل مجدہ کے دین سے منہ موڑنا اور اس کے اوامرو ارشادات سے اعراض و انحراف ہے۔ اگرچہ ایسے لوگ کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ کہ اس کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی اور ابدی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہم فخذ بنواصینا الی مافیہ حبک والرضا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وانت العزیز الوھاب۔
Ayah 11:86173 ۔ حلال کمائی باعث خیر و برکت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید فرمایا کہ اللہ کی بخشی ہوئی بچت تمہارے لیے بہرحال بہتر ہے کہ خیر و برکت بہرحال اسی میں ہے جو حلال اور پاکیزہ ہو، اور یہ اللہ پاک کا ایک محیر العقول اور پر حکمت نظام ہے جس میں غور و فکر کا بڑا سامان ہے، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بکری سال میں ایک دو بچے دیتی ہے۔ پھر بھی بکریوں کے ہر جگہ ریوڑوں کے ریوڑ ملیں گے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک بلی اور کتیا سال میں پانچ چھ بچے دیتی ہے یا اس سے بھی زیادہ۔ اور ان کے کاٹنے ذبح کرنے کا بھی کوئی سوال نہیں۔ مگر اس کے باوجود کتوں بلوں کے اتنے بڑے ریوڑ ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل سکیں گے۔ اس کی توجہیہ اس کے سوا آپ اور کیا کرسکتے ہیں کہ یہ سب کچھ اس قادر مطلق کے حکمتوں بھرے نظام کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ وہ اپنے بندوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ان کو حق و حلال چیزوں میں برکت و کثرت اور بہتات سے نوازتا ہے اور ان میں ان کے لئے برکتوں پر برکتیں رکھ دیتا ہے۔ اور اس کے برعکس جو چیز حضرت انسان کی ضرورت میں کام آنے والی نہیں ہوتی اور وہ حلال اور پاکیزہ نہیں ہوتی اس کو وہ برکت سے محروم کرکے اس کو مٹاتا اور تلف کرتا جاتا ہے۔ فسبحان اللہ جلت قدرتہ وعمت رحمتہ وحکمتہ۔ سو برکت ایک عظیم الشان لفظ اور وسیع الاطراف مفہوم ہے اور یہ چیز اللہ کے دیئے ہوئے حلال رزق کے ذریعے ہی مل سکتی ہے۔ اس لیے تم لوگ حرام سے بچو اور اللہ کی بخشی ہوئی بچت اور رزق حلال ہی پر اکتفاء کرو۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف بقیۃ اللہ (اللہ کی بچت) سے مراد وہ جائز نفع ہے جو حلال اور جائز تجارت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور حقوق واجبہ ادا کرنے کے بعد انسان کے پاس بچتا ہے۔ پس تاجر کو اپنے اس کاروبار میں جائز حدود کی پابندی کرنی چاہئے اور ناجائز ذرائع سے بچنا چاہئے اور اس کے مال میں اللہ اور اس کے بندوں کے جو حقوق بنتے ہوں ان کو بلا کم وکاست ادا کرنا چاہئے کہ اس طرح سے حاصل ہونے والا رزق حلال ہی اس کے لیے باعث خیر و برکت ہے۔ اور برکت ایک ایسا عظیم الشان لفظ ہے جس کے اندر خیر کے مختلف پہلو پائے جاتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید۔
174 ۔ ایمانداری کا تقاضا رزق حلال پر اکتفا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اللہ کی دی ہوئی بچت تم لوگوں کے لیے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو کہ ایمانداری کا تقاضا یہی ہے کہ تم لوگ حرام سے بچ کر حلال پر اکتفاء کرو اور اسی میں تمہارے لئے دارین کی بھلائی ہے۔ سو ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ رزق حلال ہی پر اکتفاء کرو ورنہ ایمانداری کا دعوی محض زبانی کلامی جمع خرچ بن کر رہ جائے گا۔ اور محض زبانی کلامی ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ایمانداری کے تقاضوں کے مطابق حاصل کیا ہوا نفع جو بقیہ اللہ (اللہ کی دی ہوئی بچت) کی حیثیت رکھتا ہے وہ ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مال سے کہیں بہتر اور بڑھ کر ہے اگرچہ وہ بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس میں دنیا اور آخرت دونوں کی خیر اور برکت ہوگی جبکہ اس کے مقابلے میں ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ مال دنیا میں خیر و برکت کے جوہر سے خالی و محروم ہوگا اور آخرت میں وہ دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا موجب بنے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
175 ۔ احساس ذمہ داری کا درس : سو حضرت شعیب نے احساس ذمہ داری کے طور پر ان لوگوں سے فرمایا اور میں تم لوگوں پر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔ کہ تم کو زبردستی منوا کر اور عمل کروا کر چھوڑوں۔ میرے ذمے تو تبلیغ حق ہے اور بس۔ اور وہ میں نے کردی۔ والحمد للہ۔ اس سے آگے منوا لینا اور راہ حق پر ڈال دینا نہ میری ذمہ داری ہے اور نہ ہی میرے بس میں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ذمے اور اسی کے حوالے ہے۔ میں نے اصل حقیقت تمہارے سامنے واضح کردی اور حق اور حقیقت کو پوری طرح کھول کر اور نکھار کر بیان کردیا۔ آگے تمہاری مرضی تم جانو اور تمہارا کام۔ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کرلی۔ اب اگر تم لوگ مانو گے تو تمہارا بھلا ورنہ خود تمہارا اپنا ہی خسارہ و نقصان۔ سو تم نے اگر میرے اس پیغام حق و صداقت کو مانا تو اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ میرا کام تو انذار اور تبشیر ہے اور بس۔ میں تم لوگوں پر کوئی نگران اور داروغہ نہیں ہوں کہ تمہارے ایمان نہ لانے کی پوچھ مجھ سے ہو۔ بہرکیف اس میں احساس ذمہ داری کا اہم اور عظیم الشان درس پایا جاتا ہے کہ انسان اپنے بارے میں خود دیکھ اور سوچ لے کہ میرا نفع و نقصان کس میں ہے اور اسی کے مطابق وہ اپنے اخذ و ترک کا فیصلہ کرے۔ اور اسی بنیاد پر حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے یہ اہم اور بنیادی تعلیم دی " استفت قلبک " یعنی تم خود اپنے دل سے فتوی پوچھ لیا کرو اگرچہ لوگ کچھ کہیں۔ سو احساس ذمہ داری اور قلب و ضمیر کی بیداری اصل اساس ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayahs 11:87–89176 ۔ قوم شعیب کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو معاندانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس دعوت حق کے جواب میں کہا کہ کیا تمہاری نماز تم کو یہی سکھاتی پڑھاتی ہے ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا (و پرستش) ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں ؟ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ دلیل و حجت تو کچھ نہیں۔ صرف چونکہ بڑے ایسا کرتے آئے بس ہم بھی کریں گے کہ جہاں انہوں نے ایک مکھی ماری تھی وہاں پر ہم بھی مکھی پر مکھی مارتے چلے جائیں گے اور بس۔ اور یہی منطق آج کا جاہل مسلمان پیش کرتا ہے کہ فلاں فلاں کام چونکہ ہمارے بڑے اور بزرگ کرتے آئے ہیں اس لئے ہم بھی کرتے ہیں اگرچہ دین کی تعلیمات مقدسہ میں اس کے لئے کوئی سند اور دلیل موجود نہ ہو۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ سو یہ عناد اور ہٹ دھرمی کی وہ شکل ہے جس کے بعد حق و ہدایت کی کوئی بات کام نہیں دے سکتی اور انسان اندھا بہرا بن کر رہ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے ان بدبختوں نے آپ کی پر خلوص دعوت کے جواب میں کہا کہ کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی پڑھاتی ہے کہ ہم اپنے ان معبودوں کی پوجا پاٹ کو ترک کردیں جن کو ہمارے بڑے پوجتے چلے آئے ہیں اور ہم لوگ اپنے مالوں کے اندر اپنے مرضی اور صوابدید کے مطابق عمل نہ کریں۔ کیا ہمارے اگلے پچھلے سب بیوقوف اور گمراہ تھے۔ بس ایک تم ہی تم دانا و بینا اور ہدایت یافتہ شخص رہ گئے ہو ؟
177 ۔ دین حق کے بارے میں مادہ پرستوں کا مشترکہ نقطہ نظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے مزید کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا اور ہم اپنے معاملات میں آپ کی اس مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مادہ پرست ذہنیت کی یہ پرانی تکنیک ہے جو آج بھی موجود ہے کہ ایسے لوگوں کے نزدیک دین و دنیا کے دائرے الگ الگ ہیں اور یہ کہ مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے ملکی، قومی اور حکومتی معاملات میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں، یورپ، امریکہ وغیرہ میں اسی مادہ پرستانہ ذہینت کا دور دورہ ہے اور اسلامی ملکوں میں بھی روشن خیالی کے دعویدار کچھ نام نہاد مسلمان اسی طرح کی آوازیں اٹھاتے رہتے ہیں، یورپ و امریکہ کے مادہ پرست ملکوں میں اس فریب کی تو گنجائش بھی ہوسکتی ہے کہ وہاں پر عیسائیت اور یہودیت کے نام سے جو دین آج پیش کیا جاتا ہے وہ آسمانی اور خداوندی دین ہے ہی نہیں۔ بلکہ وہ انسانی ہاتھوں کی اپنی کارستانی کا نتیجہ و ملغوبہ ہے۔ مگر دین حق اسلام کو اس پر قیاس کرنے والے دراصل اپنی عقلوں کا ماتم کرتے ہیں کہ اسلام تو خداوند قدوس کا عطا فرمودہ وہ نسخہ کیمیا اور دین کامل ہے جو قیامت تک انسانیت کی راہنمائی کے لئے نازل فرمایا گیا ہے اور جو زندگی کے ہر دائرے میں اور ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرتا ہے اور وہ عقائد سے لے کر اخلاق و اعمال تک، شخصی و خانگی زندگی سے لے کر جماعتی اور حکومتی دور تک، باطن سے لے کر ظاہر تک، دل سے لے کر اعضاء وجوارح تک، زندگی سے لے کر موت و قبر اور اس کے بعد تک، دنیا سے لے کر آخرت تک، ہر ہر گوشہ اور ہر ہر موڑ سے متعلق واضح احکام اور حکیمانہ تعلیمات سے نوازتا ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس کو انسان کا شخصی اور پرائیویٹ معاملہ قرار دینا اور اپنی خواہشات نفس کے لیے چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنا سراسر ظلم، فریب اور محرومی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف قوم شعیب کے ان مادہ پرستوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو یہی جواب دیا جو اسی فاسد ذہنیت کا عکاس و آئینہ دار ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
178 ۔ ابنائے دنیا کا دین حق کے بارے میں ایک سا رویہ : سو ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا تم ہی ایک عالی ظرف اور راست باز انسان ہو جو کہ ہمیں ایسی ایسی باتیں بتلاتے ہو۔ اور انہوں نے طنز و استہزاء کے طور پر کہا۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ طنز و استہزا نہ ہو بلکہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہو کہ آپ ایسے سمجھدار ہو کر ہمیں ایسی باتوں کی تلقین کیسے کرتے ہیں جو کہ نہ کرنے کی باتیں ہیں۔ یعنی پہلے تو تم ہمارے درمیان اچھی سمجھ بوجھ رکھتے تھے اب تم کو یہ کیا ہوگیا ہے اور تم یہ کیسی باتیں کرنے لگے ہو۔ (روح، معالم، ابن کثیر اور جامع البیان وغیرہ ) ۔ سو یہ وہی بات ہے جو کہ پیغام حق پہنچانے پر ہر پیغمبر کو کہی گئی۔ سو ابنائے دنیا کا حق کے مقابلے میں طریقہ و وطیرہ ہمیشہ ایک ہی طرح کا رہا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بہرکیف ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہاری ان باتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ تمہاری نگاہ میں اگلے پچھلے سب گمراہ تھے۔ بس ایک تم ہی دانا و بینا اور راہ یاب رہ گئے ہو۔ اور تمہاری ہی بات چلے اور تم ہی مطاع بن کر رہو ؟ یعنی نہیں ایسے نہیں ہوسکتا۔ اللہ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔
Ayah 11:90184 ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت و محبت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ بیشک میرا رب بڑا ہی مہربان، نہایت ہی محبت کرنے والا ہے۔ ایسا مہربان اور اتنی محبت کرنے والا رحیم ودود کہ عمر بھر کا گنہگار اور گناہوں میں سراپا ڈوبا ہوا انسان بھی اگر اس کے حضور سچے دل سے توبہ کرکے رجوع کرلے تو جل جلالہ اس کو بھی معاف فرما دیتا ہے اور اس کو سب گناہوں کی میل سے بالکل پاک و صاف کردیتا ہے اور جب وہ انسان کا خالق اور موجد ہے تو اس کی اس رحمت و مہربانی اور محبت و مودت کا جو اس کو اپنے بندوں سے ہے اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فایاہ نسال ان یغفرلنا ذنوبنا کلھا، دقھا وجلھا، اولھا واخرھا، سرھا وعلانی تھا، ما علمنا منھا وما لم نعلم، فمغفرتہ۔ جل وعلا۔ اوسع واکثر من ذنوبنا ورحمتہ۔ تبارک وتعالیٰ ارجی عندنا من عملنا۔ سو ایسے رب رحیم و ودود سے مایوس ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اصل چیز ہے اس کی طرف صحیح اور سچے دل سے رجوع ہونا اور ہمیشہ رجوع رہنا۔ وباللہ التوفیق۔ سو آیت کریمہ کے آخر میں حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی صفات کریمہ میں سے رحمت اور محبت کی دو صفتوں کا حوالہ دینے سے مقصود استغفار اور توبہ کی ترغیب و تشویق بھی ہے اور نہایت لطیف انداز میں اس کی قبولیت کی بشارت و خوشخبری بھی۔ سو تمہارے جرائم کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں جب تم لوگ صدق دل سے اس کی طرف رجوع کرو گے تو وہ تمہیں ٹھکرائے گا نہیں بلکہ معاف کرکے اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازے گا کہ وہ بڑا ہی مہربان نہایت ہی محبت کرنے والا ہے اور اتنا و اس قدر کی اس کی رحمتوں برکتوں اور عنایتوں کا کوئی کنارہ نہیں۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 11:91185 ۔ منکروں کے تکبر کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا کہ تمہاری بہت سی باتیں ہمیں سمجھ نہیں آرہی۔ سو اس سے ان منکر لوگوں کے تکبر اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک مظہر اور نمونہ سامنے آتا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ دل کی دنیا اور نیت اگر درست نہ ہو تو پیغمبر کی صاف وصریح بات بھی انسان کو سمجھ نہیں آتی۔ جیسا کہ قوم شعیب کے کفار کے اس جواب سے ظاہر اور واضح ہے۔ آج بھی اس حقیقت کا مشاہدہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے کہ اہل بدعت اور دوسرے اہل زیغ و ضلال اور اصحاب کبر و غرور کے سامنے عقل و نقل اور قرآن و سنت کے کتنے ہی ٹھوس اور واضح دلائل پیش کئے جائیں ان کے صفا چٹ دلوں میں ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو صدق نیت اور صفائے باطن اصلاح احوال کی اولین اساس اور بنیادی شرط ہے جس پر اصل دارومدار ہے۔ اللہ ہمارے بواطن اور ظواہر کو درست فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔ بہرکیف حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس مخلصانہ دعوت اور درد مندانہ پند و نصیحت اور موعظت کا جواب ان متکبر لوگوں نے پورے کبر و غرور اور رعونت کے ساتھ یہ دیا کہ تمہاری بہت سی باتیں ہمیں سمجھ نہیں آتیں۔ یعنی یہ بیکار اور مہمل قسم کی باتیں ہیں جو ہمارے لیے لائق اعتناء ہی نہیں۔ بھلا ہم سے بڑھ کر عقلمند اور دانا و بینا اور جہاں دیدہ اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو اس طرح ان بدبختوں نے دعوت حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اور اس کے قبول کرنے سے انکار کرکے اپنی محرومی اور شقاوت و بدبختی کو اور پکا کردیا۔ اور اپنے قول وقرار سے یہ واضح کردیا کہ اب ان کے اندر خیر کی کوئی رمق باقی نہیں رہی اور اب ان کا وجود اللہ کی دھرتی پر ایک ناروا بوجھ بن گیا ہے۔
186 ۔ شرک کی ایک خاصیت خالق کی بجائے مخلوق سے ڈرنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب سے کہا کہ ہم تمہیں اپنے درمیان بالکل کمزور دیکھتے ہیں۔ اگر ہمیں تمہارے خاندان کا پاس ولحاظ نہ ہوتا تو ہم یقینا تم کو کبھی کا سنگسار کردیتے سو یہ بھی مشرک انسان کی ایک عمومی اور مشترک نفسیات ہمیشہ رہی ہے۔ کل بھی تھی اور آج بھی ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتا مگر اس کی کمزور مخلوق بلکہ بالکل فرضی اور وہمی چیزوں سے ڈرتا ہے۔ چناچہ آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ شرک کے مارے ہوئے ہوی و ہوس کے ایسے بندے جب اللہ کے گھروں (مسجدوں) میں سے کسی گھر کے پاس سے گزر رہے ہوتے ہیں تو بالکل لاپرواہی سے ڈھول بجاتے۔ سیٹیاں مارتے اور ناچتے تھرکتے گزر جاتے ہیں۔ مگر جب ایسے لوگ کسی قبر، کسی جھنڈیوں والے درخت، یا کسی نام کی کسی بناوٹی " سرکار " کے پاس سے گزریں گے تو یکدم مؤدب ہوجائیں گے۔ سلام کرنے اور ہاتھ چومنے لگ جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ان کے مشرکانہ اوہام کے اندر اضافہ ہی ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو مشرک انسان اللہ سے نہیں ڈرتا اس کی مخلوق سے ڈرتا ہے۔ بلکہ ایسی فرضی اور وہمی چیزوں سے ڈرتا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ بہرکیف ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں تمہارے کنبے قبیلے کا پاس ولحاظ نہ ہوتا تو تم سے نمٹنا ہمارے لیے کچھ مشکل نہیں تھا، تم ہم پر کوئی گراں اور بھاری نہیں ہو۔ سو ایسے ہٹ دھرم منکروں سے کسی خیر کی کوئی توقع آخر کس طرح کی جاسکتی ہے ؟ اور ان کا بھلا کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے ؟ اور ان کی بگڑی آخر کیسے اور کس طرح بن سکتی ہے ؟
Ayah 11:92187 ۔ ڈرنے کا اصل حق صرف اللہ ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شعیب نے ان لوگوں سے کہا کہ کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے بھی زیادہ بھاری ہے ؟ کہ اس کا تو تمہیں خوف اور ڈر ہے مگر میرے اللہ کو تم لوگوں نے پس پشت ڈال دیا ؟ سو اس سے آنجناب نے واضح فرما دیا کہ اللہ ہی اس کا حقدار ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں اللہ کی کروڑوں رحمتیں اور برکتیں ہوں حضرت شعیب (علیہ السلام) پر اور تمام دعاۃ حق اور سارے انبیائے کرام پر۔ کیسے پرسوز انداز اور درد بھرے لہجے میں آپ نے کل کے ان مشرکوں کا نقشہ کھینچا ہے، جس کے آئینے میں آج کے کلمہ گو مشرکوں کا چہرہ بھی صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ بھی قوموں، قبیلوں، شرطیوں، پولیس مینوں اور ننگ دھرنگ ملنگوں اور خود ساختہ سرکاروں وغیرہ سے تو ڈریں گے مگر اللہ کی یاد اور اس کے خوف سے ان کے دل خالی ہوں گے۔ الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حالانکہ اللہ ہی اس کا حق دار ہے کہ بندے اس سے ڈرے اور ہر حال میں اور ہر وقت ڈرے، ایک تو اس لیے کہ خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور نفع و نقصان کا مالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور دوسرے اس لیے کہ خالق اور مالک ہونے کے اعتبار سے حق بھی اسی کا ہے کہ بندہ اسی سے ڈرے۔ بہرکیف حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی دھمکی کے جواب میں دکھ اور درد بھرے انداز میں فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو کیا تم اس حد تک گر چکے ہو کہ میرے کنبے قبیلے کا پاس ولحاظ تو تم لوگوں کو ہے مگر اللہ کی تم لوگوں کو کوئی پرواہ نہیں اور اس کو تم نے بالکل نظر انداز کرکے پس پشت ڈال دیا ہے ؟ سو یہ کیسی کم بختی اور کتنی بڑی محرومی اور بدنصیبی کا سامان ہے جو تم لوگ اپنا رہے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین۔
188 ۔ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ بیشک میرا رب تمہارے سب کاموں کو قابو میں کیے ہوئے ہے اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے۔ پس نہ تم لوگوں کا کوئی عمل اس کے احاطہ علم سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ قدرت سے۔ اس لئے تم لوگ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اور تمہیں اپنے کئے کا بھگتان تم لوگ بہرحال بھگت کر رہو گے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ پس تمہارے لیے بہتری اور بھلائی اسی میں ہے کہ تم لوگ صدق دل سے ایمان لاکر اسی کی طرف رجوع کرو اور اپنی خطاؤں اور تقصیرات کو معاف کرالو۔ قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑے۔ مگر بےوقت کے اس افسوس کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہو سوائے اس کے کہ تمہاری آتش یاس و حسرت اضافہ میں ہوتا رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو مشرک انسان اللہ سے نہیں ڈرتا اس کی مخلوق سے ڈرتا ہے۔ بلکہ ایسی فرضی اور وہمی چیزوں سے ڈرتا ہے جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ بہرکیف ان لوگوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں تمہارے کنبے قبیلے کا پاس ولحاظ نہ ہوتا تو تم سے نمٹنا ہمارے لیے کچھ مشکل نہیں۔ تم ہم پر کوئی گراں اور بھاری نہیں ہو۔ تو اس پر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو یہ تنبیہ سنائی تاکہ ان لوگوں کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں۔ یہ راہ راست پر آجائیں اور اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں۔