11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 11:31

وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَكٌ وَّ لَاۤ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْۤ اَعْیُنُكُمْ لَنْ یُّؤْتِیَهُمُ اللّٰهُ خَیْرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١ۖۚ اِنِّیْۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:31 in the Quran reader

اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں، اور نہ ہی میرا یہ دعوٰی ہے کہ میں کوئی فرشتہ ہوں،2 اور نہ ہی میں ان لوگوں کے بارے میں جن کو تمہاری نگاہیں حقارت سے دیکھتی ہیں، یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ ان کو کوئی بھلائی نہیں دے گا، اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو کہ ان لوگوں کے دلوں میں ہے، بیشک ایسی صورت میں، میں قطعی طور پر ظالموں میں سے ہوجاؤں گا،3

77 ۔ پیغمبر دنیاوی خزانوں کے دعویدار نہیں ہوتے : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ جو تم کو یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں کہ تمہارے پاس دنیاوی مال و دولت نہیں۔ جیسا کہ تمہارا کہنا (وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ ) کہ میں نے تو اس طرح کا کوئی دعوی کیا ہی نہیں۔ اعجوبہ پرست لوگوں کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کو خدا کے خزانوں کا مالک ہونا چاہیے۔ وہ ان میں سے جو چاہے اور جب چاہے صرف و خرچ کرے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایسے ہی جاہل مادہ پرستوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نہ میرے پاس خزانے ہیں اور نہ ہی میں نے اس طرح کا کوئی دعوی کیا ہے۔ خدا کے سب خزانے خدا ہی کے پاس ہیں۔ وہی جس کو جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو پیغمبر کے پاس دنیاوی مال و دولت کے خزانے نہیں ہوتے بلکہ ان کے پاس نور حق و ہدایت کے وہ خزانے ہیں جن سے وہ خلق خدا کی راہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ راہ حق و ہدایت سے سرفراز اور مالا مال ہوسکے۔ اپنے خالق ومالک کی معرفت اور صراط مستقیم کی آگہی سے سرفراز ہوسکے تاکہ اس کے نتیجے میں سعادت دارین سے سرشار ومالا مال ہوسکے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 78 ۔ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے : اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ تم لوگ مجھ سے عذاب کے وقت اور دوسرے امور کے بارے میں غیب کی خبریں دریافت کرو کہ نہ تو میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں نے کبھی ایسا کوئی دعوی ہی کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ جس کا تعلق میرے منصب نبوت و رسالت سے ہے اور وہ میں اللہ کی وحی کے مطابق تم کو بتلا دیتا ہوں۔ ورنہ عالم الغیب تو صرف اللہ پاک کی ذات ہی ہے۔ یہ آیت کریمہ صریح اور قطعی نص ہے اس بارے میں کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتا۔ اہل بدعت اور خاص کر ان کے ایک بڑے تحریف پسند نے اس آیت کریمہ کی تاویل بلکہ تحریف اور اپنے شرکیہ عقیدے کو اس کی زد سے بچانے کے لیے طرح طرح کی ڈبکیاں کھائی ہیں مگر بےسود و لاحاصل کہ دو اور دو سے پانچ کا دعوی آخر کس طرح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ (وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ ؟ ) ۔ بہرکیف پیغمبر نے ان بگڑے ہوئے لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ میں نے ان میں سے کسی بات کا بھی کبھی کوئی دعوی نہیں کیا تو پھر تم لوگ مجھ سے ایسی باتیں کیوں کرتے ہو ؟ اور اس طرح خود اپنی محرومی کا سامان کیوں کرتے ہو ؟ 79 ۔ پیغمبر نور نہیں بشر ہوتے ہیں : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید فرمایا اور نہ ہی میں نے تم سے یہ کہا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں کہ تم کو میری بشریت پر حرف زنی کی گنجائش ہو اور تم یوں کہہ سکو کہ (وَمَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا) یہ اچنبھا تم لوگوں کو تب ہوتا اور یہ اعتراض تم مجھ پر تب کرسکتے تھے جب میں نے اس طرح کا کوئی دعوی کیا ہوتا۔ اور تم سے اپنے لیے ایسی کوئی بات کہی ہوتی کہ میں کوئی نوری فرشتہ ہوں یا کوئی مافوق البشر ہستی ہوں۔ جب میں نے ایسی کوئی بات تم سے کبھی بھی نہیں کہی اور یقینًا نہیں کہی تو پھر تم مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کہتے اور کرتے ہو ؟ سو پیغمبر کوئی مافوق البشر اور نوری ہستی نہیں ہوتے بلکہ وہ بشر اور انسان ہی ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے انتخاب سے ان کو شرف نبوت و رسالت سے نوازتا ہے تو ان کا درجہ و مرتبہ ساری مخلوق میں سب سے بڑا ہوجاتا ہے۔ سو پیغمبر اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں لیکن اپنی صفت کے اعتبار سے وہ نور ہوتے ہیں۔ یعنی معنوی اور باطنی نور کہ ان کے ذریعے دنیا کو حق اور ہدایت کا وہ نور ملتا ہے جس کے سامنے دنیا کے تمام نور ہیچ ہیں۔ اور عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا تقاضا یہی ہے کہ وہ بشر اور انسان ہی ہوں تاکہ انسانوں کے لیے زندگی کے ہر دائرے میں نمونہ بن سکیں۔ اور وہ ہر طرح سے اور ہر حال میں ان کی اتباع اور پیروی کرسکیں۔ 80 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور اللہ تعالیٰ پوری طرح جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں کے اندر ہے۔ یعنی نور ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی وہ دولت اور حقیقی پونجی جو کہ اصل مطلوب ہے اور جس پر اصل دارومدار ہے مراتب و درجات کا۔ اور دلوں کی ان صفات و کیفیات کو وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ وہ علیم بذات الصدور ہے۔ اور اس کی شان ہے کہ اس پر کوئی بھی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ سو اللہ تعالیٰ کی بخشش وعطاء دلوں میں مخفی و مستور کیفیات ہی کی بناء پر متوجہ ہوتی ہے اور دلوں کی صلاحیت کو وہی وحدہ لاشریک پوری طرح جانتا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ نوازتا ہے۔ جو لوگ اپنے اعمال و کردار سے اپنی فطرت کو مسخ کردیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ وہ اس واہب مطلق کی عطاء و عنایت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہوتی ہے وہ اس کی عطاء و عنایت سے بہرہ مند و سرفراز ہوتے ہیں۔ سو ایسے میں اگر میں تمہارے مطالبے اور تمہاری ناز برداری اور دلداری میں ان بندگان صدق و صفا کو اپنے سے دور کردوں تو میں ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 81 ۔ سچے اہل ایمان کو اپنے سے دور کرنا ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ان منکر اور متکبر سرداروں کے اس مطالبے کو کہ ان غریب اہل ایمان کو اپنے سے دور کردو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو اپنے سے دور نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اگر میں ایسا کروں گا تو ظالموں میں سے ہوجاؤں گا کہ بلا کسی قطعی سند و ثبوت اور دلیل وبرہان کے کسی کے ظاہر کے خلاف اس کے باطن پر اس طرح حکم لگا دینا ظلم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ ہم تو ظاہر کے مکلف ہیں۔ باطن کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا (اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ) اور اگر تمہارا دعوی اور گھمنڈ یہ ہے کہ جب ان کو دنیا نہیں ملی تو یہ خدا تعالیٰ کے کسی شرف و فضل کے لائق اور اہل کس طرح ہوسکتے ہیں تو یہ تمہاری اپنی سمجھ کا قصور اور تمہارے اپنے دماغ کی خرابی کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ خداوند قدوس کے یہاں سے دنیا تو اہل و نااہل سب ہی کو مل جاتی ہے لیکن دین کی نعمت ہمیشہ ان ہی کو ملتی ہے جن کے باطن صاف اور جن کے دل سلیم ہوتے ہیں۔ اور دلوں کے حال کو وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے اور اسی کے مطابق وہ نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو سچے اہل ایمان و یقین کو اپنے سے دور کرنا ظلم و زیادتی اور باعث محرومی ہے کیونکہ ایسے بندگان صدق و صفا کو اپنے سے دور کرنے کا مطلب ہوگا اپنے آپ کو روشنی سے نکال کر اندھیروں کے حوالے کرنا جس کے ظلم ہونے میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 11:32

قَالُوْا یٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 11:32 in the Quran reader

اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ اے نوح تم نے ہم سے جھگڑا کرلیا، پس اب تم لے آؤ ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم ہمیں دے رہے ہو اگر تم سچوں میں سے ہو

82 ۔ منحوس قوم کے منحوس اطوار۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اے نوح تم نے ہم سے بہت جھگڑا کرلیا ہے۔ یہی حال ہوتا ہے ایسی بدبخت و منحوس قوم کا جس کے آخری انجام کا وقت آن پہنچا ہوتا ہے کہ وہ دلائل حق و صداقت میں غور و فکر سے کام لینے کی بجائے ان سے اس طرح منہ موڑ لیتی ہے اور وہ ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کی اس سطح پر اتر آتی ہے اور وہ حق کو واضح کرنے والے ایسے صاف وصریح دلائل وبراہین کو بھی جدال اور جھگڑا قرار دینے کی جراءت و جسارت پر اتر آتی ہے اور وہ عذاب موعود سے بچنے کی فکر کی بجائے اس کو لا دکھانے کا مطالبہ کرنے لگتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ان لوگوں پر ہر طرح سے حجت تمام کردی تو انہوں نے لاجواب ہونے کے بعد ماننے اور حق کو تسلیم کرنے کی بجائے یہ کہا اے نوح تم نے ہم سے جھگڑا اور حجت بازی بہت کرلی۔ اس لیے اب ایسی باتوں کی ضرورت نہیں۔ لہذا اب تم ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی دھمکی ہمیں دے رہے تھے تاکہ بات صاف ہوجائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:33

قَالَ اِنَّمَا یَاْتِیْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَآءَ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 11:33 in the Quran reader

تو اس پر نوح نے فرمایا کہ اس کو اللہ ہی لائے گا اگر (اور جب) اس نے چاہا، اور تم ایسے نہیں ہو کہ (اس کو) عاجز کردو،1

83 ۔ عذاب لانا اللہ ہی کے اختیار میں ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں : سو ان لوگوں کے مطالبہ عذاب کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اور " اِنَّمَا " کے کلمہ حصر کے ساتھ فرمایا کہ عذاب تو اللہ ہی لائے گا کہ یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے۔ وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی اور کب تک مہلت اور ڈھیل دی جائے۔ اور کب اور کس شکل میں اس پر عذاب کا کوڑا برسا دیا جائے۔ پیغمبر کا کام تو صرف خبردار کردینا ہوتا ہے اور بس۔ تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے اور جس نے ہلاک ہونا ہو وہ ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے۔ سو عذاب لانا پیغمبر کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کی شان ہے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے بلکہ اختیار کلی اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے۔ اور دوسری بات اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ جب پیغمبر اور حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی عذاب لانے پر قادر نہیں تو پھر کوئی پیر و بزرگ کسی پر کوئی عذاب کس طرح واقع کرسکتا ہے ؟ اور وہ بھی اپنی موت کے بعد اور قبر میں اتر جانے کے بعد۔ پس غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو سادہ لوح عوام کو ڈرانے کے لیے کہتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں بزرگ کے نام کی نذر نیاز نہ دی یا وہاں پر چڑھاوا نہ چڑھایا تو وہ تمہیں نقصان پہنچا دیں گے اور تمہاری گائے بھینس وغیرہ کو مار دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 84 ۔ اللہ کے عذاب کو ٹالنا کسی کے بس میں نہیں۔ والعیاذ باللہ : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ عذاب تو اللہ ہی لائے گا جب چاہے گا اور تم ایسے نہیں ہو کہ عاجز کردو۔ اس طرح کہ وہ عذاب نہ آنے دو یا اس سے کہیں نکل بھاگو۔ سو تم لوگوں کو خبردار کردیا گیا ہے تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے، اور جس نے ہلاک ہونا ہو وہ اپنی ذمہ داری پر ہلاک ہوجائے (لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ ) یہاں پر (اِنَّمَا) کا کلمہ حصر لاکر بتادیا گیا کہ یہ سب کچھ اللہ پاک ہی کی شان ہے۔ نبی کا اس میں نہ کوئی دخل ہوتا ہے نہ اختیار۔ سو پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ مختار کل۔ جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ بلکہ علم غیب کلی اور اختیار کلی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی شان اور اسی کا اختیار و اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی کو بھی عالم غیب اور مختیار کل ماننا شرک ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ اور پیغمبر کا کام صرف انذار وتبشیر اور تبلیغ حق ہوتا ہے اور بس۔ آگے عذاب دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوتا ہے۔ کہ وہی جانتا ہے کون کس لائق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 11:34

وَ لَا یَنْفَعُكُمْ نُصْحِیْۤ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَكُمْ١ؕ هُوَ رَبُّكُمْ١۫ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَؕ Open ayah 11:34 in the Quran reader

اور (تمہارے اس تکبر وعناد کی وجہ سے اب) میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، خواہ میں تم کو کتنی ہی نصیحت کرنا چاہوں، جب کہ اللہ کو تمہارا گمراہ کرنا ہی منظور ہو، وہی رب ہے تم سب کا، اور اسی کی طرف (بہرحال) لوٹ کر جانا ہے تم سب کو،2

85 ۔ سب کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری نصیحت سے تم لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا خواہ میں کتنی ہی کوشش کروں اگر اللہ تم لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ وہی رب ہے تم سب کا اور اسی کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے تم سب نے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ ہدایت وغوایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ اس کا دارومدار انسان کے قلب و باطن پر ہے۔ پس بدباطنی اور سوء اختیار محرومیوں کی محرومی اور تمام مفاسد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی کیفیت کو پوری طرح جانتا ہے اور وہ نور ہدایت سے انہی لوگوں کو نوازتا ہے جو اس کے لیے اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہیں۔ اور جب تم لوگ اس سے محروم ہو تو پھر تم کو ایمان و ہدایت کی دولت کس طرح مل سکتی ہے ؟ سو اپنی محرومی کے ذمہ دار تم لوگ خود ہو۔ پس بدنیتی اور سوء باطن محرومیوں کی محرومی اور تمام فساد و بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور صدق و اخلاص اور طلب صادق دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی و بہرہ مندی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور (والیہ ترجعون) کے اس مختصر سے جملے سے کئی اہم حقائق کو واضح فرما دیا گیا ہے مثلا یہ کہ سب کا رجوع اسی وحدہ لاشریک کی طرف ہوگا۔ کسی اور کی طرف نہیں۔ پس جن لوگوں نے اور طرح طرح کے سہارے گھڑ رکھے ہیں کہ ہمارا معاملہ ان کے سپرد ہے سب کچھ وہی کریں گے وہ سب بےبنیاد اور محض وہم و گمان کی تخلیق ہے۔ اسی طرح جن لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم کیڑے مکوڑوں کی طرح مر مٹ کر یونہی ختم ہوجائیں گے ان کا اس طرح سمجھنا بھی غلط ہے نیز رجوع یعنی لوٹنے کے لفظ میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ تم لوگ آئے بھی اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہو اور تم سب نے لوٹ کر جانا بھی اسی وحدہ لاشریک کی طرف ہے۔ نیز ترجعون کے صیغہ مجہول سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ تم چاہو یا نہ چاہو ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ 86 ۔ انجام اخیر اور مصیر محتوم تذکیر و یاد دہانی : سو انجام اخیر اور مصیر محتوم کی تذکیر و یاد دہانی کے طور پر ارشاد فرمایا کہ وہی وحدہ لاشریک رب ہے تم سب کا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو۔ سو تم چاہو یا نہ چاہو، مانو یا نہ مانو، ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ اور تم سب کو بہرحال اسی کی طرف لوٹنا اور اس کے یہاں حاضر ہونا ہے تاکہ تم اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ پاسکو۔ سو ہر کوئی خود دیکھ لے کہ وہ کل کی اس پیشی کے لیے کیا لیکر جارہا ہے ؟ (وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ) سو پیغمبر کی دعوت و نصیحت اور تذکیر و موعظت کا آخری مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرکے اپنی سبکدوشی کا اعلان کرتا ہے اور جھٹلانے والوں کو ان کے اس آخری انجام کے حوالے کردیتا ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں مقدر ہوچکا ہوتا ہے۔ سو اسی کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ان منکروں سے فرمایا کہ تم لوگ خداوند قدوس کے اس قانون کی زد میں آچکے ہو۔ اور تم لوگ اپنے ارادہ و اختیار اور عمل و کردار کے نتیجے میں اسی کے لائق اور سزاوار ہو کہ وہ تم کو اسی گمراہی کی راہ پر چلنے کے لیے چھوڑ دے جس کو تم نے خود اختیار کیا ہے۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی تمہارا رب ہے۔ اسی کے حضور تم لوگوں نے حاضر ہونا ہے اور وہاں پہنچ کر اپنے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 11:35–36

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 11:35 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس (قرآن) کو خود ہی گھڑ لیا ہے، تو (ان سے) کہو کہ اگر میں نے اس کو خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں اس جرم سے بری ہوں جو تم لوگ کر رہے ہو،

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور وحی کردی گئی نوح کی طرف اس بات کی کہ اب کوئی ایمان نہیں لائے گا آپ کی قوم میں سے مگر وہی جو ایمان لا چکے (اس سے پہلے) پس اب تم غم نہیں کھانا ان کے ان کرتوتوں پر جو یہ لوگ کرتے چلے آرہے ہیں

87 ۔ منکرین کو اپنے بارے میں فکر کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس قرآن کو خود گھڑ لیا ہے تو ان سے کہو کہ اگر میں نے اس کو خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں تمہارے ان جرائم سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔ پس تم لوگ مجھ پر اس طرح کے الزامات لگانے کی بجائے خود اپنی فکر کرو کہ ہر کسی کو اپنے کئے کا بھگتنان خود ہی بھگتنا ہوگا۔ کوئی کسی دوسرے کے کئے کا ذمہ دار و جواب دہ اور اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا کہ اصول یہ ہے کہ (اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم و فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ وہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ اور یہ بھی سوچو کہ جب اللہ تعالیٰ پر افتراء کا نتیجہ و انجام یہ ہے تو پھر میں اس جرم کا ارتکاب بھلا کس طرح کرسکتا ہوں ؟ پس ہمارے پیچھے پڑنے کی بجائے تم لوگ خود اپنے نفع و نقصان کے بارے میں سوچو اور اپنی بہتری کا سامان کرو۔ سو اس میں منکرین کو ایک بڑی اہم اور سبق آموز نصیحت فرمائی گئی ہے کہ دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے تم لوگ خود اپنی فکر کرو تاکہ اپنے انجام بد سے بچ سکو۔ ورنہ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یارب العالمین ویا ارحم الراحمین۔
Ayah 11:37

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور تم بناؤ ایک (عظیم الشان) کشتی ہماری نگرانی میں، اور ہماری وحی کے مطابق، اور ان لوگوں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا جو اڑے رہے اپنے ظلم (اور کفر و انکار) پر، کہ انہوں نے بہرحال غرق ہو کر رہنا ہے3

89 ۔ قوم نوح کے لیے غرقابی کے خدائی فیصلے کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب آپ ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کرنا کہ انہوں نے بہرحال اب غرق ہو کر رہنا ہے۔ سو اس سے صاف اور صریح طور پر قوم نوح کی غرقابی کے خدائی فیصلے کا اعلان کردیا گیا۔ اس لیے پیغمبر کو اس معروف شفقت کی بناء پر ان کے بارے میں ہدایت فرمائی گئی کہ اب آپ ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کرنا کہ اب ان کے لیے عذاب کا وقت آگیا اور اللہ کا عذاب جب آجائے تو پھر کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ سو اب یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے۔ اور اب ان کے بچنے کی کوئی صورت نہیں کہ ان کا جرم اب اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے اور یہ اپنے آخری انجام کے مستحق ہوچکے ہیں۔ اور اللہ کا عذاب۔ والعیاذ باللہ۔ جب آجائے تو پھر وہ ٹل نہیں سکتا۔ سو دستور الہی اور سنت خداوندی کے مطابق اب ان لوگوں کے لیے عدالت الہی کے ظہور کا وقت آگیا ہے اور فیصلہ خداوندی کے مطابق اب ان کو غرق کردیا جائے گا۔ پس آپ اپنے اور اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے بچاؤ کے لیے ہماری نگرانی میں اور ہماری ہدایات کے مطابق ایک کشتی بناؤ اور خبردار ان ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات نہ کرنا کہ انہوں نے اب بہرحال غرق ہو کر رہنا ہے کہ ان کی مدت مہلت ختم ہوگئی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو منکرین و مکذبین کو ڈھیل خواہ کتنی ہی ملے ان کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اس لیے اس طرح ڈھیل سے نہ ان لوگوں کو کبھی دھوکے میں پڑنا چاہیے اور نہ دوسروں کو۔ والعیاذ باللہ۔
Ayahs 11:38–39

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور (حسب ارشاد خداوندی) نوح اس کشتی کے بنانے میں لگ گئے، تو ان کی قوم کے سرداروں میں سے کوئی ان کے پاس سے گزرتا تو ان کا مذاق اڑاتا، نوح کہتے کہ اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو (کوئی بات نہیں، کہ کل) ہم بھی اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے جس طرح کہ تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

سو اس وقت تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو رسوا کر دے گا اس کو، اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ مسلط رہے گا اس کے سر پر،4

90 ۔ حق اور اہل حق کا مذاق اڑانا بدبختی اور ہلاکت کی نشانی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ارشاد خداوندی کے مطابق کشتی بنانا شروع کی ان کی قوم کے سرداروں میں سے جو بھی کوئی وہاں سے گزرتا ان کا مذاق اڑاتا۔ کہ پہلے نبوت کا دعوی تھا اب بڑھئی بن گئے ہیں۔ اور بنا بھی رہے ہیں کشتی۔ کیا اس کو خشکی پر چلاؤ گے ؟ سو جن لوگوں کی شامت آجاتی ہے ان کے اطوار ایسے ہی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مآل و انجام کو سوچنے اور داعی حق کی آواز پر لبیک کہنے کی بجائے اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ اور پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر وہ دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ اور اپنے اس آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں رہتی۔ سو حق اور اہل حق کا مذاق اڑانا بدبختی اور ہلاکت کی علامت و نشانی ہے۔ اور ایسوں کا انجام بڑا ہی ہولناک اور نہایت بھیانک ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 91 ۔ حق کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بہت برا۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) حق کا مذاق اڑانے والے ان بدبختوں سے کہتے کہ اگر آج تم لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو عنقریب ہم تمہارا مذاق اڑائیں گے جس طرح کہ تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو۔ یعنی جب تم لوگ اپنے کئے کرائے کا بدلہ پاؤ گے اور وہ عذاب تمہارے سامنے آجائے گا جو آج تمہاری نظروں سے اوجھل ہے۔ یعنی اس وقت تم کو اپنے پاس اس مذاق کا پورا بدلہ مل جائے گا اور اس وقت تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ حق کا مذاق اڑا کر تم لوگ اپنے لیے کس قدر ہولناک انجام کا سامان کر رہے تھے۔ سو حق کا مذاق اڑانا بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ( فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ ) کا مطلب یہ نہیں کہ جس طرح آج تم لوگ ہم پر ایسی پھبتیاں کس رہے ہو اسی طرح کل ہم بھی تم پر ایسی ہی پھبتیاں کسیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آج ہمارا یہ فعل تمہاری نگاہوں میں ہنسی کا سامان بنا ہوا ہے اسی طرح کل تمہارا انجام ہمارے لیے ایمان و اطمینان میں اضافے کا باعث ہوگا۔ آج تم ہنس رہے ہو کل تم رؤوگے اور ہم اللہ کی نصرت و امداد پر شاداں وفرحاں اور اپنے رب کے شکر گزار ہوں گے۔ اور ایسا بہرحال ہو کر رہے گا اور بالفعل ہو کر رہا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:40

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

(یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا) یہاں تک کہ جب آپہنچا ہمارا حکم اور ابل پڑا وہ تنور، تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ رکھ دو اس (کشتی) میں ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا، اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے اس کے جن کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے، اور ان سب لوگوں کو بھی (اس میں سوار کردو) جو ایمان لا چکے ہیں، اور ان پر ایمان بھی تھوڑے سے لوگ ہی لائے تھے،1

92 ۔ (التنور) سے مقصود و مراد ؟ : یعنی وہ " تنور " جو اس غرض کے لیے نشانی کے طور پر مقرر کردیا گیا تھا کہ عذاب آنے کے موقع پر اس تنور میں آگ کی بجائے پانی ابلنے لگے گا۔ اور بعض نے کہا کہ " تنور " سے یہاں پر مراد سطح ارض ہے۔ (روح، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ۔ " فار یفور فورا " کا معنی " ابلنا " اور " جوش مارنا " ہے سو ایک تنور کو اس کے لیے بطور علامت مقرر کیا گیا تھا کہ جب اس میں پانی ابلنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ بس عذاب شروع ہوگیا ہے۔ اس لیے اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس بات کی ہدایت فرمائی گئی کہ اب آپ اپنے خاندان کے خاص لوگوں کے ساتھ اس کشتی میں سوار ہوجائیں اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا بھی اپنے ساتھ لے لیں جن سے آئندہ آبادی چلے گی۔ اور تاکہ طوفان کے بعد عذاب سے بچ جانے والے لوگوں اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اسباب معیشت کا سامان ہوسکے۔ اور اللہ پاک کی دھرتی پھر اور نئے سرے سے آباد ہوسکے جیسا کہ بعد میں بالفعل ہوا۔ والحمدللہ جل وعلا سبحانہ وتعالیٰ ۔ 93 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے متعلق ایک خاص ہدایت کا ذکر وبیان : یعنی یہ کہ اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا رکھ لینے کی ہدایت فرمائی گئی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے نوح سے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا رکھ دو ۔ یعنی نر اور مادہ اور (زوجین) کے بعد (اثنین) کا لفظ تاکید اور مبالغہ کے طور پر ہے۔ (جامع البیان) " زوجین " میں سے ہر ایک کو " زوج " کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ (روح المعانی وغیرہ) (من کل) سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہوام و حشرات اور کیڑے مکوڑے سب اس میں شامل ہوں بلکہ یہ لفظ معہود ذہنی کے اعتبار سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ سو اس سے مراد وہی جانور ہیں جو اس وقت تک انسان کے تصرف میں آچکے تھے اور مختلف ضروریات میں کام آتے تھے۔ سو لفظ کل کے اس عموم سے مراد مطلق عموم نہیں بلکہ ان کا تعلق انہی اشیاء سے ہے جن کا تعلق انسان کی ضروریات زندگی اور ان کے اسباب معیشت و معاش سے ہو۔ اسی لیے حضرات اہل علم کا اس بارے میں ایک اصول عام اور قاعدہ کلیہ کی طور پر کہنا ہے کہ عموم کل شی ما یناسبہ " یعنی ہر شیء کے عموم سے مراد وہی مفہوم ہوتا ہے جو اس کے مناسب ہوتا ہے اور جس کو سیاق وسباق سے خود سمجھا جاسکتا ہے۔ 94 ۔ (الا من سبق علیہ القول) سے مراد ؟ : سو آپ کو فرمایا گیا کہ اپنے گھر والوں کو بھی اس میں بٹھا دو بجز ان کے جن کے بارے میں بات طے ہوچکی ہے۔ یعنی آپ کے اہل میں سے وہ لوگ اس میں شامل نہیں جن کے بارے میں اللہ کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے کہ انہوں نے ہلاک ہونا ہے۔ جیسے ان کی بیوی واعلہ اور بیٹا کنعان (جامع البیان وغیرہ) سو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ اس کشتی میں وہی سوار ہوئے اور نجات انہوں نے ہی پائی جو ایمان لائے تھے اور باقی اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے رہے۔ وہ سب غرقاب ہو کر ہمیشہ کے لیے فی النار والسقر ہوگئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو نجات کا ذریعہ ایمان ہی ہے اور کفر و شرک باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 95 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر تھوڑے سے لوگ ہی ایمان لائے تھے : سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان بھی تھوڑے سے لوگ ہی لائے تھے۔ یعنی صرف آٹھ شخص جن میں سے تین آپ کے بیٹے تھے۔ سام، حام اور یافث اور تین ان کی بیویاں۔ یہ قول قتادہ ابن جریر اور کعب القرظی وغیرہ کا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ وہ کل اسی (80) آدمی تھے۔ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ کا ہے۔ مگر طبری کا کہنا ہے کہ درست بات یہ ہے کہ اس کو تعیین و تحدید کے بغیر یونہی مبہم رہنے دیا جائے جس طرح کہ قرآن پاک میں بغیر کسی تحدید و تعیین کے ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، مدارک، جامع البیان وغیرہ) اور جب اس کی تعیین و تحدید سے کوئی خاص غرض بھی وابستہ نہیں اور قرآن پاک کی کسی آیت یا صحیح حدیث کی کسی روایت میں اس کی کوئی تصریح بھی نہیں تو پھر خواہ مخواہ ظن وتخمین کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ سو اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ نبی مختار کل نہیں ہوتا بلکہ مختار کلی کا ملک صرف اللہ پاک ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ورنہ ساڑھے نو سو برس تک دن رات کی محنت اور جہد مسلسل اور طرح طرح سے تبلیغ کرنے کے باوجود حضرت نوح (علیہ السلام) پر اتنی تھوڑی سی تعداد ہی ایمان کیوں لاتی اور آپ کی بیوی اور بیٹا تک دولت ایمان سے محروم کیوں رہتے ؟ اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کا بھی یہ حال ہے تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو اختیار کلی جیسے خدائی اوصاف کا مالک ہوسکے ؟ مگر آج کا کوڑھ مغز بدعتی ملاں ہے کہ وہ اس قدر واضح حقیقت کے باوجود اپنے ایسے شرکیہ عقائد سے باز نہیں آتا اور ان کے لئے وہ طرح طرح کے پاپڑ بیلتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس غرض کے لیے صاف وصریح نصوص میں تحریف تک سے کام لیتا ہے۔ مگر وہ اس سیدھی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں جو کہ عقل و نقل کے عین مطابق اور نصوص قرآن و سنت میں مصرح ہے۔ مگر برا ہو عناد ہٹ و دھرمی اور تعصب وغیرہ جیسی ان مہلک بیماریوں کا، جو انسان کو حق و ہدایت کے سمجھنے اور اپنانے سے محروم کردیتی ہیں اور وہ ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور کہا نوح نے (اپنے پیروکاروں سے) کہ سوار ہوجاؤ تم سب اس کشتی میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی، اور اس کا ٹھہرنا بھی بلاشبہ میرا رب بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

96 ۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے پیرو کاروں سے کہا کہ تم سب سوار ہوجاؤ اس کشتی میں اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی۔ بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ سو اس ارشاد سے اللہ ہی پر بھروسہ و اعتماد رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ہر حال میں چلنے میں بھی اور ٹھہرنے میں بھی۔ کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت حسن بن علی ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " جو کوئی کشتی پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد یہ دعا پڑھے گا وہ غرقابی سے امن میں رہے گا۔ (المراغی، جامع البیان اور معارف وغیرہ) ۔ سبحان اللہ۔ اسلام کی تعلیم کیا ہے اور آج کا کلمہ گو مشرک لوگوں کو کیا سکھاتا ہے ؟ وہ اسلام کی ان صاف وصریح نصوص اور واضح و مقدس تعلیمات و ارشادات کے برعکس ان کو طرح طرح کے شرکیہ نعرے سکھاتا، اپنی خود ساختہ سرکاروں کو پکارتا بلاتا اور اپنے نام نہاد مشکل کشاؤں کے نام جپتا اور اپنے قول و فعل سے انہی کو پکارنے کی تعلیم و تلقین کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس کشتی پر سوار ہونے کے بعد پہلا کلمہ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے منہ سے نکلا وہ یہی دعا تھی جس سے انہوں نے دنیا کو یہ درس عظیم دیا کہ اسباب و وسائل بجائے خود خواہ کتنی ہی اہمیت کیوں نہ رکھتے ہوں، مومن کا اصل سرمایہ اور بندہ کے لیے ذریعہ نجات حضرت حق جل مجدہ کی رحمت و عنایت ہے نہ کہ اسباب و وسائل۔ اس لیے مومن صادق کا بھروسہ و اعتماد اسباب پر نہیں بلکہ اسی مسبب الاسباب پر ہونا چاہئے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کی رحمت و عنایت اگر شامل حال ہو تو ٹوٹا ہوا تختہ بھی آدمی کے لیے سہارا بن جاتا ہے ورنہ جدید ترین آلات سے لیس بڑے بڑے دیوہیکل جہاز بھی سمندر کی بپھری ہوئی موجوں میں تنکوں کی طرح بہ کر غرقاب ہوجاتے ہیں اور سائنس اور جدید ترین سائنس کی سب کار فرمائیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں جیسا کہ ابھی کچھ ہی عرصہ قبل روس کی جدید ترین دیوہیکل ایٹمی آبدوز جس کے بارے میں ان کا دعوی تھا کہ یہ ناقابل شکست اور ناقابل غرق ہے۔ وہ ساری دنیا کے سامنے اپنے ایک سو اٹھارہ مایہ ناز سائنسدانوں سمیت ایسے عبرتناک انداز میں غرق ہوئی کہ ایک دنیا کی دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب کر رہ گئی۔ مگر غفلت کی ماری دنیا پھر بھی کوئی سبق نہیں لیتی الا ماشاء اللہ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو حفاظت اللہ ہی کی حفاظت ہے۔ اور مومن صادق کے ایمان و عقیدت کا تقاضا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں دل کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ وحدہ لاشریک پر رکھے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ احفظنا من کل سوء و شر و بکل حال من الاحوال فی الحیاۃ۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ (کشتی) چلی جا رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان، اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکار کر کہا جب کہ وہ دور ایک فاصلے پر تھا کہ اے میرے بیٹے سوار ہوجا تو ہمارے ساتھ (اس کشتی میں) اور مت ساتھ رہ تو ان کافروں کے (جنہوں نے غرق ہونا ہے)

97 ۔ نوح (علیہ السلام) کے اپنے بیٹے کو پکارنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ ایک کنارے پر کھڑا تھا اور اس سے کہا کہ ہمارے ساتھ سوار ہوجا۔ سو نوح کا اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار ہونے کے لیے پکارنا اور بیٹے کا انکار کرنا بھی اپنے اندر بڑے درسہائے عبرت رکھتا ہے۔ مثلا یہ کہ ہدایت پـیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ اور یہ کہ جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہیں وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔ اور یہ کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں ورنہ نوح کا بیٹا اس طرح کفر پر نہ مرتا۔ سبحان اللہ۔ یہ شفقت پدری بھی کیا چیز ہوتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اپنے نافرمان اور باغی بیٹے کو آخر وقت تک اس طرح پکارتے ہیں تاکہ وہ بچ جائے۔ لیکن نافرمان اور بدبخت بیٹا ہے کہ پھر بھی نہیں مانتا۔ یہاں تک کہ غرقاب ہو کر اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہا مگر اس کے باوجود بدعتی ملاں کا کہنا اور ماننا ہے کہ پیغمبر مختار کل ہوتا ہے۔ سو پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں ورنہ حضرت نوح کا اپنا حقیقی اور صلبی بیٹا اس انجام سے دوچار نہ ہوتا۔ پس مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کی صفت و شان میں دوسرا کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں ہوسکتا۔ اس میں کسی اور کو اس کا شریک ماننا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ۔ 98 ۔ نوح کے اپنے بیٹے کو کافروں کی معیت سے روکنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تو کافروں کے ساتھ مت رہ۔ بلکہ ایمان لاکر ان سے الگ ہوجا اور ان سے کٹ کر ہمارے ساتھ شامل ہوجا صدق دل سے۔ کیونکہ اصل رشتہ تو بہرحال دین و ایمان ہی کا رشتہ ہے۔ سو نجات سچ میں اور سچوں کے ساتھ رہنے میں اور سچوں کا ساتھ دینے میں ہے۔ اس لئے معیت ہمیشہ سچوں ہی کی اختیار کرنی چاہئے اور ساتھ ہمیشہ ایسے سچے اور پاکیزہ انسانوں کا دینا چاہئے جن کے سینے ایمان و یقین کے نور سے منور و معمور ہوں۔ اللہ سب کو نصیب فرمائے۔ سو ان لوگوں سے دور و نفور رہنا چاہئے جن کے دل کفران و نکران کی سیاہی میں گھر چکے ہوں کہ ان کا انجام ہلاکت و بربادی اور دائمی خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے اور تسلیم کرے یا نہ کرے حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ سلامتی کی راہ ایمان و یقین رکھنے اور ایمان والوں کی معیت ہی میں ہے۔ والعیاذ باللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید۔
Ayahs 11:43–44

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

تو اس نے جواب میں کہا کہ میں ابھی کسی ایسے پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں، جو مجھے بچا لے گا اس پانی سے نوح نے فرمایا آج کوئی بھی چیز اللہ کے حکم سے نہیں بچا سکے گی، مگر جس پر وہ خود ہی رحم فرمادے، اتنے میں حائل ہوگئی ان دونوں کے درمیان ایک موج، جس سے وہ ہوگیا غرق ہونے والوں میں سے،2

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور (ان سب کفار کی غرقابی کے بعد) حکم ہوا کہ اے زمین تو نگل لے اپنا پانی اور اے آسمان تو تھم جا، چناچہ خشک کردیا گیا وہ پانی، اور چکا دیا گیا معاملہ، اور ٹک گئی وہ کشتی کوہ جودی پر، اور کہہ دیا گیا کہ بڑی دوری (اور پھٹکار) ہے ظالم لوگوں کے لئے،

99 ۔ پسر نوح کا اپنے باپ کو کافرانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح کے اس کافر بیٹے نے اپنے باپ کی اس صدا و پکار کے جواب میں کہا کہ میں کسی ایسے پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں جو مجھے اس پانی سے بچا لے گا۔ سو یہ نمونہ ہے مشرک کی کوتاہ بینی اور مادہ پرستی کا کہ اس کی نگاہ ظاہر پر اور مادیات ہی میں اٹکی اور پھنسی رہتی ہے۔ اور اسی طرح طرح کے مظاہر اور مختلف نمونے ہر دور کی طرح آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور مادہ پرست انسان کی ساری توجہ اور پورا زور محسوسات اور مادیات ہی پر ہے جس سے آگے طرح طرح کے ہولناک اور تباہ کن مفاسد جنم لیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ہدایت وغوایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور ہدایت کی دولت اسی کے یہاں سے ملتی ہے اور وہ ملتی ہے طلب صادق پر اور طلب صادق اگر نہ ہو تو نوح کا بیٹا بھی اس سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔ اور دوسری طرف اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے ورنہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنا صلبی اور حقیقی بیٹا اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتا اور وہ بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس قدر شفقت بھری دعا اور دعوت کے باوجود۔ اور تیسری طرف اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اپنا ایمان اور عقیدہ اگر درست نہ ہو تو کسی بڑی اور بزرگ ہستی کا رشتہ بھی کوئی کام نہیں دے سکتا اگرچہ وہ بزرگ ہستی حضرت نوح (علیہ السلام) جیسی عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کی ہستی ہی کیوں نہ ہو۔ اور چوتھی طرف اس سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے۔ اس کے تقاضوں سے کوئی بھی مستثنی نہیں خواہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسی جلیل القدر ہستی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 11:45–47

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور (بیٹے کی غرقابی سے قبل) نوح نے اپنے رب کو پکار کر، عرض کیا کہ اے میرے رب میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ بھی سچا ہے، اور تو ہی ہے سب حاکموں سے بڑا حاکم،1

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

جواب میں ارشاد ہوا کہ اے نوح، وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں ہیں، پس تم مجھ سے اس بات کی درخواست نہ کرو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ مبادا کہیں تم جاہلوں میں سے ہوجاؤ،2

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

عرض کیا، اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تجھ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے کوئی علم نہ ہو، اور اگر تو نے میری بخشش نہ فرمائی (اے میرے رب ! ) اور مجھ پر رحم نہ فرمایا، تو میں ہوجاؤں گا خسارہ (نقصان) اٹھانے والوں میں سے،

102 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کے لیے دعا و درخواست کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکار کر عرض کیا کہ اے میرے رب میرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر اگرچہ آپ کے بیٹے کی غرقابی کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے مگر اس کا تعلق اس کی غرقابی کے قبل سے ہے۔ (المراغی، المنار، المعارف، التدبر، تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور، الفتوحات الالہیہ وغیرہ ذالک) ہم نے بین القوسین کے الفاظ بڑھا کر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ الحمد للہ۔ سو اس لحاظ سے اگرچہ بظاہر اس کا ذکر آیت نمبر 43 کے ساتھ ہونا چاہئے تھا لیکن اس کی اس تاخیر میں بلاغت کا یہ عظیم نکتہ مضمر ہے کہ نوح کا یہ بیٹا آپ کا بیٹا ہونے کے باوجود حق سے روگردانی کے باعث ایسا نابکار شخص بن گیا تھا کہ اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نے اس کے بارے میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کو اس وقت تک ذکر فرمانا بھی پسند نہ فرمایا جب تک کہ اس نابکار کی غرقابی کا عمل پورا نہ ہوگیا اور یہ اس لئے کہ نبی کا بیٹا ہونا جہاں انسان کے لیے ایک عظیم الشان بلکہ سب سے بڑا شرف ہے وہاں پر دوسری جانب یہ بڑی آزمائش بھی ہے جس میں ناکامی کا انجام بھی بڑا برا اور نہایت خوفناک ہوتا ہے۔ اور قاعدہ یہی ہے کہ آدمی جتنی زیادہ اونچائی سے گرتا ہے اتنا ہی اس کا حشر و انجام بھی برا اور ہولناک ہوتا ہے۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے کلام الہی کی بلاغت اور اس کی کی ان باریکیوں، نزاکتوں اور لطافتوں کے سو اس سے دو بڑے اہم درس ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ حق و ہدایت سے منہ موڑنے اور محروم رہنے والا انسان اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑا برا اور مبغوض و ممقوت انسان ہوتا ہے اگرچہ وہ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ والعیاذ باللہ۔ سو اصل چیز حسب و نسب نہیں، دین و ایمان اور اطاعت و اتباع ہے اور دوسرا بڑا درس اس سے یہ ملتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ماننا ہے۔ ورنہ حضرت نوح کا اپنا صلبی بیٹا اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتا سو حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹے سے تعلق رکھنے والا یہ قصہ ایسے تمام شرکیہ عقائد کی کھلی اور صریح تردید کرتا ہے۔ اختیار کلی کا مالک و مختار اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اہل بدعت نے جو طرح طرح کے مختار کل بنا رکھے ہیں وہ سب کے سب بےاصل اور بےحقیقت ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ 103 ۔ اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کے لیے دعا کے ضمن میں عرض کیا کہ اے اللہ بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے کہ تیرا فیصلہ اے میرے مالک، کمال عدل و انصاف اور علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ نہ اس میں کسی غلطی و کوتاہی کا کوئی امکان اور نہ ہی اس کے خلاف کسی کو اپیل کرنے کا کوئی یارا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور نہ ہی اس میں کسی نقص و قصور اور جانبداری کا کوئی خدشہ و احتمال۔ بلکہ اس وحدہ لاشریک کا فیصلہ ہر اعتبار سے کامل و مکمل اور عین حق و صواب پر مبنی ہوتا ہے۔ اور یہ اسی کی، اور صرف اسی کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر حاجت روا و مشکل کشا نہیں ہوتے کیونکہ جو حاجت روا و مشکل کشا ہوتا ہے۔ اس کو نہ کوئی حاجت پیش آتی ہے اور نہ وہ کسی مشکل سے دوچار ہوتا ہے۔ اور یہ شان صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کہ ہے۔ اور جو حاجت روا ہوتا ہے وہ خود کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔ اور جو مشکل کشا و حاجت روا ہوتا ہے وہ دعائیں نہیں کیا کرتا بلکہ وہ حکم دیتا ہے۔ اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی حاجت روا و مشکل کشا نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے حقیقی بیٹے کو بھی نہیں بچا سکے اور وہ بھی اپنی زندگی میں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو خرق عادت اور خلاف اسباب دوسروں کا حاجت روا اور مشکل کشا بن کر ان کے کچھ کام نہیں آسکے ؟ اور وہ بھی اپنے مرنے اور قبر میں اتر جانے کے بعد ؟ پس غلط کہتے ہیں اور شرک و گمراہی کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے طور پر طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں اور وہ انہی کو پوجتے پکارتے اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

ارشاد ہوا، اے نوح، اتر جاؤ، تم اس حال میں کہ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں تم پر بھی، اور ان سب گروہوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں، اور تمہارے بعد والوں میں کچھ گروہ ایسے بھی ہوں گے کہ انھیں ہم کچھ مدت تک تو سامان زندگی برابر بخشتے رہیں گے، مگر پھر (ان کے کفر وعناد کے سبب) ان کو پہنچ کر رہے گا ہماری طرف سے ایک بڑا ہی دردناک عذاب،

110 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی سے اترنے کا حکم و ارشاد اور برکات کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اتر جاؤ تم اے نوح اس حال میں کہ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں تم پر بھی اور ان سب گروہوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں۔ سو اس سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر برکات خداوندی کی صاف اور صریح طور پر بشارت دی گئی۔ کیونکہ ان سب کی حیثیت اس صالح بیج کی سی تھی جس میں کوئی نقص اور خامی نہیں ہوتی۔ چناچہ ان کو عطاء ہونے والی اسی سلامتی اور انہی برکات کا نتیجہ وثمرہ ہے کہ ان تھوڑے سے لوگوں سے نسل انسانی ایسی پھیلی کہ پوری روئے زمین پر چھا گئی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ (سَلٰمٌ عَلٰي نُوْحٍ فِي الْعٰلَمِيْنَ ) (الصافات : 79) بہرکیف جب طوفان گزر گیا۔ آسمان تھم گیا زمین سے پانی خشک ہوگیا۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی گئی کہ اب اتر جاؤ آپ جودی پہاڑ سے جس پر وہ کشتی جاکر اٹک گئی تھی۔ ہماری طرف سے عظیم الشان سلامتی اور ان طرح طرح کی برکتوں کے ساتھ جو آپ پر بھی ہوں گی اور ان امتوں پر بھی جو آپ کے ساتھ ہیں۔ اس سلامتی اور برکتوں کے سائے میں اب آپ اتر جاؤ اور (اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ ) سے یہ واضح فرمایا کہ آج آپ کے ساتھ اگرچہ گنتی ہی کے کچھ لوگ ہیں لیکن تمہارے رب کی رحمت اور اس کی عظیم الشان برکتوں کے سبب گنتی کے ان نفوس کے اندر بڑی بڑی قومیں اور ملتیں مضمر و پوشیدہ ہیں جو بعد میں ظہور پذیر ہوں گی۔ اور جو بالآخر ظہور پذیر ہوئیں اور پوری روئے زمین پر چھا گئیں۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اس کی رحمت و عنایت اور اس کی خیریت و برکات کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 111 ۔ اہل کفر و باطل کے ساتھ قدرت کے معاملے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے بعد والوں کے کچھ گروہ ایسے بھی ہوں گے جن کو ہم ایک مدت تک تو سامان زندگی برابر بخشتے رہیں گے مگر آخرکار ان کو دردناک عذاب پہنچ کر رہے گا۔ جو کہ کافر و مجرم اور باغی و سرکش ہوں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسے لوگ دنیا کے اس دار الامتحان میں متاع دنیا سے وقتی طور پر مستفید ہوتے رہیں گے کہ یہ دنیا نیک و بد اور مومن و مشرک سب ہی کے لیے ہے۔ اس میں اللہ پاک کسی کے کفر و شرک کی بناء پر اس کو رزق و روزی سے محروم نہیں کرتا بلکہ دنیا کے اس خوان نعمت سے سب ہی کھاتے پیتے اور مستفید و فیضیاب ہو رہے ہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ ( كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا) (بنی اسرائیل : 20) یعنی ہم تیرے رب کی عطاء و بخشش سے ان کی بھی مدد کئے جارہے ہیں اور ان کی بھی اور دنیا میں تیرے رب کی عطاء و بخشش کسی پر بند نہیں اور یہ تقاضہ ہے اس وحدہ لاشریک کے رب العالمین ہونے کا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور یہی تقاضہ ہے اس دنیا کے دار الابتلاء ہونے کا۔ جبکہ اصل فیصلہ آخرت کے اس جہاں میں ہی ہوگا جو کہ " دار الجزاء " ہے جس کے مطابق اہل کفر و باطل ہمیشہ ہمیش عذاب دوزخ میں مبتلا ہوں گے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اہل ایمان جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے اللہ نصیب فرمائے۔ اور محض اپنی شان کریمی سے نصیب فرمائے آمین۔ 112 ۔ اہل کفر و باطل کے لیے دردناک عذاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے کافر و منکر لوگوں کو آخرکار پہنچ کر رہے گا ایک بڑا ہی دردناک عذاب۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ (المراغی وغیرہ) سو ایسے لوگ دنیا میں سکون و اطمینان کی دولت سے محروم ہوں گے جبکہ اصل عذاب آخرت میں ہوگا۔ ان کے کفر و انکار اور بغاوت و سرکشی کے نتیجے میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دولت ایمان و یقین سے محرومی سب سے بڑی محرومی اور دارین کا خسارہ تمام مفاسد کی جڑ بنیاد ہے کہ اس سے انسان اس دنیا میں بھی طرح طرح کے مصائب و آلام جھیلتا ہے اور اس کے بعد آخرت کے اس اصل اور حقیقی جہاں میں وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف حضرت نوح (علیہ السلام) کو آگہی بخشی گئی کہ آئندہ ان کی نسل میں کچھ ایسی قومیں بھی اٹھیں گی جو دنیاوی زندگی کے اعتبار سے عروج پکڑیں گی اور ہم ان کو ایک خاص مدت تک مہلت بھی دیں گے لیکن آخرکار ان کے اعمال کی پاداش میں ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب پہنچ کر رہے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو کفر و انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور بڑا ہی ہولناک ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ آمین۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (قصہ) غیب کی ان خبروں میں سے ہے جن کی ہم وحی کرتے ہیں آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ورنہ) اس سے پہلے نہ تو آپ ان کو جانتے تھے اور نہ ہی آپ کی قوم، پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں کہ انجام کار (کامیابی) بہرحال پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے،3

113 ۔ پیغمبر کو غیب کی کچھ خبروں سے آگہی کا ذکر : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ غیب کی ان خبروں میں سے ہے جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں۔ سو کلمہ (من) یہاں پر تبعیضیہ ہے۔ پس پیغمبر کو اخبار و علوم غیب میں سے وہی کچھ دیا جاتا ہے جو آپ کے منصب کے لیے ضروری ہوتا ہے، نہ کہ کل غیوب۔ جس طرح کہ آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وزیغ۔ بہرکیف یہ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک واضح ثبوت ہے کہ آپ باوجود اس کے کہ آپ نے کسی انسان سے ایک حرف بھی نہیں پڑھا۔ غیب کی ان چیزوں سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں جبکہ آپ کے پاس ان کو جاننے کا دوسرا ذریعہ نہیں تھا سوائے وحی خداوندی کے۔ تو یہ اس بات کا ایک واضح اور قطعی ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے پاس وحی خداوندی آتی ہے۔ اور غیب کی اس طرح کی تمام خبریں آپ وحی ہی کے ذریعے بتاتے ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ 114 ۔ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک واضح ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ غیب کی ان خبروں میں سے ہے جن سے ہم آپ کو آگہی بخشتے ہیں وحی کے ذریعے۔ ورنہ اس سے پہلے نہ آپ ان کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم۔ پس یہ آپ کی صداقت و حقانیت کی ایک صریح اور واضح نشانی و علامت ہے کہ آپ نے دنیا کو ایسے عظیم الشان حقائق و وقائع اور علوم و معارف سے اس قدر بلیغ اور موثر انداز میں آگاہ فرمایا ہے، حالانکہ آپ نے اپنی زندگی میں کسی بھی انسان سے ایک حرف بھی کبھی سیکھا پڑھا نہیں تھا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ سو یہ نبی امی کا وہ بےمثال اور عظیم الشان معجزہ ہے جو اس آب و تاب اور شان و شوکت کے اور اس کمال کے ساتھ آپ کو ملا، اور پوری نوع انسانیت میں اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال کہیں بھی نہیں۔ بلکہ کہیں ممکن ہی نہیں۔ کہ آپ نے امی ہونے کے باوجود دنیا کو ایسے عظیم الشان اور بیمثال علوم و معارف سے نوازا ہے۔ جن سے دنیا تاقیامت مستفید و فیضیاب ہوتی رہے گی۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ 115 ۔ انجام کار کامیابی پرہیزگاروں ہی کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک انجام کار کامیابی بہرحال پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ حقیقت بہرکیف یہی ہے کہ آخری اور حقیقی کامیابی بہرحال انہی کی ہوگی۔ پس آپ مخالفین کی مخالفت اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر و استقامت ہی سے کام لیتے رہیں۔ کامیابی بہرحال آپ کے پیروکاروں ہی کی ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ پس آپ راہ حق و ہدایت پر ثابت و مستقیم رہیں۔ دعوت حق پر پکے رہیں۔ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں۔ ان کی ایذاء رسانیوں کی پرواہ نہ کریں۔ اور بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رکھیں کہ اللہ کافی ہے آپ کی کارسازی کے لیے۔ آپ کے دشمنوں سے وہ خود نمٹ لے گا۔ تمہارے مخالف اور دشمن ناکام رہیں گے اور انجام کار کی کامیابی متقی اور پرہیزگار لوگوں ہی کو ملے گی جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (وَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَدَعْ اَذٰىهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَفٰى باللّٰهِ وَكِيْلًا) (الاحزاب : 48)
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھی، (ہم نے رسول بنا کر بھیجا4) انہوں نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم، اللہ ہی کی بندگی کرو تم سب، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، (اور غیر اللہ کی بندگی میں تو) تم لوگ محض جھوٹ گھڑنے والے ہو،

116 ۔ حضرت ھود قوم عاد کے بھائی : یعنی ان کے قومی بھائی اور ان کے ہم قوم۔ کیونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم میں سے اور انہی کے ہم وطن تھے اور ہر پیغمبر کی بعثت کے سلسلے میں اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی سنت بالعموم یہی رہی ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی پیغمبر بھیجا گیا وہ انہی میں سے بھیجا گیا۔ تاکہ وہ ان کو انہی کی زبان میں اور انہی کے لب و لہجے اور انداز و اسلوب میں سمجھا سکے۔ اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا بھی ہے۔ اور اسی کو قرآن حکیم نے جابجا (اَخَاھُم) اور (مِنکُم) جیسے الفاظ و کلمات سے ذکر وبیان فرمایا ہے۔ سو اہل بدعت کا اس پر شور مچانا کہ فلاں شخص نے پیغمبر کو بھائی کہہ دیا اور اس طرح اس سے توہین کا ارتکاب کیا وغیرہ۔ تو یہ سب ان لوگوں کی اپنی جہالت اور ضد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ والعیاذ باللہ۔ ورنہ اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ پیغمبر اپنی قوم کا بھائی ہوتا ہے اور یہی عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے۔ اور اسی کی توضیح و تصریح قرآن و سنت کی بیشمار نصوص میں فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر قسم سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔ 117 ۔ غیر اللہ کی بندگی محض افتراء ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو تم سب اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں۔ اور غیر اللہ کی پوجا کرنے میں تم لوگ محض افتراء کرنے والے ہو اللہ جل جلالہ پر۔ جو تم نے اس کی ضعیف مخلوق میں سے طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں اور اس کے لیے تم لوگ طرح طرح کے مفروضوں اور خود ساختہ فلسفہ طرازیوں سے کام لیتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ ورنہ معبود برحق صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس کے سوا کسی اور کو اس کا شریک جاننا اور اس کو معبود قرار دینا نرا جھوٹ اور اللہ پر افتراء ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ کذب و افتراء کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم ! میں (تبلیغ کے) اس کام پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو بس اسی ذات (اقدس) کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے، کیا پھر بھی تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟1

118 ۔ منکروں کو عقل سے کام لینے کی دعوت و تحریک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اے میری قوم میں تم لوگوں سے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ بلکہ میں خالص اللہ کی رضا کے لیے اور تمہاری بھلائی کی خاطر تم کو یہ دعوت دے رہا ہوں۔ سو میں دعوت حق پر تم لوگوں سے کسی اجر و معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتا کہ تمہیں مجھ پر یہ الزام لگانے کا موقع مل سکے کہ یہ شخص تو محض اپنے مفاد کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ اور (اجرا) میں نکرہ تحت النفی واقع ہونے کے باعث مفید عموم ہے۔ یعنی میں کسی بھی قسم کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا۔ نہ ووٹ، نہ نوٹ، نہ صلہ نہ ستائش وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ جو بھی کچھ کہتا اور کرتا ہوں وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اور تمہارے فائدے کی خاطر کرتا ہوں کہ اس میں خود تم ہی لوگوں کا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ سو پیغمبر کی دعوت مخلصانہ اور خالصتا لوجہ اللہ ہوتی ہے۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ اس کو اپنانے میں بندوں ہی کا بھلا ہوتا ہے اور اس سے منہ موڑنے میں خود انہی کا نقصان۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔