Ayah 11:52119 ۔ اپنے رب سے بخشش مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے۔ اپنے گزشتہ جرائم کی۔ ایمان لاکر کہ وہ بڑا ہی بخشنہار ہے۔ سچی توبہ پر وہ سب ہی گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کہ اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ سو نجات کی راہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں اور خطاؤں کی اپنے رب سے معافی مانگے اور سچے دل سے مانگے اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑ لیا اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ مہیا فرمائے گا اور اس کو ہر غم سے کشائش نصیب فرمائے گا اور اس کو روزی وہاں سے عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔ سو اپنے رب سے بخشش کی دعا و درخواست میں خود بندے کا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید۔ بکل حال من الاحوال۔
120 ۔ رجوع الی اللہ کی تعلیم و تلقین : سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اور اللہ ہی کی طرف رجوع کرو تم لوگ آئندہ کے لیے ایمان و اطاعت کے ذریعے۔ سو تم لوگ رجوع اللہ ہی کی طرف کرو کہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے۔ اور اسی میں بندوں کا بھلا اور ان کا فائدہ ہے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی۔ اور طریقہ اس رجوع کا یہ ہے کہ ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی اطاعت کرو اور اس کی اولین شرط ایمان ہے۔ سچا پکا ایمان۔ اطاعت و بندگی والا ایمان۔ سو توبہ اور رجوع الی اللہ کے ذریعے بندہ اسی صراط مستقیم اور راہ حق پر واپس آجاتا ہے جو اس کے خالق ومالک نے اس کے لیے مقرر فرمائی ہے اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار اور بہرہ ور کرنے والی راہ ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اس کی خاص عنایات سے بہرہ مند و سرفراز ہوتا جاتا ہے اور اس کو بہتر سے بہتر کی طرف بڑھنے اور ترقی کرنے کی سعادت نصیب ہوتی رہتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔ جل جلالہ وعم نوالہ۔
121 ۔ رجوع الی اللہ باعث خیرات و برکات : سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اس پر اللہ تعالیٰ تو لوگوں کو خوب خوب بارشوں سے نوازے گا۔ جس سے تمہاری قحط سالی دور ہوجائے گی اور تمہارے لیے زمین سے طرح طرح کی فصلیں اور پیدواریں اگیں گی جن سے تم لوگ طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوؤگے اور تمہارے اندر خوشحالی اور فارغ البالی کا دور دورہ ہوگا۔ سو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی اور اس کی طرف رجوع وانابت اور اس کے دین حق کو صدق دل سے اپنانے سے آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی اس خالق ومالک کی طرف سے طرح طرح کی رحمتوں اور برکتوں سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے اور تجربہ اس کا شاہد عدل ہے فللہ الحمد رب العالمین۔
122 ۔ رجوع الی اللہ قوت میں اضافے کا ذریعہ : سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اس سے تمہاری جسمانی قوت و طاقت میں اضافے کے ساتھ تمہاری اولاد و نسل میں بھی اضافہ ہوگا۔ سو توبہ و استغفار اور حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ کی طرف صدق دل سے انابت و رجوع شاہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑا، اللہ پاک اس کو ہر غم سے آزادی اور ہر تنگی سے کشائش نصیب فرمائے گا۔ اور اس کو روزی وہاں سے عطا فرمائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوگا۔ من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ہم فرجا ومن ضیق مخرجا ورزقہ من حیث لا یحتسب۔ فارزقنا اللہم التوفیق لذالک والثبات علیہ حتی نلقاک وانت راض عنا بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف توبہ و استغفار اور رجوع الی اللہ طرح طرح کی خیرات و برکات سے سرفرازی کا ذریعہ اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور قوت پر قوت کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
123 ۔ دین حق سے منہ موڑنا سب سے بڑا جرم۔ والعیاذ باللہ۔ سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ مت پھرو مجرم بن کر اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد سے منہ موڑنا اور باغی و سرکش بن کر رہنا سب سے بڑا فساد اور سنگین جرم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح کے جرم سے محفوظ رکھے۔ اللہم فخذ بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو اللہ کے دین سے منہ موڑنا اور اس کے احکام کو توڑنا فساد فی الارض سب سے بڑا جرم ہے اگرچہ ایسے لوگ اپنے آپ کو بہت کچھ کہتے اور سمجھتے ہوں۔ کیونکہ فساد ضد ہے صلاح و اصلاح کی۔ اور وہ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہر چیز کو اس کے اصل موقع و محل میں نہ رکھا جائے جو اس کے لیے طبعی اور فطری طور پر مقرر ہے۔ اور کسی چیز کا اصل موقع و محل کیا ہے ؟ یہ ایسا سوال ہے کہ اس کا صحیح جواب حضرت خالق ومالک۔ جل مجدہ۔ کے سوا اور کوئی دے ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کس چیز کو اس نے کس غرض و مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اور اس کا اصل اور حقیقی موقع و محل کیا ہے۔ اس کے سوا دوسرا کوئی اس بارے صحیح طور پر کچھ کہہ سکتا ہی نہیں۔ جبکہ ابنائے دنیا اشیائے دنیا کے ظاہری اور مادی پہلو ہی کے اعتبار سے کچھ جان سکتے ہیں۔ اور وہ بھی ایک خاص حد تک اور بس۔ اس سے آگے وہ کچھ نہیں جان سکتے۔ نہ کسی چیز کی اصل اور حقیقت کے بارے میں اور نہ ہی اس کے نتیجہ و انجام کے بارے میں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ سو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کو اپنائے بغیر اصلاح احوال ممکن ہی نہیں۔ اور اس کا نتیجہ و انجام فساد اور بگاڑ ہے جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا اور آج تک برابر ہو رہا ہے۔ اور اس کے مظاہر اور نمونے یہاں اور وہاں جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آرہے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا کسی اور کو معبود ماننا یا اس کی اطاعت و بندگی سے اعراض و روگردانی برتنا سراسر فساد اور ہلاکت و تباہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا) (الانبیاء : 22) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:53124 ۔ قوم عاد کے عناد و انکار اور ان کی ہٹ دھرمی کا نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے پاس کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ اور ہم لوگ محض تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہی ہم تمہاری بات ماننے والے ہیں۔ یعنی ان سب کی فرمائش کے مطابق کوئی ایسا معجزہ جس کی بناء پر ہم ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ سو یہ ان کی ضد و ہٹ دھرمی اور اعجوبہ پرستی کا ایک مظہر ہے اور یہی چیز آج تک دنیا میں موجود ہے۔ اہل حق کی طرف سے اہل باطل کے سامنے کتنے ہی دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ پیش کردئے جائیں، مگر جنہوں نے نہیں ماننا ہوتا وہ مان کر نہیں دیتے۔ اور وہ طرح طرح کی کج بحثیوں سے کام لیتے ہیں۔ اور اس کے برعکس اگر کوئی ننگ دھرنگ ملنگ، مدہوش یا نیم بےہوش شخص مل جائے تو کتنے ہی ایسے ہوتے ہیں جو فورا اس کے آگے جھک جاتے ہیں اور پھر اس کی کرامتوں کے مصنوعی قصے بیان کرنے لگتے ہیں۔ پھر اس کو چھوتے، مس کرتے، ہاتھ پھیرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ اس کی رال چاٹتے ہیں۔ والعیاذ باللہ جل و علا۔ لیکن قرآن و سنت کی صاف وصریح تعلیمات مقدسہ اور نصوص قیمہ نہ ان کے جی کو لگتی ہیں اور نہ ان کے دل و دماغ میں اترتی ہیں۔ اور نہ ہی ایسے لوگ ادھر کوئی توجہ ہی دیتے ہیں۔ الا ماشاء اللہ۔ حالانکہ بزرگی و ولایت اصل میں نام ہی ایمان وتقوی کا ہے۔ جتنا انسان ان دونوں وصفوں میں ترقی کرتا جائے گا، اتنا ہی وہ درجات و مراتب ولایت میں آگے بڑھتا جائے گا، جیسا کہ سورة یونس کی آیت نمبر 62 تا نمبر 64 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اور جیسا کہ اسوہ رسول کریم ﷺ اور حیات صحابہ وتابعین سے ثابت و واضح ہے۔ بہرکیف ھود کی قوم کے ان بدبخت لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے اپنی کجی فطرت اور زیغ و ضلال طبیعت کی بناء پر یہی کہا کہ چونکہ آپ ہمارے پاس فرمائش کے مطابق کوئی معجزہ نہیں لائے اس لیے ہم نہ آپ پر ایمان لانے والے ہیں اور نہ ہی آپ کے کہنے کے مطابق اپنے خود ساختہ معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس سے انسان نور حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:54125 ۔ شرک اور مشرک کا ایک خاصہ غیر اللہ سے ڈرنا اور ڈرانا : سو ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کی اس دعوت حق کے جواب میں کہا کہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ سو مشرک اور مشرک کا یہی خاصہ ہے کہ وہ ہمیشہ غیر اللہ سے ڈرتا اور ڈراتا رہتا ہے۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ اہل حق کے مقابلے میں کلمہ گو مشرکوں کا آج بھی یہی حال ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کو اس طرح کے ڈراوے آج بھی دیتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے گیارہویں نہیں دی اس لئے اس کی بھینس مرگئی۔ فلاں شخص کو فلاں قبر والے نے یہ نقصان پہنچا دیا، فلاں کو گیارہویں والے پیر نے مار دیا وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ زندگی و موت دونوں قرآن و سنت کی تصریحات کے مطابق اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں اور اسی کی صفت و شان ہے کہ جس کو چاہتے زندگی بخشے اور جس کو چاہے موت سے ہمکنار کردے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر اس کے باوجود ایسے جاہلوں کا کہنا یہ ہے کہ فلاں بزرگ نے فلاں شخص کو یا فلاں چیز کو مار دیا۔ یا فلاں مرے ہوئے کو زندہ کردیا وغیرہ وغیرہ۔ اب ہر عقلمند سوچے کہ آج کے اس شرک اور کل کے اس شرک میں آخر کیا فرق ہے ؟ جو مشرکین عرب کرتے تھے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
126 ۔ مشرکوں سے اظہار براءت و بیزاری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم لوگ بھی اس بات کے گواہ رہو کہ میں ان تمام چیزوں سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں جن کو تم لوگ شریک ٹھہراتے ہو اللہ وحدہ لاشریک کا۔ یعنی تم لوگوں نے اگر حق کو نہ ماننے کا تہیہ کرلیا ہے اور تم اپنے کفر و باطل پر اڑ گئے ہو تو تمہاری مرضی۔ تم جانو اور تمہارا کام۔ میرا راستہ بہرحال تم سے الگ ہے اور میں تم سے اور تمہارے کفر و شرک سے قطعی طور پر بری و بیزار اور الگ ہوں۔ (لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ ) سو یہ اہل حق کی طرف سے اہل باطل کو آخری جواب ہے کہ اگر تم لوگ نہیں مانتے تو تمہارا راستہ الگ میرا الگ کہ جب تم نے ماننا ہی نہیں تو پھر تم سے بات کرنے کا اور تم کو منہ لگانے کا فائدہ ہی کیا ؟۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف جب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کے ان متکبر منکروں نے آنجناب کو یہ جواب دیا اور اپنے خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کی تاثیر کا ذکر کیا تو آپ کی غیرت توحید بھڑک اٹھی اور آپ نے ان کی بات کاٹ کر ان لوگوں کو قوت ایمانی سے بھرپور و لبریز یہ جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرکے کہتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان تمام چیزوں سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں جن کو تم لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔ سو اب یہ میرا کچھ بگاڑ کردکھائیں۔ جب ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں تو پھر تم ان کو خدا کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو۔
Ayah 11:55127 ۔ قوت ایمان و یقین کا ایک مظہر و نمونہ : کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان تمام لوگوں سے کہا کہ اب تم لوگ سب مل کر مجھ پر اپنا داؤ چلا لو اور مجھے ذرا برابر کوئی مہلت مت دو ۔ سبحان اللہ۔ عقیدہ توحید انسان کو کس قدر یقین و اعتماد اور طاقت و قوت سے سرشار کردیتا ہے کہ اس کی قوت کی بناء پر ایک بندہ خدا تن تنہا کس طرح کفر و باطل کی سب قوتوں کو اس طرح اس درجہ عزیمت و اطمینان سے للکارتا اور چیلنج کرتا ہے کہ تم لوگ جو چاہو میرے خلاف کرلو۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں جبکہ ایمان و یقین کی قوت سے محرومی کی صورت میں انسان ہر چیز سے، یہاں تک کہ فرضی اور وہمی چیزوں سے بھی ڈرتا ہے۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے فرضی اور وہمی حیلے وسیلے اپناتا اور جگہ جگہ جھکتا اور جھک مارتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمارے ایمان و یقین کو اور قوت بخشے۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف حضرت ہود (علیہ السلام) نے پورے جذبہ و جوش اور غیرت ایمانی کے ساتھ للکارتے ہوئے ان لوگوں سے کہا کہ میں تم لوگوں سے اور تمہارے اس شرک سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں جن کو تم اختیار کیے ہوئے ہو۔ سو اب تم اور تمہارے اس شرک سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں جن کو تم اختیار کیے ہوئے ہو۔ سو اب تم اور تمہارے یہ معبود سب ملکر میرے خلاف جو داؤ چلانا چاہتے ہو چلا لو اور مجھے ذرہ برابر کوئی مہلت مت دو ۔ تم لوگ اپنے ترکش کے آخری تیر تک چلا لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔ سو یہ شان ہوتی ہے قوت ایمان و یقین کی۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 11:56–58128 ۔ بندہ مومن کی قوت کا اصل راز اعتماد علی اللہ : سو حضرت ہود نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ یہ ہے بندہ مومن کی قوت کا اصل راز کہ اس کا بھروسہ و اعتماد ایک اللہ وحدہ لاشریک پر ہوتا ہے جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور کارساز و مشکل کشا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس طرح بندہ مومن صرف ایک ہی در کا سوالی ہوتا ہے یعنی وہ ہر جائی نہیں یکجائی ہوتا ہے۔ اور یکجائی ہونے کے اسی ایک وصف نے اس کو اس قدر قوت بخش دی ہوتی ہے اور اس کے باطن کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا ہوتا ہے کہ اس کو پھر کسی کی کوئی پرواہ باقی نہیں رہتی۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اپنی رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ اور نفس شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
129 ۔ ہر چیز کی باگ ڈور اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی میرے رب کے ہاتھ میں نہ ہو۔ وہ اس کو جدھر چاہے موڑ دے۔ سو ہر چیز کا نفع و نقصان سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ ہر جاندار کی چوٹی اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ تو پھر نفع و نقصان کا مالک اس کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور کس طرح اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب ہر جاندار کی پیشانی اسی کے قبضہ قدرت اختیار میں ہے تو وہی جس کو چاہے جدھے موڑ دے۔ جہاں تک چاہے اس کو ڈھیل دے۔ اور جب اور جہاں چاہے اس کو روک دے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بھروسہ و اعتماد کے لائق اسی وحدہ لاشریک کی ذات اقدس و اعلی ہے۔ جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی مایحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 11:59135 ۔ قوم عاد اور ان کے جرائم کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ہیں عاد جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ اور انہوں نے نافرمانی کی اس کے رسولوں کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی طرف اس کی شہرت کی بناء پر ایسے اسمائے اشارات سے اشارہ کرنا درست اور بلاغت کلام کا ایک معروف اسلوب ہے جو اشارہ قریب کے لیے موضوع ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ مشار الیہ وہاں موجود نہ ہو۔ پس اہل بدعت جو منکر و نکیر کے سوال قبر کے سلسلہ میں " ماذا تقول فی ھذا الرجل " الخ سے اپنے شرکیہ عقائد پر استدلال کرتے ہیں وہ سراسر باطل و مردود ہے۔ ورنہ ان لوگوں کو قوم عاد کے بارے میں بھی ایسے ہی شرکیہ عقائد رکھنے پڑیں گے کہ یہاں بھی اسم اشارہ قریب ہی کا استعمال ہوا ہے۔ تو اس بارے میں یہ لوگ کیا کہیں گے ؟ بہرکیف عاد کی اس بدبخت قوم کی طرف اشارہ کرکے دور حاضر کے منکروں کو درس عبرت دیا جارہا ہے کہ تم ان منکروں کے انجام سے سبق لو کہ ان لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی تو ایسے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو یہی انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو اپنے رب کی آیتوں کا انکار اور اس کے رسولوں کی تکذیب اور نافرمانی کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
136 ۔ تکذیب رسول کے جرم کی سنگینی : سو قوم عاد کے باب میں ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے تکذیب کی اللہ کے رسولوں کی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایک رسول کی تکذیب اور اس کی نافرمانی دراصل سب ہی انبیائے کرام کی تکذیب و نافرمانی ہوتی ہے۔ کیونکہ ان سب حضرات کی دعوت اور ان کا مشن ایک ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے یہاں پر قوم عاد کو سب رسولوں کی تکذیب کا مجرم قرار دیا جارہا ہے۔ حالانکہ ان کی طرف بعثت صرف حضرت ہود (علیہ السلام) کی ہوئی تھی اور انہوں نے تکذیب بھی انہی کی کی تھی۔ نیز اس قصہ سے یہ بھی عیاں اور واضح ہوگیا کہ حضرات انبیائے کرام۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ اور ان کے لائے ہوئے دین حق کی تکذیب کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ اور ان پر ایمان و یقین اور ان کی اطاعت و اتباع باعث نجات اور ذریعہ فوز و فلاح ہے کہ نبی کے ذریعے انسان کو حق و ہدایت کی وہ روشنی ملتی ہے جس سے اس کے لیے سعادت دارین کی راہیں روشن ہوتی ہیں۔ ورنہ وہ اندھیروں ہی میں رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جب حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی پیغام لے کر آئے تھے جو باقی انبیائے کرام لے کر آئے تھے تو ان کی تکذیب سب رسولوں کی تکذیب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
137 ۔ ظالم ظالم کے پیروکار۔ والعیاذ باللہ۔ سو قوم عاد کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے پیروی کی ہر بڑے ظالم ہٹ دھرم کی۔ سو یہ بھی سرکش انسان کی ایک طرح کی مشترکہ نفسیات رہی ہے جس کی نشاندہی کلام حکیم میں یہاں فرمائی جارہی ہے کہ انسانوں کی اکثریت عام طور پر ایسے ہی سرکش اور ہٹ دھرم عناصر کے پیچھے چلتی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ جس کا تجربہ دور حاضر کے انتخابات میں عام طور پر ہوتا رہتا ہے۔ اسی لئے تاریخ اسلام کے ایک جلیل القدر اور شعلہ نوا خطیب اور برصغیر ہند و پاک کے عظیم سپوت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔ نور اللہ مرقدہ۔ اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا کرتے تھے کہ ڈنڈے کے آگے اور پیسے کے پیچھے بھاگنے والی قوم، تم لوگ تقریریں تو میری سنتے ہو۔ اور جھوم جھوم کر سنتے ہو، مگر ووٹ تم دوسروں کو اور میرے مخالفوں کو دیتے ہو۔ اور یہی حال تھا اس قوم کا پہلے بھی اور یہ اس کا حال ہے آج اور اب بھی۔ الا من حفظہ اللہ۔ اور ظالم اور ہٹ دھرم لوگوں کے پیچھے چلنے کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی رہا۔ پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور سب کے لیے یکساں اور ہمیشہ ایک ہی رہا۔ پس پیروی ہمیشہ حق اور اہل حق ہی کی کرنی چاہیے اور اہل کفر و باطل سے اظہار براءت و بیزاری۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی مایحب ویرید۔
Ayah 11:60138 ۔ قوم عاد پر لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ۔ سو قوم عاد کے سنگین جرائم اور ان کے ہولناک انجام کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ پیچھے لگا دی گئی ان کے لعنت دنیا میں بھی اور قیامت کے دن بھی۔ ان کے اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کے جرم عظیم کی بناء پر کہ حق سے دوری اور محرومی کے باعث یہ لوگ دارین میں حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی رحمت و عنایت سے محروم ہو کر ابدی ہلاکت و تباہی کے عمیق اور ہولناک گڑھے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرگئے۔ جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تکذیب اور انکار حق کا جرم بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے محروم کرکے ابدی ہلاکت اور ہولناک گڑھے میں ڈالتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف وہ بدبخت لوگ جب اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرکے ایسے سرکشوں اور ہٹ دھرموں کے پیچھے لگ گئے تو اس ہولناک انجام کے مستحق بن گئے اور لعنت کا طوق ان کے گلے میں پڑگیا اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگئے۔ سو انسان کے لیے اس دنیا میں راستے دو ہی ہیں۔ ایک خدائے رحمان کا اور دوسرا متمرد شیطان کا۔ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرے۔ اور ان دونوں کے درمیان تیسرا راستہ کوئی نہیں کہ خدا بھی خوش رہے اور شیطان بھی ناراض نہ ہو۔ اور یہ بات بہرحال پیش نظر رکھنے کی ہے کہ ان دونوں میں سے پہلا راستہ دارین کی سعادت و سرخروئی کرنے والا راستہ ہے جبکہ دوسرا ہلاکت و تباہی کا راستہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 11:61139 ۔ حضرت صالح کی بعثت اور ان کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ تم بندگی کرو صرف اللہ ہی کی کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سو اس سے عقیدہ توحید کی خاص اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی کی دعوت دی۔ سو ہر پیغمبر کا اپنی قوم کے نام سب سے پہلا خطاب اور اولین پیغام اور سب سے اہم اور بنیادی پیغام یہی توحید خداوندی کا پیغام رہا۔ انہوں نے اپنی قوم کو اسی کی دعوت دی۔ سو اس سے عقیدہ توحید کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی کی دعوت دی۔ مگر افسوس کہ آج کا بدعتی ملاں اپنی جہالت اور اپنی اغراض خبیثہ کے حصول کے لیے توحید کے اسی عقیدہ صافیہ کو اوساخ شرک سے ملوث کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا اور اہل حق، اہل توحید کو بدنام کرنے اور ان کا راستہ روکنے کے لیے مختلف قسم کے شیطانی ہتھیار اپناتا اور طرح طرح کے پروپیگنڈے کرتا ہے۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان وعلیہ التکلان۔ قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کب تک۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا۔ بہرکیف حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو سب سے پہلے یہی دعوت دی کہ تم سب لوگ ایک اللہ ہی کی بندگی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ پس عبادت کی ہر قسم اور اس کی شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا نہ شریک وسہیم ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ یہاں پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھی اپنی قوم کا بھائی فرمایا گیا ہے۔
140 ۔ نعمت خلق و وجود میں غور و فکر کی دعوت : سو حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو نعمت خلق و وجود میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا کہ اسی نے پیدا فرمایا تم سب کو زمین سے۔ ایک تو اس طرح کہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی پیدائش مٹی سے ہوئی۔ اور دوسرے اس طرح کہ تمہاری تخلیق اس مادہ منویہ سے ہوتی ہے جو بنتا ہے خون سے۔ جو ست اور خلاصہ ہوتا ہے خوراک کا۔ اور وہ حاصل ہوتی ہے زمین سے۔ تو اس طرح بالواسطہ طور پر تمہاری پیدائش زمین ہی سے ہوئی۔ سبحان اللہ۔ ذرا غور تو کرو کہ کس عجیب و غریب اور پر حکمت نظام کے تحت وہ قادر مطلق تمہاری تخلیق فرماتا ہے اور تم کو کہاں سے کہاں پہنچاتا اور کیا سے کیا بناتا ہے۔ پھر بھی اس عزیز و رحیم رب قدیر۔ جل وعلا۔ کے پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر تم اس کے مبعوث فرمودہ انبیاء و رسل کی تکذیب کرتے ہو ؟ سو ذرا سوچو کہ ہوی و ہوس کی اس باغیانہ روش کو اپنانا کس قدر ظلم و بےانصافی ہے ؟ اور اس کے باعث تم لوگ کہاں سے گر کر کہاں پہنچ رہے ہو۔ اور جب تمہاری تخلیق و انشاء کے ان تمام مراحل میں سے کسی بھی مرحلے میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے آگے جھک جائے اور جھکا ہی رہے۔ یہی اس کے شان عبدیت و بندگی کے لائق اور اس کا تقاضا ہے۔ اور اسی میں اس کا بھلا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
141 ۔ دنیاوی تعمیر و ترقی بھی اللہ تعالیٰ ہی کی توقیق و عنایت کا نتیجہ : سو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے مزید فرمایا کہ اسی نے تم کو بسایا اور آباد کیا اس زمین میں اور تم لوگوں کو اس کی تعمیر و ترقی میں لگا دیا۔ کہ تمہاری زیست کے لیے اس میں طرح طرح کے سامان اور اسباب و وسائل بھی تخلیق فرمائے اور تمہیں ان سے فائدہ اٹھانے کی بیشمار صلاحیتیں بھی بخشیں۔ تو جب پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور زندگی گزارنے کے سامان بخشنے والا بھی وہی ہے تو پھر عبادت و بندگی اس کے سوا اور کسی کی کس طرح جائز ہوسکتی ہے ؟ (فانی تؤفکون) پھر اسی سے تم لوگ ذرا یہ بھی سوچو کہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ تم سے ان گوناگوں نعمتوں کے بارے میں کبھی پوچھ نہ ہو۔ سو کائنات کی اس کھلی کتاب میں پھیلے بکھرے ان نشانہائے قدرت سے ایک طرف تو توحید باری۔ عز اسمہ۔ کے کھلے، واضح اور روشن دلائل ملتے ہیں اور دوسری طرف اس سے یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان کے لیے اور انسان اپنے رب کی عبادت و بندگی کے لیے ہے۔ اور اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ قیامت کے روز حساب بہرحال قائم ہونے والا ہے تاکہ انسان سے ان عظیم الشان اور جلیل القدر نعمتوں اور ان کی قدر دانی کے بارے میں پوچھ ہو۔ اور حق نعمت ادا کرنے والوں کو جنت کی سدا بہار نعمتوں سے نوازا جائے اور کفران نعمت کا ارتکاب کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب الیم میں ڈالا جائے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوسکیں۔ سو کائنات کی اس عظیم الشان کھلی کتاب میں توحید خداوندی، مقصد حیات انسانی اور ضرورت قیام قیامت کے تینوں اہم اور بنیادی مسائل کے لیے کھلے دلائل و برائین موجود ہیں۔ مگر یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو کھلی آنکھوں سے دیکھتے اور ٹھنڈے دلوں سے سوچتے اور غور کرتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ " استعمر " کا معنی ہوتا ہے کہ کسی کو کسی کام کی اصلاح و تعمیر میں لگا دیا۔ سو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم لوگوں کو جو دنیاوی تعمیر و ترقی نصیب ہوئی ہے یہ بھی خداوند قدوس ہی کی رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے کہ اسی نے تم لوگوں کو اس کا موقع بخشا اور تمہیں ان قوتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ جن کی بدولت تم لوگ یہ کارنامے انجام دینے کے قابل ہوئے ہو۔ سو اس پر اترانے اور تکبر کرنے کی بجائے تم لوگوں کو اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ پس تم لوگ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور سچے دل سے اس کی طرف رجوع کرو کہ یہی طریقہ ہے سعادت دارین سے سرفرازی کا۔ وباللہ التوفیق۔
142 ۔ اللہ کے حضور رسائی کے لیے خود ساختہ وسیلوں کی ضرورت نہیں : سو قریب اور مجیب کی ان دو صفتوں سے ایک مشرکانہ فلسفہ اور شرکیہ مغالطے کی بیخ کنی فرما دی گئی۔ سبحان اللہ۔ اس ارشاد ربانی سے اس شرکیہ مغالطے کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جو گزشتہ قوموں میں بھی رہا اور آج کے کلمہ گو مشرکوں میں بھی موجود ہے کہ دیکھو ناں جی، تم دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس براہ راست خود نہیں پہنچ سکتے۔ اور اگر پہنچ بھی جاؤ تو تمہاری وہاں پر کوئی شنوائی نہیں ہوتی جب تک کہ تم کوئی واسطہ اور وسیلہ نہ پکڑو۔ تو پھر اللہ تعالیٰ تک تم براہ راست کیسے پہنچ سکتے ہو ؟ لہذا مابدولت کا یا فلاں سرکار کا واسطہ پکڑ لو۔ تب کام بنے گا، ورنہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور جاہل مسلمان فورا اس طرح کے مغالطوں میں گرفتار ہو کر جگہ جگہ جھکتا اور طرح طرح سے ذلیل ہوتا ہے۔ اور پھر فخریہ طور پر یہ کہتا ہے کہ ہم نے فلاں سرکار کا لڑ پکڑ لیا ہے۔ اب ہمیں کسی کی کیا پرواہ۔ ہمارے سارے کام سرکار خود ہی کرلیں گے۔ ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے۔ وہ ہماری سنتا نہیں اور ان کی رد نہیں کرتا وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کے لیے ایسے لوگوں نے طرح طرح کی " سرکاریں " بھی ازخود گھڑ رکھی ہیں۔ " کانواں والی سرکار "۔ " بلیوں والی سرکار "، " کتوں والی سرکار " اور " کمبل والی سرکار " وغیرہ وغیرہ۔ اسی لئے ایسا بگڑا ہوا انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کو پکارنے کی بجائے اس کی عاجز مخلوق میں سے ہی کسی کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے پکارتا ہے۔ اور وہ اعلانیہ کہتا ہے " یا علی مدد " یا غوث الاعظم دستگیر "، " یا خواجہ اجمیری پار لگا دی کشتی میری " اور " یا بری کردے کھوٹی کو کھری " وغیرہ وغیرہ اور اس طرح کے شیطانی مغالطوں اور مفروضہ قیاس آرائیوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ ان میں حضرت حق جل مجدہ کو جو کہ خالق کل مالک مطلق اور ہر چیز پر قادر ہے، اس کو اس کی عاجز مخلوق پر قیاس کیا جاتا ہے جو کہ جڑ بنیاد ہے آگے کئی طرح کی خرابیوں اور مختلف قسم کے مفاسد کی۔ اسی لیے قرآن پاک میں ازخود اللہ پاک کے لئے مثالیں گھڑنے سے صاف اور صریح طور پر منع فرمایا گیا ہے کہ انسان جو بھی کوئی مثال پیش کرے گا۔ وہ لامحالہ مخلوق ہی کی ہوگی کہ انسان جتنا بھی اونچا ہو وہ بہرحال مخلوق ہی ہے۔ جب کہ خدا تعالیٰ اس سے وراء الوارا ہے کہ وہ خالق ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ چناچہ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے (فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ ) (النحل : 74) پس تم لوگ از خود اللہ کے لیے مثالیں مت بیان کرو " اور یہاں پر " قریب " اور مجیب کی دو صفتیں یکجا ذکر فرما کر ان شرکیہ عقیدوں و مغالطات کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی کہ حق تعالیٰ شانہ کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس نہ کرو کہ وہ تو تمہارے قریب ( اور شہ رگ سے بھی زیادہ قریب) ہے۔ اور وہ مجیب بھی ہے کہ ہر کسی کی سنتا اور قبول کرتا ہے بشرطیکہ عرض صحیح طریقے سے پیش کی گئی ہو۔ جس کی تفصیل کتاب و سنت میں موجود ہے۔ اور الحمد للہ راقم آثم نے اس ضمن میں " کتاب و سنت کی مقدس دعائیں " کے نام سے ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے۔ جو عرصہ سے چھپ کر شائع بھی ہوچکی ہے۔ اس میں اللہ پاک کے فضل و کرم سے دعا کے موضوع پر ایسی جامع اور عمدہ بحث کی گئی کہ جو اردو زبان میں شاید ہی اس طرح کی کسی ایک کتاب میں اور اس جامعیت کے ساتھ موجود ہو۔ من شاء فلیراجع الیہ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں یہ درس دیا گیا ہے اور واضح طور پر اور دو ٹوک الفاظ میں دیا گیا ہے کہ نہ تو تمہارا رب کہیں دور ہے کہ اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تم کو واسطوں اور وسیلوں کی ضرورت پڑے اور نہ ہی وہ دنیاوی بادشاہوں کی طرح ہے کہ سفارشوں اور واسطوں کے بغیر کسی کی دعا و درخواست سنے ہی نہ بلکہ وہ " قریب " بھی ہے اور " مجیب " بھی ہر کسی کی سنتا بھی ہے اور بلا واسطہ ہی سنتا ہے۔ اور قبول بھی فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس لیے ازخود واسطے اور وسیلے گھڑنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی یہ جائز ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس اس کو براہ راست اور ویسے پکارو جیسا کہ اس کے دین نے سکھایا، بتایا ہے۔
Ayah 11:62143 ۔ ابنائے دنیا کی مادہ پرستانہ ذہنیت، اور راقم آثم کا خود اپنے متعلق ایک سبق آموز قصہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کے سرداروں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ تم تو اس سے پہلے ہماری امیدوں کا مرکز تھے کہ تم کل قوم کی لیڈر شپ سنبھالو گے اور ان کی سیادت و قیادت سے سرفراز ہوؤگے اور ہمارے درمیان بڑا نام پیدا کرو گے۔ مگر تم نے یہ کیا کیا کہ ایک نئی بات کہہ کر اور ہمیں اپنے باپ دادا کے طریقوں سے ہٹانے کا پروگرام پیش کرکے ہماری ان ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ سو قرآن حکیم نے اس کوتاہ نظر انسان کی ایک ایسی نفسیات کی نشاندہی فرمائی ہے جو کہ اس میں ہمیشہ پائی گئی ہے۔ کل بھی تھی اور آج بھی ہے۔ اور اس کا مظاہرہ اپنی کامل شکل میں خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد ﷺ سے بھی ہوا کہ بعثت اور اعلان نبوت سے پہلے جو لوگ آپ کی دیانت و امانت اور صدق و صفا پر متفق اللسان تھے۔ اور آپ کو وہ " صادق " اور " امین " کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے، اعلان نبوت اور پیغام توحید سنانے کے بعد وہ سب کے سب آپ کے مخالف ہوگئے۔ اور انہوں نے آپ کو ساحر، مجنوں اور شاعر وغیرہ کیا کچھ نہیں کہا، اور کون کون سی تکلیف آپ کو نہیں پہنچائی۔ اور یہی حال آج کے ابنائے دنیا کا ہے کہ جو بھی ان کو مادیت اور مادہ پرستی سے متعلق سبز باغ دکھائے وہ ان کے یہاں بڑا لائق، قابل، ہونہار، " مَرجُوًّا " وغیرہ سب کچھ ہے۔ مگر جو ان کو دینداری اور خدا خوفی کی طرف بلائے اور قبر و آخرت اور اپنے دائمی انجام کی یاد دہانی کرائے وہ ان کے یہاں بیکار اور ازکار رفتہ انسان ہے۔ پھر دین کے نام سے بھی ان کو جو کوئی من گھڑت قصے کہانیاں سنائے، من گھڑت افسانے بیان کرے، اور گا گا کر انہیں ڈوڑھے اور مرثیے سنائے وہ ان کے یہاں ٹھیک اور قابل قبول اور لائق اعتناء ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے ان کا کہنا ہوتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے۔ واہ کیا سریلی آواز اور کیسا عمدہ بیان ہے۔ اور کیا دل لگتی باتیں کہتا ہے۔ صلح کل، امن پسند اور سب کو خوش رکھنے والا انسان ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اگر کوئی قرآن و سنت کی نصوص سنائے اور مسئلہ توحید بیان کرے، کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے لگے، حق و باطل کھول کر بیان کرنا چاہے تو اس کی بات کے خلاف چاروں طرف سے قسما قسم کی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں اور طرح طرح کی بہتان بازیاں اور الزام تراشیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ یہ ایسا اور ویسا ہے۔ نیا دین لے کر آگیا۔ بزرگوں کو نہیں مانتا۔ ہمیں اپنے بڑوں اور بزرگوں کے طریقوں سے ہٹاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح جس کسی کی اولاد میں کچھ ذہین اور ہونہار بچے ہوں گے تو وہ ان کو سکولوں کالجوں میں بھیجے گا تاکہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر وغیرہ بن کر کل دنیا کمانے کے قابل ہوسکیں، اور جو کوئی بچہ کان، آنکھ، ٹانگ، بازو وغیرہ کسی اعتبار سے ناقص اور کمزور و معذور قسم کا ہوگا، اس کو یہ کسی دینی مدرسہ کے حوالے کردے گا۔ الا ماشاء اللہ۔ فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ خود راقم آثم کو اپنے بارے میں یاد ہے اور اچھی طرح یاد ہے کہ مارچ 1957 ء میں جب راقم آثم نے مڈل سکول منگ (جو کہ اب کالج بن چکا ہے) سے بورڈ کے امتحان میں امتیازی پوزیشن میں مڈل پاس کرنے کے بعد انجمن تعلیم القرآن (موجودہ دار العلوم تعلیم القرآن) پلندری میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے داخلہ لیا تو علاوہ کچھ اور لوگوں کے پونچھ کے ہی ایک گریجویٹ صاحب جو کہ مجھے سکول کے دنوں میں جانتے تھے اور میرے بڑے مداح تھے کہ یہ بہت ذہین اور قابل لڑکا ہے۔ تو وہ یہ سننے کے بعد کہ میں اب دینی مدرسہ میں داخل ہوگیا ہوں سخت افسردہ ہوئے۔ اور انہوں نے اس پر بلا اختیار ایک زوردار آہ بھری اور میرے اس فیصلہ اوراقدام پر انہوں نے سخت افسوس کا اظہار کیا۔ تو میں نے ان سے عرض کیا کہ کیوں صاحب ! آپ نے جو اس قدر زوردار آہ بھری اور جو اتنا افسوس کیا تو آخر کیوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بھئی مولوی کا دنیا میں کیا مقام ہوتا ہے ؟ اس پر میں نے اپنے جذبات اور اپنے اطمینان کے مطابق ان کو جو جواب دینا تھا وہ ان کو دیا مگر وہ اپنی اسی رائے پر قائم تھے۔ سو ان صاحب کو شاید یہ بات اب یاد بھی نہ ہو مگر مجھے آج کم و بیش چالیس سال بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرنے پر بھی ان کی وہ آہ اچھی طرح یاد ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔ مگر حال یہ ہے کہ ان گریجویٹ صاحب کو راقم آثم نے کچھ عرصہ قبل سٹیشزی کی ایک چھوٹی سی دکان پر سکولوں کے لیے کا پیاں، پنسلیں وغیرہ بیچتے خود دیکھا، جبکہ یہ ناچیز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج دوبئی کی مختلف مساجد میں گزشتہ کوئی ستائیس سالوں سے بڑے بڑے حلقہ ہائے درس میں قرآن پاک کی تفسیر روزانہ بیان بھی کرتا ہے اور لکھ بھی رہا ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی اللہ پاک نے اپنے فضل و کرم سے جو کچھ عطا فرمایا ہے وہ اس پورے خطے کے کسی بھی فرد کو آج تک نہیں ملا۔ یہ بندہ ناچیز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کم و بیش تین درجن کتابیں بھی لکھ چکا ہے جو کہ اردو اور عربی دونوں زبانوں میں ہیں۔ جن میں سے اکثر چھپ کر ہزاروں کی تعداد میں اندرون ملک اور بیرون ملک خدا ہی جانے کہاں کہاں پہنچ چکی ہیں۔ اور اب یہ بندہ ناچیز قرآن پاک کی تفسیر لکھ رہا ہے۔ فالحمد للہ قبل کل شیء وبعد کل شیء۔ مگر اس سوچ کے لوگوں کو یہ بات سمجھائے کون اور کیسے ؟ فالی اللہ المشتکی۔
144 ۔ انکار حق کا نتیجہ و اثر خلجان و اضطراب قلب۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا تم ہمیں ان چیزوں کی پوجا و پرستش سے روکتے ہو جن کی پوجا و پرستش ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں۔ یقینا ہم اس دین کے بارے میں ایک بڑے ہی خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو۔ سو یہ بھی حق کی ایک خاصیت ہے کہ اس کا انکار کرنے کے بعد منکر لوگوں کو امن و سکون نصیب نہیں ہوسکتا بلکہ دلوں میں چھبنے والے شک و اضطراب کے کانٹے ان کو ہمیشہ بےچین رکھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ مگر ان کی بدنصیبی اور محرومی یہ ہوتی ہے کہ وہ نہ تو اپنی اس بےچینی کی اصل وجہ کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی وہ دولت جو انسان کو قدرت کی طرف سے ملتی ہے، بڑی ہی عظیم الشان اور بےمثل دولت ہے، جو انسان کو اخروی زندگی میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفراز کرنے سے پہلے اس دنیاوی زندگی میں بھی دولت امن و سکون اور اطمینان قلب سے نوازتی ہے۔ فالحمد للہ۔ سو " شک " کے ساتھ " مریب کی صفت سے ان لوگوں کی اس صفت کو اور زیادہ اجاگر کردیا کہ تمہاری اس دعوت سے ایک طرف تو ہماری امیدوں کو سخت دھچکا لگا کہ ہم نے تمہارے ساتھ کیا کیا امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور تم کیا نکلے اور کیا فتنہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ سو اس چیز نے ہمیں مزید اضطراب اور الجھن میں ڈال دیا۔ سو حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ قلق و اضطراب۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayahs 11:63–65145 ۔ نبوت و رسالت ایک عظیم الشان اور جلیل القدر رحمت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت صالح نے ان لوگوں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ذرا سوچو اور غور کرو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک خاص رحمت سے بھی نوازا ہو۔ یعنی اگر میں نور فطرت پر بھی قائم ہوں اور اس کے بعد بھی اللہ نے مجھے اپنی طرف ایک اور خاص رحمت سے بھی نوازا ہو یعنی نبوت سے۔ سو رحمت سے یہاں پر مراد نبوت و رسالت ہے جو اللہ پاک کی سب سے بڑی رحمت ہے۔ جس سے وہ اپنے خاص چنے ہوئے بندوں کو محض اپنے کرم و احسان اور اپنی عنایت و مہربانی سے نوازتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو نبوت سے سرفرازی محض حق تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور عطاء و بخشش سے ہوتی ہے نہ کہ کسی انسانی کسب و عمل سے۔ والحمد للہ۔ اور اگر " رحمۃ " میں تنوین تعظیم کی ہے یعنی " ایک عظیم الشان رحمت " اور ظاہر ہے کہ نبوت اور رسالت سے بڑھ کر عظیم الشان رحمت اور کونسی ہوسکتی ہے جو کہ سعادت دارین کی سرفرازی کی راہنمائی کرتی ہے۔ بہرکیف حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ میں جو دعوت تم لوگوں کو دے رہا ہوں یہ میری فطرت کی آواز و پکار بھی ہے اور نور نبوت و رسالت کا تقاضا بھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان دونوں نوروں سے نوازا ہے اور مجھے نور علی نور کا مصداق بنایا ہے۔
146 ۔ محال کا فرض کرنا جائز ہی نہیں بلکہ بلاغت کلام کا تقاضا ہے : سو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اس کے باوجود اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو مجھے اس کی گرفت و پکڑ سے کون بچا سکے گا ؟ سو تم لوگ میرے خسارے اور نقصان کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے۔ یعنی بفرض محال اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں کہ نبی اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتا کہ وہ معصوم اور اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے۔ اور اللہ پاک کے انتخاب میں غلطی ناممکن ہے۔ پس یہ کلام فرض محال کے طور پر ہے جو کہ بلاغت کلام کا ایک اہم اسلوب ہے اور ہر بلیغ کلام میں اس کے نمونے موجود ہوتے ہیں پس اسی اسلوب پر مبنی بعض اکابر کی بعض عبارات پر جو کہ انہوں نے فرض کے طور پر لکھی ہیں اہل بدعت وغیرہ اہل زیغ کا اعتراض کرنا اور اس بناء فاسد پر ان اکابر کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لینا ایسے بدعتی لوگوں کی اپنی جہالت اور عناد و ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ اور کھلا ثبوت ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے شر و فساد سے ہمیشہ کے لیے اور ہر طرح سے محفوظ رکھے۔ بہرکیف حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ جب مجھے میرے رب نے اس نور فطرت سے بھی نوازا ہے اور مزید برآں اپنی رحمت و عنایت سے تاج نبوت و رسالت سے بھی سرفراز فرمایا ہے تو اس کے باوجود اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور اس کی تعلیم فرمودہ راہ راست سے ہٹ کر کوئی اور راہ اختیار کروں تو مجھے خدا کی پکڑ سے آخر کون بچائے گا۔ سو اگر بالفرض میں یہ راہ چھوڑ کر تمہاری وہ توقعات پوری کرنے میں لگ جاؤں جو تم لوگوں نے مجھ سے وابستہ کر رکھی ہیں تو تم لوگ میرے لیے خسارے ہی کا سامان کرو گے اور مجھے خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکو گے۔ یعنی ایسا کرنا نہ جائز ہے اور نہ میں ایسا کرسکتا ہوں۔
Ayah 11:66147 ۔ حضرات انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے بچا لیا صالح کو بھی اور ان سب کو بھی جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی خاص رحمت سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے۔ کہ مشکل کشا و حاجت روا سب کے بہرحال ہم ہی ہیں۔ اور جب صالح (علیہ السلام) جیسے نبی اور ان کے ساتھی بھی حاجت روا و مشکل کشا نہیں بلکہ وہ بھی اپنی نجات کے لیے ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کہ مشکل کشائی اور حاجت روائی کا دم بھر سکے ؟ سو بڑے ہی بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اللہ کے سوا اس کی عاجز مخلوق میں سے مختلف ہستیوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہیں جبکہ ان کو دنیا سے گزرے ہوئے اور قبروں میں اترے ہوئے زمانے گزر چکے ہیں۔ سو ایسا کرنا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ما فوق الاسباب مدد کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
148 ۔ حق تعالیٰ کی صفت قوت و عزت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے بچا لیا صالح کو اور ان سب کو جو ایمان لائے تھے ان کے ساتھ ان کو بچا لیا اس ہولناک عذاب اور اس دن کی رسوائی سے۔ بلاشبہ تمہارا رب ہی ہے قوت والا سب پر غالب۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوگئی کہ ایسے ہولناک عذاب سے بچانا حق تعالیٰ ہی کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ اور دوسری اہم حقیقت اس سے یہ واضح ہوگئی کہ حق والوں کی معیت ورفاقت نجات و سلامتی کا وسیلہ و ذریعہ ہے۔ جبکہ ان سے علیحدگی اور دوری اور ان سے عداوت و دشمنی رکھنا ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس معیت ورفاقت ہمیشہ اللہ والوں ہی کی رکھنی چاہئے۔ ان کی محبت وتعلق کے اعتبار سے بھی اور عمل و کردار اور اخلاق و اوصاف کے لحاظ سے بھی۔ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب ہمارے حکم کے مطابق اس بدبخت قوم پر ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے اپنی خاص رحمت و عنایت سے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھی نجات دے دی اور ان سب کو بھی جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ ورنہ اس ناہنجار قوم پر آنے والا عذاب ایسا ہولناک اور اس قدر ہمہ گیر تھا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت و عنایت کے سوا کوئی بھی چیز اس سے بچانے والی نہیں تھی۔ سو بلاشبہ ہمارا رب بڑا ہی قوی و عزیز ہے۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین فی کل ان وحین۔
Ayah 11:67149 ۔ ظلم کا انجام ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار آپکڑا ان کو جو اڑے ہوئے تھے اپنے ظلم پر ایک نہایت ہولناک آواز سے جس سے وہ سب اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ سو اس سے واضح ہوگیا کہ ظلم پر اڑے رہنے والوں کے لیے دائمی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ یعنی جو اڑے رہے تکذیب و انکار حق کے جرم پر جو کہ سب سے بڑا جرم اور ظلم عظیم ہے۔ سو اس سے توبہ و رجوع کرنے کی بجائے اس پر اڑے اور ڈٹے رہنا ایسا سنگین اور ہولناک جرم ہے جس کا آخری انجام ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی ہے، جیسا کہ قوم ثمود سے ہوا کہ ایک ہولناک آواز سے ان کے دل پھٹ گئے اور یہ ہمیشہ کے لیے مٹ گئے۔ سو ظلم پر اڑے رہنے والوں کے لیے بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسوں کو قدرت کی طرف سے جو مہلت اور ڈھیل ملتی ہے اس سے ان کو کبھی بھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ سو مہلت بہرحال ایک مہلت ہی ہوتی ہے جو کہ ایک محدود وقت تک ہی کے لیے ہے جس کے بعد اس نے بہرحال ختم ہوجانا ہوتا ہے اور اس کے بعد ظالم بہرحال اپنے انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 11:68–69150 ۔ منکروں کے لیے لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ بڑی دوری یعنی لعنت و پھٹکار ہے ثمود کے لیے ان کے کفر و انکار کی بنا پر۔ سو کفر و شرک تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد اور باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ اور ایمان و یقین اور عقیدہ توحید ہر خیر کی اصل و اساس اور ذریعہ سلامتی و نجات ہے۔ اور قوم ثمود نے کفر و شرک کے اسی ہولناک جرم پر اڑ کر اپنے لیے دائمی ہلاکت و تباہی کا سامان کیا جہاں سے واپسی اور بچ نکلنے کی کوئی بھی صورت ان کے لیے کبھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ارشاد سے اس بدبخت قوم اور اس کے ہولناک انجام بد سے اظہار نفرت فرمایا گیا ہے کہ اپنے عمل و کردار اور جرم و قصور پر اصرار کے باعث اور اس کے نتیجے میں یہ قوم لعنت کی مستحق قرار پائی اور ہمیشہ ہمیش کے لیے مبتلائے عذاب ہو کر رہی۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے کفر و شرک پر اصرار کا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 11:70151 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایک عظیم الشان خوشخبری کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آگئے ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس اس عظیم الشان خوشخبری کے ساتھ جو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ایک عظیم الشان خوشخبری تھی۔ اور جس کے لے جانے کی ذمہ داری ان فرشتوں کو سونپی گئی تھی۔ اور جو خاص اہمیت کی حامل خوشخبری تھی کہ ان کو بڑھاپے کی اس عمر میں ایک عظیم الشان اور ہونہار بچے سے نوازا جانے والا تھا جو عمر کے عام قاعدہ اور ضابطہ کے مطابق بچے کی نعمت کی سرفرازی کی عمر نہیں ہوتی۔ سو اس بشری " خوشخبری " سے مراد جیسا کہ آگے آیت نمبر 71 میں تصریح فرمائی گئی ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور خاص نوازا گیا تھا۔ بہرکیف اب آگے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی سرگزشت سنائی جارہی ہے اور یہ آیت کریمہ اس سرگزشت کی تمہید کے طور پر یہاں وارد ہوئی ہے۔ اس لیے کہ جو فرشتے قوم لوط کے لیے عذاب لے کر آئے تھے وہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیٹے اور پوتے کی یہ خوشخبری لے کر آئے تھے۔
152 ۔ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر کچھ دیر نہ گزری تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ان معزز مہمانوں کے لیے ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ جو پلا ہوا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا تھا۔ کماجآء فی مقام اخر (بِعِجلٍ سَمِین) ۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کمال مہمان نوازی کا ثبوت ہے کہ کسی کے یہاں اچانک اجنبی اور اوپرے چوپرے مہمان آجائیں اور وہ فورا موٹا تازہ بچھڑا ذبح کرکے وہ بھون کرکے ان کے سامنے لاکر رکھ دے۔ کیا اس مہمان نوازی کی کوئی اور مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سوا اور کہیں بھی مل سکتی ہے ؟۔ علیہ وعلی نبینا افضل الصلوات واتم التسلیمات۔ مگر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان حضرات کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ کو ان سے خوف محسوس ہوا۔ تب انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے ان سے کہا کہ آپ ڈریں نہیں (ہم تو دراصل فرشتے ہیں اور) ہمیں قوم لوط کی طرف (ان کو عذاب دینے کے لیے) بھیجا گیا ہے سو اس قصہ سے یہ امر واضح ہوگیا کہ پیغمبر عالم غیب اور مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ آج کل کے بدعتی ملاؤں نے سمجھ رکھا ہے۔ ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ ان فرشتوں کے لیے اس طرح بچھڑا بھون کر لاتے اور نہ ہی ان کے نہ کھانے سے وہ اس طرح پریشان اور خوف زدہ ہوتے۔ سو اس قصہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیار کلی جیسے خود ساختہ شرکیہ عقائد کی جڑ نکل جاتی ہے۔ والحمد للہ رب العالمین۔