26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 26:201

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ لوگ اس وقت تک اس قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک یہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں گے

(201) یہ لوگ اس وقت تک اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک یہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں گے یعنی خواہ موت کے وقت یا قیامت میں یا برزخ میں ظاہر ہے کہ ان اوقات میں عذاب دیکھنے کے بعد ایمان کیا نفع دے سکتا ہے وانی لھم التناوش من مکان بعید۔ یعنی مفسرین نے سلکنہ کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم کو قرار دیا ہے لیکن ہم نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول پر تفسیر کی ہے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) کے ترجمہ میں بھی انکار موجود ہے (واللہ اعلم)
Ayah 26:202

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

وہ عذاب ان پر اچانک آ پہونچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی

(202) وہ عذاب ان پر اچانک آجائے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی۔
Ayah 26:203

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

اس وقت یہ لوگ یوں کہیں گے کیا ہم کچھ مہلت دئیے جاسکتے ہیں

(203) اس وقت یہ لوگ یوں کہیں گے کیا ہم لوگ کچھ مہلت دئیے جاسکتے ہیں حالانکہ وہ وقت نہ مہلت کا ہے نہ قبول ایمان کا یہ لوگ خود ہی تو عذاب کی باتیں سن کر عذاب کی تعجیل کیا کرتے تھے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 26:204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے وقوع کو جلد ی چاہتے ہیں

(204) کیا لوگ ہمارے عذاب کے وقوع کو جلدی چاہتے اور جلدی طلب کرتے یعنی چونکہ عذاب کی وعید کو جھوٹا اور غلط سمجھتے ہیں اس لئے بطور انکار کہتے ہیں فاتنا بما تعدنا جس چیز کا ڈراوا دیتا ہے اس کو لے آ آگے مہلت نہ دینے کا جواب ہے۔
Ayah 26:205

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

اے مخاطب بھلا دیکھ تو سہی اگر ہم ان کو چند سال تک عیش کرنیکا موقع دیدیں

(205) اے مخاطب بھلا دیکھ تو سہی اگر ہم ان کو چند سال تک عیش کرنے اور یہاں کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا اور موقعہ دے دیں۔
Ayah 26:206

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ عذاب آ پہونچے گا جس سے ان کو ڈرایا جارہا ہے

(206) پھر ان پر وہ عذاب آ پہونچے جس سے ان کو ڈرایاجارہا ہے اور جس کی وعید سنائی جارہی ہے۔
Ayah 26:207

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو وہ ان کا چند سالہ عیش جس سے وہ بہرہ مند کئے گئے ہیں ان کو کیا فائدہ پہونچو سکتا ہے

(207) تو و ہ ان کا چند سالہ عیش اور فائدہ جس سے وہ بہرہ مند کئے گئے ان کو کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے اور یہ عیش کس کام آسکتا ہے یعنی اگر فرض کرو ان کو چند سالوں کے لئے اور مزے اڑانے کا موقعہ دے دیاجائے اور ان کو مہلت مت جائے اور پھر وہ عذاب آئے جس کی خبر ان کو دی گئی ہے تو کیا وہ چند سالہ عیش اور وہ مہلت ان کو کوئی فائدہ پہنچائے گی پیغمبر کا تشریف لانا قرآن کریم کا نازل ہونا اور ڈرانے والوں کا عذاب سے ڈرانا یہ مہلت ہی تو ہے عذاب کو دیکھ کر مہلت طلب کرنا لغو اور بےسود ہے اور اس پر کوئی نتیجہ مرتب ہونے والا نہیں۔
Ayah 26:208

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے بستیوں میں سے کسی ایسی بستی کو ہلاک نہیں کیا کہ جس میں ڈرانے والے نہ ائے ہوں

(208) اور ہم نے بستیوں میں سے کسی ایسی بستی کو ہلاک نہیں کیا کہ جس میں نصیحت کی غرض سے ڈرانے والے نہ آئے ہوں۔
Ayah 26:209

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

نصیحت کی غرض سے اور ہمارا شیوہ طلم نہیں ہے

(209) اور ہمارا شیو ظلم کرنا نہیں ہے یعنی جس بستی پر عذاب الٰہی آیا اس سے پہلے پیغمبر آئے اور ان کو ڈرایا نصیحت کی لیکن جب نہیں مانے تو آخر کار ہلاک کردئیے گئے یعنی سمجھایا بھی گیا۔ ڈرایا بھی گیا اور سوچنے سمجھنے کا موقع بھی دیا گیا مہلت بھی ملی آخر کار عذاب بھیجا گیا کیونکہ مہلت اور عذاب میں منافات نہیں ہے جیسا کہ اوپر گذرچکا ہے اب پھر قرآن کریم کی حقانیت پر بحث ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 26:210

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس قرآن کو شیاطین لیکر نہیں آئے

(210) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔
Ayah 26:211

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور یہ کام نہ تو ان کے لئے مناسب اور سزا دار ہے اور نہ وہ اس پر قدرت ہی رکھتے ہیں

(211) اور یہ کام نہ تو ان کے لئے سزا وار اور مناسب ہے اور نہ وہ اس پر قدرت ہی رکھتے ہیں۔
Ayah 26:212

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

کیونکہ وہ شیاطین تو آسمانی خبروں کے سننے ہی سے روک دئیے گئے ہیں

(212) کیونکہ وہ شیاطین آسمانی خبروں کے سننے ہی سے روک دئیے گئے ہیں اور دور کردئیے گئے ہیں۔ یعنی کہاں قرآن کریم کی پاکیزہ تعلیم اور خد ا پرستی اور تعلیم کی اخلاقی بلندی اور کہاں شیاطین کی گمراہی اور کج روہی قرآنی تعلیم سے ان کو کیا مناسب جو گمراہی کے ٹھیکہ دار ہوں ان سے ایسی مقدس اور بلند ترین تعلیم کہاں بن آسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ شیاطین کو تو نزول قرآن کے وقت سننے سے بھی معزول کردیا گیا ہے کسی شیطان کی مجال نہیں کہ وہ سن بھی سکے اصلاح خلق کی جو تعلیم نازل ہوئی ہے وہ اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے یہ بات دوسری ہے کہ اصلاح خلق اور قرآنی تعلیم کے علاوہ کوئی بات بھاگتے دوڑتے سن بھاگیں اور اس میں دس بیس جھوٹی باتیں ملا کر کاہنوں کو بتادیں جیسا کہ آگے آتا ہے تو ایسی باتوں کا قرآن کریم سے اور نزول قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ اس بات میں کوئی تنافی اور تضاد ہے۔
Ayah 26:213

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

سو اے پیغمبر آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں ورنہ آپ ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو سزا دی جائے گی

(213) سو اے پیغمبر ! آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکاریں ورنہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو سزا دی جائے گی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرمایا رسول ﷺ کو اور سنایا اوروں کو 12 یعنی دوسرے لوگوں کو شرک سے بچانا مقصود ہے کہ جب ہم اس شخص سے جو ہمارا پیغمبر ہے جس سے شرک کا تصور بھی نہیں یوں فرماتے ہیں تو اوروں کو جو شرک میں مبتلا ہیں سمجھ لیناچاہئے کہ وہ کس قدر سزا اور عذاب کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 26:214

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے

(214) اور آپ پہلے اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیے یعنی تبلیغ و رسالت اور ڈرانے کا کام رشتہ داروں اور قرابت داروں سے شروع کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو حضرت نے سارے قریش کو سنادیا اور اپنی پھوھی اور اپنی بیٹی اور چچا تک کو سنادیا کہ اللہ کے ہاں اپنا فکر کرو خدا کے ہاں میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا 12
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور مسلمانوں میں سے جو لوگ بھی آپ کے پیرو ہیں ان کے سامنے اپنے بازو پست رکھیے یعنی فروتنی اور تواقع کے ساتھ پیش آئیے

(215) اور مسلمانوں میں جو لوگ آپ کے پیرو ہیں اور آپ کی راہ پر چلتے ہیں ان کے سامنے اپنے بازو پست رکھیے یعنی فروتنی اور تواضع کے ساتھ پیش آئیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شفقت میں رکھ ایمان والوں کو اپنے ہوں یا پرائے 12 غرض ! عام مسلمانوں کے ساتھ مشفقانہ برتائو کا حکم ہے۔
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر جن کو آپ ڈرائیں اگر وہ آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ فرما دیجئے کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق اور بری الذمہ ہوں

(216) پھر جن لوگوں کو آپ ڈرائیں وہ اگر آپ کا کہنا نہ مانیں اور آپ کی نافرمانی کریں تو آپ ان سے فرما دیجئے کہ تم جو افعال کر رہے ہو میں تمہارے اعمال سے بیزار اور بری الذمہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی خلاف حکم جو کوئی کرے اس سے تو بیزار ہوجا اپنا ہو یا پرایا 12
Ayah 26:217

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور آپ اس زبردست اور رحم کرنے والے پر بھروسہ رکھیئے

(217) اور آپ اس زبردست اور بہت رحم کرنے والے پر بھروسہ رکھیے اور توکل کیجئے۔
Ayah 26:218

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب آپ تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں

(218) جو آپ کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تہجد کی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 26:219

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور اسوقت بھی آپ کی نشست و برخاست کو دیکھتا ہے جب آپ نمازیوں میں ہوتے ہیں

(219) اور اس وقت بھی آپ کی نشست و برخاست کو دیکھتا ہے جب آپ نمازیوں میں ہوتے ہیں۔ یعنی جب تنہا نماز پڑھتے ہو اور جب جماعت میں نمازپڑھاتے ہو تب بھی تمہاری حالت کا نگراں اور تم سے باخبر رہتا ہے لہٰذا اس قادر مطلق خدا پر بھروسہ رکھیے آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ کمال قوت کا مالک اور آپ پر بہت مہربان ہے تو اسی پر بھروسہ رکھیے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ یاد میں ہیں یا غافل 12 وتقلبک فی الساجدین کی تفسیر بعض سلف نے اس طرح کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے آبا کی پشت درپشت گذرنے کو جانتا ہے اور ایک پیغمبر کی پشت سے دوسرے پیغمبر کی پشت میں آنے کو بھی دیکھتا ہے پھر یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی غیر مسلم کی پشت میں نہیں رہے اسی سلسلے میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے والدین کو مسلمان بتایا ہے (واللہ اعلم)
Ayah 26:220

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہی خوب سننے والا جاننے والا ہے

(220) کیونکہ وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے یعنی جب وہ عزیز بھی ہے اور تم پر مہربان بھی سننے والا اور جاننے والا بھی ہے اور آپ کے رات کو اٹھنے اور نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشست و برخاست سے بھی باخبر ہے لہٰذا آپ کو اس ہی پر بھروسہ رکھناچاہئے اور آپ اسی پر توکل کریں۔
Ayah 26:221

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

اے پیغمبر ! لوگوں سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو بتائوں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں

(221) اے پیغمبر ان منکرین سے جو قرآن کریم کو شیاطین کی خبریں بتاتے ہیں فرمائیے کیا میں تم کو بتائو کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں۔
Ayah 26:222

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر اس جھوٹے بد کردار پر اترا کرتے ہیں

(222) وہ ہر دروخ گو جھوٹے اور بڑے بد کردار پر اترا کرتے ہیں۔
Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو شیاطین کی باتوں پر کان لگایا کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بہت ہی جھوٹ بولا کرتے ہیں

(223) جو شیاطین کی باتوں پر پوری طرح کان لگا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر بہت ہی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ یعنی شیاطین کے اترتے کی یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ شیطان سے دوستی کرلیتے ہیں۔ شیطانی آسمانوں کی طرف جانتے ہیں وہاں ان کو انگارے مارے جاتے ہیں وہاں سے بھاگتے ہیں بھاگتے میں فرشتوں کی کوئی جزئی بات کان میں پڑگئی تو اس میں کچھ اور جھوٹی باتیں ملا کر اس دوست کو سنادیں دوست نے بہت کان لگا کر یہ باتیں سنیں پھر دوسرے انسانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے سنائیں سناتے وقت اس جھوٹ میں کچھ اور جھوٹ ملا دیا اس سے زیادہ ان شیطانی خبروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک لوگ تھے کاہن کہلاتے کسی شیطان سے دوستی کر رکھتے نذرو نیاز دیکر وہ سب شیطانوں میں مل کرجاتا فرشتوں کی باتیں سننے کو وہاں انگارے مارتے ہیں جو تارے چھوٹتے نظر آتے ہیں جو ایک دو بات کان میں پڑگئی آکر اپنے دوست پر لاڈالی اس نے لوگوں کو بتادی لوگ اس کے قائل ہوئے جو سچا کاہن ہے سو یہ اور بہت لوگ مکر بناتے ہیں یعنی چیز انسان سے چھپی ہے شیطان پر معلوم ہے جیسے سو پچاس کوس کے احوال یا کسی کی جیب میں کیا ہے یا اس کے دل میں خیال کیا ہے اور اگلی چبر شیطان کو بھی معلوم نہیں مگر ایک دو بات جو فرشتوں سے سنی اور دس بیس ملا لیں اٹکل جھوٹ پڑے یا سچ سو شیطان نیک بختوں سے بےزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہیں جھوٹے دغا بازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں 12
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی بات پر وہی چلتے ہیں جو بےراہ ہیں

(224) اور شاعروں کی بات پر وہی چلتے ہیں جو گمراہ اور بےراہ ہیں۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ یہ شاعر ہر میدان میں حیران و سرگرداں پڑے پھرتے ہیں

(225) اے مخاطب تجھ کو معلوم کہ یہ شاعر ہر میدان میں حیران و سرگرداں ٹکریں مارتے پھر ا کرتے ہیں۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور یہ شاعر وہ باتیں کہا کرتے ہیں ج و کرتے ہیں

(226) یہ شاعر وہ باتیں کہا کرتے ہیں جو کرتے نہیں یعنی نبی کریم ﷺ نہ کاہن ہیں نہ شاعر شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلتے ہیں جو مختلف مضامین کی وادیوں میں حیران و سرگرداں پھرا کرتے ہیں ان کا قول ان کے کردار سے بالکل برعکس باضابطہ شاعری ہو یا نثر کی تک بندی ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر پیغمبر کو کبھی کاہن کہتے کبھی شاعر سو فرمایا کہ شاعر کی بات سے کسی کو ہدایت نہیں ہوتی اس کی صحبت میں ہزاروں خلق نیکی پر آتے ہیں 12 پھر فرماتے ہیں یعنی جس مضمون کو پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے پھر فرماتے ہیں جیسے مردانگی کہتے ہیں زور نہیں رکھتے عشق کہتے ہیں جھوٹ بیماری کہتے ہیں جھوٹ 12
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر ہاں وہ شاعر مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے اپنے اشعار میں بکثرت اللہ کا ذکر کیا اور انہوں نے اس ظلم کے بعد جو ان پر کیا جاچکا ہے اس ظلم کا بدلہ لیا اور عنقریب ان لوگوں کو معلوم ہوجائیگا جنہوں نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے کہ انکو کس جگہ پر پلٹ کر جانا ہے

(227) مگر ہاں وہ شاعر مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے اپنے اشعار میں بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور انہوں نے اس ظلم کی بعد جو ان پر کیا جاچکا ہے اس ظلم کا انتقام اور بدلا لیا اور عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے یہ معلوم ہوجائے گا کہ کیسی جگہ پلٹ کرجانا ہے اور وہ کس کو وٹ الٹتے ہیں ان مخصوص شاعروں کو مستثنیٰ فرمایا جو اپنے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی پیغمبر خدا ﷺ کی ثناء اسلام کی تعریف مسلمانوں کی ہمت افزائی اور ان کی شجاعت اور جو منکر اسلام کی ہجو کریں ان کا جواب اور جن پر ظلم کیا گیا اور ان کو وطن سے اجاڑا گیا وہ ظلم کی پاداش میں ظالموں سے انتقام لیں اور اسی مناسبت سے آخر میں ظلم کا انجام بھی فرمایا کہ ان ظالموں کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیسی مصیبت اور ہولناک میں الٹ کرجاتے ہیں اور کس پہلو اور کروٹ پر ان کو پلٹا جاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مگر جو کوی شعر میں اللہ کی حمد کہے یا کفر کی مذمت یا گناہ کی برائی یا کافر اسلام کی ہجو کریں یہ اس کا جاب دیں تو ایسا شعر عیب نہیں 12 تم تفسیر سورة شعراء