26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 26:121

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک نوح (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے اورب اوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

(121) بلاشبہ ! نوح (علیہ السلام) کے اس واقعہ میں بڑی عبرت ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 26:122

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور بیشک تیرا رب کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنیوالا ہے۔

(122) اور بیشک تیرا پروردگار کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 26:123

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

اور عاد والوں نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا

(123) اور عاد والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں تک تکذیب کی عاد اور ثمود عرب کی مشہور بستیاں ہیں حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کو عاد کہتے ہیں۔
Ayah 26:124

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان سے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں

(124) جبکہ ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 26:125

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

(125) میں تم سب کے لئے ایک امین اور امانت دار پیغمبر ہوں۔
Ayah 26:126

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

(126) سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو میری اطاعت کرو۔
Ayah 26:127

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر و صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے

(127) اور میں اس تبلیغ رسالت پر تم سے کوئی مزدوری اور اجرت نہیں مانگتا میرا صلہ اور میری اجرت تو بسرب العالمین ہی کے ذمے ہے عاد ایک بڑی طاقت وار اور بارعب قوم تھی مگر بت پرستی کرتی تھی حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا اور تقریباً وہی باتیں فرمائیں جو حضرت نوحل کی تقریر میں مذکور ہوئیں امانت و رسالت کا دعویٰ خدا سے ڈرنے کی تاکید اور اپنی اطاعت اور پیروی کا مطالبہ اور تبلیغ احکام الٰہی پر اجرت نہ مانگنے کا تذکرہ اس کے بعد ان کی بعض اخلاقی کمزوریوں اور خرابیوں کا اظہار فرمایا چانچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 26:128

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

کیا تم لوگ ہر اونچے مقام پر عبث اور بلا ضرورت ایک بلند یادگار بناتے ہو

(128) کیا تم لوگ ہر اونچے مقام پر عبث اور بلا ضرورت ایک یادگار بناتے ہو۔
Ayah 26:129

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور پختہ پختہ محل بناتے ہو شاید تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے

(129) اور پختہ پختہ اور بڑے بڑے محل بناتے ہو شاید تم کو دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے اس قوم کی عادت تھی کہ تکبر اور تفاخر کی وجہ سے بلند مینار سے بناتے تھے کبوتر بازی کرتے تھے اس کے لئے اونچی اور بلند جگہ بناتے تھے یا مسافروں کو دھوکہ دینے کے لئے بنایا کرتے تھے۔ بہرحال ! ہود (علیہ السلام) نے اس قسم کی فضول خرچی اور شہرت و تفاخر کے میناروں کو منع فرمایا کہ اگر کوئی غرض فاسد نہ ہو تو تب بھی ایسی یادگاروں میں روپیہ برباد نہیں کرنا چاہئے اور جب مبنیٰ بھی فاسد ہو مثلاً تفاخر اور جاہ پسندی اور دوسرے کی تعمیر سے اونچا بنا کے اس کو نیچا دکھانا یا کبوتر بازی کے لئے بنانا وغیرہ جب وجود فاسدہ بھی موجود ہوں تو عبث اور فضول ہونے کے ساتھ اور بھی مضرات ہیں اسی طرح مکان بھی بہت پختہ اور بلند بناتے تھے اور اس میں آرائشی سامان اور اس کی بناوٹ اور مختلف قسم کی کاریگری میں بہت روپیہ خرچ کرتے تھے۔ اس لئے حضرت ہود (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ شاید اس دنیا میں ہمیشہ رہو گے ان افعال ذمیمہ کا اخلاقی طورپر جو برا اثر ہوتا ہے آگے اس کا اظہار فرمایا۔
Ayah 26:130

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو بڑے سخت گیر اور بےرحم ہوکر پکڑتے ہو

(130) اور جب تم کسی کو پکڑتے ہو اور جب کسی سے داروگیر کرتے ہو تو بڑے سخت گیر اور بےرحم ہوکر پکڑتے ہو یعنی اس تکبر اور تفاخر کا طبیعت پر یہ اثر ہوتا ہے کہ بےرحم ہوکر انتقام لیتے ہو تمہارے قلب میں رحم نہیں رہا۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

(131) سو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
Ayah 26:132

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس خدا سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے امداد کی جن کو تم خوب جانتے ہو

(132) اور اس اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے امداد کی جن کو تم خوب جانتے ہو۔
Ayah 26:133

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہاری چوپایوں سے اور بیٹوں سے

(133) اس نے تمہاری چوپائوں سے اور بیٹوں سے۔
Ayah 26:134

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اور باغوں سے اور چشموں سے امدا کی

(134) اور باغوں سے اور چشموں سے امداد کی۔
Ayah 26:135

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

(135) میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں یعنی تم نے جو یہ عبث کام اختیار کررکھا ہے اور ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے تو تم اللہ تعالیٰ سے ڈروجس نے تم کو یہ تمام سازو سامان دیا ہے اور تمہاری مدد کی ہے اور تم کو دنیا میں مقدور کیا ہے غرض ! جو چیزیں تم کو دی گئی ہیں ان کو تم جانتے ہو یعنی مویشی اور بیٹے اور باغات اور چشمے یہ سب چیزیں تم کو دے کر تمہاری مدد اور اعانت کی تم اس کے جواب میں اگر تکبر کرتے رہے اور کمزوروں اور زیردستوں پر ظلم کرتے رہے تو میں اس دن سے ڈرتا ہوں کہ جو دن عذاب کا بڑا دن ہوگا یعنی دنیا میں ہی کوئی عذاب آجائے یا قیامت میں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان لوگوں کو بڑا شوق تھا اونچے منارے بنانے کا جس سے کوئی کام نہ نکلے مگر نام اور رہنے کی عمارتیں بھی بڑے تکلف سے مال خراب کرنے کو باغ ارم بھی انہی کا مشورہ ہے 12
Ayah 26:136

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

ان لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کو جواب دیا خواہ تو ہم کو نصیحت کرے یا نصیحت کرنے والا نہ بنے ہمارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں

(136) ان لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کو جواب دیا تو ہم کو نصیحت کرلے یا نصیحت کرنے والا نہ بنے ہمارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں۔
Ayah 26:137

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

جو باتیں تو کہتا ہے یہ کچھ نہیں مگر محض اگلے لوگوں کی ایک رسم اور عادت ہے

(137) جو باتیں تو کہتا ہے یہ کچھ نہیں مگر محض اگلے لوگوں کی ایک رسم اور عادت ہے۔
Ayah 26:138

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم ہرگز عذاب دئیے جانیوالے نہیں

(138) اور ہم ہرگز عذاب دئیے جانے والے نہیں اور ہم کو کوئی آفت آنے والی نہیں یعنی ہم جن باتوں پر قائم ہیں انہی پر قائم رہیں گے تیرا نصیحت کرنا نہ کرنا ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں ۔ سعدی نے خوب کہا ہے ؎ نصیحت کن مرا چنداں کہ خواہی نہ تواں شتن اززنگی سیاہی رہی یہ بات کہ تو کہتا ہے میں پیغمبر ہوں اور باز نہ آئو گے تو تم پر عذاب آجائے گا تو یہ باتیں بھی ایسی ہیں جو اوپر سے عادتاً چلی آتی ہیں کچھ لوگ نبی بن کر آکھڑے ہوتے ہیں اور مخلوق کے کاموں میں مداخلت کرتے ہیں تو ہم تیری نبو ت کو نہیں مانتے اور ہم تیرے ڈرانے سے بھی ڈرنے والے نہیں ہم کو کون عذاب کرسکتا ہے آج دنیا میں ہماری طاقت اور قوت کے مقابلے میں کون ہے جو ہم کو اذیت پہنچا سکے۔ من اشد مناقوۃ
Ayah 26:139

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

غرض ! ان لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا سو ہم نے ان کو ہلاک کردیا بیشک عاد کے اس واقعہ میں بڑی سبق آموز عبرت ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے

(139) غرض ! یہ لوگ ہود (علیہ السلام) کی برابر تکذیب کرتے رہے پھر ہم نے اس قوم عاد کو ہلاک کردیا بیشک عاد کے اس واقعہ میں بڑی سبق آموز عبرت ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 26:140

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب ہی کمال قوت کا مالک نہایت رحم والا ہے

(140) اور بیشک آپ کا پروردگار بڑی قوت کا مالک اور نہایت رحم والا ہے۔
Ayah 26:141

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قبیلہ ثمود نے بھی پیغمبروں کی تکذیب کی

(141) قبیلہ ثمود نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں کی تکذیب کی۔
Ayah 26:142

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جبکہ ان لوگوں سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں

(142) جب ثمود کی قوم سے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں۔
Ayah 26:143

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں

(143) میں تم سب کے لئے ایک امین اور امانت دار پیغمبر ہوں۔
Ayah 26:144

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

سو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

(144) سو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میرا کہا مانو۔
Ayah 26:145

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے

(145) اور میں تم سے اس رسالت کی تبلیغ پر کوئی مزدوری اور اجرت نہیں مانگتا میرا اجر اور میرا صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے یعنی ثمود کے لوگ پہاڑوں میں مکان بنا کر رہتے تھے اور پہاڑوں میں سے بت تراش کر ان کی پوجا کرتے تھے ان کی ہدایت اور ان کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا باقی باتیں انہوں نے بھی وہی فرمائیں جو ان کے پیش رو اپنی اپنی قوم سے فرماچکے تھے۔
Ayah 26:146

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم کو ان نعمتوں میں جو یہاں موجود ہیں بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیاجائے گا

(146) کیا تم ان نعمتوں میں جو اس وقت تمہارے پاس موجود ہیں یوں ہی بےخوف اور نڈر اور بےفکری کے ساتھ چھوڑ دیاجائے گا یعنی وہ نعمتیں جو دنیا میں تم کو حاصل ہیں ان دنیوی نعمتوں میں تم کو بےخوفی اور بےفکری کے ساتھ رہنے دیاجائے گا۔
Ayah 26:147

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

وہ نعمتیں یہ ہیں کہ باغوں میں چشموں میں

(147) وہ نعمتیں یہ ہیں کہ باغوں میں اور چشموں میں
Ayah 26:148

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں میں اور ان کھجوروں میں جن کیخوشے نرم اور لدے ہوئے ہیں

(148) اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے گھچے نرم اور خوب گندھے ہوئے ہیں یعنی وہ نعمتیں جن میں تم اس وقت ہو اور جن سے تم فائدہ اٹھا رہے ہو یہی ہیں کہ باغات ہیں چشمے ہیں یا نہریں ہیں کھیتیاں ہیں کھجوروں کے درخت ہیں جن میں خوب پھل آتا ہے خوشے اور گھچے خوب لدے ہوئے ہوتے ہیں۔
Ayah 26:149

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور کیا تم کمال صنعت کے ساتھ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے رہو گے

(149) اور کیا تم کمال صنعت کے ساتھ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے رہو گے اس فن کے کاریگر بہت تھے یا یہ مطلب ہے کہ گھروں پر اتراتے اور تفاختر کرتے رہو گے۔
Ayah 26:150

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو

(150) پس اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری پیروی کرو یعنی شرک سے باز آجائو اور رسول کی اطاعت کرو۔
Ayah 26:151

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کا کہنا نہ مانو جو حد سے بڑھ جانے والے ہیں

(151) اور ان فساد برپا کرنے والوں کی بات اور ان کا حکم نہ مانو جو حد سے بڑھ جانے والے ہیں اور حدود بندگی سے آگے نکل جانے والے ہیں۔
Ayah 26:152

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

وہ ایسے ہیں جو ملک میں فساد برپا کرتے رہتے ہیں اور اصلاح نہیں کیا کرتے

(152) وہ ایسے ہیں جو ملک میں فساد برپا کرتے رہتے ہیں اور سنوارو اصلاح نہیں کیا کرتے یعنی پیغمبر نے اپنی اطاعت کا حکم دیا اور شریروں اور مفسدوں کی اطاعت سے منع فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی حدوں کو توڑ کر آگے نکل جانے والے تھے شاید وہ نو آدمی ہوں کے جن کا ذکر سورة قصص میں انشاء اللہ آئے گا۔
Ayah 26:153

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تو تو سحر زدہ اور جادو کے مارے لوگوں میں سے ہے

(153) قوم نے جواب دیا سوائے اس کے کچھ نہیں کہ تو سحر زدہ اور جادو کا مارا ہوا ہے اور جادو کے مارے لوگوں میں سے ہے۔
Ayah 26:154

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تو صرف ہم ہی جیسا ایک آدمی ہے سو اگر توسچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر

(154) تو تو صرف ہم ہی جیسا ایک آدمی ہے لہٰذا اگر تو سچا ہے تو اپنی نبوت کی کوئی نشانی اور معجزہ پیش کر یعنی تم پر کسی نے بار بار جادو کیا ہے اس لئے تو نبی نہیں ہوسکتا نیز ہم ہی جیسا بش رہے بھلا کہیں بشر بھی پیغامبر ہوسکتا ہے اچھا نبی ہے تو کوئی دلیل پیش کر
Ayah 26:155

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

اس پر صالح (علیہ السلام) نے کہا یہ ایک اونٹنی ہے ایک باری پانی پینے کے لئے اس کی ہے اور ایک مقررہ دن کی باری تمہارے مواشی کیلئے ہے

(155) چناچہ انہوں نے خود ہی ایک بہت بڑی اونٹنی طلب کی وہ اونٹنی پہاڑوں میں سے نکلی جانور اس کو دیکھ کر بھاگنے لگے پانی پینے کی باری مقرر کی گئی چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) ن ے فرمایا یہ ایک اونٹنی ہے ایک باری پانی پینے کے لئے اس کی ہے اور ایک مقررہدن کی باری تمہاریے مواشی کے لئے ہے۔
Ayah 26:156

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس اونٹنی کو بدی اور برائی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ تم کو ایک بڑے دن کا عذاب آپکڑے گا

(156) اور اس اونٹنی کو برائی اور بدی کے ساتھ ہاتھ بھی نہ لگائو ورنہ تم کو ایک بہت بڑے دن کا عذاب آپکڑے گا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے باری مقرر کی جس دن وہ پانی پیتی اس دن دوسرے جانور پیاسے رہتے پانی ختم ہوجاتا پھر بری نیت سے اس کو مارنے پیٹنے کی ممانعت کردی گئی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اونٹنی پیدا ہوئی پتھر میں سے اللہ کی قدرت سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا سے چھٹی پھرتی جس جنگل میں چرنے جاتی سب مواشی بھاگ کر کنارے ہوجاتے اور جس تالاب پر پانی کو جاتی سب مواشی وہاں سے بھاگتے تب یوں ٹھہرا ایک دن پانی پر وہ جاوے ایک دن اور مواشی جاویں 12
Ayah 26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

آخر کار ان لوگوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر وہ پشیمان ہوئے

(157) آخر کار ان لوگوں نے اونٹنی کو مار ڈالا پھر وہ پشیمان ہوئے یعنی عذاب کو دیکھ کرنا دم ہوئے ہوں گے اس وقت کی ندامت سے کیا فائدہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک عورت بدکار کے گھرمواشی بہت تھے چارے اور پانی کی تکلیف سے اپنے ایک یار کو سکھایا اس نے اونٹنی کے پائوں کاٹ کر ڈال دئیے اس کے تین بعد عذاب آیا 12
Ayah 26:158

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

انجام کار ان کو عذاب نے آلیا بیشک ثمود کے اس واقعہ میں بڑ ی سبق آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔

158۔ پھر ان کو عذاب نے آلیا بیشک ثمود کے اس واقعہ میں بڑی سبق آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 26:159

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب کمال قوت کا مالک نہایت رحم والا ہے

159۔ اور بیشک آپ کا پروردگار کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنے والا ہے
Ayah 26:160

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

160۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی پیغمبروں کے جھٹلانے کا شیوہ اختیار کیا اور پیغمبروں کی تکذیب کی۔