26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 26:161

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب کہ ان لوگوں سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں

161۔ جب ان لوگوں سے ان کے بھائی لوط (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں یعنی شرک نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بازآئو۔
Ayah 26:162

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں

162۔ میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔
Ayah 26:163

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

163۔ سو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔
Ayah 26:164

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمہ ہے

164۔ اور میں تم سے اس ادائے رسالت اور تبلیغ پر کوئی مزدوری اور اجرت نہیں مانگتا میرا صلہ اور میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمے پر ہے۔
Ayah 26:165

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم ساری خدائی میں سے مردوں یعنی لڑکوں ہی پر مائل ہوتے ہو

165۔ کیا تم سب جہان والوں میں سے مردوں پر دوڑتے اور مائل ہوتے ہو۔
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے بیویاں پیدا کی ہیں تم ان کو چھوڑے رکھتے ہو اصل بات یہ ہے کہ تم حد فطرت و انسانی ت سے بڑھ جانے والے لوگ ہو

166۔ اور تمہارے پروردگار نے جو بیویاں تمہارے لئے پیدا کی ہیں تم تم ان کو چھوڑے رکھتے اور نظر انداز کردیتے ہو اصل بات یہ ہے کہ تم انسانیت اور فطرت کی حد سے آگے بڑھ جانے والے لوگ ہو یعنی عورتوں کو نظرانداز کرنا اور اپنی بیویوں کی جانب توجہ نہ کرنا اور لڑکوں سے شہوت رانی کرنا تمام دنیا والوں میں سے تمہارا یہ فعل انوکھا فعل ہے۔ یعنی دنیا کا ہر نر اپنی مادہ کو اپنی خواہش کے لئے تلاش کرتا ہے مگر تم مرد ہوکر مرد ہی کو اپنی شہوت رانی اور اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کا ذریعہ بناتے ہو تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا تم تو فطرت اور انسانیت کی حدود سے آگے نکل جانے والے لوگ ہو۔
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

ان لوگوں نے جواب دیا اے لوط (علیہ السلام) ! اگر تو اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے گا تو تو یقینا بستی سے نکال دیاجائے گا

167۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے جواب دیا اے لوط (علیہ السلام) تو اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے گا تو یقینا تو بستی سے نکال دیاجائے گا یعنی دھمکی دی کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس سے ہم کو نہ روکو ورنہ بستی سے خارج کردئیے جائو گے۔
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے کہا بلاشبہ میں تمہارے اس ناشائستہ کام سے سخت نفرت رکھتا ہوں

168۔ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا بلاشبہ میں تمہارے اس ناشائستہ فعل سے سخت نفرت رکھتا ہوں یعنی میں تمہارے اس کام سے سخت متنفر ہوں تو میں تم کو منع کرنے سے کیسے باز آسکتا ہوں۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھ کو اور میرے متعلقین کو ان کے کاموں سے جو یہ کر رہے ہیں نجات دے

169۔ اے میرے پروردگار ! مجھ کو اور میرے متعلقین کو ان کاموں کے وبال اور نکال سے نجات دیجئے جو یہ کر رہے ہیں متعلقین سے مراد وہ ہیں جو حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ سے متفق ہیں۔
Ayah 26:170

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے جملہ متعلقین کو بچا لیا

170۔ پھر ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے جملہ متعلقین کو بچالیا۔
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ہاں ! ایک بڑھیا یعنی لوط (علیہ السلام) کی بیوی کہ وہ رہ گئی رہ جانیوالوں میں

171۔ مگر ہاں ایک بڑھیا رہ گئی رہ جانے والوں میں یعنی جو عذاب نازل ہوا اس سے تمام اہل ایمان بچا لئے گئے مگر ایک بڑھیا یعنی لوط (علیہ السلام) کی بیوی چونکہ کافروں سے ملی ہوئی تھی اس لئے وہ کافروں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب میں ہلاک ہوئی۔
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اور دوسرے سب لوگوں کو ہلاک کر ڈلا

172۔ پھر ہم نے اور دوسرے سب لوگوں کو اکھاڑ مارا اور ہلاک کردیا سب لوگ یعنی لوط (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ایمان والوں کے سواباقی سب لوگ۔
Ayah 26:173

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک عجیب قسم کا مینہ برسایا یعنی پتھروں کا سو کیا ہی برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر ساجن کو ڈرایا گیا تھا

173۔ اور ہم نے ان پر ایک خاص قسم کا مینہ برسایا سو کیا برا مینہ تھا جو ان لوگوں پر برسا جن کو ڈرایا گیا تھا یعنی اس قوم پر پتھروں کا مینہ برسایا گیا سو کیسا برا مینہ تھا جو اس لوط (علیہ السلام) کی قوم پر برسا جس کو پہلے ہی عذاب الٰہی سے ڈرا دیا گیا تھا مگر نہیں مانے اور آخر کار ہلاک ہوئے۔
Ayah 26:174

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں بڑی سبق آموز عبرت ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے

174۔ بیشک اس لوط (علیہ السلام) کی قوم کے واقعہ میں بڑی سبق آموز عبرت ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 26:175

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب ہی کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنیوالا ہے ۔

175۔ اور بلاشبہ آپ کا پروردگار کمال قوت کا مال بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 26:176

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

مدین کے باشندوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

(176) بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا اور پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا۔
Ayah 26:177

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جبکہ ان لوگوں سے شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں

(177) جبکہ ان لوگوں سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں حضرت شعیب اہل مدین کے پیغمبر ہیں یہ بن جس میں کیکر کے درخت کثرت سے تھے مدین کے قریب تھا اور یہاں بہت سی بستیاں آباد تھیں اس لئے ان بستیوں کی تبلیغ بھی ان کے سپرد کردی ہوگی انہوں نے فرمایا ڈرتے نہیں یعنی عذاب الٰہی سے ڈرو اور شرک کی وجہ سے جن خرابیوں میں مبتلا ہوگئے ہو ان کو چھوڑ دو ۔
Ayah 26:178

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں

(178) میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبرہوں۔
Ayah 26:179

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو

(179) سو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو۔
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا صلہ تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے

(18) اور میں تم سے اس رسالت کی تبلیغ پر کوئی مزدوری اور اجرت طلب نہیں کرتا میرا صلہ اور میرا اجر تو بس رب العالمین ہی کے ذمے ہے یعنی جب دنیوی لالچ بھی کوئی نہیں ہے تب تو سمجھو کہ جو کہتا ہوں تمہارے بھلے کو کہتا ہوں۔
Ayah 26:181

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم پیمانہ کو پورا بھرا کرو اور نقصان پہونچانے والے مت بنو

181۔ تم پیمانے کو پورا بھرا کرو اور نقصان پہونچانے والے نہ بنو یعنی جو چیز کیلی ہے اس میں پیمانہ پورا بھرو اور ماپ پوری رکھو اور جس کا حق ہے اس کو نقصان پہونچانے والے نہ بنو کم ماپو گے صاحب حق کو نقصان پہونچے گا۔
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور ترازو کی ڈنڈی سیدھی رکھ کر تولا کرو

(182) اور سیدھی ترازو سے تولا کرو یعنی جو چیزیں وزنی ہیں اس میں سیدھی ڈنڈی رکھ کر تولا کرو نہ بٹے کم ہوں نہ ترازو میں پاسنگ ہو اور نہ تولتے وقت ڈنڈی مارو۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور ملک میں فساد برپا کرتے نہ پھرا کرو

(183) اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں نقصان نہ پہونچایا کرو اور ملک میں فساد برپا کرتے نہ پھرا کرو۔ یعنی لینے دینے کی ترازو اور بٹے یکساں ہوں یہ نہ ہو کہ لو بڑھتی اور دو کمتی اور لوگوں کو لوٹتے نہ پھرو جیسا کہ تم راہ زنی کرتے پھرتے ہو اور مسافروں کو لوٹتے ہو۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور اگلی تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے

(184) اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور اگلی تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو سب کا خالق ہے۔
Ayah 26:185

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

مدین کے باشندوں نے جواب دیا سوائے اس کے نہیں کہ تو تو سحر زدہ اور جادو کے مارے لوگوں میں سے ہے

185۔ بن کے باشندوں نے جواب دیا سوائے اس کے نہیں کہ تو تو سحر زدہ اور جادو کے مارے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔
Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو تو صرف ہم ہی جیسا ایک آدمی ہے اور اصل بات یہ ہے کہ ہم تو تجھ کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں

(186) اور تو تو صرف ہم جیسا ایک آدمی ہے اور ہم تو تجھ کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں۔
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

سو اگر تو سچوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے

(187) لہٰذا اگر تو سچوں میں سے ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے یعنی اول تو تو ہم جیسا ہی ایک معمولی بشر ہے پھر یہ کہ ہم تجھ کو جھوٹا سمجھتے اور خیال کرتے ہیں لہٰذا اگر تو سچا ہے تو کوئی ٹکڑا آسمان کا ہم پر گرا دے۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا جو کام تم کر رہے ہو ان کو میرا رب خوب جانتا ہے

(188) شعیب (علیہ السلام) نے کہا جو کام تم کر رہے ہو ان کو میرا پروردگار خوب جانتا ہے یعنی آسمان کا ٹکڑا گرا نا یا عذاب لانا یہ پروردگار کا کام ہے وہ جانتا ہے کہ تمہارے اعمال کس عذاب کے مستحق ہیں اور تم پر کب عذاب بھیجا جائے۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

سو یہ لوگ شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے آخر کاران کو سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا بلاشبہ وہ ایک بڑے خوف ناک دن کا عذاب تھا

(189) سو یہ لوگ شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کرتے رہے آخر کار ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا بلاشبہ وہ ایک بڑے خوفناک دن کا عذاب تھا یعنی بادل آیا اور سائبان کی طرح ان پر چھا گیا اس بادل سے آگ برسی بھونچال آیا سخت آواز آئی اور سب مرے کے مرے رہ گئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سائبان کے دن ابر آیا اس میں سے آگ برسی سب قوم جل گئی 12
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں کے واقعہ میں بڑی عبرت آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے

(190) اور بیشک اصحاب الایکہ ہے واقعہ میں بڑی عبرت آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے اور ماننے والے نہیں۔
Ayah 26:191

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب ہی کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے ۔

(191) اور بیشک آپ کا پروردگار کمال قوت کا مالک اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ قرآن رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے

(192) یہاں تک کہ مختلف لوگوں کے سات واقعات بیا ن ہوئے یہ واقعات اوپر مفصلاً مذکور ہوچکے ہیں یہاں مختصراً ذکر ہوئے عاد کی قوم جس طرح تکبر اور تفاخر کی خوگر تھی اسی طرح قوم ثمود کھانے پینے اور مکان تراشنے کی خوگر اور عادی تھی یہ واقعات بھی سورة اعراف میں گزر چکے ہیں اب آگے مکہ والوں کو توجہ دلاتے ہیں اور سابقہ مضمون پھر بیان ہوتا ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں اور بلاشبہ یہ قرآن کریم رب العالمین کا بھیجا ہوا ہے یعنی اس قرآن ک ریم کو اس پروردگار نے اتارا ہے جو تمام اقوام عالم کا پروردگار ہے۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

ایک امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے

(193) اس کو ایک امانت دار فرشتہ آپ کے قلب پر لے کر آیا ہے یعنی اس قرآن کریم کا مطلب یہ ہے کہ جیسا رب العالمین نے اتارا ویسا ہی اس نے آپ کو قلب پر القا کردیا۔
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

اس کو آپ کے قلب پر تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوں

(194) تاکہ آپ بھی منجملہ ڈرانے والے کے ہوں یعنی جس طرح اور پیغمبر نافرمانوں کو ڈرایا کرتے تھے آپ بھی ڈرانے والوں میں سے ہوں۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

وہ فرشتہ اس قرآن کو صاف اور واضح عربی میں لے کر آیا ہے

(195) وہ فرشتہ اس قرآن کریم کو صاف اور واضح عربی زبان میں لے کر آیا ہے اس آیت کا تعلق بھی نزل بہ کے ساتھ ہے۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس قرآن کا ذکر امم سابقہ کی کتابوں میں موجود ہے

(196) اور بلاشبہ اس قرآن کریم کا ذکر امم سابقہ کی کتابوں میں بھی بطور پیشن گوئی کے موجود ہے۔ یعنی پہلی امتوں کی کتابوں میں بھی اس قرآن کریم کے نزول کی پیشن گوئیاں موجود ہیں اور باوجود تحریف و تبدیل کے اب بھی ملتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس قرآن کریم کی خبر لکھی ہے ا گلی کتابوں میں اور اس کا مدعا بھی یہی ہے 12
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کفار مکہ کے لئے یہ بات کافی دلیل نہیں ہے کہ اس پیشن گوئی کو بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں

(197) کیا ان کفار مکہ کے لئے یہ بات کافی دلیل نہیں ہے کہ اس کی خبر اور پیشن گوئی کو بنی اسرائیل کے علماء اور اہل علم جانتے ہیں یعنی اہل کتاب یہودو نصاری کے علماء اس بات سے واقف ہیں کہ توریت و انجیل میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اور اس قرآن شریف کے نزول کا ذکر موجود ہے اب آگے کافروں کے ایک شبہ کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 26:198

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر نازل کردیتے

(198) اور اگر ہم اس قرآن کریم کو کسی غیر عربی یعنی عجمی شخص پر نازل کرتے۔
Ayah 26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ ان کے روبرو ان کو پڑھتا تب بھی یہ لوگ اس کو نہ مانتے

(199) اور وہ عجمی شخص ان کے روبرو اس قرآن کریم کو پڑھتا تب بھی یہ لوگ اس کو نہ مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کہتے تھے کہ قرآن کریم آتا ہے عربی زبان میں اس نبی کی زبان بھی عربی ہے شاید آپ ہی کہتا ہو اگر غیر عربی والے پر آتا تو یقین کرتے فرمایا وھوکے والے کاجی کبھی نہیں ٹھہرتا تب اور شبہ نکالتے کہ کوئی سکھا جاتا ہے 12 مطلب یہ ہے کہ ان کے عناد اور سرکشی کا یہ حال ہے کہ جب کوئی اور بات کہہ دیتے آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اس کفرو انکار کو ان گناہ گاروں ک ے قلوب میں داخل کردیا ہے

(200) اور اسی طرح ہم نے اس کفرو انکار اور ایمان نہ لانے کو ان گناہ گاروں کے دلوں میں داخل کردیا ہے۔ یعنی ان کی شرارت اور ان کے عناد کی وجہ سے ہم نے ان کو مہلت دی لیکن یہ ہماری مہلت سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے رہے تا آنکہ ہم نے ان سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا نولہ ما تولی اسی کو تعبیر فرمایا کذلک سلکنہ اور یہ اثر ہے انتہائی بدبختی اور شقاوت کا ہم پہلے پارے میں مفصلاً عرض کرچکے ہیں یہ حالت روحانی موت کے مرادف ہے العیاد با اللہ آخر میں جب گناہ کا احساس باقی نہ رہے اور کفر کا خوگر بن جائے تو سمجھناچاہئے کہ کام ختم ہوگیا اب ان کے ایمان لانے کی کوئی توقع نہیں لہٰذا ان کے ایمان نہ لانے پر افسوس نہ کیجئے جس پر بدنصیب سے یہ دست توفیق ہٹ جائے اور اس کو اس کی حالت پر چھوڑ دیاجائے تو اس کی شقاوت کا کیا ٹھکانہ۔