26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور جو مجھ کو موت دے گا پھر اس کے بعد مجھ کو زندہ کرے گا

81۔ وہ ایسا ہے جو اپنے وقت پر مجھ کو موت دے گا پھر مجھ کو قیامت میں زندہ کرے گا۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری کوتاہیوں کو درگزر فرمادے گا

82۔ اور وہ ایسا ہے جس سے میں یہ توقع اور امید رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے دن میری کوتاہیوں اور خطائوں کو درگزر فرمائے گا یہ تمام صفات اس لئے بیان فرمائیں کہ قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا شوق اور رغبت ہو یہاں پہنچ کر وفور شوق اور غلبہ حضور سے مناجات شروع کردی جو ایک پیغمبر کی عبودیت کا کمال ہے۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو صحیح فہم عطا کر اور مجھ کو نیک لوگوں کے ساتھ شامل فرما

83۔ اے میرے پروردگار مجھ کو صحیح فہم عطا فرما اور مجھ کو نیک لوگوں کیساتھ شامل کردے حکم کا ترجمہ ہم نے صحیح فہم سے کیا ہے ہوسکتا ہے کہ کمال علم و عمل مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراتب علیا کی طلب مراد ہو شائستہ اور نیک لوگوں کے ساتھ اور اعلیٰ درجے کے لوگوں کے ساتھ مجھے محلق کردے۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ

84۔ اور آنے والی نسلوں میں میرا ذکرخیر جاری رکھ یعنی پیچھے آنے والوں میں میری تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور میرے راستے پرچلیں جیسا کہ آج بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر نیک لوگوں کی زبان پر جاری ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو اور امت ہو اور میرا دین تازہ کریں 12 حدیث شریف میں ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کی محبت اپنی مخلوق کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس سے تمام زمین و آسمان کے رہنے والے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ دریا کی مچھلیاں اور ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی اس بندے سے محبت کرتے ہیں۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھ کو جنت نعیم کے وارثوں میں سے کردے

85۔ اور مجھ کو جنت نعیم کے ورثا میں سے کردے اور جنت کی میراث کے مستحقین میں سے کردے۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو معاف کردے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے

86۔ اور میرے باپ کو ایمان و ہدایت کی توفیق دے کر اس کی مغفرت کردے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے چونکہ وہ گمر کردہ راہ اور مشرک ہے اس لئے اس کو ایمان کی توفیق عنایت کر کہ وہ ایمان لے آئے تو پھر اس کے تمام قصور اور گناہ بخشدے۔
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے اس دن رسوا نہ کی جو جس دن سب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے

87۔ اور جس دن سب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کیجئو یہ لوگوں کے سنانے کو فرمایا تاکہ اس دن سے ڈریں اور یہ سمجھیں کہ وہ دن بہت خطرناک ہے اور قیامت کے دن کی ہیبت ان کے دل میں بیٹھے۔
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

اس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ بیٹے کام آئیں گے

88۔ اس دن نہ کسی کو مال نفع دے گا اور نہ کسی کے بیٹے کام آئیں گے یعنی وہ دن ایسا ہے کہ اس دن نجات کے لئے نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد کام آئے گی۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر ہاں وہ شخص نفع میں رہے گا جو اللہ کے پاس صحیح سالم دل لے کر حاضر ہوگا

89۔ مگر ہاں اس کو نجات نصیب ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے پاس صحیح وسالم دل لے کر حاضر ہوگا۔ یعنی کفر و شرک سے پاک دل اور امراض باطنی سے جو شخص نر و گا دل لیکرحاضر ہوگا وہی نجات کا مستحق ہوگا۔
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی

90۔ اور پرہیز گاروں اور متقیوں کے لئے جنت قریب کردی جائے گی یعنی وہ دن ایسا ہوگا کہ جنت متقیوں کے لئے یعنی جو لوگ شرک سے پرہیز کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں سے جنت قریب کردی جائے گی تاکہ ان کو خوشی ہو۔
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ گمراہوں کے سامنے ظاہر کردی جائے گی

(91) اور دوزخ گمراہوں کے لئے ظاہر کردی جائے گی یعنی دین حق کے منکروں کے روبرو دوزخ کردی جائے گی تاکہ ان کو جہنم کا یقین آجائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں یعنی بتائو وہ تمہارے معبودان باطلہ کہاں ہیں۔
Ayah 26:92

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان گمراہوں سے کہا جائیگا کہ اب وہ کہاں ہیں جن کو تم پوجا کرتے تھے

(92) اور ان منکروں اور گمراہوں سے کہاجائے گا کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے وہ کہاں ہیں یعنی بتائو و ہ تمہارے معبودان باطلہ کہاں ہیں۔
Ayah 26:93

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے سوا کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا وہاپنا ہی کچھ بچائو کرسکتے ہیں

(93) کیا وہ معبود تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا وہ اپنی ہی کچھ بچائو کرسکتے ہیں یعنی وہ فرضی اور خود ساختہ معبود نہ تمہاری مدد کسرکتے ہیں نہ اپنا ہی بدلا لے سکتے ہیں۔
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ معبود ان باطلہ اور وہ گمراہ لوگ

(94) پھر وہ خود ساختہ معبود اور ان کے پجاری اور پوجنے والے گمراہ لوگ۔
Ayah 26:95

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور شیطان کے لشکر سب کے سب اوندھے منہ دوز خ میں ڈال دئیے جائیں گے

(95) اور شیطان کے تما م لشکر اوندھے منہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے یعنی بت پرست اور شیطانی لشکر سب کو اکٹھا کرکے جہنم میں جھونک دیاجائے گا۔
Ayah 26:96

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

گمراہ لوگ اس دوزخ میں معبودان باطلہ سے جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے

(96) جہنم میں جانے کے بعدیہ گمراہ مشرک ان فرضی معبودوں سے جھگڑا کرتے ہوئے کہیں گے ۔
Ayah 26:97

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

بیشک خدا کی قسم ہم تو اس وقت صریح گمراہی میں تھے

(97) خدا کی قسم ہم اس وقت صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ مساوی درجہ دیا کرتے تھے

(98) جس وقت ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ برابری کا درجہ دیا کرتے تھے اور تم کو رب العالمین کے مساوی سمجھتے تھے۔
Ayah 26:99

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو تو بس ان بڑے مجرموں یعنی سرداروں نے گمراہ کیا

(99) اور ہم کو تو بس ان بڑے مجرموں نے گمراہ کیا تھا یعنی جب سب جہنم میں داخل کردئیے جائیں گے تو وہاں آپس میں سخت تو تو میں میں ہوگی اور وہاں یہ گمراہ مشرک اس بات کا اعتراف کریں گے کہ ہم نے تم کو رب العالمین کا شریک بنانے میں بڑی سخت غلطی کی اور یہ بھی کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا بڑا سبب یہ ہمارے سردار شیاطین ہوئے جو آج ہماری طرح بےیارو مددگار جہنم میں پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو آج نہ تو سفارش کرنے والوں میں سے کوئی ہماری سفارش کرنیوالا ہے

(100) پھر اب سفارش کرنے والوں میں سے نہ تو کوئی ہماری سفارش کرنے والا ہے۔
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی ہمدردی کرنیوالا دوست ہے

(101) اور نہ کوئی ہمدردی کرنے والا مخلص دوست ہے۔
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کیا اچھا ہوتا کہ ہم کو پھر واپس جانا ملتا تو ہم بھی ایمان والوں می سے ہوجاتے

(102) پس کیا اچھا ہوتا کہ ہم کو دنیا میں پھر واپس جانا مل جاتا تو ہم بھی ایمان والوں میں س ہوجاتے ۔ یعنی نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہے جو سفارش کرکے اس عذاب سے پیچھا چھڑائے اور نہ کوئی مخلص اور غم خوار دوس جو کم سے کم ہمدردی کرکے ہمارے غم کو ہلاک کرے کیا اچھا ہو اگر ہم کو پھر واپس ہونے کا ایک موقعہ مل جائے تو ہم بھی ایمان لا کر ایمان والوں میں سے ہوجائیں۔
Ayah 26:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس واقعہ ابراہیمی میں بڑی عبرت ہے اور باوجود اس کے ان کافروں میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

(103) بیشک اس واقعہ ابراہیمی میں بڑی عبرت و موعظمت ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر منکر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 26:104

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب کمال قوت کا مالک نہایت مہربانی کرنے والا ہے

(104) بلاشبہ آپکا پروردگار کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی کرنیوالا ہے۔
Ayah 26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے پیغمبروں کی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا

(105) نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا اور ان کو جھوٹا بنایا یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا بھی یہی رویہ تھا کہ پیغمبروں کی تکذیب کیا کرتیت ہے یا تو حضرت نوح (علیہ السلام) کی تشریف آوری سے پہلے سے یہی عادت تھی کہ جو نبی آیا اس کو جھوٹا بتایا یا حضرت نوح (علیہ السلام) کی فقط تکذیب کو انبیاء کی تکذیب فرمایا کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب سے کل پیغمبروں کی تکذیب لازم آتی ہے۔
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جبکہ ان سے ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کیا تم لوگ ڈرتے نہیں

(106) جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ؟ برادری ایک تھی اس لئے بھائی فرمایا ڈرتے کیوں نہیں اگر ڈرو تو اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔
Ayah 26:107

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تم سب کے لئے ایک امانت دار پیغمبر ہوں

(107) میں تم سب کے لئے ایک امین اور امانت دار پیغمبرہوں۔
Ayah 26:108

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

(108) سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو امانت دار یعنی جو پیغام اللہ تعالیٰ کی جانب سے آتا ہے اس کو بلا کم وکاست تم تک پہنچاتا ہوں لہٰذا ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں تم سے اس تبلیغ پر کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو بس رب العالمین ہی کے پاس ہے

(109) اور میں تم سے اس رسالت کی تبلیغ پر کچھ مزدوری نہیں مانگتا میرا صلہ اور میرا اجر تو بس رب العالمین کے ذمہ ہے۔
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

(110) سو تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو یعنی اس ادائے رسالت پر جب تم سے کوئی دنیوی فائدہ بھی حاصل نہیں کرتا تو اس بےغرضی اور بےنفسی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت و پیروی کرو۔
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

قوم کے لوگوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ کو مان لیں حالانکہ چند رذیل لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں

(111) اس پر قوم کے لوگوں نے جواب دیا کیا ہم تجھ کو مان لیں حالانکہ چند رذیل لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں رذیل کہا پیشہ وروں کو اور ان کے پاس بیٹھنے کو عار بتایا کہ ہم ان کے پاس نہیں بیٹھ سکتے یہ کفر کا خاص شیوہ ہے کہ پیشہ ورہ خدمت گزاروں کو ذلیل اور اچھوت سمجھتے ہیں۔
Ayah 26:112

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح (علیہ السلام) نے کہا جو کام اور پیشہ یہ لوگ کرتے ہیں مجھے اس کے معلوم کرنے سے کیا بحث

(112) حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا جو کام اور پیشہ یہ لوگ کرتے ہیں مجھ کو اس کے جاننے اور معلوم کرنے سے کیا بحث۔
Ayah 26:113

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان لوگوں کا حساب کتاب تو اللہ ہی کے ذمہ ہے کاش ! تم اس بات کو سمجھتے

(113) ان لوگوں سے اس کا حساب کتاب لینا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے کاش تم اس بات کو سمجھتے
Ayah 26:114

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے دور کرنے والا نہیں ہوں

(114) اور میں ایمان لانے والوں کو اپنے پاس سے ہانکنے اور ہٹانے والا نہیں۔
Ayah 26:115

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صاف طور پر صرف ایک ڈرانے والا ہوں

(115) میں تو صاف طورپر صرف ایک ڈرانے والا ڈر سنانے والا ہوں یعنی مجھے کسی کے پیشے کا حال معلوم کرنے سے کیا مطلب پیشے کا حساب کتاب لینا تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور میں یہ کس طرح کرسکتا ہوں کہ ایک مسلمان کو محض اس کی غربت اور مفلسی کی وجہ سے اپنی مجلس سے ہٹا دوں اور اٹھادوں میرا کام تو صرف تبلیغ رسالت ہے جو نافرمانی کرے اس کو خدا کے عذاب سے ڈرادوں کاش ! تم بھی اتنی بات سمجھتے کسی کو کمینہ یا رذیل بنانا میرا کام نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کمینے کہا محنتی لوگوں کو ہر پیغمبر کے ساتھ اول غریب ہوتے ہیں سو فرمایا مجھ کو ان کا صدق قبول ہے ان کے کام سے کیا غرض کہ ان کا پیشہ کیا ہے 12
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

اس پر قوم کے لوگوں نے کہا اے نوح (علیہ السلام) اگر تو اپنے طریقہ کار سے باز نہ آئے گا تو ضرور تو سنگسار کردیاجائے گا

(116) اس پر قوم کے لوگوں نے کہا اے نوح (علیہ السلام) تو اگر اپنے طریق کار سے باز نہ آیا تو ضرور سنگسار کردیاجائے گا یعنی پتھروں سے کچل دیاجائے گا سالہا سال تک قوم سیی ہی کشمکش جاری رہی۔
Ayah 26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

انجام کار نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے پروردگار میری قوم میری تکذیب کر رہی ہے

(117) نوح (علیہ السلام) نے پروردگار کی جناب میں عرض کیا اے میرے پروردگار ! میری قوم برابر میری تکذیب کر رہی ہے اور مجھ کو جھوٹابتا رہی ہے۔
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو اب تو میرے اور ان کے مابین ایک فیصلہ کردے اور مجھ کو اور ان ایمان والوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دیدے

(118) لہٰذا ! آپ میرے اور ان کے درمیان ایک فیصلہ کردیجئے اور مجھ کو اور ان ایمان والوں کو جو میرے ساتھ ہیں نجات دیدیجئے یعنی ایک عملی فیصلہ کردے ان ظالموں کو ہلاک کردے اور میرے ساتھیوں کو اس ہلاکت سے نجات دیدے۔
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا اور جو ایک ایسی کشتی میں سوار تھے جو سوار ہونے والوں سے پُر تھی

(119) چناچہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسی کشتی میں بچا لیا جو سوار ہونے والوں سے بھری ہوئی تھی ۔
Ayah 26:120

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کو بچا لینے کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا

(120) پھر ہم نے ان کو بچالینے کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا یعنی طوفان آیا حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ایک کشتی میں سوارکرکے بچا لئے گئے اور تمام قوم طوفان کی نذر ہوگئی تفصیل بارہویں پارے میں گزر چکی ہے۔