7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 7:163–170

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسکو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (انکو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

آیت نمبر 163 تا 171 ترجمہ : اے محمد ﷺ توبیخاً ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو بحر قلزم کے قریب واقع تھی کہ اس کے باشندوں پر کیا گزری ؟ اور وہ بستی اَیْلہ تھی، جبکہ وہ ہفتہ کے روز مچھلی کے شکار کے بارے میں تجاوز کر رہے تھے، حالانکہ اس دن میں شکار نہ کرنے کے مامور تھے، اور مچھلیاں ہفتہ کے دن ابھر ابھر کر پانی کی سطح پر آتی تھیں اِذْ ، یَعْدُوْنَ کا ظرف ہے اور ہفتہ کے علاوہ دونوں میں جن کی وہ ہفتہ کے دن کے مانند تعظیم نہیں کرتے تھے، یعنی ہفتہ کے علاوہ بقیہ دونوں میں اللہ کی طرف سے آزمائش کے طور پر نہیں آتی تھیں، حد سے تجاوز کرنے والوں کی ہم اسی طرح آزمائش کرتے ہیں، اور جب انہوں نے ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار کرلیا تو وہ بستی تین فرقوں میں تقسیم ہوگئی، ان میں سے ایک تہائی نے ان کے ساتھ شکار کیا، اور ایک تہائی نے ان کو منع کیا اور ایک تہائی نے نہ شکار کیا اور نہ (شکار کرنے والوں کو) منع کیا، اور جب ان میں سے اس فریق نے جس نے یہ شکار کیا اور نہ (دوسروں) کو منع کیا ان لوگوں سے کہا جنہوں نے منع کیا، تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، جن کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے، یا ان کو سخت عذاب دینے والا ہے اِذْ ما قبل کے اِذْ پر معطوف ہے، تو انہوں نے جواب دیا ہماری نصیحت عذر خواہی کیلئے ہے جس کو ہم تیرے رب کے حضور پیش کریں گے تاکہ ترک نہی کی کوتاہی ہماری طرف منسوب نہ کی جائے اور تاکہ وہ شکار سے باز آجائیں، آخر کار جب وہ ان نصیحتوں کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو ان کو کی گئی تھیں تو وہ باز نہ آئے، تو ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو اب کو برائی سے روکتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کو جنہوں نے تعدی کرکے ظلم کیا سخت عذاب میں پکڑ لیا اس لئے کہ وہ حلم عدولی کیا کرتے تھے، پھر جب انہوں نے منہی عنہ کے ترک پر سرکشی دکھائی تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر ہوجاؤ، تو وہ بندر ہوگئے، اور یہ ماقبل کی تفصیل ہے، (یعنی فَلَمَّا میں فاء تفصیلیہ ہے نہ کہ تعقیبیہ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا، میں نہیں جانتا کہ سکوت اختیار کرنے والے فرقہ کے ساتھ کیا معاملہ کیا گیا ؟ اور عکرمہ نے کہا وہ ہلاک نہیں کئے گئے اسلئے کہ انہوں نے تعدی کرنے والوں کے فعل کو ناپسند کیا، اور کہا لِمَ تَعِظلون قوماً الخ، اور حاکم نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے توقف کے بعد حاکم کے قول کی طرف رجوع کیا، اور اس کو پسند فرمایا، اور یاد رکھو جبکہ تیرے رب نے اعلان فرمایا کہ وہ ان یہود پر قیامت تک ایسے لوگ مسلط کرتا رہے گا جو ان کو ذلت کے ساتھ اور ٹیکس (جزیہ) عائد کرکے سخت عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے چناچہ ان پر سلیمان (علیہ السلام) کو مسلط فرمایا، اور اس کے بعد بخت نصر کو تو اس نے ان کو قتل کیا اور قید کیا، اور ان پر (جزیہ) ٹیکس عائد کیا، جس کو وہ مجوسیوں کو ادا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمارے نبی محمد ﷺ مبعوث کئے گئے تو آپ نے بھی ان پر جزیہ عائد کیا، یقیناً تیرا رب اپنی نافرمانی کرنے والے کو سزا دینے میں تیز دست ہے، اور اہل اطاعت کے لئے غفور و رحیم بھی ہے، اور ہم نے ان کو زمین کے ٹکڑے کرکے مختلف گروہ بنادیا ان میں سے کچھ نیک ہوئے اور کچھ اس کے برعکس کافر اور فاسق ہوئے، اور ہم نے ان کو نعمت و نقمت کے ذریعہ اچھے برے حالات کے ذریعہ آزمائش میں مبتلا کیا تاکہ وہ اپنے فسق سے باز آجائیں، پھر اگلے لوگوں کے بعد ایسے ناخلف جانشین ہوئے جو اپنے آباء سے کتاب (یعنی) تورات کے وارث ہوئے کہ وہا سی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹ رہے ہیں، یعنی اس دنیائے دنی کی حقیر چیز خواہ حلال یا حرام (سمیٹ رہے ہیں) اور کہہ دیتے ہیں کہ ہماری حرکتوں کو معاف کردیا جائیگا اور اگر اسی جیسی متاع دنیا دوبارہ سامنے آتی ہے تو پھر اسے لپک کرلے لیتے ہیں اور ویقولون الخ جملہ حالیہ ہے، یعنی حال یہ کہ وہ مغفرت کی امید رکھتے ہیں حالانکہ وہ اپنی حرکتوں کا بار بار اعادہ کرتے ہیں، اور اس پر اصرار کرتے ہیں اور تورات میں اصرار کے ہوتے ہوئے مغفرت کا کوئی وعدہ نہیں ہے، کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جاچکا استفہام تقریری ہے، اضافت بمعنی فی ہے، کہ وہ اللہ کے بارے میں وہی بات کہیں جو حق ہو (اور کیا) انہوں نے کتب میں جو کچھ ہے اس کو نہیں پڑھا دَرَسُوْا کا عطف یوخَذُ پر ہے، تو پھر اصرار کے باوجود اس کی طرف مغفرت کی نسبت کرکے بہتان کیوں باندھتے ہیں، اور دار آخرت تو حرام سے بچنے والوں ہی کے لئے بہتر ہے کیا وہ اس کو سمجھتے نہیں ہیں کہ دار آخرت بہتر ہے، یاء اور تاء کے ساتھ، کہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیں اور ان لوگوں کا جو ان میں سے کتاب کو تھامے ہوئے ہیں (یمسکون) تشدید و تخفیف کے ساتھ ہے، اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے رفقاء، یقیناً ہم نیک کردار لوگوں کا اجر ضائع نہ کریں گے، یہ جملہ، الذین کی خبر ہے، اور اس میں ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو لایا گیا ہے، ای اجرھم، اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے پہاڑ کو جڑ سے اکھاڑ کر ان کے اوپر اس طرح چھا دیا تھا گویا کہ وہ چھتری ہے اور اس بات کا یقین کئے ہوئے تھے کہ وہ ان کے اوپر آپڑے گا، اللہ کے ان سے اس (پہاڑ) کو (ان کے اوپر) ڈال دینے کا وعدہ کرنے کی وجہ سے، اگر وہ تورات کے احکام کو قبول نہ کریں گے، اور وہ ان (احکام) کے گراں (مشکل) ہونے کی وجہ سے (قبول کرنے سے) انکار کرچکے تھے، چناچہ انہوں نے (اس وقت) قبول کرلیا، اور ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھا مو، یعنی کوشش اور محنت سے، اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے عملی طور پر یاد رکھو توقع ہے کہ تم (غلط روی سے) بچے رہو گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاسْئَلْھُمْ عَنِ القَرْیَۃِ الَّتی کانَتْ حَاخِرَۃَ البَحْرِم آپ ﷺ کو چونکہ اہل قریہ کے حالات معلوم تھے اس لئے سوال برائے علم کا کوئی مقصد نہیں ہے، اسی لئے اس سوال کو سوال توبیخ و تقریع قرار دیا ہے۔ قولہ : حاضِرَۃَ البَحْرَ ، ای بجوار البحر، اس قریہ کے بارے میں اقوال مختلف ہیں، بعض نے اَیْلَۃ، کہا ہے اور بعض نے طبریہ، اور بعض نے مدین اور بعض نے ایلیاء اور کہا گیا ہے کہ شام میں ساحل بحر کے قریب مراد ہے کہا جاتا ہے، کنتُ بحضرۃ الداری بقربھا۔ (فتح القدیر، شوکانی) ۔ قولہ : شُرَّعًا یہ شارع کی جمع ہے بمعنی ظاہر ہونا۔ قولہ : مَوْعِظتُنَا، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے سول یہ ہے کہ مَعْذِرَۃً قالوا کا مقولہ ہے اور مقولہ کا جملہ ہونا ضروری ہوتا ہے حالانکہ معذِرۃ مفرد ہے اس کا جواب دیا کہ یہ قالوا کا مقولہ نہیں ہے بلکہ مبتداء محذوف کی خبر ہے، اور وہ موعظتنا ہے، اور یہ معذرۃٌ کی رفع کی قراءت کی صورت میں ہے اور نصب کی صورت میں فعل محذوف کا مفعول لہ ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی، عظناھم معذِرۃً ای لمعذرۃٍ ۔ قولہ : وھذا تفصیلٌ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال، یہ کہ فَلَمَّا عَتَوْا پر فاء داخل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پہلے سزا دی مگر انہوں نے پھر بھی سرکشی کی، اس کی سزا میں ان کو بندروں کی شکل میں مسخ کردیا، حالانکہ ان کو صرف یہی مسخ کا ایک عذاب دیا گیا اس کے علاوہ کوئی عذاب نہیں دیا گیا اور فَلَمَا میں فاء تفصیل کی ہے نہ کہ تعقیب کی۔ قولہ : اُمَماً یا تو قطعنا کی ضمیر سے حال ہے یا قطّعنا کا مفعول ثانی ہے۔ قولہ : نَاسٌ منھم خبر مقدم ہے دون ذلک موصوف محذوف کی صفت ہے اور وہ مبتداء ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ومنھم ناسٌ قوم دون ذلک۔ قولہ : الجُمْلَۃَ حالٌ وَان یاتیھم عرض مثلہ یأخذوہ، یہ جملہ یقولون کی ضمیر سے حال ہے، اور یقولون بمعنی یعتقدون ہے۔ تفسیر و تشریح واسئلھم عن القریہ، ھُمْ ضمیر سے مراد یہود ہیں، اس میں یہود کو یہ بتانا ہے کہ اس واقعہ کا علم نبی ﷺ کو بھی ہے جو آپ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ اس کا علم آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے وحی ہی کے ذریعہ ہوسکتا تھا، قریۃ، کی تعیین میں اختلاف ہے جس کو تحقیق و ترکیب کے زیر عنوان بیان کردیا گیا ہے دیکھ لیا جائے۔ ربط آیات : جاری رکوع سے پہلے رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بقیہ قصہ کا بیان تھا اس رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی غلط کاریوں کا ذکر ہے اور ان کے انجام کا بیان ہے۔ اذ یعدون۔۔۔ شرعا (الآیۃ) محققین کی غالب رائے اس مقام کے بارے میں یہ ہے کہ یہ مقام اَیْلَۃ یا ایلات، یا ایلوت تھا، جہاں اب اسرائیل کی یہودی ریاست نے اسی نام کی ایک بندرگاہ بنائی ہے، اس کے قریب ہی اردن کی مشہور بندرگاہ عقبہ واقع ہے۔ جس واقعہ حیتان کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے اس کے متعلق یہود کی کتب مقدسہ میں کوئی ذکر نہیں ملتا مگر قرآن میں جس انداز سے اس واقعہ کو یہاں اور سورة بقرہ میں بیان کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے دور میں بنی اسرائیل بالعموم اس واقعہ سے واقف تھے اور یہ حقیقت ہے کہ مدینہ کے یہودیوں نے جو نبی ﷺ کی مخالفت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے قرآن کے اس بیان پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں کیا۔ یوم السبت (شنبہ) ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں، یہ دن بنی اسرائیل کے نزدیک مقدس قرار دیا گیا تھا، اور آج بھی مقدس مانا جاتا ہے، اس روز کوئی دنیوی کام نہیں کیا جاتا تھا، جانوروں، لونڈیوں، غلاموں غرضیکہ پر قسم کا دنیوی کام موقوف رکھا جاتا تھا، اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرتا تھا وہ واجب القتل سمجھا جاتا تھا، لیکن آگے چل کر بنی اسرائیل نے اس قانون کی خلاف ورزی شروع کردی۔ یوم السبت میں مچھلی پکڑنے کا واقعہ : قرآن کریم کے واقعہ حیتان کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی میں تین قسم کے لوگ تھے ایک وہ جو بلا خوف و خطر دھڑلے سے احکام الہیٰ کی خلاف ورزی کر رہے تھے دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے، اور جو لوگ روک ٹوک کر رہے تھے ان سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا فائدہ ؟ تیسرے وہ لوگ جو حدود اللہ کی کھلم کھلا اس خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرسکتے تھے وہ اس خیال سے کہ شاید ہماری نصیحت سے یہ لوگ احکام الہیٰ کی خلاف ورزی سے باز آجائیں، اور ہم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کا بیان ہے کہ ان تینوں فریقوں میں سے صرف تیسرا فریق ہی اس عذاب سے محفوظ رہا، بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کے متعلق مبتلائے عذاب ہونے کی تصریح کی ہے مگر دوسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے لہٰذا اسکے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نجات پانے والوں میں تھے یا مبتلائے عذاب ہونے والوں میں، امام ابن کثیر کا رجحان اسطرف ہے کہ مبتلائے عذاب صرف پہلا گروہ ہوا باقی دونوں گروہ نجات پانے والوں میں تھے۔ واذ تأذن۔۔۔۔ القیامۃ (الآیۃ) تأذَّنَ ، ایذان سے ہے اسی کے معنی خبردار کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں، لَیبعَثنَّ ، میں لام تاکید ہے جو قسم کے معنی کا فائدہ دیتا ہے، یعنی قسم کھا کر نہایت تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب میں مبتلا کرتا رہے گا، چناچہ یہودیوں کی پوری تاریخ اسی ذلت و مسکنت اور غلامی کی تاریخ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دی ہے، اسرائیل کی موجودہ ریاست قرآن کی بیان کردہ حقیقت کے خلاف نہیں اسلئے کہ وہ قرآن کے بیان کردہ استثناء، وحبل من الناس کا مظہر ہے جو قرآنی بیان کردہ حقیقت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مؤید ہے۔ اسرائیل کی موجودہ ریاست سے مغالطہ : چند سالوں سے فلسطین کے ایک حصہ پر ان کے قبضہ و اقتدار و اجتماع سے دھوکا نہ ہونا چاہیے اسلئے کہ اجتماع تو ان کا اس جگہ آخری زمانہ میں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ صادق و مصدوق رسول کریم ﷺ کی احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ قرب قیامت آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے نصاری سب مسلمان ہوجائیں گے اور یہود سے جہاد کرکے ان کو قتل کردیں گے، فلسطین میں بنی اسرائیل کو جمع کیا گیا ہے تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے قتل کرنے میں آسانی ہو۔ قضیہ قدس اور اس کا تاریخی پس منظر : شام اور فلسطین کو بیشمار انبیاء کرام کی سرزمین ہونے کا شرف حاصل ہے فلسطین وہ خطہ قدس ہے کہ جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حبرون کو اپنی تبلیغی دعوت کا مرکز بنایا اور بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی بنیاد ڈالی حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) نے اسی سرزمین میں توحید اور حق و صداقت کی آواز بلند کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ارض موعود یہی سرزمین تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جائے پیدائش ہونے کا شرف اسی سرزمین کو حاصل ہے اسی سرزمین میں واقع مسجد اقصیٰ سے حضرت محمد ﷺ سفر معراج پر تشریف لے گئے ہجرت کے ابتدائی دور میں یہی مسجد مسلمانوں کا قبلہ رہی۔ فلسطین اور مسلمان : اس دور کی طاقتور ترین (سپر پاور) رومی سلطنت تھی جس کا حکمران ہرقل اپنے دور کا سب سے بڑا سپہ سالار سمجھا جاتا تھا، شام و فلسطین اسی کے زیر اقتدار تھے، جنگ یرموک حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اسی کے دور میں لڑی گئی تھی، یہ جنگ حضرت خالد بن ولید کی سالاری میں لڑی گئی، حضرت خالد بن ولید نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا خوب خوب مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے صرف چالیس ہزار مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زیادہ رومی فوجوں کو شکست دیکر پسپائی پر مجبور کردیا، جب قیصر روم (ہرقل) کو رومی افواج کی پسپائی کی خبر ملی تو بصد رنج و غم اپنی سلطنت کو الوداع کہہ کر قسطنطنیہ کا رخ کیا، ملک شام کی فتح کے ساتھ ہی بیت المقدس مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا۔ عیسائیوں کی شرط کے مطابق حضرت عمر نے 16 ھ میں بہت المقدس کا وہ مشہور سفر کیا جس میں آپ اور آپ کا غلام باری باری اونٹ پر سفر کرتے تھے اور بیت المقدس میں داخلے کے وقت غلام کے سوار ہونے کی باری تھی۔ فلسطین اور بنو امیہ و بنو عباس : حضرت عمر ؓ کے بعد بنو امیہ اور اس کے بعد بنو عباس کا دور آیا اس دور میں فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں رہا، اس کے بعد سلجوقیوں کے دور میں ملک شاہ کے انتقال کے بعد سلجوقیوں کا زوال شروع ہوگیا، جس کی وجہ سے شام اور ایشائے کو چک ایک بار پھر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔ صلیبی جنگوں کی ابتداء : یہی وہ دور ہے کہ جب صلیبی جنگیں لڑی گئیں، عیسائیوں نے مسلمانوں کی کمزوری اور خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبی جنگوں کا سلسلہ شروع کردیا، ان جنگوں میں یورپ کے علاوہ جرمنی، فرانس، اٹلی کی ایک زبردست فوج بیت المقدس کی بازیابی کیلئے روانہ ہوئی، مسلمانوں کی خانہ جنگی اور کمزوری نے مسلمانوں کو شکست سے دو چار کردیا جس کی وجہ سے پورا ساحلی علاقہ نیز بیت المقدس 542 ھ میں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا، اس جنگ میں تقریباً ستر ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اور بیت المقدس کی بازیابی : 531 ھ تا 541 ھ عماد الدین زنگی نے بیت المقدس کو واپس لینے کی کوشش کی مگر وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکے، ان کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے نور الدین زنگی نے اپنے والد عماد الدین زنگی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بیت المقدس کو قبضہ فرنگ سے آزاد کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی مقصد میں کامیابی سے پہلے ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ مصر کی فتح کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کو وہاں کا حاکم مقرر کیا گیا سلطان بڑی خوبیوں اور صلاحیتوں کا مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خدا ترس مجاہد بھی تھا، نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد ان کی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے پوری سلطنت صلاح الدین ایوبی کے قبضہ میں آئی، سلطان کی زندگی کی سب سے بڑی آرزو فتح بیت المقدس تھی چناچہ حطین کے میدان میں اسلامی اور رومی فوجوں کا مقابلہ ہوا، سلطان کو فتح و کامرانی نصیب ہوئی، ایک طویل زمانہ کے بعد بیت المقدس پھر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا جس کی وجہ سے عیسائی دنیا میں کھل بلی مچ گئی۔ پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ : پہلی جنگ عظیم سے پہلے فلسطین خلافتِ عثمانیہ کا ایک حصہ تھا، جرنل اللنبی کی سپہ سالاری میں انگریزی فوجیں بیت المقدس میں داخل ہوگئیں اور انگریزی سپہ سالار نے اعلان کردیا کہ صلیبی جنگ آج بھی جاری ہے، پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے عربوں سے آزاد مملکت کا وعدہ کیا تھا مگر یہ وعدہ سراسر فریب تھا، اسی زمانہ میں فرانس اور برطانیہ نے خفیہ معاہدہ کے تحت عرب علاقوں کو آپس میں تقسیم کرلیا۔ صیہونی عزائم اور سقوط بیت المقدس : فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کا قیام دنیا کی تاریخ کا ایک نہایت افسوسناک اور تایک باب ہے اور مسلمانوں کیلئے ایک رستا ہواناسور بھی، صیہونی درندوں نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم کی ہے جس کا تصور بھی محال ہے، اور یہ کاروائی گزشتہ نصف صدی سے تاہنوز جاری ہے نومبر 1917 ء میں خلافت عثمانیہ (ترکی) کی شکست کے بعد برطانیہ کے خارجہ امور کے سکریڑی مسٹر بالفور (Mr Bolfore) نے حکومت برطانیہ کئ طرف سے ایک اعلان کیا جو اعلان بالفور کے نام سے مشہور ہے، اس اعلان کے مطابق صیہونی لیڈروں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کو ایک علیحدہ وطن دیا جائیگا، کونسل اوف لیگ آف نینز (اس وقت کی اقوام متحدہ) نے 22 جولائی 1920 ء کی فلسطین پر قانونی حکومت کا اختیار برطانیہ کو دیدیا اسی اختیار کے ساتھ یہودیوں نے دنیا کے کونے کونے سے فلسطین کی طرف نقل مکانی شروع کردی 1947 ء میں جرنل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کی قرار دار منظور کی گئی 15 مئی 1947 ء میں برطانیہ نے مکمل طور پر دست برداری کا اعلان کردیا اور اسی تاریخ کو اسرائیلی ریاست کا اعلان کردیا گیا، اسی وقت سے اسرائیل اپنی توسیع پسند پالیسی پر گام زن ہے۔ 1948 ء میں جب یہودی ریاست قائم ہوئی تو اس کا رقبہ صرف پانچ ہزار تین سو مربع میل تھا اور اس کی حدود میں پانچ لاکھ یہودی اور پانچ لاکھ چھ ہزار عرب آباد تھے اب یہ رقبہ 33 ہزار مربع میل ہوگیا ہے، 19 اگست 1949 ء میں مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کا واقعہ پیش آیا جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا بنوایا ہوا پیش قیمت منبر بھی جل گیا تھا اس واقعہ نے پوری اسلامی دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی، آتش زنی کا یہ واقعہ مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کی صیہونی سازش کا ایک حصہ تھا، اس کے بعد یہود نے جب مسجد اقصیٰ کی دیواروں کے قریب ہیکل سلیمانی کے آثار معلوم کرنے کیلئے کھدائی شروع کی تو ان شبہات کو مزید تقویت پہنچی کہ یہودی مسجد اقصیٰ کو کسی نہ کسی بہانہ سے گرا کر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی ازسر نو تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کا نقشہ انجینیروں نے تیار کرلیا ہے۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا) ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔

واذ نقتنا الجبل فوقھم (الآیۃ) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس تورات لائے اور اس کے احکام ان کو سنائے تو انہوں نے حسب عادت عمل کرنے سے انکار کردیا جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان پر پہاڑ بلند کیا کہ تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائیگا، جس سے ڈرتے ہوئے انہوں نے تورات پر عمل کرنے کا عہد کرلیا، بعض کہتے ہیں کہ رفع جبل کا یہ واقعہ ان کے مطالبہ پر پیش آیا جب انہوں نے کہا کہ ہم تورات پر عمل اس وقت کریں گے جب اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر پہاڑ کو بلند کرکے دکھائے، مگر پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

آیت نمبر 172 تا 181 ترجمہ : اور یاد کرو اس وقت کو کہ تیرے رب نے جب اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا، مَنْ ظُھُوْرِھم اپنے ماقبل (من بنی آدم) سے اعادہ جار کے ساتھ بدل ہے بایں طور کہ وادی نعمان میں عرفہ کے دن بعض کو بعض کی پشت سے صلب آدم سے چیونٹی کی شکل میں نکالا نسلاً بعد نسل اس کے مطابق کہ جس طرح پیدا ہوں گے اور اپنی ربوبیت پر ان کیلئے دلائل قائم کئے اور ان کے اندر عقل کو ترتیب دیا، اور خود ان کو ان کے اوپر شاہد بنایا (اللہ) نے فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے جواب دیا بیشک آپ ہمارے رب ہیں اور یہ گواہ بنانے کا کام اس لئے کیا تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس توحید سے بیخبر تھے یعنی ہمیں اس کا علم نہیں تھا، یا یہ نہ کہنے لگو کی شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباء نے کیا تھا دونوں جگہ یاء اور تاء کے ساتھ، (یاء کی صورت میں) کفار مراد ہوں گے، اور ہم تو بعد کون کی ذریت سے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ہم نے ان کی اقتداء کی پھر کیا آپ ہمیں ان کے قصور کی پاداش میں سزا دیتے ہیں جو ہمارے آباء میں سے غلط کار لوگوں نے شرک کی بنیاد ڈال کر کیا مطلب یہ ہے کہ ان کو اپنی ذات پر گواہ بنانے کے بعد اس قسم کا احتجاج ممکن نہ رہے گا اور صاحب معجزہ (نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی زبانی یاد دلانا خود ان کے دلوں میں یاد رہنے کے قائم مقام ہے اور ہم اسی طرح نشانیاں واضح طور پر بیان کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے عہد الست کو بیان کیا تاکہ ان میں غور و فکر کریں تاکہ وہ کفر سے باز آجائیں اے محمد ﷺ یہود کو اس شخص کی خبر سناؤ جس کو ہم نے اپنی نشانیاں (کرامات) عطا کی تھیں تو وہ کفر کی وجہ سے ان کرامات سے نکل گیا جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے اور وہ علماء بنی اسرائیل میں سے بلعم بن باعورا تھا، اس سے درخواست کی گئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کیلئے بددعاء کر دے اور اس کو کچھ ہدیہ بھی دیا گیا چناچہ اس نے بددعاء کردی مگر وہ بددعاء اسی پر پلٹ گئی، اور اس کی زبان نکل کر اس کے سینے پر لٹک گئی، پھر شیطان نے اس کا پیچھا کیا چناچہ اس کا پالیا اور اس کا دوست بن گیا، تو وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوگیا، اگر ہم چاہتے تو ان آیات کی بدولت اسے اعلیٰ درجات پر فائز کردیتے اس طریقہ پر کہ اس کو عمل کی توفیق عطا کردیتے، مگر وہ پستی، یعنی دنیا کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اس کی طرف مائل ہوگیا اور خواہشات کی طرف بلانے میں اپنی خواہش کی پیروی کی تو ہم نے بھی اس کو پست (ذلیل) کردیا، تو اس کی مثال اس کتے جیسے ہوگئی کہ اگر تو دھتکار کے ذریعہ اس پر سختی کرے تو زبان لٹکائے رہے، اور اگر تو چھوڑ دے تب بھی زبان لٹکائے رہے، کتے کے علاوہ کسی جانور میں یہ خاصیت نہیں ہے اور دونوں شرطیہ جملے حال ہیں یعنی لاھثاً ذلیلا، حال یہ کہ وہ زبان لٹکائے ہرحال میں ذلیل ہے اور مقصد پستی اور ذلت میں تشبیہ دینا ہے (اور) قرینہ فاء ہے جو کہ مشعر ہے اپنے مابعد کے ماقبل پر جو کہ دنیا کی طرف میلان اور خواہش کی اتباع ہے، مرتب ہونے کی وجہ سے اس کے قول ذلک المثل کے قرینہ سے، یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، تو آپ یہود کو قصے سنائیے تاکہ ان میں غور و فکر کریں اور ایمان لے آئیں، اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا بری مثال ہے، وہ لوگ تکذیب کی وجہ سے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اللہ جس کو ہدایت کرتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور کس کو بےراہ کرے وہی زیاں کاروں میں سے ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بہت سے جن و انس کو جہنم کیلئے پیدا کیا ہے ان کے ایسے قلوب ہیں کہ ان سے حق کو سمجھتے نہیں ہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کو عبرت کی نظر سے دیکھتے نہیں ہیں، اور ان کے کان ہیں مگر ان کے ذریعہ وہ آیات کو اور نصیحتوں کو تدبر اور نصیحت کیلئے سنتے نہیں ہیں یہ لوگ نہ سمجھنے اور نہ دیکھنے اور نہ سننے میں جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں اسلئے کہ جانور اپنے منافع کو طلب کرتا ہے اور مضرت رساں چیزوں سے (دور) بھاگتا ہے، اور یہ لوگو تو عناد کی وجہ سے جہنم کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں اور اللہ کے ننانویں اچھے اچھے نام ہیں جو حدیث میں وارد ہوئے ہیں، حُسْنیٰ اَحْسَنُ کی مؤنث ہے، لہٰذا اس کو ان ہی ناموں سے پکارو اور ان کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارے میں کجروی اختیار کرتے ہیں یہ الْحَدَ اور لَحَدَ سے مشتق ہے اس طور پر کہ انہوں نے اللہ کے ناموں سے اپنے معبودوں کے نام بنالئے ہیں، مثلاً لات، اللہ سے اور العزّٰی، عزیز سے اور منات مَنّان سے عنقریب آخرت میں وہ اس کا بدلہ پا کر رہیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں، یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے، اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتی ہے اور وہ محمد ﷺ کی امت ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بَدَلُ اشتمالٍ مما قبلہ، یعنی من ظھورھم، بنی آدَمَ سے بدل الاشتمال ہے، یہ قول کو اشی کی اتباع میں ہے، صاحب کشاف نے کہا ہے کہ بدل البعض عن الکل ہے، اور یہی ظاہر ہے، جیسا کہ ضربت زیداً ظھرَہ، اس کو کسی نے بدل الاشتمال نہیں کہا ہے، تقدیر عبارت یہ ہوگی ” وَاذِا اَخَذَ ربُّکَ من ظھور بنی آدم “۔ قولہ : مِنْ صُلْبِ بَعْضٍ مَنْ صُلْبِ آدَمَ ، من صلب بعض موصوف ہے اور من صلب آدم صفت ہے، یعنی نکالا ذریت کو صلب بعض سے جو کہ صلب آدم ہے۔ قولہ : نسلاً بعد نسلٍ ، یعنی اسی ترتیب سے دنیا میں ظہور ہونے والا تھا، یعنی اول حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے آدم کی بلاواسطہ ذریت کو نکالا اور پھر ذریت آدم کی پشت سے ان کی ذریت کو نکالا۔ قولہ : قال، لفظ قال کو اس وجہ سے مقدر مانا کہ بلا ضرورت التفات عن الغیبت الی التکلم لازم نہ آئے۔ قولہ : اَنْتَ رَبُّنَا، یہ اضافہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے کہ بلیٰ ، قالوا کا مقولہ ہے اور مقولہ کیلئے جملہ ہونا ضروری ہے چہ جائیکہ بلیٰ ، حرف مقولہ واقع ہو، جواب یہ ہے کہ عبارت میں حذف ہے تقدیر عبارت یہ ہے بلیٰ انت ربنا، لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں۔ قولہ : والاشھادُ ، لِاشْھَادُ اور لام کی تقدیر سے اشارہ کردیا کہ ان تقولوا، شَھِدْنا کا مفعول لہ ہے۔ (تسھیل) قولہ : شھِدْنا، اس میں تین احتمال ہیں، (1) یہ کہ ملائکہ کا کلام ہو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم کے اقرار پر گواہ بنایا ہو، اس صورت میں وقف بلیٰ پر ہوگا، (2) یہ بھی احتمال ہے کہ ذریت کا کلام ہو اس صورت میں معنی ہوں گے ہم نے اس کا اقرار کیا، شہادت دی، اس صورت میں بلیٰ پر وقف درست نہ ہوگا بلکہ شھدنا پر ہوگا، (3) اللہ تعالیٰ کا کلام ہو، ای شھدنا علیٰ اقرار کم کراھۃ ان تقولوا، اولِئلاَّ تقولوا، یعنی ہم نے تم سے اس لئے اقرار لیا تاکہ تم لاعلمی کا عذر نہ کرسکو یا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ تم لاعلمی کا عذر کرو۔ قولہ : المَعْنٰی لا یُمْکِنُھُمْ الاِحْتِجَاجُ بذلک مطلب یہ ہے کہ ذریت آدم سے اقرار لینے کے بعد انکے پاس لاعلمی اور غفلت کا عذر باقی نہیں رہے گا وہ یہ نہ کہہ سکیں گے، یا الہٰ العلمین اس عہد و میثاق کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں تھا جس کی وجہ سے ہم غفلت میں رہے قولہ : وَالتَذْکِیْرَ بہ عَلیٰ لِسَان صَاحِب المُعْجِزَۃِ قائمٌ مَقَامَ ذِکْرِہٖ فی النُفُوْسِ یہ عبارت ایک سوال کا مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ روز ازل میں لیا ہوا اقرار دنیا میں آنے کے بعد نسیا منسیا ہوگیا اب کسی کو بھی عہد اَلَسْت یاد نہیں ہے تو ایسے عہد سے کیا فائدہ کہ جو یاد ہی نہ ہو اور نہ اس کی وجہ سے مؤاخذہ ہی ہونا چاہیے۔ جواب : اس بھولے ہوئے عہد الست کو ہی یاد دلانے کیلئے انبیاء کرام کو مبعوث کیا جاتا ہے جو مسلسل اس عہد کو یاد دلاتے رہتے ہیں، لہٰذا اب عدم مؤاخذہ کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ قولہ ؛ التَذْکِیْرُ مُبْتَدَأ ہے اور قائم مقام ذکرہ فی النفوس اس کی خبر ہے۔ قولہ : سَکَنَ ، اس میں اشارہ ہے کہ اَخْلَدَ ، خلود سے مشتق نہیں ہے جس کے معنی دوام کے ہیں بلکہ اَخْلَدَ بمعنی مال ہے، اَخْلَدَ الی الارض، ای مال اِلَیْھا۔ قولہ : فی دعائہٖ الیھا ای دعاء الھویٰ ایّاہ، یعنی خواہش نفس نے بلعام کو دنیا کی طرف بلایا، اس میں مصدر مضاف فاعل ہے۔ قولہ : فَوَضعْنَاہ، ای ذلَّلْناہ۔ قولہ : اَوْ اِنْ تَتْرُکُہٗ ، بعض نسخوں میں انْ ، چھوٹا ہوا ہے جو کہ کاتب کا سہو ہے، مفسر علام نے، اِنْ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اس کا عطف تحمل پر ہے نہ کہ اِنْ تحمِلْ پر لہٰذا تتر کہ کا جزم ظاہر ہوگیا۔ قولہ : جُمْلَتَا الشَرْطِ حَالٌ، یعنی معطوف اور معطوف علیہ دونوں جملے حال ہیں مطلب یہ ہے کہ کتا ہرحال میں لاھث رہتا ہے خواہ حالت شدت ہو یا راحت۔ تفسیر وتشریح عالم اروح میں عہدالست : جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے موقع پر پیش آیا تھا اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کرکے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرایا گیا تھا اور زمین پر انسانی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اسی طرح نسل آدم کو بھی جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی اللہ تعالیٰ نے وجود و شعور بخش کر اپنے سامنے حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کا اقرار و شہادت لی تھی، اول حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے بلا واسطہ پیدا ہونے والی ذریت کو نکالا اور ان سی عہد الست لیا اس کے بعد آدم کی ذریت کی پشت سے اس کے بعد ان کی پشت سے علی ہذا القیاس تا قیامت نسلا بعد نسل، پیدا ہونے والی ذریت کو نکالا اور ان سے اپنی ربوبیت کا عہد لیا اور اس عہد پر خود ملائکہ کو اور پوری کا ئنات کو گواہ بنایا اس کی تفصیل ایک روایت میں اس طرح آئی ہے کہ وادی نعمان میں عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ نے ذریت آدم سے عہد و میثاق لیا، آدم کی پشت سے ان کی ہو نیوالی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو اپنے سامنے پھیلایا اور ان سے پوچھا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا ” بلی شھدنا “۔ (مسند احمد، حاکم)
Ayahs 7:173–174

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

عہد الست کی غرض : اوتقو۔۔۔ آباؤنا (الآیۃ) اس آیت میں وہ غرض بیان کی گئی جس کے لئے ازل میں پوری نسل آدم سے اقرار لیا گیا تھا اور وہ یہ کہ انسانوں میں سے جو لوگ اپنے خدا سے بغاوت کریں گے وہ اپنے جرم کے پوری طرح ذمہ دار ہوں گے، انھیں صفائی میں نہ تو لاعلمی کا عذر پیش کرنے کا موقع ملے گا اور نہ وہ سابق نسلوں پر اپنی گمراہی کہ ذمہ داری ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکیں گے۔
Ayahs 7:175–181

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو ۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

واتل۔۔۔۔ منھا (الآیۃ) اس آیت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا عبرت ناک واقعہ مذکور ہے، بنی اسرائیل کا ایک بڑا عالم اور مشہور مقتداء علم و معرفت کے اعلی معیار پر ہونے کے باوجود دفعۃً گمراہ ہوگیا۔ بلعم بن باعوراء کے واقعہ کی تفصیل : مذکورہ آیت میں نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ تم یہود کو اس شخص کا قصہ سناؤ جس کو اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں مگر وہ ان نشانیوں سے اس طرح نکل گیا جس طرح سانپ کینچلی سے نکل جاتا ہے ائمہ تفسیر سے اس بارے میں مختلف روایتیں مذکور ہیں جن میں زیادہ مشہور اور جمہور کے نزدیک قابل اعتماد وہ روایت ہے جو ابن مردویہ نے حضرت عباس ؓ سے نقل کی ہے اس روایت میں اس شخص کا نام بلعم بن باعوراء اور بعض نے بلعام بن باعرنام بتایا ہے، یہ ملک شام میں بیت المقدس کے قریب کنعان کا رہنے والا تھا، ایک روایت میں اس کو اسرائیلی بتایا گیا ہے، اسے اللہ تعالیٰ کی بعض کتابوں کا علم حاصل تھا قرآن کریم میں جو اس کی صفت بیان ہوئی ہے وہ ” الذی اتیناہ آیتِنَا “ ہے اس سے اسی علم کی طرف اشارہ ہے، غرق فرعون اور ترک مصر کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو جبارین قوم عمالقہ سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور جبارین نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرئیل کا لشکر لے کر قریب پہنچ چکے ہیں، جبارین کو اس کی فکر ہوئی جمع ہو کر بلعم بن باعوارء کے پاس آئے اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) سخت آدمی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر ہے وہ ہمارے ملک پر قبضہ کرنے اور ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کرنے کے لئے آئے ہیں آپ اللہ سے دعا کریں کہ ان کو ہمارے ملک سے واپس کردے، بلعم بن باعوراء کو اسم اعظیم معلوم تھا وہ اس کے ذریعہ جو دعاء کرتا وہ قبول ہوتی تھی۔ بلعم نے اول تو معذرت کی اور کہا وہ اللہ کے نبی ہیں ان کے ساتھ فرشتوں کا لشکر ہے میں ان کے خلاف بددعاء کیسے کرسکتا ہوں ؟ اگر میں ایسا کروں تو میرا دین اور دنیا دونوں برباد ہوجائیں گی، مگر قوم نے بےحد اصرار کیا تو بلعم نے کہا اچھا تو میں اس معاملہ میں استخارہ کرکے اپنے رب کی مرضی معلوم کرلوں اس نے استخارہ کیا استخارہ میں معلوم ہوا کہ ایسا ہرگز نہ کرنا، اس نے قوم سے کہا مجھے بددعاء کرنے سے منع کردیا گیا ہے، اس وقت جبارین نے ایک بہت بڑا تحفہ بلعم کو پیش کیا اس نے قبول کرلیا اس کے بعد جبارین کا اصرار بہت زیادہ بڑھ گیا، بعض روایات میں ہے کہ اس کی بیوی نے مشورہ دیا کہ رشوت قبول کرلیں اور ان کا کام کردیں، بیوی کی رضا جوئی اور مال کی محبت نے اسکو اندھا کردیا، اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے لئے بددعاء کرنی شروع کردی قدرت الہٰیہ کا عجیب کرشمہ : اس وقت قدرت الہٰیہ کا عجیب کرشمہ ظاہر ہوا وہ کلمات بددعاء جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لئے کہنا چاہتا تھا اس کی زبان سے وہ الفاظ بددعاء قوم جبارین کے لئے نکلے، جبارین چلا اٹھے کہ تم تو ہمارے لئے بددعاء کررہے ہو، بلعم نے جواب دیا یہ میرے اختیار میں نہیں ہے میری زبان اس کے خلاف پر قادر نہیں، نتیجہ یہ ہوا کہ اس قوم پر تباہی آئی اور بلعم کو یہ سزاملی کہ اس کی زبان لٹک کر سینے پر آگئی، اب اس نے جبارین سے کہا میری تو دنیا و آخرت تباہ ہوگئی اب میری دعاء کی قبولیت سلب کرلی گئی، لیکن میں تمہیں ایک تدبیر بتاتا ہوں جس کے ذریعہ تم موسیٰ اور اس کی قوم پر غالب آسکتے ہو، وہ یہ کہ تم اپنی حسین لڑکیوں کو آراستہ کرکے بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیج دو اور ان کو تاکید کردو کہ بنی اسرائیل میں کوئی بھی ان کے ساتھ جو کچھ بھی کرنا چاہیے منع نہ کریں، بلعم بن باعوراء کی یہ شیطانی چال ان کی سمجھ میں آگئی، اور اس پر عمل کیا گیا، بنی اسرائیل کا ایک بڑا شخص جس کا نام شمعون بن یعقوب بتایا گیا ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کا سپہ سالار بھی تھا اسے ایک عورت بہت پسند آئی وہ اسے لیکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میرا خیال یہ ہے کہ آپ اس عورت کو حرام سمجھیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ مجھ پر بھی حرام ہے اور تجھ پر بھی، اس نے یہ بات سنتے ہی قسم کھا کر کہا کہ میں آپ کی اطاعت نہیں کروں گا، اور اپنے خیمہ میں لے جا کر فعل بد کا مرتکب ہوگیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں طاعون بھیج دیا جس کے نتیجہ میں ستر ہزار آدمی ہلاک ہوگئے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں امیہ بن صلت کا نام لیا ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھا، اس کے علاوہ بعض مفسرین نے شان نزول کے سلسلہ میں اور نام بھی لئے ہیں مگر یہ بات طے ہے کہ علی بن طلحہ کی روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے تفسیر کے باب میں بڑی معبتر روایت ہے، ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کا یہی شان نزول بیان کیا ہے لہٰذا یہی شان نزول صحیح ہے۔ (معارف، احسن التفاسیر، فتح القدیر شوکانی) فمثلہ۔۔۔۔ یلھث، (الآیۃ) لَھِثَ (س) لَھَثًا، پیاسا ہونا، کتے کا ہانپتے وقت زبان نکالنا کتے کی یہ عادت ہوتی ہے کہ تم اسے ڈانٹو ڈپٹو ٖڈراؤ یا اس کو اس کی حالت پر چھوڑ در زبان لٹکائے ہی رہتا ہے۔ کتے کے ساتھ جس شخص کو تشبیہ دی گئی ہے وہی شخص ہے جس کا ذکر سطور بالا میں ہوا ہے اللہ نے اس کو جو علم، معرفت عطا کیا تھا اس کا تقاضہ یہ تھا کہ اس رویہّ سے بچتا جس کو وہ غلط سمجھتا تھا اور وہ طرز عمل اختیار کرتا جو اسے معلوم تھا کہ صحیح ہے، لیکن وہ دنیا کے فائدوں، لذتوں اور آرائشوں کی طرف جھک پڑا، خواہشات نفس کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس نے ان کے آگے سپر ڈالدی دنیا کی حرص و طمع سے بالا ترہونے کے بجائے وہ اس حرص و طمع سے مغلوب ہوا کہ ان تمام حدود کو توڑ کر نکل بھاگا جن کی نگہداشت اس کو خود کرنی چاہیے تھی جب وہ اپنی اخلاقی کمزوری کی وجہ سے حق سے منہ موڑ کر بھاگا تو شیطان جو قریب ہی اس کی گھات میں لگا ہوا تھا اس کے پیچھے لگ گیا اور برابر اسے ایک پستی سے دوسری پستی کی طرف دھکیلتا رہا یہاں تک کہ ظالم نے اسے ان لوگوں کے زمرے میں پہنچا کر ہی دم لیا کو اس کے دام فریب میں پھنس کر پوری طرح اپنی متاع عقل و ہوش گم کرچکے ہیں۔ کتے کے ساتھ تشبیہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ کتے کی جو خصلتیں ہوتی ہیں وہ سب اس میں جمع ہوجاتی ہیں، کتے کی ہر وقت لٹکی ہوئی زبان اور ٹپکتی ہوئی رال، نہ بجھنے والی آتش حرص، کبھی سیر نہ ہونے والی نیت کا پتہ دیتی ہے ہم اپنے محاورہ میں بھی ایسے شخص کو جو دنیا کی حرص میں اندھا ہورہا ہو، دنیا کا کتا، کہتے ہیں، کتے کی جبلت کیا ہے ؟ حرص و آز۔ چلتے پھرتے اس کی ناک سو نگنے ہی میں لگی رہتی ہے کہ شاہد کہیں سے بوئے طعام آجائے، کتا پوری دنیا کو صرف پیٹ ہی کے نظریہ سے دیکھتا ہے، کہیں کوئی بڑی لاش پڑی ہو جو کئی کتوں کے لئے کافی ہو تو ایک کتا اس سے صرف اپنا حصہ لینے پر ہی اکتفاء نہیں کرتا بلکہ اسے صرف اپنے ہی لئے مخصوص رکھنا چاہتا ہے اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس پھٹکنے نہیں دیتا، اس شہوت شکم کے بعد کوئی چیز اس پر غالب ہے تو وہ شہوت فرج ہے، اپنے سارے جسم میں سے صرف شرمگاہ ہی وہ چیز ہے جس سے وہ دل چسپی رکھتا ہے اور اسی کو سونگھنے اور چاٹنے میں مشغول رہتا ہے، اس تشبیہ کا مدعایہ ہے کہ دنیا پرست آدمی جب علم و ایمان کی رسی تڑا کر بھاگتا ہے اور نفس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میں اپنی باگیں تھما دیتا ہے تو کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

آیت نمبر 182 تا 188 ترجمہ : اہل مکہ میں سے جن لوگوں نے ہماری آیتوں یعنی قرآن کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج گرفت میں لے رہے ہیں، اس طریقہ پر کہ ان کو خبر بھی نہیں اور ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے، جس کا کوئی توڑ نہیں، کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ جان لیتے کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو کسی قوم کا جنون نہیں، وہ صرف صاف صاف ٖڈرانے والا ہے کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور (دیگر) ان چیزوں میں جن کو اللہ نے پیدا کیا ہے (من شیٔ) ما کا بیان ہے، کہ اس کے بنانے والے کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر استدلال کرتے، اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کو موت کا وقت قریب ہی آلگا ہو کہ وہ حالت کفر ہی میں مرجائیں اور آگ میں پہنچ جائیں، لہٰذا ایمان کی طرف سبقت کرنی چاہیے، پھر قرآن کے بعد کونسی بات پر ایمان لائیں گے، جس کو اللہ گمراہ کردے تو اس کو کوئی ہدایت پر نہیں لاسکتا اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں حیرانی سے بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے یاء اور نون میں بطور استیناف رفع کے ساتھ، اور جزم کے ساتھ مابعد الفاء کے محل پر عطف کی وجہ سے، اہل مکہ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ آپ ان سے کہدیجئے کہ قیامت کب واقع ہوگی۔ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر وہی ظاہر کرسکتا ہے وہ آسمانوں اور زمین والوں پر اس کی ہولناکی کی وجہ سے بڑا بھاری وقت ہوگا وہ (قیامت) تم پر اچانک آپڑے گی، یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس کی تخلیق کرچکے ہیں حتی کہ آپ کو اس کا علم ہوگیا آپ کہدیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے یہ تاکید ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے، آپ فرما دیجئے کہ میں خود کہ میں خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع کا جسکو میں حاصل کرسکوں اختیار نہیں رکھتا اور نہ نقصان کا کہ اس کو دفع کرسکوں مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ چاہیے، اگر میں غیب کی باتیں جانتا تو میں بہت سے منافع جمع کرلیتا، اور مجھے فقر وغیرہ کی کوئی تکلیف نہ پہنچتی میرے اس نقصان سے بچ جانے کی وجہ سے، بسبب مضر چیزوں سے اجتناب کے میں تو کافروں کو آگ سے ٖڈرانے والا ہوں اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری دینے والا ہوں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ناخذُ ، نَسْتَدْ رِجُ کی تفسیر نَاخذُ سے کرکے معنی مرادی کی جانب اشارہ کردیا، استدراج کے لغوی معنی درجہ بدرجہ چڑھنا (الا ستصعاد درجۃً بعد درجۃٍٍ ) چونکہ کفار کے لئے کوئی اصعاد نہیں ہے اسلئے اس کے مرادی معنی مراد ہیں یعنی بتدریج گرفت کرنا۔ قولہ : اَمھلُھم، یہ اضافہ بھی مرادی معنی کو بیان کرنے کیلئے ہے، اسلئے کہ املی کے معنی املاء کرانے کے ہیں جو کہ یہاں مراد نہیں ہیں قولہ : فَیْعلمُون یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فیعلمون مقدر ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : فیعلمون مقدر مان کر اشارہ کردیا ما بِصَاحِبھِم، یَعْلمون مقدر کا مفعول ہے نہ کہ یتفکروا اس لئے کہ یتفکروا، لازم ہے اسکو مفعول کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ مفعول موجود ہے، لہٰذا اعتراض ختم ہوگیا کہ یتفکروا مفعول کی طرف متعدی نہیں ہے۔ قولہ : جُنُوْنٌ، جنۃ کی تفسیر جنون سے کرکے اشارہ کردیا کہ جنۃ سے قوم مراد نہیں ہے اسلئے کہ یہ کفار کے جواب میں واقع ہے کفار کہا کرتے تھے اِنّ صاحبکم لمجنون، اگر جنۃ سے قوم جن (جنات) مراد لی جائے تو سوال اور جواب میں مطابقت نہیں رہے گی۔ قولہ : وفی اس تقدیر کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے ما خلق اللہ کا عطف ملکوت پر ہے نہ کہ قریب (الارض) پر اس لئے کہ اس صورت میں معنی درست نہ رہیں گے۔ قولہ : ای اَنَّہ ‘ اس تقدیر میں اشارہ ہے کہ أن مخففہ عن الثقیلہ ہے نہ کہ مصدر یہ جیسا کہ بعض حضرات کا خیال ہے، اس لئے کہ أن مصدریہ افعال غیر متصرفہ پر داخل نہیں ہوتا اس لئے کہ ان کے مصادر نہیں ہوتے۔ قولہ : فَیَتَبادَرُوْا یہ اَوَ لَمْ ینظروا، کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ قولہ : مع الرَفْعِ اسْتِیْنَا فًا، ای وھو نذرھم۔ قولہ : وبالجَزْمِ عَطْفًا علیٰ مَحَلِّ ما بَعْدَ الفَا ءِ ، یہ نذرھم میں دوسری ترکیب کی طرف اشارہ ہے، نذر میں دو اعراب ہیں رفع بوجہ استیناف کے اور جزم بسبب جواب نہی، لا ھادی لہ جواب شرط ہونے کی وجہ سے محلاً مجزوم ہے۔ سوال : محل پر عطف کیا لفظ پر نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : اسلئے کہ اس صورت میں فعل کا اسم پر عطف لازم آتا ہے جو کہ مستحسن نہیں ہے، تقدیر عبارت یہ ہے من یضلل اللہ فلا یھدیہ احدو نذرھم۔ قولہ : مُر سٰھا، ارْساءٌ، سے مصدر میمی ہے بمعنی استقرارواثبات، مجرد، رَسَا، بمعنی ثبت، رستِ السفینۃ ای وقفت عن الجری۔ قولہ : حَفِیٌّ، سوال میں مبالغہ کرنے والا یعنی مسٔلہ کی تہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے والا، جو ایسا مبالغہ کرتا ہے وہ حقیقت حال سے واقف ہوجاتا ہے، اور اسی سے احفاء الشارب ہے۔ تفسیر وتشریح والذین۔۔۔ یعلمون، سابق رکوع کی آخری آیت میں اس امت اجابت کی دو خصوصیتیں بیان کی گئی تھیں ایک قیادت و رہنمائی دوسرے اختلاف کے وقت قانون ِشریعت کے مطابق عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا، اگر غور کیا جائے تو یہ دونوں باتیں کسی بھی قوم یا جماعت کی فلاح و کامرانی کی ضامن ہوسکتی ہیں۔ امت محمدیہ کی تمام دیگر امتوں پر فضیلت و فوقیت کا راز اور ان کا طغرائے امتیاز یہی حق پرستی ہے صحابہ وتابعین کی پوری زندگی اس کی آئینہ دور ہے۔ والذین کذبوا بایٰتنا الخ دوسری آیت میں اس شبہ کا جواب ہے کہ جب قومی ترقی کا مدار حق پرستی اور حق و انصاف کی پیروی پر ہے تو دوسری غیر مسلم قومیں جو حق سے سراسر دور ہیں وہ کیوں دنیا میں پھولتی پھلتی نظر آتی ہیں، وَالذِین کذبوا سے اسی کا جواب ہے یعنی ہم اپنی آیات کے جھٹلانے والوں کو اپنی حکمت و رحمت کی بناء پر دفعۃ نہیں پکڑتے بلکہ آہستہ آہستہ تدریجاً پکڑتے ہیں جس کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی اسلئے دنیا میں کفار کی دولت و ثروت جاہ و عزت سے دھوکا نہ کھائیں کیونکہ وہ ان کے لئے کوئی بھلائی کا سامان نہیں بلکہ حق تعالیٰ کی طرف سے استدراج (ڈھیل) ہے۔
Ayahs 7:183–186

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

واملی۔۔۔ متین مجرموں اور فاسقوں اور جھٹلانے والوں اور مجرموں کو بساً اوقات فوراً سزا نہیں ملتی، بلکہ دینوی عیش و فراخی کے دروازے کھولدیئے جاتے ہیں، حتی کہ حدائی سزا سے بےخوف و بےفکر ہو کر ارتکاب معاصی پر اور زیادہ دلیر ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ انتہائی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں، یہی خدا کی ڈھیل اور استدراج ہے وہ حماقت و سفاہت سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے اوپر مہربانی ہورہی ہے۔
Ayahs 7:187–188

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

قل۔۔۔ اللہ، یہ آیت اس بات پر کہ نبی ﷺ عالم الغیب نہیں، عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے صریح دلیل ہے علم و جہالت کی انتہاء ہے کہ اس کے باوجود اہل بدعت آپ ﷺ کو معروف معنی میں عالم الغیب کی سعی بےسود کرتے ہیں یہ ہے کہ اس طبقے کے پڑھے لکھے اور سمجھدار کہلانے والے لوگ اس کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں صرف اپنی قوم و برادری میں ساکھ قائم رکھنے یا اپنے دینوی مفاد کے لئے قوم کے سامنے اور اسٹیجوں پر دعوائے بلا دلیل کرتے ہیں جب ہزارہا تاریخی واقعات آپ ﷺ کے عالم الغیب ہونے کی نفی کرتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ وصال کے وقت آپ کو علم غیب عطا کیا گیا تھا اول تو وصال کے وقت علم غیب کا فائدہ کیا ؟ اور جب ان کو بتایا جاتا ہے کہ حدیث میں موجود ہے کہ وصال کے آخری ایام میں جب آپ کو غشی سے افاقہ ہوتا تو آپ ﷺ دریافت فرماتے کہ کیا نماز ہوگئی ؟ اہل بدعت نے جب دیکھا کہ یہ داؤ بھی بےکار گیا تو کہہ دیا کہ بعد از وصال میدان حشر میں آپ کو علم غیب کلی عطا ہوگا، مگر جب وہ حدیث سامنے آئی جو سابق میں گذر چکی ہے کہ آخرت میں تمام مخلوق پر بےہوشی طاری ہوجائے گی تو آپ نے فرمایا کہ ہوش میں آنیوالوں میں سب سے پہلا شخص میں ہوں گا، مگر جب میری نظر عرش پر پڑے گی تو موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایا پکڑے کھڑے ہوں گے میں نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بےہوشی طاری نہیں ہوئی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تجلی الہٰی کے دیدار کی وجہ سے ایک دفعہ دنیا میں بےہوش ہوچکے تھے، یا بےہوش ہوئے مگر وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے، یہ ترکیب بھی کام نہ آئی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کے لئے علم غیب ثابت کرنے کی اور کوئی صورت سوچیں، یہ سب کوتاہ علموں کی باتیں ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اہل علم و دانش کے نزدیک یہ کوئی اہم مسٔلہ ہی نہیں ہے۔ لکن۔۔۔ یعلمون، اکثر لوگ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھتے، رسول بہر حال بندہ اور مخلوق ہوتا ہے، اس کو اللہ کی کسی بھی صفت میں اللہ کا شریک سمجھنا جہل محض اور الحاد محض اور رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب کہنا ایسا ہی مضحکہ خیز دعویٰ ہے جیسے قادر مطلق کہنا (تفسیر ماجدی ملخصاً ) وحی کے ذریعہ بعض مغیبات پر واقف ہوجانا علم غیب نہیں ہے۔