Ayahs 7:73–79آیت نمبر 73 تا 84
ترجمہ : اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اگر قبیلہ کا نام ہو تو غیر منصرف ہے، انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، میری صداقت پر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل، معجزہ، آچکی ہے، یہ اونٹنی ہے اللہ کی (آیۃً ) حال ہے اس کا عامل اسم اشارہ کا معنی (اشیرُ ) ہے انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے ایک خاص پتھر (چٹان) سے جس کو انہوں نے متعین کیا تھا (اونٹنی) نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، سو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے بری نیت قتل و ضرب کے ارادہ سے اس کو ہاتھ بھی نہ لگانا، ایسا نہ ہو کہ کہیں تمہیں دردناک عذاب آپکڑے اور تم اس وقت کو یاد کرو کہ جب تم کو عاد کے بعد زمین کا مالک بنایا تھا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانہ دیا تھا تو اس کی ہموار زمین میں تم شاندار محل بناتے تھے گرمی کے موسم میں تم ان میں رہائش پذیر ہوتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کو مکانات بناتے تھے کہ موسم سرما میں تم ان میں سکونت اختیار کرتے تھے، (بیوتًا) حال مقدرہ کے طور ہر منصوب ہے سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اس کی زمین میں فساد برپا مت کرو، ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے جنہوں نے صالح (علیہ السلام) پر ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا کمزور طبقے کے ان لوگوں سے پوچھا جو ایمان لے آئے تھے (آمَنَ منھم) اعادہ جاد کے ساتھ، ما قبل یعنی للّذِیْنَ استضعفوا سے بدل ہے کیا تم واقعہ یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) تمہاری طرف اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ انہوں نے جواب دیا بیشک جس پیغام کے ساتھ اسے بھیجا گیا ہے اس پر ہم ایمان رکھتے ہیں، تکبر کرنے والوں نے کہا جس کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں، اور یہ اس لئے کہ ایک دن اونٹنی کے پانی کی باری تھی اور ایک دن ان کے (جانوروں) کیلئے تھا وہ اس سے تنگ آگئے، تو انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا، قوم کے کہنے سے قدار نامی شخص نے اس کو مار ڈالا، یعنی اس کو تلوار سے قتل کردیا، اور پوری سرکشی کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کی اور صالح (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ اے صالح اس کے قتل پر تم جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اسے لے آؤ، اگر تم واقعی پیغمبروں میں سے ہو، آخر کار ان کو ایک دھلا دینے والے زمینی شدید زلزلے اور آسمانی چیخ نے انھیں آدپوچا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے یعنی گھٹنوں کے بل مردہ ہوکر، اور صالح (علیہ السلام) ان کی بستی سے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ اے میری قوم، میں نے اپنے رب کا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور میں نے تمہاری بہت خیر خواہی کی لیکن تم خیر خواہوں کا پسند نہیں کرتے، اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر کرو کہ ہم نے ان کو پیغمبر بنا کر بھیجا اذکر لوطا سے اذقال، بدل ہے اور اس بات کو یاد کرو جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کیا تم ایسے بےحیائی کے کام کرتے ہو یعنی مردوں سے ہم جنسی کرتے ہو، کہ جو دنیا میں تم سے پہلے جن و انس میں سے کسی نے نہیں کیا کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو (ء اِنَّکم) میں دونوں ہمزوں کی تحقیق اور دوسرے کی تسہیل کے ساتھ اور دونوں کے درمیان دونوں صورتوں میں الف داخل کرکے، حقیقت یہ ہے کہ تم حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرکے حد سے گذرنے والے لوگ ہو، ان کی قوم کے پاس اس کے علاوہ کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہہ دیا کہ ان کو (یعنی) لوط کو اور اس کی اتباع کرنے والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ مردوں سے ہم جنسی کے بارے میں پاکباز بنتے ہیں، بالآخر ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھروں کو بجز اس کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی، بچا کر نکال دیا (یعنی) وہ عذاب میں پھنسنے والوں میں تھی، پھر ہم نے ان کے اوپر ایک خاص قسم کی بارش برسائی کہ وہ کنکر ملے پتھر تھے چناچہ ان کے ذریعہ ان کو ہلاک کردیا سو غور کرو کہ ان مجرموں کا کیسا انجام ہوا ! !۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : والی ثَمُوْدَ اخاھم صالحًا، اس کا عطف ما قبل پر عطف قصہ علی القصہ کے قبیل سے ہے، ثمود ایک قبیلہ کا نام جو ان کے جد اکبر کے نام پر ہے اسی وجہ سے ثمود غیر منصرف ہے، ان کا نسب اس طرح ہے، ثمود بن عاد بن ارم بن شالخ بن أرفخشذ بن سام بن نوح، صالح، اخاھم کا عطف بیان ہے حضرت صالح کا شجرہ نسب اس طرح ہے صالح بن عبید بن أسف بن ماشح بن عبید بنحاذر بن ثمود، جن لوگوں نے ثمود قبیلہ کا نام قرار دیا ہے انہوں نے اس کو علمیت اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف پڑھا ہے اور جن لوگوں نے شخص کا نام کہا ہے وہ اس کو منصرف کہتے ہیں۔
قولہ : ھٰذِہِ نَاقَۃُ اللہ، جملہ مستانفہ ہے مقصد معجزہ کی کیفیت کو بیان کرنا ہے، گویا کہ کہا گیا ما ھٰذہ البینۃ، جواب دیا ھذہ ناقۃ اللہ۔
قولہ ؛ حالٌ عَامِلُھا معنی الاشارۃ آیۃً ، ناقۃ، سے حال ہے اس کا عامل ھذہ اشیر کے معنی میں ہو کر ہے۔
قولہ : سُھولھا، سھول سَھْلٌ کی جمع ہے نرم زمین کو کہتے ہیں۔
قولہ : نَصْبُہ عَلَی الحالِ المُقَدَّرَۃِ ، بیوتًا، تنحتون سے حال مقدرہ ہے، یعنی تم پہاڑوں کو اسلئے تراشتے ہو کہ تمہارے لئے ان میں رہنا مقدر ہوچکا ہے، اسلئے تراشنا سکونت اختیار کرنے پر مقدم ہے، حالانکہ حال و ذوالحال کا زمانہ ایک ہوتا ہے۔
قولہ : تعثَوْا، (س) عِثِیٌّ اور عُثِیٌّ، سے جمع مذکر حاضر تم فساد کرو۔ قولہ : الملأُ ، اسم جمع معرف باللام (ج) املاَءُ سردار، بڑے لوگ۔
قولہ : باَمْرِھِمْ ، یہ اضافہ اس سوال کا جواب ہے کہ قتل کرنے اولا قدار نامی ایک شخص تھا اور عقروا میں قتل کی نسبت پوری قوم کی طرف ہے کہ یہ اسناد مجازی ہے قدار کے قتل سے چونکہ پوری قوم متفق تھی اسلئے پوری قوم کی طرف قتل کی نسبت کردی گئی ہے۔
قولہ : ھو حِجَارَۃُ السِّجِّیْل، وہ پتھر جس میں قدرے مٹی کو آمیزش ہو، جس کو کنکر کہتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ سنگ گل کا معرب ہے۔
تفسیر و تشریح
وَاِلیٰ ثمود اخاھم صالحا، قوم ثمود حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہائش پذیر تھی 9 ھ میں تبوک جاتے ہوئے آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کا اس وادی سے گذر ہوا تھا جس پر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا تھا، معذب قوموں کے علاقہ سے جب گذرو تو روتے ہوئے گذرو (بخاری) قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا، اس قوم کو عاد ثانیہ کہا جاتا ہے دراصل قوم عاد ثانیہ اور اولیٰ ارم ہی کی دو شاخیں ہیں یہ قوم بھی عرب کی قدیم ترین قوموں میں سے ہے جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور ہے، زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں میں اس قوم کا نام ملتا ہے ایسریا کے کتبات اور یونان، اسکندیہ، اور روم کے قدیم مؤرخین اور جغرافیہ نویس بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس قوم کا مسکن شمالی مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحجر کے نام سے معلوم ہے موجودہ زمانہ میں مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز ریلوے پر ایک اسٹیشن پڑتا ہے جسے مدائن صالح کہتے ہیں یہی ثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا، اب تک وہاں ہزاروں ایکڑ رقبے میں وہ سنگین (پتھر کی) عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا، اب بھی اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کسی زمانہ میں اس شہر خموشاں کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی، نزول قرآن کے زمانہ میں حجاز کے تجارتی قافلے ان آثار قدیمہ کے درمیان سے گزرا کرتے تھے، آپ ﷺ بھی جب اس شہر خموشاں سے گزرے تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کو یہ آثار عبرت دکھائے، ایک جگہ آپ نے ایک کنویں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے کہ جہاں حضرت صالح علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی، ایک پہاڑی درّے کو دکھا کر آپ نے فرمایا کہ اسی درّے سے وہ اونٹنی پانی پینے کے لئے آتی تھی چناچہ وہ مقام آج بھی فج الناقہ کے نام سے مشہور ہے، جو لوگ ان کھنڈروں میں سیر کرتے پھر رہے تھے آپ نے ان کو جمع فرمایا اور ان کے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا کہ یہ اس قوم کا علاقہ ہے جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا، لہٰذا یہاں سے جلدی گزر جاؤ یہ سیر گاہ نہیں ہے بلکہ رونے کا مقام ہے۔
Ayahs 7:80–84قوم لوط کی مختصر تاریخ : ولوطا اذقال لقومہ (الآیۃ) یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آجکل شرق اردن کہا جاتا ہے، اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے بائبل میں اس قوم کا صدر مقام سدوم بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار (بحر میت) کے قریب کہیں واقع تھا یا بحر میت میں غرق ہوچکا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے بھائی ہاران کے بیٹے تھے حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے نکلے کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف رہے، اس کے بعد مستقل منصب رسالت پر فائز ہو کر اسی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔
یہودیوں کی تحریف کردہ بائبل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی سیرت پر جہاں اور بہت سے دھبے لگائے گئے ہیں ان میں سے ایک دھبہ یہ بھی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لڑ کر علاقہ سدوم میں چلے گئے تھے مگر قرآن اس غلط بیانی کی تردید کرتا ہے، قرآن کا کہنا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اسی علاقہ کے باشندوں کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا گیا تھا، اہل سدوم کو حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم، غالباً اس لئے کہا کہ ان کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کا ازدواجی رشتہ قائم ہوگیا ہو۔
دوسرے مقامات پر اس قوم کے بعض اور اخلاقی جرائم کا بھی ذکر آتا ہے مگر یہاں اس کے سب سے بڑے جرم کے بیان پر اکتفاء کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا، اور وہ ہم جنسی کا فعل تھا، یہ قابل نفرت فعل جس کی وجہ سے ان کو مذمت میں شہرت دوام حاصل ہوئی، اس کے ارتکاب سے تو بد کردار انسان کسی زمانہ میں باز نہیں آئے، لیکن یہ فخر یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفہ نے اس گھناؤ نے جرم کو اخلاقی خوبی کے مرتبہ تک اٹھانے کی کوشش کی، اور اس کے بعد کسر باقی رہ گئی تھی اسے جدید مغربی تہذیب نے پورا کردیا یہاں تک کہ بعض مغربی ملکوں کی مجالس قانون ساز نے اسے نہ صرف یہ کہ باقاعدہ جائز قرار دیدیا بلکہ آپس میں شادی کو بھی قانونی حیثیت دیدی، جبکہ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہم جنسی قطعی طور پر وضع فطری کے خلاف ہے اور یہ خلاف وضع عمل کرنے والا اپنی اور اپنے معمول کی طبعی ساخت اور نفسیاتی ترکیب کے خلاف جنگ کرتا ہے، اور ایسے مہلک ولا علاج ” ایڈز “ جیسے امراض میں مبتلا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے جس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے، فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الہیٰ سے تجاوز کو مغرب کی مذہب قوموں نے انسانوں کا بنیادی حق قرار دیدیا ہے جس کی رو سے کسی کو روکنے کا حق حاصل نہیں ہے چناچہ اب مغرب میں لواطت کو قانونی رحفظ بھی حاصل ہے اب یہ سرے سے کوئی جرم نہیں رہا۔
لواطت کی سزا : یہاں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ عمل قوم لوط ایک بدترین گناہ ہے جس کی وجہ سے ایک قوم اللہ کے غضب میں گرفتار ہوچکی ہے، اس کے بعد یہ بات ہمیں نبی ﷺ کی رہنمائی سے معلوم ہوئی کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جس سے معاشرہ کو پاک رکھنے کی کوشش کرنا حکومت اسلامی کے فرائض میں ہے اور یہ کہ اس جرم کے مرتکبین کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے، حدیث میں جو مختلف روایات حضور ﷺ سے مروی ہیں ان میں سے کسی میں یہ الفاظ ملتے ہیں، ” اقتلوا الفاعل والمفعول بہ “ فاعل اور مفعول کو قتل کردو۔ کسی میں ان الفاظ کا اضافہ ہے، احصنا اولم یحصنا “ شادی شدہ ہوں یا نہ ہوں اور کسی میں یہ الفاظ ہیں، فارجعوا الاعلی والاسفل، اوپر والا اور نیچے والا دونوں سنگسار کئے جائیں، لیکن چونکہ آپ ﷺ نے زمانہ میں ایسا کوئی مقدمہ پیش نہیں ہوا، اسلئے قطعی طور پر یہ بات متعین نہ ہوسکی کہ اس کی سزا کس طرح دی جائے صحابہ کرام میں سے حضرت علی ؓ کی رائے یہ ہے کہ مجرم تلوار سے قتل کیا جائے اور دفن کرنے کے بجائے اس کی لاش جلا دی جائے اسی رائے سے حضرت ابوبکر ؓ نے اتفاق فرمایا ہے، حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کی رائے یہ ہے کہ کسی بوسیدہ عمارت کے نیچے کھڑا کرکے وہ عمارت اس پر گرا دی جائے ابن عباس ؓ کا فتویٰ یہ ہے کہ بستی کی سب سے اوبچی عمارت سے اسے سر کے بل پھینک دیا جائے اور اوپر سے تھر برسائے جائیں، فقہاء میں سے امام شافعی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ فاعل اور مفعول واجب القتل ہیں خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، شعبی (رح) تعالیٰ ، زہری (رح) تعالیٰ ، امام مالک (رح) تعالیٰ ، اور امام احمد (رح) تعالیٰ کہتے ہیں ان کی سزا رجم ہے سعید بن مسیب (رح) تعالیٰ ، عطاء۔ حسن بصری (رح) تعالیٰ ، ابراہیم نخعی (رح) تعالیٰ سفیان ثوری (رح) تعالیٰ اور اوزاعی (رح) تعالیٰ کی رائے یہ ہے کہ اس جرم میں وہی سزا دی جائے جو زنا کی سزا ہے یعنی شادی شدہ کو رجم اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارے جائیں، اور جلاوطن کردیا جائے اور مام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کی رائے میں اس پر کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ یہ فعل تعزیر کا مستحق ہے۔
جیسے حالات اور ضروریات ہوں ان کے لحاظ سے اس کو عبرت ناک سزا دی جائے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کا بھی ایک قوم اسی کی تائید میں منقول ہے۔ یہ بات بھی معلوم رہنی چاہیے کہ شوہر کیلئے یہ قطعی حرام ہے کہ خود اپنی بیوی کے ساتھ عمل لوط کرے، ابو داؤد میں آپ ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے ” ملعون من اتیٰ المرأۃ فی دبرھا “ عورت سے عمل لوط کرنے والا ملعون ہے، ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ منقول ہیں، لا ینظر اللہ الی رجل جامع امرأۃ فی دبرھا، اللہ اس مرد کی طرف ہرگز رحمت کی نظر سے نہ دیکھے گا جو عورت سے اس فعل کا ارتکاب کرے۔
Ayahs 7:85–87آیت نمبر 85 تا 87
ترجمہ : اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس میری صداقت کی تمہارے پروردگار کی طرف سے معجزہ کی شکل میں واضح دلیل آچکی ہے تم ناپ تول پوری پوری کیا کرو لوگوں کو چیزیں کم مت دیا کرو، اور رسولوں کو بھیج کر زمین کی اصلاح کے بعد کفر و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا نہ کرو اسی مذکور میں تمہارے لئے خیر ہے اگر تمہارا ایمان کا ارادہ ہے تو اس کی طرف جلدی کرو اور تم راستوں پر اسلئے نہ بیٹھا کرو کہ لوگوں کو ان کے کپڑے چھین کر یا ان سے ٹیکس وصول کرے خوف زدہ کرو اور اللہ کے دین پر یقین رکھنے والوں کو قتل کی دھمکی دے کر اللہ کے دین سے روکو اور اس راستہ میں کجی تلاش کرو، وہ زمانہ یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے اللہ نے تمہیں بہت کردیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ تم سے پہلے رسولوں کی تکذیب کرکے فساد برپا کرنے والوں کا کیا حشر ہوا یعنی ان کا انجام ہلاکت ہوا، اور اگر ایک گروہ تم میں اس پر جس کو میں دیکر بھیجا گیا ہوں ایمان لایا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا تو تم انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حق پرستوں کو نجات دے کر اور باطل پرستوں کو ہلاک کرکے ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مدین، یا مدیان حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطور اسے ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے ہیں یہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں اسلئے کہ بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے یعقوب بن اسحقٰ سے ہے، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ایک نام اسرائیل بھی تھا اس لئے ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی، مدین ایک بستی کا نام ہے اور مدیان کی اولاد بھی بنی مدین کہلائی حضرت شعیب (علیہ السلام) کا تعلق بھی اسی قوم سے ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خسر تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے ہجرت کرکے مدین پہنچ کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے یہاں قیام کیا اور دس سال کا عرصہ یہیں گزارا، اسی دوران حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شادی ہوئی۔
قولہ : مُرِیْدِی الِایمَانِ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : حضرت شعیب (علیہ السلام) کے مخاطب مومن نہیں تھے تو ان کو ان کنتم مومنین ماضی کے صیغہ سے کیوں خطاب کیا۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے چونکہ حرف شرط بھی صیغہ ماضی کو ماضی سے نہیں نکال سکتا اس لئے مریدی، کا لفظ مقدر ماننا پڑا تاکہ معنی درست ہوجائیں، مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا ایمان لانے کا ارادہ ہے تو مذکورہ کاموں سے باز آجاؤ۔
قولہ : فَبَادِرُوْا الیہ اس میں اشارہ ہے کہ ان کنتم مؤمنین شرط کی جزاء، محذوف ہے نہ کہ ماقبل کا جملہ جزاء ہے (ترویح الارواح)
قولہ : المکس، خراج، ٹیکس، عشر، المکّاس، العشار، عشر وصول کرنے والا۔
تفسیر و تشریح
مدین کی مختصر تاریخ : انبیاء (علیہم السلام) کے قصص کا سلسلہ سابقہ آیات سے چل رہا ہے یہ پانچواں قصہ ہے، یہ قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ہے۔ مدین کا اصل علاقہ حجاز سے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا، اہل مدین کا تعلق سلسلہ بنی اسرائیل سے نہیں ہے اہل مدین دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین کی اولاد میں سے ہیں، عرب کے دستور کے مطابق جو لوگ کسی بڑے شخص کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہوتے وہ اسی کی طرف منسوب ہو کر بنی فلاں کہلاتے تھے، اس دستور کے مطابق عرب کا بڑا حصہ بنی اسماعیل کہلایا، اور اولاد یعقوب کے ہاتھ پر مشرف باسلام ہونے والے لوگ بنی اسرائیل کہلائے، اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کے صاحبزادے مدین کے زیر اثر آنیوالے لوگ بنی مدین کہلائے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بعثت : حضرت شعیب (علیہ السلام) جس قوم کی جانب مبعوث کئے گئے تھے قرآن کریم نے کہیں ان کو ” اہل مدین “ اور کہیں ” اصحاب مدین “ کے نام سے ذکر کیا ہے، اور کہیں ” اصحاب ایکہ “ کے نام سے، ایکہ کے معنی جنگل اور بن کے آتے ہیں، بعض مفسرین حضرات نے فرمایا کہ یہ دونوں قومیں الگ الگ تھیں اور دونوں کی بستیاں بھی الگ الگ تھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) پہلے ایک بستی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اس قوم کی ہلاکت کے بعد دوسری قوم کی طرف مبعوث ہوئے، دونوں قوموں پر جو عذاب آیا اس کے الفاظ بھی مختلف ہیں اصحاب مدین پر کہیں ” صیحۃ “ اور کہیں ” رجفۃ “ کا عذاب مذکور ہے اور اصحاب ایکہ پر ” ظلہ “ کے عذاب کا ذکر ہے، اور بعض مفسرین نے فرمایا کہا صحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کے نام ہیں مذکورہ تینوں قسم کے عذاب اس قوم میں جمع ہوگئے تھے، پہلے بادل سے آگ برسی پھر اس کے ساتھ سخت آواز چنگھاڑ کی شکل میں آئی پھر زمین میں زلزلہ آیا۔ (ابن کثیر، معارف)
قوم شعیب اور ان کی بد کرداری : قوم شعیب کی ایک بری خصلت یہ تھی کہ راستوں پر چوراہوں پر جمع ہو کر بیٹھ جاتے اور مسافروں کو لوٹتے اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانے سے روکتے، راستوں پر بیٹھ کر لوٹ کھسوٹ کرتے بعض مفسرین نے خلاف شرع چنگی اور ٹیکس وغیرہ وصول کرنے کو بھی داخل کیا ہے۔ علامہ قرطبی نے فرمایا جو لوگ راستوں پر بیٹھ کرنا جائز چنگی وصول کرتے ہیں وہ بھی قوم شعیب (علیہ السلام) کی طرح مجرم ہیں۔
Ayahs 7:88–90آیت نمبر 88 تا 93
ترجمہ : حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے جنہوں نے ایمان کے مقابلہ میں تکبر کیا، کہا اے شعیب ہم تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے ضرور نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے دین (دھرم) میں واپس آجاؤ، خطاب میں جمع کو واحد پر غلبہ دیا ہے، اسلئے کہ شعیب (علیہ السلام) ان کے دین پر ہرگز نہ تھے اور اسی (تغلیب الجمع علی الواحد) کے طور پر شعیب (علیہ السلام) نے بھی جواب میں فرمایا، کیا ہم اس دین میں لوٹ آئیں اگرچہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہوں (یہ) استفہام انکاری ہے واللہ اگر تمہارے دین میں واپس آگئے تو ہم نے اللہ پر جھوٹی تہمت لگائی بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو اس سے نجات دی، ہرگز ہمارے لئے روا نہیں کہ ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں الایہ کہ ہمارے پروردگار اللہ ہی کو یہ منظور ہو کہ وہ ہم کو رسوا کرے ہمارے رب کا علم ہر شئ کو محیط ہے اسی میں میرا اور تمہارا حال بھی شامل ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا یعنی آپس میں ایک دوسرے سے کہا قم ہے اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی بات مان لی تو تم بڑا نقصان اٹھاؤ گے، تو ان کو ایک شدید زلزلہ نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (یعنی) گھٹنوں کے بل مردہ پڑے رہ گئے، جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہوئی کہ گویا وہ ان گھروں میں کبھی رہے نہ تھے (اَلذین کذبوا شعیبًا) مبتداء ہے اور کان الخ اس کی خبر ہے، کاَنْ مخففہ ہے اور اس کا اسم محذوف ہے، ای کأنَّھُمْ ، جنہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی وہ خسارے میں پڑگئے موصول وغیرہ کا اعادہ کرکے تاکید ہے ان کے قول سابق کی تردید کیلئے، اس وقت شعیب (علیہ السلام) منہ موڑ کر چل دئیے، اور آپ نے فرمایا اے میری قوم میں اپنے رب کا پیغام تم کو پہنچا چکا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی پھر بھی تم ایمان نہیں لائے، اب میں کافر لوگوں پر کیسے افسوس کروں جو (قبول حق سے) منکر ہیں، استفہام بمعنی نفی ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَغَلَّبُوْا فی الخِطَابِ الجمعُ علی الواحِدِ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : سوال یہ ہے کہ قوم شعیب کے سرداروں کے قول، اَوْ لتعودُنَّ ، سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوائے نبوت سے پہلے اپنے قومی مذہب پر تھے، اسلئے کہ عَوْد حالت سابقہ کی طرف لوٹنے کو کہتے ہیں حالانکہ نبی سے کفر کا صدور محال ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) پر جو لوگ ایمان لائے تھے وہ چونکہ ایمان لانے سے پہلے قومی مذہب بت پرستی پر تھے اسلئے ان کے اعتبار سے قوم کے سرداروں نے تغلیباً حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھی ان کے ساتھ شریک کرکے لتعودُن، جمع کا صیغہ استعمال کیا، ورنہ شعیب (علیہ السلام) سے کبھی کفر کا صدور نہیں ہوا۔
قولہ : وعَلیٰ نَحْوِہٖ اَجَابَ ، یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان عدنا فرما کر خود اقرار کرلیا کہ وہ خود بھی قوم کے مذہب پر تھے، اس کا جواب مفسر علام نے وعلیٰ نحوہٖ اجاب کہہ کردیا ہے، مطلب یہ ہے کہ جس طرح قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو تغلیباً قوم میں شام کرکے لتعودُن، کہا تھا، اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی تغلیباً اِنْ عُدنا، فرمایا۔
قولہ : فیَخْذُلُنا، اس میں اشارہ ہے کہ یَشَاءَ کا مفعول محذوف ہے اور وہ خذلان ہے نہ کہ مطلق شئ۔
قولہ : ای وَسِعَ علمہٗ ، اس میں اشارہ ہے کہ علمًا فاعل سے منقول ہو کر تمیز ہے۔
قولہ : التَاکِیْدْ باِعَادَۃِ المَوْصُوْلِ اس عبارت میں اس شبہ کو دور کردیا کہ الذین کذبوا شعیبًا کہنے کے بجائے، اَنَھم کانواھم الخٰسِرون کہتے تو زیادہ بہتر رہتا اعادہ موصول کی ضرورت نہیں تھی ضمیر کافی تھی، جواب کا حاصل یہ ہے کہ ان کی صفت کفر کی تاکید کیلئے موصول کا اعادہ کیا گیا ہے، ضمیر میں یہ بات نہ ہوتی۔
قولہ : وَغَیْرِہٖ لِلرَّدِّ عَلَیْھِم فی قَوْلِھِم السَابِقِ ، یعنی موصول کے اعادہ سے ان کی صفت کفر کی تاکید ہوئی ہے اسی طرح جملہ سابقہ کی طرح اس جملہ کو بھی مستقل اور اسمیہ لاکر سابق جملہ کے مضمون کی مزید تاکید ہوگئی۔
تفسیر و تشریح
قال الملا الذین استکبروا، ان سرداروں کے تکبر اور سرکشی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے صرف ایمان و توحید کی دعوت ہی کو رد نہیں کیا بلکہ اس سے بھی تجاوز کرکے اللہ کے پیغمبروں اور ایمان لانے والوں کو دھمکی دی کہ یا تو اپنے آبائی مذہب میں واپس آجاؤ نہیں تو ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے، اہل ایمان کے اپنے سابق مذہب کی طرف واپسی کی بات تو قابل فہم ہے کیونکہ انہوں نے کفر چھوڑ کر ایمان اختیار کیا تھا، لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بھی ملت آبائی کی طرف لوٹنے کی دعوت اس لحاظ سے دی تھی کہ وہ انہیں بھی دعوت و تبلیغ سے پہلے اپنا ہم مذہب ہی سمجھتے تھے گو حقیقتاً ایسا نہ تھا، یا بطور تغلیب کے ان کو بھی شامل کرلیا ہو، اسلئے کہ پیغمبر بعثت سے پہلے اپنی قوم کے موروثی مذہب کی مخالفت نہیں کرتا سکونت اختیار کرتا ہے اس لئے قوم قدرۃً اس کو بھی اسی مذہب میں شامل سمجھتی ہے۔
Ayahs 7:91–93فاخذتھم۔۔۔۔۔ جٰثمین، قرآن کریم میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت کے عذاب کا تذکرہ تین مقامات پر آیا ہے، ایکؔ یہاں یعنی سورة اعراف میں زلزلہ کا ذکر ہے ایکؔ سورة ہود میں آسمانی چیخ کا ذکر ہے، اور ایکؔ سورة شعراء میں عذاب کے بادل کا ذکر ہے جس میں سے آگ برسی تھی، یہ تینوں عذاب ایک ساتھ اس طرح آئے کہ وہ لوگ اپنے گھروں میں تھے تو زلزلہ آیا جب گھروں سے باہر نکلے تو سخت گرمی معلوم ہوئی تو بادل کی شکل کا آسمان پر ایک ٹکڑا نظر آیا جس کا گھنا سایہ تھا پہلے ایک شخص اس سایہ میں گیا اس نے آکر سایہ کی ٹھنڈک کی تعریف کی، لوگ اس کی تعریف سن کر اس بادل کے سایہ میں چلے گئے اسی دوران آسمان سے ایک سخت چیخ کی آواز آئی اور پھر اسی بادل سے آگ برسی جس سے سب لوگ ہلاک ہوگئے۔
مدین کی تباہی مدتہائے دراز تک آس پاس کی قوموں میں ضرب المثل رہی ہے چناچہ زبور میں ایک جگہ آیا ہے کہ ” اے خدا، فلاں فلاں قوموں نے تیرے خلاف عہد کیا ہے لہٰذا تو انکے ساتھ وہی معاملہ کر جو تو نے مدیان کے ساتھ کیا تھا “ (73۔ 5 تا 9)
Ayahs 7:94–99آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور انہوں نے اس کی تکذیب ہو مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کو فقر کی سختی اور مرض کی تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ عاجزی کرنے لگیں اور ایمان لے آئیں، پھر ہم نے ان کی بدحالی عذاب کو خوشحالی غنیٰ اور صحت سے بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی (یعنی ان کی جان و مال میں کثرت ہوئی) اور نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے کہنے لگے جس طرح ہم پر آئے ہیں ہمارے اسلاف پر بھی اچھے برے دن آتے ہی رہے ہیں زمانہ کا یہی دستور ہے، یہ اللہ کی جانب سے سزا نہیں ہے لہٰذا جس مذہب پر تم ہو اسی پر قائم رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو ہم نے ان کو دفعۃً پکڑ لیا ان کو پہلے سے اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوئی اور اگر تکذیب کرنے والے بستی کے لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لے آتے اور کفر و معاصی سے اجتناب کرتے تو ہم ان پر آسمان کے بارش کی صورت میں اور زمین کے نباتات (روئیدگی) کی شکل میں برکتوں کے دروازے کھول دیتے (لفتحنا) تخفیف و تشدید کے ساتھ ہے، مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو گرفت میں لے لیا، کیا پھر بھی ان بستیوں کے تکذیب کرنے والے باشندے اس بات سے مامون ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آجائے کہ وہ سوئے ہوں (یعنی) غافل ہوں اور کیا ان بستیوں کے باشندے اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آجائے جبکہ وہ کھیلوں میں مشغول ہوں کیا یہ لوگ اللہ کی چال (یعنی) نعمت کے ذریعہ بتدریج پکڑ اور اچانک پکڑ سے بےخوف ہوگئے ہیں، سو اللہ کی چال سے بجز اس کے کوئی بےخوف نہیں ہوا کہ جس کی شامت آگئی ہو۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَمَا اَرْسَلْنَا فِی قَرْیَۃٍ ، یہ جملہ مستانفہ ہے، مخصوص امتوں کے واقعات بیان کرنے کے بعد یہاں سے اللہ کی عام عادت اور عام دستور کو بیان کیا جار ہا ہے۔
قولہ : یضَّرَّعون، یہ اصل میں تاء کو ضاد سے بدل کر ضاد کو ضاد میں ادغام کردیا، یضَرَّعون ہوگیا۔
قولہ : اِسْتِدْرَاجَہٗ ایاھم استدْراج کسی کان کو بتدریج کرنا، مکر کے معنی دھوکا، فریب کے ہیں اللہ کی طرف اس کی نسبت کرنا درست نہیں ہے یہاں مکر سے استدراج بالاستعارہ مراد ہے یعنی بتدریج نعمت و صحت کے ذریعہ ڈھیل دیکر گرفت میں لینا کہ گرفتہ کو احساس نہ ہو۔ قولہ : عَفَوْا، (ن) سے عَفُوٌّ، بڑھانا ماضی جمع مذکر غائب، اس کے معنی کم ہونے کے بھی آتے ہیں یہ اضداد میں سے ہے عفَوْا، کثروا نموا فی انفسھم واموالھم، یقال عفا النبات، وعفا الشحم والوبر اذا کثرت ویقال، عفا، کثر، وعفا، درسَ ھو من اسماء الاضداد۔ (اعراب القرآن للدریش) ۔ قولہ : الباس اور بؤسٌ فقر و فاقہ، ضرَّ اور ضرّاء، جسمانی تکلیف، مرض، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے یہی معنی منقول ہیں۔
تفسیر و تشریح
سابقہ آیات میں پانچ حضرات انبیاء کے واقعات کا بیان ہوا ہے، قرآن کریم کا مقصد واقعات بیان کرنے سے کچھ قصہ خوانی نہیں ہوتا بلکہ واقعہ سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے اس کو عبدت و نصیحت کیلئے بیان کرنا ہوتا ہے، سابق میں ایک ایک نبی کا الگ الگ واقعہ اور اس کا نتیجہ بیان کرنے کے بعد اب وہ جامع ضابطہ بیان کیا جا رہا ہے جو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے موقع پر اختیار فرمایا ہے وہ یہ کہ جب کسی قوم میں کوئی نبی بھیجا گیا تو پہلے اس قوم کے خارجی ماحول کو قبول دعوت کیلئے سازگار بنانے کیلئے تنبیہات و ترغیبات سے کام لیا گیا یعنی ان کو فقر و قافہ نیز مصائب و آفات، میں مبتلا کیا گیا، تاکہ ان کا دل نرم پڑے اور شیخی وتکبر سے اکڑی ہوئی گردنیں کچھ نرم پڑیں، ان کا غرور طاقت اور نشہ دولت دور ہو، جب اس سازگار ماحول میں بھی ان کا دل قبول حق کی طرف مائل نہیں ہوتا، تو ان کو خوشحالی کے فتنہ میں گرفتار کیا جاتا ہے یہیں سے ان کی بربادی کی تمہید شروع ہوتی ہے، ان کی تنگدستی کو فراخ دستی سے بدحالی کو خوشحالی سے بیماری کو صحت و عافیت سے بدل دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کریں، مگر جب وہ نعمتوں سے مالا مال ہونے لگتی ہے تو اپنے برے دن بھول جاتی ہے اور ان کے کج فہم رہنما تاریخ کا یہ احمقانہ تصور ذہن میں بٹھا دیتے ہیں کہ حالات کا اتار چڑھاؤ اور قسمت کا بناؤ بگاڑ کسی قادر و حکیم کے انتظام میں اخلاقی بنیادوں پر نہیں ہے بلکہ خارجی اور داخلی اسباب سے کبھی اچھے اور کبھی برے دن آتے ہی رہتے ہیں، لہٰذا مصائب و آفات کے نزول سے کوئی اخلاقی سبق لینا اور کسی ناصح کی نصیحت قبول کرکے خدا کے آگے زاری و تضرع کرنے لگنا بجز ایک طرح کی نفسیانی کمزوری کے کچھ نہیں یہی وہ احمقانہ ذہنیت ہے جس کا نقشہ رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں کھینا ہے، لایزال البلاء بالمؤمن حتی یخرج نقیاً من ذنوبہٖ ، والمنافق مَثَلہٗ کمثل الحمار لایدری فیما رَبَطَہٗ اھلہ ولا فیمَ اَرْسلوہُ ، (ترمذی کتاب الزھد ماجاء فی الصبر علی البلاء المستدرک للحاکم 497) ، یعنی مصیبت مومن کی تو اصلاح کرتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ جب وہ اس بھٹی سے نکلتا ہے تو ساری کھوٹ صاف ہو کر نکلتا ہے لیکن منافق کی حالت بالکل گدھے کی سی ہوتی ہے جو کچھ نہیں سمجھتا کہ اس کے مالک نے کیوں اسے باندھا تھا اور کیوں اسے کھول دیا، پس جب کسی قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ نہ مصائب سے اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے اور نہ نعمتوں پر وہ شکر گزار ہوتی ہے تو ایسی قوم کسی حال میں اصلاح قبول نہیں کرتی ہے۔
آپ کے زمانہ کے حالات اور سورة اعراف : یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے جس ضابطہ کا ذکر فرمایا ہے ٹھیک یہی ضابطہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے موقع پر بھی برتا گیا، اور شامت زدہ قوموں کے جس طرز عمل کی طرف اشار فرمایا گیا ہے ٹھیک وہی طرز عمل سورة اعراف کے نزول کے زمانہ میں اہل مکہ سے ظاہر ہو رہا تھا، حدیث میں عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس ؓ دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کے بعد جب قریش کے لوگوں نے آپ کی دعوت کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو آپ ﷺ نے دعاء کی کہ خدایا، یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں جیسا ھفت سالہ قحط پڑا تھا ویسے ہی قحط سے ان لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما چناچہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سخت قحط میں مبتلا کردیا، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگ مردار کھانے لگے چمڑے ہڈیاں تک کھا گئے آخر کار مکہ کے لوگوں نے جن میں ابوسفیان پیش پیش تھا حضور ﷺ سے درخواست کی کہ ہمارے لئے خدا سے دعاء کیجئے، آپ نے دعاء فرمائی اور آپ کی دعاء کی برکت سے اللہ نے وہ برا وقت ٹال دیا اور بھلے دن آئے تو ان لوگوں کی گردنیں پہلے سے زیادہ اکڑ گئیں، اور جن کے دل کچھ پسیج گئے تھے ان کو بھی اشرار قوم نے یہ کہہ کر ایمان سے روکنا شروع کردیا کہ میاں یہ تو زمانہ کا اتار چڑھاؤ ہے پہلے بھی آخر قحط آتے ہی تھے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اس مرتبہ ذرا لمبا قحط پڑگیا لہٰذا ان چیزوں سے دھوکا کگا کر محمد ﷺ کے پھندے میں نہ پھنس جانا یہ باتیں اس زمانہ میں ہو رہی تھیں جب سورة اعراف نازل ہو رہی تھی، اس لئے قرآن مجید کی یہ آیات ٹھیک اپنے موقع پر چسپاں ہیں۔
Ayahs 7:100–102آیت نمبر 100 تا 108
ترجمہ : اور کیا ان لوگوں پر کہ جو زمین کے سابق مالکان کی ہلاکت کے بعد سکونت کے اعتبار سے زمین کے وارث بنے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیں أن مع اپنے مابعد (لونشاءُ ) کے یَھْدِ کا فاعل ہے اور أن مخففہ عن الثقیلہ ہے اور (أن) کا اسم محذوف ہے تقدیر عبارت أنَّہٗ ہے، جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کو پکڑ لیا، ہمزہ چاروں جگہ توبیخ کیلئے ہے اور جو فاء اور واؤ اس پر داخل ہیں عطف کیلئے ہیں ایک قرأت میں واؤ کے سکون کے ساتھ ہے، پہلی جگہ اَوْ کے ذریعہ عطف کرتے ہوئے، اور ان کے دلوں پر مہر (بند) لگا دیں کہ وہ نصیحت کو غور و فکر کے خیال سے نہ سن سکیں اے محمد مذکورہ بستیوں کے باشندوں کے کچھ واقعات ہم آپ کو سنا رہے ہیں ان کے رسول ان کے پاس کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے مگر جس چیز کا پہلے انہوں نے انکار کردیا پھر وہ اس چیز کے پیش آنے کے بعد اس چیز کو ماننے والے نہیں تھے بلکہ وہ اس کا انکار ہی کرتے رہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے اور اکثر لوگوں میں ہم نے عہد کا (پاس) نہ پایا یعنی یوم میثاق کے عہد کی وفانہ پائی، اور ہم نے اکثر لوگوں کو حد سے تجاوز کرنے والا ہی پایا اِنْ مخففہ عن الثقیلہ ہے، مذکورہ رسول کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہماری نو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے ان کا انکار کیا تو دیکھئے، کفر کی وجہ سے ان مفسدوں کا کیسا انجام ہوا (یعنی) ان کی ہلاکت، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے فرعون میں رب العلمین کی طرف سے تیری طرف بھیجا ہوا ہوں مگر فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، میرے لئے یہی مناسب ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں اور ایک قراءت میں عَلیٰ کے بجائے عَلَیَّ تشدید کے ساتھ ہے، اس صورت میں حقیق مبتداء ہوگا اور أن اور اس کا مابعد اس کی خبر، میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل لے کر آیا ہوں سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ شام بھیج دے اور (فرعون) نے ان کو غلام بنا رکھا تھا، فرعون نے کہا اگر تم اپنے دعوے پر کوئی دلیل لے کر آئے ہو تو پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصاء ڈالا دیا تو وہ دفعۃً ایک بڑا اژدھا بن گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے (گریبان میں اپنا ہاتھ داخل کرکے) نکالا تو وہ اچانک دیکھنے والوں کی نظر میں اپنے گندم گونی رنگ کے برخلاف روشن چمکدار تھا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یَتَبَیَّنْ ۔ سوال : یَھْدِ کا صلہ لام نہیں آتا یہاں، للذیْنَ ، میں یھد کا صلہ لام استعمال ہوا ہے۔ جواب : مفسر علام نے یَھْدِ کی تفسیر یَتَبیَّنْ ، سے کرکے اسی شبہ کا جواب دیا ہے، یعنی یَھْدِ یتبیَّنْ کے معنی میں ہے اور یتبیَّنْ کا صلہ لام آتا ہے۔
قولہ : بالسکنیٰ ۔ سوال : لفظ سکنیٰ کا اضافہ کس مقصد سے کیا ہے ؟
جواب : چونکہ ملک کا تحقق محض سابق قوم کی ہلاکت سے نہیں ہوتا اس کیلئے سکونت اور قبضہ ضروری ہے، اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے مفسر علام نے لفظ سکنی کا اضافہ کیا ہے۔
قولہ : أن فَاعِلٌ، أن اپنے مابعد سے ملکر یَھْدِ کا فاعل ہے، نَھْدِ نون کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، نون کی قراءت کی صورت میں اللہ فاعل ہوگا، اور نھد کا مفعول أن لو نشاء اَصَبْنَاھم بذنوبِھِمْ ہوگا، ای أنَّ الشان ھو ھذا، اور یَھْدِ ، یاء کی قراءت کی صورت میں فاعل، أن لونشاءُ اَصَبْناھم بذنوھم ہے، (تسہیل) أنْ مخففہ عن الثقیلہ ہے اس کا اسم ہٗ ضمیر شان محذوف ہے ای أنّہٗ ، اور جملہ لَوْ نشاءُ اس کی خبر، أنَّ اور اس کا مابعد یَھْدِ کا فاعل ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یَھْدِ کا فاعل اس میں ضمیر مستتر ہو اور اس ضمیر کا مرجع وہ ہوگا جو سیاق کلام سے مفہوم ہے، ای اَوَلم یَھْدِ ما جری للامم السابقۃ، اس صورت میں أن اور اس کا مابعد بتاویل مصدر ہو کر محل میں مفعول کے ہوگا، پہلی صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، اَوَلم یَھدِ اللہ ویبین للوارثین مآلھم وعاقبۃ امرھم اصابتنا اِیّاھم بذنوبھم ویکون المفعول بہ محذوفًا کما قدرناہ، اور ثانی صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، اَوَلم یُبین فی وضح اللہ ما جریٰ للامم اصَابتنا اِیّاھم لو نشاء ذلک۔
قولہ : فی مَوَاضِعِ الاَرْبَعۃِ ان میں پہلا اَفَاَمِنَ اھل القریٰ ہے اور آخری اَوَلم یَھْدِ ہے، دو فاء کے ساتھ ہیں اور دو واؤ کے ساتھ۔
قولہ : الوَ اوُ الدَاخِلَۃُ عَلَیھا للِعَطْفِ ۔ سوال : ہمزوہ استفہام کا حرف عطف پر داخل ہونا منع ہے۔
جواب : ممانعت عطف مفرد علی المفرد میں ہے نہ کہ عطف جملہ علی الجملہ میں اسلئے کہ جملہ بعد الجملہ کلام مستانف ہوتا ہے۔
تفسیر و تشریح
اولم یھد۔۔۔ الارض (الآیۃ) یہاں ایک بات تو یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کردیا، ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہاری بد اعمالیوں کے صلہ میں ہلاک کردیں، دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق کی آواز سننے کیلئے ان کے کان بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے نصیحت اور انذار ان کیلئے سب بیکار و بےاثر ہوتے ہیں۔
قوموں کی تاریخ سے سبق : ہلاک و برباد ہونے والی قوم کی جگہ جو دوسری قوم آتی ہے اس کیلئے اپنی پیش روقوم کے زوال میں کافی رہنمائی موجود ہوتی ہے اور اگر عقل سے کام لے تو سمجھ سکتی ہے کہ کچھ مدت پہلے جو لوگ اس جگہ داد عیش دے رہے تھے اور جن کی عظمت کا جھنڈا یہاں لہرا ریا تھا انھیں فکر و عمل کی کن غلطیوں نے برباد کیا ؟ اور یہ بھی محسوس کرسکتا ہے کہ جس بالا اقتدار نے کل انھیں ان کی غلطیوں پر پکڑا تھا اور ان سے یہ جگہ خالی کرائی تھی وہ آج کہیں چلا نہیں گیا، اور نہ اس سے کسی نے یہ مقدر چھین لی ہے کہ اس جگہ کے موجود ساکنین اگر وہی غلطی کریں جو سابق ساکنین کر رہے تھے تو وہ ان سے بھی اسی طرح جگہ خالی نہ کرا سکے گا جس طرح ان سے خالی کرائی تھی۔
ونطبع۔۔۔۔ لایسمعون، جب کوئی قوم تاریخ اور عبرتناک سبق آموز آثار و مشاہدات سے سبق نہیں لیتی اور اپنے آپ کو خود فریبی میں مبتلا رکھتی ہے تو پھر خدا کی طرف سے بھی انھیں سوچنے سمجھنے اور کسی ناصح کی نصیحت سننے کی توفیق نہیں ملتی خدا کا قانون فطرت یہی ہے کہ جو اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے تو اس کی بینائی تک آفتاب کی روشن کرنیں نہیں پہنچ سکتیں اور جو خود سننا نہ چاہے بھلا اسے کوئی سنا سکتا ہے ؟
ولقد جاءتھم رسلھم بالبینت (الآیۃ) اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جب پیغمبر خدا کا پیغام لے کر اس کے پاس آئے تو وہ اس وجہ سے ان پر یمان نہیں لائے کہ وہ اس سے قبل حق کی تکذیب کرچکے تھے، یہی جرم ان کے عدم ایمان کا سبب بن گیا، اور ایمان لانے کی توفیق ان سے سلب کرلی گئی، اسی کو آئندہ جملے میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
وما وجدنا۔۔۔۔۔ لفسقین، اس عہد سے بغض نے عہد الست مراد لیا ہے، جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، اور بغض نے ہر قسم کا عہد مراد لیا ہے، یعنی ان لوگوں نے کسی قسم کے عہد کا پاس لحاظ نہیں کیا، نہ اس فطری عہد کا جس میں پیدائشی طور پر ہر انسان خدا کا بندہ پروردہ ہونے کی حیثیت سے بندھا ہوا ہے، نہ اس اجتماعی عہد کا پاس جس میں ہر فرد و بشر انسانی برادری کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے بندھا ہوا ہے، اور نہ اس ذاتی عہد کا پاس جو آدمی مصیبت اور پریشانی کے لمحوں میں یا کسی جذبہ خیر کے موقع پر خدا سے بطور خود باندھا کرتا ہے ان ہی تینوں عہدوں کو توڑنے کو یہاں فسق کہا گیا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد الست ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا عہد سے مراد عہد ایمان وطاعت ہے۔
یہاں تک پچھلے انبیاء اور ان کی قوموں کے پانچ واقعات بیان کرکے موجودہ لوگوں کو ان سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کیلئے تنبیہات فرمائی گئی ہیں، اس کے بعد چھٹا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جس میں واقعات کے ضمن میں سینکڑوں احکام و مسائل اور عبرت و نصیحت کے بیشمار مواقع ہیں اور اسی لئے قرآن کریم میں اس واقعہ کے اجزاء بار بار دھرائے گئے ہیں۔
Ayahs 7:103–108حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ : ثم بعثنا۔۔۔۔۔ وملائہ (الآیۃ) ، یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے، جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے اور بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دیکر بھیجا گیا تھا، بنی اسرائیل اصالۃً ملک شام کے علاقہ فلسطین میں کنعان کے رہنے والے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے مصری وزارت مالیات کے زمانہ میں اپنے خاندان کو مصر بلا لیا تھا، یہ لوگ مصر آکر آباد ہوگئے اور یہیں کے ہو کر وہ گئے، اسی خاندان بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کیلئے آپ کو معجزے دیکر بھیجا گیا۔
فرعون موسیٰ کون تھا : فرعون شاہان مصر کا لقب ہے کسی خاص بادشاہ کا نام نہیں ہے، لفظ فرعون کے معنی ہیں سورج دیوتا کی اولاد، قدیم اہل مصر سورج کو جو ان کا مہادیو یا رب اعلیٰ تھا، رَع کہتے تھے اور لفظ فرعون اسی کی طرف منسوب تھا، مصر کا حاکم اور فرمانروا خود کو اسی کا جسمانی مظہر اور نمائندہ ہونے کا دعویدار ہوتا تھا، اسی لئے مصر میں جو خاندان برسر اقتدار آتا تھا وہ اپنے آپ کو سورج و نسی بنا کر پیش کرتا تھا جیسا کہ ہندوستان میں بھی بہت سے خاندان خود کو سورج و نسی اور چند رونسی بتاتے ہیں۔
تین ہزار قبل مسیح سے شروع ہو کر عہد سکندر تک فراعنہ کے اکتیس (31) خاندان مصر پر حکمراں رہے ہیں اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون کون ہے ؟ عام مؤرخین عرب اور مفسرین اس کو عمالقہ کے خاندان کا فرد بتاتے ہیں، کسی نے اس کا نام ولید بن ریان بتایا ہے اور کوئی مصعب بن ریّان بتاتا ہے ارباب تحقیق کی رائے ہے کہ اس کا نام ریّان تھا، ابن کثیرفرماتے ہیں کہ اس کی کنیت ابو مرّہ تھی یہ سب اقوال قدیم مؤرخین کی تحقیقی روایات پر مبنی ہیں، مگر اب جدید مصری اثری تحقیقات اور حجری کتبات کے پیش نظر اس سلسلہ میں دوسری رائے سامنے آئی ہے وہ یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا فرعون ریمسیس ثانی کا بیٹا منفتاح ہے جس کا دور حکومت 1292 ق م سے شروع ہو کر 1225 ق م پر ختم ہوتا ہے۔ (قصص القرآن)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے سلسلہ میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں آپ نے پرورش پائی دوسرا وہ جس کے پاس آپ اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کر پہنچے تھے اور جو بالآخر غرق ہوا موجودہ زمانہ کے محققین کا عام خیال یہ ہے کہ پہلا فرعون ریمسیس (رعمسیس) دوم تھا اور جس فرعون کا زیر تفسیر آیتوں میں ذکر ہے وہ ریمسیس دوم کا بیٹا منفتاح تھا، اسی بادشاہ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا جس کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے یہ دوسرا مطالبہ رکھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے تاکہ وہ اپنے آبائی وطن جاکر عزت و احترام کی زندگی بسر کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نو معجزے عطا کئے تھے ان میں سے دو عظیم معجزے، معجزہ عصاء اور یدبیضاء، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون کے سامنے دلیل صداقت کے طور پیش کئے تو یہ معجزے دیکھ کر ایمان لانے کے بجائے فرعون اور اس کے درباریوں نے معجزوں کو جادو قرار دیکر کہہ دیا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تنہاری حکومت کو ختم کرنا ہے۔