7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 7:148–151

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

آیت نمبر 148 تا 151 ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم (بنی اسرائیل) نے موسیٰ کے مناجات کیلئے جانے کے بعد ان زیورات سے جن کو وہ فرعون کی قوم (قبطیوں) سے شادی کے بہانے عاریۃً لے آئے تھے، پھر وہ ان ہی کے پاس رہ گئے تھے، گوشت پوست (خون) کے بچھڑے کا ایک پتلا (معبود) سامری نے ان کیلئے اس زیور کا بنادیا، جَسَدًا، عجلاً سے بدل ہے معنی میں گوشت اور خون کے ہے اس کی بیل کے جیسی آواز تھی جو سنی جاتی تھی، اس طرح قلب ماہیت پتلے کے منہ میں اس مٹی کے ڈالنے کی وجہ سے ہوگئی جس کو سامری نے جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے لے لیا تھا، اس مٹی کا اثر زندگی ہر اس شئ پر ظاہر ہوتا تھا، جس میں وہ ڈالدی جاتی، اتخذ کا مفعول محذوف ہے اور وہ اِلٰھاً ہے، کیا انھیں نظر نہیں آتا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے ؟ نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے اس کو کس طرح معبود بنایا جاسکتا ہے، مگر پھر بھی انہوں نے اس کو معبود بنا لیا، اس کو معبود بنا کر بڑی ناانصافی کا کام کیا، اور جب وہ بچھڑے کی بندگی پر نادم ہوئے اور ان کی سمجھ میں آگیا کہ وہ درحقیقت اس کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے کے بعد ہوا، تو کہنے لگے، اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم یقیناً زیاں کاروں میں ہوجائیں گے، اور (ادھر) جب موسیٰ (علیہ السلام) ان پر غصے اور شدید غم میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس ہوئے تو ان سے فرمایا تم لوگوں نے میرے بعد بہت بری جانشینی کی، تمہاری یہ جانشینی کہ تم شرک میں مبتلا ہوئے کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوسکا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے ؟ اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں، (یعنی) خدا کے لئے غصہ میں تورات کی تختیاں (ایک طرف رکھ دیں) جو ٹوٹ گئیں، اور اپنے بھائی کے سر کے بال دائیں ہاتھ سے اور ان کی داڑھی بائیں ہاتھ سے پکڑ کر غصہ میں اپنی طرف کھینچتے (ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے بھائی ان لوگوں نے مجھے کمزور پایا (یعنی مجھے دبا لیا) اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں پس تم اپنی طرف سے میری توہین کرکے دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو ، اور مجھ کو بچھڑے کی بندگی کرنے کی وجہ سے مواخذہ میں ظالم لوگوں میں شمار نہ فرمائیں، (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میں نے اپنے بھائی کے ساتھ کیا اسے معاف فرما اور میرے بھائی کو معاف فرما، دعاء میں اپنے بھائی کو ان کو خوش کرنے اور دشمنوں کی خوشی کو دفع کرنے کیلئے شریک کرلیا، اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : حُلِیِّھم، حُلِیُّ ، حَلْیٌ کی جمع ہے، جیسا کہ ثُدِیٌّ ثَدْیٌ کی جمع ہے، حُلِیٌّ اصل میں حُلُوْیٌ تھا، واو اور یاء ایک جگہ جمع ہوئے ساکن واؤ کو یاء کو یاء میں ادغام کردیا، اور یاء کی رعایت سے لام کے ضمہ کو کسرہ سے بدل دیا، حُلِیٌّ ہوگیا۔ قولہ : صَاغَہٗ لھم السامریُ ، سامریُ صاغ کا فاعل ہے اور ہٗ ضمیر عجلاً کی طرف راجع ہے لھم کی ضمیر قوم کی طرف راجع ہے اور منہ کی ضمیر سونے کے زیورات کی طرف راجع ہے، مطلب یہ ہے کہ سامری نے سونے کے زیورات سے قوم بنی اسرائیل کیلئے ایک بچھڑا ڈھال دیا۔ تنبیہ : جلالین کے نسخوں میں صَاغہٗ کے بجائے صَاغَھُمْ ہے جو زلت قلم معلوم ہوتی۔ قولہ : جسداً ، بَدَلٌ۔ سوال : عَجَلاً کا بدل جسدًا لانے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : اس بدل سے یہ شبہ دور کر ہوسکتا ہے عجل نقش علی الحائط کے طور پر بنایا ہو اور جب اس کا بدل جسدًا آگیا تو معلوم ہوا گیا پتلا بنایا تھا نہ کی نقش بر دیوار۔ قولہ : لحمًا ودمًا اس میں اشارہ ہے کہ یہ بچھڑا حقیقی بچھڑے کے مانند گوشت پوست اور خون وغیرہ سے مرکب تھا، (مگر یہ تفسیر مرجوع ہے) ۔ قولہ : ومَفْعُولُ اِتَّخَذَ الثَّانِی مَحْذُوْفٌ ای اِلٰھاً اس میں اشارہ ہے کہ اتخذ بمعنی صَنَعَ نہیں ہے کہ ایک مفعول پر اقتصار جائز ہو اسلئے کہ مطلق صنع اس کو معبود بنائے بغیر سزائے مذکور کا مستحق نہیں ہوسکتا لہٰذا اخذ کا مفعول ثانی جو کہ الٰھا ہے محذوف ہے۔ قولہ : ای نَدِمُوْا، ولَمَّا سُقِطَ فِیْ اَیْدِیھم، محاورہ میں اس کے معنی نادم ہونے کے ہیں، سُقِطَ فِیْ اَیْدِیھم، ای ندموا، (جوھری) تَقُوْلُ ، العرب لکل نادم علی امر، قد سُقِطَ فی یدہٖ (معالم) ۔ قولہ : بئسَ خلافۃً یہ بئسَما میں ما نکرہ کی تمیز ہے۔ قولہ : خ۔ فْتُمُوْنِی ھَا۔ سوال : ھا، مقدر ماننے کی کیا ضرورت ہے ؟ جواب : یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ ما، موصولہ یا موصوفہ ہے اور خلفتمونی اس کا صلہ یا صفت ہے حالانکہ صلہ اور صفت جب جملہ ہو تو عائد کا ہونا ضروری ہوتا ہے، ھا، مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ عائد محذوف ہے۔ قولہ : خِلاَفَتُکُم ھٰذِہٖ ، یہ مخصوص بالذم محذوف ہے۔ قولہ : غضبًا لربّہ یہ غضب ممنوع سے اعتذار ہے، یعنی مطلقاً غضب ممنوع ہے مگر اللہ کیلئے عداوت محبوب ہے کہا جاتا ہے الحب فی اللہ والبغض فی اللہ خدا ہی کیلئے محبت اور خدا ہی کے لئے عداوت۔ قولہ : ذِکْرُھَا اَعْطفُ لِقَلْبِہٖ ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ، یا بن اُمّ ، سے معلوم ہوتا ہے حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی نہیں ہیں، حالانکہ دونوں حقیقی بھائی ہیں، اس کا جواب دیا کہ ماں جائے کہنا دل کو زیادہ نرم کرنے والا ہے بہ نسبت اس کے عکس کے یعنی یا ابن ام میں زیادہ قربت و شفقت معلوم ہوتی ہے بہ نسبت یا بن ابی کے۔ تفسیر و تشریح واتخذ قوم۔۔۔۔ لہ خوار، یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خدا کی طلبی پر کوہ سینا پر گئے ہوئے تھے، اور حضرت موسیٰ تیس دن میں واپسی کا وعدہ کرکے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مزید دس دن کا اضافہ فرما دیا، قوم بنی اسرائیل پہاڑ کی تلیٹی میں میدان راحہ میں ٹھہری ہوئی تھی۔ ابھی موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور ہی پر تھے کہ پیچھے سامری نامی ایک شخص نے جسکا نام بھی موسیٰ تھا اور منافق تھا قوم کا سونا جمع کرکے ایک زرین گؤ سالہ بنا لیا جس میں اس نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے سم کے نیچے کی مٹی ڈالدی، اس معبود زریں کی یہ کیفیت تھی یہ وہ محض ایک جسد تھا بےجان، ایک قالب تھا بےروح، ایک جسم تھا نے حیات، اس سے ایک آواز نکلتی تھی بچھڑے کی آواز کے مشابہ، کہتے ہیں کہ اس مٹی کے اثر سے اس میں کچھ حیات کے آثار نمودار ہوگئے تھے جس کی وجہ سے وہ بھیں بھیں کرنے لگا تھا، نہ اس میں حس تھی اور نہ حرکت، ایسی آواز تو مٹی کے کھلونوں میں بھی معمولی صنعت گری سے پیدا ہوجاتی ہے، آجکل صنعتی اور تکنیکی دور میں تو کھلونے نہ صرف مختلف قسم کی آواز نکلالتے ہیں بلکہ عجیب و غریب حرکت بھی کرتے اور چلتے پھرتے ہیں مطلب یہ کہ وہ زرین بچھڑا واقعی جاندار نہیں تھا بعض محققین نے اسکی صراحت کی ہے کان۔۔۔۔۔ منہ صوت (معالم) بعض مفسرین نے یہاں ایک بحث یہ چھیڑ دی ہے کہ یہ بچھڑا حرکت بھی کرتا تھا یا نہیں اللہ جزائے خیر عطا فرمائے صاحب روح المعانی کو کہ انہوں نے یہ خوب لکھ دیا کہ لیست ہذہ المسئلہ من المہمات، یہ سرے سے کوئی اہم بات ہی نہیں، سامری نے اس بچھڑے کے ذریعہ بنی اسرائیل کو گمراہ کردیا اور قوم کو یہ سمجھا دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) معبود کی تلاش میں کوہ طور پر گئے ہیں اور معبود یہاں آگیا ہے۔ سقط فی ایدیھم، یہ عربی محاورہ ہے اس کے معنی نادم ہونا ہے، یہ ندامت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی کے بعد ہوئی، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو زجر و توبیخ کی جیسا کہ سورة توبہ میں ہے یہاں اسے مقدم اس لئے کردیا گیا ہے کہ ان کا فعل اور قول جمع ہوجائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے آکر دیکھا کہ قوم گؤ سالہ پرستی میں لگی ہوئی ہے تو سخٹ غضبناک ہوئے، گو بنی اسرائیل کے گمراہ ہوجانے کی خبر بذریعہ وحی پہاڑہی پر دیدی گئی تھی، مگر جب اپنی نظروں سے قوم کی گمراہی کو دیکھا تو دینی غیرت اور ایمانی حرارت بھڑک اٹھی اور بےخودی کی کیفیت میں تورات کی تختیاں جو کوہ طور سے اپنے ہمراہ لائے تھے عجلت میں اس طور پر رکھیں کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے نیچے پھینک دیں، جس کے لئے قرآن نے القیٰ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنی ڈال دینے کے ہیں اور اگر ڈال بھی دیں ہوں تو اس میں بےادبی کی کوئی بات نہیں اسلئے کہ وہ واقعہ دینی حمیت اور غیرت کی وجہ سے بےخودی اور بےاختیاری کے عالم میں پیش آیا۔ فائدہ : حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی تھے لیکن یہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) نے ماں جائے اسلئے کہا کہ اس لفظ میں پیار اور نرمی کا پہلو زیادہ ہے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عذر : حضرت ہارون (علیہ السلام) نے اپنا یہ عذر پیش کیا جس کی وجہ سے وہ اپنی قوم کو شرک میں مبتلا ہونے سے باز رکھنے میں ناکام رہے، حضرت ہارون (علیہ السلام) فرماتے ہیں، اے میرے پیارے ماں جائے بھائی میری بات تو سن لیجئے، میں نے تو اپنی والی بہت کوششیں کی لیکن یہ ظالم و سرکش جب خدا کے خلاف گردن کشی میں باک نہیں رکھتے ؟ تو میری پرواہ کب کرتے ؟ میری ایک نہ چلی اور جب میں نے زیادہ روک ٹوک کرنی چاہی تو بغاوت پر آمادہ ہوگئے، میری جان بچ گئی یہی بہت ہے۔ توریت میں حضرت ہارون (علیہ السلام) پر گو سالہ سازی کا الزام : کہاں عصمت انبیاء کا یہ قرآنی مقام اور کہاں توریت کی تصریحات کہ اس بت پرستی کے بانی اور باعث ہی معاذ اللہ حضرت ہارون (علیہ السلام) تھے۔ قرآن کی براءت : یہاں قرآن نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ایک بہت بڑے الزام سے براءت کی ہے جس کو یہود نے زبردستی حضرت ہارون (علیہ السلام) پر چسپاں کر رکھا تھا بائبل میں بچھڑے کی پرستش کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔ جو موسیٰ کو پہاڑ سے اترنے میں دیر لگی تو بنی اسرائیل نے بےصبر ہو کر حضرت ہارون سے کہا کہ ہمارے لئے ایک معبود بنادو اور حضرت ہارون نے ان کی فرمائش کے مطابق سونے کا ایک بچھڑا بنادیا، جسے دیکھتے ہی بنی اسرائیل پکار اٹھے کہ اے بنی اسرائیل یہی تیرا وہ خدا ہے جو تجھے ملک مصر سے نکال لایا ہے پھر حضرت ہارون نے اس کیلئے ایک قربان گاہ بنائی اور اعلان کرکے دوسرے روز تمام بنی اسرائیل کو جمع کیا اور اس کے آگے قربانیاں چڑھائیں۔ (خروج باب 32 آیت 1۔ 6) قرآن مجید میں متعدد جگہ پر اس غلط بیانی کی تردید کی گئی ہے۔ یہاں بھی گؤسالہ سازی اور گؤسالہ پرستی کی نسبت بنی اسرائیل کی طرف کرتے ہوئے فرمایا ” وَاتخذ قوم موسیٰ من حلیھم عجلاً جسدًا لَہٗ خُوار “۔ بظاہر یہ بات بڑی حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل جن لوگوں کو پیغمبر مانتے ہیں ان میں کسی کو انہوں نے داغدار کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے اور دماغ بھی ایسے سخت لگائے ہیں جو اخلاق و شریعت کی نگاہ میں بدترین جرائم شمار ہوتے ہیں مثلاً شرک، جادوگری، زنا، جھوٹ، دغا بازی اور ایسے دوسرے شدید معاصی جن سے آلودہ ہونا پیغمبر تو درکنار ایک معمولی مومن اور شریف انسان کے لئے بھی سخت شرمناک ہے، یہ بات بجائے خود بڑی عجیب ہے لیکن بنی اسرائیل کی اخلاقی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الحقیقت اس قوم کے معاملہ میں یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے یہ قوم جب اخلاقی و مذہبی انحطاط میں مبتلا ہوئی اور عوام سے گزر کر ان کے خواص تک کہ حتی کہ علماء و مشائخ اور دینی منصب داروں کو بھی گمراہیوں اور بداخلاقیوں کا سیلاب بہالے گیا تو ان کے مجرم ضمیر نے اپنی اس حالت کیلئے عذر تراشنے شروع کئے اور اسی سلسلہ میں انہوں نے وہ تمام جرائم جو خود کرتے تھے انبیاء (علیہ السلام) کی طرف منسوب کر ڈالے تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب نبی تک ان چیزوں سے نہ بچ سکے تو بھلا اور کون بچ سکتا ہے، اس معاملہ میں یہودیوں کا حال ہندؤں سے ملتا جلتا ہے ہندؤں میں بھی جب اخلاقی انحطاط انتہاء کو پہنچ گیا تو وہ لڑیچر تیار ہوا جس میں دیوی دیوتاؤں کی، رشیوں، مینوں اور اوتاروں کی، غرض جو بلند کردار آئیڈیل (نمونے) قوم کے سامنے ہوسکتے تھے ان سب کی زندگیاں بداخلاقی کے تارکول سے سیاہ کر ڈالی گئیں تاکہ یہ کہا جاسکے کہ جب ایسی ایسی عظیم ہستیاں ان قبائح میں مبتلا ہوسکتی ہیں تو بھلا ہم معمولی انسان ان میں مبتلا ہوئے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں۔
Ayahs 7:152–153

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 152 تا 157 ترجمہ : بیشک جن لوگوں نے گوسالہ کو معبود بنایا ان پر ان کے رب کی طرف سے غضب عذاب اور ذلت دنیوی زندگی ہی میں پڑے گی، چناچہ خود کو قتل کرنے کا حکم دیکر عذاب میں مبتلا کئے گئے، اور قیامت تک کیلئے ان پر ذلت مسلط کردی گئی، اور جیسی ہم نے ان کو سزا دی ویسی ہی شرک وغیرہ کے ذریعہ اللہ پر افتراء کرنے والوں کو سزا دیتے ہیں اور جن لوگوں نے بداعمالیاں کیں پھر وہ بداعمالیوں کے بعد بد اعمالیوں سے باز آگئے اور اللہ پر ایمان لے آئے بیشک تمہارا رب اس توبہ کے بعد ان کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنا والا ہے اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا جن کو ڈال دیا تھا جن کی تحریر میں یعنی جو ان میں لکھا ہوا تھا گمراہی سے ہدایت تھی، ان لوگوں کیلئے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور مفعول (لربھم) پر لام داخل کردیا اس کے مقدم ہونے کی وجہ سے، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم میں سے اللہ تعالیٰ سے حکم کے ان لوگوں میں سے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی، ستر آدمیوں کو منتخب کیا، تاکہ وہ ہمارے مقرر کردہ اس وقت پر حاضر ہوں جس پر ان کو آنے کیلئے کہا گیا ہے تاکہ اپنے رفقاء کی گوسالہ پرستی کی معذرت کریں، چناچہ وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ روانہ ہوئے، جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلہ نے آپکڑا، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کی قوم نے گؤسالہ پرستی کی تھی تو ان لوگوں نے ان سے قطع تعلق نہیں کیا (ان میں گھلے ملے رہے) اور (حضرت ابن عباس) نے فرمایا یہ ان لوگوں کے علاوہ ہیں جنہوں نے خدا کو دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا، اور ان کو بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے پروردگار اگر آپ چاہتے تو انھیں اور مجھے پہلے ہی یعنی ان کو میرے ساتھ لے کر نکلنے سے پہلے ہلاک کرسکتے تھے، تاکہ بنی اسرائیل ان کی ہلاکت کو خود مشاہدہ کرلیتے اور مجھ پر تہمت نہ رکھتے، کیا آپ اس قصور میں جو ہمارے چند نادانوں نے کئے ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ استفہام طلب رحمت کیلئے ہے یعنی دوسروں کے قصور کی وجہ سے میں ہلاک نہ کر، یہ تو آپ کی جانب سے آزمائش تھی جس میں آپ نے نادانوں کو مبتلا کردیا، اس کے ذریعہ آپ جس کو گمراہ کرنا چاہیں گمراہ کریں اور جس کی ہدایت چاہیں ہدایت دیں ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں، پس ہمیں معاف کر دیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے آپ سب سے بڑھ کر معاف کرنے والے ہیں اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھلائی مقدر کر دیجئے، اور آخرت میں بھی بھلائی مقدر کر دیجئے ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میرا عذاب ہر اس شخص کو پہنچے گا جس کو میں عذاب دینا چاہوں گا اور میری رحمت دنیا میں ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اسے میں آخرت میں ان لوگوں کے حق میں مقدر کر دوں گا جو پرہیز گاری اختیار کریں گے زکوٰۃ دیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے (یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو رسول نبی امی محمد ﷺ کی پیروی اختیار کریں گے جن کا ذکر ان کے پاس تورات اور انجیل میں ان کے نام اور صفت کے ساتھ لکھا ہوا ہے اور جو ان کو امر بالمعروف کریں گے اور ان کو برائیوں سے روکیں گے ان کیلئے پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتا ہے جن کو ان کی شریعت میں حرام کردیا گیا ہے اور ان پر خبیث چیزوں کو حرام کرتا ہے (مثلاً ) مردار وغیرہ، اور ان کے اوپر سے ان کے بوجھ کو اتارتا ہے (جو ان پر لدے ہوئے تھے) اور بندشوں کو کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے جیسا کہ توبہ کیلئے قتل نفس کرنا اور نجاست کے اثر (یعنی مقام نجاست) کو کاٹنا، لہٰذا جو لوگ ان میں سے اس پر ایمان لائیں گے اور اس کی حمایت و نصرت کریں گے اور نور قرآن کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ما نُسِخَ فیھا، اس میں اشارہ ہے کہ مصدر بمعنی مفعول ہے جیسے خطبۃ بمعنی مخطوب، لہٰذا معنی درست ہیں۔ قولہ : کُتِبَ ، اس لفظ کا اضافہ تعیین معنی کیلئے ہے اسلئے کہ نسخ کے متعدد معنی آتے ہیں، مثلاً اٹھانا، مٹانا، تبدیل کرنا، نقل کرنا، یہاں لکھنے کے معنی میں ہے۔ قولہ : وَاُدْخِلَ اللَّامُ عَلَی المَفْعُولِ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے سوال یہ ہے کہ رَھَبَ متعدی بنفسہ ہوتا ہے لہٰذا اس کے مفعول پر لام داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی حالانکہ یہاں اس کے مفعول پر جو کہ لرَبّھم ہے لام داخل ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ فعل کا مفعول جب فعل پر مقدم ہوجاتا ہے تو فعل عمل میں ضعیف ہوجاتا ہے اسی وجہ سے اس کے مفعول پر لام داخل کردیا جاتا۔ (ترویح الارواح) ۔ قولہ : مِن قَوْمِہ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : یہ ہے کہ اختارَ لازم ہے، نہ کہ متعدی بنفسہٖ ، اور اختارَ قومَہٗ میں متعدی بنفسہٖ استعمال ہوا ہے من قومہ کہہ کر اس کا جواب دیا کہ یہ حذف و ایصال کے قبیل سے ہے حرف جر کو حذف کرکے فعل کو قوم سے متصل کردیا، اور یہ طریقہ جو صرف چند افعال میں سنا گیا ہے ان ہی میں سے اختارَ ، اَمَرَ ، روّجَ ، استغفر، صَدَقَ ، عَادَ ، انبأ، ہیں۔ قولہ : وایّایَ ، اس کا عطف اَھْلَکْتَھُمْ ، کی ھم ضمیر پر ہے۔ قولہ : تُبنا، مفسر علام نے ھُدْنا، کی تفسیر تبنا سے کرکے بتادیا کہ ھُدْنا، ھادَ یَھُوْدُ سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کرنے توبہ کرنے کے ہیں نہ ھدیٰ یھدی ھدایۃ، بمعنی دلالت کرنا، رہنمائی کرنا سے۔ قولہ : الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ اس میں تین ترکیبیں ہیں، اول الذین یتبعون مبتداء، یامُرُھم اس کی خبر، دوسری ترکیب الذین یتبعون مبتداء مقدر کی خبر تقدیر عبارت یہ ہوگی ھم الذین یتبعون، تیسری ترکیب، الَذِین یتبعون، الذین یتقون سے بدل کل ہو۔ تفسیر و تشریح ان الذین۔۔۔۔ من ربھم، دنیا میں ذلت کے علاوہ ایک غضب تو یہ ضروری قرار پایا کہ توبہ کیلئے قتل نفس ضروری قرار دیا گیا، جن لوگوں نے اخلاق کے ساتھ توبہ کرلی ان کیلئے اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں آخرت میں ان کو کوئی سزا نہ ملے گی اور جنہوں نے توبہ نہ کی اس کو آخرت میں تو سزا ملے ہی گی دنیا میں بھی ان سے مؤاخذہ ہوگا، جیسا کہ سامری چونکہ اس نے توبہ نہیں کی تھی جس کی وجہ سے دنیا میں بھی غضب کا مستحق ہوا کہ لامساس کہتا ہوا جانوروں کے ساتھ زندگی بھر پھرتا رہا اگر کوئی اس کو یا وہ کسی کو چھودیتا تھا تو دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ یہ خاصیت آج تک اس کی نسل میں پائی جاتی ہے، (معارف) سفیان بن عینیہ نے فرمایا جو لوگ دین میں بدعت اختیار کرتے ہیں وہ بھی اسی افتراء علی اللہ کے مجرم ہو کر اس سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

ولما سکت۔۔۔۔۔ ھدی، نُسخۃٌ بروزن فُعلَۃ، بمعنی مفعول اس اصل کو کہتے ہیں جس سے نقل کیا جاتا ہے، اور نقل شدہ کو بھی نسخہ کہہ دیا جاتا ہے، یہاں نسخہ سے یا تو تورات کی وہ اصل تختیاں مراد ہیں جن پر توریت لکھی ہوئی تھی، یا وہ تختیاں مراد ہیں جو اصل تختیوں کے ٹوٹنے کے بعد دوسری عطا کی گئی تھیں، روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کو بعجلت رکھا تھا تو وہ ٹوٹ گئی تھیں، پھر اللہ نے ان کو کسی دوسری چیز میں لکھا ہوا، عطا فرمایا اس کو نسخہ کہا گیا ہے۔ (معارف)
Ayahs 7:155–157

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

واختار۔۔۔۔ لمیقاتنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم خداوندی سے کوہ سینا پر اپنے ہمراہ لے جانے کیلئے ستر آدمیوں کو منتخب کیا، یہ آدمی کون تھے اس میں روایات مختلف ہیں۔ بنی اسرائیل کے منتخب کردہ ستر آدمی کون تھے ؟ ان ستر آدمیوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے، ایک رائے یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کے احکام انھیں سنائے تو انہوں نے کہا، ہم کیسے یقین کرلیں کہ یہ کتاب واقعی اللہ کی طرف سے ہے، ہم تو جب تک خود اللہ کو کلام کرتے ہوئے نہ سن لیں تسلیم نہ کریں گے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر سربرآوردہ لوگوں کا انتخاب کیا اور انھیں اپنے ہمراہ کوہ طور پر لے گئے، وہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہمکلام ہوئے جسے ان لوگوں نے بھی سنا، لیکن وہاں انہوں نے ایک نیا مطالبہ کردیا کہ ہم تو جب تک اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے یقین نہ کریں گے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ستر آدمی وہ ہیں جو پوری قوم کی طرف سے بچھڑے کی عبادت کے جرم عظیم کی توبہ اور معذرت کیلئے کوہ طور پر لیجائے گئے تھے وہ وہاں جا کر انہوں نے اللہ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں کہ جنہوں نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا تھا لیکن انھیں منع نہیں کیا اور نہ ان سے قطع تعلق کیا بلکہ ان ہی میں گھلے ملے رہے۔ چوتھی رائے یہ ہے کہ یہ ستر آدمی وہ ہیں جنہیں اللہ کے حکم سے کوہ طور پر لے جانے کیلئے چنا گیا تھا وہاں جاکر انہوں نے اللہ سے دعائیں کیں، جن میں ایک دعاء یہ تھی کہ، یا اللہ ہمیں تو وہ کچھ عطا فرما جو نہ تو اس سے قبل تو نے کسی کو عطا کیا اور نہ آئندہ کسی کو عطا کرنا، اللہ تعالیٰ کو یہ دعاء پسند نہیں آئی جس پر وہ زلزلے کے ذریعہ ہلاک کر دئیے گئے، زیادہ تر مفسرین دوسری رائے کے قائل ہیں، انہوں نے وہی قصہ قرار دیا جس کا ذکر سورة بقرہ آیت 56 میں آیا ہے جہاں ان پر صاعقہ (بجلی کی کڑک) کے ذریعہ موت واقع ہونے کا ذکر ہے، اور یہاں رجفۃ (زلزلے) سے موت کا ذکر ہے مگر اس کی تطبیق ممکن ہے، ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی عذاب آئے ہوں اوپر سے بجلی کی کڑک اور نیچے سے زلزلہ، بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس دعاء کے بعد کہ اگر ان کو ہلاک کرنا ہی تھا تو اس سے قبل اس وقت سب کے سامنے ہلاک کردیتا جب یہ گؤسالہ پرستی میں مصروف تھے، میں اس الزام سے بھی بری ہوجاتا اب قوم کہے گی کہ موسیٰ نے انکو کوہ طور پر لیجا کر قتل کردیا ہے، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء قبول فرمائی اور ان کو زندہ کردیا۔ قال عذابی۔۔۔۔ کل شئ مطلب یہ ہے کہ میرا عذاب صرف اسی کو پہنچے گا جس کو چاہوں گا ہر گنہگار کو پہنچنا ضروری نہیں ہے، اور وہ لوگ ہوں گے کہ جو تمرد اور سرکشی اختیار کریں گے اور توبہ نہ کریں گے۔ اور رحمت کی وسعت کا مطلب یہ ہے کہ رحمت خداوندی دنیا میں مومن کافر، فاسق و صالح، فرمانبردار اور نافرمان سب کو پہنچتی ہے اور سب ہی اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں، حدیث شریف میں وارد ہے کہ اللہ کی رحمت کے سو (100) حصے ہیں یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ جس سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اس نے اپنی رحمت کے ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ہیں۔ (صحیح مسلم و ابن ماجہ) ۔ الذین یتبعون الرسول النبی الأمی الذی یجدونَہ مکتوباً عندھم فی التوراۃ والانجیل۔ آپ کے اوصاف توراۃ اور انجیل میں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء کا جواب سابقہ آیت میں دیدیا گیا ہے، اب اس کے بعد موقع کی مناسبت سے فوراً ہی بنی اسرائیل کو محمد ﷺ کی اتباع کی دعوت دی گئی ہے، سابقہ آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء کے جواب میں ارشاد ہوا تھا کہ یوں تو اللہ کی رحمت ہر چیز اور ہر شخص کیلئے وسیع ہے، لیکن مکمل نعمت و رحمت کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو ایمان وتقویٰ اور زکوۃ وغیرہ کے مخصوص شرائط کو پورا کریں گے، اس آیت میں ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ان شرائط پر پورے اترنے والے ہوں گے، اس ضمن میں آنحضرت ﷺ کی چند خصوصیات و علامات و چند فضائل و کمالات کا بھی ذکر فرمایا۔ رسول اُمّی سے کیا مراد ہے ؟ اس جگہ رسول اور نبی کے دو لقبوں کے ساتھ ایک تیسری صفت امی بھی بیان کی گئی ہے امی، ام کی طرف منسوب ہے، مطلب یہ کہ بچہ جب رحم مادر سے دنیا میں آتا ہے تو وہ اَنْ پڑھ ناخواندہ ہوتا ہے، اسی نسبت سے عرب میں امی اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو، اگرچہ یہ لفظ کسی شخص کیلئے صفت مدح نہیں ہے بلکہ ایک عیب سمجھا جاتا ہے، مگر رسول اللہ ﷺ کے علوم و معارف اور خصوصیات و حالات و کمالات کے ساتھ امی ہونا آپ کیلئے بڑی صفت کمال بن گئی ہے ایک ایسے شخص کا جس نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذتہ نہ کیا ہو علوم و معارف کا دریا بہا دینا اور ایسے بیش بہا علوم اور بےنظیر حقائق و معارف کا صدور اس کا ایک کھلا ہوا معجزہ ہے جس سے کوئی معاند و مخالف بھی انکار نہیں کرسکتا، خصوصاً جبکہ آپ کی عمر شریف کے چالیس سال مکہ میں سب کے سامنے اس طرح گزرے ہوں کہ کسی سے ایک حرف پڑھا نہ سیکھا، ٹھیک چالیس سال پورے ہونے پر آپ کی زبان مبارک پر وہ کلام جاری ہوا جس کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی مثال لانے سے پوری دنیا عاجز ہوگئی، تو ان حالات میں آپ کا امی ہونا آپ کے رسول من جانب اللہ ہونے اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے پر ایک بڑی شہادت ہے اسلئے امی ہونا اگرچہ دوسروں کے لئے کوئی صفت مدح نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کئلئے بہت بڑی صفت مدح و کمال ہے۔ (معارف) آپ کو امی رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ توریت میں آپ کی علامت امی ہونا لکھا ہوا تھا اگر آپ امی نہ ہوتے تو یہود کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا کہ یہ آخری نبی نہیں ہے اس لئے کہ آخری نبی کی علامت اور شناخت یہ لکھی ہے کہ وہ امی ہوگا، آیت میں چوتھی صفت، رسول اللہ ﷺ کی یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگ آپ کی تورات میں لکھا ہوا پائیں گے، یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تورات میں آپ کی صفات کو لکھا ہوا پائیں گے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تورات و انجیل میں آپ کی صفات و علامات کو ایسی وضاحت سے پائیں گے کہ ان صفات و علامات کو دیکھنا گویا خود آنحضرت ﷺ کو دیکھنا ہے اور تورات و انجیل کی تخصیص یہاں اسلئے کی گئی ہے کہ نبی اسرائیل ان ہی دو کتابوں کے قائل تھے ورنہ آپ کی صفات و علامات زبور میں بھی موجود تھیں۔ یہ گفتگو چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہو رہی ہے اسلئے انجیل کا ذکر پیش گوئی کے طور پر ہوگا ورنہ تو انجیل اس زمانہ میں موجود نہیں تھی۔ تورات و انجیل میں آپ ﷺ کی صفات و علامات : موجودہ تورات و انجیل بیشمار تحریفات کے سبب اگرچہ قابل اعتماد نہیں رہیں اس کے باوجود اب بھی ان میں ایسے کلمات پائے جاتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر صادق آتے ہیں، اگر یہ بات واقعہ کے خلاف ہوتی تو اس زمانہ کے یہود و نصاری کیلئے تو اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا ہتھیار آجاتا کہ اس کے ذریعہ قرآن کی تکذیب کرسکتے تھے، لیکن اس وقت کے یہود و نصاری نے بھی اس کے خلاف کوئی اعلان نہیں کیا یہ خود اس بات پر شاہد ہے کہ اس وقت تورات و انجیل میں آپ کی صفات و علامات موجود تھیں، جس کی وجہ سے ان کے منہ پر مہر سکوت لگ گئی تھی۔ خاتم الانبیاء ﷺ کی جو صفات تورات و انجیل میں لکھی تھیں ان کا کچھ بیان تو قرآن مجید میں بحوالہ تورات وانجیل آیا ہے اور کچھ روایات حدیث میں ان حضرات سے منقول ہے جنہوں نے اصل تورات و انجیل کو دیکھا ہے اور ان میں آنحضرت ﷺ کا ذکر مبارک پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ بیہقی کی ایک روایت : بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک یہود لڑکا آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ اتفاق سے بیمار ہوگیا، تو آپ اس کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لے گئے تو دیکھا کہ اس کا باپ اس کے سرہانے کھڑا ہوا تورات پڑھ رہا ہے آنحضرت ﷺ نے اس سے کہا اے یہودی میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل فرمائی ہے کیا تو تورات میں میرے حالات اور صفات اور میرے ظہور کا بیان پاتا ہے ؟ اس نے انکار کیا، تو بیٹا بولا یا رسول اللہ یہ غلط کہتا ہے تورات میں ہم آپ کا ذکر اور صفات پاتے ہیں، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اب یہ لڑکا مسلمان ہے، اس کے انتقال کے بعد اس کی (اسلامی طریقہ پر) تجہیز و تکفین کریں اس کی قوم کے حوالہ نہ کریں۔ اور دوسری روایت : حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ذمہ ایک یہودی کا قرض تھا اس نے آکر اپنا قرض طلب کیا آپ نے فرمایا، اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے کچھ مہلت دیدو یہودی نے شدت کے ساتھ مطالبہ کیا اور کہا کہ میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک میرا قرض ادا نہ کرو، آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں اختیار ہے میں تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا، چناچہ آپ ﷺ اسی جگہ بیٹھ گئے اور ظہر، عصر، مغرب و عشاء اور اگلے دن صبح کی نماز آپ نے اسی جگہ پڑھی، صحابہ کرام یہ ماجرا دیکھ کر زنجیدہ اور غضبناک ہو رہے تھے اور آہستہ آہستہ یہودی کو دھمکا رہے تھے، مقصد یہ تھا کہ آپ کو چھوڑ دے رسول اللہ اس کو تاڑ گئے، دریافت فرمایا کیا کرتے ہو تب انہوں نے صورت حال بتائی آپ نے فرمایا میرے رب نے منع فرمایا ہے کہ کسی معاہد وغیرہ پر ظلم کروں، یہودی یہ سب دیکھ اور سن رہا تھا، صبح ہوتے ہی یہودی نے کہا، ” اَشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد انّکَ رسول اللہ “ مشرف باسلام ہونے کے بعد اس نے کہا یا رسول میں نے اپنا آدھا مال اللہ کے راستہ میں دیدیا اور قسم خدا تعالیٰ کی کہ اس وقت جو کچھ میں نے کیا اس کا مقصد صرف یہ جانچنا تھا کہ تورات میں جو آپ کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ آپ میں صحیح طور پر موجود ہیں یا نہیں میں نے تورات میں آپ کے متعلق یہ الفاظ پڑھے ہیں۔ محمد بن عبد اللہ، ان کی ولادت مکہ میں ہوگی اور ہجرت طیبہ کی طرف اور ملک ان کا شام ہوگا نہ وہ سخت مزاج ہوں گے نہ وہ سخت بات کرنے والے نہ بازاروں میں شور کرنے والئ، اور وہ فحش و بےحیائی سے دور ہوں گے، (نوٹ) ملک سے مراد حکومت ہے۔ (مظہری بحوالہ دلائل النبوۃ، معارف) مزید تفصیل کے لئے جمالین کی جلد ششم دیکھئے۔
Ayahs 7:158–159

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

آیت نمبر 158 تا 162 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے یہ نبی ﷺ کو خطاب ہے اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی امی پر، جو اللہ پر اور اس کے کلمات قرآن پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پر آجاؤ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرتی اور اسی کے مطابق فیصلہ میں انصاف کرتی ہے اور ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ حصوں میں تقسیم کرکے بارہ قبیلے بنا دئے (اثنتی عشرۃ) حال ہے اور (اسباطا) (اثنتی) سے بدل ہے، اسباط بمعنی قبائل ہے (اُمَمًا) ماقبل سے بدل ہے، (یعنی بدل سے بدل ہے) اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے میدان تیہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پانی طلب کیا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو پتھر پر مارو چناچہ انہوں نے عصا پتھر پر مارا تو فوراً اس سے بارہ چشمے قبیلوں کی تعداد کے مطابق پھوٹ نکلے ہر قبیلے نے اپنے پانی پینے کی جگہ متعین کرلی مقام تیہ میں دھوپ کی تپش سے بچانے کیلئے ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے ان کیلئے من وسلویٰ اتارا اور وہ ترنجبین اور بیڑیں تھیں، اور ہم نے ان سے کہا پاکیزہ چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں بخشی ہیں لیکن انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے، اور اس وقت کو یاد کرو جب ان سے کہا گیا اس بستی بیت المقدس میں جا کر رہو اور وہاں حسب منشا جو چاہو کھاؤ اور یہ کہتے جانا ہماری توبہ ہے اور بستی کے دروازے میں جھکے جھکے داخل ہونا ہم تمہاری خطاؤں کو معاف کردیں گے (نغفر) نون کے ساتھ ہے اور مجہول کی صورت میں تاء کے ساتھ ہے اور ثواب کیلئے اطاعت کے ذریعہ نیک رویہ رکھنے والوں کو ہم مزید دیں گے، لیکن ان میں سے ظالموں نے اس بات کو جو ان کو بتائی گئی تھی دوسری بات سے بدل دیا چناچہ حَبّۃ فی شعیرۃ کہنے لگے (اور سرنگوں داخل ہونے کے بجائے) سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے تو ہم نے ان پر ان کے ظلم کی پاداش میں آسمانی عذاب بھیج دیا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اِلیکم جمیعا، جمیعًا، الیکم کی ضمیر سے حال ہے۔ قولہ : لا اِلہٰ اِلاّ ھو یحییٰ ویُمیت یہ لہٗ ملکُ السمٰواتِ والارض سے بدل ہے۔ قولہ : اَسْباطًا بَدَلٌ، اَسْباطًا، اثنتی عشرۃ سے بدل ہے نہ کہ تمیز جیسا کہ بعض نے کہا ہے اسلئے کہ دس سے اوپر کی تمیز مفرد آتی ہے۔ قولہ : فضربَہٗ ، اس میں اشارہ ہے کہ کلام میں اختصار ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جیسے ہی پتھر پر عصا مار نے کا حکم دیا تو فوراً ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا پتھر پر مارا۔ قولہ : سَبْطٍ منھم، اس اضافہ کا مقصد اس شبہ کو دفع کرنا ہے کہ قَد عَلِم کلُّ اناسٍ ، سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہر فرد کیلئے چشمہ پھوٹ پڑا تھا اور ہر فرد نے اپنا چشمہ متعین کرلیا تھا، حالانکہ یہ صورت نہیں تھی، جواب یہ ہے کہ اناس سے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے مراد ہیں ہر قبیلہ نے اپنا چشمہ متعین کرلیا۔ قولہ : وقلنا لھم، اگر اس جملہ کو محذوف نہ مانا جائے تو بلاوجہ التفات من التکلم الی الغیبت لازم آئیگا حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں اس التفار سے بچنے کیلئے قلنالھم محذوف مانا ہے۔ قولہ : اَمْرُنا، اَمْرنا کا اضافہ، ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے قال کا مقولہ جملہ ہوا کرتا ہے مگر یہاں حطۃ مفرد ہے اس کی کیا تاویل ہوسکتی ہے۔ جواب : حِطّۃ، مبتداء محذوف کی خبر ہے، مبتداء خبر سے مل کر جملہ ہو کر مقولہ ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں، مگر یہاں اس بات کا خیال رہے، کہ اَمْرنا مقدر ماننے کے بجائے مسئلتنا مقدر ہونا چاہیے، اسلئے کہ امرنا مقدر ماننے کی صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی، امرنا ان نحط فی ھذہ القریۃ اس کا ترجمہ ہوگا ہمارا کام اس قریہ میں داخل ہونا ہے، آگے مغفرت کا ذکر ہے حالانکہ دخول قریہ اور مغفرت کا کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا، بہتر ہوتا کہ اَمْرنا، مقدر ماننے کے بجائے مسئلتنا مقدر مانتے تو اس صورت میں تقدیر عبارت مسئلتنا حِطۃٌ ہوگی، اس کا مطلب ہوگا ہماری درخواست معافی ہے، قولوا کا قائل چونکہ اللہ ہے لہٰذا حطۃ اس کا مقولہ ہوگا، اب معنی یہ ہوں گے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم ملک شام میں معافی کی درخواست کرتے ہوئے عاجزی اور سرنگوں ہو کر داخل ہونا تو ہم تمہاری لغزشوں کو معاف کردیں گے، مگر بنی اسرائیل نے اس ہدایت کو نہ مانا اور اللہ کی بتائی ہوئی باتوں کو بدل دیا، حطۃ کے بجائے حَبَّۃ فی شعیرۃ کرلیا اور سرنگوں داخل ہونے کے بجائے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے۔ قولہ : بالتّاءِ مَبْنِیَّا للمَفْعُوْلِ ، یعی تغفر میں ایک قراءت تغفر مجہول کے صیغہ کے ساتھ بھی ہے مگر اس صورت میں خطیئٰتُکم، نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہوگا۔ قولہ : یَزْحَفُوْنَ ، (ف) آہستہ آہستہ سرین کے بل سرکنا۔ قولہ : اَسْتَاھِم، اَسْتاہٌ، ستہٌ کی جمع ہے سرین کو کہتے ہیں۔ قولہ ؛ فبدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُم تبدیل کا مطلب ہوتا ہے ایک کی جگہ دوسرے کو رکھنا تبدیلی کیلئے دو کا ہونا ضروری ہے ان میں سے ایک متروک ہوگا اور دوسرا ماخوذ جو متروک ہوتا ہے اس پر باء داخل ہوتی ہے اور ماخوذ پر باء داخل نہیں ہوتی، یا یوں کہہ لیجئے کہ لفظ بَدَلٌ، دو کی طرف متعدی ہوتا ہے ایک کی طرف باء کے ذریعے اور دوسرے کی طرف بغیر باء کے، جس پر باء داخل ہوتی ہے وہ متروک ہوتا ہے اور وسرا ماخوذ، اس سے معلوم ہوا کہ کلام میں حذف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا۔۔۔۔ غیر الذی۔ تفسیر و تشریح قل یایھا۔۔۔۔ جمیعا، یہ آیت بھی رسالت محمدیہ کی عالم گیر رسالت کے اثبات میں بالکل واضح ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں کائنات کے انسانوں میں سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ پپوری نوع انسانی کے نجات دہندہ اور رسول ہیں، اب نجات اور ہدایت نہ عیسائیت میں ہے نہ یہودیت میں نہ کسی اور مذہب میں۔ ومن قوم۔۔۔۔ یعدلون، اس سے مراد یا تو وہ چند لوگ ہیں جو یہودیت سے نکل کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے مثلاً عبد اللہ بن سلام اور ان کے رفقاء، یا پھر وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں گوسالہ پرستی سے محفوظ رہے تھے ان کی تعداد گؤسالہ پرستی کرنے والوں کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔ آپ ﷺ کی رسالت عامہ کے برخلاف ہر نبی کی رسالت علاقائی یا قومی رہی ہے، یہاں یہ سوال ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے فرد تھے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ایک صاجبر ادے لاوی کی نسل سے تھے، لہذا آپ کی رسالت بنی اسرائیل کے لئے مخصوص تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف جو کہ قبطی تھی کیوں بھیجا ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت قومی یا علاقائی نہیں تھی۔ جواب : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اصالۃً صرف دو باتوں کیلئے بھیجا گی اتھا ایک تو یہ کہ توحید کے قائل ہوجائیں اور صرف خدائے واحد کی عبادت کریں، دوسرا مقصد بنی اسرائیل کو فرعون کی قید غلامی سے چھڑانا تھا، چناچہ یہی دو باتیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کیں، اب رہا تورات پر عمل کا مسئلہ تو یہ خالص بنی اسرائیل کیلئے تھا اسلئے کہ تورات مقام تیہ میں عطا کی گئی اور فرعون اس سے پہلے ہی غرق دریا ہوچکا تھا۔ (جمل)
Ayahs 7:160–162

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو ۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

واوحینا۔۔۔۔ قومی (الآیۃ) سابق میں ان احسانات کا ذکر تھا جن کا تعلق انتظام سے تھا، اب مزید تین احسانوں کا ذکر ہے، ایک یہ کہ جزیرہ نمائے سینا بیابانی علاقہ میں ان کیلئے پانی کے انتظام کا غیر معمولی مسئلہ جو کہ دشوار ترین کام تھا غیر معمولی طریقہ پر حل کیا، دوسرے دھوپ سے بچانے اور سرچھپانے کا مسئلہ بھی کم اہم نہیں تھا اس لئے اس کو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرکے اس طرح حل کرایا کہ بادل نے ان کیلئے سائبان اور خیمہ کا کام دیا تیسری بات یہ کہ خوراک کا مسئلہ بھی بڑا اہم تھا اس کا انتظام بھی من وسلویٰ کے نزول کی شکل میں کیا گیا، ظاہر ہے کہ مذکورہ تین بنیادی ضرورتوں کا بروقت اگر انتظام نہ کیا جاتا تو قوم جن کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی اس بےآب وگیاہ علاقہ میں بھوک اور پیاس سے ختم ہوجاتی، آج بھی اگر کوئی شخص وہاں جائے تو دیکھ کر حیران رہ جائیگا کہ اگر یہاں چھ لاکھ انسانوں کا ایک قافلہ اچانک آٹھہرے تو اس کیلئے پانی، خوراک، سایہ کا آخر کیا انتظام ہوسکتا ہے ؟ اگر کوئی حکومت کسی علاقہ میں پانچ چھ لاکھ فوج کے جانا چاہے تو اس کیلئے سامان رسد کے انٹطام میں منتظمین کو دردسر لاحق ہوجاتا ہے، جزیرہ نمائے سینا کے طبعی اور معاشی جغرافیہ کو دیکھتے ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اتنی بڑی تعداد کیلئے ایسے میدانی علاقہ میں کہ جہاں خوردونوش کا سامان کس طرح آناً فاناً انتظام ہوگیا جبکہ مصر کی طرف سے دریا حائل ہونے کی و کہ سے رسد کا راستہ منقطع تھا، اور دوسری طرف اس جزیرہ نما کے مشرق اور شمال میں عمالقہ کے قبیلے اس کی مزاحمت پر آمادہ تھے، ان امور کو پیش نظر رکھ کر صحیح طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان چند مختصر آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے جن احسانات کا ذکر فرمایا ہے، وہ درحقیقت کتنے بڑے احسانات تھے اور اس کے باوجود یہ کتنی بڑی احسان فراموش قوم تھی کہ اللہ کے فضل و کرم کی ایسی صریح نشانیاں دیکھ لینے پر بھی یہ قوم مسلسل ان نافرمانیوں اور غداریوں کی مرتکب ہوتی رہی جن سے اس کی تاریخ بھری پڑی ہے۔