Ayah 7:109آیت نمبر 109 تا 126
ترجمہ : قوم فرعون میں جو لوگ سردار تھے انہوں نے کہا واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے یعنی علم سحر میں ماہر ہے اور سورة الشعراء میں یہ قوم فرعون کی طرف منسوب ہے، تو ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے فرعون کے ساتھ مشورہ کے طور پر کہا ہو، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے ناکل باہر کرے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دے دیجئے یعنی (فی الحال) ان کے معاملہ کو ملتوی رکھئے، اور شہروں میں جمع کرنے والے ہر کاروں کو بھیج دیجئے کہ وہ آپ کے پاس ہر ماہر جادوگر کو لاکر حاضر کریں اور ایک قراءت میں سحَّار ہے، کہ علم سحر میں جو فوقیت رکھتے ہوں، چناچہ وہ جمع ہوگئے، وہ جادو گر فرعون کے پاس آئے اور عرض کیا اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا صلہ (انعام) ملے گا (فرعون نے) کہا، ہاں، اور تم مقربین میں شامل ہوجاؤ گے، (جادوگروں نے) موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ (عصاء) تم (پہلے) ڈالتے ہو یا جو ہمارے پاس ہے ہم ڈالیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا تم ہی ڈالو (اَلْقُوْا) امر ان کو پہلے ڈالنے کی اجازت کیلئے ہے تاکہ پہلے ڈالنا اظہار حق کا وسیلہ بنے، (یہ امر حکم کیلئے نہیں ہے) جب انہوں نے اپنی رسیوں اور لکڑیوں کو ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کردی یعنی آنکھوں کو حقیقت کے ادراک سے روک دیا، اور ان سے خوف طاری کردیا یعنی ان کو ایسا خوف زدہ کردیا کہ وہ (ان لکڑیوں اور رسیوں کو) دوڑتے ہوئے سانپ سمجھنے لگے، (اس طرح) انہوں نے ایک بڑا جادو پیش کیا، اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم بھی اپنا عصاء ڈالو، تو اچانک اس نے ان کے بنائے ہوئے گورک دھندے کو نگلنا شروع کردیا (تلقفُ ) اصل میں ایک تاء کے حذف کے ساتھ ہے معنی میں نگلنے کے ہے، (ما یأفکون) مراد جو وہ ہاتھ کی صفائی سے پیش کر رہے تھے، حق ثابت اور ظاہر ہوگیا اور جو جادو انہوں نے پیش کیا تھا وہ جاتا رہا چناچہ فرعون اور اس کی قوم موقع ہی پر ہار گئی، اور (خوب) ذلیل ہو کر واپس ہوئے یعنی خوب ذلیل و (خوار) ہوئے، اور جادو گر سجدہ میں گرگئے (جادوگر) کہنے لگے ہم رب العلمین پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون کا بھی رب ہے ان کو اس بات کا علم ہونے کی وجہ سے کہ یہ کچھ انہوں نے عصاء (موسیٰ ) سے مشاہدہ کیا وہ جادو کے ذریعہ ممکن نہ تھا، فرعون کہنے لگا کہ کیا تم میری اجازت کے بغیر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہو، بیشک یہ ایک خفیہ سازش تھی جس کو تم نے اس شہر میں عملی جامعہ پہنایا تاکہ تم شہر کے باشندوں کو اس سے بےدخل کردو، اچھا تو اب تم کو عنقریب وہ نتیجہ معلوم ہوجائیگا، جو میری طرف سے ظاہر ہونے والا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دوں گا یعنی ہر ایک کا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر، پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا انہوں نے جواب دیا بہرحال ہم کو مرنے کے بعد جس حالت میں بھی ہو اپنے رب کی طرف آخرت میں پلٹنا ہے اور تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آئیں (واضح ہوگئیں) تو ہم نے ان کو مان لیا، اے ہمارے رب تو ہمارے اوپر صبر کا فیضان کر جب (فرعون) اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہنائے تاکہ ہم حالت کفر کی طرف نہ پلٹ جائیں، اور ہم کو (دنیا سے) اس حال میں اٹھا کہ ہم فرمانبردار ہوں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : علیٰ سَبِیْلِ التَشَاوُرِ ، اس اضافہ کا مقصد سورة شعراء اور یہاں کے مضمون میں تطبیق دیکر تعارض کو دور کرنا ہے، اَخّر امرھا، ای لا تعجل فی قتلہٖ ۔ قولہ : مَا مَعَنَا، اس میں اشارہ ہے کہ الملقین کا مفعول محذوف ہے۔
قولہ : تَوَسُّلاً یہ اس سوال کا جواب ہے کہ سحر جو کہ ایک ممنوع اور ناپسندیدہ چیز ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا کیوں حکم دیا ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ یہ امر نہ بطور ادب ہے اور بطور حکم ہے بلکہ یہ امر برائے اجازت ہے اور اس اجازت کا مقصد بھی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ باطل کا ابطال اور حق کا اظہار ہو، یافکون، یہ افک (ض) سے جمع مذکر غائب ہے یعنی پلٹنا، الافک صرف الشئ عن وجھہ۔
قولہ : اَرْجِہْ یہ ارجاء سے واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے، اسکو ڈھیل دے اس میں ہٗ ضمیر مفعولی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی راجع ہے
تفسیر و تشریح
قال الملا۔۔۔۔ علیم، لفظ مَلأ، کسی قوم کے با اثر سرداروں کیلئے بولا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ قوم کے سردار معجزات دیکھ کر کہنے لگے یہ تو بڑا ماہر جادو گر معلوم ہوتا ہے۔
سحر اور معجزہ میں فرق : اہل بصیرت اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جادو سے جو چیزیں ظاہر ہوتی ہیں وہ اسباب طبعیہ کے تحت ہوتی ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں کو معلوم نہیں ہوتے اسلئے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام بغیر کسی سبب ظاہری کے ہوگیا، بخلاف معجزہ کے کہ اس میں اسباب طبیعیہ کا مطلق کوئی دخل نہیں ہوتا وہ براہ راست قدرت حق کا فعل ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم میں اس کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، ” وَلکن اللہ رمٰی “۔ اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ اور سحر کی حقیقتیں بالکل مختلف ہیں حقیقت شناس کیلئے تو کوئی التباس کی وجہ نہیں عوام الناس کو التباس ہوسکتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس التباس کو دور کرنے کیلئے بھی ایسے امتیازات رکھ دئیے ہیں کہ جس کی وجہ سے لوگ دھوکہ سے بچ جائیں۔ (معارف)
Ayahs 7:110–119یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک سے فن سحر کے ماہریں کو بلا کر جمع کیا جائے، ان سے ان کا مقابلہ کرایا جائے چناچہ ایس اہی کیا گیا، ساحران فرعون نے ” اِنَّ لنا لاجرًا “ کہہ کر پہلے ہی قدم پر جتلا دیا اور زبان حال سے کہہ دیا کہ ہم تو طالب دنیا ہیں اور فن سحر ہم نے سیکھا ہی دنیا کمانے کیلئے ہے لہٰذا آپ بتائیں اگر ہم غالب آگئے جیسا کہ ہم کو یقین ہے تو ہمیں کچھ انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ اس کے جواب میں فرعون نے کہا، انعام اکرام ہی نہیں بلکہ تم میرے مقربین خاص میں شامل ہوجاؤ گے۔
Ayahs 7:120–126والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی پیغمبر خدا سے نبرد آزمائی کر رہے تھے سجدہ سے سر اٹھاتے ہی اولیاء اللہ اور عارف باللہ بن گئے۔ جو کچھ ہوا، فرعون کیلئے بڑا حیران کن اور غیر متوقع اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا اس نے یہی کہہ دیا، کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو، تم نے ہمارے خلاف خفیہ سازش کی ہے تمہارا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے، اچھا اس کا انجام عنقریب معلوم ہوجائیگا، یعنی جانب مخالف سے ایک ہاتھ اور ایک پیر کاٹ کر اور پھر سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بنادیا جائیگا۔
Ayahs 7:127–129آیت نمبر 127 تا 129
ترجمہ : فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رکھے گا کہ تیری مخالفت کی دعوت دے کر ملک میں فساد پھیلائیں، اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ان کے لئے چھوٹے بت بنا رکھے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، اور فرعون اس بات کا مدعی تھا کہ میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بتوں کا بھی، اور اسی وجہ سے اس نے کہا میں تمہارا بڑا رب ہوں، فرعون نے کہا میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا (سَنُقَتّلُ ) تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھوں گا، جیسا کہ ہم ان کے ساتھ ایساپہلے بھی کرچکے ہیں اور یقیناً ہم ان کے اوپر قدرت رکھتے ہیں، فرعون نے ان کے ساتھ یہی معاملہ کیا چناچہ بنی اسرائیل نے شکایت کی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد مانگو اور ان کی ایذاء رسائی پر صبر کرو زمین اللہ کی ملک ہے وہ اس کو اپنے بندوں میں جس کو چاہے وارث بنائے، عطا فرمائے، اور بہتر انجام اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے ہے، موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے کہا تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور تمہارے آنے کے بعد بھی ستائے جا رہے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ وقت قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے پھر وہ دیکھے کہ تم زمین میں کیسا عمل کرتے ہو ؟
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَیَذَرَکَ اس کا عطف یُفْسِدُوْا پر ہے، أتذرُ موسیٰ میں استفہام انکاری ہے، مقصد فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کے خلاف بھڑکانا ہے ؛ اور وَیَذَرک میں واؤ معیت کیلئے ہے اور یَذَرَک واؤ کے بعد ان مقدرہ کی وجہ سے منصوب ہے جواب استفہام ہونے کی وجہ سے۔ قولہ : یَذَرُک، یَذَرُ ، وذَرٌ سے مضارع واحد مذکر غائب یہ اصل میں یَوْذِرُ تھا (ض) مضارع کا عمومی تلفظ (س) سے کیا جاتا ہے بمعنی چھوڑے۔
تفسیر و تشریح
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بقیہ قصہ مذکور ہے جس کی تفصیل اس سے پہلے رکوع میں گزر چکی ہے، فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر متحیر رہ گیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ ایسا مرعوب ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تو ایک لفظ بھی نہ کہہ سکا، سارا غصہ جادوگروں پر اتارا، اس پر قوم کے سرداروں کو کہنا پڑا، أتَذَرُ موسیٰ وقومَہٗ الخ، کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑے رہیں گے کہ وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ کر ملک میں فساد برپا کرتے پھریں، اس پر مجبور ہو کر فرعون نے کہا سنُقَتِّلُ ابنائھم الخ یعنی ان کے معاملہ میں ہمیں کچھ زیادہ فکر نہیں، ہم ان کیلئے یہ کام کریں گے کہ ان میں جو لڑکا پیدا ہوگا اس کو قتل کردیں گے، صرف لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی قوم کچھ عرصہ بعد مردوں سے خالی ہوجائیگی، صرف عورتیں رہ جائیگی، جو ہماری خدمت گار باندیاں بن کر رہیں گی، قوم کے سرداروں کے متنبہ اور آگاہ کرنے کے بعد فرعون نے یہ تو کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کردیں، لیکن حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے بارے میں اس وقت بھی ایک لفظ اس کے منہ سے نہیں نکلا وجہ یہ تھی کہ اس معجزہ اور واقعہ نے فرعون کے دل و دماغ پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سخت ہیبت طاری کردی تھی۔
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ فرعون جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھتا تو پیشاب خطا ہوجاتا۔ (معارف)
قتل ابناء کے قانون کا دوسری مرتبہ نفاذ : بنی اسرائیل کو کمزور کرنے کیلئے قتل ابناء کا ظالمانہ قانون اب دوسری مرتبہ نافذ کیا گیا، اس کا پہلا دور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے زمانہ میں ہوچکا تھا جبکہ کاہنوں نے فرعون سے کہا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھ پر ملک کی بربادی اور تیری ہلاکت ہوگی اور دوسری مرتبہ قتل ابناء کا اس وقت حکم دیا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اور فرعون مقابلہ میں شکست کھا گیا۔
بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں فریاد : جب فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں شکست فاش ہوگئی تو موسیٰ (علیہ السلام) کو تو کچھ نہ کہہ سکا مگر بنی اسرائیل پر غصہ اتارا کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرکے عورتوں کو باقی رکھنے کا قانون بنادیا تو بنی اسرائیل کو اس سے تشویش ہوئی گھبرائے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا کہ آپ کے مبعوث ہونے سے پہلے بھی ہمارے اوپر یہ عذاب ڈھایا جا چکا ہے اور اب مبعوث ہونے کے بعد پھر وہی عذاب ڈھایا جانیوالا ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت اور پیغمبر انہ حکمت کے مطابق اس بلا سے نجات حاصل کرنے کیلئے ان کودو چیزوں کی تلقین فرمائی ایک دشمن کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا دوسرے کشود کار تک صبر و ہمت سے کام لینا، اس کا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف یہ کہ تمہاری پریشانی اور مصیبت کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ تم اس ملک کے مالک بھی بن جاؤ گے اور دلیل کے طور پر فرمایا ” اِنَّ الارض للہ یورثھا مَن یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین “ ، مطلب یہ کہ ساری زمین اللہ کی ہے وہ جس کو چاہے گا زمین کا وارث ومالک بنائیگا، یہ بات طے ہے کہ انجام کار کامیابی و کامرانی متقیوں ہی کی ہوتی ہے۔
Ayahs 7:130–141آیت نمبر 130 تا 141
ترجمہ : ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط اور پیداوار کی کمی میں (کئی سال تک) مبتلا رکھا، تاکہ وہ نصیحت قبول کرکے ایمان لے آئیں، (مگر ان کا حال یہ تھا) جب خوشحالی شادابی اور مالداری کا زمانہ آجاتا تو کہتے ہم اسی کے مستحق ہیں، اور اس پر اللہ کا شکرنہ کرتے، اور جب ان پر بدحالی خشک سالی اور مصیبت کا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھیوں پر نحوست کا الزام دھرتے (حالانکہ) حقیقت یہ ہے کہ ان کی نحوست اللہ کے پاس ہے اسی کی طرف سے آتی ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ اس بات سے ناواقف تھے کہ جو کچھ آتا ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے آتا ہے، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم ہم کو مسحور کرنے کے لئے کیسی بھی نشانی لاؤ ہم آپ کی بات کا یقین کرنے والے نہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کیلئے بددعاء کردی، تو ہم نے ان پر طوفان بھیجا، اور وہ اس قدر پانی تھا کہ ان کے گھروں میں داخل ہوگیا اور بیٹھے ہوئے لوگوں کے گلے تک پہنچ گیا، اور یہ صورت حال سات دنوں تک رہی، اور ٹڈیاں بھیجیں جو ان کی کھیتیوں اور پھلوں کو کھا گئیں، اور سر سریاں بھیجیں یا مراد چچڑی کی کوئی قسم ہے، مطلب یہ کہ ٹڈیوں سے جو کچھ بچا وہ سُرسُریوں نے صاف کردیا، اور مینڈک بھیجے جو ان کے گھروں اور کھانوں میں بھرگئے، اور ان کے پانیوں میں خون کی آمیزش کردی (یہ سب) کھلے کھلے معجزے تھے، ان معجزوں پر ایمان لانے سے اعراض کیا اور یہ تھے ہی مجرم لوگ، اور جب ان پر بلا نازل ہوتی تو کہتے اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ ہمارے لئے اپنے رب سے اس عہد کے ذریعہ کہ جس کا اس نے آپ سے عہد کیا ہے کہ اگر ہم ایمان لے آئیں تو ہم سے بلاء کو ہٹا دے گا دعاء کیجئے لئن میں لام قسم کیلئے ہے، اگر آپ ہم سے اس بلا کو ٹال دیں گے تو ہم آپ پر ضروری ایمان لے آئیں گے اور ضرور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے اور جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء سے ایک محدود وقت جس تک ان کو بہرحال وہ عذاب پہنچنا تھا پہنچنے کے بعد ہٹا دیتے تو فوراً ہی اپنے عہد کو توڑ دیتے اور اپنے کفر پر مصر رہتے، پھر ہم نے ان سے انتقام لیا تو ہم نے ان کو دریائے شور میں غرق کردیا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے غفلت برتتے تھے، یعنی ان میں غور و فکر نہیں کرتے تھے، اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جن کو کمزور بنا کر رکھا تھا یعنی غلام بنا رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے اس سر زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جسے ہم نے پانی اور درختوں کے ذریعہ برکتوں سے مالا مال کر رکھا تھا، (الَّتِیْ بارَکْنَا فیہھا) ارض کی صفت ہے اور وہ ملک شام ہے، اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر ان کے دشمن کی ایذاء رسانی پر صبر کی بدولت پورا ہوگیا، اور وہ وعدہ اللہ تعالیٰ کا قول، وَنُریدُ أن نمنَّ علی الذین استضعفوا الخ ہے، فرعون اور اس کی قوم جو بلند وبالا عمارتیں بناتی تھی اس کو ہم نے برباد کردیا، (یعرشون) راء کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ، اونچی عمارتیں بنایا، اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا ایک ایسی قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لپٹے پڑے تھے (یعکفون) کاف کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ، یعنی ان کی عبادت پر قائم تھے، کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود (یعنی) بت بنا دے جس کی ہم بندگی کریں جیسے ان لوگوں کے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم لوگ بڑی جہالت کی بات کرتے ہو اس لئے کہ تم اپنے اوپر نعمتوں کے صلہ میں ایسی باتیں کرتے ہو، یہ لوگ جس اکم میں لگے ہوئے ہیں وہ یقیناً تباہ کیا جائے گا، اور جو کچھ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود تلاش کر دوں (اَبغیکم) کی اصل ابغی لکم تھی، حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اپنے زمانہ کی قوموں پر فضیلت دے رکھی ہے جس (فضیلت) کو اپنے قول وَاِذ نجینٰکم میں ذکر کیا ہے، اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو کہ جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات دی اور ایک قراءت میں انجٰکم ہے، جو تم کو تکلیف میں مبتلا کئے ہوئے تھا اور تم کو بدترین عذاب (کا مزا) چکھا رہا تھا اور وہ یہ تھا کہ تمہارے بیٹوں کو قتل کر رہا تھا اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ رہا تھا اور اس نجات یا عذاب میں تمہارے رب کی جانب سے ابتلاء انعام عظیم ہے یا ابتلاء ہے کہ تم نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ ان باتوں سے باز آجاؤ جو تم نے کہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : سِنین، سَنَۃٌ کی جمع ہے سال، قحط، خشک سالی۔
قولہ : نَسْتحقُّھَا، ہم اس کے مستحق ہیں اس میں اشارہ ہے کہ لَنَا ھذہٖ میں لام استحقاق کا ہے۔
قولہ : مَھْمَا، اصل ماما، مکرر تھا پہلا ماشرطیہ دوسرا ما تاکید کیلئے ہے ثقل کو ختم کرنے کیلئے پہلے کے الف کو ھاء سے بدل دیا مَھْما ہوگیا۔
قولہ : یَتَشَائَمُوْنَ ، یَطَّیَّرُ ، کی تفسیر یتشاء مون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یتطیرُ ، طیران سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ تطَیُّرُ ، سے ماخوذ ہے، اس کے دو معنی آتے ہیں نصیب خواہ خیر یو یا شر، یعنی خوش نصیبی اور بدنصیبی دونوں معنی میں استعمال ہوتا ہے دوسرے معنی تشاؤمٌ، کے ہیں اس کے معنی نحوست کے ہیں مفسر علام نے یَطَّیَّرُ کی تفسیر تشاؤم سے کرکے معنی کی تعیین کردی۔
قولہ : ھُمْ بَالِغُوْہٗ الخ ای الی نھایۃ من الزمان۔ قولہ : اِذاھم یہ لَمَّا کا جواب ہے۔
قولہ : عَبَرنا، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جَاوَزَ کا صلہ باء نہیں آتا اسلئے کہ جاوز متعدی بنفسہ ہے حالانکہ یہاں باء صلہ ہے۔
جواب : جواب یہ ہے کہ جَاوَزَ ، عَبَرَ کے معنی کو متضمن ہے لہٰذا اس کا صلہ باء لانا درست ہوگیا۔
قولہ : ھو، ھُو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ نقتّلون جملہ مستانفہ ہے ماقبل پر اس کا عطف نہیں ہے۔
تفسیر و تشریح
ولقد اخذنا۔۔۔ بالسنین، یہ گرفت اس وقت ہوئی جب فرعون اور فرعونی حکومت کی طرف سے اسرائیلیوں کی مخالف اور سختی ان پر بڑھتی ہی چلی گئی، تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قحط سات سال تک مسلسل رہا، آیت میں دو لفظ آئے ہیں سنین اور نقص ثمرات حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے مروی ہے کہ خشک سالی کے عذاب کا تعلق تو دیہات والوں کے لئے تھا اور پھلوں کی کمی شہر والوں کے لئے تھی، کیونکہ عموماً غلہ دیہات میں اور باغات شہر میں ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ نہ کھیت باقی رہے اور نہ باغات، عذاب کے اس ابتدائی جھٹکے سے بھی ان کو کوئی تنبیہ نہیں ہوئی، بلکہ اس موجودہ مصیبت اور ہر مصیبت کے بارے میں کہنے لگے یہ نحوست موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہے اور جب خوشحالی اور آرام و راحت کے دن آتے تو کہنے لگتے کہ یہ تو ہمارا حق ہے ہمیں ملنا ہی چاہیے تھا۔ طائر، لغت میں پرندہ کو کہتے ہیں عرب میں پرندوں کے دائیں یا بائیں جانب اترنے یا گزرنے سے اچھی یا بری فال لیتے تھے اسلئے مطلق فال کو بھی طائر کہنے لگے، مطلب یہ ہے کہ فال اچھی یا بری سب اللہ کی طرف سے ہے، اس عالم میں جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ سب اللہ کی قدرت و مشیت سے ہوتا ہے، اس میں نہ کسی کی نحوست کا دخل ہے اور نہ برکت کا، یہ سب جاہلوں کی خام خیالیاں ہیں۔ بالآخر فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزوں کو سحر کہہ کر نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ آپ کتنی ہی علامتیں اپنی نبوت کی پیش کرکے ہم پر اپنا جادو چلانا چاہیں تو سن لیجئے ہم کبھی آپ پر ایمان لانے والے نہیں۔
Ayah 7:142آیت نمبر 142 تا 147
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا کہ اس مدت کے پورا ہونے کے بعد وہ اس سے کلام کرے گا (وَاعَدْنا) الف اور بغیر الف (وعدنا) ہے بایں طور کہ موسیٰ (علیہ السلام) مذکورہ مدت میں روزہ رکھے اور وہ ذوالقعدہ کا مہینہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مدت کے روزے رکھے جب (تیس دن) پورے ہوگئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے منہ کی بو سے کراہت محسوس ہوئی، تو آپ نے مسواک کرلی، تو اللہ نے دوسرے دس دن کا حکم دیا تاکہ موسیٰ منہ کی بو کے ساتھ اللہ سے ہمکلام ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے اس تیس دن کی مدت کو ذی الحجہ کے مزید دس کے ساتھ پورا کردیا تو ہم کلامی کے اس کے رب کے وعدہ کی چالیس رات مدت پوری ہوگئی اربعین (میقات) سے حال ہے، لَیْلۃ تمیز ہے، پہاڑ پر مناجات کیلئے جاتے وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون سے فرمایا، میری قوم میں میری جانشینی کے فرائض انجام دینا اور ان کی معاملات کی اصلاح کرتے رہنا اور معاصی پر موافقت کرکے مفسدوں کی اتباع نہ کرنا اور جب موسیٰ ہمارے وقت مقرر پر یعنی اس وقت پر کہ جو ہم نے اس سے ہم کلامی کیلئے مقرر کیا تھا، آئے اور اس کے رب نے اس سے بلاواسطہ کلام کیا ایسا کلام کہ جو ہر سمت سے سنائی دیتا تھا، تو (موسیٰ ) نے عرض کیا کہ اے پروردگار آپ مجھے اپنا دیدار کرا دیں تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں، ارشاد ہوا تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے، یعنی تم مجھے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتے اور (لَنْ ترانی) کی تعبیر اللہ تعالیٰ کے امکان رویت کا فائدہ دے رہی ہے نہ کہ ’ لَنْ اُریٰ ‘ لیکن تم اس پہاڑ کو دیکھو جو کہ تم سے قوی تر ہے اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ سکو گے، یعنی تم میرے دیدار کیلئے ثابت رہ سکو گے، ورنہ تم میں اس کی سکت نہیں، جب اسکے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی یعنی اس کا نور چھوٹی کے نصف پورے کے برابر ظاہر ہوا، جیسا کہ حدیث میں ہے، (اور) حاکم نے اس (حدیث) کو صحیح قرار دیا ہے تو اس پہاڑ کے پرخچے اڑا دئیے (دَکّا) قصر اور مد کے ساتھ ہے یعنی ریزہ ریزہ زمین کے برابر کردیا، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ دیکھا اس کی ہولناکی کی وجہ سے بےہوش ہو کر گرگئے، پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ہوش میں آئے تو عرض کیا آپ کیلئے (ہر نقص) سے پاکی ہے میں ہر ایسے سوال کرنے سے کہ جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں، اور میں اپنے زمانہ کے اول ایمان لانیوالوں میں ہوں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ارشاد فرمایا، اے موسیٰ میں نے تجھ کو تیرے زمانہ کے تمام لوگوں میں اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لئے منتخب کیا ہے (رسالاتی) جمع و افراد کے ساتھ ہے، یعنی میرے تجھ سے کلام کرنے کیلئے، تو جو کچھ میں نے تم کو ازراہ فضل دیا ہے اس کو لو، اور میری نعمتوں کا شکر ادا کرو، اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کیلئے تورات کی چند تختیوں میں جو کہ جنت کے بیری کے درخت کی یا زبرجد کی یا زمرد کی سات یا دس تھیں ہر قسم کی نصیحت جن کی دین میں ضرورت ہوتی ہے اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی (موعظۃ اور تفصیلاً ) اپنے ماقبل جار مجرور (کے محل) سے بدل ہے، (ہم نے کہا) ان کو پوری قوت اور کوشش سے تھام لو (فخذھا) سے پہلے قلنا مقدر ہے، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے اچھے (یعنی عزیمت) کے احکام کو تھام لیں، میں عنقریب تم کو حد سے تجاوز کرنے والوں (یعنی) فرعون اور اس کی اتباع کرنے والوں کے گھر دکھلاؤں گا اور وہ مصر ہے تاکہ تم اس سے عبرت حاصل کرو، اپنی آیتوں میں مصنوعات وغیرہ اپنے دلائل قدرت سے ایسے لوگوں کو برگشتہ ہی رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں بایں طور کہ میں ان کو ذلیل کر دوں گا پھر وہ ان دلائل میں غور و فکر نہ کرسکیں گے، اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر وہ ہدایت کا طریقہ دیکھیں جو اللہ کی طرف سے آیا ہے تو وہ اس کو نہ اپنائیں یعنی اس پر نہ چلیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا لیں اور یہ برکشتی اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ اس سے غافل تھے اسی جیسی آیت سابق میں گزر چکی ہے، اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کی ملاقات یعنی بعث وغیرہ کو جھٹلایا تو ان کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال خیر مثلاً صلہ رحمی اور صدقہ اکارت گئے ان کو کچھ اجر نہ ملے گا اس کی شرط کے مفقود ہونے کی وجہ سے ان کو اسی کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے تکذیب و معاصی وغیرہ۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بِالِفٍ ودُوْنھَا، جب الف کے ساتھ ہوگا تو باب مفاعہ ہوگا، وَوَاعدنا میں واؤ استینافیہ ہے، کلام مستانف ہے سورة بقرہ میں جو ” وَاِذ وَاعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ “ فرمایا تھا یہ اس کی تفصیل ہے، وَاعدنا موسیٰ ، فعل بافاعل اور مفعول بہ ہے اور ثلثین مفعول بہ ثانی ہے ثلثٰین کا مضاف محذوف ہے تقدیر یہ ہے تمام ثلثٰین لَیلَۃً ، لیلَۃً تمیز ہے، اَتْمَمْنَاھَا، کا عطف واعدنا پر ہے۔
قولہ : وَقْتُ وَعْدِہ، میقات کی تفسیر وقت سے کرکے اشارہ کردیا کہ میقات سے حال ہے۔
قولہ : وقال موسیٰ لاضِیْہِ ھٰرونَ واؤ ترتیب وتعقیب کیلئے نہیں ہے اس لئے کہ مذکورہ مقولہ جبل پر جانے سے پہلے کا ہے۔
قولہ : بکلامہ ایاہ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ میقاتُ رَبِّہٖ سے معلوم ہوتا ہے کہ رب کا وقت حالانکہ رب کا کوئی وقت نہیں ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ مضاف محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے وقت کلام ربہٖ ایاہ۔
قولہ : حالٌ، تقدیر عبارت یہ ہوگی فتم بالغًا ھذا العدد، لہٰذا عدم صحت حمل کا اعتراض ختم ہوگیا۔
قولہ : مَنْ کُلِّ جھَۃٍ ، اس اضافہ کا مقصد کلام قدیم اور کلام حادث میں فرق بیان کرنا ہے، کہ کلام حادث کیلئے جہت ہوتی ہے کلام قدیم کیلئے نہیں اس لئے کہ قدیم کی کوئی متعین جہت نہیں وہ ہمہ جہت ہے۔
قولہ : نَفْسَکَ ، اس میں اشارہ ہے کہ ارنی کا مفعول ثانی محذوف ہے لہٰذا فعل قلب کا ایک مفعول پر اقتصار لازم نہیں آتا۔
قولہ : والتَعْبِیْرُ بہٖ دُوْنَ لَنْ اُرٰیٰ یُفِیْدُ اِمکانَ رؤیتہٖ تعالیٰ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ لَنْ تَرَانی، اور لَن اُریٰ ، میں کیا فرق ہے ؟ فرق یہ ہے کہ لن ترانی امکان رویۃ باری تعالیٰ پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ لَنْ ترانی سے معلوم ہوتا ہے کہ عدم رویت کی علت رائی میں ہے نہ کہ مرئی میں اور وہ علت عدم قوت اور عدم صلاحیت ہے اور اگر لن ترانی کے بجائے لن اُریٰ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ عدم رؤیت کی علت مرئی میں ہے، رائی کی عدم صلاحیت کو صلاحیت میں اور عدم قوت کو قوت سے بدلا جاسکتا اس لئے کہ رائی ممکن و حادث تصرف کو قبول کرتا ہے بخلاف مرئی کے کہ وہ قدیم ہونے کی وجہ سے تصرف کو قبول نہیں کرسکتا۔
قولہ : مَدْکُوْکًا، اس میں اشارہ ہے کہ دَکَّا، مصدر مدکوکًا کے معنی میں ہے لہٰذا دَکًّا کا حمل جبل پر درست ہے۔
قولہ : تَکْلِیْمِی اِیَّاکَ ، کا مقصد تخصیص کا بیان کرنا ہے اسلئے کہ مطلق کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ خاص نہیں ہے
قولہ : بَدَلٌ مِنَ الجَارِ والمَجْرُوْرِ قَبْلَہِ ، یعنی موعظۃ، تفصیلاً مِن کل شئی کے محل سے بدل ہے، اسلئے کہ من کل شئی کتبنا کا مفعول ہے جس کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔
قولہ : باحسنِھا، یعنی عزیمت پر عمل کو لازم پکڑونہ کہ رخصت پر، مطلب یہ ہے کہ تورات میں عزیمت رخصت مباح فرض واجب، سب ہیں مگر تم رخصت پر عمل کرنے کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا، مثلاً صبر، تحمل، درگذر وغیرہ۔
قولہ : ذلک، مبتداء ہے اور بانّھم، اس کی خبر ہے۔
تفسیر و تشریح
وواعدنا موسیٰ الخ، مصر سے نکلنے، فرعون اور لشکر فرعون کے غرق ہونے کے بعد جب بنی اسرائیل کی غلامانہ پابندیاں ختم ہوگئیں اور انھیں ایک خود مختار قوم کی حیثیت حاصل ہوگئی تو اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی کیلئے کوئی کتاب انھیں دیدی جائے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تیس (30) راتوں کیلئے کوہ طور پر بلایا جس میں دس راتوں کا اضافہ کرکے چالیس کردیا گیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جاتے وقت حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو ان کے بھائی تھے اور نبی بھی اپنا جانشین مقرر کر سیا، کہ وہ بنی اسرائیل کی ہدایت و رہنمائی اور اصلاح کا کام کرتے رہیں، یہ اس سلسلہ کی پہلی طلبی تھی اور اس کیلئے پہلے تیس دن اور پھر دس دن کا اضافہ کرکے چالیس دن کردیا گیا، مقصد یہ تھا کہ پورا ایک چلہ پہاڑ پر گزاریں اور روزے رکھ کر شب و روز عبادت اور تفکر و تدبر کرکے و دماغ کو یکسو کرکے اس قول ثقیل کے اخذ کرنے کی استعداد اپنے اندر پیدا کریں جو ان پر نازل کیا جانے والا تھا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس ارشاد کی تعمیل میں کوہ سینا جاتے وقت بنی اسرائیل کو اس مقام پر چھوڑا تھا جو موجودہ نقشہ میں بنی صالح اور کوہ سینا کے درمیان وارد الشیخ کے نام سے موسوم ہے اس وادی کا وہ حصہ جہاں بنی اسرائیل نے پڑاؤ کیا تھا، آج کل میدان الراحہ کہلاتا ہے، وادی کے ایک سرے پر وہ پہاڑ واقع ہے جہاں مقامی روایت کے اعتبار سے حضرت صالح (علیہ السلام) ثمود کے علاقے سے ہجرت کرکے تشریف لے آئے تھے، آج وہاں ان کی یادگار میں ایک مسجد بنی ہوئی ہے دوسری طرف ایک اور پہاڑ جبل ہارون نامی ہے کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو گؤسالہ پرستی سے ناراض ہو کر جا بیٹھے تھے، تیسری طرف کوہ سینا کا بلند پہاڑ ہے جس کا بالائی حصہ اکثر بادلوں سے ڈھکا رہتا ہے جس کی بلندی 8309 فٹ ہے، اس پہاڑ کی چوٹی پر آج تک زیارت گاہ عام بنی ہوئی ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چلہ کیا تھا اس کے قریب ایک مسجد اور ایک گرجا گھر بنا ہوا ہے اور پہاڑ کے دامن میں رومی قیصر جسٹینین کے زمانہ کی ایک خانقاہ آج تک موجود ہے۔
Ayahs 7:143–144ولما جاء۔۔۔۔۔ لمیقاتنا، جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے، اور وہاں اللہ تعالیٰ نے ان سے براہ راست گفتگو فرمائی، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خدا کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا، اور اپنے اس شوق کا اظہار ربِّ اَرِنی کہہ کر کیا، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کہ لن ترانی، تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، معتزلہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا لن، نفی کی تاکید کیلئے ہے یعنی دیدار سے ہمیشہ کی نفی مراد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کا دیدار نہ دنیا میں ممکن ہے اور نہ آخرت میں۔
دیدار الہٰی کا مسئلہ : معتزلہ کا مذکورہ مسلک صحیح احادیث کے خلاف ہے جو متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ روز قیامت اہل ایمان اللہ کا دیدار کریں گے اور جنت میں بھی دیدار الہیٰ سے مشرف ہوں گے، تمام اہل سنت کا بھی عقیدہ ہے مذکورہ نفی رؤیت کا تعلق صرف دنیا سے ہے دنیا کی کوئی انسانی آنکھ اللہ کو دیکھنے پر قادر نہیں ہے لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ ان آنکھوں میں اتنی قوت و صلاحیت پیدا فرما دیں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جلوہ کو برداشت کرسکیں گی۔
فلما تجلی۔۔۔۔ دکا، یعنی طور سیناء رب کی تجلی کو برداشت نہ کرسکا اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گرپڑے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ” روز قیامت سب لوگ بےہوش ہوں گے اور جب ہوش میں آئیں گے تو میں ہوش میں آنے والوں میں سب سے پہلا شخص ہونگا، میں دیکھوں گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) عرش کا پایہ تھامے کھڑے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا انھیں کوہ طور کی بےہوشی کے بدلے میں محشر کی بےہوشی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے “۔ (صحیح بخاری تفسیر سورة اعراف صحیح مسلم)
Ayahs 7:145–147فخذھا۔۔۔ دار الفسقین، یعنی رخصتوں کی تلاش میں نہ رہو جیسا کہ سہولت پسندوں کا حال ہوتا ہے عزیمتوں پر عمل کرو، مقام دار سے مراد یا تو انجام یعنی ہلاکت ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ فاسقوں کے ملک پر تمہیں حکمرانی عطا کروں گا، اور اس سے مراد ملک شام ہے جس پر اس وقت عمالقہ کی حکمرانی تھی جو اللہ کے نافرمان تھے۔ (ابن کثیر)