7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 7:40–42

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کیلئے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہونگے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نکل جائے۔ اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزادیا کرتے ہیں۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں اور عمل نیک کرتے رہیں اور ہم عملوں کیلئے کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں کہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

آیت نمبر 40 تا 47 ترجمہ : یقین مانو، جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی کہ ان پر ایمان نہ لائے، اور جب مرنے کے بعد ان کی ارواح کو آسمان کی طرف لیجایا جائیگا تو ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے، بلکہ ان کو سجین میں اتارا جائیگا بخلاف مومنین کے کہ ان کیلئے دروازے کھولے جائیں گے، اور ان کی روحوں کو ساتویں آسمان کی طرف چڑھایا جائیگا جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور وہ لوگ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے، اور یہ ناممکن ہے اسی طرح ان کا (جنت میں) دخول بھی ناممکن ہے، کفر کے مجرموں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں ان کیلئے آتش دوزخ کا بچھونا اور اوڑھنا ہوگا (غَوَاش) بمعنی آگ کا بچھونا، (غَوَاش) غاشیۃٌ کی جمع ہے اس کی تنوین یاء محذوفہ کے عوض میں ہے، ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے (الصٰلحٰت) مبتداء ہے اور لانکلف نفسًا اِلاَّ وُسْعَھَا اس کی خبر ہے اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت یعنی قوت عمل سے زیادہ مکلف نہیں بناتے یہ جملہ مبتداء اور خبر کے درمیان جملہ معترضہ ہے اور وہ خبر اولئک اصحٰب الجنۃ الخ ہے، یہی لوگ جنتی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف دنیا میں جو کدورت ہوگی یعنی ان کے درمیان جو کینہ رہا ہوگا، ہم اسے دور کردیں گے ان کے یعنی ان کے محلوں کے نیچے نہریں ہوں گی اپنے مکانوں میں سکونت پذیر ہونے کے بعد وہ کہیں گے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس عمل کی توفیق عطا فرمائی یہ اسی کی جزاء ہے اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ ہمیں نہ پہنچاتا ماقبل کی دلالت کی وجہ سے لَوْلاَ کا جواب حذف کردیا گیا، واقعی ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر آئے تھے، اور ان سے پکار کر کہا جائیگا اَن مخففہ ہے اَنَّہٗٗ یا پانچوں جگہ اَنْ مفسرہ ہے یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہارے اعمال کے بدلے میں ہے اہل جنت دوزخیوں سے اقرار کرنے اور لاجواب کرنے کے طور پر پکار کر کہیں گے ہم سے ہمارے رب نے ثواب کا جو وعدہ کیا تھا ہم نے تو اسکو حق پایا، تم سے تمہارے رب نے عذاب کا جو وعدہ کیا تھا تم نے بھی اسے واقعہ کے مطابق پایا ؟ تو وہ جواب دیں گے، ہاں پھر ایک پکارنے والا دونوں فریقوں کے درمیان پکار کر کہے گا، (یعنی) ان کو سنائے گا، کہ لعنت ہو ان ظالموں پر جو لوگوں کو اللہ کے دین سے روکتے تھے اور دین میں کجی تلاش کرتے تھے اور وہ لوگ آخرت کے بھی منکر تھے، اور اہل جنت اور اہل نار دونوں کے درمیان آڑ ہوگی کہا گیا ہے کہ وہ اعراف کی دیوار ہوگی اور اعراف پر کہ وہ جنت کی دیوار ہے بہت سے لوگ ہوں گے کہ جن کی نیکی اور بدی برابر ہوگی، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، وہ ہر جنتی اور دوزخی کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ علامت مومنین کیلئے چہروں کی سفیدی ہوگی اور کافروں کیلئے چہروں کی سیاہی ہوگی، اہل اعراف کے ان کو دیکھنے کی وجہ سے اس لئے کہ وہ اونچی جگہ ہوں گے اور اہل جنت کو اہل اعراف پکار کر کہیں گے تمہارے اوپر سلام ہو اللہ تعالیٰ فرمائیگا، ابھی یہ ایک اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور وہ جنت میں داخلے کے امیدوار ہوں گے جس نے کہا ہے ان کے دلوں میں امید صرف اس وجہ سے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کرامت (احسان) کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرے گا، اور حاکم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا وہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک ان پر تیرا رب تجلی فرمائیگا اور فرمائیگا کہ کھڑے ہو اور جنت میں داخل ہوجاؤ، میں نے تم سب کو معاف کردیا، اور جب اصحاب اعراف کی نظریں اصحاب نار کی طرف اٹھیں گی تو عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم کو ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ فرما۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : تنوینہٗ عِوَضٌ عن الیاء یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : غَوَاشٍ غیر منصرف ہے اس پر تنوین داخل نہیں ہوتی حالانکہ یہاں تنوین داخل ہے۔ جواب : یہ سیبویہ کے نزدیک ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں، دلیل دفع یہ ہے کہ غیر منصرف پر تنوین تمکن داخل ہونا منع ہے نہ کہ تنوین عوض۔ سوال : غواشٍ فی الحال جمع منتہی الجموع کا صیغہ نہیں ہے لہٰذا یہ غیر منصرف نہیں ہوسکتا۔ جواب : غواش اگرچہ فی الحال جمع منتہی الجموع کا صیغہ نہیں ہے مگر اصل میں تعلیل سے پہلے جمع منتہی الجموع کا صیغہ تھا اور غیر منصرف ہونا تعلیل پر مقدم ہے لہٰذا تعلیل سے قبل کی حالت کا اعتبار کیا جائیگا۔ قولہ : حُذف جَوَابُ لولا تقدیر عبارت یہ ہوگی، لولا ھدایۃ اللہ تعالیٰ لنا موجودۃ لَشَقَیْنَا وما کنا مھتدین۔ قولہ : اومُفَسِّرَۃٌ۔ سوال : اَن مفسرہ کیلئے ما قبل میں قول کا ہونا ضروری ہے جو یہاں موجود نہیں۔ جواب : قول یا قول کے ہم معنی کا ہونا ضروری ہے، اور یہاں نودُوْا، قول کے ہم معنی موجود ہے لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔ قولہ : فی المَوَاضِعِ الخَمْسَۃِ ، ان میں پہلا اَنْ تلکم الجنۃ ہے اور آخری اَنْ اَفیضوا ہے۔ قولہ : لم یَدْخُلُوْھَا یہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے۔ تفسیر و تشریح اِنَّ الذین کذّبوا بایتنا، خدائی عام ضابطہ یہ ہے کہ جو جیسا کرے گا ویسا ہی بھگتے گا، ظاہر ہے کہ اللہ کو کسی بندے سے بندہ ہونے کی کی حیثیت سے کوئی کد تو ہے نہیں۔ قولہ : لا تفتح لھم ابواب السماء براء ین عازب ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد از وفات کافر کی روح جب آسمان کی طرف لے جائی جاتی ہے تو اس سے ایسی سخت بدبو نکلتی ہے جیسی دنیا میں مردار کی ہوتی ہے اس پر آسمان کے فرشتے اسے راستہ دینے اور اس کیلئے آسمان کے دروازے کھولنے سے انکار کردیتے ہیں (کبیر) آسمانوں کے دروازوں کا کھلنا اور بند ہونا بھی قرآنی متشابہات میں سے ہے، اس کی کیفیت جو بھی ہو مومن کیلئے اس پر اجمالی ایمان ضروری ہے۔ دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مکذبین و منکرین کے اعمال برکت و مقبولیت سے محروم رہیں گے جس کو آسمان کی طرف نہ چڑھنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (کشاف) حتی یلج۔۔۔۔۔ الخیاظ، محاورہ میں اس سے مراد مطلق امر محال کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے یعنی یہ اونٹ سوئی کے ناکے سے نکل سکے گا نہ فلاں فعل ہوگا، اصطلاح میں اس کو تعلیق بالمحال کہتے ہیں یعنی امر کے وجود کو کسی امر محال پر معلق کردینا۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کینے ان کی دلوں میں ہونگے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ انکے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ اور کہیں خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔ اور اگر خدا ہمیں یہ راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے خدا کے رسول حق بات لیکر آئے تھے۔ اور اس روز منادی کردی جائے گی کے تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنادئے گئے ہو

ونزعنا ما فی۔۔۔۔ غل، غِلّ اس کینے اور بغض کو کہا جاتا ہے جو سینوں میں مستور ہو اللہ اہل جنت پر یہ انعام فرمائیگا کہ دنیا کی زندگی میں نیک لوگوں کے درمیان اگر کچھ رنجشیں اور کدورتیں اور غلط فہمیاں رہی ہوں گی تو آخرت میں وہ سب دور کردی جائیں گی ان کے قلوب ایک دوسرے سے صاف اور بےغبار ہوجائیں گے، اور وہ مخلص دوستوں کی طرف جنت میں داخل ہوں گے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اہل جنت کے درمیان درجات و منازل کا جو تفاوت ہوگا اس پر وہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں گے پہلے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے کہ جنتیوں کو جنت اور دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک لیا جائیگا اور ان کے درمیان آپس کی جو زیادتیاں ہوئی ہوں گی ایک دوسرے کو ان کا بدلہ دلا دیا جائیگا حتی کہ جب وہ بالکل پاک صاف ہوجائیں گے تو ان کو جنت میں داخلہ کی اجازت دیدی جائے گی۔ (صحیح بخاری کتاب المظالم) مثلاً صحابہ کرام کی باہمی رنجشیں جو خطاء اجتہادی پر مبنی تھیں ان کو بھی ایک دوسرے کے دل سے پاک کردیا جائیگا، حضرت علی ؓ کا قول ہے، مجھے امید ہے کہ میں، عثمان ؓ اور طلحہ ؓ و زبیر ؓ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ” ونَزَعْنَا مافی صدورھم من غلٍّ ۔ (ابن کثیر) وقالوا الحمد۔۔۔۔ ھدانا۔ یعنی یہ ہدایت کی جس کی وجہ سے ہمیں ایمان و عمل کی زندگی نصیب ہوئی اور پھر انھیں بارگاہ الہیٰ میں قبولیت کا درجہ بھی حاصل ہوا، یہ اللہ کی خاص رحمت ہے اور اس کا فضل ہے اگر یہ رحمت اور فضل الہیٰ نہ ہوتا تو ہم یہاں تک نہ پہنچ سکتے تھے اسی مفہوم کی یہ حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا یہ بات اچھی طرح جان لو کہ تم میں سے کسی کو محض اس کا عمل جنت میں نہیں لیجائیگا جب تک کہ اللہ کی رحمت نہ ہوگی، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ ﷺ بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں، میں بھی اس وقت تک جنت میں نہ جاؤں گا جب تک کہ رحمت الہیٰ مجھے اپنے دامن میں نہ سمیٹ لے گی۔ (صحیح بخاری کتاب الرفاق)
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا اس کو ہم نے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچ پایا ؟ وہ کہیں گے ہاں تو اس وقت ایک پکارنے والاپکار دے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس کی کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔

ونادی اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔ علی الظالمین، یہی بات نبی ﷺ نے جنگ بدر میں جو کفار مارے گئے تھے اور ان کی لاشیں ایک کنویں میں ڈال دی گئی تھیں انھیں خطاب کرتے ہوئے کہی تھی جس پر حضرت عمر ؓ نے سوال کیا تھا، آپ ایسے لوگوں سے خطاب فرما رہے ہیں جو ہلاک ہوچکے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ” اللہ کی قسم میں انھیں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن اب وہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے “۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ)
Ayahs 7:46–47

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

ان دونوں بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان اعراف کا نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف پر کچھ آدمی ہونگے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہونگے مگر امید رکھتے ہونگے۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان نگاہیں پلٹ کر اہل جھنم کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں میں داخل نہ کیجئے۔

وعلی الاعراف رجال (الآیۃ) یہ کون لوگ ہوں گے جن کو جنت و دوزخ کے باڈر پر روک لیا جائیگا ؟ ان کے بارے میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے اکثر مفسرین کے نزدیک اہل اعراف سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی زندگی کا نہ تو مثبت پہلو ہی اتنا قوی ہوگا کہ جنت میں داخل ہو سکیں اور نہ منفی پہلو اتنا خراب ہوگا کہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں اسلئے وہ دوزخ و جنت کے درمیان ایک سرحد پر رہیں گے۔
Ayahs 7:48–49

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف اہل جھنم میں سے جن کی صورت سے پہچانیں گے پکاریں گیں اور کہیں گے کہ آج کے دن نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کوئی کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی سودمند ہوا

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

پھر مومنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا ؟ تو مومنوں تم بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تم کو کچھ خوف نہیں اور نہ تم کچھ رنج واندوہ ہوگا۔

آیت نمبر 48 تا 53 ترجمہ : اور اہل اعراف جہنمیوں میں سے بڑے بڑے لوگوں سے جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے پکار کر کہیں گے (سوال کریں گے) کہ تمہارا مال کو جمع کرنا یا تمہاری اکثریت اور تمہارا ایمان سے تکبر کرنا آگ سے بچانے میں کیا کام آیا ؟ اور (اہل اعراف) ضعفاء مسلمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دوزخیوں سے کہیں گے، کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم نے قسم کھا کر کہا تھا کہ ان کو خدا کی رحمت کا کچھ بھی حصہ نہ ملے گا ؟ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ اس حال میں کہ تمہارے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ غم اُدْخِلُوا، مجہول کے صیغہ کے ساتھ اور دَخَلوا (ماضی معروف) کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور (دونوں) منفیہ جملہ مقولاً کی تقدیر کے ساتھ حال ہیں، حال یہ ہے کہ یہ بات ان سے کہہ دی گئی، اور دوزخی جنتیوں سے پکار کر کہیں گے کچھ تھوڑے پانی سے ہمارے اوپر بھی کرم کردو یا جو رزق کھانے کیلئے اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کچھ ہماری طرف بھی ڈال دو تو وہ جواب دیں گے یہ دونوں چیزیں اللہ نے کافروں کیلئے حرام (ممنوع) کردی ہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیوی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا تو آج ہم بھی انھیں بھلا دیں گے (یعنی) ہم ان کو دوزخ میں داخل کر کے چھوڑ دیں گے، جیسا کہ انہوں نے ملاقات کیلئے عمل کو ترک کرکے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا، اور جیسا کہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے، یعنی جیسا کہ انہوں نے انکار کیا، اور ہم نے اہل مکہ کے پاس ایسی کتاب (یعنی) قرآن پہنچا دیا کہ جس میں اخبار اور وعدوں اور وعیدوں کو ہم نے کھول کھول کر بیان کیا حال یہ ہے کہ جو اس میں کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے ہم اس کے جاننے والے ہیں حال یہ کہ وہ کتاب ہدایت ہے، ھدًی فصّلنٰہٗ کی ضمیر مفعولی سے حال ہے، اور وہ اس (قرآن) پر ایمان لانیوالوں کیلئے رحمت ہے، ان لوگوں کو کسی چیز کا انتظار نہیں صرف قرآن میں بیان کردہ کے انجام کا انتظار ہے، جس دن اس کا آخری نتیجہ آجائیگا وہ قیامت کا دن ہوگا، جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یعنی اس پر ایمان کو ترک کئے ہوئے تھے اس روز یوں کہیں گے واقعی ہمارے رب کے رسول سچی باتیں لائے تھے، سو اب کیا ہمارا کوئی سفارشی ہے کہ جو ہماری سفارش کر دے، یا کیا ہم پھر دنیا میں واپس بھیجے جاسکتے ہیں تاکہ ہم ان اعمال کے برخلاف جنہیں ہم کیا کرتے تھے، دوسرے (نیک) اعمال کریں (یعنی) اللہ کی توحید کے قائل ہوجائیں اور شرک کو ترک کردیں، تو ان سے کہا جائیگا، نہیں، بیشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا جبکہ وہ ہلاکت کی طرف چلے دعوائے شرک کی جو باتیں ان لوگوں نے تصنیف کر رکھی تھیں ان سے غائب ہوگئیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : رِجَالاً مِنْ اَصْحَابِ النَّارِ ، ای الذین کانوا عظماء فی الدنیا فینادونھم، یا ابا جھل بن ہشام ویا ولید بن مغیرۃ ویا فلان ویافلان وھم فی النار، اصحاب عراف ان لوگوں کا نام بنام پکار کر کہیں گے کہ تم دنیا میں رؤساء قوم کہلاتے تھے تمہاری جمعیتیں اور مال و دولت اور وہ جاہ و حشمت کیا ہوئے ؟ جن پر تم کو بڑا فخر و غرور تھا، آج ان میں سے تمہارے کچھ بھی کام نہیں آیا۔ قولہ : اغنیٰ عنکم، ما استفہام توبیخی ہے ای ایُّ شئ اغنٰی، اور ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے، یعنی ان میں سے تمہارے کچھ کام نہیں آتا۔ قولہ : استکبارًا، اس میں اشارہ ہے کہ ’ ما کنتم ‘ میں ما مصدریہ ہے لہٰذا عدم عائد کا شبہ ختم ہوگیا اور بعض حضرات نے استکباراً کا مطلب بڑا سمجھنا، لیا ہے اور بعض نے اعراض کرنا علامہ سیوطی نے دوسرے معنی مراد لئے ہیں۔ قولہ : یَقُوْلُوْنَ لھم، اس سے اشارہ کردیا کہ اٰھؤلاء الذین الخ یہ بھی اہل اعراف کا مقولہ ہے۔ قولہ : بِالْبِنَاءِ لِلْمَفْعُوْلِ ، یعنی باب افعال سے ماضی مجہول اور دخلوا (ن) سے ماضی معروف ہے یہ دونوں قراءتیں شاذ ہیں جس کی طرف قُرِئ کہہ کر اشارہ کردیا ہے، ان دونوں قراءتوں کی صحت میں قول کی تقدیر کی ضرورت نہیں ہے، اسلئے کہ بغیر تاویل کے خبر واقع ہوجائیگا۔ (فیہ مافیہ) قولہ : مَنَعھما، حَرَّمَھُمَا، کی تفسیر مَنَعھما سے کرکے اشارہ کردیا کہ حرّم بمعنی مَنَعَ ہے اسلئے کہ حرام و حلال کا محل دنیا ہے نہ کہ آخرت قولہ : نَتْرُکُھْم اس میں اشارہ ہے کہ نسیان سے اس کے لازم معنی یعنی ترک مراد ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے نسیان محال ہے۔ قولہ : ای وکما جَحَدوا، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : وما کانوا بِایٰتِنَا یجحدون، کا عطف کما نَسُوْا لِقاء، پر درست نہیں ہے اسلئے کہ معطوف علیہ ماضی اور معطوف مضارع ہے۔ جواب : مضارع پر جب کان داخل ہوجاتا ہے تو ماضی بن جاتا ہے، لہٰذا عطف درست ہے۔ قولہ : عَاقِبَۃَ مَا فِیہ، فیہ کی ضمیر کا مرجع قرآن ہے یعنی اب ان کو صرف قرآن میں مذکور وعدوں اور وعیدوں کے انجام کی صداقت ہی کا انتظار ہے۔ تفسیر و تشریح نادی اصحب۔۔۔ رجالاً ، اہل اعراف اہل نار میں سے بڑے بڑے لوگوں کو جن کو وہ ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے کہیں گے، دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے کچھ کام آئے اور نہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے، اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا، آج انہی سے کہا گیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، پھر اہل اعراف سے کہا جائیگا، تم بھی جنت میں داخل ہوجاؤ تم کو کچھ خوف و غم نہیں حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کافروں سے فرمائیگا کہ جن غریبوں کو تم دنیا میں محروم بتاتے تھے لو اب یہی لوگ جنت میں پہنچ گئے۔ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے بحوالہ مسلم، کہ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا کے بڑے بڑے نافرمان مالدار لوگ قیامت کے دن جب دوزخ میں ڈالے جاویں گے تو دوزخ میں پڑتے ہی فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس مالداری نے تم کو آخرت سے غافل رکھا دوزخ کے عذاب کے مقابلہ میں تم کو دنیا کی وہ مالداری کچھ یاد ہے تو وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے مقابلہ میں ہمیں دنیا کی وہ مالداری ذرا بھی یاد نہیں اسی طرح اہل جنت کو جنت کی نعمتوں کے آگت دنیا کی تنگدستی کچھ یاد نہ آئے گی۔
Ayah 7:50

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی بہشتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کرو وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے

ونادی اصحب۔۔۔۔ الجنۃ الخ دوزخی جنتیوں سے بھیک مانگنے والوں کی طرح گڑگڑا کر تھوڑے سے پانی اور کھانے کا سوال کریں گے مگر ان کو کچھ نہ دیا جائیگا، بلکہ جنتی صاف صاف کہہ دیں گے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حرام کردی ہیں۔
Ayahs 7:51–52

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو علم دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور وہ مومنون کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔

الذین اتخذوا۔۔۔۔۔ ولعبا الخ اہل جنت اور اہل دوزخ اور اصحاب اعراف کی اس گفتگو سے کسی حد تک اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ عالم آخرت میں انسانی قوتوں کا پیمانہ کس قدر وسیع ہوجائیگا وہاں آنکھوں کی بینائی اتنے بڑے پیمانے پر ہوگی کہ دوزخ و جنت اور اعراف کے لوگ جب چاہیں گے ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے، اور وہاں آواز اور سماعت بھی اس قدر بڑھ جائے گی کہ مختلف دنیاؤں کے لوگ بآسانی گفت و شنید کرسکیں گے، یہ اور ایسے ہی بیانات جو ہمیں قرآن میں ملتے ہیں اس بات کا تصور دلانے کیلئے کافی ہیں کہ وہاں زندگی کے قوانین ہماری موجودہ دنیا کے قوانین طبعی سے بالکل مختلف ہوں گے، اگرچہ ہماری شخصیتیں یہی رہیں گئ، جن لوگوں کے دماغ اس عالم طبعی کی حدود میں موجودہ زندگی اور اس کے مختصر پیمانوں سے وسیع تر کسی چیز کا تصور ان میں نہیں سما سکتا وہ قرآن و حدیث کے ان بیانات کو بڑی حیرت واستعجاب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور بسا اوقات ان کا مذاق اڑا کر اپنی خفیف العقلی کا مزید ثبوت بھی دینے لگتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان بیچاروں کا دماغ جتنا تنگ ہے زندگی کے امکانات اتنے تنگ نہیں ہیں، آج کل کی نئی نئی ایجادات نے تو اس مسئلہ کو حل ہی کردیا ہے، اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہزاروں میل دور سے اس طرح باتیں کرسکتے ہیں گویا کہ آپ کے روبرو موجود ہے جس سے آپ بالمشافہ گفتگو کر رہے ہیں، نیز ایسی ایجادات نے کہ جن کے ذریعہ موٹی موٹی دیواروں کے آرپار تاریک رات میں اس طرح دیکھ سکتے ہیں گویا کہ رائی اور مرئی کے درمیان کوئی شئ حائل نہیں ہے، ان نئی ایجادات اور مشاہدات کے بعد بھی قرآنی معلومات کے سلسلہ میں انکار وعناد کا رویہ اختیار کرنا حمق اور بےعقلی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس کے وعدہ عذاب کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ وعدہ آئے گا تو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہونگے وہ بول اٹھے گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا آج ہمارے کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں۔ یا ہم دنیا میں پھر دوبارہ لوٹادیئے جائیں کہ جو عمل بد ہم پہلے کیا کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا کوئی نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

ھل ینظرون۔۔۔۔ تاویلہ، الخ یعنی یہ جس انجام کے منتظر تھے اس کے سامنے آجانے کے بعد اعتراف حق کرنے یا دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی آرزو اور کسی سفارشی کی تلاش، یہ سب بےفائدہ ہوں گی وہ معبود ان باطل بھی گم ہوجائیں گے جن کی یہ بندگی کیا کرتے تھے۔
Ayahs 7:54–55

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر ٹھہرا۔ وہی دن کو رات کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اسی کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے یہ خدائے رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

آیت نمبر 54 تا 58 ترجمہ : درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو دنیا کے دنوں کی مقدار کے اعتبار سے چھ دنوں میں پیدا فرمایا، اسلئے کہ اس وقت سورج نہیں تھا، اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں پیدا کردیتا، اور ایک لمحہ میں پیدا نہ کرنا لوگوں کو عجلت نہ کرنے کی تعلیم دینے کیلئے ہے، پھر (اپنے) تخت شاہی پر جلوہ فرما ہوا (عرش) لغت میں تخت شاہی کو کہتے ہیں، تخت پر جلوہ فرمائی سے مراد اس کی شایان شان جلوہ فرمائی ہے، وہ شب و روز کو ایک دوسرے سے اس طرح چھپا دیتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے جو اس کے حکم کے تابع ہیں (تینوں پر) نصب ہے سمٰوات پر عطف کرتے ہوئے، اور رفع ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے خبر اس کی مسخراتٌ ہے خبردار رہو ! تمام مخلوق اسی کی ہے اور بالکلیہ اسی کا امر ہے اللہ بڑی برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تم اپنے رب کو گڑ گڑاتے ہوئے چپکے چپکے پکارو بیشک اللہ تعالیٰ بےاحتیاطی کے ساتھ زور زور سے دعاء میں حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا شرک و معاصی کے ذریعہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، رسول کی بعثت کے ذریعہ اس کی اصلاح کرنے کے بعد، اس کی سزا اور رحمت کی امیاد و بیم کے ساتھ اس کو پکارو، بیشک اللہ کی رحمت نیک کردار فرماں بردار لوگوں کے قریب ہے اور (لفظ) قریب کو جو کہ رحمت کا مخبربہ ہے اللہ کی طرف رحمت کی اضافت کی وجہ سے مذکر لایا گیا ہے اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لئے ہوئے بھیجتا ہے یعنی بارش کے آگے آگے پھیلتی ہوئی، اور ایک قراءت میں شین کے سکون کے ساتھ بطور تخفیف کے اور دوسری قراءت میں شین کے سکون اور ونون کے فتحہ کے ساتھ بطور مصدر کے اور تیسری قراءت میں شین کے سکون اور بجائے نون کے باء کے ضمہ کے ساتھ یعنی خوشخبری دینے والی، اور پہلے کا مفرد نَشُوْر بروزن رسول ہے اور دوسرے کا بشیرٌ ہے، پھر جب ہوائیں پانی سے بھرے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی مردہ (خشک) زمین کی طرف ہانک لیجاتے ہیں اس میں غیبت سے التفات ہے جس میں کوئی گھاس پھونس نہیں ہوتی، اس کو زندہ (سبز) کرنے کیلئے، پھر ہم اس زمین میں پانی برساتے ہیں پھر ہم اس پانی کے ذریعہ ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں، اسی طرح ہم مردوں کو ان کی قبروں سے زندہ کرکے نکالیں گے، تاکہ تم سبق لو اور ایمان لے آؤ اور جو زمین اچھی ہوتی ہے (شور نہیں ہوتی) تو اس سے اپنے رب کے حکم سے خوب پیداوار ہوتی ہے یہ مومن کی مثال ہے کہ وہ نصیحت سنتا ہے پھر اس سے نفع اٹھاتا ہے اور جس زمین کی مٹی خراب ہوتی ہے اس سے خراب پیداوار کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا (اور وہ بھی) بڑی مشقت کے ساتھ، اور یہ کافر کی مثال ہے، اسی طرح جیسا کہ ہم نے مذکورہ مثال بیان کی اللہ کا شکر ادا کرنے والی قوموں کیلئے مثال بیان کرتے ہیں تو وہ ایمان لے آتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اِسْتِوَاءً یَلِیْقُ بہ، اس میں اشارہ ہے کہ استویٰ علی العرش متشابہات میں سے ہے اس کی حقیقی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یُغشی، ای یغطّی، چھا جانا، چھا لینا، اسی سے ہے غَشِیَتْہُ الحُمّٰی، اس کو بخار آگیا۔ قولہ : حثیثًا، یہ حثٌ سے مشتق ہے اور یہ طلباً مصفر محذوف کی صفت ہے۔ قولہ : بالتَشَدُّقِ ، ای اظھار الفصاحۃ بالتکلف، تَشَدَّق، بتکلف فصاحب ظاہر کرنے کیلئے باچھیں کھولنا، تشَدَّق بالکلام وفیہ، بغیر احتیاط کے ہر قسم کی باتیں کرنا۔ قولہ : وتَذْکِیْرُ قَرِیْبِ الْمُخْبَرِ بِہ عَنْ رَحْمَۃٍ لاِضَافَتِھا الَی اللہِ ، مذکورہ عبارت کا اضافہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : رحمۃ اللہ، اِنَّ کا اسم ہے اور قریبٌ اسکی خبر ہے، اسم مؤنث ہے اور خبر مذکر ہے دونوں میں مطابقت نہیں ہے قریبۃ ہونا چاہئے جواب : رحمۃ اللہ، میں مضاف الیہ یعنی لفظ اللہ کی رعایت کی وجہ سے مذکر لائے ہیں، یعنی مضاف کو مضاف الیہ کا حکم دیدیا ہے، دیگر ائمہ لغت والا عراب نے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔ (1) زجاج نے کہا کہ رحمۃ عفوغفران کے معنی میں ہونے کی وجہ سے رحمٌ کے معنی میں ہے، نحاس نے اس تاویل کو پسند کیا ہے، (2) نضر بن شمیل نے کہا ہے کہ رحمۃ مصدر بمعنی ترجم ہے، (3) اخفش سعید نے کہا ہے کہ رحمۃ سے مطر مراد ہے، (4) بعض حضرات نے کہا ہے کہ رحمۃ چونکہ مؤنث غیر حقیقی ہے لہٰذا مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوسکتا ہے۔ (فتح القدیر شوکانی) قولہ : اَقَلّت ای حملت و رفعت اس کا ماخذ اشتقاق اقلال ہے۔ قولہ : نکدًا، ای الذی لاخیر فیہ، او الذی اشتدَّ وعَسَرَ ۔ قولہ : ثقالا۔ سوال : ثقالاً کو جمع لانے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : اسلئے کہ سحابا معنی سحابۃ کی جمع ہے اسلئے کہ معنی میں سحائب کے ہیں۔ تفسیر و تشریح ان ربکم اللہ۔۔۔۔۔۔ ستہ ایام (الآیۃ) یہ چھ دن، اتوار، پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور جمہ ہیں، جمعہ ہی کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی، کہتے ہیں کہ ہفتہ کے روز کوئی تخلیق نہیں ہوئی، اسلئے اسے یوم السبت کہا جاتا ہے، اسلئے کہ سبت کے معنی قطع کے ہیں یعنی اس روز تخلیق کا کام قطع ہوگیا۔ قرآن میں بیان کردہ دن سے کیا مراد ہے ؟ ہماری دنیا کا دن جس کی ابتداء طلوع شمس اور انتہاء غروب شمس سے ہوتی ہے یا یہ دن ہزار سال کے برابر ہے جیسا کہ روز قیامت ہوگا، بظاہر دوسری صورت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایک تو اس وقت نظام شمسی موجود نہیں تھا آسمان و زمین کی تخلیق کے بعد یہ نظام قائم ہوا، دوسری بات یہ کہ عالم بالا کا واقعہ ہے اس کو دنیا سے کوئی نسبت نہیں ہے، اسلئے اس دن کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے اس بارے میں قطعیت کے ساتھ کوئی بات کہنا مشکل ہے، علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ لفظ ” کن “ سے آن واحد میں سب کچھ پیدا کرسکتا ہے اس کے باوجود اس نے ہر چیز کو الگ الگ تدریج کے ساتھ بنایا اس کی بھی اصل حکمت اللہ ہی بہتر جانتا ہے تاہم علماء نے اس کی ایک حکمت لوگوں کو وقار اور تدریج کے ساتھ کام کرنے کا سبق دینا بتلائی ہے اور حدیث پاک میں بھی عجلت کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی گئی ہے۔ استواء کے معنی علو اور استقرار کے ہیں سلف نے بلا کیف و بلاتشبیہ یہی معنی مراد لئے ہیں لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں ہے، حضرت امام مالک (رح) تعالیٰ سے کسی نے استواء کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا، استواء کے معنی معلوم نہیں مگر کیفیت نامعلوم ہے۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنے اور خدا سے خوف کھاتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

ولا تفسدوا فی الارض (الآیۃ) ممانعت کا مطلب ہے فساد فی الارض سے ممانعت۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی معاشرت تمدن و اخلاق کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں، یہی وہ بنیادی فساد ہے جس سے زمین کے نظام میں خرابی کی بیشمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصد ہے قانون اسلام کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی سے عالم کی اصلاح ہوتی ہے اور مکمل دستور العمل سے انکار و انحراف ہی سے پہلے فساد عقائد اور فساد اعمال و اخلاق پیدا ہوتے ہیں جو جرائم، معاصی، قتل و گا رت گری غرضیکہ ہر قسم کے فساد کا باعث ہے جس کی وجہ سے عالم میں فساد برپا ہوتا ہے۔ آداب دعاء : دعاء میں آداب دعاء و عبودیت کا لحاظ رکھنا بھی آداب دعاء سے ہے دعاء کے آداب کا لحاظ نہ رکھنا بھی دعاء میں حد سے تجاوز کرنا ہے، آداب دعاء میں یہ بھی داخل ہے کہ دعاء محالات عقلیہ وعادیہ کی نہ مانگی جائے، مثلاً یہ کہ اے اللہ تو مجھے دنیا میں خلود نصیب فرمایا میری جوانی لوٹا دے اور نہ معاصی کی طلب و تمنا کی جائے مطلب یہ ہے کہ دعاء اپنی حیثیت اور مرتبہ سے بڑھ کر نہ کی جائے، بلکہ شان عبودیت کے ساتھ لجاجت کے لہجہ میں خشوع قلب کے ساتھ دعاء مانگی جائے، دعاء چلا چلا کر بھی نہ مانگنی چاہیے (نعوذ باللہ) تمہارا پروردگار نہ گراں گوش ہے اور نہ دور، چلا چلا کر دعاء کرنے سے حدیث شریف میں بھی ممانعت آئی ہے صحیح بخاری اور مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ ایک موقعہ پر لوگ چلا چلا کر زور زور سے دعاء مانگ رہے تھے اس پر آپ نے فرمایا ” جسے تم پکار رہے ہو وہ نہ اونچا سنتا ہے اور نہ وہ دور ہے وہ تو قریب ہے اور خوب سنتا ہے “ حنفیہ نے یہیں سے استدلال کیا ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ کے بعد آمین بھی چونکہ دعاء ہے لہٰذا آمین آہشتہ کہنی چاہیے (جصاص) دعاء کرتے وقت امید و بین کی کیفیت ہونی چاہیے، اس کے عذاب کا خوف بھی ہو اور اس کی رحمت کی امید بھی اس طرح دعاء کرنے والے کا شمار محسنین میں ہوتا ہے، یقیناً اللہ کی رحمت ایسے لوگوں کے قریب ہے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی سی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینہ برساتے ہیں پھر مینہ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کر کے باہر نکالیں گے یہ آیات اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

فانزلنا بہ الماء، جس طرح ہم پانی کے ذریعہ مردہ زمین میں روئیدگی پیدا کردیتے ہیں اور وہ انواع و اقسام کے غلے اور پھل پھول پیدا کرتی ہے اسی طرح قیامت کے دن تمام انسانوں کو جو مٹی میں شامل ہو کر مٹی ہوچکے ہوں گے ہم دوبارہ زندہ کردیں گئ اور ان کا حساب لیں گے۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

والبلد الطیب یخرج نباتہ، اس کی حقیقی معنی مراد ہونے کے علاوہ یہ ایک تمثیل بھی ہوسکتی ہے البلد الطیب سے مراد سریع الفھم اور البلد الخبیث سے بطئ الفھم یا وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل، اور اسکے برعکس دل، یا قلب مومن اور قلب منافق، نصیحت قبول کرنے والا دل بارش قبول کرنے والی زمین کی طرح ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کے پانی کو قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے، اس کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال اس موسلادھار بارش کی طرح ہے جو زمین پر برستی، زمین کے جو حصے زرخیز تھے انہوں نے پانی کو اپنے اندر جذب کرکے چارہ اور گھاس خوب اگایا، اور اسکے بعض حصے سخت تھے انہوں نے پانی کو تو روک لیا (اندر جذب نہیں کیا) تاہم اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، خود بھی پیا، کھیتوں کو بھی سیراب کیا، اور زمین کا کچھ حصہ بالکل سنگلاخ تھا جس نے پانی روکا اور نہ کچھ اگایا، پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا ہے اس نے اس سے استفادہ کیا خود بھی علم حاصل کیا دوسروں کو بھی سکھایا، اور اس شخص کی بھی مثال ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ وہ ہدایت ہی قبول کی جس کو دیکر مجھے بھیجا گیا ہے۔ (صحیح بخاری)
Ayahs 7:59–64

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اس کو کہا اے میری برادری کے لوگوں خدا کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا بہت ہی ڈر ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! مجھ میں کسی قسم کی کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

آیت نمبر 59 تا 64 ترجمہ : قسمیہ بات ہے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم، تم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (لَقَدْ ) قسم محذوف کا جواب ہے (غیرہ) کے جر کے ساتھ اِلٰہ کی صفت ہے اور رفع، (اِلٰہ) کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے ہے اگر تم اس کے علاوہ کسی اور کی بندگی کرو گے تو مجھے تمہارے حق میں بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے اور وہ بڑا دن قیامت کا دن ہے، ان کی قوم کے سرداروں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی پر دیکھتے ہیں انہوں نے جواب دیا میں کسی گمراہی میں نہیں ہوں ضلالت ضلال سے عام ہے، ضلالت کی نفی ضلال کی نفی سے ابلغ ہے، بلکہ میں رب العلمین کا رسول ہوں، تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں (اُبَلِغُ ) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں یعنی تمہارا بھلا چاہتا ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تم کو معلوم نہیں، کیا تم تکذیب کرتے ہو اور کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے تمہارے ہی ایک آدمی کے ذریعہ نصیحت آگئی تاکہ تم کو عذاب سے ڈرائے اگر تم ایمان نہ لائے اور تاکہ اللہ (کے عذاب) سے ڈرجاؤ اور تاکہ تقویٰ کی وجہ سے تم پر رحم کیا جائے مگر وہ لوگ ان کی تکذیب ہی کرتے رہے تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ڈوبنے سے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم نے ان کو طوفان کے ذریعہ غرق کردیا یقیناً وہ لوگ حق سے اندھے تھے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : جوابُ قسم محذوف، اس اضافہ سے اشارہ کردیا کہ لَقَدْ میں لام جواب قسم پر داخل ہے۔ قولہ : والرَفْعِ بَدَلٌ مِنْ مَحَلِہٖ تقدیر عبارت یہ ہے، مالکم الہٌ من زائدہ ہے اِلہٌ مبتداء ہے اور لکم خبر مقدم ہے۔ قولہ : ھِیَ اَعمُّ مِنَ الضَلَالِ فنَفْیُھا اَبْلَغُ مِنْ نَفْیِہٖ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اِنَّا لنَراکَ فی ضلٰل مبین، کہہ کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی جانب ہر قسم کی ضلالت کی نسبت کی، اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے لیس بی ضلالۃ کہہ کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی جانب ہر قسم کی گمراہی کی نفی کی بلکہ ولکنّی رسول من رب العلمین، کہہ کر یہ دعویٰ بھی کردیا کہ میں اللہ رب العٰلمین کی جانب سے عزو شرف کے سب سے بڑا مرتبہ پر جو کہ مرتبہ رسالت ہے فائز ہوں۔ الضلالۃ۔۔۔۔ الضلال، اسلئے کہ ضلالۃ وحدت غیر معینہ پر دلالت کرتی ہے اور فرد غیر معین کی نفی عام ہے بخلاف ضلال کے کہ یہ مصدر ہے جو واحد تثنیہ جمع کو شامل ہے، مصدر کی نفی سے یہ ضروری نہیں کی بالیقین عام کی نفی ہوجائے، مطلب یہ ہے کہ ضلالۃ کی نفی ضلال کی نفی کو مستلزم ہے ولا بالعکس اسلئے کہ عام کی نفی خاص کی نفی کو مستلزم ہوتی ہے نہ کہ اس کا عکس اور لیس بی ضلالۃ، نکرہ تحت النفی کی وجی سے عموم کا فائدہ دے رہا ہے۔ قولہ : بھَا، ای بالتقویٰ ۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : سورة اعراف کے شروع سے یہاں تک اصول اسلام، توحید، رسالت، آخرت کا مختلف عنوانات سے اثبات اور لوگوں کو اتباع کی ترغیب اور اس کی مخالفت پر وعید و ترہیب اور اس کے ضمن میں شیطان کے مکرو فریب کا بیان تھا، اب یہاں سے آخر سورت تک چند انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اور ان کی امتوں کا ذکر ہے، اس رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کے حالات و مقالات مذکور ہیں۔ سلسلہ انبیاء میں سب سے پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں لیکن ان کے زمانہ میں کفر و ضلالت کا مقابلہ نہ تھا نیز ان کی شریعت میں زیادہ تر زمین کی آبادکاری اور انسانی ضروریات کے احکام تھے، کفر و شرک کا مقابلہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہوا اور رسالت و شریعت کے اعتبار سے وہ سب سے پہلے رسول ہیں، اس وقت دنیا میں جو انسانی آبادی ہے یہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء سفینہ کی ذریت میں سے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قصص الانبیاء کا آغاز بھی حضرت نوح (علیہ السلام) ہی سے کیا گیا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ اور ان کی قوم کی غرق آبی اور کشتی والوں کی نجات کی پوری تفصیل سورة نوح اور سورة ھود میں بیان ہوئی ہے، اختصار کے ساتھ اس کا بیان مندرجہ ذیل ہے۔ نوح (علیہ السلام) کا مختصر قصہ : قرآن کریم کے اشارات اور بائبل کی تصریحات سے یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم جس سرزمین پر رہتی تھی جس کو آج عراق کے نام سے جانا جاتا ہے بابل کے آثار قدیمہ میں بائبل سے قدیم ترکتبات ملے ہیں، ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے اس کی جائے وقوع موصل کے نواح میں بتائی گئی ہے، اس کے علاوہ جو روایات کردستان اور آرمینیہ میں قدیم ترین زمانہ سے نسلاً بعد نسل چلی آرہی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اسی علاقہ میں کسی جگہ ٹھہری تھی، موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے آس پاس آرمینیہ کی سرحد پر کوہ اراراط کے نواح میں نوح (علیہ السلام) کے مختلف آثار کی نشاندہی اب بھی کی جاتی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ : حضرت نوح (علیہ السلام) بن لامک قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں صحیح صحیح زمانہ کی تعیین تو دشوار ہے بعض اندازوں کے مطابق ان کا زمانہ 2948 ق م تا 1958 ق م سمجھئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم عراق میں آباد تھی تورات کی کتاب پیدائش میں ان کا مفصل ذکر باب 5 سے باب 9 تک آیا ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) سے حضرت آدم (علیہ السلام) تک حسب روایت توریت کل نو پشتوں کا فاصلہ ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے درمیان مشابہت : قرآن نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان جس معاملہ اور مکالمہ کا ذکر کیا ہے، بعینہٖ ایسا ہی معاملہ مکہ میں محمد ﷺ اور آپ کی قوم کے درمیان پیش آرہا تھا، جو پیغام حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھا وہی حضرت محمد ﷺ کا تھا، ان کے علاوہ دیگر انبیاء کے جو قصے بیان ہوئے ہیں ان میں بھی یہی دکھایا گیا ہے کہ ہر نبی کی قوم کا رویہ اہل مکہ کے رویہ سے اور ہر نبی کی تقریر محمد ﷺ کی تقریر سے ہو بہو مشابہ ہے، اس سے قرآن یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ انسانی گمراہی ہر زمانہ میں بنیادی طور پر ایک ہی طرح کی رہی ہے اور خدا کے بھیجے ہوئے معلموں کی دعوت بھی ہر عہد اور ہر سر زمین میں یکساں رہی ہے، اور لوگوں کا انجام بھی ٹھیک ایک جیسا ہوا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے، سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالح افراد فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی آویزاں کرلیں ان کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح ان صالحین کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الہٰی میں ان کے طریقہ پر چلیں گے، وقت گزرنے پر ان تصویروں کے مجسمے بنالئے اس کے کچھ عرصہ کے بعد ان تصویروں نے بتوں کی شکل اختیار کرلی اور لوگوں نے ان کی پوچا پاٹ شروع کردی، اور قوم کے یہ صالحین ود، سواع، یعوق، یغوث اور نسر معبود بن گئے، ان حالات میں نوح (علیہ السلام) کو معبوث فرمایا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہ کیا، آخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا۔
Ayahs 7:65–72

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

آیت نمبر 65 تا 72 ترجمہ : اور ہم نے عاد اولی کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو (یعنی) اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، سو کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ ایمان لے آؤ، ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تو تم کو حماقت جہالت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو دعوائے رسالت میں جھوٹا سمجھتے ہیں انہوں نے جواب دیا اے میری قوم میں ذرا بھی حماقت میں مبتلا نہیں، میں تو رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں میں تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچاتا ہوں، (اُبلغکم) میں تخفیف وتشدید دونوں قراءتیں ہیں، اور تمہارا سچا خیر خواہ ہوں رسالت کے بارے میں امین ہوں، کیا تمہیں اس بات میں تعجب ہو رہا ہے کہ تمہارے پروردگار کی نصیحت تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک شخص کے ذریعہ آئی ہے تاکہ تم کو آگاہ کرے اور اس بات کو یاد رکھو کہ دنیا میں قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد تم کو (انکا) جانشین بنایا ہے اور ڈیل ڈول میں تمہیں جسامت بھی زیادہ دی، یعنی قدآور بنایا اور قوت بخشی ان میں دراز ترین شخص سو ہاتھ کا اور پشت قد ساٹھ ہاتھ کا تھا، اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ، انہوں نے جواب دیا کہ کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں، سو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جسکی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اس نے کہا اچھا تو اب تمہارے اوپر رب کا عذاب اور غضب آہی پڑا کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادؤں نے گھڑ لئے ہیں یعنی وہ بت جن کی تم بندگی کرتے ہو، جن کے بارے میں اللہ نے نہ کوئی سند اتاری نہ دلیل، سو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں شامل ہوں، تمہارے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے سو ان کے اوپر بےفیض ہوا (آندھی) چلائی گئی چناچہ ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان مومنین کو جو ان کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے بچا لیا اور ہم نے ان لوگوں کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ایمان لانے والے نہیں تھے، اس کا عطف کذبوا پر ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَرْسَلنا، اس میں اشارہ ہے کہ وَالِی عَادٍ کا عطف نوحًا الی قومہ پر ہے اور یہ عطف قصہ علی القصہ کے قبیل سے ہے۔ قولہ : اَلْاُوْلیٰ ، عاد کی صفت الاولی، لا کر اشارہ کردیا کہ عاد ثانیہ مراد نہیں ہے اسلئے کہ عادثانیہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کا نام ہے۔ قولہ : اخاھم ھُوْدًا، ھودًا، اخاھم سے بدل ہے، جن لوگوں نے عاد کو محلہ (حّی) کا نام قرار دیا ہے وہ اس کو منصرف کہتے ہیں اور جو قبیلہ کا نام قرار دیتے ہیں وہ اس کو تانیث اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف کہتے ہیں، عاد دراصل قوم عاد کے جداکبر کا نام ہے، سلسلہ نسب اس طرح ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح۔ سوال : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں فقال یا قوم، فاء کے ساتھ کہا اور یہاں قال بغیر فاء کے کہا، اس میں کیا نکتہ ہے ؟ جواب : حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو دعوت الی اللہ دینے میں بغیر سستی اور توقف کے مسلسل لگے ہوئے تھے جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے قول ” قالَ ربّ انی دعوت قومی لیلاً ونھاراً “ سے معلوم ہوتا ہے لہٰذا اس کیلئے فاء تعقیبیہ لانا مناسب ہے حضرت ہود (علیہ السلام) کی یہ صورت حال نہیں تھی اسلئے یہاں فاء کو ترک کردیا۔ قولہ : من العَذَابِ یہ عائد محذوف کا بیان اور تعِدُنا جملہ ہو کر صلہ ہے، اور صلہ جب جملہ ہوتا ہے تو عائد ہونا ضروری ہوتا ہے مفسر علام نے بِہٖ کہہ کر عائد کو ظاہر کردیا، من العذاب اسی ضمیر کا بیان ہے۔ قولہ ؛ وَجَبَ ۔ سوال : وَقَعَ کی تفسیر وجَبَ سے کس مصلحت کے پیش نظر کی ہے ؟ جواب : تاکہ اللہ تعالیٰ کی خبر میں کذب لازم نہ آئے، اس لئے کہ اس وقت تک عذاب واقع نہیں ہوا تھا۔ قولہ : سَمَّیْتُمْ بھا۔ سوال : سَمَّیْتُمْوھا، کی تفسیر سَمَّیْتُمْ بھا سے کس مقصد کے پیش نظر کی ہے۔ جواب : سمَّیتموھا میں اسماء کے لیے اسماء ہونا لازم آرہا ہے اسلئے کہ ھا، ضمیر اسماء کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہوگا کہ تم نے ناموں کا نام رکھ لیا ہے حالانکہ یہ بےمعنی بات ہے، اور جب ھاء پر باء داخل کردیں گے تو یہ اعتراض وارد نہ ہوگا، اس لئے کہ ھا ضمیر اسماء کی طرف راجع ہوگی اور سَمَّیْتُمْ کا مفعول مقدر ہوگا ای سَمَّیتُمْ مسمیات تلک الاسماء بھا۔ تفسیر و تشریح قوم عاد کی مختصر تاریخ : واِلی عاد اخاھم ھودا، یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے قصے اہل عرب میں زبان زد عام و خاص تھے، ان کی شوکت و حشمت ضرب المثل تھی، پھر دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ جانا بھی ضرب المثل ہو کر رہ گیا، قرآن کی رو سے اس قوم کا اصل مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے مغرب میں واقع ہے یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان و حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کردیا تھا، تاریخی حیثیت سے اس قوم کے آثار تقریباً ناپید ہوچکے ہیں، لیکن جنوبی یمن میں کہیں کچھ پرانے کھنڈرات موجود ہیں جنہیں، عاد کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، حضرموت میں ایک مقام پر حضرت ہود (علیہ السلام) کی قبر بھی مشہور ہے 1837 ء میں ایک انگریز بحری افسر (James.R.Wellsted) کو حصن عرب میں ایک پرانا کتبہ ملا تھا جس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا ذکر موجود ہے اور عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی تحریر ہے جو شریعت ہود (علیہ السلام) کے پیرو تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) جس قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے وہ عاد اولی کے نام سے معروف ہے حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم کے ایک فرد تھے، یہ قوم اپنی طاقت وقوت میں بےمثال تھی، اس کے افراد غیر معمولی تن و توش کے ہوتے تھے، ان کے بارے میں قرآن نے ایک جگہ فرمایا ” لم یخلق مثلھا فی البلاد “ اپنی اسی غیر معمولی قوت کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کہ انہوں نے کہا تھا ” مَنْ اشدُّ مفاقوۃ “ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس نے انھیں پیدا فرمایا وہ ان سے زیادہ قوت والا ہے (حم سجدہ) واقعہ کی مزید تفصیل کیلئے سورة احقاف کا مطالعہ کیجئے۔