6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں۔ یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں ؟ (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا)۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں۔

(158) کیا مکہ والے اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے فرشتے آئیں یا قیامت کے دن ان کا پروردگار ان کے پاس آئے یا مغرب سے سورج طلوع ہوجائے ، جب مغرب سے آفتاب طلوع کیا جائے گا تو تب مہلت عمل ختم ہوجائے گی اس وقت کسی شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو اس نشانی کے ظاہر ہونے سے پہلے ایمان نہ رکھتا ہوگا یا اس نشانی کے ظہور سے پہلے اس نے اپنے ایمان میں ابھی تک کوئی نیکی کا کام نہیں کیا ہوگا کیوں کہ جو شخص اس نشانی کو دیکھ کر ایمان لائے گا تو اسکا ایمان اور توبہ اور کوئی عمل بھی قبول نہیں ہوگا ماسوا اس کے کہ وہ اس وقت چھوٹا ہو یا یہ کہ پیدا ہوا ہو اور پھر مرتد ہوجائے اور نشانی کے بعد پھر اسلام قبول کرے تو اس نومسلم کا اسلام قبول ہوگا۔ اور جو شخص اس دن مومن گنہگار ہوگا اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے گا تو توبہ قبول ہوگی ایک قول کے مطابق وہ یہ کہ جو اس دن گنہگار ہوگا اور پھر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے گا یا چھوٹا ہوگا یا اس کے بعد پیدا ہوا ہوگا تو ان کا ایمان توبہ اور عمل ان کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ تم قیامت کا انتظار کرو، ہم تو تمہارے عذاب کے منتظر ہیں خواہ قیامت کے دن ہو یا اس سے پہلے ہو یا یہ کہ آپ فرمادیجیے کہ تم میری موت کے منتظر رہو، میں تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔

(159) جن لوگوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا یا یوم المیثاق کو جو انہوں نے اقرار کیا تھا اس کو ترک کردیا اور اگر ”فرقوا“ تشدید کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ کہ دین میں اختلاف کیا اور اس کو جدا جدا کردیا اور مختلف فرقے مثلا یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت بن گئے، آپ کا ان کے قتال سے کوئی واسطہ نہیں پھر اس کے بعد ان سے قتال کرنے کا حکم دیا یا یہ کہ آپ کے قبضہ میں مان کی توبہ اور ان کا عذاب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ ہی ان کو ان کی نیکی اور برائی جتلا دیاے گا۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

(160) جو توحید کے ساتھ نیکی کرے تو اسے دس گناہ ثواب ہے اور جو شرک کے ساتھ برائی کرے تو اس کا بدلا دوزخ ہے، ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور نہ انکی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ (یعنی) دین صحیح مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(161) اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں اور یہودیوں اور نصرانیوں سے فرما دیجیے کہ میرے پروردگار نے مجھے اپنے دین کی وجہ سے عزت عطا فرمائی ہے اور مجھے دین حق کی دعوت دینے کا حکم دیا ہے یا یہ کہ مجھے دعوت حق کا طریقہ میرے پروردگار نے بتادیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کا دین ہے، اس میں کجی نہیں اور وہ مشرکوں کے دین پر نہیں تھے۔
Ayahs 6:162–163

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے۔ اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔

(162۔ 163) اور آپ اس کی کچھ تفصیل بیان فرمادیجیے کہ میری پانچوں نمازین اور میرا دین و حج اور میری قربانی اور میری عبادت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضامندی کے لیے ہے جو کہ جن وانس کا پروردگار ہے اور میں سب موحدین اور عابدین میں پہلا ہوں۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں ؟ اور وہی تو ہر چیز کا مالک اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

(164) آپ یہ بھی فرمادیجیے کہ کیا اور کسی معبود کی عبادت کروں گناہوں کی سزا گناہ کرنے والے ہی پر رہتی ہے کوئی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا یا کسی کو دوسرے کے گناہوں کی سزا میں نہیں پکڑے جائے گا یا یہ کہ کسی پر بغیر گناہ کے عذاب نہیں ہوگا یا یہ کہ خوشی سے کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھاتا مگر مجبورا (یعنی کسی کا حق وغیرہ مارا ہوگا تو اس کا بوجھ مجبورا اٹھانا ہی پڑے گا) مرنے کے بعد دین میں جو تم مختلف الاعمال ہوگئے تھے وہ اس کی حقیقت بھی تمہیں روز قیامت بتلادے گا۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے۔ تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشے والا مہربان (بھی) ہے۔

(165) اسی رب نے گزشتہ قوموں کا تمہیں زمین میں جانشین کیا اور ایک دوسرے پر مال و دولت دے کر رتبہ بڑھایا تاکہ جو مال و دولت بطور خدام تمہیں دے ہیں اس کے ذریعے سے تمہاری آزمایش کرے کافر اور ناشکر گزار کو اللہ تعالیٰ جلد سزا دینے والا ہے اور وہ واقعی مومن مغفرت کرنے والا بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔