6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 6:118–121

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

تو جس چیز پر (ذبح کے وقت) خدا کا نام لیا جائے اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو تو اسے کھالیا کرو۔

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور سبب کیا ہے کہ جس چیز پر خدا کا نام لیا جائے تم اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو چیز اس نے تمہاے لئے حرام ٹھہرادی ہیں وہ ایک ایک کرکے بیان کردی ہیں (بیشک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ ان کے (کھانے کے) لیے ناچار ہوجاؤ اور بہت سے لوگ بےسمجھے بوجھے اپنے نفس کی خواہشوں سے لوگوں کو بہکار ہے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو جو (خدا کی مقرر کی ہوئی) حد سے باہر نکل جاتے ہیں تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہری اور پوشیدہ (ہر طرح کا) گناہ ترک کردو۔ جو لوگ گناہ کرتے ہیں وہ عنقریب اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس چیز پر خدا کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے۔ اور شیطان (لوگ) اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں۔ اور اگر تم لوگ ان کے کے کہے پر چلے تو بیشک تم بھی مشرک ہوئے۔

(118۔ 119۔ 120۔ 121) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام جانوروں کی تفصیل بتلادی جن کو تم پر حرام کیا ہے جیسا کہ مردار خون اور سور کا گوشت وغیرہ مگر مردار کھانے کی بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑجائے تو یہ مشروط طور پر حلال ہے۔ اور ابوالاحوص اور اس کے ساتھی بغیر علم اور حجت کے لوگوں کو مردار کھانے کی دعوت دیتی ہیں تم ظاہری زنا اور اجنبیہ کے ساتھ خلوت کو بھی چھوڑ دو کیوں کہ زانیوں کو دنیا میں کوڑے اور آخرت میں ان کو عذاب ملے گا۔ جن جانوروں پر جان بوجھ کر اللہ کا نام نہ لیاجائے ان کو بغیر سخت حاجت کے کھانا گناہ کا باعث ہے اور ایسے جانوروں کو حلال سمجھنا تو صریح کفر ہے۔ اور شیاطین اپنے یاروں ابوالاحوص اور اس کے ساتھیوں کو یہ شبہات تعلیم کررہے ہیں تاکہ وہاکل میتہ (مردارکھانے) اور امور شرک وغیرہ شرک وغیرہ میں بھی تم سے جھگڑا کریں، سو اگر تم نے شرک اور میتہ کو غیر اضطراری حال میں حلال سمجھ لیا تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے۔ شان نزول : (آیت) ”فکلو مما ذکر سم اللہ“۔ (الخ) امام ابوداؤد ؒ ، ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم ان جانوروں کو کھالیں جن کو کھالیں جن کو ہم خود ذبح کرتے ہیں اور ان کو نہ کھائیں جن کو اللہ تعالیٰ مار ڈالتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تاکلوا ممالم یذکر سم اللہ علیہ“۔ (الخ) امام طبرانی ؒ وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو فارس والوں نے قریش کے پاس کہلا بھیجا کہ محمد ﷺ سے مباحثہ کرو اور کہو کہ جس جانور کو تم چھری سے ذبح کرو وہ تو حلال ہے ؟ اور جس کو اللہ تعالیٰ سونے کے چاقو سے ذبح کرے یعنی مردار وہ حرام ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) ”وان الشیاطین لیوحون“۔ (الخ) ابوداؤد ؒ اور حاکم ؒ نے ابن عباس ؓ سے یہ روایت کیا ہے کہ شیاطین یہ وسوسہ پیدا کرتے تھے کہ جو اللہ تعالیٰ ذبح کردے، تم اسے نہیں کھاتے اور جو تم خود ذبح کرو اس کو کھالیتے ہو، تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

بھلا جو (پہلے) مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس کے لیے روشنی کردی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھیرے میں پڑا ہوا ہو اس نکل ہی نہ سکے ؟ اس طرح کافر جو عمل کر رہے ہیں وہ انھیں اچھے معلوم ہوتے ہیں۔

(122) یہ آیت عمار بن یاسر ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے یعنی حضرت عمار پہلے صاحب ایمان نہ تھے پھر ہم نے ان کو ایمان کی بدولت عزت عطا کی اور ہم نے انکو ایسی معرفت عطا فرمائی جس کی بدولت وہ لوگوں میں چلتے پھرتے ہیں یا یہ کہ ہم ان کو پل صراط پر ایک خاص نور عطا فرمائیں گے جس کی وجہ سے وہ لوگوں کے درمیان سے اس پر بلاخوف وخطر گزر جائیں گے،۔ تو کیا ایسا شخص اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو دنیا میں کفر کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور قیامت کے دن جہنم کے اندھیروں میں پڑا ہوگا وہ ابوجہل ہے اور دنیا میں کفر کی تاریکیوں اور آخرت میں جہنم کے اندھیروں سے وہ نکلنے ہی نہیں پاتا۔ جیسا کہ ابوجہل کو اپنے غلط اعمال وکردار اچھے معلوم ہوتے ہیں اسی طرح تمام کفار کو اپنے اعمال اچھے معلوم ہوا کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”او من کان میتا“۔ (الخ) ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ آیت حضرت عمر فاروق ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ نیز ابن جریر ؒ نے ضحاک ؒ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاّریاں کرتے رہیں۔ اور جو مکاّریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے اور (اس سے) بیخبر ہیں۔

(123) جیسا کہ ہم نے اہل مکہ میں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو استہزاء کرنے والا بنایا ہے، اسی طرح ہم ہر بستی میں ان کے سرداروں اور مالداروں کو پہلے مجرم بناتے ہیں تاکہ وہ وہاں گناہ اور فساد برپا کریں یا یہ کہ وہ انبیاء کرام کی تکذیب کریں اور جو کچھ وہ گناہ اور فساد برپا کرتے ہیں اس کا وبال بالآخر ان ہی کی جانوں پر پڑتا ہے۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ جس طرح کی رسالت خدا کے پیغمبروں کی ملی ہے جب تک اسی طرح کی رسالت ہم کو نہ ملے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کو خدا ہی خوب جانتا ہے کہ (رسالت کا کون سا محل ہے اور) وہ اپنی پیغمبری کسے عنایت فرمائے جو لوگ جرم کرتے ہیں ان کو خدا کے ہاں ذلّت اور عذاب شدید ہوگا۔ اس لیے کہ مکاّریاں کرتے تھے۔

(124) اور جس وقت ولید بن مغیرہ، عبد یا لیلی، ابی مسعودثقفی کے پاس کوئی آسمانی نشانی ان کے افعال کی خبر دہی کے لیے پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس نشانی پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ جیسا کہ محمد ﷺ کو کتاب دی گئی ہے۔ ہمیں بھی اس طرح کی کتاب نہ دی جائے، اس موقع کو تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کس کو اپنے پیغام کیلئے بطور رسول چنتا ہے اور کہاں بذریعہ جبرائیل امین اس نے وحی بھیجنی ہے (یہ خالص خدائی انتخاب ہوتا ہے) عنقریب یہ مشرکین یعنی ولید اور اس کے ساتھی تکذیب رسل کی وجہ سے ذلیل ورسوا ہوں گے۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

تو جس شخص کو خدا چاہتا ہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کریتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اس طرح خدا ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے عذاب بھیجتا ہے۔

(125) جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے دین کی دولت عطا کرنا چاہتے ہیں تو اس کا سینہ قبول اسلام کے لیے کشادہ کردیتے ہیں تاکہ وہ اسلام قبول کرے۔ اور جس کو گمراہ یا کافر ہی رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے سینہ کو تنگ اور بہت ہی تنگ کردیتے ہیں کہ اس کے دل میں نفوذ اور مجاز کے اعتبار سے بھی نور ایمانی کا کوئی شائبہ نہیں رہتا جیسا کہ کسی کو آسمان پر چڑھنے کے لیے مجبور کیا جائے۔ اسی طرح اس شخص کا سینہ اسلام کی طرف رہنمائی نہیں کرتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے، تکذیب ڈال دیتا ہے، پھر اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو ان کو عذاب دیتا ہے۔ اور یہ آپ کے پروردگار کا فیصلہ عدل والا ہے یا یہ کہ یہی آپ کے پروردگار کا صحیح راستہ اسلام ہے یا یہ کہ یہی آپ کے رب کا صحیح اور سیدھا دین ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے یعنی دین اسلام۔
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

(126) ہم نے بذریعہ قرآن حکیم اوامرو نواہی اور اہانت و کرامت کو ایسے لوگوں کیلیے بیان کردیا ہے جو نصیحت حاصل کرکے ایمان لائیں کہا گیا ہے۔ (آیت) ”فمن یرد اللہ ان یھدیہ“۔ (الخ) یہ آیت رسول اکرم ﷺ اور ابوجہل کے موازنہ میں نازل ہوئی ہے یا یہ کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی اور ان مومنین کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے، سلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے اور گھر سے مراد جنت ہے۔
Ayahs 6:127–128

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کیلئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا دوست دار ہے۔

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور جس دن وہ سب (جن وانس) جو جمع کریگا (اور فرمائے گا کہ) اے گروہ جناّت تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔ تو جو انسانوں میں ان کے) (دوست دار ہوں گے وہ کہیں گے کہ پروردگار ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے اور (آخر) اس وقت کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔ خدا فرمائے گا (اب) تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہو گے مگر جو خدا چاہے۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

(127۔ 128) اور یہ حضرات دنیا میں جو نیکیاں کیا کرتے تھے، اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ ان کو ثواب اور اعزاز عطا فرمائے گا، یعنی تمام جن وانس کو جمع کرکے جنات سے کہیں گے کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے اور جنات سے تعلق رکھنے والے لوگ جو کہ بڑے جنوں میں سے تھے جب کسی وادی میں اترتے تھے یا کسی مقام پر شکار کھیلتے تھے وہاں کے سرکش جنوں سے پناہ چاہتے تھے جس سے وہاں وہ امن میں کے ساتھ اپنا کام کرلیتے تھے اب کہیں گے ہمارے پروردگار ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا اور اسی دوران ہمیں موت آپہنچی۔ انسانوں کا نفع تو جنات سے مطمئن ہونا اور جنات کا نفع ان کی قوم پر شرافت و بزرگی کا حاصل ہونا ہے اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا اے گروہ جن وانس تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہوگے، آپ کا پروردگار حکیم ہے کہ ان کے لیے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا فیصلہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی سزا سے بخوبی واقف ہے۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے اعمال کے سبب جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے پر مسلط کردیتے ہیں۔

(129) اور اسی طرح ہم مشرکین کو دنیا وآخرت میں بعض کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے افعال واقول شرکیہ کی وجہ سے یا یہ کہ مشرکوں میں سے ایک کو ایک پر غلبہ دیں گے۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جن وانسانوں کی جماعت کیا تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے رہے جو میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سناتے اور اس دن کے سامنے آموجود ہونے سے ڈراتے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ (پروردگار) ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے۔ ان لوگوں کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا اور (اب) خود اپنے اوپر گواہی دی کہ کفر کرتے تھے۔

(130) تم لوگوں کے پاس کیا رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام نہیں آئے اور جنات کے پاس بالخصوص وہ نو حضرات نہیں آئے جو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر اپنی قوم کو عذاب الہی سے ڈرانے کے لیے گئے تھے اور بھی کہا گیا کہ جنات کی طرف بھی ایک نبی یوسف ﷺ بھیجے گئے تھے جو تمہیں پڑھ کر میرے اوامرو نواہی سناتے تھے اور اس دن کے عذاب سے تمہیں ڈراتے تھے، جن وانس جواب دیں گے، بیشک ان حضرات نے آپ کے احکامات ہم تک پوری طرح پہنچا دیئے تھے مگر ہم نے ان کا انکار کیا اور ان منکرین حق کو دنیاوی سازوسامان نے دھوکا میں ڈال رکھا ہے اور یہ لوگ آخرت میں اللہ کا عذاب سہیں گے کہ دنیا میں وہ کافر تھے ،
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

(اے محمد) یہ (جو پیغمبر آتے رہے اور کتابیں نازل ہوتی رہیں تو) اس لیے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم سے ہلاک کردے اور وہاں کے رہنے والوں کو کچھ بھی خبر نہ ہو۔

(131) اور یہ رسولوں کے بھیجنے کا سلسلہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا پروردگار کسی بستی والوں کو شرک و گناہ اور ظلم کی بنا پر اس حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ وہ اوامرو نواہی اور تبلیغ رسل سے بیخبر ہوں۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب لوگوں کے بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں۔

(132) جن وانس میں سے ہر ایک مومن کو ان کے خیر کی وجہ سے جنت میں درجات ملیں گے اور کافروں کو ان کی برائیوں کے باعث سزائیں دی جائیں اور خیر وشر سے آپ کا پروردگار غافل نہیں یا یہ کہ جو گناہ کرتے ہیں اس پر سزا اور گرفت کو وہ چھوڑنے والا نہیں۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےپروا (اور) صاحب رحمت ہے۔ اگر چاہے (تو اے بندو) تمہیں نابود کردے اور تمہارے بعد جن لوگوں کو چاہے تمہارا جانشین بنادے۔ جیسا تم کو بھی دوسرے لوگوں کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

(133) آپ کا پروردگار ان کے ایمان سے غنی (بےنیاز) ہے اور جو ایمان لائے اس سے عذاب کو موخر کرکے رحمت فرماتا ہے مکہ والو ! اگر وہ چاہیے تو تم سب کو ہلاک کردے اور تمہارے بعد دوسری قوم کو آباد کرے۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو وعدہ تم سے کیا جاتا ہے وہ (وقوع میں) آنے والا ہے اور تم (خدا کو) مغلوب نہیں کرسکتے۔

(134) عذاب یقیناً آنے والا ہے اللہ کے اس عذاب سے تم بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے جہاں بھی تم ہوگے وہ تمہیں پکڑ لے گا۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ لوگو ! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں۔ عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں (بہشت) کس کا گھر ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ مشرک نجات نہیں پانے کے۔

(135) محمد ﷺ آپ مکہ کے کافروں سے فرمادیجیے کہ تم اپنے گھروں میں اپنے دین پر رہ کر میری ہلاکت کی تدابیر کرتے رہو میں بھی عمل کررہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ جنت کس کو ملے گی، مشرک تو عذاب الہی سے کسی بھی طرح نجات نہیں پاسکتے۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصّہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصّہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا۔ تو جو حصّہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جاسکتا۔ اور جو حصّہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جاسکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے

(136) ان اونٹ گائے اور کھیتی میں سے ان لوگوں نے کچھ حصہ اللہ کے نام کا اور کچھ حصہ اپنے بتوں کے نام کا مقرر کیا ہے، پھر جو چیز ان کئے بتوں کی ہوتی ہے وہ اس حصہ کی طرف نہیں پہنچتی جو ان کے زعم میں اللہ کا ہے اور جو اللہ کا حصہ ہوتا ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتا ہے، اپنے لیے انہوں نے کیا ہی بدترین تجویز نکال رکھی ہے خود فریبی اور دلوں کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے ان کے قول وفعل کا یہ تضاد انہیں اچھا دکھائی دے رہا ہے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچّوں کو جان سے مار ڈالنا اچھّا کر دکھایا ہے۔ تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کردیں اور خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

(137) اسی طرح شیاطین نے ان کی لڑکیوں کے قتل کرنے کو مستحسن بنادیا ہے تاکہ وہ ان کو برباد کرے اور ان پر حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے دین کو مخلوط کردے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کو اپنا یہ طریقہ مستحسن نہ معلوم ہوتا اور نہ اس طرح یہ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کرتے (لیکن اللہ نے اپنی مشیت خاص کے تحت انہیں محدود اختیار دے رکھا ہے) اور جو کچھ یہ غلط باتیں بناتے ہیں کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے دفن کرنے کا حکم دیا ہے آپ انہیں ان کی حالت پر یوں ہی رہنے دیجیے ،
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چار پائے اور کھیتی منع ہے۔ اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا منع کردیا گیا ہے۔ اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے۔ سب خدا پر چھوٹ ہے۔ وہ عنقریب ان کو انکے جھوٹ کا بدلہ دیگا۔

(138) اور یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مخصوص مویشی مثلا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، اور حام کہ ان کا گوشت عورتوں کو کھانا حرام ہے ان کو صرف مرد ہی کھاسکتے ہیں اور ان کے زعم میں حام پر سواری حرام اور بحیرہ پر اللہ کا نام نہیں لیا جاتا، نہ بار برداری کرتے وقت اور نہ سوار ہوتے وقت سب کچھ یہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے کہ اس نے ہمیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچّہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے۔ اور اگر وہ (بچّہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں۔ (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکو سلو کی سزا دیگا۔ بیشک وہ حکمت والا خبردار ہے۔

(139) اور کہتے ہیں کہ بحیرہ اور وصیلہ کے پیٹ میں سے جو کچھ نکلے وہ صرف مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں پر حرام ہے، اور اگر وہ بچہ مردہ جنے یا جننے کے بعع مرجائے تو پھر اس کے کھانے میں مرد و عورت سب برابر شریک ہیں۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کو ان کی تجویز کی سزا دیتا ہے یا یہ کہ عمرو بن لحی نے جو تجویز ان کے لیے کی ہے اس کو رسول اکرم ﷺ نے جہنم میں اس طرح دیکھا کہ لکڑیوں کا اپنے پیچھے ایک گھٹہ رکھے ہوئے گھسیٹ رہا ہے یہ مشرک ان کے سامنے یہ تجاویز پیش کیا کرتا تھا، اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس نے تمہارے لیے تمہارے حلال کردہ کو حلال کیا ہے اور وہ شخص ان لغویات کے غلط ہونے سے آگاہ ہے۔
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بےوقوفی سے بےسمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کرکے اس کی عطا کی ہوئی روزی کو حرام ٹھہرایا ہو گھاٹے میں پڑگئے۔ وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔

(140) وہ لوگ خرابی میں پڑگئے جنہوں نے اپنی لڑکیوں کو اپنی حماقت کے سبب بلا کسی سند کے زندہ دفن کر ڈالا یہ آیت ربیعہ دنصر عرب کے بڑے قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ اپنے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے مگر بنی کنانہ والے ایسی حرکت نہیں کرتے تھے۔ اور جن جانوروں اور کھیتوں کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حلال کیا تھا انہوں نے اپنی عورتوں پر ان کو حرام کردیا، محض اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے طور پر اپنی باتوں سے خود ہی گمراہی میں پڑگئے اور ان غلط باتوں ہی کی وجہ سے یہ کبھی راہ پر چلنے والے نہیں ہوئے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (بعض باتوں میں) نہیں ملتے۔ جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ اور بےجا نہ اڑانا۔ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

(141) جس نے باغات پیدا کیے وہ بھی جو بغیرتنوں کے اونچی دیواروں وغیرہ پر پھیلائے جاتے ہیں جیسا کہ انگور وغیرہ اور وہ بھی جو خود تنوں پر کھڑے ہوتے ہیں یا یہ کہ ایسے باغات پیدا کیے جن کو زمین میں گاڑا جاتا ہے اور جن کو زمین میں نہیں گاڑا جاتا جن میں کھانے کی چیزیں مٹھاس اور کھٹاس کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں اور زیتوں اور انار کے درخت پیدا کیے جو رنگت اور منظر میں تو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن ذائقے میں مختلف ہوتے ہیں ایسے ہی کھجور کے پھل جب پک جائیں تو اسے کھاؤ اور اس کے ماپنے وپھل اتارنیکے دن جو شریعت کا حق ہو یا یہ کہ کاٹنے کے دن حق شرع کو ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مت خرچ کرو اور اپنے اموال کی اطاعت خداوندی سے مت روکو یا یہ کہ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، اور حام کو حرام مت سمجھو جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں یا یہ کہ جو مشرک ہیں ان کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، کہا گیا ہے کہ یہ آیت چابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی، انہوں نے اپنے ہاتھ سے پانچ سو کھجور کے درخت لگائے تھے اور سب کو تقسیم کردیا اور اپنے گھر والوں کے لیے کچھ بھی نہیں چھورا ،۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی۔ (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

(142) اور اس نے کچھ ایسے مویشی پیدا کیے جن سے بار برداری کا کام نکالا جاتا ہے، جیسے اونٹ اور بیل اور کچھ مویشی ایسے پیدا کیے جو بار برداری کے کام نہیں آتے، مثلا بکری وغیرہ، سوکھیتی، اور مویشی میں سے کھاؤ اور شیطانی وساوس سے کھیتی اور مویشی کو اپنے اوپر مت حرام کرو، وہ تمہارا صریح دشمن ہے جو کھیتی اور مویشی کے حرام کرنے کی تمہیں ترغیب کرتا ہے۔
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو) بھیڑوں میں سے اور دو (دو) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

(143) اور یہ جانور جن میں تم تحریم وتحلیل کررہے ہو، آٹھ نر و مادہ پیدا کیے، بھیڑ اور دنبہ میں دو قسم ایک نر دوسری مادہ اور اسی طرح بکری میں دو قسم نر و مادہ، محمد ﷺ آپ مالک سے کہیی کہ یہ تو بتلاؤ بحیرہ اور وصیلہ کو حرام کیا ہے تو نروں کے پانی کی وجہ سے ان کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کی وجہ سے یا اس بچہ پر دونوں مادہ کے اجتماع کی وجہ سے اسے حرام کیا ہے اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حرام کیا ہے تو میرے سامنے کوئی دلیل تو لاؤ۔
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو) اونٹوں میں سے دو (دو) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(144) اور اسی طرح اونٹ میں دو قسم نر و مادہ اور گائے میں دو قسم نر و مادہ پیدا کیے، آپ مالک سے دریافت کیجیے کہ بحیرہ اور وصیلہ کی حرمت دو نروں کے پانی کی وجہ سے ہوئی ہے یا دو مادہ کی بنا پر یا جس بچہ پر دونوں مادہ کا اجتماع ہوگیا ہے ، اور ایک تو جیہہ یہ ہے کہ کیا اس کی حرمت اس وجہ سے ہے کہ یہ نر کا بچہ ہے یا اس وجہ سے کہ مادہ کا بچہ ہے کیا تم اس وقت حاضر تھے کہ بقول تمہارے جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس تحریم وتحلیل کا حکم دیا۔ اس شخص سے زیادہ دلیر اور ظالم کون ہوگا جو لوگوں کو اطاعت خداوندی سے بےراہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ مشرکین کو اپنے دین اور حجت کی طرف راہنمائی نہیں کرتے یعنی مالک بن عوف یہ سن کر خاموش ہوگیا اور سمجھ گیا۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا گناہ کی کوئی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہے۔ (اور) اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

(145) اس کے بعد مالک بن عوف کہنے لگا کہ آپ ہی بتائیے پھر ہمارے آباؤ اجداد نے ان کو کیوں حرام کیا ہے اور آپ کی بات کو میں سنتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ فرما دیجیے کہ میں قرآن کریم میں تو کسی کھانے والے کے لیے کوئی حرام غذا نہیں پاتا، البتہ مردار کا گوشت اور بہتا ہوا خون وغیرہ یہ قطعی حرام ہیں یا جو جانور وغیرہ شرک کا ذریعہ ہو عمدا غیر اللہ کے نامزد کیا گیا ہو۔ پھر بھی جو شخص مردار کے کھانے کے لیے بھوک سے بیتاب ہوجائے اور طالب لذت نہ ہو اور بغیر سخت ضرورت کے مردار کے گوشت کو حلال نہ سمجھتا ہو اور نہ اسلام کے راستے پر چھوڑنے والا یعنی باغی نہ ہو اور نہ دانستہ بغیر سخت حاجت کے مردار کا گوشت کھانا چاہتا ہو تو ان سخت مجبوریوں میں وہ سیر ہو کر کھا بھی لے گا تو اللہ تعالیٰ غفور ہے اور بقدر حاجت کھائے گا تو وہ رحیم، باقی ایسی سخت مجبوری میں سیر ہو کر نہ کھانا چاہئے اور اگر کھالے گا تو اللہ تعالیٰ معاف فرماتے گا۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کے چربی حرام کو دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی ہو یا ہڈی میں ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

(146) اور یہود پر اس نے تمام شکاری پرندے اور درندے حرام کردیے تھے یا یہ کہ تمام ناخن والے جانور حرام کردیے تھے جیسا کہ اونٹ بطخ، مرغابی خوگوش وغیرہ اور گائے، بکری کی چربی ان پر حرام کردی تھی بجز اس چربی کے جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں پر ہو یا ہڈی سے لگی ہو وہ ان پر حلال تھی ان کے گناہوں کی وجہ سے بطور سزا کے ہم نے ان پر یہ حرام کردی تھی ،
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

(147) اے محمد ﷺ تحریم وتحلیل کے متعلق جو کچھ آپ نے ان سے بیان کیا ہے اگر آپ کی وہ تکذیب کریں تو فرمادیجئے کہ تمہارا رب رحمت والا ہے نیک وبد سے عذاب کو موخر کرتا ہے تاہم اس کا عذاب مشرکوں سے نہیں ٹلے گا ،
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو (ہم سب شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے۔ کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے ؟ (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو۔ تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہو۔

(148) یہ تو اس بات کے مدعی ہیں کہ کھیتی اور مویشی کی حرمت کا ہمیں حکم دیا گیا اور ہم پر یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں۔ جیسا کہ آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی اسی طرح اور رسولوں کی تکذیب کی گئی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھ لیا، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ اس تحریم کے تم جو دعویدار ہو اس پر ہی کوئی دلیل ہو تو ہمارے سامنے ظاہر کرو تم لوگ تو کھیتی اور مویشی کی حرمت میں محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم جھوٹ ہی بولتے ہو۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیدیتا۔

(149) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر تمہارے پاس تمہارے دعوے کے لیے کوئی دلیل نہیں تو پھر پوری اور اعتماد والی قطعی بات تو اللہ ہی کی رہی۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آکر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

(150) آپ فرمائیے کہ اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے گواہ لاؤ، سو اگر وہ ان چیزوں کی حرمت پر جھوٹی گواہی دیں تو آپ اس کی سماعت نہ فرمائیے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بد سلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (کیونکہ) تم کو اور ان کو ہمیں رزق دیتے ہیں۔ اور بےحیائی کا کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اور کسی جان (والے کو) جس کے قتل کو خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا۔ مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں تاکید فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

(151) اے محمد ﷺ آپ مالک بن عوف اور اس کے ساتھیوں سے فرمائیے آؤ میں تمہیں وہ کتاب پڑھ کر سناؤں جو مجھ پر نازل کی گئی ہے جس میں حرام چیزوں کا ذکر ہے ان میں سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بتوں میں سے کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور فاقہ اور ذلت کے خوف سے اپنی لڑکیوں کو مت مارو، ہم تمہاری اور تمہاری اولاد کے بھی رازق ہیں اور زنا اور کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت مت کرو۔ اور سوائے قصاص، رجم اور ارتداد کے کسی کو ناحق قتل مت کرو، یہ وہ باتیں ہیں جن کا تمہیں کتاب خداوندی میں حکم دیا گیا ہے تاکہ تم اس کے حکم اور اس کی توحید کو سمجھو۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

(152) اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اس کی حفاظت اور نفع کے لیے تاوقتیکہ وہ سن بلوغت اور رشد و عقل کو نہ پہنچ جائے اور ماپ و تول کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو کیوں کہ ماپ و تول میں اس کے امکان سے زیادہ تمہیں تکلیف نہیں۔ جب کوئی بات کہو تو انصاف کا خیال کرو، خواہ کوئی رشتہ دار ہی ہو تب بھی سچ اور صحیح بول اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کرو اسے پورا کیا کرو، ان باتوں کا کتاب اللہ میں تمہیں حکم دیا گیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ،
Ayah 6:153

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

(153) دین اسلام بالکل سیدھا پسندیدہ راستہ ہے، اس پر چلو اور یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت کا اتباع مت کرو کہ کہیں یہ رہیں تمہیں دین خداوندی سے بےراہ کردی، ان باتوں کا تمہیں کتاب میں تاکیدی حکم دیا گیا ہے تاکہ تم دوسرے غلط راستوں سے بچو۔
Ayah 6:154

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کردیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکا یقین کریں۔

(154) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو توریت دی جس میں اوامر نواہی، وعدہ وعید، ثواب و عقاب سب باتیں احسن طریقہ پر موجود تھیں، یا یہ کہ جو کہ حضرت موسیٰ ؑ پر احسان اور ان کے پروردگار کی رسالت کی تبلیغ تھی اور حلال و حرام میں سے ہر ایک چیز کا اس میں بیان موجود تھا اور مومن کے لیے عذاب الہی سے رحمت کا باعث تھی، تاکہ یہ لوگ بعث بعدالموت کی تصدیق کریں۔
Ayah 6:155

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

(155) اور یہ قرآن حکیم جس کو ہم نے بذریعہ جبریل امین ؑ نازل کیا ہے یہ کتاب اس پر ایمان لانے والے کے لیے رحمت ومغفرت کا باعث ہے۔ لہذا اسی کی حلال و حرام چیزوں اور اسی کے اوامر ونواہی کی پیروی کرو اور دوسری غلط چیزوں سے بچو تاکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جس کی وجہ سے تم پر عذاب نازل نہ ہو۔
Ayah 6:156

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور اس لئے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دوہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں۔ اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بیخبر تھے۔

(156) اور یہ اس لیے نازل ہوئی تاکہ قیامت کے دن مکہ والوتم یوں نہ کہنے لگو کہ اہل کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے یہودی و عیسائی تھے، ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم تو توریت وانجیل کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر تھے۔
Ayah 6:157

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے راستے پر ہوتے۔ سو تمہارے پس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان کے (لوگوں کو) پھیرے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزادیں گے۔

(157) یا قیامت کے دن یوں نہ کہنے لگو کہ جیسا کہ یہود و نصاری پر کتاب نازل ہوئی اگر ہماری طرف نازل کی جاتی تو ہم بہت جلد رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہتے اور ان سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، لہٰذا تمہارے پاس کتاب اور رسول دونوں چیزیں آچکی ہیں جو ہدایت و رحمت کا ذریعہ ہیں۔ سو اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور جھوٹا کون ہوگا جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کو جھٹلائے اور ان سے اعراض (بےتوجہی) کرے ہم ایسے آدمیوں کو جو قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ سے اعراض کرتے ہیں ان کے اس اعراض کی وجہ سے سخت ترین سزادیں گے۔