6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 6:81

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکہ ڈروں جبکہ تم اس نے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

(81) تو پھر میں ان معبودان باطل سے کیا ڈروں، حالانکہ تم تو اللہ تعالیٰ سے بھی نہیں ڈرتے، حضرت ابراہیم ؑ کی قوم ان کو اپنے معبودان باطل کے انکار پر ڈراتی تھی کہ کہیں یہ تمہیں کسی آفت میں مبتلا نہ کردیں، اسی بنا پر حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میں ان سے کیوں ڈروں، ان دونوں جماعتوں میں سے یعنی میرے اور تمہارے میں سے اپنے معبود کی جانب سے امن کا کون زیادہ مستحق ہے۔
Ayah 6:82

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

(82) اگر خبر رکھتے ہو تو بتلاؤ مگر وہ کچھ بھی نہ بتلا سکے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے امن والی جماعت کو بیان فرما دیا کہ جو اپنے ایمان کو شرک ونفاق کے ساتھ نہیں ملاتا، وہ ہی اپنے معبود کی جانب سے امن والے ہیں، یا وہی لوگ قیامت کے دن امن والے ہوں گے اور ان ہی کو صحیح محبت کی طرف رہنمائی حاصل ہوگی۔ شان نزول : (آیت) ”الذین امنوا ولم“۔ (الخ) اب ابی حاتم ؒ نے بواسطہ عبداللہ بن زجر، بکربن سوادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ دشمنوں کے ایک شخص نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک کو شہید کردیا اور پھر دوبارہ حملہ کرکے دوسرے کو شہید کردیا اور تیسری مرتبہ حملہ کیا تو تیسرے شخص کو بھی شہید کردیا، اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ ان افعال کے بعد اب کیا ایمان مجھے سود مند ہوگا، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، ہاں فائدہ دے گا تو اس نے اپنے گھوڑے کو مار ڈالا اور اس کے بعد اپنے ساتھیوں پر حملہ کرکے یکے بعد دیگرے تین آدمیوں کو ہلاک کردیا اور پھر خود بھی شہید ہوگئے راوی کہتے ہیں، سب کا یہی خیال ہے کہ یہ آیت ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم ؑ کو انکی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

(83) یہ ہماری حجت تھی جو غیبی طور پر ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو دی جس کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا اور ہم تو قدرت منزلت اور حجت اور علم توحید جیسے امور میں جو اس کا اہل ہوتا ہے، اسے یہ فضائل عطا کردیتے ہیں اور آپ کا پروردگار اپنے اولیاء کو حجت کا الفاظ فرمانے میں حلیم اور اپنے اولیاء کی حجت اور اپنے دشمنوں کی سزا کے بارے میں خوب جاننے والا ہے۔
Ayahs 6:84–86

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ بخشے (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح ؑ کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان ؑ اور ایوب ؑ اور یوسف ؑ اور موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی۔ یہ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا ؑ اور یحیٰی ؑ اور عیسیٰ ؑ اور الیاس ؑ کو بھی۔ یہ سب نیکو کار تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل ؑ اور الیسع ؑ اور یونس ؑ اور لوط ؑ کو بھی اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

(84۔ 85۔ 86) اور حضرت ابراہیم ؑ کو ہم نے لڑکا اور پوتا دیا اور ابراہیم ؑ واسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کو نبوت واسلام کے ساتھ اعزاز عطا کیا اور ابراہیم ؑ سے پہلے نوح ؑ کو بھی نبوت واسلام کے ذریعے اعزاز عطا کیا اور ان کی اولاد میں سے بھی یا یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے بھی اخیر تک اور داؤد ؑ سلیمان ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ ہارون ؑ سب کو ہم نے نبوت واسلام عطا کیا، اسی طرح قول وفعل کے ساتھ ہم محسنین یا یہ کہ موحدین کو بدلا دیتے ہیں اور زکریا ؑ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ الیاس ؑ سب ہی کو نبوت واسلام کی دولت عطا کی اور یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھے اور سب ہی رسول تھے۔ اور ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام جہان والوں پر خواہ مسلمان ہوں یا کافر، نبوت واسلام کے ذریعے فضیلت عطا کی ہے۔
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا اور سیدھا راستہ بھی دکھایا تھا۔

(87) اور ہم نے حضرت آدم ؑ شیث ؑ ادریس ؑ نوح ؑ ھود ؑ صالح ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد اور یوسف ؑ کے بھائیوں کو نبوت واسلام کے ذریعے فضیلت عطا کی ہے اور ہم نے انکو مقبول بنایا اور صراط مستقیم پر ثابت قدمی عطا کی۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شریک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔

(88) یہ صراط مستقیم دراصل اللہ کا دین ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، اس کو وہ عطا کرتا ہے اور اگر بالفرض یہ حضرات انبیاء اللہ کے ساتھ شرک کرتے تو ان کی تمام فرمانبرداری برباد ہوجاتی۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفّار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کیلئے) ایسے لوگ مقّرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنیوالے نہیں۔

(89) جن انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ہم نے ذکر کیا ہے یہ ایسے تھے کہ بذریعہ جبریل امین ؑ آسمان سے ان پر کتاب نازل کی اور علم وفہم اور نبوت عطا کی اس کے باوجود بھی یہ اہل مکہ اگر آپ کے دین اور نبوت کا انکار کریں تو ہم نے مدینہ منورہ میں ایسے لوگ مقرر کردیے ہیں جن کو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے دین اور ان کے راستہ کی توفیق عطا فرمائی ہے اور وہ اس کے منکر نہیں۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدیات دی تھی تو تم انھی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے محض نصیحت ہے۔

(90) ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اخلاق حسنہ کی ہدایت کی تھی تو ان اخلاق حسنہ یعنی صبر و استقلال قناعت وغیرہ پر آپ بھی چلیے اور اے محمد ﷺ آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ میں توحید اور قرآن کریم پر تم سے کسی قسم کی اجرت طلب نہیں کرتا بلکہ قرآن کی طرف بلاتا ہوں یہ قرآن کریم تو جن وانس کے لیے ایک نصیحت ہے۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ ؑ لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ اور جسے تم نے علیٰحدہ علیٰحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے۔ ان (کے کچھ حصّے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

(91) ان منکر لوگوں نے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی قدر پہچاننا واجب تھی دیسی قدر نہ پہچانی اور کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام میں سے کسی پر کوئی کتاب نازل نہیں کی، یہ آیت مالک بن صیف یہودی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی کتاب نازل نہیں کی۔ اے محمد ﷺ آپ مالک سے فرمائیے یہ تو بتا کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ ؑ لائے تھے جو خود بھی نور اور روشنی ہے اور لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جس کو تم نے اپنی اغراض کے تحت مختلف اوراق میں لکھ چھوڑا ہے، ان میں سے بہت سی باتوں کو جن میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت نہیں ہے، ظاہر کرتے ہو اور بہت سی ان باتوں کو جن میں آپ کی نعت وصفت ہے چھپاتے ہو۔ اور کتاب میں بہت سی ایسی باتوں کی تعلیم دی گئی، مثلا احکام وحدود حلال و حرام اور رسول اکرم ﷺ کی تعریف وصفت جن کی اس سے پہلے تمہیں اور تمہارے بڑوں کو کچھ بھی خبر نہیں تھی، سو اگر یہ آپ کو جواب میں کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ یہ کتاب حق بھی اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے اور اس کے بعد ان کو ان کے بیہودہ مشغلہ تکذیب وگمراہی میں لگا رہنے دیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”وما قدرو اللہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ مالک بن صیف نام ایک یہودی نے آکر رسول اکرم ﷺ سے مخاصمہ کرنا شروع کردیا، رسول اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میں تجھے اس ذات کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں جس نے توریت حضرت موسیٰ ؑ پر نازل کی ہے کیا تو نے توریت میں یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ موٹی آدمی سے بغض فرماتے ہیں اور وہ خود موٹا تھا یہ سن کر غصہ میں آگیا اور کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی تو اس سے اس کے ساتھیوں نے کہا کہ تیرا منہ کالا ہو۔ (یعنی تو رسوا ہو) اس کا مطلب ہے کہ نہ حضرت موسیٰ پر کوئی کتاب نازل ہوئی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان منکروں نے اللہ تعالیٰ کی جیسی قدر پہچاننا واجب تھی ویسی قدر نہیں پہچانی، یہ روایت مرسل ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے اسی طرح عکرمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے اور دوسری حدیث سورة نساء میں گزر چکی ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے ابن ابی طلحہ ؓ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودی کہنے لگے اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے آسمان سے کوئی کتاب نازل نہیں کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

(92) اور یہ قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ہم نے نازل کیا ہے جو مومن کے لیے رحمت ومغفرت کا باعث ہے اور توریت، انجیل، زبور اور تمام کتب سماویہ کو بیان اور توحید اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں موافقت کرنے والا ہے تاکہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعے خصوصیت کے ساتھ مکہ والوں اور تمام شہر والوں کو ڈرائیں مکہ کو ام القری اس کی عظمت کی بنا پر کہنے لگا جاتا ہے یا یہ کہ تمام زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی ہے، اس لیے اس کو ام القری (تمام شہروں، بستیوں کی ماں) کہتے ہیں۔ اور جو لوگ بعث بعد الموت اور جنت کی نعمتوں پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایسے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لے آتے ہیں، اور پانچوں نمازوں کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (انکی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں۔ کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

(93) اس شخص سے زیادہ سرکش اور دلیر کون ہوگا جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائے، جیسا کہ مالک بن صیف کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی چیز کی بھی وحی نہیں آئی۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب (جھوٹا نبی) اور اسی طرح عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کہتا ہے کہ میں بہت جلد وہی باتیں بیان کروں گا جو رسول اکرم ﷺ بیان کرتے ہیں، محمد ﷺ آپ بدر کے دن ان منافقوں مشرکوں کو دیکھیں جب کہ یہ موت کی سختیوں اور نزع کے عالم میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھوں کو ان کی ارواح پر مارتے اور کہتے ہوں گے کہ اپنی روحوں کو نکالو، بدر کے دن یا قیامت کے دن تمہیں ذلت کی سزا دی جائے گی، اس لیے کہ تم دنیا میں جھوٹی باتیں بناتے تھے اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرتے تھے۔ شان نزول : (آیت) ومن اظلم ممن افتری“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب (جھوٹے نبی) کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور (آیت) ”ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ“۔ (الخ) یہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، نیز سدی سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ کہتا تھا کہ اگر محمد ﷺ کے پاس وحی آتی ہے، تو میرے پاس بھی وحی آتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ آپ پر کتاب نازل کرتا ہے تو میرے پاس بھی ویسی ہی کتاب نازل ہوتی ہے۔
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال و متاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے شفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

(94) بغیر مال واولاد کے خالی ہاتھ آگئے، جیسا کہ دنیا میں بغیر مال و اولاد کے تمہیں پیدا کیا تھا اور جو ہم نے تمہیں دیا تھا، اسے دنیا ہی میں پیچھے چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے بتوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو تم سفارشی اور ہمارے شریک جانتے تھے، حقیقتا تمہاری دوستی اور محبت کا خاتمہ ہوگیا اور تمہارے وہ معبود جن کی تم پوجا کیا کرتے تھے اور ان کے سفارشی ہونے کا دعوی کرتے تھے وہ سب تم سے گئے گزرے۔ شان نزول : (آیت) ”ولقد جئتمونا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نضر بن حارث نے کہا کہ عنقریب لات وعزی سفارش کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فمرائی کہ تم ہمارے پاس تنہا تنہا آؤ گے۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ (کر ان سے درخت وغیرہ اگاتا) ہے۔ وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جان دار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

(95) یعنی اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دانوں کا پیدا کرنے والا ہے یا یہ کہ ان چیزوں کا خالق ہے جو دانوں اور گٹھلیوں میں ہے وہ گوشت کے لوتھڑے اور جانوروں کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے پرندوں کو انڈے سے یا یہ کہ پھلوں اور بالوں کی گٹھلی اور دانہ سے جس کو ان تمام باتوں پر قدرت ہے وہی اللہ ہے اللہ ایسا نہیں کرتے تو پھر تم جھوٹ کیوں بولتے ہو۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھیرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔

(96) وہ صبح کا پیدا کرنے والا ہے، اس نے رات کو تمام مخلوق کے آرام کے لیے بنایا ہے۔ اور سورج اور چاند کو اپنے منازل میں حساب کے ساتھ رکھا ہے یا یہ کہ وہ دونوں آسمان و زمین کے درمیان معلق ہیں، دائروں میں گردش کرتے رہتے ہیں، یہ تدبیر اس ذات کی ہے پھر بھی جو اس پر ایمان نہ لائے وہ اسے سزا دینے پر قادر ہے اور وہ اپنی ٹھہرائی ہوئی چیزوں اور مومن و کافر کو بخوبی جاننے والا ہے۔
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

(97) اور جب تم خشکی یا تری میں سفر کرو تو اس نے تمہاری آسانی کے لیے تاکہ تم پریشان کن اور تاریک راستہ معلوم کرسکو، ستاروں کو پیدا کیا ہے، ہم نے قرآن اور دلائل توحید مومنین کے لیے بیان کیے ہیں جو اس بات کا کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

(98) اور اسی ذات نے تمہیں ایک شخص آدم ؑ سے پیدا کیا، اس کے بعد ماؤں کے رحموں میں زیادہ دیر تک اور باپ کی پشت میں کم وقفہ تک یا اس کے برعکس ٹھہرایا، ہم ان دلائل کو کھول کھول کر ان لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں جو حکم خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھتے ہیں۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برستا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینہ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزوں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) انکے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(99) اسی ذات نے بارش برسا کر مختلف قسم کے دانے نکالے اور پھر بارش ہی کے ذریعے زمین سے سبز شاخ نکالی جس سے وہ دانے نکالتی ہے اور وہ ذات کھجور کے گچھوں میں سے خوشے نکالتی ہے جو بوجھ کی وجہ سے نیچے لٹک جاتے ہیں کہ کھڑا اور بیٹھا ہوا ہر ایک اس میں سے توڑ سکتا ہے اور اسی پانی سے انگوروں کے باغ اور زیتوں وانار کے درخت پیدا کیے جو رنگت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں مگر مزے میں مختلف ہوتے ہیں، ہر ایک پھل کے پھلنے اور اس کے پکنے کو دیکھو، ان رنگتوں کے اختلاف میں ایسی قوم کے لیے دلائل توحید ہیں جو اس اللہ کی جانب سے ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کے نسبت بیان کرتے ہے پاک ہے۔ اور (اسکی شان ان سے) بلند ہے۔

(100) گمراہ لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس لعین دونوں خدائی میں شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ انسانوں جانوروں اور چوپایوں کا خالق ہے اور شیطان سانپ بچھو اور درندوں کو پیدا کرتا ہے یہی چیز آتش پرست کہتے ہیں۔ حالانکہ ان سب کو خود اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان کو توحید کا حکم دیا ہے اور ان مشرکین میں سے یہود ونصاری اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور مشرکین عرب فرشتوں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں، حالانکہ اس کے لیے نہ ان کے پاس کچھ صحیح علم ہے اور نہ کوئی دلیل ہے، اس کی ذات شریک اور ولد سے پاک اور بیٹوں اور بیٹیوں سے منزہ ہے۔
Ayahs 6:101–102

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا (ہے) اس کے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

(101۔ 102) وہ ذات تو آسمان و زمین کو پیدا کرنے والی ہے، اللہ کے اولاد کہاں ہوسکتی ہے، حالانکہ کہ اس کے کوئی بی بی تو ہے نہیں، تمہارا پروردگار یہ ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔ اسی کی توحید بیان کرو، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک مت ٹھہراؤ وہ تمام مخلوق کا کارساز ہے یا یہ کہ ان کی روزیوں کا کار ساز ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔

(103) اس کو تو کسی کی نگاہ دنیا میں از روئے رؤیت اور آخرت میں بااعتبار کیفیت کے محیط نہیں ہوسکتی اور نگاہوں کی پرواز وہاں تک نہیں ہوسکتی اور وہ دنیا و آخرت میں سب نگاہوں کو محیط ہوجاتا ہے، اس پر مخلوق کی کوئی چیز بھی خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ مخفی نہیں، وہ اپنے افعال میں بڑا باریک بین ہے، اس کا علم اس کی مخلوقات پر نافذ ہے اور اپنی مخلوق اور ان کے اعمال سے بڑا باخبر ہے یہ اس کے وہ کمالات ہیں جو اس کے سوا کسی میں اس طرح نہیں۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ) تم تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (انکی آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

(104) قرآن حکیم اور اس کا بیان تمہارے پاس پہنچ چکا ہے، اب جو اس کا اقرار کرے گا، اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو انکار کرے گا، اس کی سزا اسی کو ملے گی اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

(105) ہم ان لوگوں کے لیے توحید کے دلائل طریقہ سے بیان کرتے ہیں تاکہ منکرین یہ نہ کہہ سکیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے یا منکرین یہ نہ کہہ سکیں کہ ان باتوں کو آپ نے خود بنا لیا ہے یا ابی فکیھتہ مولی قریش سے پڑھ لیا ہے کہ یہ منکریہ نہ کہہ سکیں کہ جبر ویسار مولی قریش سے انہوں نے سیکھ لیا ہے اور اگر درست تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ ہم ان دلائل کو ان حضرات کے لیے جو منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں خوب ظاہر کردیں۔
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارا کرلو۔

(106) آپ اس طریقہ پر چلتے رہیے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن حکیم کے حلال حرام پر عمل کرتے رہیے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے اور نہ رازق ہے۔
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ !) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے دروغہ ہو۔

(107) اور ان مذاق اڑانے والوں کا خیال نہ کیجیے ان میں ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، اسود بن عبد یغوث، اسود بن حارث اور حارث بن قیس اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور آپ ان کے نگران اور مختار نہیں ہیں۔
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُنکی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ ان کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

(108) کیوں کہ یہ لوگ حد سے گزر کر غصہ میں آکر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے، اس سے پہلے ان مشرکوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ تم اور تمہارے معبودان باطل سب دوزخ کا ایندھن ہیں، مگر اس حکم کو ایک حکمت خاص کے سبب آیت قتال نے منسوخ کردیا جیسا کہ ہم نے ان لوگوں کو ان کا دین وعمل مرغوب بنا رکھا ہے اسی طرح ہر ایک طریقہ والے کو ان کا عمل اور طریقہ مرغوب بنارکھا ہے، مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو جتلا دے گا، جو کچھ یہ کرتے تھے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تسبوا الذین“۔ (الخ) حافظ عبدالرزاق ؒ نے بواسطبہ معمر ؒ ، قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ مسلمان کفار کے بتوں کو برا بھلا کہتے تھے تو کفار غصہ میں آکر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کو برا مت کہو جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو سب خدا ہی کے پاس ہیں۔ اور (مومنو !) تمہیں کیا معلوم ہے (یہ تو ایسے بدبخت ہیں کہ انکے پاس) نشانیاں آبھی جائیں تب بھی ایمان نہ لائیں

(109) ان مشرکوں میں سے جب بھی کوئی قسم کھاتا ہے تو بڑا زور لگا کر قسم کھاتا ہے کہ اگر ہماری فرمایش کردہ نشانی میں سے کوئی نشانی آجائے تو ہم اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے، محمد ﷺ آپ ان ہنسی اڑانے والوں سے فرما دیجیے کہ سب نشانیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں اور اے ایمان والوں تم حقیقت کو نہیں جانتے ہمیں خبر ہے جب ان کی فرمایش کردہ نشانی بھی آجائے گی تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ شان نزول : (آیت) واقسموا باللہ جہد ایمانھم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے رسول اکرم ﷺ سے گفتگو کی اور بولے اے محمد ﷺ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس عصا تھا جسے وہ پتھر پر مارتے تھے اور حضرت عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے اور قوم ثمود کے پاس اونٹنی تھی، لہٰذا آپ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لے کر آئیے تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم کون سی چیز پسند کرتے ہو، جسے میں تمہارے پاس لے کر آؤں وہ بولے اس صفا پہاڑی کو سونے کا کردیجیے، آپ نے فرمایا اگر میں نے سونے کا کردیا تو تم میری تصدیق کرو گے، قریش نے کہا ہاں ! اللہ کی قسم۔ چناچہ رسول اکرم ﷺ نے دعا کی، آپ کے پاس جبریل امین ؑ تشریف لائے اور عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو اللہ جل شانہ صفا پہاڑی کو سونے کا کردیں لیکن انہوں نے اس کے باوجود بھی تصدیق نہیں کی تو ہم ان کو عذاب دیں گے۔ اور اگر آپ چاہیں تو چھوڑ دیں جس کو توبہ کرنا ہو وہ کرے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے اور انکو چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں

(110) اور ہم بھی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو پھیردیں گے جیسا کہ یہ قرآن کریم پر جو کہ پہلا عظیم الشان معجزہ ہے نبی اکرم ﷺ کے خبر دینے پر بھی ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں اندھے سرگرداں رہنے دیں گے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیتے اور مردے بھی ان سے گفتگو کرنے لگتے اور ہم سب چیزوں کو انکے سامنے لاموجود بھی کردیتے تو بھی ایمان لانے والے نہ تھے الاّ ماشاء اللہ۔ بات یہ ہے کہ یہ اکثر نادان ہیں۔

(111) اور اگر ہم ان منکریں کے پاس ان کے مطالبہ کے مطابق فرشتوں کو بھیج دیتے اور قبروں سے مردے نکل کر ان سے کہنے لگتے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور قرآن حکیم کلام ربی ہے اور ہم تمام چرندوں اور پرندوں کو ان کے سامنے لا کر کھڑا کردیتے اور جس بات کے یہ منکر ہیں اس کی سچائی کی گواہی دیتے مگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، ماسوا یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا تھا وہ دھوکا دینے کے لئے ایک دوسرے کے دل میں ملمّع کی باتیں دالتے رہتے تھے۔ اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو اور جو کچھ یہ افترا کرتے ہیں اسے چھوڑ دو۔

(112) اور جیسا کہ ابوجہل اور دوسرے مشرکین آپ کے دشمن ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہر ایک نبی کے دشمن بہت سے شیاطین پیدا کیے تھے جن میں سے کچھ آدمی تھے اور کچھ جن، جن میں سے بعض یعنی ابلیس دوسرے بعض کافروں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ انسانوں کو دھوکا میں ڈال دیں، لہٰذا آپ بھی ان استہزاء کرنے والوں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں کو ان کے حال پر رہنے دیجیے۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور (وہ ایسے کام) اس لیے بھی (کرتے تھے) کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ان کی باتوں پر مائل ہوں اور وہ انھیں پسند کریں اور جو کام وہ کرتے تھے وہی کرنے لگیں۔

(113) کفار یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان چکنی چپڑی باتوں کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوجائیں جو بعث بعد الموت پر ایمان نہیں رکھتے اور شیاطین سے وہ باتوں کو قبول کرلیں تاکہ مرتکب ہوجائیں ان امور کے جن کے وہ پہلے کفار مرتکب ہوئے تھے۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

(کہو) کیا میں خدا کے سوا اور منصف تلاش کروں ؟ حالانکہ اس نے تمہاری طرف واضح المطالب کتاب بھیجی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق نازل ہوئی ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

(114) جو مقدمہ رسالت میں اختلاف ہے تو کیا میں اس میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے علاوہ اور کسی کا فیصلہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہارے نبی پر ایک کامل کتاب جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی ہے اور ایک ایک آیت جدا ہے نازل کردی ہے۔ اور جن حضرات کو ہم نے توریت کا علم دیا ہے وہ اپنی کتاب میں اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم آپ کے پروردگار کی طرف سے اوامرو نواہی کے ساتھ نازل کیا گیا ہے یا یہ کہ بذریعہ جبریل امین ؑ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر قرآن کریم واقعیت کے ساتھ بھیجا گیا ہے، سو آپ اس چیز کا ہرگز شک نہ کریں کہ یہ اس کی سچائی سے بیخبر ہیں۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار کی باتیں سّچائی اور انصاف میں پوری ہیں۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور وہ سنتا ہے ، جانتا ہے۔

(115) قرآن کریم اور اس میں مذکور اوامرو نواہی واقعیت اور اعتدال کے اعتبار سے کامل ہیں اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کا شک نہیں یا یہ کہ آپ کے پروردگار کی مدد اس کے اولیاء کے ساتھ ضروری ہے اس طرح کہ ان کے اقوال میں سچائی اور افعال میں استدلال ہوگا۔
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں (گمراہ ہیں) اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں خدا کا راستہ بھلا دیں گے۔ یہ) (محض خیال کے پیچھے چلتے اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔

(116) اور اس نصرت خداوندی کو جو اس کے اولیاء کے لیے اس کی طرف سے آتی ہے اس میں کوئی تبدیل کرنے والا نہیں یا یہ کہ آپ کے پروردگار کا دین بندوں کے بندوں کے سامنے اس بات کی سچائی کے ساتھ ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ دین الہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے حکم سے ظاہر ہوگیا کہ اس کے دین میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی کرنے والا نہیں اور وہ سب کی باتیں سننے والا اور سب کے افعال سے باخبر ہے۔ رؤساء اہل مکہ جن میں سے ابوالاحوص، مالک بن عوف، بدیل بن ورقاء اور جلیس بن ورقاء ایسے ہیں کہ اگر آپ ان لوگوں کا کہنا مان لیں تو دین الہی سے حرم تک میں بےراہ کردیں اور وہ محض بےبنیاد خیالات پر چلتے ہیں، اور مسلمانوں سے محض خیالی باتیں کرتے ہیں کہ مثلا تم جو اپنی چھریوں سے جانور ذبح کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذبح کردہ بہتر ہے۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

تمہارا پروردگار ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چل رہے ہیں۔

(117) اللہ تعالیٰ اس راہ سے بھٹکے ہوؤں کو اور سیدھے رستے پر چلنے والوں یعنی اصحاب رسول اکرم ﷺ کو اچھی طرح جانتا ہے۔