6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

(41) بلکہ تم تو اس وقت خاص اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو گے تاکہ تم سے عذاب دور ہو اور ہرگز انکو نہیں پکارو گے لہٰذا جن بتوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو، ان سب کو بھلا دو۔
Ayahs 6:42–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

(42۔ 43) جیسا کہ آپ کو آپ کی قوم کی طرف ہم نے بھیجا، چناچہ جو ایمان نہیں لائے تو ان میں سے بعض کو بعض کا خوف دلا کر اور مصیبتوں اور بیماریوں، تکالیف اور آزمائشوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ اللہ کے حضور دعا کریں اور ایمان لائیں کہ پھر ان سے عذاب کو دور کیا جائے تو پھر کیوں نہیں وہ ہمارے عذاب پر ایمان قبول کرتے لیکن ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دل سخت ہوگئے تو دنیا کی حالت یہی ہے کبھی سختی تو پھر کبھی خوشحالی۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

(44) چناچہ جب انہوں نے ان تمام احکامات کو جن کا کتاب میں حکم دیا گیا تھا، چھوڑ دیا تو ان پر عیش و عشرت کے سامان فراخ ہوگئے جب وہ دنیا کے عیش و عشرت اور ہر قسم کی نعمتوں میں مست ہو کر رب ذوالجلال کو بھول گئے تو اس وقت ان کو عذاب نے آگھیرا اور وہ بھلائی سے مایوس ہوچکے تھے۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

(45) نتیجتا مشرک لوگوں کو نیست ونابود کردیا گیا، آپ ان کے نیست ونابود ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کیجیے۔
Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

(46) مکہ والو بتلاؤ تو سہی کہ اگر تم نصیحت اور ہدایت کی بات نہ سن سکو اور حق کے راستہ کو نہ دیکھ سکو اور حق وہدایت کے سمجھنے کی بھی تم میں قوت نہ رہے تو کیا تمہارے یہ بت اللہ تعالیٰ کی یہ لی ہوئی نعمتیں تمہیں دے دیں گے ؟ محمد ﷺ دیکھیے، ہم احکام قرآن مجید کو کس طرح ان کے لیے کھول کھول کے بیان کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود یہ اعراض کرکے آیات خداوندی کی تکذیب کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

(47) مکہ والو بتلاؤ تو کہ اگر بیخبر ی یا تمہاری خبرداری میں تم پر عذاب الہی آپڑے، تو کیا گناہگاروں یا مشرکوں کے علاوہ اور کوئی ہلاک ہوگا ؟
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

(48) اور انبیاء کرام مومنین کو جنت کی بشارت دینے والے اور کافروں کو جہنم سے ڈرانے والے ہیں، لہٰذا جو شخص رسولوں اور کتابوں پر ایمان لایا اور حقوق اللہ کو ادا کیا تو جس وقت دوزخ والوں کو ڈرایا جائے گا اور اہل دوزخ غمگین ہوں گے تو ان کے مقابلے میں اہل ایمان پر کسی قسم کا خوف وحزن نہیں ہوگا۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

(49) اور جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں تو ان کے اس انکار کی وجہ سے اللہ کا عذاب انہیں آگھرے گا۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(50) محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ نہ میرے پاس سبزیوں اور پھلوں، بارشوں اور عذاب الہی کے خزانے کی کنجیاں ہیں اور نہ میں عذاب کے نزول کے وقت سے آگاہ ہوں اور نہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف وہی کرتا یا کہتا ہوں جس کا مجھے بذریعہ وحی حکم دیا جاتا ہے۔ اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے یہ بھی فرمادیجیے، کیا مومن و کافر ثواب اور انعام میں برابر ہیں، پھر بھی یہ قرآن کی مثالوں پر غور نہیں کرتے۔ (آیت) ”قل لااقول لکم“۔ یہ آیت کریمہ یہاں تک ابوجہل اور حارث وعینیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

(51) یہ آیات مسلمان غلاموں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں یعنی ایسے لوگوں کو جو جانتے ہیں یا بعث بعد الموت پر یقین رکھتے ہیں، جن میں حضرت بلال بن رباح ؒ صہیب بن سنان ؓ بن صالح ؓ ، عمار بن یاسر ؓ ، سلمان فارسی ؓ ، عامر بن فیہرہ ؓ ، خباب بن ارت ؓ ، سالم مولی حذیفہ ؓ ہیں، قرآن کریم یا اللہ تعالیٰ سے ڈرائیے اور اس بات کا یہ ڈر رکھتے ہیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی محافظ نہ ہوگا اور نہ کوئی ایسا شفاعت کرنے والا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ وہ ان کے عذاب سے نجات دلائے تاکہ یہ گناہوں سے بچیں اور نیکیوں کی طرف مائل ہوں۔ شان نزول : (آیت) ”وانذر بہ الذین“۔ (الخ) امام احمد ؒ ، طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ قریش کی ایک جماعت کا رسول اکرم ﷺ کے پاس سے گزر ہوا اور حضور ﷺ کے پاس خباب بن ارت ؓ صیہب ؓ ، بلال ؓ بیٹھے ہوئے تھے یہ دیکھ کر قریش کا ایک گروہ محمد ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ ان کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو ہم آپ کی اتباع کرلیں اللہ تعالیٰ نے اس پر ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت (آیت) ”وانذر بہ الذین“۔ ”سبیل المجرمین“۔ نازل فرمائی۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

(52) عینیہ بن حصن فزاری نے حضور ﷺ سے کہا کہ ان غربا کو اپنے سے علیحدہ کیجیے تاکہ آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کی قوم کے شرفا آئیں اور آپ ﷺ کا کلام سنیں اور آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور اس نے حضرت عمر ؓ سے بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے کہیں کہ ایک دن ہماری مجلس کے لیے مختص کرلیں اور ایک دن ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کو یہ چیز پسند نہیں آئی اور اس سے منع فرما دیا کہ سلمان فارسی ؓ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو جو پانچوں وقت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجیے اور ان کے باطن کا حساب آپ کے سپرد نہیں، لہٰذا ان کو نکال کر آپ ﷺ نامناسب کام کرنے والوں میں سے نہ ہوئے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تطرد الذین“۔ (الخ) ابن حبان ؒ اور حاکم ؒ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمیوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، ایک میں دوسرے عبداللہ بن مسعود ؓ اور چار اور وہیں، ان کفار نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے علیحدہ کیجیے کیوں کہ ہمیں ان کی طرف آپ کے تابع ہوتے ہوئے شرم آتی ہے سو جو اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ بات رسول اللہ ﷺ کے دل میں آئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ولا تطرد“۔ سے ”۔ الیس اللہ باعلم بالشکرین“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ، مطعم بن عدی، حارث بن نوفل، عبد مناف کے شرفاء ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر تمہارا بھتیجا اپنے پاس سے ان غلاموں کو ہٹا دے تو وہ ہمارے دلوں میں بہت محترم ہے اور ہم اس کی خوشی اور اطاعت کے بہت قریب ہیں، ابوطالب نے اس چیز کا رسول اکرم ﷺ سے تذکرہ کیا، اس پر حضرت عمر فاروق ؓ بولے اگر آپ ایسا کرلیں تو پھر دیکھیے کیا برتاؤ آپ کے ساتھ کریں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اور یہ مسلمان غلام حضرت بلال ؓ ، عمار بن یاسر ؓ سالم مولی ابی حذیفہ ؓ ، صالح مولی اسید ؓ ، ابن مسعود ؓ ، مقداد بن عبداللہ ؓ ، اور واقد بن عبداللہ ؓ تھے، اس کے بعد عمر فاروق ؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے قول سے معذرت طلب کی تو ان کے بارے قرآن کریم کی یہ آیت ”۔ واذا جاءک الذین یؤمنون“۔ نازل ہوئی۔ اور ابن جریر ؒ ابن ابی حاتم ؒ وغیرہ نے خباب ؓ سے روایت کیا ہے کہ اقرع بن حابس اور عینیہ بن حصن دونوں آئے، انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو حضرت صہیب ؓ ، بلال ؓ عمار بن یاسر ؓ خباب ؓ اور دیگر کمزور مومنوں کے ساتھ بیٹھا ہوا پایا جب ان لوگوں نے ان حضرات صحابہ کرام ؓ کو حضور ﷺ کے گرداگرد دیکھا تو ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا ، چناچہ یہ دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ سے تنہائی میں گفتگو کی اور بولے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک علیحدہ مجلس کا وقت مقرر کردیجیے جس سے دیگر عرب ہماری فضیلت کو سمجھیں۔ کیوں کہ وفود عرب آپ کی خدمت میں آتے ہیں تو ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہم سرداروں کو ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں، لہٰذا جب ہم آیا کریں تو آپ ان کو اپنے پاس سے ہٹا دیا کیجیے اور جب ہم چلے جائیں تو پھر اگر آپ چاہیں تو ان کو بلالیا کریں، آپ نے فرمایا اچھا اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ولا تطرد الذین“۔ (الخ) یہ آیت نازل فرمائی اور اس کے اگلی آیت ”۔ وکذلک فتنا“۔ میں اقرع اور اس کے ساتھی کا ذکر کیا، حضرت خباب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے رہتے تھے، اور جب آپ جانا چاہتے ہیں تو ہمیں چھوڑ جایا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ”واصبر نفسک مع الذین“۔ حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے کیوں کہ یہ آیت مکی ہے، اقرع اور عینیہ ہجرت کے ایک زمانہ بعد اسلام لائے ہیں۔ اور فریابی اور ابن ابی حاتم ؒ نے ماھان سے روایت کیا کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سے بڑے بڑے گناہ سرزد ہوگئے، آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”واذا جآءک الذین یؤمنون“۔ (الخ) یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 6:53

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

(53) اور اسی طریقہ سے ہم نے عرب کو غیر عرب کے ساتھ اور شریف کو غیر شریف کے ساتھ سابقہ ڈال کر آزمایش میں ڈال رکھا ہے یہ آیت کریمہ عینیہ بن حصن فزاری، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ، ابی جہل، سہل بن عمر، وغیرہ رؤسا قریش کے بارے میں نازل ہوئی۔
Ayah 6:54

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

(54) ان لوگوں کو غلام دے کر آزمایش میں ڈال رکھا تھا تاکہ یہ عینیہ بن حصن وغیرہ کہیں کہ کیا سلمان فارسی ؓ اور ان کے ساتھیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے دولت ایمان سے بہرہ ور کیا ہے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 6:55

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

(55) جب حضرت عمر فاروق ؓ ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان لانے کے لیے آئیں تو محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ اور تمہارے عذر کو قبول فرمالیا کیوں کہ جس شخص نے انجام گناہ سے ناواقف ہو کر کوئی گناہ کرلیا اور پھر توبہ کی اور حقوق اللہ کو بھی ادا کیا تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو معاف فرماتے ہیں۔ ہم قرآن کریم میں اوامرو نواہی اور ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ہیں تاکہ عینیہ وغیرہ مشرک لوگوں کا طریقہ واضح ہوجائے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

(56) اے محمد ﷺ آپ عینیہ اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ قرآن حکیم میں مجھے بتوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے، آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ بتوں کی عبادت اور مسلمان اور ان کے ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا دینے میں، میں تمہاری پیروی نہیں کروں گا کیونخہ اگر میں نے ایسا کیا تو اپنے عمل میں صحیح راہ پر نہ رہوں گا ،
Ayah 6:57

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

(57) اے محمد ﷺ آپ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ میرے رب کے پاس سے مجھے تو میرے اور میرے حکم پر ایک کافی دلیل ملی ہے اور تم بلاوجہ قرآن کریم اور توحید کی تکفیر کرتے ہو، نزول عذاب کا کسی بھی طرح کا حکم اللہ ہی کی قدرت میں ہے، وہی سب سے بڑھ کر عدل کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے اور حق کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 6:58

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

(58) اور یہ بھی فرما دیجیے کہ اگر عذاب میرے ہاتھ میں ہوتا تو تم اب تک ہلاک ہوجاتے، وہ ذات برحق نضر اور اس کے ساتھی مشرک لوگوں کی سزا سے بخوبی آگاہ ہے، چناچہ نضر جیسا کہ یہ عذاب چاہتا تھا اسی طریقہ پر غزوہ بدر میں مارا گیا۔
Ayah 6:59

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(59) غیب کے تمام خزانے مثلا بارشوں کا نازل ہونا، پھلوں اور سبزیوں کا اگنا اور اس کا عذاب نازل ہونا، جس کا تم مطالبہ کرتے ہو یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، تمام مخلوقات اور مخفی چیزیں اور کون خشکی میں ہلاک ہوگا اور کس کی موت سمندر میں آئے گی اور درخت سے کون سا پتہ کب جھڑرہا ہے، اور سب سے نچلی زمین پتھر کے نیچے کیا ہے، سب کو وہ جانتا ہے، تر اور خشک چیزیں سب کی مقدار اور وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Ayah 6:60

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

(60) وہ رات کے وقت نیند کی حالت میں تمہاری روحوں کو ایک خاص انداز سے قبض کرلیتا ہے اور پھر دن میں تمہاری روحوں کو واپس کردیتا ہے تاکہ سب لوگ اپنی مدت اور روزی پورا کرلیں اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور وہ تمہیں تمہاری نیکی اور بدی سب سے آگاہ کر دے گا۔
Ayah 6:61

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

(61) وہی اپنے بندوں پر غالب ہیں اور وہ ہر ایک شخص کے لیے دو فرشتے رات کو اور دو دن کو تمہاری نیکیاں اور برائیاں لکھنے کے لیے بھیجتے ہیں، جب موت کا وقت آئے گا تو ملک الموت اور اس کے ساتھی تمہاری روح قبض کرلیں گے اور وہ آنکھ جھپکنے کے بقدر بھی دیر نہیں کریں گے۔
Ayah 6:62

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

(62) پھر قیامت کے دن ان کا مالک حقیقی عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا یا یہ کہ ان کا معبود حقیقی مگر انہوں نے جیسا کہ معبود حقیقی کی عبادت کا حق تھا اس کی عبادت نہیں کی اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ جو بھی جس کے معبود ہیں وہ سب باطل ہیں، قیامت کے دن بندوں کے درمیان وہی فیصلہ فرمائے گا جس وقت وہ حساب لینا شروع فرمائے گا تو اس کا حساب بہت جلدی ہوجائے گا ،
Ayah 6:63

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

(63) اے محمد ﷺ آپ کفار مکہ سے فرمائیے کہ خشکی اور دریائی سختیوں اور مصیبتوں سے کون نجات دیتا ہے جس کو تم زبان ودل سے یا یہ کہ آہ وزاری اور عجز کے ساتھ پکارتے ہو کہ اللہ اگر آپ ان سختیوں ومصیبتوں اور آفتوں سے ہمیں نجات دے دیں تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

(64) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ خشکی اور دریائی سختیوں اور ہر ایک آفت و غم سے اللہ ہی نجات دیتا ہے، مگر مکہ والو ! ان احسانات کے باوجود تم بتوں کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

(65) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ تم پر عذاب نازل کردینے پر جیسا کہ حضرت نوح ؑ کی قوم اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر نازل کیا ہے اور تمہیں زمین میں دھنسا دینے پر جیسا کہ قارون کو دھنسایا یا تمہیں اغراض کے اختلاف سے مختلف کرکے جیسا کہ انبیاء کے بعد بنی اسرائیل کو کیا ہے، آپس میں بھڑا دینے پر قادر ہے، محمد ﷺ ہم قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان کی کارگزاریاں کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ احکام خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھیں۔ شان نزول : (آیت) ”قل ھو القادر“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے زید بن اسلم ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ فرما دیجیے کہ وہ اس پر بھی قادر کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے الخ، تو رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کافر مت بن جانا کہ تلواروں سے ایک دوسرے کی گردنیں اڑانا شروع کردو، صحابہ کرام ؓ نے کہا ہم تو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے رسول ہیں تو بعض حضرات بولے کہ شاید یہ شان ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتی بلکہ کچھ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی گردنیں اڑائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا اگلا حصہ نازل فرمایا یعنی آپ دیکھیے تو سہی ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں، شاید وہ لوگ سمجھ جائیں ، (الخ)۔
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

(66) مگر قریش نے قرآن کریم کی تکذیب کی، آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے اوپر تعینات نہیں کیا گیا کہ تمہیں مسلمان ہی بنا کر چھوڑوں۔
Ayahs 6:67–68

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

(67۔ 68) ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت علم الہی میں مقررہ ہے خواہ وہ اللہ کی جانب سے ہو یا میری طرف سے خواہ اوامر ہوں یا نواہی وعدے ہوں یا وعیدین مدد کی خوشخبری ہو یا عذاب سے ڈرا انا ہو، ان کی حقیقت ہے بعض کا ان میں سے دنیا میں ظہور ہوجائے گا اور بعض کا آخرت میں اور دنیا وآخرت میں تمہیں اس کا علم ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے ہر ایک قول عمل کی ایک حقیقت ہے، بہت جلدی تمہیں تمہارے اعمال کے متعلق علم ہوجائے گا۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

(69) جو آپ کے ساتھ اور قرآن کریم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ان کی مجالس کو چھوڑ دیجیے تاکہ ان کا مذاق اور ان کی عیب جوئی قرآن کریم اور آپ کے علاوہ دوسری چیزوں میں ہو۔ رسول اکرم ﷺ جس وقت مکہ مکرمہ میں تھے تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تو آپ کے بعض اصحاب ؓ کو یہ چیز شاق گزری تو پھر اللہ تعالیٰ نے بغرض نصیحت ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دی چناچہ فرما دیا کہ جو لوگ کفر وشرک فواحش اور مذاق اڑانے سے بچتے ہیں، ان پر ان کے مذاق اڑانے اور ان کے گناہ اور کفر وشرک کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن ان کے ذمہ قرآن کریم کے ذریعے نصیحت کردینا ہے تاکہ ایسے لوگ کفر وشرک فواحش اور قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ کے استہزاء سے بچیں۔
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

(70) آپ عینیہ اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کا حکم دیتے ہو جو دنیا و آخرت میں کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان باطل معبودوں کی عبادت نہ کریں تو وہ دنیا وآخرت میں ہمیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے اور کیا ہم پھر بھی شرک اختیار کرلیں، باوجودیکہ اس ذات الہی نے ہمیں اپنی عبادت کا شرف عطا کیا ہے۔ تو پھر ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوجائے جو صحیح راستہ سے بھٹک گیا، اصحاب رسول اکرم ؓ عینیہ کو دین اسلام اور اطاعت خداوندی کی طرف بلاتے ہیں اور وہ انھیں شرک کی دعوت دیتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے لڑکے عبدالرحمن کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ ابھی تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئے تھے، اپنے والدین کو اپنے دین کی طرف دعوت دیتے تھے۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

(71) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمادیں کہ وہ اپنے لڑکے عبدالرحمن سے کہیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی عبادت کی دعوت دیتے ہو جو ہمیں دنیاوی زندگی روزی ومعاش کے اندر کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان کی عبادت کریں تو آخرت میں بھی یہ ہمیں کسی قسم کا نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان کی عبادت نہ کریں تو ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ تو کیا پھر سابقہ دین کی طرف الٹے پھرجائیں، باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول اکرم ﷺ کے دین کی طرف ہدایت کردی ہے تو ہماری مثال عبدالرحمن کے مقابلہ میں ایسی ہے، جیسا کہ شیطان نے کسی کو دین الہی سے بھٹکا دیا اور زمین میں حیران اور صحیح راستہ سے بھٹک کر گردش کھاتا پھر رہا ہے عبدالرحمن کو اس کے والدین یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کی ماں ہدایت یعنی دین اسلام اور کفر وشرک سے توبہ کی طرف بلاتے ہیں اور وہ اپنے والدین کو شرک کی دعوت دیتا ہے۔ اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ دین الہی وہ اسلام ہے اور ہمارا قبلہ کعبہ ہے اور ہم اس بات پر مامور ہیں کہ عبادت اور توحید میں پروردگار عالم کے پورے مطیع وفرمانبردار ہوجائیں۔
Ayah 6:72

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

(72) اور پانچوں نمازوں کی پابندی کریں اور اسی کی اطاعت کریں اور مرنے کے بعداسی کے سامنے تم سب پیش کیے جاؤ گے وہ تمہارے اعمال کا بدلا دے گا۔
Ayah 6:73

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

(73) اور اسی نے زمین و آسمان کو حق و باطل کے ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ صور سے کہے گا کہ جو کہ سینگ کی طرح ہوگا، ہوجا تو تمام آسمان اس رب کے حکم سے ختم ہوجائیں گے اور دوسرا آسمان تبدیل ہوگا یا یہ کہ جس دن وہ قیامت قائم ہونے کا حکم دے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی اور بعث بعد الموت حق ہے وہی بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وہ ہر ایک ظاہر اور پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں بڑی حکمتوں والا ہے اور تمام مخلوق اور ان کے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا ہے، یعنی تارح بن ناحور سے فرمایا کہ کیا تم مختلف قسم کے بتوں کی جو کہ چھوٹے بڑے نر اور مادہ ہیں عبادت کرتے ہو تم تو ان کی پوجا کی وجہ سے علانیہ کفر اور ظاہری گمراہی میں مبتلا ہو،
Ayahs 6:74–75

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

(74۔ 75) اور اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کی تمام مخلوقات مثلا چاند، سورج، ستارے بچشم معرفت دکھلائے تاکہ وہ اس بات پر کامل یقین رکھنے والے ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، وہی تمام آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں، اس کا خالق ہے یا یہ کہ جس رات ان کو آسمان پر بلایا، اس رات ساتویں آسمان پر سے تمام چیزیں دکھائیں حتی کہ ساتویں زمین تک کی انہوں نے ساری چیزوں کو دیکھا تاکہ ان کو خطرات پر کامل یقین ہوجائے۔
Ayah 6:76

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

(76) جب رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک چمکتا ہوا ستارہ دیکھا تو قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تمہارے زعم میں یہ میرا اللہ ہوسکتا ہے اور جب وہ غروب ہوگیا اور اس کی حالت تبدیل ہوگئی تو فرمایا کہ یہ تو اللہ ہو ہی نہیں سکتا، جسے بقاء نہ ہو
Ayah 6:77

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

(77) جب چاند پر نظر پڑی تو بولے کیا یہ اللہ ہوسکتا ہے یہ تو پہلے سے بڑا ہے، جب وہ غائب ہوگیا تو فرمایا کہ اگر مجھے میرا رب حقیقی ہدایت نہ کرتا جیسا کہ اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے تو میں بھی تم لوگوں کی طرح بھٹک جاتا۔
Ayah 6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(78) جب سورج کی روشنی نے آب وتاب دکھائی تو بولے یہ تو پہلے دونوں سے بڑا ہے تمہارے خیال میں کیا یہ اللہ بن سکتا ہے جب اس میں بھی تبدیلی شروع ہوئی اور وہ بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ نے قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں ایسے غروب ہونے والوں سے محبت نہیں رکھتا اور جس کو خود ہی ایک حالت پر بقاء نہ اللہ کیسے ہوسکتی ہے اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی تم لوگوں کی طرح بےراہ ہوجاتا۔ (یہ اپنی بت پرست ومظاہر پرست قوم کو سمجھانے کا ایک تمثیلی انداز تھا کہ کس طرح آپ بتدریج ایک چھوٹے مظہر سے بڑے مظہر (سورج) تک ایک استفہامی طرح سے آئے اور بالآخر توحید حقیقی کا سبق دیا، کہ اصل حقیقت یہ ہے اور اے میری قوم، تم کن گمراہیوں میں گرفتار ہو، توحید کا یہ اصلی سبق دینا ہی آپ کا مقصود تھا اور یہ اس کو سمجھانے کا خاص انداز تھا وگرنہ پیغمبر شروع ہی سے حق اور توحید کا مل کا مومن اور داعی ہوتا ہے، اس کی توحید ہر ہر پہلو سے مکمل ہوتی ہے، اسے توحید میں کسی ”تدریجی ارتقا“ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ (مترجم) حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے کہا یہ میرا رب ہے بطور مذاق فرمایا کیوں کہ ان کی قوم چاند، سورج اور ستاروں کی پوجا کرتی تھی تو اپنی قوم کی تردید کی اور بطور مذاق کے ان سے پوچھا کہ کیا یہ چیزیں تمہارے رب ہیں۔
Ayah 6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

(79) غار سے آپ سترہ سال کی عمر میں آئے تھے، آپ نے آسمان و زمین کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا پروردگار تو وہی ہے کہ جس نے ان کو پیدا کیا، پھر اپنی قوم کے پاس گزر ہوا تو وہ بتوں کی پوجا میں مصروف تھے تو ان سے فرمایا کہ علی الاعلان میں تمہارے شرک سے علیحدگی ظاہر کرتا ہوں، قوم نے کہا تو پھر ابراہیم تم کس کی عبادت کرتے ہو، فرمایا میں اپنے اعتقاد اور عمل کو خالص اسی ذات کے لیے کرتا ہوں جو کہ آسمان و زمین کا خالق ہے اور تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔
Ayah 6:80

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

(80) ان کی قوم نے ان سے فضول حجت کرنا شروع کی اور ان معبودان باطل سے ڈرایا تاکہ حضرت ابراہیم ؑ دین الہی کو چھوڑدیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کیا تم اپنے بتوں کی وجہ سے توحید خداوندی میں مجھ سے باطل حجت کرتے ہو اور مجھے ان بتوں سے ڈراتے ہو کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں ؟ حالانکہ میرے پروردگار نے مجھے صحیح راستہ دکھا دیا ہے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ میرے دل سے اپنی معرفت نکال لے، تب تو میں تمہارے ان بتوں سے ڈروں، میرا پروردگار اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ تم حق پر نہیں ہو کیا اتنا کچھ کلام حق سننے کے بعد بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے ؟