20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

تو شیطان نے انکے دل میں وسوسہ ڈالا (اور) کہا کہ آدم ! بھلا میں تم کو (ایسا) درخت بتاؤں (جو) ہمیشہ کی زندگی کا (ثمرہ دے) اور (ایسی) بادشاہت کہ کبھی زائل نہ ہو ؟

(120) پھر اس درخت سے کھانے کے بارے میں شیطان نے ان کو بہکایا اور کہنے لگا، اے آدم کیا آپ کو ایسا درخت بتلاؤں کہ اس کے کھانے سے ہمیشہ یہاں (آدم وحوا) آباد رہو گے کبھی موت نہ آئے گا اور ایسی بادشاہی ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی ،
Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

تو دونوں نے اس درخت کا پھل کھالیا تو ان پر انکی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے (بدنوں پر) بہشت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو وہ اپنے مطلوب سے بےراہ ہوگئے

(121) ان دونوں (آدم و حوا) نے اس درخت میں سے کھالیا، اس میں سے کھاتے ہی ان دونوں کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے، دونوں اپنے ستر پر زیتون کے پتے چپکانے لگے جب بھی ان پتوں کو چپکاتے فورا گر جاتے اور اس درخت میں سے کھانے کی وجہ سے حضرت آدم ؑ سے اپنے رب کا قصور ہوگیا تو وہ مقصود خلد کے بارے میں غلطی میں پڑگئے اور اس درخت کے کھانے کی وجہ سے جو ان کا مقصود تھا، اس کو حاصل نہ کرسکے ،
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر ان کے پروردگار نے ان کو نوازا تو ان پر مہربانی سے توجہ فرمائی اور سیدھی راہ بتائی

(122) اور پھر جب حضرت آدم ؑ نے معذرت کی تو ان کے پروردگار نے انھیں اور زیادہ مقبول بنا لیا اور ان کی معذرت کو قبول فرما لیا اور معذرت پر ہمیشہ قائم رکھا۔
Ayah 20:123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

فرمایا کہ تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم میں بعض بعض کے دشمن ہوں گے پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ تکلیف میں پڑے گا

(123) اس کے بعد حضرت آدم وحوا اور سانپ وغیرہ سے فرمایا کہ تم سب جنت سے اترو اور اس حال میں جاؤ کہ تم سب ایک دوسرے کے یعنی سانپ انسانوں کا اور انسان سانپ کے دشمن ہوں گے پھر اگر اے انسانوں تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت کا ذریعہ یعنی کتاب اور رسول پہنچے تو تم میں سے جو شخص میرے رسول اور میری کتاب کی اتباع کرے گا تو وہ ان کی اتباع کی وجہ سے نہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں سختی میں ہوگا۔
Ayah 20:124

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اڑھائیں گے

(124) اور جو شخص میری توحید سے یا میری کتاب اور میرے رسول سے منہ پھیرے گا تو اس کو قبر میں یا دوزخ میں سخت ترین عذاب ہوگا اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔
Ayah 20:125

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا میرے پر ورگار تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ میں تو دیکھتا بھالتا تھا

(125) وہ عرض کرے گا کہ مجھے اندھا کیوں کیا میں تو دنیا میں آنکھوں والا تھا۔
Ayah 20:126

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہئے تھا) تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلادیں گے

(126) ارشاد ہوگا ایسا ہی ہے کیوں کہ تیرے پاس ہماری کتاب اور ہمارا رسول آیا تھا اور تو نے نہ ان کا اقرار کیا اور نہ اس پر عمل کیا اسی طرح آج تیرے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی اور تجھے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اسکو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے

(127) اسی طرح ہم ہر اس شخص کو سزا دیں گے جو شرک کرے اور کتاب اللہ اور رسول اللہ پر ایمان نہ لائے اور آخرت کا عذاب بڑا سخت اور دنیاوی عذاب سے زیادہ دیر پا ہے۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت ہی نشانیاں ہیں)

(128) کیا ان مکہ والوں کو اس سے بھی ہدایت نہیں ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں کہ ان ہی مقامات میں یہ لوگ بھی چلتے پھرتے ہیں، اور جو ان مجرموں کو ہم نے سزا دی ہے ان میں عقل مندوں کے لیے بڑی نشانیاں موجود ہیں۔
Ayah 20:129

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوچکا ہوتا

(129) اور اگر تاخیر عذاب کے بارے میں آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے فرمائی نہ ہوتی اور اس امت کے لیے نزول عذاب کے بارے میں ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان کی ہلاکت کے لیے ان پر عذاب ضرور نازل ہوتا۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اسکے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو اور رات کی ساعات (اوّلین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کے اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ

(130) لہذا اے محمد ﷺ یہ کفار جو ظلم اور کفر کر رہے ہیں، آپ اس پر صبر کیجیے اور آپ اپنے پروردگار کے حکم سے صبح کی نماز اور ظہر و عصر اور رات آنے پر مغرب و عشاء کی نماز پڑھیے اور ظہر و عصر کا ابھی اہتمام رکھیے تاکہ ان عبادتوں کے صلہ میں آپ کو مقام شفاعت حاصل ہو اور آپ اس سے خوش ہوجائیں۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور کئی طرح کے لوگوں کو جو ہم نے دنیا کی زندگی میں آرائش کی چیزوں سے بہرہ مند کیا ہے تاکہ ان کی آزمائش کریں ان پر نگاہ نہ کرنا اور تمہارے پروردگار کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی بہت اور باقی رہنے والی ہے

(131) اور آپ ہرگز ان اموال کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے کہ جن سے ہم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر (یہودی قبائل) کو ان کو آزمایش کے لیے متمتع کر رکھا تھا تاکہ اس دنیاوی رونق و بہار سے ان کی آزمایش کریں یہ محض دنیاوی زندگی کی رونق ہے اور دنیا میں جو ان کو مال و دولت دے رکھا ہے، اس سے جنت بہت افضل اور دیرپا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تمدن عینیک“۔ (الخ) ابن شیبہ ؒ، ابن مردویہ ؒ، بزاز ؒ اور ابو یعلی ؒ نے حضرت ابو رافع ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے ہاں ایک مہمان آئے، آپ نے مجھے ایک یہودی کے پاس بھیجا کہ رجب کے چاند تک کچھ آٹا قرض لے آؤ اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ کوئی چیز رہن رکھ دو میں وہاں سے آپ کی خدمت میں آیا اور آپ کو صورت حال بتائی، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں آسمان والوں میں بھی امین ہوں اور زمین میں بھی امین ہوں، ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کے پاس سے نہیں آیا تاآنکہ فورا آپ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی، یعنی اور ہرگز ان چیزوں کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جن کو ہم نے کفار کی مختلف جماعتوں کو ان کی آزمایش کے لیے دے کر رکھا ،
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرو اور اس پر قائم رہو ہم تم سے روزی کے خواستگار نہیں بلکہ تمہیں ہم روزی دیتے ہیں اور (نیک) انجام (اہل تقویٰ) کا ہے

(132) اور اپنے متعلقین کو بھی بالخصوص شدت کے وقت نماز کا حکم کرتے رہے اور خود بھی اس پر قائم رہیے، ہم آپ سے اور آپ کے متعلقین سے معاش نہیں چاہتے، معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور جنت تو ان ہی حضرات کے لیے ہے، جو کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والے ہیں۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ (پیغمبر ﷺ اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لاتے ؟ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی نشانی نہیں آئی ؟

(133) اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ہمارے پاس کوئی نشانی اپنی نبوت کی کیوں نہیں لاتے، کیا ان کے پاس توریت وانجیل کے مضامین کا ظہور نہیں پہنچا کہ ان میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کا ذکر ہے۔
Ayah 20:134

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم انکو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے

(134) اور اگر ہم ان کفار مکہ کو اس سے پہلے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تھا کہ ہم رسول کی اطاعت کرتے اور آپ کی کتاب پر ایمان لاتے اس سے پہلے کہ ہم بدر کے دن مارے گئے اور قیامت کے دن ہمیں عذاب ہوا۔
Ayah 20:135

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب (نتائج اعمال کے) منتظر ہیں سو تم بھی رہو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا کہ (دین کے) سیدھے راستے پر چلنے والے کون ہیں اور (جنت کی طرف) راہ پانے والے کون ہیں (ہم یا تم)

(135) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے ہم میں سے اور تم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی ہلاکت کا انتظار کر رہا ہے تو تھوڑا سا مزید انتظار کرلو۔ قیامت کے نزول عذاب کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ راہ راست پر کون ہیں اور ہم میں سے اور تم میں سے وہ کون ہے جسے دولت ایمان نصیب ہوئی۔