20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 20:40–41

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اسکو پالے تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آپہنچے

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لیے بنایا

(40۔ 41) یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ تمہاری بہن تمہاری تلاش میں فرعون کے گھر تک آئیں اور اجنبی بن کر کہنے لگیں کیا آپ کو ایسی آیا چاہیے جو اس کی اچھی طرح پرورش کرے چناچہ اس طریقے سے ہم نے تمہیں تمہاری ماں پاس پھر پہنچا دیا تاکہ ان کا دل خوش ہوجائے اور اپنے بیٹے کی ہلاکت کا خوف نکل جائے۔ اور تم نے غلطی سے ایک قبطی کو مار ڈالا تھا اور پھر قوم کے انتقام کے خوف سے بھی ہم نے تمہیں نجات دی اور بار بار ہم نے تمہیں آزمائشوں میں ڈالا پھر اس کے بعد مدین والوں میں دس سال تک رہے پھر ایک خاص وقت پر جو میرے علم میں تمہاری رسالت اور ہم کلامی کے لیے مقرر تھا تم یہاں آئے اور اے موسیٰ ؑ یہاں آنے پر میں نے تمہیں کو اپنا رسول بنانے کے لیے منتخب کیا ہے۔
Ayahs 20:42–43

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو رہا ہے

(42۔ 43) تم اور ہارون ؑ دونوں میری نشانیاں یعنی یدبیضاء اور عصا لے کر جاؤ اور میری عبادت میں سستی مت کرنا یا یہ کہ فرعون کی طرف تبلیغ رسالت میں کسی قسم کی کوئی غفلت نہ کرنا، لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت تکبر اور کفر اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے

(44) اس کو نرمی کے ساتھ کلمہ ”۔ لا الہ الا اللہ“۔ کی تبلیغ کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت قبول کر کے یا ڈر کر اسلام لے آئے۔
Ayahs 20:45–46

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ وہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں

(45۔ 46) دونوں نے عرض کیا اے ہمارے پروردگار ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ اس سے پہلے ہم پر ہمیں مارنے کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھے یا یہ کہ ہمیں قتل ہی کر ڈالے اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کے مارنے اور قتل کے ساتھ زیادتی نہ کربیٹھے یا یہ کہ ہمیں قتل ہی کرڈالے اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ اس کے مارنے اور قتل کرنے کا خوف مت کرو میں تمہارا مددگار ہوں جو تمہیں کو وہ جواب دے گا اس کو میں سنتا ہوں اور جو وہ تمہارے ساتھ کا رو وائی کرے گا اسے دیکھتا ہوں۔
Ayah 20:47

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجئے اور انھیں عذاب نہ کیجئے ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہے

(47) لہذا تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو تاکہ میں ہم انھیں ان کی سرزمین میں لے جائیں۔ اور ان کو مشقتوں میں ڈال کر اور ان کے بیٹوں کو ذبح کرکے اور ان کی عورتوں سے خدمت لے کر ان کو تکلیف میں مت ڈال اس لیے کہ وہ آزاد ہیں اور ہم اس دعوی پر معجزہ بھی لے کر آئے ہیں یعنی یدبیضاء اور یہ پہلا نشان تھا جو کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دکھایا۔ اور فرمایا کہ ایسے کے لیے سلامتی ہو جو توحید کا قائل ہو۔
Ayah 20:48

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے

(48) اور ہمارے پاس یہ حکم پہنچا ہے کہ دائمی عذاب اس شخص پر ہوگا جو کہ توحید کا منکر ہو اور ایمان سے منہ پھیرلے۔
Ayahs 20:49–50

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

کہا کہ ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل وصورت بخشی پھر راہ دکھائی

(49۔ 50) یہ سن کر فرعون کہنے لگا کہ تم دونوں کا رب کون ہے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے مطابق جوڑا عطا فرمایا، یعنی انسان اور اونٹ کو اونٹنی اور بکری کو بکرا کہ ہر ایک کا جوڑا بنادیا، پھر ان کو کھانے پینے اور ضروریات زندگی کی رہنمائی کی۔
Ayahs 20:51–52

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

کہا تو پہلی جماعتوں کا کیا حال ہے ؟

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

کہا کہ انکا علم میرے پروردگار کو ہے (جو) کتاب میں (لکھا ہوا ہے) میرا پروردگار نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے

(51۔ 52) فرعون نے اس پر حضرت موسیٰ ؑ سے یہ شبہ ظاہر کیا کہ اچھا تو پہلے لوگوں کا کیا حال ہوا اور کیسے ہلاک کیے گئے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کی ہلاکت کا علم میرے رب کے پاس لوح محفوظ میں ہے میرا رب ایسا ہے کہ نہ غلطی کرتا ہے اور نہ ان کا معاملہ اس سے چوک سکتا ہے اور نہ وہ ان کے معاملہ کو بھول سکتا ہے اور نہ ان کو سزا دینے سے چوک سکتا ہے۔
Ayah 20:53

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ (وہی تو ہے) جس نے تم لوگوں کے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے جاری کئے اور آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے انواع واقسام کی مختلف روئیدگیاں پیدا کیں

(53) اور وہ ایسا ہے جس نے تم لوگوں کے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہاری آمد و رفت کے لیے راستے بنائے کہ تم ان پر سے آتے جاتے رہتے ہو اور آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس پانی کے ذریعے سے مختلف شکلوں کے نباتات پیدا کیے۔
Ayah 20:54

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی بھی چراؤ بیشک ان باتوں میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

(54) جن کو اللہ کی اجازت سے تم خود بھی کھاتے ہو اور اپنے مویشی بھی چراتے ہو ان مذکورہ چیزوں میں عقل مندوں کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
Ayah 20:55

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

اسی زمین میں سے ہم نے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوسری دفعہ نکالیں گے

(55) اور اسی طرح اسی زمین سے ہم نے تمہیں کو پیدا کیا یعنی تم سب کو حضرت آدم ؑ کے ذریعے پیدا کرلیا اور حضرت آدم ؑ کو مٹی سے اور وہ مٹی اسی زمین کی تھی اور اسی زمین میں تم دفن کیے جاؤ گے۔ اور مرنے کے بعد پھر قبروں سے قیامت کے دن ہم تمہیں کو دوبارہ نکالیں گے۔
Ayah 20:56

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھلائیں مگر وہ تکذیب اور انکار ہی کرتا رہا

(56) اور ہم نے اس فرعون کو اپنی نشانیاں یعنی یدبیضاء عصا، طوفان، جراد، قمل، ضفادع، دم، قحط، سالی اور پھلوں کی کمی دکھلائیں مگر اس نے ان تمام نشانیوں کو جھٹلایا اور کہنے لگا کہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہیں اور اسلام لانے سے انکار کیا اور ان نشانیوں کو تسلیم نہیں کیا۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا موسیٰ تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ اپنے جادو (کے زور) سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو

(57) مزید کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ اپنے جادو سے ہمیں مصر سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم پھر تمہارے مقابل ایسا ہی جادو لائیں گے تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلو نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ تم (اور یہ مقابلہ) ایک ہموار میدان میں (ہوگا)

(58) تو جیسا تم جادو لے کر آئے ہو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ایسا ہی جادو لے کر آتے ہیں تو موسیٰ ؑ ہمارے اور اپنے درمیان مقابلہ ا ایک وقت مقرر کرلو جس کی ہم میں سے کوئی خلاف ورزی نہ کرے کسی ہموار میدان میں یا یہ کہ منصفانہ برابر طریقہ پر اپنے اور ہمارے درمیان مقرر کرلو۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ آپ کے لئے یوم زینت کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں

(59) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا تمہارے مقابلہ کے مقابلہ کے وعدہ کا وقت وہ دن ہے جس میں تمہارا بازار لگتا ہے یا یہ کہ تمہارے میلے اور خوشی کا دن یا یہ کہ نیروز اور جس میں تمام شہروں سے دن چڑھے لوگ جمع ہوتے ہیں۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

تو فرعون لوٹ گیا اور اپنا سامان جمع کر کے پھر آیا

(60) غرض کہ یہ سن کر فرعون دربار سے اپنی جگہ چلا گیا پھر اپنا مکر یعنی جادو کا سامان اور جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اور جن جادوگروں کو فرعون نے جمع کیا وہ بہتر (72) تھے۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے ان (جادوگروں سے کہا) ہائے تمہاری کمبختی خدا پر جھوٹ افترا نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب دے فنا کر دے گا اور جس نے افترا کیا وہ نامراد رہا

(61) موسیٰ ؑ نے ان جادوگروں سے فرمایا ارے لعنتیو اللہ تعالیٰ پر بہتان مت لگاؤ کہیں اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے عذاب سے ہلاک ہی نہ کر دے۔ اور جو اللہ تعالیٰ پر بہتان لگاتا ہے وہ ناکام رہتا ہے۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

تو وہ باہم اپنے معاملہ میں جھگڑنے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

(62) یہ سن کر ان جادوگروں نے باہم مشورہ کیا کہ اگر اس مقابلہ میں موسیٰ ؑ ہم پر غالب آگئے تو ہم ان پر ایمان لے آئیں گے اور اس خفیہ مشورہ کا فرعون سے ذکر کیا۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دیں اور تمہارے شائشسہ مذہب کو نابود کردیں

(63) بالآخر سب متحد ہو کر اعلانیہ کہنے لگے کہ حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ دونوں جادوگر ہیں یا یہ کہ فرعون نے ان جادوگروں سے کہا کہ موسیٰ ؑ وہارون ؑ دونوں جادوگر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں سرزمین مصر سے اپنے جادو کے زور سے نکال باہر کریں اور تمہارے عمدہ مذہبی طریقہ کا اور تم میں سے بہترین اور عقل مند لوگوں کا دفتر ہی ختم کردیں۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو تم (جادو کا) سامان اکٹھا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ اور آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا

(64) لہذا اب تم مل کر اپنی تدبیر اور اپنے جادو اور اپنے علم کا انتظام کرو اور سب صفیں آراستہ کرکے مقابلہ کے لیے آؤ، آج وہی کامیاب ہوگا جو غالب ہوگا۔
Ayahs 20:65–66

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

بولے کہ موسیٰ یا تو تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم اپنی چیزیں پہلے ڈالتے ہیں

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا نہیں تم ہی ڈالو (جب انہوں نے چیزیں ڈالیں) تو ناگہاں ان کی رسیاں اور لاٹھیاں موسیٰ کے خیال میں ایسی آنے لگیں کہ وہ (میدان میں) ادھر ادھر دوڑ رہی ہیں

(65۔ 66) غرض کہ ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ آپ اپنا عصا زمین پر پہلے ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں، حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے فرمایا نہیں تم ہی پہلے ڈالو، چناچہ انہوں نے زمین پر 72 لکڑیاں اور 72 رسیاں ڈالیں، ان کی نظر بندی سے حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ایسی معلوم ہونے لگیں جیسے سانپ کی مانند چلتی ہوں۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

(اس وقت) موسیٰ نے اپنے دل میں خوف معلوم کیا

(67) حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں کچھ خوف ہوا کہ ان پر کامیابی کیسے حاصل ہوگی اس لیے کہ جو ایمان لائے گا اس کو یہ لوگ قتل کردیں گے۔
Ayahs 20:68–69

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا خوف نہ کرو بلاشبہ تم ہی غالب ہو

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ تو جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا

(68۔ 69) ہم نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ تم ڈرو نہیں تم ہی ان پر غالب رہو گے بایں طور کہ حضرت موسیٰ ؑ تمہارے داہنے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے تم زمین پر ڈال دو ، اور یہ عصا ان لوگوں نے جو کچھ لکڑیوں اور رسیوں کا سوانگ رچایا ہے سب کو نگل جائے گا، انہوں نے یہ جو کچھ بنایا ہے یہ جادوگروں کا سوانگ ہے اور جادوگر کہیں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوتا اور اللہ کے عذاب سے کبھی مامون اور محفوظ نہیں رہتا۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

(القصہ یونہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گرپڑے اور کہنے لگے کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے پروردگار پر ایمان لائے

(70) غرض کہ انہوں نے عصا ڈالا اور وہ واقعی سب کو نگل گیا، جادوگر سب سجدہ میں گرگئے، یعنی اس پھرتی سے سروں کو جھکایا گویا کہ گر پڑے ہوں اور باآواز بلند کہنے لگے کہ ہم تو حضرت موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لے آئے۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے ؟ بیشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کجھور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

(71) فرعون نے یہ دیکھ کر ان کو دھمکایا کہ میری اجازت کے بغیر تم حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئے موسیٰ ؑ تو جادو میں تمہارے استاد ہیں، میں ابھی تم سب کا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر کٹواتا ہوں اور تم سب کو کھجور کے درختوں پر ٹنگواتا ہوں اور یہ بھی تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ موسیٰ ؑ وہارون ؑ کے رب کا عذاب سخت اور دیرپا ہے یا میرا۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ جو دلائل ہماے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا کیا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دیجیے اور آپ جو حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)

(72) ان جادوگروں نے فرعون کو صاف جواب دے دیا کہ ہم تیری اطاعت اور عبادت کو کبھی ترجیح نہیں دیں گے ان دلائل اور اوامرو نواہی اور کتاب اور رسول کے مقابلے میں جو ہمیں ملے ہیں اور اس ذات کی عبادت کرنے پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے تمہیں جو کچھ کرنا کرو اور جو کچھ ہمارے خلاف فیصلہ کرنا چاہو، دل کھول کر کرلو تو اس دنیاوی زندگی میں تو ہمارے خلاف فیصلہ کرسکتا ہے، آخرت میں تو تیرا ہم پر کوئی زور نہیں چلے گا۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر دے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے

(73) ہم تو اپنے پروردگار پر ایمان لاچکے تاکہ وہ ہمارا کفر و شرک معاف کردیں اور تم جادو کے معاملہ میں جو ہم پر دباؤ ڈالا ہے اس کو بھی معاف کردیں اور اللہ تعالیٰ کے پاس جو ثواب اور بزرگی ہے وہ اس مال میں سے جو تم نے ہمیں دیا ہے کئی گنا اچھی اور پائیدار ہے۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے جس میں نہ مرے گا نہ جئے گا

(74) اور جو شخص قیامت کے دن کفر کی حالت میں آئے گا اس کے لیے جہنم مقرر ہے کہ اس میں نہ مرے ہی گا کہ چھٹکارا مل جائے اور نہ زندہ ہی رہے گا یعنی نہ ایسی زندگی حاصل ہوگی کہ اس کو اس سے کچھ آرام ملے ،
Ayahs 20:75–76

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے روبرو ایماندار ہو کر آئے گا اور عمل بھی نیک کئے ہوں گے تو ایسے لوگوں کے لئے اونچے اونچے درجے ہیں

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ اس شخص کا بدلہ ہوگا جو پاک ہوا

(75۔ 76) اور جو شخص قیامت کے دن ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس حال میں کہ اس نے نیک کام بھی کیے ہوں گے تو ایسے حضرات کے لیے جنتوں میں بڑے اونچے درجات ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل بیان فرما رہے ہیں کہ وہ دار الرحمن سے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے تمام جنتوں کے درمیان میں بنایا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب، اور پانی کی نہریں بہریں بہتی ہوں گی، وہ ان باغات اور جنتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، نہ وہاں موت آئے گی اور نہ یہ حضرات وہاں سے نکالے جائیں گے اور یہ باغات اور وہاں ہمیشہ کا قیام اس شخص کا انعام جو توحید خداوندی کا قائل ہو اور اعمال صالحہ کرے ،
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہماے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک راستہ بنادو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آ پکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا ڈر)

(77) (فرعون جب کسی کسی صورت میں ایمان نہیں لایا) تو ہم نے موسیٰ ؑ کے پاس وحی بھیجی کہ بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے باہر لے جاؤ، پھر عصا مار کر ان کے لیے دریا میں خشک راستہ بنا دیا کہ اس میں نہ فرعون کے تعاقب کا خدشہ ہوگا اور نہ غرق ہونے کا خوف ہوگا۔
Ayahs 20:78–79

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا تو دریا کی (موجوں) نے ان پر چڑھ کر انھیں ڈھانک لیا (یعنی ڈبو دیا)

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کردیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا

(78۔ 79) چناچہ فرعون مع اپنے لشکر کے ان سے جا ملا، اس وقت دریا کا پانی چاروں طرف سے سمٹ کر ان پر آملا، غرض کہ فرعون نے اپنی قوم کر بھی لا کر ہلاک کیا اور ان کو غرق ہونے سے نہ بچا سکا، یا یہ مطلب ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کو دین خداوندی سے بےراہ کیا اور ان کو نیک راہ نہ بتلائی۔