20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے آل یعقوب ! ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی اور (تورات دینے کے لئے) تم سے کوہ طور کی داہنی طرف مقرر کی اور تم پر من اور سلویٰ نازل کیا

(80) اے بنی اسرائیل دیکھو ہم نے تمہیں فرعون سے نجات دی اور ہم نے تمہارے پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے کوہ طور کے دائیں جانب آنے کا اور وہاں آنے کے بعد کتاب توریت دینے کا وعدہ کیا اور وادی تیہ میں تم پر من وسلوی نازل فرمایا۔
Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

(اور حکم دیا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس میں حد سے نہ نکلنا ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک ہوگیا

(81) اور اجازت دی کہ ہم نے تمہیں جو پاکیزہ چیزیں یعنی من وسلوی دی ہیں ان کو کھاؤ اور اس نعمت کی ناشکری مت کرو، یہ کہ اگلے دن کے لیے بچا کر نہ رکھو کہ کہیں تم پر میرا غضب اور عذاب واقع ہوجائے اور جس شخص پر میری ناراضگی اور غصہ و عذاب واقع ہوتا ہے وہ بالکل ہی گیا گزرا ہوا۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر سیدھے راستے چلے اس کو میں بخش دینے والا ہوں

(82) اور میں ایسے لوگوں کی بڑی مغفرت کرنے والا بھی ہوں جو کفر وشرک سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اچھے کام کریں اور اچھے اعمال پر ثواب ملنے کو حق سمجھیں یا یہ کہ اہل سنت والجماعت کے طریقہ پر قائم رہیں اور اسی پر انتقال کریں۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تم نے اپنی قوم سے (آگے چلے آنے میں) کیوں جلدی کی ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو

(83۔ 84) چناچہ جب موسیٰ ؑ کوہ طور کی طرف اپنی قوم کے ستر آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو شوق میں سب سے آگے تنہا جاپہنچے اور دوسرے لوگ اپنی جگہ رہ گئے، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ سے پوچھا آپ کو اپنی قوم سے آگے جلدی آنے کا کیا سبب ہوا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے (اپنے گمان کے موافق) عرض کیا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے آرہے ہیں اور میں سب سے پہلے جلدی سے آپ کے پاس اس لیے آیا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش ہوں گے۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے

(85) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ ؑ کو ارشاد ہوا ہم نے تمہارے کوہ طور پر چلے جانے کے بعد تمہاری قوم کو گوسالہ کی پرستش میں مبتلا کردیا ہے اور اس گمراہی کے اختیار کرنے کا ان کو سامری نے حکم دیا ہے۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

اور موسیٰ غم اور غصے کی حالت میں اپنی قوم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز معلوم ہوئی یا تم نے چاہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف غضب نازل ہو ؟ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا

(86) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ مدت مکمل ہونے کے بعد غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف واپس آئے اور فتنہ کا شور وشغب سنا تو فرمانے لگے اے میری قوم کیا تم سے تمہارے رب نے ایک اچھا اور سچا وعدہ نہیں کیا تھا کیا میں تم سے زمانہ دراز کے لیے جدا ہوگیا تھا یا یہ کہ تمہیں یہ منظور ہوا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب اور عذاب نازل ہو، اس لیے تم نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے ختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہی کیا بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے پھر ہم نے اس کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا

(87) قوم کہنے لگی موسیٰ ؑ ہم نے جو تم سے وعدہ کیا تھا، اس کی اپنے اختیار سے خلاف ورزی نہیں کی لیکن آل فرعون کے زیورات کا ہم پر بوجھ لاد رہا تھا اس لیے اس نے اس بچھڑے کی پوجا پر مجبور کیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ ہم نے ان زیورات کو آگ میں ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی اپنے ساتھ کا زیور آگ میں ڈال دیا۔
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

تو اس نے انکے لئے ایک بچھڑا بنادیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی تو لوگ کہنے لگے یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے مگر وہ بھول گئے ہیں

(88) پھر ان زیورات کا جو کہ آگ میں ڈالے گئے تھے سامری نے ان لوگوں کے لیے اس کا ایک بچھڑا بنا کر ظاہر کیا جو کہ ایک قالب خالی از کمالات تھا اور اس میں صرف ایک بےمعنی آواز تھی، قوم نے اس کے بارے میں سامری سے پوچھا کہ یہ کیا ہے، سامری نے ان سے کہا کہ تمہارا اور موسیٰ کا بھی معبود تو یہ ہے اور موسیٰ ؑ تو بھول گئے اور غلطی سے کوہ طور پر چلے گئے یا یہ کہ سامری نے حکم خداوندی اور اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا۔
Ayah 20:89

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے

(89) اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی سمجھ کا نقص بیان فرماتے ہیں کہ کیا سامری اور اس کے ساتھی اتنا بھی نہیں دیکھتے کہ وہ بچھڑا نہ تو انکی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے اور نہ اس سے کسی نقصان کے دور کرنے اور ان کو کسی قسم کے نفع پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے۔
Ayah 20:90

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو ! اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو تم میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو

(90) اور ان لوگوں سے حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ کے لوٹنے سے پہلے بھی کہا تھا کہ اے میری قوم تم اس بچھڑے کی آواز اور اس کی پرستش کی وجہ سے گمراہی میں پھنس گئے ہو یا یہ کہ تم نے اس پچھڑے کی پوجا کی ہے۔
Ayah 20:91

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ ہمارے پاس نہ آئیں ہم اس (کی پوجا) پر قائم رہیں گے

(91) حضرت ہارون ؑ کو قوم نے جواب دیا کہ ہم تو جب تک حضرت موسیٰ ؑ ہمارے پاس واپس نہ آئیں اسی کی عبادت پر جمے بیٹھے رہیں گے۔
Ayahs 20:92–93

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

(پھر موسیٰ نے ہارون سے کہا) کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا ؟

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں کیا ؟)

(92۔ 93) غرض کہ جب حضرت موسیٰ ؑ بھی واپس آگئے تو حضرت ہارون ؑ سے فرمایا کہ جب تم ان کو گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو تم میرے پاس چلے آتے اور میرے حکم کی اتباع کرنے سے کون سی چیز مانع تھی، اور تم نے ان مفسدین کو قتل کیوں نہ کردیا کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی (اور حضرت موسیٰ ؑ نے غصہ میں حضرت ہارون ؑ کی داڑھی پکڑ لی)۔
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

کہنے لگے بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا

(94) اس پر حضرت ہارون ؑ نے حضرت موسیٰ ؑ سے عرض کیا اے میرے ماں جائے میری داڑھی نہ پکڑیں اور نہ میرے سر کے بال پکڑیں ، (ماں کا ذکر) اس لیے کردیا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ ٹھنڈا ہو) مجھ کو یہ اندیشہ ہوا کہ تم کہنے لگو کہ قتل کے ذریعے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے آنے کا انتظار نہ کیا اس بنا پر میں نے ان کو قتل بھی نہ کیا (اور نہ آپ کے پاس آیا)
Ayahs 20:95–96

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

(پھر سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے ؟

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے کہا میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی پھر اس کو (بچھڑے کے قلب میں ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا

(95۔ 96) اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا سامری یہ تو نے بچھڑے کی پوجا کیوں کی، سامری کہنے لگا کہ مجھے ایسی چیز نظر آئی تھی جو بنی اسرائیل کو نہیں آئی، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ان کے بغیر تجھے ایسی کیا چیز نظر آئی، وہ کہنے لگا کہ میں حضرت جبریل امین ؑ کو گھوڑے پر سوار دیکھا تھا اور وہ دابۃ الحیاۃ تھا، تو میں نے حضرت جبریل امین ؑ کے گھوڑے کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر خاک اٹھالی تو میں نے اس خاک کو اس بچھڑے کے منہ اور اس کی سرین میں ڈال دی جس کی وجہ سے اس کے منہ سے یہ آواز نکلنے لگی اور میری جی کو یہی بات بھائی ،
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہ جا تجھ کو دنیا کی زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ کہتا رہے کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگا اور تیرے لئے ایک اور وعدہ ہے (یعنی عذاب کا) تجھ سے ٹل نہ سکے گا اور جس معبود کی (پوجا) پر تو (قائم و) معتکف تھا اس کو دیکھ ہم اسے جلا دیں گے پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بکھیر دیں گے

(97) حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے فرمایا جا تیری زندگی میں یہی سزا تجویز ہوئی ہے کہ تو یہ کہتا پھرے گا کہ مجھے کوئی ہاتھ نہ لگائے تاکہ نہ تو کسی کے قریب جائے گا اور نہ تیرے پاس کوئی آئے گا اور قیامت کے دن تیرے لیے ایک اور عذاب کا وقت مقرر ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں اور اب اپنے اس معبود کا بھی نظارہ کرلے جس کی عبادت پر تو جما ہوا بیٹھا تھا دیکھ ہم اس کو آگ میں جلا دیں گے یا یہ کہ ہم اس کو ریزہ ریزہ کردیں گے پھر اس کے ذرات کو دریا میں بکھیر کے اڑا دیں گے۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

تمہارا معبود وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے

(98) تمہارا معبود حقیقی تو وہی اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور وہ ہمارا پروردگار اپنے علم سے تمام چیزوں سے تمام جزیوں کو احاطہ میں کیے ہوئے ہے۔
Ayah 20:99

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اس طرح پر ہم تم سے وہ حالات بیان کرتے ہیں جو گزر چکے ہیں اور ہم نے تمہیں اپنے پاس سے نصیحت (کی کتاب) عطا فرمائی ہے

(99) اسی طرح محمد ﷺ ہم آپ سے بذریعہ جبریل امین ؑ اور گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتے ہیں اور ہم نے بذریعہ قرآن کریم آپ کو کرامت وبلندی عطا فرمائی ہے کہ جس قرآن حکیم میں تمام اولین وآخرین کے متعلق معلومات اور باتیں ہیں۔
Ayahs 20:100–101

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو شخص اس سے منہ پھیرے گا وہ قیامت کے دن (گناہ کا) بوجھ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

(100۔ 101) جو لوگ اس کے مضامین ماننے سے اعراض کریں گے تو وہ قیامت کے دن شرک کا عذاب کے بڑا بھاری بوجھ اٹھائیں گے اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کے گناہوں کی سزا ان کے لیے بہت ہی بڑا بوجھ ہوگی ،
Ayahs 20:102–103

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس روز صور پھونکا جائے گا اور ہم گنہگاروں کو اکٹھا کریں گے اور ان کی آنکھیں نیلی نیلی ہوں گی

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

(تو وہ آپس میں آہستہ آہستہ کہیں گے کہ تم دنیا میں) صرف دس ہی دن رہے ہو

(102۔ 103) جب دوسری مرتبہ صور میں پھونک ماری جائے گی اور ہم مشرکین کو میدان قیامت میں اس حالت میں جمع کریں گے کہ کرنجے ہوں گے چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے کہ تم لوگ قبروں میں صرف دس روز رہے ہو گے۔
Ayah 20:104

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوش مند (کہے گا کہ نہیں بلکہ صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو

(104) وہ زندہ ہو کر جس مدت کے بارے میں بات چیت کریں گے ہم اسے خوب جانتے ہیں جب کہ ان سب کا زیادہ عاقل اور سچا صاحب الرائے یوں کہتا ہوگا کہ تم ایک ہی روز قبر میں رہے ہو۔
Ayah 20:105

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور تم سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا ان کو اڑا کر بکھیر دے گا

(105) قبیلہ بنو ثقیف کے لوگوں نے رسول اکرم ﷺ سے پہاڑوں کے متعلق دریافت کیا تھا کہ قیامت کے دن کی کیا حالت ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے جواب میں کہہ دیجیے کہ میرا پروردگار ان کو اکھاڑ کر ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔ شان نزول : (آیت) ”ویسئلونک عن الجبال“۔ (الخ) ابن مندر ؒ نے ابن جریح ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے کہا اے محمد ﷺ آپ کا پروردگار پہاڑوں کی قیامت کے دن کیا حالت کرے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ آپ سے پہاڑوں کی نسبت پوچھتے ہیں (الخ)
Ayahs 20:106–107

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ہموار میدان کر چھوڑے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

جس میں نہ تم کجی (اور پستی) دیکھو نہ ٹیلا (اور نہ بلندی)

(106۔ 107) پھر زمین کو ایک میدان ہموار کردے گا کہ اس پر کوئی سبزہ وغیرہ کی کوئی بلندی دیکھے گا۔
Ayah 20:108

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز لوگ ایک پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے اور اس کی پیروی سے انحراف نہ کرسکیں گے اور خدا کے سامنے آوازیں پس ہوجائیں گی تو تم آواز خفی کے سوا کوئی آواز نہ سنو گے

(108) قیامت کے دن سب خدائی بلانے والے کے ساتھ تیزی سے ہو لیں گے اس کے سامنے کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں مڑے گا اور تمام آوازیں اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور جلال کی وجہ سے دب جائیں گی، آپ ماسوا پاؤں کی آہٹ کے جیسا کہ اونٹوں کے پیروں کی آواز ہوتی ہے اور کچھ آواز نہ سنیں گے۔
Ayah 20:109

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز (کسی کی) سفارش کچھ فائدہ نہ دے گی مگر اس شخص کی جسے خدا اجازت دے اور اسی کی بات کو پسند فرمائے

(109) اور قیامت کے دن فرشتوں کی شفاعت کسی کو نفع نہیں دے گی مگر ایسے شخص کی شفاعت فائدہ مند ہوگی، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی ہو اور اس کا کلمہ طیبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا ہو۔
Ayah 20:110

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے آگے ہے جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اسکو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے

(110) اللہ تعالیٰ امور آخرت میں سے فرشتوں کے تمام اگلے احوال کو اور امور دنیا میں سے تمام پچھلے احوال کو جانتا ہے اور فرشتوں کا علم اس کی معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا مگر جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بتا دیا ہو۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

(111) اس روز تمام چہرے اس اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے ہوں گے اور ایسا شخص تو ہر طرح ناکام رہے گا جو شرک لے کر آیا ہوگا۔
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا اور نہ نقصان کا

(112) اور جس نے نیک کام کیے ہوں گے اور وہ ایمان بھی رکھتا ہوگا سو اسے نہ تو پورے اعمال کے ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوگا اور نہ اپنے اعمال میں کسی قسم کی کمی کا کوئی خطرہ ہوگا۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اسی طرح کا قرآن عربی نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کر دئیے ہیں تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں یا خدا ان کے لئے نصیحت پیدا کر دے

(113) اسی طرح اس سارے قرآن کریم کو ہم نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم ﷺ پر عربی زبان میں نازل کیا ہے اور قرآن کریم میں ہم نے طرح طرح سے وعدے وعید بیان کیے ہیں تاکہ یہ لوگ کفر وشرک اور فواحش سے ڈریں یا اگر یہ ایمان لے آئیں تو قرآن کریم ان کے لیے ثواب پیدا کردے یا یہ کہ اگر یہ توحید کے قائل ہوجائیں تو قرآن کریم ان کے لیے باعث عزت ہوجائے یا یہ کہ اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو عذاب کا باعث ہوجائے۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے عالی قدر ہے اور قرآن کی وحی جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے اس کے پورا ہونے سے پہلے قرآن کے (پڑھنے کے) لئے جلدی نہ کیا کرو اور دعا کرو کہ میرا پروردگار مجھے اور زیادہ علم دے

(114) سو اللہ تعالیٰ جو بادشاہ حقیقی ہے وہ شریک اور اولاد سے پاک ہے اور اے محمد ﷺ آپ قرآن حکیم پڑھنے میں اس سے پہلے کہ آپ اس کی وحی پوری نازل ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے کیوں کہ جبریل امین ؑ جس وقت آپ کے پاس کوئی آیت قرآنیہ لے کر آتے، تو جبریل امین اس آیت کی قرأت سے فارغ نہیں ہوپاتے تھے، یہاں تک کہ رسوک اکرم ﷺ اسی آیت کو شروع سے پڑھنا شروع کردیتے اس خیال سے کہ کہیں اس آیت کو میں بھول نہ جاؤں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے روک دیا اور فرمایا کہ آپ تو یہ دعا کیا کیجیے اے میرے رب قرآن کریم کے بارے میں میرے حافظہ فہم اور حکمت اور بڑھا دے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تعجل بالقران“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ جبریل امین ؑ رسول اکرم ﷺ کے پاس جب قرآن کریم لے کر آتے تو آپ اس کے یاد کرنے کی فکر میں اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دیتے یہاں تک کہ آپ کو اس سے تکلیف ہونے لگتی، محض اس خوف کی بنا پر کہ کہیں جبریل امین ؑ میرے یاد کرنے سے قبل تشریف نہ لے جائیں گے، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی آپ قرآن کریم پڑھنے کے قبل اس کے کہ آپ پر اس کی وحی پوری نازل ہوچکے جلدی نہ کیا کیجیے، امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے بارے میں سورة نساء میں دوسرا شان نزول بھی گزر چکا ہے مگر یہ زیادہ صحیح ہے۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا

(115) اور حضرت آدم ؑ کے اس درخت میں سے کھانے سے پہلے یا یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے ہم حضرت آدم ؑ کو ایک حکم دے چکے تھے تو ان سے اس حکم کی بجا آوری میں غفلت اور بےاحتیاطی ہوگی اور ہم نے ان میں (مردوں والی) پختگی اور ثابت قدمی نہ پائی۔
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب سجدے میں گرپڑے مگر ابلیس نے انکار کیا

(116) اور جب کہ ہم نے ان فرشتوں سے بھی کہا جو کہ زمین پر تھے کہ آدم ؑ کے سامنے سجدہ تحیت کرو تو سوائے ان کے سردار ابلیس کے اور سب نے سجدہ کیا، ابلیس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنا اپنی بڑائی کے خلاف سمجھا اور انکار کردیا۔
Ayah 20:117

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ آدم یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے تو یہ کہیں تم دونوں کو بہشت سے نکلوا نہ دے پھر تم تکلیف میں پڑجاؤ

(117) پھر ہم نے کہا اے آدم یاد رکھو کہ یہ تمہارا اور تمہاری بیوی حضرت ”حوا“ کا دشمن ہے اس کے کہنے سے کوئی کام ایسا نہ کرنا کہ جنت سے باہر نکال دیے جاؤ اور مصیبت میں پڑجاؤ۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تم کو یہ (آسائش) ہوگی کہ نہ بھوکے رہو نہ ننگے

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ

(118۔ 119) یہاں جنت میں تو آپ کے لیے یہ آرام ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے ہو گے اور نہ کپڑوں سے ننگے ہو گے اور نہ یہاں پیاسے ہو گے اور نہ دھوپ میں تپوگے یا یہ کہ یہاں پسینے آئیں گے۔