Ayahs 3:179–180ترکیب : ماکان اللّٰہ خبر کان کی محذوف تقدیرہ ‘ ما کان اللہ مرید الآن یذر المومنین لیذر خبر نہیں ہوسکتی۔ یذر کی اصل یوذر تھی یدع کی مشابہت سے و حذف ہوا ورنہ یہاں کوئی علت حذف نہ تھی اور یذر کی ماضی نہیں آتی کیونکہ ترک اس کا کام دیتا ہے الذین یبخلون الخ فاعل لا یحسبن خیرا مفعول ثانی ہے ھو ضمیر فصل مفعول اول البخل محذوف یا ھو۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے احد کے معرکہ کا منافق بھی یہ کہتے تھے کہ اگر نبی برحق آنحضرت ﷺ ہوتے تو یہ حوادث پیش نہ آتے۔ نہ یہ مصائب اٹھانے پڑتے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں تسلی کرتا ہے کہ احد کے روز شکست کھانا بہت سے لوگوں کا قتل ہونا اور بہت کا زخمی ہونا اور پھر اس حالت میں ابو سفیان کے مقابلہ کو نکلنا اور بدر صغریٰ میں وعدہ پر جانا ‘ ادھر کھانے پینے اور افلاس کی سخت تکلیفات پیش آنی ‘ یہ سب باتیں کسوٹی ہیں۔ کھرے اور کھوٹے کے لئے خدا کو یہ منظور نہ تھا کہ اے مسلمانو ! تم کو بغیر امتیاز کئے تمہارے اسی حال پر تم کو چھوڑ دیتا اور اس دنیادار تکلیف میں کھرے کھوٹے کا ایسے حوادث سے امتحان نہ کرتا۔ اس پر خیال ہوتا تھا کہ اس امتحان میں خدا تعالیٰ کی کیا حکمت ہے۔ یوں ہی لوگوں کو مطلع کیوں نہیں کردیتا کہ فلاں جہنمی ہے فلاں امتحان میں کامل نکلے گا۔ فلاں ناقص اس کے دفعیہ میں فرماتا ہے کہ اس کی حکمت کا یہ بھی مقتضی نہیں کہ وہ تم کو امور غیب پر مطلع کرے۔ جو باعث فساد انتظام عالم ہوجائے لیکن وہ اپنے رسولوں کو مخصوص کرتا ہے یعنی ان کو جس قدر چاہتا ہے اسرار غیب پر مطلع کردیتا ہے۔ سو تم کو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا چاہیے اور اگر تم ایمان لائو اور تقویٰ کرو گے تو تم کو اجر عظیم عنایت ہوگا۔ حقیقت میں جو شخص دنیا میں ایمان کا دعویٰ کرے یا اس کی محبت کا دم مارے اور پھر امتحان کی کسوٹی پر کھینچے جانے سے حذر کرے اور چند مصائبِ فانیہ سے اس کا نشہ ہرن ہوجاوے وہ جھوٹا ہے۔ اس کے بعد جہاد کی تقویت کے لئے اس میں مال صرف کرنے کی تاکید فرماتا ہے اور جو لوگ ہاتھ روکتے اور بخل کرکے خوش ہوتے ہیں کہ ہماری جمع بنی رہے ان کو خبر دیتا ہے کہ وہ اپنے اس بخل پر نازاں نہ ہوں۔ یہ ان کے حق میں اچھا نہیں بلکہ برا ہے۔ قیامت کے روز اس حبّ مال اور بخل کو متشکل کیا جاوے گا اور جس طرح یہ حبّ مال اور بخل ان کے گلے میں پڑا ہوا ہے کہ کسی وقت دور نہیں ہوتا اسی طرح وہاں اس کا طوق بنا کر گلے میں ڈالا جاوے گا جس طرح خواب میں معانی جزئیہ اپنی مناسب صورت میں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اعمال بھی قیامت کو بلکہ مرنے کے بعد اپنے مناسب صورتوں میں ظہور کریں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ اے بنی آدم ! تم مال پر کیوں بخل کرتے ہو۔ آخر ایک روز فنا ہے سب تم مر جائو گے سب کا وارث اللہ ہی رہے گا یعنی اس کے سوا اور کوئی لینے والا باقی نہ رہے گا یا میراث سے مراقبہ ہے سب کچھ اسی کا ہے پھر تم بیگانی چیزوں میں کیوں بخل کرتے ہو۔ بمآ اتہم اللہ من فضلہ سے مراد دل یا عام علم و حکمت وغیرہ ہے کیونکہ ان چیزوں میں بھی بخل کرنا ناجائز ہے۔
Ayahs 3:181–184ترکیب : وقتلہم معطوف ہے ماقالوا پر قتل مصدر مضاف ہے فاعل کی طرف الانبیاء مفعول ذلک مبتداء بما قدمت خبر اے مستحق بما قدمت الذین قالوا بدل ہے پہلے الذین سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اس بات کی تاکید تھی کہ اللہ کی راہ میں مال صرف کرنا چاہیے ٗ بخل اچھا نہیں۔ اس کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے ترغیب دی اور فرمایا کہ جو کوئی دیتا ہے اللہ کو دیتا ہے۔ اس پر مدینہ کے یہود نے سن کر مضحکہ کیا اور کہا کہ کیا اللہ فقیر ہے جو بندوں 1 ؎ سے مانگتا ہے۔ دوسرا شبہ تھا کہ اگر محمد ﷺ سچے نبی ہیں تو ایسی قربانی کریں کہ جس کو آگ آسمان سے اتر کر کھا جاوے۔ خدا نے ہم سے عہد کیا ہے کہ اس وقت تک ہم کسی نبی کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ وہ ایک قربانی نہ ذبح کرے اور اس کو آسمان سے آگ اگر نہ کھا جائے جیسا کہ ہمارے انبیاء کے عہد میں ہوا کرتا تھا۔ یہاں ان دونوں باتوں کا جواب دیتا ہے کہ جو لوگ یہ گستاخی کرتے ہیں ہم اس کو سن رہے ہیں۔ ہم اس کو ان کے نامہ اعمال میں لکھتے جاتے ہیں اور وہ جو ان کے بزرگوں نے انبیاء ناحق قتل کئے ہیں اور یہ بھی اس کے پسند کرنے کے سبب اس میں شریک ہیں اس کو بھی ہم لکھ رہے ہیں یعنی یہ گستاخی کچھ نئی بات نہیں۔ یہ لوگ پشتی بدمعاش اور خدا کے نافرمان ہیں (اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جن کا معجزہ آتشی قربانی انہوں نے دیکھا تھا اس کے ساتھ بجز قتل کے اور کیا سلوک کیا تھا) بعد موت کے ہم ان کو کہیں گے عذاب حریق کا مزہ چکھو اور یہ تمہارے اعمالِ بد کا نتیجہ ہے ٗ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے۔
دوسرے شبہ کی نسبت فرماتا ہے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس رسول اور بہت سے معجزات اور خاص یہ معجزہ کہ جس کے تم خواستگار ہو لے کر آئے ہیں اور صحیفے بھی ان کے پاس کھلے کھلے تھے ٗ پھر ان پر ایمان لانا تو درکنار ان کو قتل کر ڈالا۔ پس اگر اے نبی وہ آپ کی تصدیق نہ کریں تو کچھ آپ کا قصور نہیں بلکہ یہ ان کی مستمرہ عادت ہے۔ واضح ہو کہ انبیائِ بنی اسرائیل میں کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ بیل یا اور جانور انہوں نے قربانی کیا تو اس کو غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر کھا گئی اور یہ بات اس کے مقبول ہونے کی عمدہ علامت تصور ہوتی تھی جیسا کہ عہد عتیق کے متعدد مقامات سے پایا جاتا ہے لیکن ان کا یہ کہنا کہ خدا نے ہم سے عہد لے لیا ہے کہ بغیر اس معجزہ دیکھے کے کسی پر ایمان نہ لائیں محض غلط بات ہے۔ کبھی ان سے یہ عہد نہیں ہوا بلکہ مسیح (علیہ السلام) وغیرہ کو اس کی نوبت بھی نہیں آئی۔ چونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے بہت سے معجزات دیکھ چکے تھے ٗ ان کا انکار نہ کرسکے اور ایک نئی بات طلب کی اور یہ طلب عناد سے تھی تو اس لئے سنت اللہ یوں ہی جاری ہے کہ ایسی حالت میں معجزہ نہ دکھایا جاوے جیسا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے صلیب پر چڑھتے وقت معجزہ دکھانے سے انکار کیا تھا۔
1 ؎ آج کل بھی جاہل لوگ قرآنی محاورات اقرضو اللہ قرضًا حسنًا وغیرہ پر یہی اعتراض کیا کرتے ہیں حالانکہ اللہ کو دینے اور قرض دینے سے مراد نیک کاموں میں دینا مراد ہوتا ہے جس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے۔ اس کو قرض سے بطور استعارہ کے تعبیر کرنا کمال بلاغت ہے مگر کوڑھ مغز کے نزدیک عیب ہے۔ 12 منہ۔
Ayahs 3:185–186ترکیب : کل نفس گرچہ نکرہ ہے مگر اس مقام پر مبتدا اور ذائقۃ الموت خبر انما کاف ہے اور اس لئے اجور کم کو فعل کی وجہ سے نصب ہوا اور اگر بمعنی الذی ہوتا تو اجورکم کو رفع ہوتا فمن زحزح الخ شرط فقد فاز جواب ومن الذین اشرکوا معطوف ہے من الذین اوتوا الکتاب پر اذی موصوف کثیرا صفت مفعول ہیں لتسمعن کا۔
تفسیر : قرآن میں مخالفوں کے ایذا پر صبر کرنا جابجا ہے : پہلے تھا کہ اگر یہود نے آپ کی تکذیب کی تو کچھ نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتا ہے کہ یہاں جو کچھ کرتے ہیں کرلیں آخر ہر شخص کو مرنا ہے کس لئے کہ جسم کی رطوبت غریزیہ 1 ؎ کو اس کی حرارت غریزیہ فنا کرتے خود بھی فنا ہوجاتی ہے جس طرح چراغ کا تیل حرارت سے جلتے جلتے اس درجہ پر پہنچتا ہے کہ خود چراغ کی لو گل ہوجاتی ہے یہ چار مخالف عناصر کب تک جمع رہیں گے انفکاک ترکیب ہوگا۔ اگلے کہاں رہے ہیں جو یہ رہ جائیں گے۔ اس میں اشارہ ہے کہ روح باقی رہے گی کیونکہ نفس کو موت کا مزہ چکھنے والا فرمایا سو موت کے وقت اس کا باقی رہنا چاہیے۔ پھر روح جب اس عالم سے وہاں جاوے گی تو اپنے اعمال کا پورا بدلہ پاوے گی مگر قیامت میں کہ جب اس عالم عنصری کا وجود نہ رہے گا جو عذاب سے بچا اور جنت میں گیا اس نے اپنے اس دنیا میں آنے کی مراد پا لی اور نہ اس کا یہ سفر اکارت گیا اور جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کے عیش و آرام اور مال و دولت ‘ زن و فرزندہی کو اصلی مراد سمجھتے ہیں وہ دھوکے میں ہیں۔ یہ سب چیزیں عالم خواب کے عیش و آرام کی طرح چند روز کے بعد خواب ہوجاویں گی۔ پھر اس بےبنیاد چیز کے نشہ میں اس عالم کے ہادیوں کا انکار کرنا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ حقیقت میں یہاں کے عیش و آرام کچھ بھی نہیں۔ ہر مزہ میں تلخی ملی ہوئی ہے۔ اول تو ہر دم فنا جسم کا تغیر آواز جرس بن رہا ہے۔ پھر اگر مال ہے تو تندرستی نہیں اور یہ ہے تو وہ نہیں سب مرادیں کسی کو بھی حاصل نہیں ہوتیں۔ سو اس تمام عیش و خوبی کا گھر عالم روحانی ہے۔ اس لئے کاملین موت کے مشتاق رہتے ہیں۔ اس تسلی کے بعد فرماتا ہے کہ اے ایماندارو ! یہ عالم دار امتحان ہے۔ تم کو جانی اور مالی تکلیفیں یہاں اٹھانی پڑیں گی۔ اہل کتاب اور مشرکین کے طعن اور کلمات جان سوز بھی سننے پڑیں گے۔ ثابت قدم رہنا چناچہ ایسا ہی ہوا اور آج تک ہو رہا ہے۔ پادری اور متعصب ہنود وغیرہم سینکڑوں برچھیاں مسلمانوں کے دلوں پر مارتے تھے اور مارتے ہیں۔ ہزاروں جھوٹی باتیں لکھ کر اسلام پر دھبہ لگاتے ہیں۔ عجب عجب پہلو سے آنحضرت ﷺ اور اسلام اور قرآن کی ہجو کرتے ہیں۔ پھر فرماتا ہے اگر تم ان باتوں پر صبر کرو اور علم اور پرہیزگاری سے کام لو تو یہ بڑی عمدہ اولوالعزمی کی بات ہے۔ جہاد کے موقع پر جنگ کرنا اور بات ہے عموماً برتاوے میں علم اور تواضع کرنا اور بات ہے۔ اس کی بھی جا بجا قرآن میں تعلیم 2 ؎ ہے۔
1 ؎ اصلیہ 12
2 ؎ قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجعون ایام اللہ مسلمانوں سے کہہ دو کہ کافروں کو معاف کیا کریں وقال ادفع بالتیھی احسن کہ بدی کے مقابلہ میں نیکی کرو۔ وغیرہا من الایآت 12
Ayahs 3:187–189ترکیب : لتبیننہ کا مرجع عند البعض کتاب ہے۔ بعض کے نزدیک نبی (علیہ السلام) ہیں۔ وراء ظرف ہے نبذوا کا لاتحسبن بالتاء خطاب للنبی اولکل من یصلح للخطاب ‘ انت ضمیر اس کی فاعل اور الذین صلہ و موصول مع معطوف مفعول اول خیرًا مفعول ثانی محذوف یا لاتحسبن ثانی اسی کا اعادہ ہے۔ ھم مفعول اول بمفازۃ مفعول ثانی مفازۃ مفعلۃ ہے یعنی ظرف مکان من العذاب متعلق کے ہو کر مفازۃ کی صفت اور اگر مفازۃ کو مصدر میمی مانا جاوے تب اسی کے ساتھ متعلق ہے۔
تفسیر : صبر اور پرہیزگاری جس کا حکم دیا تھا اور اس کو ہمت کے کاموں میں سے بتایا تھا ‘ یہود میں سے جاتی رہی تھی۔ جس کا ذکر آیات میں کیا جاتا ہے۔ واذ اخذ اللّٰہ کہ خدا نے اہل کتاب سے عہد لے لیا تھا کہ کتاب کو لوگوں سے چھپانا نہیں بیان کردینا مگر دنیاوی فوائد کے لحاظ سے اس عہد کو پس پشت پھینک دیا۔ عہد کے بدلہ جو دنیا خریدی کیا ہی برا سودا کیا۔ پھر ان میں صبر اور پرہیزگاری کہاں رہی۔ دنیا کے لالچ میں ایمان بھی برباد کر بیٹھے۔
علمائِ اہل کتاب پر ہوا پرستی اور دنیا طلبی یہاں تک غالب آگئی تھی کہ وہ جیسا موقع دیکھتے ویسا ہی فتویٰ دے دیا کرتے تھے۔ حق گوئی بالکل جاتی رہی تھی اور لطف یہ تھا کہ اپنی اس کرتوت پر بھی خوش ہوتے تھے بلکہ اس بات پر مدح و ستائش کے مستحق بنتے تھے کہ دیکھو ہم کیسے ہوشیار ہیں ٗ دین کی آڑ میں دنیا حاصل کرتے ہیں۔ فرماتا ہے کہ وہ اس چالاکی اور دین فروشی سے چاہیں کہ خدا کی مار اور اس کی سزا سے
بچ جائیں ٗ ہرگز نہ بچیں گے۔ ان کو اس فعل کی سزا ملنی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کیونکہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی تو اللہ ہی کے لئے ہے۔ اس کی عدالت کا یہی تقاضا ہے۔ اس کے اقتدار وقدرت سے بھی کوئی باہر نہیں۔ جو کسی تدبیر و حیلہ سے اس کی سزا سے بچنا چاہے تو نہیں بچ سکتا۔ اس بات سے ڈرنا ہی تو اصل پرہیزگاری ہے جس کو وہ کھو بیٹھے۔ اے مسلمانو ! تم نہ کہہ دینا اتوا ای فعلوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا اور اصل ستائش و حمد تو عمدہ باتوں پر ہوتی ہے۔ سو وہ انہوں نے کیں نہیں اور کیا تو برا کام کیا پھر اس پر وہ ستائش کرانا چاہتے تھے سو یہ نہایت بدبات تھی۔ گویا عیب کو ہنر سمجھ کر مدح کا مستحق بننا ہے۔ معاذ اللہ جس میں یہ لاعلاج مرض پیدا ہوجائے کہ وہ عیب کو ہنر سمجھ کر اپنے آپ کو تعریف کا مستحق سمجھے ایسے لوگوں سے صلاحیت کی کیا امید۔ اس بیان میں صبر و پرہیزگاری کی عدمی جانب بھی بیان کردی جو یہود میں تھی۔ کس عمدہ پیرایہ سے کہ جس کا یہود بھی انکار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ خود ایسا کرتے تھے اور بھی ظاہر کردیا کہ اصل تقویٰ خدا کو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ اور ہر چیز پر قادر سمجھ کر اعمالِ بد کی سزا سے ڈرنا ہے اور اس میں انسان کو ہلاک کرنے والی خصلت سے بھی آگاہ کردیا۔ وہ کیا عیب کو ہنر اور قابل مدح سمجھنا۔
Ayahs 3:190–195ترکیب : فی خلق السموت الخ خبر ان لاٰیت اس کا اسم الذین الخ صفت یا بیان ہے اولی الالباب کا۔ قیاما اور قعودا حال ہیں فاعل یذکرون سے اور علی جنوبہم بھی محذوف ہے متعلق ہو کر حال ہے۔ اے کائنین علی جنوبہم۔ ویتفکرون معطوف ہے یذکرون پر۔ باطلا اسم فاعل بمعنی مصدر کا لعاقبۃ یہ مفعول لہ یا حال ہے ہذا کا مشار الیہ خلق ہے۔ تدخل النار شرط فقد اخزیتہ جواب مجموعہ خبر من ینادی صفت ہے مناد کی ‘ من ذکر اوانثٰی بدل ہے منکم سے بعضکم من بعض مستانف ہے یا حال ثواباً تمیز یا حال۔
تفسیر : اور جانب وجودی کو ان آیات میں اپنے صفات جلیلہ اور پرہیزگاروں کے رویہ عبادت و ذکر و دعاء سے ثابت فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار خدا پرست ایسے ہوتے ہیں کہ ان فی خلق السموت والارض ” بیشک جو کچھ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں خدا کے نشان قدرت ہیں “ ایک مادہ سے مختلف اشیاء کس حکمت سے بنائی ہیں۔ واختلاف الیل والنہار اور جو کچھ رات اور دن کے بدلنے میں نشان قدرت ہیں کہ نیرات عظام کو کس عمدگی اور فوائدِ بشریہ سے لئے ہوئے کس قادر مطلق نے حرکات و سکنات پر کس طرح سے مامور کردیا ہے۔ کبھی دن اور رات بڑی کبھی چھوٹی کبھی سرد کبھی گرم ہوتے ہیں اور یہ تغیر بتا رہا ہے کہ دنیا کی کسی حالت کو بھی بقاء و دوام نہیں چہ جائیکہ انسان کو۔ ان سب میں غور و فکر کرنے سے اس کی قدرت و کمال کی بڑی بڑی نشانیاں اور دلائل معلوم ہوتے ہیں مگر کس کے لئے لاولی الالباب عقلمندوں کے لئے نہ کہ حمقاء و جہلاء کے لئے جو حیوانوں جیسی آزاد زندگی پر فریفتہ ہیں لذائذِ حسیہ ہی ان کا مقصود اصلی ہے۔ وہ عقلمند جو اصلی خدا ترس اور پرہیزگار ہیں کون ہیں اور ان کے کیا صفات ہیں ؟
الذین یذکرون اللّٰہ وہ جو ان آیات قدرت میں غور کرنے کے بعد ان سب سے خدائے قادر کا وجود برحق مان کر اس کو یاد کرتے ہیں پھر نہ صرف عمر بھر میں ایک دو بار یا برسوں اور مہینوں اور ہفتوں میں بلکہ قیاما وقعودا ہر حال میں کھڑے اور بیٹھے (اسلامی نماز اس قسم کے ذکر کو حاوی ہے) بلکہ وعلٰی جنوبہم لیٹے ہوئے بھی اس سے غافل نہیں اور نہ صرف ذکر ہی کرتے ہیں بلکہ ویتفکرون فی خلق السموات والارض لیٹے ہوئے جب آسمانوں اور نیرات عظام کو دیکھتے ہیں پھر زمین کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ان کی پیدائش میں غور و فکر کرکے یہ کہتے ہیں ربنا ما خلقت ھذا باطلا کہ ” اے ہمارے رب تو نے اس عالم کو بیکار اور غلط کاری سے پیدا نہیں کیا ہے “۔ ہر ہر چیز میں صدہا مصلحتیں ملحوظ رکھی ہیں۔ یہ کسی بےشعور طبیعت یا کسی لایعقل مادہ یا کسی مجہول الحال نیچر کا کام نہیں سبحانک تو اس لغو اور باطل آفرینش کی تہمت سے پاک ہے اور جو لوگ باوجود عقل خداداد کے ان نشان قدرت میں غور نہیں کرتے اور عالم کو از خود پیدا شدہ جانتے ہیں یا خدا کے سوا ان کی پیدائش اور کی طرف منسوب کرتے ہیں یا کچھ فکر بھی نہیں کرتے یہ کام جہنم میں جانے کا ہے۔ پھر اے ہمارے رب ! وقنا عذاب النار ہم کو جہنم کی آگ سے بچانا ہم آپ ہی کو خالق ومالک مانتے ہیں کیونکہ جس کو تو نے جہنم میں داخل کیا تو اس کو برا ہی رسوا کیا جس سے زیادہ اور کوئی رسوائی اور ذلت نہیں اور ایسے ظالموں کا جو ایک کا حق دوسرے کو دیتے ہیں۔ خدا کے صفات مخلوق میں ثابت کرتے ہیں۔ وہاں ان کا کوئی بھی مددگار اور بچانے والا نہیں جن کو وہ مددگار سمجھ کر پوجتے تھے کسی کی بھی مجال نہ ہوگی کہ اس کے سامنے دم بھی مارے اور صرف ہماری ہدایت کا یہی سبب نہیں کہ ہم نے عالم کے احوال میں نظر کرکے خدا کو پہچان لیا اور اسی کو کافی سمجھ بیٹھے ہوں بلکہ سمعنا منادیا کہ ہم نے ایک منادی کو سنا۔ ینادی جو آواز دیتا تھا کہ ان امنوا بربکم اپنے رب پر ایمان لائو فامنا ربنا سو اے رب ہم ایمان لے آئے۔ اس کی مخالفت نہ کی۔ منادی خدا سے مراد نبی یا اس کے نائب اور قرآن مجید ہے اور دل میں بھی خدا کا منادی فرشتہ خیر کی طرف آنے کی آواز دیا کرتا ہے۔ اس کی آواز کو بھی وہی سنتے ہیں کہ جن کے دل میں ادراک باقی ہے۔ یہاں سے کس لطف کے ساتھ نبوت کی ضرورت بھی ثابت کردی اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عالم غیب کے حالات صحیح بغیر نبی کے معلوم نہیں ہوسکتے کیونکہ قوت و ہم یہ حق بات پر بھی دوسرا رنگ چڑھا کر دکھا دیا کرتی ہے۔ اب اے خدا ہمارے گناہ جو بتقاضائے بشریت ہم سے ہوگئے ہیں ٗ معاف کر دیجئے اور ہماری برائیاں اور سیہ کاریاں سرے سے مٹا ہی ڈالئے اور ہم کو آیندہ بھی اس رستہ پر قائم رکھ کہ موت بھی آئے تو نیک لوگوں کے زمرہ میں ہو کر آئے اور اے ہمارے رب ! جو کچھ تو نے ہمارے لئے اپنے رسول کی معرفت عالم جادوانی کی بابت وعدہ فرمایا ہے وہ ہم کو دینا ہمارے گناہوں کے سبب محروم نہ کردینا۔ خوف تو یہی ہے تیرے وعدہ کی بابت ذرا شبہ نہیں کس لئے کہ تو ہرگز وعدہ کے خلاف نہیں کیا کرتا اس کے جواب میں خدا بھی ان کو ان کی دعا مستجاب ہونے کا مژدہ دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہم بھی کسی کی محنت رائیگاں نہیں کیا کرتے۔ ان کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ اس میں کسی کی خصوصیت نہیں خواہ مرد ہو خواہ عورت خواہ غریب ہو خواہ امیر شریف ہو خواہ رذیل کس لئے کہ خدا کے نزدیک بعضکم من بعض سب انسان ایک نسل کے ہیں اور بلحاظ انسانیت یکساں ہیں۔ مراتب میں عند اللہ فرق ہے تو ان کے اعمال و ایمان ہی کے سبب سے ہے۔ فالذین ھاجروا پھر جس نے ہجرت کی خدا کے لئے وہ وطن کہ جہاں خدا پرستی نہیں کرسکتے تھے ٗ چھوڑ دیا اور خدا کے ممنوع کام بھی چھوڑ دیے اور وہ اپنے گھروں سے بجرم خدا پرستی نکالے گئے اور اسی لئے ستائے گئے اور مقابلہ کی اجازت کے بعد پھر وہ بھی خدا پرستی کو رواج دینے کے لئے لڑے یا اس لڑائی میں مارے گئے اور شہید ہوگئے تو میں بھی ان کے گناہ دفتر سے مٹا ہی ڈالوں گا اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو مرنے کے بعد ایسے عمدہ باغوں میں لے جا کر رکھوں گا کہ جن کے تلے نہریں پڑی بہہ رہی ہوں گی۔ یہ بدلہ ہوگا خدا کی طرف سے اور خدا کے پاس بہت عمدہ بدلہ ہے۔ تھوڑی سی نیکی پر بھی وہ بدلہ دیتا ہے۔ جو کوئی کیا دے گا۔ حیات جاودانی جس کی ادنیٰ چیز کی بھی دنیا بھر قیمت نہیں ہوسکتی ٗ کیسا بڑا بدلہ ہے۔
Ayahs 3:196–200ترکیب : متاع قلیل خبر ہے مبتداء محذوف کی اے تقلبہم متاع قلیل لکن مخفف اور مثقل دونوں طرح سے آیا ہے خالدین حال ہے لہم سے اور عامل معنی استقرار ہیں جنت موصوف و صفت مبتدا لہم خبر من اھل الکتاب خبر ان لمن یومن اسم خاشعین حال ہے ضمیر یؤمن سے اور جمع بلحاظ معنی لفظ من ہے۔
تفسیر : ان پرہیزگاروں کے مقابلہ میں ان لوگوں کو دکھایا جاتا ہے کہ جو صرف دنیاوی جاہ و حشمت پر مغرور ہو کر ملک میں اکڑتے پھرتے ہیں جو ایک بہت ہی قلیل پونجی ہے اور نیز مشرکین اپنے دنیاوی عیش و آرام پر نازاں ہو کر فقرائِ مہاجرین و انصار سے جن پر تنگدستی بےامنی محیط تھی طعن کے طور سے کہا کرتے تھے کہ تمہاری خدا پرستی اور پرہیزگاری دیکھی تم سے ہر حال میں ہم بہتر ہیں۔ عیش و آرام میں بلا قید حلال و حرام ہر طرح کے مزے اڑاتے ہیں نہ روزہ نماز کی تکلیف ‘ نہ راتوں کو جاگنے دعا مانگنے کا جھگڑا۔ جب تم کو یہیں کچھ نہیں ملا تو وہاں کیا ملے گا۔ صرف توہمات اور خیالی باتوں پر شادماں ہونا اور مصائب اٹھانا ان ہی احمقوں کا کام ہے کہ جن کو محمد ﷺ نے اپنے جادو سے دیوانہ کردیا ہے۔ ان کے خیال باطل کا رد کیا جاتا ہے کہ لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد اے مخاطب تم ان کے ملک میں اس اکڑتے پھرنے سے اور اس قدر قلیل جاہ و عیش سے جو آخرت اور نعیم باقیہ کے مقابلہ میں ہیچ ہے دھوکہ میں نہ پڑجانا کہ پرہیزگاری اور خدا پرستی کا کوئی عمدہ نتیجہ نہیں۔ متاع قلیل یہ ایک تھوڑا سامان ہے اور بہت ہی بےثبات بھی ہے۔ خدا نے اپنی کسی مصلحت سے ان کو دے رکھا ہے۔ اس پر نظر بھی نہ ڈالنا۔ ثم وماوھم جہنم وبئس المہاد تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے۔ یہ چند روزہ کامرانی ہے لکن الذین اتقوا ربہم لیکن کامرانی اور حیات جاودانی تو ان کے لئے ہے جو اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور اسی کے لئے خدا پرستی اور پرہیزگاری کرتے ہیں لہم جنت تجری من تحتہا الانہار ان کے لئے ایسے باغ تیار ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے۔ وہ اس دنیا میں مسافرانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ مسافر کو اصلی مقام کی راحت کا خیال ہونا چاہیے۔ یہ لوگ جب اس سفر دنیا سے اپنے مقام پر آئیں گے تو یہ سامان ان کو نزلا من عند اللہ خدا کی طرف سے مہمانی میں ملیں گے اور ان چیزوں کے اور جو کچھ چیزیں خدا کے پاس ہیں ابرار یعنی نیکوکاروں کے لئے موجود ہیں وہ کہیں بہتر ہیں۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس عالم میں کسی کو بھی بقاء نہیں لاکھوں کو مرتے دیکھتے ہیں پھر رہی یہ بات کہ یہاں کے بعد کوئی اور عالم بھی ہے کہ جہاں ہم کو جانا اور جا کر اپنے اعمال کا نتیجہ پانا ہے جس کی اس کے رسولوں نے خبر دی ہے تو پھر ان نعمتوں کے مقابلہ میں اس چند روزہ سامان پر بس کرنا سخت نادانی ہے۔ اس بات پر سوائے دلائلِ عقلیہ کے تمام سلسلہ انبیاء کی بھی شہادت بس ہے کہ جس کو بعض اہل کتاب ادا کر رہے ہیں اور وہ کون ہیں لمن یومن باللّٰہ الخ کہ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ مسلمانوں کی طرف بھیجا گیا ہے یعنی قرآن اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور اس میں اس بات کی صاف تصریح کی ہے کہ وہ اللہ سے بھی ڈرتے رہتے ہیں اور خدا کی آیات کو تھوڑے داموں سے بھی نہیں بیچتے۔ دنیا جتنی کچھ ہو تھوڑے دام ہیں سو ان کے لئے بھی ان کا اجر خدا کے پاس ہے۔ یاں خدا ترس اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے نبی خاتم الزماں کی تصدیق کی تھی جیسا کہ یہود میں عبداللہ بن سلام اور عیسائیوں میں سے حبشہ کا بادشاہ نجاشی وغیرہم ؓ اور ممکن ہے کہ اہل کتاب کے نقص بیان کرنے کے بعد ان میں سے خدا پرستوں کو مستثنیٰ کیا گیا جو انصاف کا مقتضٰی ہے اس کے بعد پھر مسلمانوں کی طرف روئے سخن کرکے ان کو صبر اور خدا پرستی پر قائم رہنے اور پرہیزگاری پر ثابت رہنے کی طرف متوجہ فرما کر کلام کو کس خوبی سے تمام کردیا۔ بقولہ یایہا الذین امنوا اصبروا الخ کے ان کو پڑا بکنے دو تمہارا جو کام ہے وہ کئے چلے جائو۔ واضح ہو کہ انسان کے دو حال ہیں ایک دنیا کا معاملہ ‘ دوسرا خدا کا معاملہ۔ پھر دنیا کے معاملہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اپنے اوپر مشقت گوارا کرنا دوسرے کو تکلیف نہ دینا۔ ایک یہ کہ اس کے علاوہ کچھ اور بھی سلوک و احسان کرنا پھر اس کی بھی دو قسم ہیں۔ اول یہ کہ خاص اپنی ذات سے علاقہ رکھے۔ سو اس کو تو اصبروا میں ذکر کیا۔ صبر نفس کو روکنا اور برداشت کرنا ہے۔ پھر اس صبر کے بہت سے اقسام ہیں۔
صبر کے اقسام : (1) یہ کہ توحید اور عالم آخرت کے پہچاننے میں جو کچھ غور اور فکر کرنے میں مشقت ہو اس پر صبر کرے۔ (2) واجبات کے ادا کرنے میں جو مشقتیں پیش آئیں روزہ میں بھوک پیاس ‘ جہاد میں گرمی میں چلنا دشمن سے لڑنا ‘ تبلیغ احکام میں وعظ و پند اور دین کی منادی میں جاہلوں کی بدکلامی سننا سب پر برداشت کرے۔ (3) نفس کی خواہش روکنے میں جو کچھ مشقت پیش آوے اس پر صبر کرے حسین عورت کی طرف حرام کرنے کے لئے دل مائل ہو اس کو روکے۔ الغرض منہیات سے بچنے میں کوشش کرے۔ (4) مصائبِ دنیا مرض ‘ موت ‘ قحط ‘ تنگدستی ‘ خوف ‘ وغیرہ مصائب پر برداشت کرے۔ سب باتیں اصبروا میں شامل ہیں۔ وہ جو اوروں سے علاقہ رکھتی ہیں۔ اس میں یہ ہے کہ گھر کے لوگوں اور ہمسایہ اور اہل شہر اور قوم کے اخلاق رذیلہ پر برداشت کرے۔ انتقام لینے میں اور غصہ کے فرو کرنے میں دل کو روکے رکھے یہ سب باتیں صابروا میں آگئیں۔ رہا دوسروں پر احسان کرنا صلہ رحمی وغیرہ سو وہ رابطوا میں آگئیں۔ ربط کہتے ہیں باندھنے اور لگانے کو خواہ دل کو محبت الٰہی سے باندھے یا جہاد میں گھوڑے باندھے یا شب کو مخالفوں کے لئے پہرہ دینے پر دل کو باندھے یا انتظار صلوٰۃ میں دل لگاوے یا عزیز قریبوں سے واسطے قائم رکھے۔ اس لفظ میں سب معنوں کی گنجائش ہے اور اسی لئے ہر ایک مفسر نے ان میں سے ایک معنی اختیار کئے ہیں اور احادیث میں بھی ہر معنی کی طرف اشارہ ہے۔ رہا خدا کا معاملہ سو وہ اتقوا اللّٰہ میں آگیا۔ ایک جملہ میں حکمت نظریہ اور حکمت عملیہ اور ان کی جمیع اقسام تہذیب اخلاق ‘ سیاست مدن ‘ تدبیر منزل وغیرہ سب کو جمع کردیا اور پھر حکمت کے ثمرہ فلاح کی طرف بھی کس مجمل لفظ میں اشارہ کیا جو ہر قسم کی فلاح کو شامل ہے۔ فلاح دنیا اور فلاحِ آخرت سب آگئیں۔
اس سورة میں مبداء اور معاد دار آخرت کے حالات ‘ خدا کے صفات ‘ نیکی کے نتائج اور نیکوں کا رویہ اور بد لوگوں کا انجام ‘ اشاعت دین میں استقلال انبیاء اور ان کے پیرئوں کے مختصر واقعات بیان کرکے سعادت کے عمدہ نتیجہ فلاح پر کس خوبی سے کلام تمام کیا ہے اور ہر ایک مضمون کو دوسرے سے عجب مربوط کیا ہے۔