Ayahs 3:106–108ترکیب : یوم ظرف ہے عظیم کا یالہم کا یا اذکر محذوف کا۔ فاما الذین جواب اما کا محذوف ای فیقال لہم اکفرتم اور أ توبیخ کے لئے ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔
تفسیر : اختلاف باہمی اور تفریق حرام ہے : جبکہ اگلی آیت میں باہمی اتفاق کا حکم دیا اور اس اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے ایک جماعت ناصحین کا قائم ہونا فرض کیا تو اس جگہ اختلاف سے تاکیداً منع فرمایا جس طرح اس حکم کو اولا اتقوا اللہ کہہ کر محکم کیا تھا اسی طرح بعد میں لہم عذاب الیم اور آخرت میں سیاہ روئی سے ڈرایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ادنیٰ ادنیٰ چیزوں کے اجتماع میں خدا نے برکت رکھی ہے۔ دیکھئے جب چند بالوں کو باہم ملا لیتے ہیں تو وہ کمزور بال مل کر مضبوط رسہ بن جاتے ہیں اور جب متفرق اینٹ پتھروں کو باہم مجتمع کرلیا جاتا ہے تو کیسی مضبوط دیوار بن جاتی ہے پھر سب سے اشرف المخلوقات انسان پھر ان میں سے اہل ایمان کے اتفاق کے تو کیا کہنے ہیں جن کی مجتمع روشنی عالم کو کس قدر منور کرتی ہے۔ چونکہ صحابہ نے پورا پورا اس حکم پر عمل کیا تھا ان کے مقدس مذہب کی روشنی تھوڑے سے دنوں میں دنیا
کے کناروں تک پھیل گئی جس سے خدا کی نافرمان سلطنتیں اور سرسبز حکومتیں ان کے ہاتھ میں آگئیں۔ (اب اختلاف کا بدنتیجہ بھی دیکھ لیجئے) دنیا کی ذلت و خواری ‘ آخرت میں عذاب الیم پھر اس کو کس خوبی کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ بیان سے باہر ہے یعنی اے ایماندارو تم یہود و نصاریٰ کی طرح باہم مختلف نہ ہوجائو جن کے پاس خدا کی آیتیں اور ہدایتیں آئیں۔ باوجود اس کے اپنی خواہش نفسانی سے دین میں اختلاف کیا اور سینکڑوں فرقے ہوگئے۔ ایک دوسرے کی تکذیب کرنے لگا جس کا نتیجہ یہ پیدا ہوا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تھوڑے ہی دنوں بعد انجیل جاتی رہی اور یہی حال یہود کا ہوا۔ پھر انجام نوبت کفر تک پہنچی جس کا ثمرہ ان کے لئے عذاب الیم ہوگا جس روز کہ کچھ لوگوں کے منہ منور ہوں گے اور کچھ سیاہ ہوں گے۔ یعنی قیامت کے روز پھر جن کے منہ منور ہوں گے وہ ہمیشہ رحمت یعنی جنت میں رہیں گے اور کفار رو سیاہ سے جہنم میں ملائکہ پوچھیں گے کہ تم کو خدا نے نور بصیرت عطا کیا تھا پھر مطلوب حقیقی کو چھوڑ کر کیوں کفر میں پڑے۔ اپنے اپنے مقاصد شہوانیہ کو کیوں مطلوب بنایا لو اب اس کا مزہ چکھو۔ یوں تو زمین و آسمان کی سب چیزیں خدا کی مملوک ہیں وہ جو چاہے کرے مگر وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اپنے کئے کا ثمرہ اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ احکامِ الٰہی ہیں جن کو فرشتہ اے نبی آپ کو سناتا ہے۔
Ayah 3:1091 ؎ ہر کام کا سلسلہ اسباب اسی کی طرف جا کر منتہی ہوتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 3:110–112ترکیب : کنتم اسکا اسم انتم خیر امۃ خبر ای فی علمی و قیل حرتم کان زائدہ ہے ای انتم خیر امۃ اخرجت الخ امت کی صفت الاذی کا استثناء اشیائِ محذوف سے ہے۔
تفسیر : پیشین گوئی : اول فرمایا تھا کہ جن کے منہ روشن ہوں گے وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ یہاں اس کی وجہ اور علت فرماتا ہے کہ یہ نورانیت تم کو اس لئے حاصل ہوئی کہ تم دنیا میں کمال اور درجہ سعادت حاصل کرچکے ہو۔ برخلاف اہل کتاب کے کہ ان کو یہ سعادت نصیب نہیں۔ گرچہ کسی قدر ان میں ایماندار ہیں مگر اکثر تو فاسق و فاجر ہیں۔ سو اس اتفاق کی بدولت وہ تم کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے مگر کچھ زبانی طعن وتشنیع سے دل شکنی کریں تو کریں اور جو تم سے لڑیں گے بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے بالخصوص یہود تو ایسے ذلیل و خوار ہوں گے کہ دنیا میں ان کو بغیر پناہ 1 ؎ الٰہی یعنی ذمی بننے کے اور بغیر امن لوگوں کے چارہ نہ ہوگا۔ یہ ان کی سرکشی اور نافرمانی اور کفر اور انبیاء (علیہم السلام) کو ناحق قتل کرنے کا نتیجہ ہے۔ اس پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ چناچہ قرون سابقہ میں ہر قوم پر اسلام نے غلبہ پایا۔
اجتماع امت دلیل شرعی ہے : یا یوں کہو کہ انسان جس طرح باہم صورتوں میں مختلف ہیں اسی طرح اختلافِ آرا و اختلاف خواہش ان کی فطرت میں خمیر کیا گیا ہے جس کی اصلاح کے لئے دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) آئے۔ اپنے عہد میں سب کے سربند آنحضرت ﷺ تھے۔ بعد میں قیامت تک اپنا قائم مقام اجماع امت قائم کیا کہ جس طرف جمہور امت ہو وہ حق اور سب کا مرکز ہے۔ تمام اختلاف کا فیصلہ اسی پر ہے اور اس لئے نبی (علیہ السلام) نے احادیث صحیحہ میں جماعت سے الگ ہونے والے کے لئے سخت وعید بیان فرمائی ہے کہ جس نے جماعت کو چھوڑا اس نے اسلام کی رسی اپنے گلے سے نکال ڈالی۔ (مشکوٰۃ) اور اجماع امت کے برحق ہونے کے لئے یہ ضرور ہے کہ امت میں کوئی خوبی اور عصمت ہو۔ اس لئے فرمایا کہ تم اے امت محمد اچھی امت ہو۔ علاوہ اپنی تکمیل کے تم اوروں کے بھی ہادی اور معلم خیر ہو تامرون بالمعروف وتنہون عن المنکر میں قوۃِ عملیہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے وتومنون باللّٰہ میں قوت نظریہ کی تکمیل کی طرف اشارہ ہے اور اسی لئے نبی (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور یہ کہ میری امت کبھی گمراہ نہ ہوگی (رواہ ابن ماجہ)
Ayahs 3:113–116ترکیب : لیسوا کا اسم ضمیر سوا خبر امۃ موصوف قائمۃ صفت مجموعہ مبتدا من اھل الکتاب خبر یتلون اور یومنون وغیرہ حال بھی ہوسکتے ہیں اور جملہ مستانفہ بھی یکفروہ اس کا تعدیہ دو مفعولوں کی طرف ہے یعنی حرمان کی وجہ سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں اہل کتاب کی نسبت یہ تھا منہم المؤمنون و اکثرھم الفاسقون یہاں اس جملہ کے زیادہ تر تشریح فرماتا ہے تاکہ اہل کتاب کو بھی خدا کی فرمانبرداری کی طرف رغبت ہو کہ سب اہل کتاب بھی برابر نہیں ٗ ان میں بھی ایک گروہ ایسا ہے کہ جو سیدھے رستہ پر ہے۔ وہ رات بھر آیات الٰہی پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں اور ان کا اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہے اور وہ اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری باتوں سے منع بھی کیا کرتے ہیں (جیسا کہ یہود میں سے عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ اور عیسائیوں میں سے حبشہ کا بادشاہ نجاشی ؓ اور اس کے ارکان دولت اور کلیسیا عرب کے عیسائی اور وہ نیک بات میں جلد دوڑ پڑتے ہیں۔ اس کے اختیار کرنے میں ان کو رسم اور حبِّ مال و جاہ مانع نہیں آتی۔ چناچہ ان لوگوں نے جب اسلام کے انوار کی تجلی دیکھی اسی وقت بصدق دل اس کو قبول کرلیا) سو یہی لوگ نیک اور دیندار ہیں۔ آیندہ جو کچھ وہ نیک کام کریں گے یا جو کچھ کرچکے ہیں خدا تعالیٰ ان کی ناقدری نہ کرے گا ضرور جزائے خیر دے گا اور جو ان اوصاف حمیدہ سے خالی ہیں گو وہ برائے نام عیسائی یا موسائی یا مجاور خانہ کعبہ قریش ہی کیوں نہ ہوں ان کا مال اور ان کی اولاد بھی ان کے کچھ کام نہ آوے گی۔ ان کو بڑا غرور اور ناز ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل کتاب کا اصل طریق منجانب اللہ اور الہامی ہے سو تمام قوم کبھی ایسی نہیں ہوتی کہ جن کو دینداری اور پرہیزگاری کا خیال نہ ہو بالخصوص ان میں سے با خدا لوگ تو ضرور شب بیداری اور نیک کاموں میں کوشش کرنا اور خدا اور قیامت پر ایمان لا کر دنیا اور اس کے تجملات فانیہ پر دل نہ دھرنا اپنا شیوہ رکھتے تھے۔ چناچہ حضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی اہل کتاب میں ایسے خدا ترس لوگ موجود تھے جنہوں نے حضرت ﷺ پر ایمان لانے میں کوئی حیلہ و حجت نہ کی اور یہی اس آیت کا شان نزول ہے۔ با انصاف طبیعتوں اور اسلام میں ایک جذب مقناطیسی ہے۔ اس لئے چند روز میں بیشمار قومیں اس مذہب میں آگئیں اور آتی جاتی ہیں۔ آج کل کے عیسائی بالخصوص پر اٹسٹنٹ تو شب بیداری اور عبادت و ریاضت اور دعا کو جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کا دستور تھا سب کو ترک کر بیٹھے۔
Ayahs 3:117–120ترکیب : مثل مبتدا کمثل ریح خبر اصابت الخ صفت ہے ریح کی بطانۃ مفعول ہے لا تتخذوا کا من دونکم فعل سے متعلق ہو کر صفت ہے بطانۃ کی اسی طرح لا یا لونکم خبالا تمیز ہے علیکم مفعول عضوا لانامل مفعول ثانی۔
تفسیر : بطانۃ کفار حرام ہے : پہلی آیت میں تھا کہ کفار کو ان کا مال کچھ نفع آخرت میں نہ دے گا۔ اس پر شبہ گذرتا تھا کہ کیوں نہ دے گا حالانکہ وہ غریب یتیم فقیر بےکس کو للہ دیتے ہیں۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے کہ ان کے صرف کرنے کی ایسی مثال ہے کہ جیسا کوئی کھیتی کرے یا باغ لگائے۔ پھر اس کو ہوا اور پالا مار جاوے اور وہ خراب ہوجائے۔ اسی طرح ان کا لیا دیا بیشک کھیتی اور آخرت کے لئے باغ ہے کہ جس سے انتفاع کی امید کامل ہے مگر ان کے کفر کی تند ہوا برف آلود اس کو نیست و نابود کر ڈالتی ہے۔ اس میں کچھ ان پر خدا نے ظلم نہیں کیا بلکہ کفر کرکے خود انہوں ہی نے اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ خیرات کا مدار ایمان و اخلاص پر ہے سو یہ نہیں اس کے بعد ان سے محبت کرنے سے منع کرتا ہے کہ تم ان کو دلی دوست نہ بنائو۔ پھر اس کی چند وجوہ بھی ذکر فرماتا ہے۔ (1) یہ تمہاری مضرت میں کوتاہی نہیں کرتے ہیں۔ (2) تم پر مصیبت پڑنے کو دل سے چاہتے ہیں۔ (3) ان کے منہ سے بعض باتیں نکلتی ہیں اور دلی بغض اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ (4) تم ان سے محبت رکھتے ٗ یہ تم سے نہیں رکھتے۔ (5) تم کل کتاب الٰہی پر ایمان رکھتے ہو یہ نہیں رکھتے۔ (6) جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور تنہائی میں تم پر غصہ کے مارے انگلیاں چباتے ہیں پھر ان سے دوستی کرنا خلاف عقل ہے۔
فائدہ : بعض کہتے ہیں اس آیت میں منافقین مدینہ مراد ہیں جو اہل اسلام سے دلی عداوت رکھتے تھے۔ بعض کہتے ہیں مدینہ کے یہود مراد ہیں۔ محققین کے نزدیک اس کا حکم عام ہے بطانۃ بطن سے مشتق ہے یہ مصدر ہے اس کا اطلاق ایک پر ہے جماعت پر جب ہوتا ہے جو نہایت رازدار ہوتے ہیں گویا پیٹ میں گھسے ہوئے ہیں سو ایسی دوستی کفار سے مطلقاً حرام ہے۔ خبال بمعنی فساد و نقصان۔
Ayahs 3:121–123ترکیب : واذ اس کا عامل اذکر محذوف ہے من اھلک میں من ابتداء غایۃ کے لئے تبوی حال ہے یہ مفعول ثانی کی طرف بلاواسطہ حرف جر متعدی ہے اول مفعول اس کا المؤمنین اور ثانی مقاعد ان تفشلا اے بان تفشلا۔
تفسیر : اس جگہ ایک اور بھی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ ناخوش ہوتے ہیں اور تمہاری تکلیف و مصیبت سے خوش ہوتے ہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ اگر تم کو کوئی سختی پیش آوے تو خدا سے ڈرو اور صبر کرو۔ ان کا مکر تم کو کچھ نقصان نہ دے گا۔
جنگ احد : اس کے بعد جنگ احد کا وہ قصہ یاد دلاتا ہے جس میں اشارہ ہے کہ دیکھو تم نے اس روز صبر اور تقویٰ نہ کیا تو تم پر مصیبت آئی۔ بہت سے صحابہ شہید ہوگئے ٗ پھر اس سے وہ لوگ دیکھو کس قدرخوش ہوئے۔ اس ناصبری کا نتیجہ یہ مصیبت پیش آئی۔ یہاں تک کہ دو گروہ نے تم میں سے بھاگنے کا قصد ہی کرلیا تھا۔ خدا نے ثابت قدم رکھا ورنہ اللہ تعالیٰ تم کو باوجود قلت و ذلت کے بدر کی لڑائی میں فتح یاب کرچکا ہے۔ اب تم اللہ سے ڈرو تاکہ اس کی شکر گزاری کرنے لگو جو باعث سعادت و مزید نعمت ہے۔
بدر کی لڑائی میں کفار مکہ ہزیمت اٹھا چکے تھے مگر دل میں جوش تھا کہ پھر اہل اسلام سے بدلہ لیا جائے۔ اس لئے شوال کی ساتویں تاریخ ہجرت کے تیسرے سال ابو سفیان ایک لشکر کثیر لے کر مدینہ پر چڑھ آیا۔ صحابہ میں بعض کی یہ رائے ہوئی کہ باہر نکل کر ان سے مقابلہ کرو۔ بعض نے کہا شہر میں رہو اور تیراندازی کرو۔ آخر اول فریق کے کہنے سے آنحضرت ﷺ مع انصار و مہاجرین صبح کو باہر نکلے اور احد پہاڑ جو مدینہ سے دو میل شمال کی طرف ہے اس کے نیچے جمع ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے احد کی گھاٹیوں پر تیر اندازوں کو بٹھانا شروع کیا کہ تم یہاں سے نہ ہلنا تاکہ اس طرف سے کفار ہماری پشت کی طرف نہ آجاویں اور ان کا سردار عبداللہ بن جبیر ؓ کو کیا واذ غدوت الخ کے یہی معنی ہیں۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی اور صحابہ نے احد کی طرف پیٹھ کرکے مقابلہ شروع کیا تو کفار بھاگ نکلے جب تیر اندازوں نے یہ دیکھا تو وہ بھی مورچہ چھوڑ کر کفار کے پیچھے پڑگئے۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ ان کو بلاتے اور منع کرتے جاتے تھے مگر وہ کب سنتے تھے۔ اس نافرمانی اور بےصبری کی شامت سے یہ ہوا کہ گھاٹی خالی دیکھ کر کفار پیچھے سے آگئے اور تیر برسانے لگے اور کفار آگے سے بھی ٹوٹ پڑے۔ عبداللہ بن ابی منافق تو تین سو آدمیوں کے ساتھ بھاگ نکلا اور مسلمانوں کے بھی پیر اکھڑگئے اور قبیلہ بنو سلمہ خزرجی اور بنو حارثہ اوسی نے بھی بھاگ کر جانے کا قصد کرلیا اور خوب تلوار چلی جس سے بہت سے صحابہ حضرت حمزہ وغیرہ ؓ شہید ہوگئے مگر مع چند شخصوں کے آنحضرت ﷺ جمے رہے یہاں تک کہ ایک پتھر آنحضرت ﷺ کے دندان مبارک پر لگا اور دانت ٹوٹ گیا اور سر مبارک میں زخم آیا اور بچانے میں طلحہ ؓ کا ہاتھ لنجا ہوگیا لیکن پھر صحابہ نے پائوں جمایا تو کفار بھاگ اٹھے۔ اس واقعہ کو خدا تعالیٰ یاد دلاتا ہے کہ جو عدول حکمی کا نتیجہ تھا۔ اس ہزیمت کی آنحضرت ﷺ نے اول سے ہی خبر دی تھی۔ فشل 1 ؎ نامردی بھاگنا۔
1 ؎ الفشل الحببن التبوی اتخاذ المنزل یقال بواتہ منزل لا اذلہ جمع ذلیل والمراد بہ القلۃ۔ 12
Ayahs 3:124–127ترکیب : اذ تقول ممکن ہے کہ اذھمت سے بدل ہو اور ممکن ہے کہ نصر کم کا ظرف ہو لیس لک خبر شیء اسم اویتوب او یعذبہم معطوف ہیں یکبتہم پر یا الامر پر یا شیء پر با ضماران اور الان کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : پہلی آیت میں ذکر تھا کہ باوجود یکہ تمہاری حالت نہایت خراب تھی مگر خدا نے بدر کے جنگ میں اسباب ظاہر کے برخلاف تمہاری مدد کی تھی۔ اب یہاں اس مدد غیبی کو یاد دلاتا ہے یعنی مدد غیبی کا وہ دن تھا کہ جس دن اے نبی تم مسلمانوں کو تسلی دے رہے اور یہ کہہ رہے تھے کہ تم اپنی قلت اور بےسرو سامانی اور کفار کی کثرت اور اسباب حرب پر خیال کرکے ہراساں نہ ہو۔ کیا تم کو کافی نہیں کہ خدا تمہاری تین ہزار فرشتے بھیج کر مدد کرے کیوں نہیں اگر تم صبر کرو گے اور اللہ پر توکل کرو گے اور کفار تم پر گو جوش میں آکر یا فوراً حملہ کریں گے تو وہ پانچ ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے گا اور یہ ملائکہ کا بھیجنا بھی کوئی ایسی چیز نہیں کہ تم اسی پر اعتماد کر بیٹھو بلکہ فتح تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو زبردست ہے اور حکمت مدِّنظر رکھ کر کام کرتا ہے۔ یہ تو صرف تمہاری دلجمعی کے لئے ہے اور یہ فتح اس لئے دی کہ کفار کی شوکت ٹوٹ جائے۔ واضح ہو کہ جب نبی ﷺ ابو سفیان کو مع قافلہ گرفتار کرنے کے لئے مع تین سو صحابہ مہاجرین و انصار باہرنکلے اور ابو سفیان کو خبر ہوگئی تو اس نے مکہ میں کہلا بھیجا۔ وہاں جوش پیدا ہوگیا۔ تخمیناً ہزار آدمی پیغمبر (علیہ السلام) کے مقابلہ میں نکلے اور ابو سفیان قافلہ لے کر نکل گیا اور دونوں
لشکروں کا مقابلہ بدر کے میدان میں ہوگیا مگر صحابہ ڈرے کہ ہم کو یہ کیا معلوم تھا کہ اتنی فوج جرار سے مقابلہ آپڑے گا نہ ہمارے پاس کوئی سامان ہے نہ ہتھیار ہیں۔ کیا کریں ؟ جب ان کی یہ حالت حضرت محمد ﷺ نے دیکھی تب یہ فرمایا۔
خدا تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق ہزار فرشتے بھیجے جیسا کہ سورة الانفال میں آیا ہے فاستجاب لکم انی ممدکم بالف الآیہ کہ خدا نے تم کو جواب دیا کہ میں تمہاری ہزار فرشتوں سے مدد کرتا ہوں اور اسی طرح صحیح بخاری اور مسلم اور دیگر کتب حدیث میں آیا ہے کہ بدر کے روز ملائکہ گھوڑوں پر سوار ہو کر کفار سے مقابلہ کرتے ہوئے نظر آئے اور یہ روایتیں بقدر مشترک حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں کہ جن کا مفصلاً بیان کرنا متعذر ہے اور نیز اسی زمانہ میں جبکہ کفار ہزیمت کھا کر مکہ میں واپس گئے تھے تو خود باہم اس بات کے قائل تھے اور اس کو اپنی محفلوں میں نہایت تعجب اور حیرت انگیز قصہ تصور کرکے بیان کیا کرتے تھے جیسا کہ کتب تاریخیہ سے بخوبی ثابت ہے۔ پھر جب جنگ میں یہ مشہور ہوا کہ مکہ سے اور بڑی مدد آتی ہے تو حکم آیا کہ اگر وہ فوراً یا غصہ میں بھر کر آویں گے تو ہم تین ہزار بلکہ پانچ ہزار فرشتہ بھیج دیں گے۔ چونکہ ان کی مدد نہ آئی تو فرشتے بھی نہ آئے۔ (تفسیر کبیر)
بدر میں ملائکہ نازل ہونے کی بحث : بعض لوگ جیسا کہ ابوبکر اصم اور پھر معتزلہ اور ان کے مرید نیچر یہ وغیرہم اس مقام پر یہ کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں کیا کسی لڑائی میں بھی فرشتے نہیں آئے تھے۔ دلائلِ عقلیہ یہ ہیں (1) ایک فرشتہ تمام ملک کے برباد کرنے کو کافی ہے، پھر ہزاروں کی کیا ضرورت تھی (2) اگر خدا کو فرشتوں ہی سے کام لینا تھا تو صرف ملک الموت کافی تھا یعنی وہ آپ ہی سب جہان کے کافروں کی روح قبض کرلیتا بلکہ اگر ایسا ہی ہے تو اس نے کافر پیدا ہی کیوں کئے (3) ملائکہ اگر اجسام کثیفہ تھے تو ضرور سب کو نظر آتے اور مسلمانوں کی جماعت ایک ہزار تین سو آدمیوں کو دکھائی دیتی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوا اور اگر اجسام لطیفہ تھے تو ان میں طاقت ہی کیا تھی جو کسی کو قتل کرتے۔ دلائلِ نقلیہ ان آیات میں جو اس مقام پر وارد ہیں کہیں یہ نہیں کہ خدا نے فرشتے بھیجے بلکہ رسول کا قول نقل کیا ہے کہ جو بوقت جنگ آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے خدا پر توکل کرنے کے لئے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا بھی کرسکتا ہے (4) کفار نے بارہا استدعا کی کہ فرشتہ ہی کیوں نہ خدا نے رسول بنا کر بھیجا مگر ان کی استدعا قبول نہ ہوئی اور نہ ایسا کسی جگہ پہلے معاملہ گذرا ہے نہ یہ باتیں ممکن ہیں بلکہ نیچر کے برخلاف ہیں۔
ان دلائل کا یہ جواب ہے۔ (1) گرچہ ایک فرشتہ کافی تھا بلکہ اس کی بھی کیا ضرورت صرف خدا کا کن کہنا ہی کافی تھا مگر ہزار فرشتوں کا بھیجنا صرف اہل اسلام کی تقویت قلبی اور تقویت ایمان و اعتقاد کے لئے تھا تاکہ ان کو یہ معلوم ہو کہ خدا اپنے مخلصین کی یوں بھی مدد کردیا کرتا ہے جیسا کہ خود فرماتا ہے وما جعلہ اللّٰہ الا بشریٰ لکم ولتطمئن قلوبکم بہ اور لفظ جعل جو ماضی ہے اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے اس امر کے وقوع پر دلالت کر رہا ہے۔ (2) اس کا بھی یہی جواب ہے کہ کافروں کے پیدا کرنے اور ملائکہ کے بھیجنے میں مبائنت ثابت کرنا رسالت کا انکار کرنا ہے کیونکہ منکر کہہ سکتا ہے کہ اگر خدا نے رسول بھیجے تھے تو سرے سے کافر ہی کیوں پیدا کئے تھے۔ (3) ملائکہ اگرچہ اجسام لطیفہ ہیں مگر جب چاہتے ہیں اجسام کثیفہ میں یعنی انسان کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔ چناچہ بدر میں ایسا ہوا اور بیشک وہ لوگوں کو نظر آئے۔ یہ بات کہ سب کو یکساں کیوں نظر نہ آئے۔ کچھ بات نہیں دیکھئے بائبل میں سینکڑوں جا ہے کہ فرشتہ ایک شخص خاص کو نظر آیا۔ اوروں کو نہیں دکھائی دیا اور اس کا سِرّ ہم مقدمہ کتاب میں بیان کر آئے ہیں۔ دلائلِ نقلیہ کا جواب یہ ہے یہ کہنا (کہ فرشتوں کا بھیجنا ثابت نہیں بلکہ صرف وعدہ یا تسلی ہے) بڑی تعجب کی بات ہے کیونکہ اول تو سورة انفال میں صاف تصریح ہے فاستجاب لکم الآیۃ کہ خدا نے ایسا کردیا پھر اس سے بڑھ کر اور کیا تصریح ہوگی ؟ دوم خود انہیں آیات میں لفظ جعل وارد ہے اور ضمیر متصل ارسال ملائکہ کی طرف پھرتی ہے ورنہ صرف زبانی جمع خرچ ایسی حالت میں کیا اطمینان قلب اور بشریٰ ہوسکتا تھا ؟ (2) کفار کی استدعا پر ملائکہ نہ بھیجنے کی وجہ خود قرآن مجید میں مذکور ہے ٗ وہ یہ کہ اگر ہم بجائے رسولوں کے تمہارے پاس فرشتہ بھیجتے تو ضرور وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہو کر آتے پھر جن کو رسولوں پر یہ شبہ ہو ان کی نسبت بھی وہی شبہ باقی رہتا کہ کیا معلوم یہ فرشتہ ہے یا آدمی ہے یا کوئی جن و شیطان ہے۔ علاوہ اس کے اس بات میں اور اس بات میں کوئی ملازمہ نہیں کہ جو اس سے اس کی نفی ثابت کی جائے۔ اور یہ کہنا کہ پہلے کبھی فرشتوں سے کام لینا ثابت نہیں سخت بیباکی ہے۔ دیکھئے تورات سفر پیدائش کے انیسویں باب میں صاف صریح ہے کہ سدوم اور عمورہ میں جہاں کہ لوط (علیہ السلام) رہتے تھے ٗ فرشتے آدمیوں کی شکل میں آئے اور جب وہاں کے اغلامی لوگوں نے لوط پر حملہ کرنا چاہا تو ان فرشتوں نے لوط کو دروازے کے اندر کھینچ لیا اور صبح کو ان بستیوں پر آگ اور گندھک برسایا اور ان کو نیست کردیا۔ اسی طرح تورات و انجیل و دیگر صحف انبیاء سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ فرشتے مخلصین کی اعانت اور خدا کے دشمنوں کی سرکوبی کے لئے آئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بدر کے روز آنحضرت ﷺ نے فرمایا دیکھو یہ جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جو گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے مسلح ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ بدر کے روز ایک انصاری نے ایک مشرک پر حملہ کیا اور اس کے پیچھے دوڑا ہنوز اس کے پاس نہ پہنچا تھا کہ اس پر ایک کوڑا غیب سے پڑا اور یہ آواز آئی کہ اقدم حیزدم کہ ” گھوڑی حیزدم آگے بڑھ “ جب جا کر دیکھا تو وہ شخص مرا ہوا تھا اور اس پر کوڑے کا نشان تھا۔ اس کا منہ پھٹ گیا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ سعد بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ اس روز میں نے رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں دو سوار سفید پوش دیکھے جو بڑی تیزی سے جنگ کر رہے تھے نہ ان کو میں نے پہلے دیکھا نہ پھر وہ مجھے نظر آئے یعنی جبرئیل و میکائیل اور ممکن ہونا ان باتوں کا ہم نے مقدمہ میں ثابت کردیا ہے۔
Ayahs 3:128–1291 ؎ احد کے روز جبکہ عتبہ بن ابی وقاص کے ہاتھ سے آنحضرت ﷺ کے سر مبارک پر زخم شدید پہنچا اور حمزہ ؓ وغیرہ بڑے غازیان اسلام شہید ہوگئے تو حضور ﷺ نے چاہا کہ کفار پر بددعا کریں تاکہ وہ ہلاک ہوجاویں۔ اس امر سے خدا نے منع کیا اور لیس لک من الامریہ آیت نازل ہوئی کیونکہ خدا کو مسلمان کرکے اس قوم سے بڑا کام لینا تھا سو لیا۔ 12 منہ
Ayahs 3:130–136ترکیب : اضعافا حال ہے الربوا سے عرضہا جملہ موضع جر میں ہے تقدیر الکلام عرضہا مثل عرض السٰمٰوت۔ اعدت صفت جنت کی ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے الذین ینفقون اور اسی طرح والذین اذا فعلوا اور الکاظمین اور العافین سب متقین کی صفت میں واقع ہے۔ ذکروا اللّٰہ جواب ہے اذا کا ‘ ومن مبتداء خبر ‘ وھم یعلمون حال ہے ضمیر لم یصروا سے۔
تفسیر : پہلی آیت میں خدا نے اپنی مغفرت اور رحمت کا ذکر کیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ زمین و آسمان ہمارے قبضہ میں ہیں ہم جس کو چاہتے ہیں معاف کرتے ہیں جس کو چاہتے ہیں عذاب دیتے ہیں۔ اس لئے یہاں پیشتر سود خوری سے منع کیا کیونکہ جب خدا تمہیں بخشتا اور تم پر رحم کرتا ہے تو تم بھی اپنے زیر دستوں پر رحم کرکے ان کے سود معاف کر دو ۔ دوم جو کچھ ہے خدا کا ہے پھر تم کیوں اس کے دیے ہوئے مال کا شکریہ ادا نہیں کرتے ٗ کیوں ناحق معاوضہ لیتے ہو یا یوں کہو دنیا دار سود خوری وغیرہ مکاسب میں ایسے مستغرق رہتے ہیں کہ گویا ان کو سدا یہیں رہنا ہے حالانکہ یہ مسافر خانہ ہے جہاں پھر کبھی آنا ہی نہیں اور پیشتر جہاد اور نزول ملائکہ وغیرہ ان باتوں کا ذکر تھا جو دار آخرت کا وسیلہ ہے۔ اس لئے یہاں فرمایا کس واہیات کمائی میں پڑے ہو۔ اس کو چھوڑ دو اور خدا کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ دنیا کی ترقی کیا سود میں ڈھونڈھتے ہو۔ اس کو چھوڑو اور خدا کے لشکر میں داخل ہو کر جہاد کرو جس سے دنیا کی سلطنتیں تمہارے پائوں پر آپڑیں اور آخرت میں بھی بادشاہت ملے اور چونکہ پہلے جہاد کا ذکر تھا اور سود خوری بزدلی پیدا کرتی ہے اس لئے اس کے ذکر میں اس کی ممانعت کرنا بھی عین حکمت ہوا۔
عرب میں دستور تھا کہ جب مدت معین پر قرضدار روپیہ ادا نہیں کرتا تھا تو قرضخواہ سود کو اصل میں شامل کرکے مہلت دیتا تھا۔ پھر اگلی قسط پر سود اور بڑھاتا تھا جس طرح یہاں سود خور سود کو اصل میں جمع کرکے سود لگا کر دگنے تگنے کرلیتے ہیں۔ ایسا ہی وہ بھی کرتے تھے اس لئے اضعافا مضاعفۃ 1 ؎ سے منع کیا اور فرما دیا کہ اللہ سے ڈرو۔ پھر فرمایا اس آگ سے ڈرو کہ جو کافروں کے لئے تیار ہوئی ہے یعنی جہنم اس میں اشارہ ہے کہ انجام کار سود خوری اور اس پر بےپروائی کا کفر ہے سو جو سزا کافروں کو ملے گی وہی سود خواروں کو پھر فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اس کے بعد کنایہ کے طور پر اپنی اطاعت کے ثمرہ کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا گویا مفغرت اور جنت کی طرف دوڑنا ہے۔
مفسرین کہتے ہیں مفغرت سے مراد وہ امور ہیں کہ جن سے مفغرت حاصل ہو اور اسی طرح جنت سے مراد وہ امور ہیں کہ جن سے جنت حاصل ہو۔ پھر اس کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں مراد اسلام ہے حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ ادائے فرض اور حضرت عثمان ؓ کہتے ہیں اخلاص ابو العالیہ کے نزدیک ہجرت کرنا۔ سعید بن جبیر کے نزدیک تکبیر اولیٰ مراد ہے۔ فرض ترک منکرات و ادائے واجبات بھی اس میں سب کچھ آجاتا ہے۔ جنت کی صفت میں دو باتیں ذکر فرمائیں۔ اول یہ کہ اس کا چوڑان آسمان و زمین
کے برابر ہے۔ ابو مسلم کہتے ہیں کہ عرض سے مراد قیمت ہے۔ عرب بولتے ہیں اذا بعث الشیء بالشی الاخر عرضۃ علیہ عارضۃ یعنی جنت کی قیمت آسمانوں اور زمین کی عمدہ چیزوں سے بھی زائد ہے۔ ع
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
دراصل یہ ایک سِرِّروحانی کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ جنت عالم قدس ہے۔ اس عالم حسی سے کچھ علاقہ ہی نہیں نہ وہ شہر عدن میں ہے نہ ملک شام میں ہے نہ آسمان میں ہے نہ کسی کوہ ہمالیہ کی چوٹی پر ہے بلکہ یہ تمام آسمان و زمین اس کی وسعت کے آگے کچھ بھی نہیں کس لئے کہ اس کا چوڑان اتنا ہے پھر طول کا تو کیا ٹھکانا ہے۔ پھر وہ آسمان یا زمین میں کیونکر سما سکے۔ ہاں سماوات اور عرش چونکہ لطافت میں عالم قدس کے مشابہ ہیں اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ جنت آسمانوں پر دوزخ زمین کے نیچے ہے۔ پھر سارعوا کے لفظ میں اشارہ ہے کہ وہ عالم ارواح طیبات کا حیز اصلی ہے جو جسمانی عوائق ہیں ان کو توڑ اور چھوڑ کر اس طرح دوڑو کہ جس طرح قفس سے طائرِ خوش الحان اڑ کر اپنے باغ میں جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت سے یہ بات ہر صحابی کو میسر آگئی تھی۔ چناچہ بدر کے روز آنحضرت ﷺ مشرکین سے مقابل ہوئے تو صحابہ سے فرمایا ‘ قوموا الی جنۃ عرضہا السموات والارض کہ ” اس جنت کے لئے اٹھو جس کا چوڑان زمین و آسمان کے
1 ؎ اضعاف جمع ضعف لما کان جمع قلۃ والمقصود والکثرۃ اتبعہ مما یدل علی ذلک وھوالوصف بمضاعفۃ عرضہا والمراد وسعتہا بطریق الاستعارۃ۔ 12 منہ
اس سے کم سود کھانے کی اجازت نہیں نکلتی ہے کیونکہ قید ایک امر واقعی کے لئے ہے۔ 12 منہ
برابر ہے “۔ یہ سنتے ہی عمیر بن حمام صحابی ؓ نے کہا ٗآہا آہا اس کے بعد وہ اپنے توشہ دان سے چھوارے کھانے لگا۔ پھر کہا اتنی دیر میں چھوارے کھائوں گا۔ یہ تو بڑا عرصہ ہے لو جنت ہی میں چل کر کھاویں گے۔ پھر یہاں تک لڑا کہ شہید ہوگیا (رواہ مسلم) اسی طرح جنگ احد میں صحابہ کو حالت وجد پیش آئی۔ جہاد کے موقع پر سارعوا کہنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جہاد میں تلوار سے اس طائرِ روح کے بند کٹ جاتے ہیں پھر جس کے بعد روحانی سلطنت اور بڑی سیرگاہ اور وسعت اور عالم سرور اور نور ہے اور شمشیر محبت الٰہی بھی یہی کام کرتی ہے۔ دوسرا وصف اعدت للمتقین کہ وہ پہلے ہی سے تیار کی گئی ہے وہاں کے لوگ اور احباب منتظر ہیں پھر للمتقین میں اشارہ ہے کہ وہ پرہیزگاروں کا گھر ہے جو دولت اور حسب اور نسب سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد متقین کے چند اوصاف بیان فرماتا ہے تاکہ حقیقی متقی اور ادعائی متقیوں میں فرق ہوجائے۔ متقین کی دو قسم ہیں ایک محسنین دوسرے تابعین اور احسان کبھی تو دوسرے کو نفع پہنچانے سے ہوتا ہے اور کبھی ضرر نہ دینے سے ہوتا ہے اس لئے (1) الذین ینفقون فی السراء والضراء فرمایا جس میں نہ مال کی قید ہے نہ جس کو دیا جاوے اس کا ذکر ہے بلکہ عام رکھا ہے خواہ اپنے کو خواہ بیگانے کو خواہ زکوٰۃ ‘ خواہ صدقہ نافلہ ‘ خواہ ہدیہ دیتے ہیں تنگی میں تھوڑا اور فراخ دستی میں بہت ‘ خواہ علم و حکمت صرف کرتے ہیں۔ (2) والکاظمین الغیظ فرمایا کہ اپنے غصہ کو مارتے ہیں کسی سے بدلہ بھی لینا نہیں چاہتے خواہ اپنا ہو خواہ بیگانہ اس لئے آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ نے اقتدار پا کر بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ نیک سلوک کیا ہے۔ (3) والعافین عن الناس یعنی اپنے حقوق کا بھی کسی سے مطالبہ نہیں رکھتے بلکہ درگزر کرتے ہیں۔ اس لئے ان تینوں وصفوں کے بعد واللہ یحب المحسنین فرمایا اس کے بعد (4) وصف توبہ ہے یعنی اگر ان سے کوئی گناہ از قسم زنا یا اور کوئی کبیرہ صغیرہ بشریت سے ہوجاتا ہے تو وہ تین باتیں کرتے ہیں (1) خدا کو یاد کرتے ہیں اس کی تجلی سے جو کچھ کثافت روح پر آگئی ہے دور ہوجاتی ہے۔ (2) اپنے گناہوں سے استغفار کرتے ہیں خدا سے معافی مانگتے ہیں (3) جو کچھ ہوگیا ہے اس پر اڑتے نہیں بلکہ ندامت کرتے اور آیندہ کو باز آتے ہیں۔ آگے ان کی جزا جنت فرما کر کلام کو اول اسلوب پر لایا گیا۔
Ayahs 3:137–144ترکیب : من قبلکم خلت سے متعلق ہے ‘ ولا تہنوا ماضی وہن سے ہے و حذف ہے کیونکہ وہ کسری اوری کے بیچ میں آگیا تھا۔ الاعلون اس کا مفرد اعلیٰ ہے التقاء ساکنین کی وجہ سے الف حذف کرکے اس کا یادگار فتح چھوڑ دیا گیا ہے۔ قرح مصدر قرحۃ بمعنی زخم ہے اور قرح بالضم زخم۔ تلک مبتداء الایام خبر نداولہا جملہ حال ہے ولیعلم معطوف ہے محذوف پر ای نداولہا لیکون کیت وکیت ولیعلم اللہ تاکہ معلوم ہو کہ اس گردش ایام کی چند علتیں ہیں۔ منجملہ ان کے یہ اور ہے ولیمحص معطوف ہے ولیعلم پر ام منقطعۃ بمعنی بل۔
تفسیر : پیشین گوئی : جبکہ خدا تعالیٰ نے عالم آخرت کی رغبت اور جنت کا شوق دلایا اور جہاد پر جو اصلاح عالم کا باعث ہے آمادہ کیا تو یہاں پیشتر دنیا اور اہل دنیا کی بےثباتی بیان فرمائی کہ تم سے پہلے کیا کچھ دنیا پر گذر چکا ہے دنیا میں پھر کر دیکھو کہ فرعون وغیرہ سرکش لوگ کہاں گئے۔ ان کے نعیم و ناز خاک میں مل گئے۔ انجام کار پرہیزگاروں نے فلاح پائی۔ انبیاء اور ان کی جماعت ہمیشہ کافروں سے لڑتے آئے ہیں۔ اس کے بعد اس واقعہ کی طرف توجہ کرتا ہے جو جنگ احد میں گذرا ہے یعنی وہ جو کچھ مسلمانوں کو ہزیمت اور مصیبت پہنچی تھی اس پر منافق ہنستے اور ایماندار دل میں آزردہ ہوتے تھے کہ اگر تم کو کچھ زخم پہنچا ہے تو اس کا کچھ غم نہ کھائو نہ سستی اختیار کرو کیونکہ اس سے پیشتر جنگ بدر میں تم ان کو ہزیمت اور زخم دے چکے ہو۔ دنیا میں زمانہ یکساں نہیں رہتا۔ کبھی رنج ہے ‘ کبھی راحت۔ ہم لوگوں میں زمانہ کو یوں ہی الٹتے پلٹتے رہتے ہیں مگر انجام کار تمہیں غالب رہو گے بشرطیکہ ایمان پر قائم رہو۔ چناچہ اس پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ عرب کیا مشرق سے مغرب تک بڑے بڑے ملک صحابہ کے ہاتھ میں آگئے۔ ایمان کی بدولت۔ پھر اس احد کی شکست میں کچھ حکمتیں ہیں ان کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ اس میں ایک تو ایمانداروں کا امتحان مقصود تھا۔ دوم یہ کہ تم میں سے بہت لوگ عالم آخرت اور شہادت کے مشتاق تھے۔ ان کو شہادت دینی تھی۔ سوم یہ کہ جو خالص مسلمان ہیں وہ اس معرکہ میں پڑ کر پاک ہوجاویں اور کفار مخالفین مٹ جائیں کیونکہ ہمیشہ سے حق کی یہ تاثیر ہے کہ جہاں کہیں اس کی جماعت کا خوں بہا وہیں وہ ایک نیا رنگ لایا۔ غیرتِ الٰہی جوش میں آئی۔ پھر جو لوگ کفار میں قابل اصلاح ہوتے ہیں ٗ ایمانداروں کی جماعت میں داخل ہوجاتے ہیں اور باقی لوگوں پر غیب سے وہ مار پڑتی ہے کہ نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔
فوائد : (1) جنگ احد میں جو کچھ اہل اسلام پر مصیبت پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اس کے لئے کئی طرح سے تسلی دی۔ اولاً تو یوں کہ انجام کار تم ہی غالب رہو گے۔ ثانیاً یہ کہ لا تہنوا ولا تحزنوا۔ ثالثاً یہ کہ اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو تم نے بھی ایسا ہی زخم ان کو بدر میں دیا تھا۔ رابعاً تلک الایام نداولہا بین الناس کہ زمانہ یوں ہی ادلتا بدلتا رہتا ہے۔ اگر کوئی مصیبت پیش آئے تو رنج نہ کرنا چاہیے ہمیشہ دن یکساں نہیں رہتے۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے
؎ رنج و راحت گیتی مرنجان دل مشوخرم
کہ آئین جہاں گاہے چناں گاہے چنیں باشد
اس کے بعد مقتول و مجروح ہونے کے اسرار و درجات بیان کئے کہ ہم کو تو بعض کا امتحان اور مومنین کا پاک کرنا اور کچھ لوگوں کو درجہ شہادت دینا اور کافروں کو مٹانا منظور تھا۔ ان سب باتوں کے بعد پھر ایک نہایت تاکید اور تہدید کا حکم بھیجا کہ جس سے تمام اہل ایمان کانپ گئے اور طالبان عقبیٰ پر ایک کوڑا سا پڑگیا۔ وہ یہ کہ تمام ایمانداروں کو یہ سنا دو کہ تم یہ نہ سمجھ بیٹھو کو ہم یوں ہی اس جنت میں کہ جو عالم سرور کی بادشاہت ہے چلے جاویں گے بغیر اس کے کہ جہاد نہ کرو اور صبر اور مشقت کی کسوٹی پر نہ کسے جائو۔ اسی طرح ایک جگہ اور بھی فرمایا ہے الم احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون کہ ” لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس آمنا کہنا اور لا الہ الا اللہ کہنا اسلام اور آسمانی بادشاہت کے لئے کافی ہے۔ اس پر کوئی آزمائش نہ ہوگی “۔ ایک بار نبی ﷺ خانہ کعبہ سے تکیہ لگائے کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور کفار قریش کا زور تھا ہر روز ایمانداروں پر ظلم و ستم ہوا کرتا تھا۔ اس میں ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ کونسا وقت آئے گا کہ جس میں ہم اس سے نجات پاویں گے اور آپ کی بشارت کا ظہور ہوگا۔ یہ سنتے ہی آنحضرت ﷺ کا چہرہ ٔ مبارک غصہ کے مارے سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ بس اتنی ہی تکلیف پر یہ نوبت آگئی۔ واللہ ! تم سے پہلے انبیاء اور ان کے مخلصین آروں سے چیرے گئے ہیں اور وہ اف بھی نہ کرتے تھے (اس کا مضمون کتب صحاح میں ہے) در حقیقت دنیا میں بادشاہ پانچ سات روپے ماہوار پر سپاہی کو نوکر رکھتا ہے کہ جس کو سر کٹانے میں کوئی دریغ نہیں ہوتا پھر جس بادشاہ حقیقی نے جان دی اور جسم کو ہزاروں خوبیاں عطا کیں ‘ تندرستی دی ‘ لاکھوں نعمتیں پشت در پشت عطا کرتا چلا آیا ہے اس پر وہ عالم روحانی میں سلطنت کا وعدہ فرمائے اور یہی تنخواہ اس کے رسول کی معرفت مقرر ہوجاوے اور وہاں جانا بھی ضرور ہو۔ پھر جو کوئی صرف زبانی اسلام اور ایمان پر بھروسہ کرے اور خدا کی راہ میں جان اور مال اور عزت و آبرو دینے کو دریغ رکھے سو اس کو قطعی جان لیجئے کہ طمع خام رکھتا ہے اور کچھ نہیں یا دنیا میں جب کوئی کسی سے عشق مجازی رکھتا ہے تو دیکھئے اپنی آبرو اور مال اور جان کو اس کے لئے دریغ نہیں کرتا۔ سینکڑوں لوگ برائے نام مسلمان ہیں یا مسلمانوں کی اولاد ہیں۔ زبانی جمع خرچ بہت کچھ گائو تکیوں پر پشت لگائے ہمدردی اسلام اور حصول درجاتِ آخرت کے لئے باتیں بناتے ہیں۔ اگر اسلام کے لئے جان اور آبرو تو درکنار مال یا کسی مطلب میں کچھ بھی نقصان عائد ہوتا معلوم ہو تو پھر کہاں تھے۔ ایسے سگ دنیا انہیں منافقین کی ذریت ہیں کہ جن کا ذکر قرآن مجید میں بیشمار جگہ آیا ہے۔ انسان جنت اور اس کی خوشنودی کی امید جب رکھے کہ پہلے اپنے دل میں اپنے مال اور اولاد اور عزت و آبرو بلکہ جان عزیز اور ہر قسم کے عیش و راحت کو اس معبود حقیقی پر نثار کرنے کو تیار ہوجائے۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے دار آخرت کی بادشاہی اور جنت میں دیدارِ الٰہی اور نعمائِ غیر متناہی ہیں۔