3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 3:145–151

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور خدا کے حکم کے بغیر کوئی مر بھی تو نہیں سکتا (مرنے کا) وقت معین لکھا ہوا ہے اور جو دنیا ہی کا بدلہ چاہتے ہیں تو ہم ان کو دنیا ہی میں کچھ دے دیتے ہیں اور جو کوئی آخرت کا بدلہ چاہتا ہے تو ہم اس کو آخرت ہی کا بدلہ دیں گے اور قدردانوں کو تو ہم بہت جلد جزائے خیر دیں گے

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہو گذرے ہیں کہ جن کے ساتھ راہ خدا میں ہو کر بہت سے با خدا لوگ لڑے ہیں پھر جو کچھ ان کو راہ خدا میں مصیبت پہنچی تھی اس سے نہ تو وہ ہمت ہارہی گئے تھے اور نہ وہ سست ہی ہوگئے تھے نہ وہ دب گئے تھے اور اللہ ثابت قدم لوگوں سے محبت رکھتا ہے

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور وہ یہی کہا کرتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ اور جو کچھ ہم سے اپنے کام میں قصور ہوگئے ہیں ان کو بخش دے اور آیندہ ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر ہم کو فتح دیجئو۔

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

پھر ان کو اللہ نے دنیا کا بھی بدلہ دیا اور آخرت کا بھی عمدہ بدلہ دے گا اور خدا کو نیکی کرنے والوں سے محبت ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

ایمان والو اگر تم کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تم کو (تمہارے دین سے ضرور) برگشتہ کرکے چھوڑیں گے۔ پھر تم نقصان میں جا پڑو گے

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

بلکہ تمہارا کارساز تو اللہ ہی ہے اور وہ سب مدد کرنے والوں سے بہتر مدد کرنے والا ہے۔

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

(اطمینان رکھو) ہم ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتے ہیں۔ اس سبب سے کہ انہوں نے خدا کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک بنایا کہ جن کے لئے اس نے کوئی بھی سند نہیں اتاری۔ یہ تو دنیا کی سزا ہے اور آخرت میں ان کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کا بہت ہی بڑا ٹھکانا ہے۔

ترکیب : ان تموت اسم کان الا باذن اللّٰہ خبر کتابا مفعول مطلق ہے ای کتب ذلک کتابا ‘ مؤجلا اس کی صفت ہے۔ کاین اصل میں اے تھا کاف اس پر داخل ہوگیا اور نون خلاف قیاس تنوین کا لکھ دیا اب یہ بمعنی کم ہے۔ من نبی اس کا بیان قتل نبی کی صفت یہ کاین مبتدا اور خبر محذوف ای فی الدنیا قولہم اسم کان الا ان قالوا خبر وقیل العکس۔ ان شرطیہ تطیعوا شرط یردوکم جواب اللّٰہ مبتداء مولاکم خبر بما اشرکوا بسنلقی سے متعلق ہے اور ما مصدریہ مثوی مفعل ہے ثویت سے لام کلمہ ی ہے۔ تفسیر : جنگ احد میں جبکہ وہ جماعت تیر اندازوں کی کہ جس کو نبی ﷺ نے گھاٹی پر بٹھایا تھا مشرکین کے پیچھے لوٹ کے لئے دوڑ پڑی۔ ادھر سے خالد بن ولید جو اس وقت مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے ایک جماعت کو لے کر مسلمانوں پر آپڑے اور باہم معرکہ کشت و خون بڑا گرم ہوا یہاں تک کہ عبداللہ بن قمئۃ حارثی نے آنحضرت ﷺ پر حملہ کیا تو معصب بن عمیر ؓ لوا بردار لشکر اسلام نے اس کو ڈانٹا اس نے معصب کو قتل کیا اور یہ شور مچا دیا کہ میں نے محمد کو قتل کر ڈالا۔ اس آواز سے صحابہ میں بڑی تشویش پھیل گئی۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے یہ چاہا کہ عبداللہ بن ابی منافق سے یہ کہیں کہ وہ ابو سفیان سے امان مانگے۔ اس میں کچھ منافق بولے اگر محمد نبی ہوتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ اپنے بھائیوں سے مل جائو اور اپنے دین قدیم میں جا ملو۔ انس بن النضر عم انس بن مالک انصاری نے کہا ٗ اے قوم اگر محمد ﷺ قتل ہوگئے تو محمد ﷺ کا خدا تو زندہ ہے۔ پھر نبی ﷺ کے بعد تم جی کر کیا کرو گے ؎ کیا جی کے کروں کہ جی نہیں ہے جی کو سر زندگی نہیں ہے جس پر وہ شہید ہوئے تم بھی اس بات پر شہید ہوجائو۔ تھوڑے سے عرصہ کے بعد جبکہ طلحہ اور ابوبکر اور علی وغیرہ مردان اسلام ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور حملہ کرکے مشرکین کا منہ پھیر دیا تو آنحضرت ﷺ نے آواز دی کہ بندگان خدا ادھر آئو۔ آنحضرت ﷺ کی آواز سن کر مسلمان دوڑ پڑے اور مشرکین کو بھگا دیا۔ اس واقعہ میں یہ آیتیں اہل اسلام کی تسلی کے لئے نازل ہوئیں کہ محمد رسول اللہ ہیں جیسے کہ ان سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں۔ خدا نہیں جو ہمیشہ جیتے رہیں پھر اگر وہ کسی لڑائی میں مارے گئے یا خود مرگئے تو کیا تم پھر الٹے پھر جائو گے اور کفر میں جا پڑو گے اور جو کوئی ایسا کرے گا تو خدا کو کچھ مضرت نہیں دے گا۔ ہاں جو کوئی دین پر قائم رہے گا تو ہم اس کو جزائے خیر دیں گے اور اگر یہ سمجھو کہ لڑائی سے موت آتی ہے تو تمہارا خیال غلط ہے۔ اجل کا وقت مقرر ہے اس سے پیشتر کوئی نہیں مرتا۔ اب رہا جہاد میں شریک ہونا اگر اس سے کسی کو لوٹ اور غنیمت مقصود ہے تو ہم اس کو دنیا ہی دے دیتے ہیں اور جو آخرت اور شہادت مدِنظر رکھتے ہیں تو ہم ابھی بدلہ دیں گے۔ آنکھ بند ہونے کی دیر ہے پھر تو وہاں سلطنتِ آسمانی اور عیش جاودانی موجود ہے۔ پھر اس کے بعد اہل اسلام سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے نبی ہو گذرے ہیں کہ جن کے ساتھ میں ہو کر باخدا لوگ مخالفانِ حق سے لڑے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع بن نون وغیرہما۔ پھر جو کچھ ان کو اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچی ہے (زخمی ہوئے ‘ مارے گئے ‘ گرمی اور بھوک اور پیاس اٹھائی ‘ پا پیادہ سفر کئے ہیں) اس سے ان کا جوش ایمانی ٹھنڈا نہیں ہوگیا تھا نہ ان میں بوقت قتل کبھی کچھ بودا پن پیدا ہوا تھا اور نہ اس کے بعد وہ جہاد سے ضعیف ہوگئے تھے۔ نہ دشمنوں کی شوکت سے ان کے حوصلہ پست ہوئے تھے۔ دیکھو خدا کو ایسے صابروں سے محبت ہے۔ باوجود اس کے وہ خدا سے دعا کرکے یہی کہا کرتے تھے کہ ہمارے گناہ اور جو کچھ ہم سے خدمت دین میں قصور ہوئے ہیں ٗ ان کو معاف کر دے اور ہم کو آیندہ ثابت قدمی عطا کر اور کافروں پر فتح یاب کر (اس امت کو سنایا جاتا ہے کہ تم بھی ایسا ہی کرو اور اعانت اسلام کرکے دل میں غرہ نہ ہو کہ ہمیں نے ایسا کیا ہے ) ۔ پھر ان کی اس سعی اور کوشش کا نتیجہ ذکر کرکے رغبت دلاتا ہے کہ خدا نے ان کو دنیا میں بھی عمدہ بدلہ دیا۔ مخالفوں کی حکومت اور ملک اور عمدہ باغ اور مکان سب اہل حق کو دیے۔ چناچہ یوشع بن نون کے عہد میں بنی اسرائیل نے ملک شام لیا اور خدا ان کو آخرت میں بھی اچھا بدلہ دے گا بلکہ دے دیا۔ وہاں ان کے لئے وہ کچھ ہے جس کا بیان نہیں۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کفار اور منافقین کی باتوں پر عمل کرنے سے منع کرتا تھا جیسا کہ انہوں نے جنگ احد میں کہا تھا (پیغمبر مارے گئے ٗ اپنے دین کی طرف پھر جائو) کہ اگر تم ان کا کہنا مانو گے تو وہ تم کو کافر بنا کر چھوڑیں گے جس سے تم دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑ جائو گے۔ تم نے ایسے لوگوں کی بات کی (کہ جو اسلام کی توہین بیان کریں اور کہیں کہ اب اسلام دب گیا۔ یہ پھر سرسبز نہیں ہوگا۔ مسلمان ایسے ہوگئے یوں مغلوب ہوگئے) کچھ پروا نہ کرو۔ تمہارا خدا حافظ و ناصر ہے۔ ہم کفار کے دل میں ان کی کفر کی شامت سے رعب ڈال دیں گے۔ ان کا کروفر ظاہری کچھ کام نہ آوے گا۔ چناچہ اس پیشین گوئی کے مطابق واقع ہوا روم اور ایران کے جرار سپاہ کے دل میں صحابہ کا رعب ڈال دیا گیا جو کمبلی پوش اور بےسرو سامان تھے۔ وہ دم بھر میں کچھ سے کچھ کردیتا ہے۔
Ayahs 3:152–155

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور بیشک اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا جبکہ تم ان (کافروں) کو اس کے حکم سے قتل کرنے لگے یہاں تک کہ تم خود اکھڑ گئے اور حکم میں جھگڑنے لگے اور نافرمان ہوگئے بعد اس کے کہ جو تم چاہتے تھے وہ تم کو خدا نے دکھا بھی دیا تھا۔ کچھ تو تم میں سے دنیا چاہتے تھے اور کچھ لوگ تم میں سے آخرت کے طالب تھے۔ پھر تم کو ان سے (کافروں کے قتل کرنے سے) باز رکھا کہ تم کو آزمائے اور خدا نے تو تم کو معاف کردیا اور اللہ کا ایمانداروں پر بڑا (ہی) فضل ہے

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

جبکہ تم چڑھے چلے جاتے تھے اور کسی کو مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور تم کو پیچھے سے رسول پکار رہا تھا۔ سو اس لئے تم کو خدا نے غم پر غم دیا تاکہ تم جو چیز ہاتھ سے جاتی رہے اور جو پیش آوے اس پر غم نہ کھایا کرو اور اللہ کو تمہارے (سب) کام معلوم ہیں۔

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اللہ نے غم کے بعد تم پر امن نازل کیا وہ ایک اونگھ تھی جو تم میں سے ایک جماعت پرچھا رہی تھی اور ایک جماعت نے اپنی جان کو فکر میں ڈال رکھا تھا جو اللہ سے بدگمانی کر رہے تھے۔ جاہلوں کی طرح سے کہہ رہے تھے کہ آیا کچھ ہمارے لئے بھی اختیار باقی ہے۔ (سو ان سے) کہہ دیجئے کہ سب اختیارات اللہ ہی کو ہیں۔ وہ اپنے دل میں وہ باتیں پوشیدہ رکھتے ہیں جو آپ سے ظاہر نہیں کرتے۔ کہہ رہے تھے کہ اگر کوئی بات بھی ہمارے اختیار میں ہوتی تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں قتل ہونا لکھا گیا ہے۔ وہ ضرور اپنے قتل ہونے کی جگہ نکل کر آجاتے (یہ اس لئے ہوا) تاکہ خدا تمہارے دلوں کے خیال آزمائے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہو اس کو پرکھے اور اللہ تو دلوں کی باتوں کو (خوب ہی) جانتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے دونوں فوجوں کے مقابلہ کے روز پیٹھ پھیر گئے تھے ان کو تو صرف شیطان نے ڈگمگا دیا تھا۔ ان کے بعض اعمال کی شامت سے اور بیشک خدا نے ان کو معاف کردیا۔ اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ‘ بردبار ہے۔

ترکیب : صدق فعل اللّٰہ فاعل کم مفعول اول وعدہ مفعول ثانی۔ حتی متعلق ہے فعل محذوف سے ای دام ذلک ای وقت فشلکم والرسول جملہ موضع حال میں ہے بغم موضع نصب میں ہے صفت غم کی وقیل بسبب غم امنۃ اسم ہے امن کا ویقرء بالسکون فہو مصدر۔ نعاسا بدل ہے امنۃ سے اور عطف بیان بھی ہوسکتا ہے۔ یغشی صفت نعاسا کی وطائفۃ مبتدا قدا ھمتہم خبر شیء اسم کان والخبرلنا ما قتلنا جواب لوکان الی مضاجعہم متعلق ہے لبرز سے ولیبتلی اور معطوف ہے محذوف پر ای فعل ما فعل لیمیز ولیبتلی ولیمحص معطوف ہے ولیبتلی پر۔ تفسیر : پہلی آیت میں تھا کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اور وہ فتح دینے والا ہے اور نیز پہلے عموماً اسلام کی فتح مندی اور ظہور کا وعدہ دیا گیا تھا اس پر احد میں شکست سی واقع ہوئی تو مدینہ میں آکر بعض منافق مسلمانوں سے کہنے لگے لو صاحب اچھا وعدہ خدا نے پورا کیا۔ ارے میاں ایسے وعدوں کا کیا اعتبار ہے ؟ ان آیتوں میں خدا تعالیٰ نے جواب دیا کہ اس نے تو تم سے اپنا وعدہ پورا کردیا کہ تم نے تو اول ہی حملہ میں کفار کی جماعت کو تہ تیغ کرکے بھگا دیا مگر تم نے خود نافرمانی کرکے یہ مصیبت سر پر لی۔ باوجودیکہ تمہارے سردار نے تیر اندازوں کو کہا کہ یہاں سے نہ ہٹو مگر جب تم نے جھگڑا کیا اور اپنی مرغوب چیز یعنی فتح دیکھ لی اور کچھ تم میں سے دنیا یعنی غنیمت کے طالب بھی تھے ٗ کافروں کو بھاگتا دیکھ کر ان کے پیچھے پڑگئے ٗ ان پر چڑھے چلے جاتے تھے۔ پیچھے سے رسول اللہ ﷺ پکار رہے تھے کہ پھر آئو ٗگھاٹی نہ چھوڑو مگر تم نے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس نافرمانی اور رسول کو غم رسانی کے بدلہ میں خدا نے تم کو کافروں کے قتل سے روکا یعنی ان کے دل میں رعب اٹھا کہ تمہارے دلوں میں ڈال دیا ٗ پیچھے سے کافروں نے گھاٹی پر قبضہ کرکے مسلمانوں کو مارنا شروع کیا۔ اسی لئے غم کے عوض 1 ؎ میں تم کو خدا نے غم دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور تم کو اس بات کی بھی عادت پڑے کہ جو کچھ فوت ہوجاوے اس پر اور جو کچھ مصیبت آجاوے اس پر رنج نہ کھایا کرو بلکہ مشیت اور قضائے الٰہی پر راضی ہوجایا کرو مگر اس کے بعد بھی خدا نے تمہاری اس خطا کو معاف کیا اور مسلمانوں پر غیب سے اثنائِ معرکہ میں ایک ایسی 2 ؎ نیند ڈالی کہ جس میں ابو طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ سے سیف گر گر پڑتی تھی۔ اس نیند کے بعد وہ جو رعب اہل اسلام کے دل پر تھا جس طرح تکان دور ہوجاتی ہے اسی طرح دور ہوگیا اور پھر جو حملہ کیا تو مشرکین بھاگ اٹھے مگر جو لوگ منافق تھے ان کو جان کی پڑی ہوئی تھی ٗان کو نیند نہ آئی وہ خدا سے جاہلوں کی طرح یہ بدگمانیاں کر رہے تھے کہ کیا اللہ کیا روز جزا سب بناوٹی باتیں ہیں اور یہ بھی کہہ رہے تھے 1 ؎ تم نے رسول کو نافرمانی کرکے مغموم کیا اس کے بدلہ میں ہزیمت سے تم پر غم پڑا۔ 12 منہ 2 ؎ ایسی حالت میں نیند کا آنا ایک معجزہ تھا۔ کہ کاش ہمیں کچھ قدرت و اختیار ہوتا اور دل میں اور لغو باتیں بھی پوشیدہ رکھتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ اگر ہم کو کچھ اختیار ہوتا اور ہمارے کہنے کو پیغمبر مان کر مدینہ سے باہر نہ نکلتے تو ہم یہاں مارے نہ جاتے۔ فرماتا ہے یہ خیال لغو ہے کیونکہ جن کی تقدیر میں موت لکھی تھی ان کو تو خواہ مخواہ گھر بیٹھے بھی موت آجاتی مگر ان باتوں سے خدا تمہارے دل کی آزمائش کرتا اور مومنین کے دلوں کو پاک کرتا تھا اور اس امتحان کی خدا کو کچھ ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہر ایک دل کی بات جانتا ہے بلکہ یہ امتحان صرف باہم بندوں سے دکھانے کے لئے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے وعدہ اور مدد میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چناچہ اس کو تم نے دیکھ لیا مگر خود تم نے نافرمانی کرکے ہزیمت اٹھائی اور جو لوگ اس روز بھاگے تھے تو ان کو شیطان نے ان کے بعض گناہوں کی شامت سے ڈگمگا دیا تھا جو انہوں نے رسول کا کہنا نہیں مانا ٗ گھاٹی کو چھوڑ دیا اور خیر اس کو بھی اللہ نے معاف کردیا کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوئیں۔ (1) یہ کہ تقدیرِالٰہی کا لکھا ضرور پیش آتا ہے۔ یہ صحیح کہ عالم تدبیر میں جو کچھ سوئِ تدبیری ہوتی ہے یہ نتیجہ بد اس کی طرف منسوب ہوتا ہے اور یہ عالم عالم اسباب ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جب تقدیر کا لکھا پورا ہونے کو ہوتا ہے ویسے ہی اسباب بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس لئے جو کچھ ہوگیا اس پر زیادہ ملال کرنا بےفائدہ ہے۔ آخر جب تمام عالم کا کسی شخص کو خالق اور مسبب الاسباب مان رکھا ہے تو پھر اس کے بھی اختیارات ہیں کہ نہیں۔ (2) دنیا میں جو کچھ انسان پر مصیبت آتی ہے وہ اس کے اعمالِ بد کا ثمرہ ہوتا ہے۔ رہا اہل حق کا مخالفانِ حق کے ہاتھ سے شہید ہونا وہ مصیبت نہیں بلکہ وہ عین راحت ہے۔ ایسی موت کے کیا کہنے ہیں ع سوزیست کو نثار کروں ایسی موت پر (3) یہ کہ ابتداء سے لے کر آخر تک جس قدر اہل اسلام مخالفوں کے ہاتھ سے شکست پاتے یا ذلت اٹھاتے آئے ہیں سو یہ خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کا ثمرہ ہے۔
Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

ایمان والو تم ان کافروں جیسے نہ ہوجاؤ جو اپنے بھائیوں کے حق میں جبکہ وہ سفر میں یا جہاد میں ہوتے ہیں ٗ یہ کہا کرتے ہیں (کہ) اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے (یہ باتیں اس لئے ان سے سرزد ہوتی ہیں) کہ خدا اس بات کو ان کے دلوں میں حسرت بنا دے اور جلاتا اور مارتا تو اللہ ہی ہے اور جو کچھ بھی تم کر رہے ہو خدا اس کو خوب دیکھ رہا ہے

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور (اچھا) اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو کیا غم ہے۔ خدا کی مغفرت اور رحمت (جو ایسے مقتولوں کے لئے موجود ہے) ان کی تمام کمائی سے بہتر ہے

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

(مسلمانو) اگر تم مرجاؤ گے یا مارے جاؤ گے تو اللہ ہی کے پاس لائے جاؤ گے۔

ترکیب : غزًی مشدد جمع غاز والقیاس غزٰۃ کقاض و قضاۃ لیکن فعل کے وزن پر صحیح پر محمول ہو کر آیا ہے۔ لو کانوا شرط ما ماتوا جواب جملہ مقولہ ہے قالوا لاخوانہم کا لیجعل کالام محذوف سے متعلق ہے اے اوقع ذلک فی قلوبہم لیجعلہ حسرۃ اور جعل بمعنی صیّرممکن ہے کہ لام عاقبت ہو۔ ولئن شرط متم جمہور بضم میم پڑھتے ہیں وھوالقیاس لان الفعل منہ یموت اور بعض نے بالکسر پڑھا ہے لمغفرت جواب۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ منافق کہتے ہیں اگر جنگ میں ہم کو کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کئے جاتے۔ اس کا جواب دے کر یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم ایسے سست اعتقاد اور عالم اسباب پر توکل کرنے والے نہ بنو جیسا کہ منکران قدرت خدا ہیں جو اپنے بھائیوں سے یعنی برادری کے ان لوگوں کے لئے جو دور دراز سفر میں یا جہاد میں جاتے اور وہاں قضائِ الٰہی سے مرجاتے ہیں۔ کہتے ہیں اگر یہ لوگ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے کیونکہ ان باتوں سے صرف دل میں حسرت اور افسوس پیدا ہوتا ہے جو ایک عذاب روحانی اور بےفائدہ چیز ہے اور قضا تو کہیں ٹل نہیں سکتی۔ اللہ مارتا جلاتا ہے۔ وہ ہر جگہ اسباب موت پیدا کرسکتا ہے اور مواقع قتل میں بچا سکتا ہے اور بالفرض اگر تم اللہ کی راہ میں مارے بھی گئے تو اس سے کیا بہتر ؟ کس لئے کہ اگر شہید مرے یا یوں ہی مرگئے تو جبکہ خدا خوش ہے تو کیا باک ہے۔ اس کی مغفرت اور پھر رحمت تمہاری کمائی سے بہتر ہے کیونکہ جو کچھ مال و زر جمع کر رہے ہو اور اس کے لئے مارے مارے پڑے پھرتے ہو سب یہیں رہ جاتا ہے مگر اس کی مغفرت اور رحمت ساتھ رہتی ہے۔ پھر اسی جملہ کو دوسرے پہلو سے تاکید کے لئے اعادہ فرمایا جاتا ہے۔ ولئن متم او قتلتم کہ اگر تم سفر یا جہاد میں مرگئے یا مارے گئے مر کر نیست و نابود نہیں ہوجائو گے بلکہ ایک دوسرے پیکر میں حیات جاودانی پائو گے اور اللہ کے پاس جمع ہوگئے۔ یہ نجات حقیقی ہے کس لئے کہ وہ نور اصل جملہ روحانیات نورانیہ کا ماوٰی وملجا ہے۔ تمام ذرات آفتاب کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں مگر جب کوئی حائل ہوجاتا ہے تو مطلوب حقیقی تک نہ پہنچنے کے سبب جو اضطراب ہوتا ہے۔ وہی بڑا عذاب ہے اس جملہ میں مرجانے کو مارے جانے پر مقدم کرکے یہ ثابت کردیا کہ خدا کی رضامندی میں مرجانا بھی فلاح کا باعث ہے۔ انسان کی تین حالت ہیں۔ اول غفلت و گناہ اس کے لئے تو شہادت مغفرت ہے۔ دوئم اصلاح وطاعت ایسی حالت میں شہادت رحمت ‘ باعث ترقی درجات ہے۔ سوئم خدا کا شوق ایسی حالت میں شہادت باعث تقرب ہے جس کو الی اللّٰہ تحشرون سے تعبیر کیا ہے۔ : یعنی ایسی باتیں جو سست اعتقاد کیا کرتے ہیں۔ ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ کس لئے کہ مرنا جیسا خدا کے ہاتھ ہے۔ سفر اور جنگ میں بھی سب مر ہی نہیں جاتے نہ وطن میں سب زندہ رہتے ہیں۔ صرف دل کی حسرت اور افسوس ہے جو ایک قسم کا قلبی عذاب ہے۔
Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

پس کچھ اللہ کی رحمت ہی ہے جو آپ (اے نبی ! ) ان کے لئے نرم دل ہیں اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو (یہ لوگ کبھی کے) آپ کے پاس سے جدا ہوگئے ہوتے سو آپ ان کو معاف کر دیجئے اور ان کے لئے خدا سے معافی مانگئے اور ان سے کام (کاج) میں مشورہ بھی لے لیا کرو۔ پھر جب کسی کام کا ارادہ ہی کرلیا کرو تو خدا ہی پر بھروسہ کیا کرو۔

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

ضرور خدا کو توکل کرنے والوں سے محبت ہے۔ اگر اللہ تم کو فتح دے گا تو کوئی بھی تم پر غالب نہ آئے گا اور اگر وہ تم کو رسوا کرے گا (تو) پھر اس کے بعد کون تم کو فتح مند کرسکتا ہے ؟ اور ایمانداروں کو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

ترکیب : فبما رحمۃ بازائدہ ہے اخفش کہتا ہے جائز ہے کہ مانکرہ ہو بمعنی شیء اور رحمۃ بدل ہو اس سے اور ب لنت سے متعلق ہو۔ فاذا عزمت شرط فتوکل جواب ان ینصر شرط فلا غالب جواب۔ تفسیر : احد کی لڑائی میں جو کچھ لوگ بھاگے اور بعض نے بھاگنے کا ارادہ کیا۔ اس پر اہل اسلام میں انگشت نمائی ہونے لگی اور خاص لوگ ان کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھنے لگے اور مشوروں میں بھی ان کو شریک نہ کیا جاتا تھا۔ نہ کسی بات میں ان سے صلاح لی جاتی تھی۔ یہ بات ان کی دل شکنی کا باعث تھی اور چونکہ یہ بات بتقضائے بشریت ان سے سرزد ہوگئی تھی اس کو خدا نے معاف کردیا تھا۔ اس لئے یہاں اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ تم فضلِ الٰہی سے رحم دل ہو۔ اگر سخت دل اور کج خلق ہوتے تو لوگ آپ کے پاس جمع نہ ہوتے۔ سو تم بھی ان کو معاف کر دو اور خدا سے ان کے لئے معافی مانگو اور امور دنیا میں بھی ان سے مشورہ کرلیا کرو۔ ہاں جب تم بعد مشورہ کے کسی کام کا پکا ارادہ کرلو تو خدا پر توکل کرو۔ اسباب ظاہریہ پر اعتماد نہ کرو۔ خدا کو اہل توکل پسند ہیں۔ کس لئے کہ اگر خدا تم کو فتح دینا چاہے گا۔ گو ظاہر میں تمہارے اسباب ضعیف ہوں تو تم پر کوئی غالب نہ ہو سکے گا اور جو تمہاری معصیت اور بدکاری کی وجہ سے تمہیں ذلیل کرنا چاہے گا تو کیسا ہی تمہارے پاس ہو تو کوئی تم کو مدد نہ دے سکے گا۔ فوائد : (1) لنت لہم الخ حسن خلق کا باعث یہ ہوتا ہے کہ جب روح پرانوار قدس فائض ہوتے ہیں تو اس کی قوت نظریہ اور عملیہ دونوں مکمل ہوجاتی ہیں۔ پھر جو کچھ صدمہ اس کو پہنچتا ہے اس کو خدا ہی کی طرف سے جانتا ہے نہ کسی پر اس کو غصہ آتا ہے نہ انتقام لیتا ہے یا جو راحت غیر کو پہنچتی ہے حسد نہیں کرتا۔ علی ہذا القیاس جس قدر باتیں بد خلقی کی خام خیالی کے متعلق ہیں سب دور ہوجاتی ہیں اور جب اس کو روحانیت کا مشاہدہ ہوتا ہے تو جسمانیات اور یہاں کے لذائذ اس کی آنکھوں میں حقیر ہوجاتے ہیں ٗ نہ شہوت ناجائز رہتی ہے نہ حب جاہ و مال جو تمام خرابیوں کا سرچشمہ ہے اور اسی لئے بزرگوں کے اخلاق حمیدہ ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے اخلاق اس درجہ حمیدہ تھے کہ قرآن میں متعدد جگہ اللہ نے آپ کی مدح کی ہے۔ انک لعلی خلق عظیم (2) جو باتیں وحی اور الہام سے متعلق تھیں ان میں کسی سے مشورہ کی حاجت نہ تھی۔ ہاں امور دنیا میں کہ کس دن مخالفوں پر چڑھائی کرنی چاہیے اور کہاں مقام کرنا چاہیے وغیرہ ذلک ایسی باتوں میں آنحضرت ﷺ مشورہ کرتے تھے۔ اس لئے امت پر مشورہ مسنون ہوا اور بیشک مشورہ میں چند رائوں کے ملنے سے قوت ہوجاتی ہے اور اس پر برکت بھی نازل ہوتی ہے۔ اس لئے خلفائِ اربعہ تک قیام امامت شورٰی پر رہا تو عمدہ نتائج بھی برآمد ہوتے رہے اور جب سے شخصی سلطنت ہوئی اور تمام اختیارات ایک شخص کے ہاتھ میں آئے تو برکت جاتی رہی۔ اس لئے مشورہ نہایت عمدہ چیز ہے۔ : فبماعند سیبویہ وغیرہ زائدۃ مزیدۃ التاکید و عند الاخفش وابن کیسان نکرۃ مجرورۃ بالباء ورحمۃ بدل متہبا والفالترتیب مضمون الجملۃ والفظ الکریہ الخلق ماخوذمن ماء الکرش ما یستعر لکی بہ الخلق وغلیظ القلب فسادتہ الا نفضاض التفرق۔ 12 منہ
Ayahs 3:161–163

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کسی نبی کا ( بھی) یہ کام نہیں کہ وہ خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو جس چیز کی اس نے خیانت کی ہو اس کو قیامت میں لاوے گا۔ پھر ہر شخص اپنے کئے کا پورا بدلہ پاوے گا اور کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو مرضی الٰہی کے تابع ہوگیا ہو۔ اس کے برابر ہوسکتا ہے کہ جس نے خدا کا غصہ حاصل کیا ہو اور اس کا ٹھکانا (بھی) جہنم ہو اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک لوگوں کے (مختلف) درجے ہیں اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہے۔

ترکیب : لنبی خبر ماکان ان یغل اسم ومن شرطیہ یات جواب۔ افمن من بمعنی الذی مرفوع ہے بسبب مبتداء ہونے کے۔ کمن باء خبر ھم مبتداء درجات ای ذو درجات خبر۔ تفسیر : عصمتِ آنجناب۔ : پہلے تھا کہ ان کو مشورہ میں شریک کرلیا کرو مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی بیان کردیا کہ اگر نبی ایسے امور میں مشورہ نہ کرے اور مصالح اور اسرار سلطنتِ آسمانی تم پر ظاہر نہ کرے کہ جو تمہارے فہم سے بالا ہیں تو تم کو یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ پیغمبر نے خیانت کرلی۔ کس لئے کہ نبی خدا کا امین ہے۔ اس کی شان خیانت نہیں کیونکہ نبی کو حق الیقین ہے کہ جو کوئی دنیا میں خیانت کرے گا قیامت کو اس کی خیانت ظاہر کی جاوے گی اور پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کی پوری سزا دی جائے گی۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ غنائم کے تقسیم کرنے میں کوئی مصلحت ملحوظ رکھیں یا قوم اور رفاہ عام کے لئے اس میں سے کوئی حصہ بیت المال میں جمع کریں یا کسی وجہ سے تقسیم غنائم میں دیر ہو تو تم منافقوں کے کہنے سے اپنے نبی کی طرف ایسی بدگمانی ہرگز جائز نہ رکھیو۔ منافق عبداللہ بن ابی وغیرہ ایسے ایسے شبہات مسلمانوں کے دل میں ڈالا کرتے تھے اور یہ ضرور ہے کہ جب سردار کی نسبت ناجائز بدگمانیوں کا دروازہ کھلتا ہے تو انجام بغاوت اور پھوٹ پڑ کر قوم اور ملت کی شوکت اور برکت جاتی رہتی ہے۔ یہ اہل اسلام کو اپنے سرداروں اور پیشوائوں کی نسبت ادب ملحوظ رکھنا تعلیم فرمایا۔ یات بما غل اس میں عموماً ہر قسم کی خیانت کی برائی ہے اور عام امت کو تعلیم ہے کہ نہ مال میں خیال کریں ‘ نہ رازداری میں ‘ نہ احکامِ الٰہی میں ‘ نہ اس بار امانت میں کہ جو روز ازل بنی آدم کے سر پر دھرا گیا ہے۔ نہ اپنے حاکم اور سردار کی اطاعت میں ‘ نہ بیوی میاں کے مال و آبرو اور عصمت میں خیانت کرے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ قیامت کو انسان کے اعمال تشکل ہو کر آویں گے جیسا کہ ہم نے مقدمہ میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ اس بات کی کہ نبی کی شان خیانت نہیں تاکید کرتا ہے کہ نبی ہمیشہ رضامندیِ الٰہی کے تابع ہوتا ہے اور خیانت کرنے والا ناراضی حاصل کرکے جہنم میں ٹھکانا بناتا ہے۔ سو کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں یعنی برابر نہیں ہوسکتے تو پھر یہ دونوں وصف متنافیین کیوں کر جمع ہوسکتے ہیں۔ جب انسان کی روح پر تجلی ذاتی ہوتی ہے اور کدورات بشریہ کو آب عصمت سے دھویا جاتا ہے تو اس سے ہرگز معصیت سرزد نہیں ہوسکتی۔ یہاں سے آنحضرت ﷺ کا معصوم ہونا پایا گیا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ اہل صلاح خدا کے نزدیک باعتبار استعداد نفوس کے سعادت اور کمال کے مختلف درجوں پر ہیں۔ پھر تنبیہ کرتا ہے کہ خدا بندوں کے اعمال دیکھ رہا ہے۔ اس سے ہر شخص کو ہر وقت ڈرنا چاہیے۔ امانت ملحوظ رکھنے کے لئے یہ جملہ کیا ہے تاکید اور مضمون کی لہر ہے۔
Ayahs 3:164–165

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

بیشک اللہ نے ایمانداروں پر بڑا ہی احسان کیا جب ان میں انہیں کا رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے تو وہ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جب تم پر کوئی مصیبت آپڑے حالانکہ اس سے دو چند مصیبت تم (بھی) ان کو پہنچا چکے ہو تو یہ کہتے ہو کہ یہ کہاں سے آگئی (اے نبی ! ) کہہ دو یہ (مصیبت) تمہارے اپنے ہی کرتوتوں سے آئی ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

ترکیب : اذ ظرف ہے من کا مَن انفسہم صفت ہے رسولا کی یتلوا اور یزکیہم اور یعلمہم الکتاب جملہ حال ہیں رسولا سے وان مخففہ ہے مثقلہ سے۔ تفسیر : الہام اور نبوت کی ضرورت : فرمایا تھا کہ نبی کی شان غلول و خیانت نہیں۔ یہاں اس بات کو اور بھی ثابت کرتا ہے کہ خدا نے تو تم پر رسول بھیج کر (جو تم میں پیدا ہوا ہے) جس کے وقائعِ عمر یہ سے تم خوب واقف ہو کہ اس نے کبھی کوئی برائی یا خیانت نہیں کی۔ نہ کبھی جھوٹ بولا نہ دنیا کی محبت اس کی طرف آئی اور وہ اہل ایمان کو کتاب الٰہی بھی پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور حکمت سکھاتا ہے اور اس سے پہلے جو کچھ عرب کی حالت خراب تھی ظاہر ہے بڑا احسان کیا ہے۔ پھر یہ احسان اور اصلاح ملک جو تم نے دیکھی کبھی خائن کے بھیجنے سے بھی حاصل ہوسکتی ہے ؟ فائدہ : واضح ہو کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا کی ہے کہ جو اس کو نیک و بد میں تمیز کرکے دکھاتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس عقل و ادراک کا محل جسم خاکی بنایا جس کا افزطبعی تاریکی اور توہمات ہیں۔ جیسا کہ ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں اس لئے عقل کا رہنما الہام قرار پایا جس طرح کہ آنکھ میں بصارت رکھی ہے مگر وہ بغیر مدد آفتاب یا اور کسی روشنی کے نکمی ہو یہی حال عقل اور الہام کا ہے۔ اس لئے خدا نے دنیا میں رسولوں کی جماعت بھیجی تاکہ کسی کو کچھ عذر باقی نہ رہے لئلا یکون للناس علی اللّٰہ حجۃ بعد الرسل اور جب شریعت میں کچھ فرق آیا یا زمانہ کی مصلحت کے موافق کچھ تبدل و تغیر مقصود ہوا تو ایک رسول کے بعد دوسرا رسول آیا کیا۔ یہاں تک کہ اخیر زمانہ میں جبکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) آچکے اور ان کی شریعت اور کتاب میں لوگوں نے سخت تبدل و تغیر کردیا (جیسا کہ پولوس اپنے نامہ میں کہتا ہے) اور عرب میں بت پرستی اور زناکاری اور قزاقی کا بازار گرم ہوا۔ ادھر ایران اور ہند وغیرہ ملکوں میں بت پرستی اور توہمات باطلہ کے اتباع نے سخت رواج پایا تو تمام عالم کی اصلاح کے لئے عالی جناب حضرت محمد ﷺ کو ملک عرب سے مبعوث کیا اور پھر سب سے اول عرب کو من انفسہم ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یقین کامل آگیا۔ چند وجہ سے۔ دلائل ختم نبوت : (1) یوں کہ آنحضرت ﷺ انہیں کے شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ لوگ ابتدائے عمر سے لے کر اخیر تک آپ کے چال چلن سے خوب واقف تھے۔ کبھی سوا پاکدامنی اور راستبازی اور ترک حبّ دنیا اور گوشہ نشینی اور خدا پرستی راست گوئی کے اور کچھ نہیں دیکھا۔ پھر جب ایسا شخص ایک ایسا دعویٰ کرے کہ جس میں نہ کوئی دنیا کا مطلب تھا نہ آرام نفس تھا بلکہ سینکڑوں بلائوں کا مقابلہ تھا سوائے سچ کے اور کیا گمان کیا جاوے۔ (2) بعد نبوت کے کفار نے آنحضرت ﷺ کو مال دینا چاہا حسین و جمیل عورتیں دینے کا وعدہ کیا کہ آپ اس دعوائے نبوت سے باز آئیں مگر آپ نے بجائے اس کے فقر و فاقہ پر قناعت کی برادری اور اہل شہر کی ہزاروں تکلیفیں اٹھائیں ٗ ظلم پر ظلم برداشت کئے۔ اگر خدانخواستہ آپ اپنے دعوے میں جھوٹے ہوتے اور دنیا کا کوئی لالچ یا کسی شہوانی خواہش میں کامیابی مقصود ہوتی تو کبھی اس پر قائم نہ رہتے۔ (3) مدینہ میں جانے کے بعد اور ہر قسم کا غلبہ اوراقتدا پانے کے بعد بھی آپ کی وہی حالت رہی جو پہلے تھی ٗ وہی عبادت ‘ وہی ترک دنیا ‘ وہی فروتنی ‘ مساکین کو تقسیم کر آپ فقر و فاقہ سے گزران کرنا وہی راتوں کو محبت الٰہی میں جوش و درد سے رونا۔ (4) ابتدائِ عمر سے لے اخیر تک سینکڑوں کرامتیں اور معجزات دیکھے۔ یہ سب باتیں من انفسہم سے علاقہ رکھتی ہیں جس پر خدا تعالیٰ عرب کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور من انفسہم کے معنی اگر نوع انسان لئے جاویں تو کل بنی آدم اور بنی اسماعیل و ابراہیم کا فخر ہیں۔ اس کے بعد سب سے بڑا معجزہ جو تمام بنی آدم نے دیکھا اور جس کا اب بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا ٗ ذکر فرماتا ہے وہ یہ کہ عرب کی جو اس وقت حالت ذلیل و خراب تھی کسی کی نہ ہوگی۔ وہ لوگ محض وحشی ‘ جاہل شہوت پرست ‘ درندہ تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو آیات الٰہی سنا کر مزکی کردیا۔ ہر وحشی ‘ جاہل علم اور اخلاق حمیدہ کا سرچشمہ ہوگیا۔ صحابہ کی تاریخ سے اس کا بخوبی ثبوت ہوسکتا ہے اور پھر ان کو کتاب اور حکمت سکھا کر تمام بنی آدم کے لئے حکیم اور معلم کردیا۔ چناچہ جہاں جہاں صحابہ گئے توحید اور خدا پرستی اور راستبازی کے آفتاب نے ان ملکوں کو منور کردیا۔
Ayahs 3:166–167

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ مصیبت تم کو دونوں لشکروں کے مقابلہ کے دن پہنچی تو اللہ ہی کے اذن سے پہنچی

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور اس لئے بھی کہ خدا کو ایمانداروں اور منافقوں کو معلوم کرنا تھا اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑو یا (دشمنوں کو) دفع کرو تو کہہ دیا کہ اگر ہم لڑنا جانتے تو تمہارے پیچھے ہی نہ ہو لیتے وہ اس روز بہ نسبت ایمان کے کفر سے نزدیک تر تھے۔ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ کہ وہ دل میں چھپا رہے ہیں۔

ترکیب : لما کلمہ تقیید بمعنی شرط اصبتم الخ موضع رفع میں صفت ہے مصیبۃ کی قلتم الخ جملہ شرطیہ اور تمام جملہ محل استفہام یا محض جواب وما بمعنی الذی جملہ مبتداء فباذن اللّٰہ خبر ولیعلم معطوف ہے محذوف پر للکفر اور للایمان کا لام اقرب سے متعلق ہے یقولون جملہ مستانفہ ہے اور حال بھی ہوسکتا ہے۔ ضمیر اقرب سے ای قربوا الی الکفر قائلین۔ تفسیر : پہلے منافقین کے اول شبہ کا جواب دیا کہ نبی کی شان خیانت نہیں۔ یہاں منافقین کے دوسرے شبہ کا جواب دیتا ہے جو کہ وہ ضعفا اہل اسلام کے دل میں احد کی ہزیمت سے ڈالتے تھے۔ وہ یہ کہ اگر یہ رسول برحق ہیں تو ان کو احد کے روز ہزیمت کیوں ہوئی ؟ اور باوجود وعدہ غلبہ اسلام کے یہ مصیبت کہاں سے آئی ؟ چونکہ خدا تعالیٰ کو اپنے اس لشکر صحابہ سے آیندہ بہت کچھ کام لینا تھا اور جنگوں میں ہرچند صحابہ کو خارق عادت فتوحات بھی نصیب ہوئیں مگر کبھی شکست بھی ہونا عالم اسباب کے مقتضیات سے ہے۔ اس لئے منافقوں کے اقوال نقل کرکے آیندہ کے لئے مسلمانوں کو پکا کردیا کہ اگر پھر کبھی ایسی صورت پیش آئی تو تذبذب اور بودھ دل کے نہ ہوجائیں۔ کامل عزیمت کے یہ معنی ہیں کہ اگر کسی کام میں سو بار بھی ناکامی ہو پھر بھی وہ ہی ہمت بندھی رہے اور ہمت کا قائم رہنا فتح مندی اور کامیابی کی دلیل ہے۔ عبداللہ بن ابی وغیرہ کہتے تھے کہ یہ مصیبت کیوں آئی ؟ اللہ فرماتا ہے تم تو اس سے دو چند ہزیمت خاص بدر اور احد کے روز مخالفوں کو دے چکے ہو۔ پھر یہ کہتے ہو کہ کہاں سے آئی۔ اے نبی ! کہہ دو یہ تمہاری شامت اعمال اور نافرمانی سے آئی۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ پھر توضیح کرتا ہے کہ مقابلہ کے روز جو کچھ پیش آیا وہ بھی مقدر تھا۔ اس میں مخلصین اور منافقین کا امتحان مقصود تھا۔ پھر اس روز کی کیفیت جو منافقوں سے ظہور میں آئی بیان فرما کر ان کو کوڑا سا مارتا ہے۔ وہ یہ کہ جب مقابلہ کو آنحضرت ﷺ نکلے تو عبداللہ بن ابی کی رائے یہ تھی کہ شہر سے باہر نہ نکلو ٗ گرچہ وہ بھی لشکر اسلام میں شامل ہو کر نکلا مگر عین مقابلہ کے وقت مع تین سو آدمیوں کے بھاگ پڑا۔ جب اس سے عبداللہ ابن عمرو بن حزام انصاری ؓ نے کہا کہ اے بھلے مانس ! تو ہمیشہ سے دعویِٰ اسلام کیا کرتا تھا اب خدا کی راہ میں لڑ اور اگر اسلام پر تیرا عقیدہ نہیں تو پاس شہر اور برادری سے ہی مخالفوں کو ہٹا۔ اس نے کہا صاحب ہم کو لڑنا نہیں آتا۔ اگر آتا تو ہم تمہارے تابع رہتے۔ یہ بات اس نے بطور طعن کے کہی تھی کہ میرا کہنا کیوں نہ مانا۔ اللہ فرماتا ہے یہ لوگ اس روز بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے کیونکہ ان کے بھاگنے سے کفر کو مدد ملی اور یہ باتیں صرف زبان سے کہتے ہیں دل میں کفر پوشیدہ ہے۔ اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ : یعنی بدر میں تم کفار پر دو چند مصیبت ڈال چکے ہو۔ اب احد کی لڑائی میں جو کچھ تم پر مصیبت آگئی تو کہتے ہو کہ یہ کیوں آئی اور کہاں سے آئی ؟ حالانکہ یہ تمہاری نافرمانی سے آئی اور نافرمانی کا یہ حال تھا کہ جب منافقوں کو جنگ میں شریک ہونے کو کہا گیا کہ چلو لڑیں اور یہ نہیں تو اپنے شہر سے ہٹا ہی دیں تو حیلہ کرنے لگے کہ ہمیں لڑنا نہیں آتا۔ 12 منہ
Ayahs 3:168–171

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

(یہ وہی لوگ ہیں) جنہوں نے (گھروں میں) بیٹھ کر اپنے بھائیوں کی نسبت (یہ) کہا تھا کہ اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کئے جاتے (اے نبی ! ان سے کہہ دو ) تم اپنے اوپر سے (ہی) موت کو ٹال دینا۔ اگر تم (اپنی بات کے) سچے ہو

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں آپ ان کو مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے روزی پاتے ہیں

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

(اور) جو کچھ ان کو اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس پر خوش ہیں اور وہ ان لوگوں کی طرف سے بھی کہ جو ان کے پیچھے (دنیا میں زندہ) ہیں (اور) ابھی ان میں (جا کر) شامل نہیں ہوئے ٗ خوشیاں مناتے ہیں کہ ان پر کچھ بھی خوف نہیں نہ ان کو کوئی غم ہوگا

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

خدا کی نعمت سے اور فضل سے اور اس بات سے کہ اللہ کسی ایماندار کا اجر ضائع نہیں کرتا خوشیاں مناتے ہیں۔

ترکیب : الذین الخ صفت ہے الذین نافقوا کی لو اطاعونا شرط ماقتلوا جواب جملہ مقولہ قالوا کا۔ الذین قتلوا مفعول اول لاتحسبن کا امواتا مفعول ثانی۔ یرزقون صفت احیاء ‘ و یستبشرون معطوف ہے فرحین پر کیونکہ اسلم فاعل اس جگہ مشابہ فعل مضارع ہے۔ من خلفہم متعلق ہے یلحقوا سے۔ الا خوف ای بان لا خوف علیہم ان مصدریہ ہے اور موضع جملہ کا بدل ہے الذین سے بدل الاشتمال۔ تفسیر : یہ بھی منافقوں کا ایک شبہ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روکنے کے لئے تھا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی نسبت جو کہ جنگ میں شہید ہوگئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر وہ ہمارا کہا مانتے تو مارے نہ جاتے۔ چونکہ حیات ایک مرغوب چیز اور مرنے سے ڈرنا ایک طبعی بات ہے پھر جب اس کو اس شبہ سے قوت دی جائے تو خواہ مخواہ گھر میں چھپ کر بیٹھنے کو دل چاہے گا۔ اس لئے خدا نے اس کا جواب دیا کہ ان سے یہ کہہ دو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بھلا گھر بیٹھے تم تو موت سے بچ جائو۔ تمام امور جو عالم حسی میں سرزد ہوتے اور ظہور کرتے ہیں وہ عالم مثالی میں ثابت ہو چکتے ہیں۔ وہ ظاہر ہو کر ہی رہیں گے۔ اسی طرح موت کا بھی وقت معین ہے خواہ اس وقت گھر میں ہو یا جنگ میں ضرور مرے گا خواہ مفت نامردی اور بدنصیبی کا دھبہ لگا لے یا جوانمردی اور سعادت کا مرتبہ حاصل کرلے۔ اس کے بعد یہ بتلایا جاتا ہے کہ اچھا اگر وہ مرگئے تو کیا خسارہ میں رہے۔ آخر چند روز کا پیش و پس ہے ورنہ سب کو مرنا ہے۔ پھر اس سے کون خوش نصیب زیادہ ہے جو اللہ کی راہ میں مارا جائے اس لئے اب خدا تعالیٰ شہدوں کے درجات بیان فرماتا ہے کہ اے مخاطب تو ان لوگوں کو جو کہ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں یہ نہ سمجھو کہ وہ مرگئے بلکہ وہ اپنے خدا کے پاس زندہ ہیں اور یہ زندگی کچھ فرضی نہیں جیسا کہ نیک نام کو لوگ مجازاً زندہ کہہ دیا کرتے ہیں۔ اس معنی سے کہ لوگوں میں اس کا نام زندہ ہے بلکہ ان کو حیات جاودانی اور حقیقی زندگی ہے وہ یرزقون روزی دیے جاتے ہیں اور وہ رو زی مشاہدہ انوار اور خدا کی تجلی اور جنت کی بیشمار نعمتیں ہیں اور اس کے سوا ان کو وہاں ہر وقت خدا کی بیشمار نعمتوں سے فرحت اور سرور بھی ہے اور جو لوگ ان کے اقارب اور دوستوں میں سے ابھی زندہ ہیں اور ان کو ان کی طرف سے فکر ہے کہ دیکھئے وہ کیسے اعمال کرتے ہیں اور مر کر کہاں جاتے ہیں جیسا کہ کوئی مسافر منزل سخت اور ہولناک طے کرکے اپنے مقام پر جہاں ہر قسم کا آرام ہے پہنچ جائے اور اس کے متعلق لوگ پیچھے ہوں اور اس کو فکر ہو کہ دیکھئے منزل کیونکر طے کرتے ہیں۔ سو ان کو وہاں خوشی سنائی جاتی ہے کہ تمہاری برکت سے ان پر بھی کچھ خوف و غم نہیں۔ وہ بھی تمہارے ہی پاس آتے ہیں (عالم روحانی میں ان احیاء کو دنیا کا علم اور اشتیاق بھی رہتا ہے) اور یہ بھی مژدہ سنایا جاتا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر اور دینی خدمت کو ضائع نہیں کرتا۔ تم اپنی نوکری پوری کرچکے ہو اب تم پر رحمت ہے۔ فوائد : (1) شہیدوں کے زندہ ہونے سے ابو القاسم وغیرہ معتزلہ نے یہ مراد لی ہے کہ وہ قیامت کو زندہ کئے جاویں گے کیونکہ منافق بعث و حشر کے قائل نہ تھے۔ سو وہ اس موت کو رائیگاں سمجھتے تھے اس لئے خدا نے ان کے قول کو رد کردیا۔ اہل سنت کے نزدیک یہ قول غلط ہے کس لئے کہ خدا تعالیٰ ان کو احیاء (یعنی بالفعل زندہ ہیں) فرما رہا ہے اور اسی طرح کبھی بالذین لم یلحقوا بہم سے یہ مراد لیتے ہیں کہ شہید تو جنت میں پہلے جاویں گے مگر جو لوگ ہنوز جنت میں داخل نہ رہے ہوں گے ان کی طرف سے ان کو فکر ہوگی سو اس لئے ان کو بشارت دی جاوے گی کہ وہ بھی تمہارے پاس آتے ہیں۔ یہ توجیہ بھی بناء الفاسد علی الفاسد ہے۔ وہ احادیث جو شہیدوں کے بالفعل زندہ ہونے پر دلالت کر رہی ہیں حدِّ تواتر کو پہنچ گئی ہیں صحاح و دیگر کتب حدیث ان سے مالا مال ہیں۔ (2) بعض حمقا نے اس سے مجازی معنی مراد لئے ہیں کہ ان کا نام زندہ رہتا ہے کیونکہ قوم اور ملت پر قربان ہو رہے ہیں مگر یہ بھی لغو ہے کیونکہ سیاق اور سباق کلام اور احادیث اور اجماع امت کے برخلاف اور تاویل باطل ہے۔ پھر جو ان کو بالفعل زندہ مانتے ہیں۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ان کے اسی جسم میں حیات دی جاتی ہے۔ شاید اس سے یہ مراد ہو کہ شہیدوں کی روحانیت اور بقاباللہ کا اثر بعض اوقات ان کے اجسام تک بھی پہنچتا ہے۔ اس لئے سینکڑوں برسوں کے بعد جو کبھی شہیدوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں تو ان کا جسم بھی ترو تازہ پایا گیا ہے۔ چناچہ امام مالک نے مؤطا میں لکھا ہے کہ احد کے پہاڑ کے نیچے جو برساتی نالہ بہتا ہے ایک بار جو اس نے زور کیا تو جنگ احد کے بعض شہیدوں کی لاشیں نکلیں جن سے بدستور خون جاری تھا اور یہ معاملہ بنی امیہ کے عہد سلطنت میں ہوا ہے اور یہی سر ہے کہ انبیاء اور اولیاء (علیہم السلام) کی لاشوں میں بھی وہ اثر ہوجاتا ہے کیوں نہ ہو پھول کا اثر مٹی میں ہوجاتا ہے روح تو بڑی چیز ہے۔ جمہور اہل سنت والجماعت کا یہ قول ہے کہ ان کو حیات روحانی نصیب ہوتی ہے۔ یوں تو ہر شخص کافرو مومن کی روح نہیں مرتی کس لئے کہ اصل انسان روح کا نام ہے کہ جو ایک جوہر لطیف ہے اور جس کا علاقہ جسم سے وہ ہے جو آگ کا لکڑی دہکتی سے یا خوشبو کا پھول سے یا علاقہ تدبیر و تصرف اور مرکب کا ہے جس کو موت کہتے ہیں۔ اس سے وہ علاقہ جسمی منقطع ہوجاتا ہے اور روح قائم وسالم دوسرے عالم میں منتقل ہوجاتی ہے۔ ہاں جو کافر و منافق یا گنہگار ہیں وہاں ان کی روح اپنے اعمال کے اس رنگ سے جو دنیا میں اس پر چڑھا تھا ٗ عذاب پاتی ہے۔ جہنم کی آگ میں جلتی ہے اور جو ابرار اور نفوس قدسیہ ہیں۔ وہ انوار الٰہیہ اور عالم نورانی میں مسرور ہوتے ہیں اور مشاہدہ جمال سے لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی روح اپنے جسم لطیف کے ساتھ جنت اور عالم قدس کے باغوں میں جہاں چاہتی ہے عیش مناتی پھرتی ہے۔ چناچہ وہ جو احادیث میں آیا ہے کہ (شہیدوں کی روح سبز پرندوں کے قالب میں آشیانہ عرش میں رہتی اور جنت میں جہاں سے چاہتی کھاتی پیتی ہے) اس سے یہی مراد ہے بلکہ کبھی اس عالم میں بھی صورت جسدانیہ میں سیر کر جاتی ہے جیسا کہ ثقات کو بارہا مشاہدہ ہوا ہے۔ چونکہ جسم سے علاقہ منقطع ہوجاتا ہے۔ اس لئے ان کے مال میں میراث جاری ہوتی ہے اور ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح درست ہوجاتا ہے۔ سو ابرار کا اس عالم سرور میں جانا اصل زندگی ہے۔ اسی لئے ان کو بالتخصیص زندہ کہہ سکتے ہیں خصوصاً شہید فی سبیل اللہ کو جو اپنی حیات کو اللہ کی نذر کردیتا ہے۔ اس لئے اس کو حیات ابدی اس کے بدلہ نصیب ہوتی ہے۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے کشتگان خنجر تسلیم را ہر زمان از غیب جان دیگر است (3) خدا تعالیٰ نے یسعیاہ نبی کی معرفت جیسا کہ کتاب یسیعیاہ کے بیالیسویں باب میں ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی نسبت یہ خبر دی ہے دیکھو میرا برگزیدہ جس سے میرا جی راضی ہے وہ قوموں کے درمیان عدالت جاری کرے گا (2) وہ بازاروں میں نہ چلائے گا ملخصاً (4) اس کا زوال نہ ہوگا اور نہ مسلا جائے گا جب تک کہ راستی کو زمین پر قائم نہ کرے الخ (5) خداوند الخ یوں فرماتا ہے (6) کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور قیدیوں کو قید سے نکالے کہہ یہود امیرا نام ہے اپنی شوکت غیر کو نہ دوں گا جو ستائش میرے لئے ہوتی ہے میں وہ کھدی ہوئی مورتوں کے لیے ہونے نہ دوں گا (6) بیابان 1 ؎ اور اس کی بستیاں قیدار 2 ؎ کے آباد دیہات اپنی آواز 3 ؎ بلند کریں گے پہاڑوں 4 ؎ کی چوٹیوں پر سے للکاریں گے ٗ وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں گے۔ خداوند ایک بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت کو جوش میں لائے گا وہ چلائے گا ہاں وہ جنگ کے لئے بلائے گا وہ اپنے دشمنوں پر بہادری کرے گا الخ اس بشارت میں آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک 1 ؎ ملک عرب 12۔ 2 ؎ قیدار حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بڑا بیٹا آنحضرت ﷺ کا جد اعلیٰ ہے۔ یہ صاف تصریح آنحضرت ﷺ کی ہے کیونکہ بنی قیدار میں سے سوا آپ کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں گذرا ہے۔ 12 منہ 3 ؎ یعنی حج اور جہاد میں تکبیر کہیں گے۔ 12 منہ 4 ؎ حج میں صفا ومروہ پر للکار کر تکبیر پڑھتے ہیں۔ 12 منہ۔ 4 ؎ من للبیان لا للتبعیض منہ کی صاف تصریح ہے اور اس حکمت نوامیسیہ کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو جہاد سے مقصود ہے وہ یہ کہ جس طرح مالک باغ اپنے باغ کو باغباں سے چھٹواتا ہے اور جو کانٹے اور ناقص گھاس اگ آتی ہے بےساختہ ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ اسی طرح مخلوقِ الٰہی میں جب وعظ و پند انبیاء سے کام نہیں نکلتا تب اخیر میں ایک آسمانی سلطنت قائم کرتا ہے اور اپنے پیغمبر کو اس کام کے لئے مبعوث کرکے بت پرستی کے خس و خاشاک کو اکھڑوا دیتا ہے۔ سو اس لئے قرآن میں جا بجا جہاد کی تاکید ہوئی اور اس لشکر کی تنخواہ اجر آخرت اور درجہ شہادت اور کبھی کچھ غنیمت اور ملک و قوم کی شوکت قرار پائی۔
Ayahs 3:172–174

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے زخم پہنچنے کے بعد (بھی) اللہ اور رسول کا حکم مانا ان میں سے جنہوں نے نیکی اور پرہیزگاری کی (ان کے لئے) اجر عظیم ہے۔

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو لوگوں نے (آکر) کہا کہ تمہارے لئے لوگ جمع ہوئے ہیں سو ان کو ڈرایا (اس سے) ان کا (اور بھی) ایمان بڑھ گیا اور انہوں نے (یہ) کہا کہ اللہ ہم کو کافی ہے اور (وہی) اچھا کارساز ہے۔

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

سو یہ (ایمان والے) خدا کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس آئے (اور) ان کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا اور اللہ کی رضامندی پر چلے اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

ترکیب : الذین استجابوا موضع جر میں صفت ہے المؤمنین کی۔ اجر عظیم مبتدا موخر للذین احسنوا منہم خبر۔ الذین قال لہم بدل ہے الذین استجابوا سے۔ حسبنا ای فحسبنا مبتداء اللّٰہ خبرا و العکس بنعمتہ من اللہ لم یمسسہم بھی حال ہے ضمیر انقلبوا سے واتبعوا معطوف ہے انقلبوا پر۔ تفسیر : پہلی آیت میں شہیدوں کی مدح کے بعد یہ تھا کہ خدا مومنوں کے اجر ضائع نہیں کرتا۔ یہاں ان مومنوں کی تشریح کرتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہ نہیں کہ برائے نام اسلام اختیار کرکے ان درجوں کا اپنے تئیں مستحق سمجھ بیٹھے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ شہید ہوگئے ہیں وہ تو منزل مقصود کو پہنچ ہی گئے مگر جو اس جماعت کے لوگ زندہ ہیں ٗ وہ بھی انہیں میں شمار ہیں۔ فرماتا ہے کہ مومن کامل وہ لوگ ہیں کہ جو ہزیمت کھا کر زخم اٹھا کر بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کو موجود ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے کیونکہ انہوں نے اوامر پر عمل کیا۔ احسنوا اور منہیات سے بچے۔ اتقوا اس مدح میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ وہ یہ کہ جب جنگ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ستر (70) آدمی شہید ہوگئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے اور مشرکین چڑھے چلے آتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی لاشوں کی بےحرمتی کریں۔ چناچہ حضرت حمزہ ؓ کی لاش کی بےادبی کی۔ کان ناک کاٹ کر شکل بگاڑی۔ اس میں آنحضرت ﷺ نے سنبھل کر پھر اہل اسلام کو پکارا تو باوجود اس شدت کے پھر دوڑے چلے آئے اور مشرکین کو ہٹا دیا۔ واقدی وغیرہ اہل سیریہ کہتے ہیں کہ اس کا سبب نزول یہ ہے کہ احد کی جنگ سے جب ابو سفیان مشرکین کا لشکر لے کر واپس چلا اور بمقام روحا پہنچا تو اس کے دل میں آیا کہ ہم نے بہت سے مسلمان قتل کئے اور بہت کو زخمی کیا افسوس ان کو بالکل نیست و نابود ہی کیوں نہ کیا پھر چلو اور کام تمام کر آؤ کیونکہ اب ان میں دم نہیں ہے اس کے اس ارادہ کی خبر نبی ﷺ کو بھی پہنچ گئی۔ آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں سے کہا ٗ ابو سفیان کے مقابلہ کے لئے چلو۔ منافقوں نے کہا کیا خوب یہ تو حال ہوا ہے پھر ان سے لڑنے چلو مگر مخلصین اہل اسلام باوجود زخموں کے کمر ہمت باندھ کر آمادہ ہوگئے۔ آنحضرت ﷺ ستر صحابہ کو لے کر حمراء 1 ؎ اسد تک کہ جو مدینہ سے تین میل ہے پہنچے ابو سفیان ڈر کر بھاگ گیا۔ یہ ان مسلمانوں کی مدح ہے جو ساتھ گئے تھے۔ پھر الذین قال لہم الناس میں ایمانداروں کی دوسری مدح ہے۔ اس میں بدر صغریٰ 1 ؎ کے غزوہ 2 ؎ کی طرف اشارہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ احد کے روز جب ابو سفیان مکہ کو واپس چلنے لگا تو پکار کر کہا ٗ اے محمد ﷺ ہمارا تمہارا مقابلہ اب کے بدر صغریٰ کے موسم پر ہوگا۔ آنحضرت ﷺ نے عمر ؓ سے کہا ٗ کہہ دو منظور۔ جب وہ دن آئے اور ابو سفیان لوگوں کو مکہ سے اکٹھا کرکے مر الظہران تک آیا تو اس کے دل میں مسلمانوں کی طرف سے رعب آگیا اور وہ واپس پھر گیا اور نعیم بن مسعود اشجعی کو کچھ دینار دے کر مدینہ میں اس لئے بھیجا کہ مسلمانوں کے ڈراوے کہ تمہارے مقابلہ کے لئے بڑی فوجیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہ عقل کی بات نہیں کہ تم وہاں لڑنے کو جائو۔ جب یہاں آکر انہوں نے یہ کہا کہ تم کو قتل کیا جائے گا اور وہاں جا کر کوئی زندہ واپس نہ آئے گا۔ منافق تو سن کر کانپنے لگے مگر مخلصین مسلمان بالکل آمادہ ہوگئے اور یہ کہا کہ کچھ پروا نہیں۔ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہی ہمارا مددگار ہے۔ آخر تمام صحابہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ حسب وعدہ پہنچے۔ یہاں مخالفین میں سے کوئی بھی نہ ملا۔ اس مقام پر ایام جاہلیت میں ہر سال کئی روز تک خریدو فروخت کا میلہ لگا کرتا تھا۔ صحابہ نے وہاں جو کچھ زاد راہ لے گئے تھے اس کو فروخت کرکے دو چند نفع اٹھایا اور ثواب اخرت لے کر یہ لوگ صحیح سلامت گھر آئے۔ قال لہم الناس سے مراد نعیم ہے۔ ان الناس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ بنعمۃ من اللّٰہ سے العافیۃ اور فضل سے مراد نفع تجارت ہے۔ لم یمسسہم سو یعنی قتل و ضرب کوئی برائی پیش نہ آئی۔ واتبعوا رضوان یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کی۔ اس سے منافقین کے دل میں حسرت پیدا کرتا ہے۔ 1 ؎ یعنی باردگر لڑنے کے لئے تیار ہوگئے۔ احد کی لڑائی کے بعد جاتے وقت ابو سفیان سردار قریش یہ کہہ گیا تھا کہ اب ہم بدر صغریٰ پر پھر تم سے لڑنے کو فلاں فلاں وقت آئیں گے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو تیار کیا ٗ خدا پرست تیار ہوگئے اور حضرت کے ساتھ وہاں پہنچے وہاں کفار میں سے کسی کو بھی نہ پایا ٗ ابو سفیان کی خالی شیخی تھی۔ ان حکم برداروں کی ان آیات میں مدح کی جاتی ہے کہ وہ صحیح سلامت بھی آئے اور ان کو اجر بھی ملا۔ 12 منہ 2 ؎ یہ بنی کنانہ کا تالاب یا کنواں تھا یہاں ہر سال خریدو فروخت کے لئے میلہ لگا کرتا تھا اور یہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ 12 منہ 3 ؎ غزوہ اس لشکر کشی کو کہتے ہیں جس میں خود آنحضرت ﷺ بھی شریک تھے۔ اور سریہ وہ کہ جس میں خود شریک نہ تھے۔
Ayahs 3:175–178

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

(یہ خبر دینے والا) تو صرف (ایک) شیطان تھا جو اپنے دوستوں کو ڈرایا کرتا ہے۔ سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرا کرو۔ اگر تم ایماندار ہو

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) ان لوگوں سے کچھ غم نہ کرو کہ جو کفر میں دوڑ دھوپ کر رہے ہیں وہ خدا کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے۔ اللہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہ رکھے اور ان کو بڑا عذاب ہو

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے میں کفر خریدا۔ وہ اللہ کو تو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے اور ان کے لئے عذاب الیم ہے

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ یہ جو ہم ان کو ڈھیل دے رہے ہیں کچھ ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ وہ اور بھی گناہ کمائیں اور ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔

ترکیب : ذلکم مبتدا الشیطان خبر ‘ یخوف جملہ حال ہے الشیطان سے ‘ والعامل الاشارۃ ای یخوفکم باولیائہ او یخوف اولیاءہ الذین کفروا فاعل ‘ لایحسبن الذین انما نملی لہم جملہ قائم مقام دو مفعولوں کے۔ تفسیر : پہلے ذکر تھا کہ کفار اہل ایمان کو ڈراتے ہیں کہ تمہارے لئے فوجیں جمع ہو رہی ہیں۔ یہاں فرماتا ہے کہ یہ ڈرانے والا (یعنی نعیم بن مسعود 1 ؎ یا جماعت کفار ابو سفیان وغیرہ) شیطان ہے کہ جو اپنے دوستوں یعنی مشرکین و کفار کی شوکت سے خدا کے دوستوں کو ڈرایا کرتا ہے اور دل میں وسوسہ ڈالا کرتا ہے یا یہ معنی کہ یہ شیطان اپنے یاروں کو ڈرایا کرتا ہے یعنی اس کا گذر زیادہ انہیں کے دل میں ہے۔ وہیں زیادہ وسوسہ ڈالا کرتا ہے۔ سو تم اس کے دوست نہیں ہو۔ تم کیوں ڈرتے ہو۔ تم مجھ سے ڈرو اگر سچے مومن ہو۔ اس کے بعد مشرکین کے کروفر اور منافقوں اور یہود کے خداع و مکر کی بےثباتی بیان فرماتا ہے کہ اے نبی یا اے ہر مخاطب ‘ اہل ایمان ! تم کو ان کے اس کفر کی تیاری اور کوشش سے ہراساں نہ ہونا چاہیے۔ یہ سب ہیچ ہے جو کچھ اللہ کو کرنا ہے وہی کرکے رہے گا۔ یہ اس کے ارادے اور اس کے جاری کئے ہوئے دین میں کچھ بھی خلل اندازی نہ کرسکیں گے۔ خدا کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے یہ صرف اپنا ہی بگاڑ کر رہے ہیں کیونکہ ان کی اس شرارت سے خدا یہ چاہ رہا ہے کہ ان کے لئے آخرت میں سعادت کا کوئی حصہ بھی نہ رہے۔ بدبخت ازلی رہیں ان کو عذاب عظیم ہوگا اور وہ لوگ جو فطری ہدایت چھوڑ کر کفر اس کے بدلے میں اختیار کرتے ہیں یعنی ایمان دے کر کفر خریدتے ہیں منافقین وغیرہ وہ بھی کیا خدا کو مضرت دے سکتے ہیں۔ ان کو عذاب الیم ہوگا۔ بعد مردن ان کے یہ افعال شنیعہ جہنم کی آگ بن کر ان کو جلا دیں گے۔ احد کی لڑائی کے بعد مشرکین اپنی فتح یابی پر نازاں ہو کر یہ کہا کرتے تھے کہ جس دین پر ہم ہیں وہ حق ہے کہ ہم کامیاب ہیں اور دنیا اور دولت ہم کو نصیب ہے۔ مسلمان اسلام کی بدولت کس پست حالت میں ہیں نہ مال ہے نہ اسباب ہے ‘ گھر بار چھوڑے مدینہ میں فاقہ کشی کر رہے ہیں۔ قتل کئے جاتے ہیں۔ اس کا جواب دیتا ہے کہ ہم نے جو ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اور یہ سامان مہیا کردیے ہیں اس کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں۔ ان کو یہ سامان اس لئے ملے ہیں کہ نافرمانی اور گناہ میں کامل ترقی کرکے مرنے کے بعد اس کی پوری سزا پائیں جس طرح کوئی مجرم کرے اور بادشاہ باوجود علم وقدرت کے اس کو فوراً گرفتار نہ کرے اور اس کو اتنی مہلت دے کہ وہ خوب بغاوت اور فتنہ پھیلا دے۔ : بعض معترض اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا کا لوگوں کے حق میں برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا اس لئے ڈھیل دینا کہ وہ اور بھی گناہ کرکے زیادہ عذاب میں مبتلا ہوں اور نیز بار بار یہ فرمانا کہ ہم کو امتحان مقصود تھا یا ہم کو نیک اور بدوں کی آزمائش کرنی تھی۔ اس کی شان تقدیس اور علم ازلی کے خلاف ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب مجازات و استعارات ہیں۔ بندہ جب اپنے اس اختیار و ارادے وقدرت خداداد کو برائی میں صرف کرتا ہے اور کسی ناصح کی بات نہیں مانتا جس سے اس پر برے نتائج پیش آتے ہیں تو ان نتائج کو کہیں بطور سرزنش علم ازلی کے سبب جو ازل میں خدا کو ان باتوں کا علم تھا اور وہ دفتر علم الٰہی میں ثبت ہوچکے تھے۔ اپنی طرف اسناد کردیا جاتا ہے اور اس مفاد میں کوئی بات خلاف تقدیس نہیں۔ اسی طرح گو اس کو ازل میں ہر چیز کا علم تھا مگر اس عالم شہود میں وہ علم جس کو بندے بھی حاصل کرتے ہیں۔ بعد وقوع معاملات ہی ہوتا ہے اس لئے آزمانا وغیرہ اس علم کے لحاظ سے فرمایا گیا۔ 12 منہ 1 ؎ یہ لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے۔ ان کی یہ مذمت اس حال پر ہے۔ 12 منہ سو یہ بادشاہ کے کامل غضب کی علامت ہے کہ پھر اس کو گرفتار کرکے اس بڑے بھاری جرم کے معاوضہ میں سخت سزا دے گا۔ بادشاہ کا یہ ڈھیل دینا کچھ اس کے حق میں مہربانی نہیں بلکہ زہر اور قہر ہے۔ اسی طرح بےدینوں کا دنیا میں کامیاب ہونا اور عمر و دولت میں ترقی کرنا وجود خدا کی نافرمانی کے ان کے حق میں زہر ہے۔