3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 3:31–34

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو (تاکہ) خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بھی معاف کر دے اور اللہ تو بخش دینے والا مہربان ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

(اور) کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کیا کرو۔ پھر اگر وہ نہ مانیں تو خدا کو بھی منکروں سے کچھ محبت نہیں۔

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ نے آدم اور نوح کو اور ابراہیم اور عمران کے خاندان کو تمام دنیا پر

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

برگزیدہ کیا تھا جو ایک دوسرے کی اولاد سے تھے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔

ترکیب : ان کنتم تحبون اللّٰہ شرط فاتبعونی جواب شرط ‘ یحببکم اور یغفرلکم مجذوم میں اتبعوا امر کے جواب میں آکر ذریۃ منصوب ہے یا اس وجہ سے کہ یہ بدل ہے نوحا وما عطف علیہ سے اور ممکن ہے کہ ان اسماء سے حال بھی ہو اور عامل اس میں اصطفی ہو۔ بعضہا مبتداء من بعض خبر یہ جملہ موضع نصب میں ہے کیونکہ صفت ہے ذریۃ کی۔ تفسیر : جب توحید ثابت کردی گئی تو مشرکین کے پاس بجز اس کے اور کوئی حیلہ نہ رہا کہ ہم ان کو اللہ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔ مقصود خدا اور اس کی محبت ہے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر تم کو اللہ سے محبت ہے تو اس کے رسول کے کہنے پر چلو۔ اس نادیدہ خدا کی محبت کے وہی عمدہ طریق بتا سکتا ہے کہ جس سے وہ راضی ہو اور تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بھی بخش دے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے۔ تمہارے خیالات فاسدہ باعث محبت نہیں ہوسکتے۔ خدا کی محبت اس کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے وابستہ ہے کیونکہ خدا کافروں سے جو خدا اور رسول کے نافرمان ہیں ٗ محبت نہیں کرتا۔ رسول کی اطاعت پر محبت کے منحصر کرنے سے یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ بندے بندے سب برابر ہیں ٗ ان کی اطاعت کس لئے ! اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ خدا نے ان کو برگزیدہ کرلیا ہے جن میں سے اول برگزیدہ آدم ہیں ٗ پھر نوح ٗ پھر ابراہیم اور عمران کا خاندان موسیٰ و ہارون وغیرہ۔ یہ خدا نہ تھے نہ فرشتے تھے ٗ آدمی تھے۔ جو ایک دوسرے کی نسل سے تھے اور برگزیدگی اس کے علم و حکمت پر منحصر ہے کیونکہ وہ سمیع وعلیم ہے۔ اس میں قریش کے شبہ کا بھی جواب ہے۔ وہ کہتے تھے محمد ﷺ اپنی اطاعت کراتا ہے حالانکہ ہم ہی میں کا ایک شخص ہے۔ جو اب یہ ہوا کہ سلسلہ نبوت قدیم سے چلا آتا ہے اور نوح ابراہیم وغیرہ بھی اسی طرح برگزیدہ قابل اطاعت تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں اور یہ برگزیدگی خدا کے ساتھ ان کا ارتباط خاص تھا جس کے سبب وہ ان امور سے مطلع کئے جاتے تھے جن سے تم نہیں کئے جاتے۔ اس لئے ان اسرار کی تعلیم کے سبب وہ مقتداء قابل اطاعت تھے۔
Ayahs 3:35–37

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جبکہ عمران کی بیوی نے (یہ) کہا کہ اے میرے رب ! میرے پیٹ میں جو کچھ آزاد ہے اس کو میں نے تیرے لئے نذر کیا سو تو مجھ سے قبول کرلے کیونکہ تو ہی سنتا جانتا ہے۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

پھر جب اس نے لڑکی جنی اور اللہ ہی خوب جانتا تھا کہ اس نے کیا جنا تھا تو کہنے لگی کہ اے رب ! میں نے (یہ) لڑکی جنی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا کا ہے کو ہونے لگا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں،

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پھر تو اس کو اس کے رب نے اچھی طرح سے قبول کرلیا اور اس کو عمدہ اٹھان اٹھایا اور زکریا نے اس کی کفالت کی جب زکریا اس کے پاس حجرے میں جاتے تو اس کے پاس کچھ کھانا پاتے (پھر مریم سے) پوچھا کہ اے مریم یہ کھانا تیرے پاس کہاں سے آتا ہے۔ مریم نے (جواب میں) کہا یہ خدا کے ہاں سے آتا ہے بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے۔

ترکیب : اذا اس کا عامل اذکر ہے محرراً حال ہے ما سے جو بمعنی الذی ہے ‘ انثی حال ہے وضعتہا کی تا سے یابدل نباتا بمعنی انباتا مفعول مطلق ہے فعل مذکور سے ‘ کفل کا فاعل اللہ ہا مفعول اول زکریا مفعول ثانی۔ کلما کلمہ شرط دخل علیہا اس کے متعلق زکریا فاعل المحراب مفعول فیہ دخل کا وحقہ ان یتعدی بفی او بالی لکنہ اتسع فیہ فاوصل بنفسہ الی المفعول یہ جملہ شرط۔ وجد کا فاعل زکریا عندھا ظرف رزقا مفعول تمام جملہ جواب شرط قال یا مریم جملہ مستانفہ۔ تفسیر : چونکہ ابھی خدا کی محبت اور اس کی طاعت کا ذکر تھا اس لئے مناسب ہوا کہ خدا کے محبوبوں اور حقیقی مطیعوں کے واقعات ترغیب کے لئے اجمالی طور پر بیان فرمائے جاویں جس سے روح کو اس کا ذوق اور ان پاکبازوں اور راست بازوں کے اتباع کا شوق دل میں پیدا ہو۔ سب سے اول قصہ آل عمران کا عبرت انگیز حضرت مریم اور ان کے فرزند ارجمند حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہے پھر اس کے ضمن میں حضرت زکریا کی دعا اور التجا پر رحم فرما کر ان کے ہاں فرزند سعادت مند حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے تولد کا ہے کہ جن کو یوحنا بھی کہتے ہیں۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ مریم کی والدہ کا نذر کرنا اور پھر بجائے لڑکے کے مریم کا پیدا ہونا اور ان کا حضرت زکریا (علیہ السلام) کے زیر حفاظت محراب یعنی مسجد کے حجرے میں پرورش پانا جس کو اہل کتاب ہیکل کہتے ہیں اور پھر بطور خرق عادت مریم کے پاس بےموسم کے میوے دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کا متعجب ہو کر پوچھنا اور مریم کا جواب دینا بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ اناجیل اربعہ کے مصنفوں اور حواریوں کے خطوط مسلمہ نصاریٰ میں عمران اور اس کے باپ اور مریم کی ماں کا نام مع التفصیل مذکور نہیں مگر مؤرخین اسلام نے اپنی تحقیقات سے بیان کیا ہے۔ یہ عمران وہ عمران نہیں کہ جو موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے والد تھے بلکہ یہ ماتان کے بیٹے ہیں جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں ٗ یہ حضرت زکریا بن اذن کے عہد میں تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نانا ہیں۔ 1 ؎ محرر اس نر کو یعنی لڑکے کو کہتے تھے جو دنیا کے کاروبار سے آزاد کرکے مسجد میں دینی خدمات کے لئے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ لڑکی پیدا ہونے سے وہ امید جاتی رہی کہ کس لئے کہ لڑکی لڑکوں کے برابر کیا خدمت سرانجام دے سکتی ہے۔ یہ ان کی ماں کے حسرت کے کلمات ہیں جو جناب باری میں مریم کی ولادت کے وقت لڑکی کو ناچیز سمجھ کر کہے تھے۔ خدا کو ان کا نیاز و خلوص پسند آیا اور اس کو قبول کیا اور لڑکوں سے عمدہ ثمرہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ان سے ظہور پذیر ہوئے۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت تو زکریا نے (بھی) اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ کو بھی اپنی جناب سے اولاد عطا کر۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔

ترکیب : ھنا دراصل ظرف مکان کے لئے ہے مگر یہاں ظرف زمان مراد ہے۔ لک سے اس میں بعد ہوگیا۔ یہ دعا سے متعلق ہے من لدنک ھب لی متعلق ہے۔ پس من ابتداء غایۃ ہبہ کے لئے ہے نادت فعل الملئکۃ فاعل بہ ضمیر مفعول ذی الحال وھو قائم جملہ حال یصلی ضمیر قائم سے حال ہے۔ ان اللّٰہ جملہ بیان ندا ہے مصدقا اور سیدا اور حصورا اور نبیاً یحییٰ سے حال ہے لی خبر یکون کو غلام اسم وانی بمعنی کیف اٰیتک مبتداء ان لاتکلم الخ جملہ خبر۔ عشی مفرد ہے بعض کہتے ہیں عشیہ کی جمع اور ابکار بروزن افعال مصدر ہے اے وقت لابکار۔ بنی اسرائیل میں دستور تھا کہ وہ اپنے لڑکے کو خدا کی نذر مانا کرتے تھے جب اس کا دودھ بڑھ جاتا تو اس کو ہیکل یعنی اس مسجد میں کہ جس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شہر یروشلم میں بنایا تھا۔ جس کو اہل اسلام بیت المقدس کہتے ہیں ٗ کاہن یعنی امام کے پاس لا کر چھوڑ جاتے تھے اور وہ وہاں مسجد کی خدمت کیا کرتا تھا جیسا کہ سموئیل کو نذر مانا تھا۔ عمران جب مرگئے تو ان کی بیوی حنہ حمل سے تھیں۔ اس نے خلوص نیت سے بدستور بنی اسرائیل یہ نذر مانی کہ الٰہی جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ‘ میں نے سب کاموں سے محرر 1 ؎ یعنی آزاد کرکے تیرے لئے نذر مانا ہے۔ سو جب جنی تو لڑکی پیدا ہوئی اور لڑکی ہیکل کی خدمت کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ یہ سمجھ کر نہایت حسرت سے جناب باری میں عرض کی کہ الٰہی میں نے لڑکی جنی اور لڑکی لڑکے کے برابر نہیں ہوتی۔ مطلب یہ کہ یہ تیری نذر کے قابل چیز پیدا نہیں ہوئی ٗ کیا کروں ؟ چونکہ وہاں تو خلوص اور محبت پر نظر ہے وہاں لڑکی اور لڑکے کی کچھ پروا نہیں۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے بطور جملہ معترضہ کے یہ فرما دیا کہ اللہ ہی خوب جانتا ہے جو کچھ اس نے جنا یعنی وہ لڑکی لڑکوں سے بہتر ہے اور اسی لئے ایک جگہ کانت من القانتین فرمایا ہے اور اس تقدیر پر اگر ولیس الذکر کالانثی کے خدا کی طرف کا جملہ ہو کر یہ معنی قرار دیے جاویں کہ اس لڑکی کے برابر کوئی لڑکا نہیں تو ممکن ہے حنہ نے اس کا نام مریم رکھا اور جب اس کا دودھ بڑھ چکا تو بدستور بنی اسرائیل اس کو ہیکل میں کاہنوں کے پاس بھیج دیا۔ ان میں حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی تھے جو رشتہ میں مریم کے خالو ہوتے تھے۔ مریم کی خالہ الیساع جس کو الیسبات بھی کہتے ہیں ٗ زکریا کی بیوی تھی۔ کاہنوں میں باہم گفتگو ہوئی کہ اس لڑکی کی کون پرورش کرے ؟ زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا میں مستحق ہوں۔ اس کی خالہ اس کے حال کی خوب نگراں رہے گی اوروں نے نہ مانا۔ اس پر قلم ڈالنے یعنی چٹھی لکھ کر ڈالنے کی قرعہ کے طور پر نوبت پہنچی اور قرعہ میں بھی زکریا کا نام نکلا۔ تب زکریا کے مریم سپرد ہوگئیں اور انہوں نے ان کے لئے جداگانہ جگہ ہیکل کے متعلق تجویز کردی۔ مریم کو خدا نے نذر میں خوش ہو کر قبول کرلیا تھا اور خدا غیب سے اس کے خورش کے سامان مہیا کرتا تھا۔ اس عرصہ میں مریم جواں ہوگئیں۔ خدا کی قدرت حضرت زکریا (علیہ السلام) کے ہاں اس بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ تھی۔ ہرچند دعا کرتے تھے رب لاتذرنی فردا وانت خیر الوارثین ان ایام میں کئی بار مریم کے پاس جب ان کے حجرے میں گئے تو بےموسم کے پھل اور میوے دھرے پائے جس سے متعجب ہو کر پوچھا کہ یہ تیرے پاس کہاں سے آئے ؟ مریم نے کہا خدا کے یہاں سے وہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب روزی دیتا ہے۔
Ayahs 3:39–41

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

پھر اس کو فرشتے نے آواز دی جبکہ وہ محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے کہ اللہ تم کو خوشخبری دیتا ہے یحییٰ (کے پیدا ہونے کی) تصدیق کرے گا خدا کے ایک کلمہ کی اور سردار ہوگا اور کنوارا رہے گا اور نیک نبی ہوگا

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

( زکریا نے) کہا اے رب میرے کہاں سے لڑکا ہوگا اور مجھ پر تو بڑھاپا آگیا اور میری بیوی (بھی) بانجھ ہے (فرشتے نے کہا) اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کردیتا ہے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے میرے رب میری کوئی نشانی معین کر دیجئے۔ کہا تیرے لئے نشانی ہے کہ تو تین روز تک لوگوں سے بجز اشارہ کے بات نہ کرسکے گا اور اپنے رب کو بہت یاد کر اور شام و صبح تسبیح کیا کر۔

یہ حال دیکھ کر زکریا (علیہ السلام) کو تنبہ ہوا اور دل میں خیال گذرا کہ خدا تعالیٰ مجھ کو بھی بےموسم پیری میں پھل دے سکتا ہے۔ خدا سے نہایت عاجزی کے ساتھ اولاد کی دعا کی۔ ہیکل میں کھڑے ہوئے عبادت میں مصروف تھے اور یہی ان کی نماز تھی کہ فرشتے نے ان پر ظاہر ہو کر یہ بشارت دی کہ دیکھ خدا نے تیری دعا قبول کی۔ وہ تجھ کو ایک ایسا فرزند دیا چاہتا ہے کہ جس کا ہم نام تیرے خاندان میں کوئی نہیں۔ وہ بنی اسرائیل کا سردار ہوگا اور اس قوم کی خراب حالت کی اصلاح کرے گا اور حصور ہوگا یعنی خدا کی طرف سے نفسانی خواہشوں اور گناہوں سے روکا جاوے گا۔ اس کو ان چیزوں کی طرف از خود رغبت نہ ہوگی اور نبی ہوگا اور پاک باز لوگوں میں سے ہوگا اور وہ کلمۃ اللہ یعنی حضرت مسیح کی تصدیق کرے گا۔ یہ مژدہ سن کر زکریا (علیہ السلام) نے کہا ٗ الٰہی میں بوڑھا ہوگیا اور میری بیوی بانجھ ہے۔ یہ کیونکر ہوگا ؟ فرشتے نے کہا خدا یوں ہی کردیتا ہے۔ اس پر کوئی بات مشکل نہیں۔ بغیر اسباب ظاہرہ بھی وہ اپنے افعال ظاہر کردیتا ہے۔ زکریا نے عرض کیا کہ مجھ کو کوئی علامت یا نشانی دینی چاہیے جس سے مجھ کو یہ معلوم ہو۔ فرشتے نے کہا تیرے لئے یہ علامت ہے کہ تو تین روز تک بغیر اشارے کے کسی سے کلام نہ کرسکے گا۔ گویا یہ ایک روزہ تھا۔ بنی اسرائیل میں عبادت کی عبادت علامت کی علامت۔ اس کے بعد زکریا (علیہ السلام) اپنی بیوی کے پاس گئے وہ حاملہ ہوگئیں۔ یہ دوسرا قصہ ہے جو مریم کے قصہ میں ضمناً مذکور ہوا۔ پھر اگلی آیات میں مریم کے قصہ کو تمام فرماتا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) پیٹ ہی میں تھے کہ حضرت مریم علیھا السلام کو جب کہ وہ اپنے حجرہ میں غسل حیض سے فارغ ہو کر بیٹھیں ٗ آدمی کی شکل میں جبرئیل دکھائی دیے اور کہا خدا تجھ کو ایک سعادت مند فرزند کی بشارت دیتا ہے۔ مریم نے کہا نہ میں کسی مرد کے پاس گئی نہ میں بدکار ہوں۔ پھر لڑکا کیونکر ہوگا ؟ جبرئیل نے کہا خدا یوں ہی کردیتا ہے۔ پھر جبرئیل نے قریب آکر ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک دیا جس سے وہ حاملہ ہوگئیں اور کچھ عجب نہیں کہ ایسی حالت میں چرچا پھیلا ہو۔ مریم اپنے چچا زاد بھائی یوسف کے ساتھ بیت المقدس سے ناصرہ کو چلی گئی ہوں اور پھر اسم نویسی کو ہیرودیس کے عہد میں یروشلم میں آئی ہوں اور بیت اللحم میں کسی گوشہ میں کہ جہاں کوئی کھجور کا درخت تھا ٗ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ہوں اور اسی لئے حضرت زکریا (علیہ السلام) پر یہود نے تہمت لگا کر کہ یہ حمل ان کا ہے قتل کیا تھا۔ جیسا کہ کتب تاریخ سے ثابت ہے۔ اہل کتاب یوسف کو مریم کا شوہر کہتے ہیں ٗ کچھ عجب نہیں کہ حمل ظاہر ہونے کے بعد یا ولادت کے بعد ان سے شادی ہوئی ہو۔ یہ بات صرف جاہلوں کے طعن دور کرنے کو اس وقت مشہور کردی ہو۔ قرآن میں اس کا کچھ ذکر نہیں۔ والعلم عند اللہ۔ الغرض جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور ان کی برکت سے خشک کھجور میں چھوارے نمودار ہوئے تو یہود گروہ کے گروہ مریم کو ملامت کرنے آتے تھے کہ تیرے ماں اور باپ تو ایسے پاک دامن تھے تو نے یہ کیا کیا ؟ حضرت مریم علیھا السلام نے کہا اسی لڑکے سے پوچھو ٗ لوگوں نے کہا شیر خوار لڑکا کیونکر بات کرسکتا ہے ؟ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بول پڑے کہ میں خدا کا برگزیدہ نبی ہوں اور میری ماں پاکدامن ہے۔ اس سے سب کو تعجب ہوگیا۔ پھر اور بھی معجزات لڑکپن 1 ؎ میں لوگوں نے دیکھے۔ اس کے بعد حاکم وقت کے خوف سے کہ مبادا ان کو مار ڈالے۔ 1 ؎ جیسا کہ گارے کے پرند جانور بنا کر ان میں پھونک مارنا اور پھر ان کا زندہ ہو کر اڑ جانا۔ 12 منہ 1 ؎ خدا کا کلمہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں جو ان کے کلمہ کن کے کہنے سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت یحییٰ کے پیدا ہونے کی جب خوشخبری فرشتے نے دی تو ان کے اوصاف بھی بیان کردیئے کہ وہ عیسیٰ کلمتہ اللہ کی تصدیق کریں گے۔ ( ہنوز عیسیٰ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے) سردار ہوں گے۔ معصوم و محفوظ ہوں گے۔ نبی ہوں گے۔ نیکوکار ہوں گے یعنی فرزند بھی دیتے ہیں تو ایسا نہ کہ نالائق و ناہنجار۔ 12 منہ
Ayahs 3:42–43

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب کہ فرشتوں نے کہا اے مریم ! تم کو خدا نے برگزیدہ کرلیا اور پاک کردیا اور تم کو دنیا کی عورتوں پر فضیلت دی۔

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

اے مریم ! اپنے رب کی عبادت کرتی رہو اور نمازیوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کیا کرو۔

یوسف مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ملک مصر میں لے گیا اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوشیار ہوئے۔ جوان ہو کر (جب ہیرودیس بادشاہ نے یہودیہ کی موت کی خبر سنی) تو ملک شام میں آئے۔ ادھر حضرت یحییٰ زکریا کے بیٹے جو ان سے کئی مہینے پہلے پیدا ہوچکے تھے ٗ جوان ہوگئے تھے۔ لوگوں کو تعلیم دیتے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرتے تھے۔ آخر بادشاہ وقت نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ملک یہود کے جلیل اور یروشلم وغیرہ شہروں میں وعظ فرماتے ٗ معجزات دکھاتے رہے لیکن یہود کو ہر روز ان سے عداوت بڑھتی گئی۔ باوجودیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تورات کی تصدیق کی اور شریعت موسوی کی بحسب وقت ترمیم کی کیونکہ موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) میں سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ زمانہ کے مقتضیات کا ضرور اثر ظاہر ہوا جو ترمیم کی حاجت پڑی چناچہ انہوں نے وہ جو سبت کے روز بےحد قیدیں تھیں کہ یوں نہ کرے اور یوں کرے یا اور ایسے ہی مسائل تھے ان میں بحکم الٰہی تخفیف کردی اور ان ممنوع حرام باتوں کو درست کردیا جس کی پوری تفصیل کتاب احبار اور اناجیل اربعہ کے ملاحظہ سے معلوم ہوتی ہے اور معجزات بھی دکھائے اور بہت کچھ یہود کی بد اقبالیوں اور ناشائستگیوں کی اصلاح کرنی چاہی مگر اس قوم کی حس باطنی جاتی رہی تھی۔ یوں تو مسیحا نے کئی مردہ زندہ کئے مگر یہود کا اقبال مردہ زندہ نہ ہوسکا۔ آخر جب ان کی سرکشی دیکھی تو فرمایا کہ کون خدا کی حمایت میں آتا ہے ؟ بارہ شخص کہ جن کو حواری (یعنی خدا کی طرف رجوع کرنے والے یا روشن دل) کہتے ہیں اور ان کے یہ نام ہیں حضرت کے صدق دل سے مرید اور شاگرد خاص ہوگئے۔ شمعون جس کو پطرس بھی کہتے ہیں۔ اندریاس شمعون کا بھائی یعقوب بن زیدی ‘ یوحنا ‘ ان کا بھائی فیلسوس ‘ برتھو لما ‘ تھوما ‘ متی ‘ یعقوب ‘ بن ہلفالبی جس کو تہدی بھی کہتے تھے۔ شمون کنعانی ‘ یہودا اسکریوتی اب ایک دینداروں کی جماعت قائم ہوگئی۔ آخر کار یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حکام سے شکایتیں کرکے پلاطوس حاکم کو ان کے قتل پر آمادہ کیا اور جاسوس دوڑ گئے۔ حضرت کو ایک جگہ سے گرفتار کرکے لائے اور طرح طرح کی اذیتیں دینی شروع کیں اور بہت کچھ مکرو دائو ان کے قتل کے لئے کیا مگر خدا کا دائو سب پر غالب ہے۔ اس نے یہ کیا کہ انہیں یہودیوں میں سے ایک کو حضرت مسیح کی صورت میں کردیا اور مسیح (علیہ السلام) کو ملائکہ آسمان پر لے گئے۔ یہود نے مسیح سمجھ کر اس شخص کو سولی دی اور بڑی اذیت سے مارا۔ فائدہ : فرشتوں نے مریم سے حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی بابت یہ تمام حال بیان کردیا تھا کہ وہ ایسے اور ایسے ہوں گے۔ (1) ان کا نام عیسیٰ مسیح ابن مریم ہوگا (2) وہ دنیا و آخرت میں معزز اور خدا کے مقربین میں سے ہوں گے۔ (3) لڑکپن اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے یہ کلام کریں گے برخلاف اور لوگوں کے کہ وہ شیر خوارگی میں کلام نہیں کرتے۔ (4) ان کو خدا کتاب اور حکمت توریت و انجیل سکھائے گا۔ (5) وہ لوگوں سے کہیں گے کہ میں خدا کی طرف سے معجزات لے کر آیا ہوں جن کا بعد میں بیان ہے (6) میں توریت کو پورا کرنے آیا ہوں۔ اس کا مصدق ہوں نہ مکذب۔ (7) میں تم پر سے سخت احکام کا بوجھ بھی ہلکا کرنے آیا ہوں جو چیزیں بنی اسرائیل پر ان کی سخت دلی سے حرام کردی گئی ہیں۔ بعض کو مباح کردیتا ہوں۔ ان سب باتوں کے بعد اصلی بات بھی کہی کہ خداوند میرا اور تمہارا سب کا خدا ہے۔ اس کی عبادت کرو نہ میری نہ کسی اور مخلوق کی۔ یہ ہے راہ راست۔ مگر بنی اسرائیل سخت دل کا ہے کو ماننے والے تھے۔ حضرت نے ان کے انکار و مخالفت کو معلوم کرکے کہا کوئی ہے کہ خدا کے لئے میرا مددگار بنے ؟ حواری بول اٹھے کہ ہم خدا کے دین کے مددگار اور ہم خدا پر ایمان لائے۔ پھر دعا کی کہ الٰہی ہم کو گواہوں میں لکھ لے ٗ ہم رسول کے مطیع ہوگئے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے مخاطبوں کو ترغیب دلائی جاتی ہے۔ پھر کس خوبی سے قصہ کو تمام کرتا ہے کہ یہود نے ان سے بڑی بدسلوکی کی جس پر خدا نے بھی ان سے بدسلوکی کی کہ رومی بادشاہ ان پر چڑھ آئے اور مار کر ستیاس کر گئے۔ ان کی بدسلوکی کو اور اس کے بدلہ کو بطور استعارہ مکر سے تعبیر کیا۔ 12 منہ ابحاث : اب ہم یہاں چند ابحاث بیان کرتے ہیں تاکہ ان آیات کا مطلب ناظرین کے بخوبی سمجھ میں آجاوے اور پھر آیندہ سورة مریم وغیرہا میں اعادہ کی کچھ حاجت نہ رہے۔ واللہ ولی التوفیق۔ بحث اول : مفردات الفاظ کی تشریح۔ المحراب اونچی اور عمدہ جگہ اصمعی کہتے ہیں۔ بالا خانہ بعض کہتے ہیں اس جگہ مراد مسجد ہے اس لئے کہ یہ بسبب عبادت کے شیطان سے لڑائی کی جگہ ہے جو حرب سے مشتق ہے۔ حصور احصر سے مشتق ہے جس کے معنی بند ہونے اور رکنے کے ہیں۔ کہتے ہیں حصر الرجل اعتقل بطنہ یہ فعول بمعنی مفعول ہے یعنی شہوات سے روکا گیا جس کو محفوظ اور معصوم کہنا چاہیے۔ عاقر عقر سے مشتق ہے جس کے معنی منقطع ہونے کے ہیں یعنی اولاد سے منقطع ہوگئی جس کو بانجھ کہتے ہیں۔ رمز کے معنی حرکت کے ہیں۔ چونکہ دریا میں تموج ہوتا ہے اس لئے اس کو عرب راموز کہتے ہیں۔ یہاں مراد اشارہ ہے جو ہاتھ پائوں یا آنکھ بھوں کی حرکت سے ہوتا ہے۔ العشی دن ڈھلے سے غروب تک کا وقت والا بکار نئی اور اول چیز اور اسی لئے باکورہ نئے پہلوان کو کہتے ہیں اور نئی ناکت خدائی کو بکر کہتے ہیں۔ اس سے مراد طلوع آفتاب سے دوپہر تک کا وقت ہے۔ بعض نے ابکار بالفتح پڑھا ہے۔ سو یہ اشجار کی طرح جمع ہوگا۔ انباء نباء کی جمع ہے جس کے معنی خبر ہیں۔ انصار اور حواری کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں۔ بحث دوسری : اس مقام پر عیسائی نکتہ چین قرآن مجید پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح اور مریم کے اور اسی طرح یوحنا یعنی یحییٰ کے قصہ میں چند غلطیاں قرآن میں بیان ہوئیں جو تاریخی واقعات سے علاقہ رکھتی ہیں (1) یہ کہ مریم کی ماں کا نذر ماننا اور پھر مریم کو ہیکل میں بھیج دینا اور وہاں کاہنوں میں باہم ان کی پرورش کی بابت گفتگو ہو کر زکریا کے نام قرعہ نکلنا اور زکریا کا مریم کو بےموسم کے پھل کھاتے دیکھ کر اپنے لئے اولاد کے واسطے دعا کرنا انجیل سے ثابت نہیں۔ اس لئے یہ باتیں غلط ہیں۔ (2) قرآن میں لکھا ہے کہ زکریا تین روز تک بغیر اشارہ کے کسی سے کلام نہ کریں گے۔ حالانکہ انجیل لوقا کے اول باب درس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکریا کو یوں فرشتہ نے کہا کہ تو جب تک یہ باتیں واقع نہ ہو لیں گونگا ہوجاوے گا ‘ کسی سے بول نہ سکے گا اور اسی باب کے 64 درس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب یحییٰ پیدا ہوئے اور آٹھویں دن ان کا ختنہ ہوا اور ان کا نام یحییٰ رکھا گیا تب ان کی زبان کھلی جس کی مدت تخمیناً دس مہینے ہوتے ہیں۔ قرآن نے باوجود دعوائے الہام اور تصدیق انجیل کے کتنی غلطی کی۔ (3) لڑکپن میں مسیح کا کلام کرنا اور پھر پرندوں کا معجزہ کہ مٹی کے جانور بنا کر ان میں پھونک مارنا اور ان کا زندہ ہو کر اڑ جانا کہیں سے ثابت نہیں۔ قرآن نے اس کو کہاں سے لیا۔ ان اعتراضات کا جواب یہ ہے ٗ اول سوال کا جواب یوں ہے۔ اگر تاریخی باتیں انجیل اربعہ کے مصنف نے اپنی مختصر تاریخوں میں نہ لکھیں تو اس سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ امور غلط ہیں۔ دیکھو زکریا کا فرشتہ سے بشارت پانا اور یحییٰ نام رکھنا وغیرہ باتیں صرف لوقا نے لکھی ہیں۔ اوروں نے نہیں۔ پھر کیا اس وجہ سے یہ غلط ہوسکتی ہیں ؟ اسی طرح مسیح کے پیدا ہونے کے دنوں میں مجوسیوں کو ایک ستارہ دکھائی دینا اور اس کا ان کے آگے آگے چلنا سوائے متی کے اور کسی نے نہیں لکھا۔ اسی طرح ان چاروں مؤرخوں کا باہم سینکڑوں باتوں میں تفاوت بیان پایا جاتا ہے۔ یہی تیسرے اعتراض کا بھی جواب ہے اور تائید اس کی یہ ہے کہ یوحنا اپنی انجیل کے سب سے اخیر میں یہ لکھتا ہے کہ اور بھی بہت سے کام ہیں جو یسوع نے کئے۔ اگر وہ جدا جدا لکھے جاتے تو میں گمان کرتا ہوں کہ کتابیں جو لکھی جاتیں دنیا میں نہ سماتیں۔ پھر کیا مسیح نے یہی چند باتیں اور یہی چند کام کئے ہیں جو انا جیل اربعہ میں ہیں ؟ ہرگز نہیں۔ علاوہ اس کے یہودی مورخوں اور دیگر اناجیل سے بھی ان باتوں کا پتا لگتا ہے اور ان اناجیل کے زیادہ معتبر ہونے کی وجہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے سب تاریخی واقعات غلط ہوں۔ دوسرے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ لوقا نے نہ زکریا کو دیکھا نہ یحییٰ کو نہ حضرت عیسیٰ کو یہ مورخ سنی ہوئی باتیں لکھتا ہے جس پر گمان ہوسکتا ہے کہ یا راوی نے غلطی کی یا خود لوقا سے سہو ہوگیا یا نسخہ میں اور غلطیوں کی طرح یہ بھی واقع ہوئی اور جو تطبیق کرو تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ عدد زبان عرب میں انحصار کے لئے نہیں ہوتا۔ ہمارے عرف میں کہتے ہیں۔ دو دن کی زندگی میں آدمی کیا کرتا ہے۔ مراد تھوڑی زندگی ہے اسی طرح تین روز سے یہ قلیل مدت مراد ہے جو تخمیناً دس مہینے مورخ نے بیان کئے۔ قرآن انجیل لوقا کی تصدیق کا مدعی نہیں۔ تیسری بحث : ان سے بڑھ کر دہریے اور ان کے مقلد نیچر ان آیات کے صاف اور سیدھے مطلب کو اسی قاعدہ فاسدہ پر کہ خرق عادت محال ہے ٗ عجب تاویلیں کرکے الٹ پلٹ کرتے ہیں۔ چناچہ نیچر مفسر نے اس مقام پر حضرت مریم کو غیب سے روزی پہنچنے کا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بےباپ کے پیدا ہونے کا انکار کیا اور یہ تاویل کی ہے کہ حضرت یوسف نجار سے پیدا ہوئے تھے۔ صرف یہ بات تھی کہ رخصت کرکے لے جانے سے پہلے یوسف مریم سے ہم بستر ہوگئے تھے۔ چونکہ یہ بات یہود میں مذموم تھی جو دونوں کو شرم و حجاب کا موجب ہوا ہو اور زکریا اور بی بی مریم نے جو فرشتوں سے باتیں کیں وہ ان کا خیال مجسم یا خواب تھا اور چونکہ اس مذہب کا یونانیوں میں رواج دینا منظور تھا اور ان میں ایسی باتیں ہمیشہ سے باعث بزرگی سمجھی جایا کرتی تھیں۔ چناچہ حکیم افلاطون کا حمل بھی بےباپ کے ان میں مشہور تھا۔ اس غرض سے عیسائی معلموں نے یہ بات مشہور کردی اور اسی مشہور بات کو مفسروں نے قرآن کی تفاسیر میں لکھ دیا اور اسی طرح لڑکپن میں مسیح کا کلام کرنا اور مٹی کے جانور بنا کر ان میں پھونک مار کر زندہ کردینا اور مردہ کو زندہ کردینا ہے جس سے دل مردہ کو زندہ کرنا مراد ہے اور چشم باطن کے اندھے کو ہدایت دینا اور بیماری مرض قلب کو شفا دینا اندھے اور کوڑھی کے اچھا کرنے سے مراد ہے اور ایسے محاورات حضرت عیسیٰ کی تقریروں میں بیشتر پائے جاتے ہیں۔ یہ ان کی تمام تقریروں کا خلاصہ ہے۔ چونکہ اس لغو گفتگو کا مدار وہی تین چار فاسدعقیدے ہیں کہ جن کا ابطال ہم مقدمہ میں خوب کرچکے ہیں۔ اس لئے اس بارے میں دوبارہ قلم اٹھانا فضول سمجھتے ہیں۔ افسوس یہ لوگ صرف برائے نام مسلمان کہلانے کے لئے قرآن مجید کی فضول تاویلیں کرکے اپنا مضحکہ اڑاتے ہیں اور تاریخی واقعات کو غلط کہہ کے محققوں میں حقیر بنتے ہیں مگر ان کو سرے سے اسلام ہی کا انکار کردینا تھا۔ اس زمانہ میں اسلام سے کیا دنیا ملتی ہے ؟ چوتھی بحث : ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک ان واقعات کا اس طور پر مخالفوں کو بتانا آنحضرت ﷺ کے لئے بڑا معجزہ ہے۔ نہ آپ نے تورات پڑھی تھی نہ انجیل نہ کوئی کتاب اور عمر کا اکثر حصہ مکہ میں گذرا جہاں کوئی بھی ذی علم نہ تھا۔ اہل کتاب کا تو کیا ذکر پھر مدینہ میں آکر باوجود مخالفت یہود و نصاریٰ کے یہ کیونکر ممکن تھا کہ آنحضرت ﷺ ان سے کچھ پڑھنے سیکھنے جاتے اور اگر ایسا ہوتا تو نصاریٰ اور دیگر اہل اسلام کے روبرو یہ دعویٰ کس طرح سے کرتے کہ میں غیب کی خبریں بطور الہام بیان کرتا ہوں ؟ باوجود اس کے پھر ان واقعات کو صحیح صحیح بیان کرنا بالخصوص اہل کتاب کے علماء کے سامنے اس طرح سے کہ جن کو کوئی پڑھا ہوا بھی بیان نہ کرسکے۔ اگر اعجاز نہیں تو اور کیا ہے ؟ گرچہ بعض باتیں بعض کے لئے خرق عادت نہیں مگر دوسرے کے لئے خرق عادت سمجھی جاتی ہیں۔ کلام کرنا جو ان تندرست کی نسبت کچھ بھی تعجب کی بات نہیں۔ البتہ شیر خوار لڑکے کا کلام کرنا تعجب ہے۔ اسی طرح کسی گذشتہ حال کا اس کے دیکھنے والے یا تاریخ کی کتابیں پڑھنے والے کو تعجب نہیں اور کے لئے ہے۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

یہ غیب کی خبریں ہیں ٗ ہم ان کو (اے نبی ! ) آپ کی طرف الہام کرتے ہیں اور آپ کچھ ان کے پاس موجود ہی نہ تھے جبکہ وہ قرعہ ڈال رہے تھے کہ ہم میں سے کون مریم کی پرورش کرے گا اور نہ آپ اس وقت بھی موجود تھے جبکہ وہ باہم جھگڑ رہے تھے

ترکیب : ذلک مبتداء من انباء الغیب خبر نوحیہ الیک خبر ثانی۔ اذ یلقون اذ ظرف ہے کان کا اور ممکن ہے کہ استقرار کا ظرف ہو کہ جس سے لدیہم متعلق ہے۔ اقلام جمع قلم بمعنی مقلوم مبتداء یکفل مریم خبر جملہ موضع نصب میں ہے ای یقترعون ایہم ‘ عامل اس میں وہ ہے جو یلقون سے سمجھا جاتا ہے۔ اذ یختصمون کا حال اذ یلقون کا سا ہے اذ قالت بدل ہے اذ سابق سے منہ صفت ہے کلمۃ کی اسمہ مبتداء المسیح خبر عیسیٰ بدل یا عطف بیان ہے اس سے ابن مریم خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ھو وجیہًا اور من المقربین اور یکلم احوال مقدر ہیں معنی کلمۃ سے مایکون سے فی المہد حال ہے ضمیر یکلم سے۔ رسولا کو اگر صفت مانا جاوے تو یہ بھی حال ہے پھر الی بنی الخ اس سے متعلق ہے۔ مصدقا حال ہے معطوف ہے بآیۃ پر أنِّی جئتکم بآیۃ ومصدقا من التورات بیان ہے مابین یدی کا ‘ ولاحل معطوف ہے محذوف پر ای لا خفف عنکم۔ فلما کلمہ شرط احسن کا فاعل عیسیٰ الکفر مفعول منہم متعلق ہے احس یا کفر کا حال قال من جواب انصاری۔ انصار نصیر کی جمع ہے جیسا کہ شریف و اشرف۔ الحواریون اس کا مفرد حواری ہے۔ جو حور سے مشتق ہے جس کے معنی روشنی اور سفیدی یا رجوع کے ہیں۔ چونکہ ایسے لوگ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کے دل روشن ہوتے ہیں اس لئے حواری کہلاتے ہیں۔
Ayahs 3:45–54

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

جب فرشتے نے کہا ٗ اے مریم ! اللہ تم کو ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ 1 ؎ ابن مریم جو دنیا اور آخرت میں بڑا باوقار (اور صاحب مرتبہ) اور خدا کے مقرب لوگوں میں سے ہوگا

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور لوگوں سے ماں کی گود میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

(مریم نے) کہا اے رب ! میرے کیونکر لڑکا ہوسکتا ہے حالانکہ مجھ کو تو کسی بشر نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ٗ فرمایا یوں ہی اللہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو بس اس کو یہی کہہ دیتا ہے کہ ہوجا سو وہ ہوجاتا ہے

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور اللہ اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے جائیں گے ( وہ کہیں گے) کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لئے گارے سے پرندوں کی مورتیں بنا کر ان میں پھونکتا ہوں۔ وہ خدا کے حکم سے اڑنے لگتے ہیں اور میں مادرزاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا بچھا کردیتا ہوں اور میں خدا کے حکم سے مردوں کو بھی زندہ کردیتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے اور جو کچھ اپنے گھروں میں باقی رکھ کر آتے ہو سب کو بتا دیتا ہوں۔ بیشک اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔ اگر تم میں ایمان ہے

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور (میں) اپنے سے اگلی (کتاب) توریت کی تصدیق کرتا ہوا آیا ہوں اور میں اس لئے بھی آیا ہوں (کہ) جو چیزیں تم پر حرام کردی گئی ہیں ان میں سے بعض کو تمہارے لئے حلال کر دوں اور میں تمہارے پاس تمہارے خدا کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ سو تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے۔ سو تم اس کی عبادت کرو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

۔ یہ ہے سیدھا راستہ۔ پھر جب عیسیٰ نے ان کی طرف سے انکار معلوم کرلیا تو کہہ اٹھے کہ کوئی ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کرے۔

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

حواریوں نے کہا ہم ہیں ٗ خدا کے طرف دار ہم خدا پر ایمان لائے اور (آپ اس پر) گواہ رہیں کہ ہم نے اطاعت اختیار کرلی۔

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے ہمارے رب جو کچھ تو نے نازل کیا ہم اس پر ایمان لائے اور رسول کی پیروی اختیار کرلی سو ہم کو بھی گواہوں میں لکھ رکھ

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور (یہود نے) داؤ کیا اور خدا نے ان سے داؤ کیا۔ اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے۔

1 ؎ یہود میں قدیم دستور تھا کہ وہ جس کو سردار یا برگزیدہ کرتے تھے تو اس وقت کا نبی یا کاہن اس شخص پر زیتون کا تیل مسح کردیتا یعنی مل دیتا تھا۔ اس لئے اس شخص کو مسیح کہتے تھے چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی مقبولیت کا تیل ملا گیا اور اسی قدیم عزت پر ان کا لقب مسیح مشہور ہوا اور یشوع عبرانی میں ان کا نام ہے جو عربی میں عیسیٰ کہتے ہیں۔ چونکہ لقب زیادہ مشہور تھا اس لئے اس کو نام سے پہلے ذکر کیا۔ 12 منہ
Ayahs 3:55–58

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت کو (یاد کرو) کہ اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ ! میں تمہاری عمر پوری کروں گا اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کے بہتان) سے پاک کر دوں گا اور تمہارے ماننے والوں کو تمہارے منکروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا۔ پھر میرے ہی پاس تم کو پھر کر آنا ہے سو جس بات میں تم اختلاف کر رہے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

اس میں ہم تمہارا فیصلہ کردیں گے پھر جنہوں نے انکار کیا سو ان کو تو میں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے تو اللہ ان کا اجر ان کو پورا پورا دے گا اور خدا کو ناانصاف پسند نہیں آتے۔

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کہ جنہیں ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں اور (یہ) حکمت کا تذکرہ بھی ہیں۔

ترکیب : اذ کا یا وہی عامل ہے اعنی اذکر یا وقع ذلک۔ متوفیک اور رافعک اور جاعل الخ سب خبر ہیں انی کی فاما الذین کفروا مبتداء فاعذبہم خبر ذلک مبتداء نتلوہ خبر۔ تفسیر : یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے۔ یہود کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے گرچہ وعظ و نصیحت کی وجہ سے عداوت تھی مگر جبکہ سبت وغیرہ احکام میں تغیر کیا تو یہود کو الزام لگانے کا ذریعہ ہاتھ آگیا۔ ملک شام میں اس وقت یہود کی سلطنت نہ تھی بلکہ رومیوں کی سلطنت تھی اور قیصر روم کی طرف سے وہاں ایک حاکم رہتا تھا جس کو ہیرو دیس کہا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حواریوں کو ساتھ لئے ملک شام کے شہروں میں معجزے دکھاتے اور وعظ فرماتے پھرتے تھے۔ ہر شہر میں سینکڑوں مرد و عورت حضرت کے دین میں آتے تھے اس پر اور بھی یہود کو حسد اور شک ہوتا تھا۔ جب یہود کی دشمنی بڑھ گئی اور وہ حضرت کے قتل کا موقع تلاش کرنے لگے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دن کو شہر یروشلم میں آکر ہیکل یعنی بیت المقدس میں وعظ فرمایا کرتے تھے۔ شام کو زیتون کی پہاڑی میں کسی درخت کے تلے بیٹھ کر دعا و عبادتِ الٰہی میں رات تمام کرتے تھے۔ اس عرصہ میں یہود کی عید فطیر جس کو عید فسح کہتے ہیں ٗ قریب آئی اور سردار کاہن اور فقیہ اس فکر میں تھے کہ ان کو مار ڈالیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے ایک شخص یہودا نامی نے جا کر ان سے کچھ روپیہ لے کر خبر دی پھر تو یہودیوں کی ایک جماعت ہتھیار باندھ کر اس پہاڑی پر پہنچی۔ ادھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا سے گریہ وزاری کرکے یہ کہہ رہے تھے کہ اے خداوند اگر تیری مرضی ہو تو یہ پیالہ مجھ سے دور کر دے اور اپنے حواریوں کو آمادہ کر رکھا تھا۔ ان کے پاس صرف دو تلواریں تھیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حال معلوم ہوگیا تھا کہ ان سے کچھ مقابلہ نہ ہوگا۔ الغرض شباشب یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کرکے ان کے منہ پر طمانچے مارتے اور ٹھٹھا کرتے ہوئے شہر میں لائے۔ صبح کو تمام یہود جمع ہوئے اور ان سے پوچھا اگر تو وہ مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے (جس طرح اہل اسلام امام مہدی کے منتظر ہیں۔ اسی طرح یہود میں مسیح کا انتظار تھا بلکہ اب بھی ہے کہ وہ ان کو پھر بادشاہت دے گا) آپ نے فرمایا اگر میں کہوں بھی تو تم کب یقین کرو گے۔ آخر الامر سب لوگ ان کو پلاطوس کے حاکم کے پاس لے گئے کہ یہ لوگوں کو قیصر کے محصول دینے سے منع کرتا اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے۔ حضرت نے انکار کیا ٗ اس نے کہا میرے نزدیک اس کا کوئی جرم مستوجب قتل نہیں۔ پلاطوس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اسی حالت میں ہیرودیس کے پاس بھیج دیا۔ اس نے پھر اسی کے پاس بھیجا اور چھوڑنا چاہا تو یہود نے غل مچا دیا کہ ایسا نہ کرنا۔ تب اس نے کہا کہ تمہارے کہنے سے میں اس کو سولی دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور تمہاری اولاد پر۔ یہود نے کہا منظور۔ حضرت کے حواری سب بھاگ گئے۔ اس وقت حضرت پر ایک عجیب حالت طاری تھی جس میں خدا نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے خطاب کرکے یہ جملہ فرمائے جو ان آیات میں مذکور ہیں کہ اے عیسیٰ ! کچھ غم نہ کرو۔ میں تم کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہوں اور جو کچھ یہ لوگ تم پر بہتان لگاتے ہیں کہ تو نے خدائی دعویٰ کیا اور خدا کا بیٹا بنا (انجیل لوقا باب 22 درس 69) اس سے میں نبی اخیر کی معرفت تم کو پاک کر دوں گا۔ جیسا کہ انجیل برنباس سے ثابت ہے اور اب جو مخالفین کی جماعت تم کو غالب دکھائی دیتی ہے۔ میں ان کو قیامت تک تمہارے ماننے والوں کے ماتحت کر دوں گا۔ یہ دنیا کی سزا ہے اور آخر تو ہر شخص ہماری طرف رجوع کرتا ہے۔ ہم نیکوں کو پورا بدلہ نیک دیں گے اور بدوں کو سخت عذاب دیں گے۔ آخر کار خدا نے ایک شخص مفسد شمعون اقراینی کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت میں کردیا۔ لوگوں نے اسی کو عیسیٰ سمجھ کر اس پر صلیب دھر کر شہر کے باہر لے گئے اور سولی دی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ملائکہ آسمان پر اٹھا کرلے گئے۔ عیسائی کہتے ہیں بلکہ خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو صلیب پر کھینچا اور انہوں نے چیخ چیخ کر جان دی اور پھر ایک شخص یوسف نامی پلاطوس سے حضرت کی لاش مانگ کرلے گیا اور اس نے قبر میں دفنایا اور اوپر پتھر کی چٹان دھر دی۔ یہ جمعہ کی شام کا واقعہ تھا۔ اتوار کو حضرت مسیح (علیہ السلام) زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیے اور آسمان پر چڑھ گئے اور پھر آنے کا وعدہ کر گئے۔ اس واقعہ کے وقت ان کی عمر 33 برس کی تھی۔ احادیث صحیحہ سے بھی قرب قیامت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا آنا ثابت ہوتا ہے۔ بحث مسلولی مسیح پر : اس مسئلہ کی ہم ابھی تحقیق کرتے ہیں کہ حق کس کی جانب ہے اور یہ تحقیق ان چند ابحاث کے ضمن میں آتی ہے۔ (1) اذ قال اللّٰہ یعیسیٰ انی متوفیک الخ توفی کے معنی لغت میں کسی چیز کا پورا کردینا ہے اور چونکہ مردہ اپنی حیات کا پورا حصہ پا لیتا ہے۔ اس لئے اس کو بھی متوفی کہتے ہیں اور انہیں اعتبارات سے اس کے معنی قبض کرنے کے بھی آتے ہیں اور کبھی متوفی بمعنی مستوفی بھی آتا ہے۔ اگر یہاں اس سے مراد موت لی جاوے تو پھر اس آیت میں (وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم۔ (نہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ ان پر اشتباہ پڑگیا) بظاہر اختلاف سا معلوم ہوتا ہے چناچہ بعض پادریوں نے یہ اعتراض بھی کیا ہے (ہدایت المسلمین صفحہ 355) اس کا جواب بہت سہل ہے (1) یوں کہ یہاں متوفی بمعنی مستوفی ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ میں تیری اجل کو پورا کروں گا کہ تجھ کو ان کے قتل سے بچا کر آسمان پر چڑھا لوں گا ٗ پھر تو اپنے وقت معہود پر مرے گا (بیضاوی) اب دونوں آیتوں میں کچھ بھی اختلاف نہیں۔ (2) یوں کہ اس کے معنی قبض کے ہیں جس سے آیت کے یہ معنی ہوئے کہ میں تجھ کو زمین سے اپنے قبضہ میں لا کر آسمان پر پہنچا دیتا ہوں (بیضاوی) اب بھی کچھ اختلاف باقی نہ رہا (3) وفات سے مراد قوائے بہیمہ اور آثار جسمانیہ سے ہلکا کردینا ہے جو آسمان کی طرف عروج کو مانع ہیں۔ خلاصہ یہ کہ میں تیرے آثار جسمانیہ کو پست کرکے تیری روحانیت کو غلبہ دے کر تجھے آسمان پر چڑھا دیتا ہوں۔ (4) وہب کہتے ہیں کہ تین ساعت وفات رہی ٗ پھر خدا نے ان کو زندہ کرکے آسمان کی طرف اٹھا لیا جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں مگر یہ وفات یہود کی سولی دینے سے واقع نہ ہوئی تھی۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وما قتلوہ ووما صلبوہ بلکہ آثار جسمانیہ کے ہلکا کرنے کے لئے خدا نے وفات دی ہوگی اور یہود نے جس کو قتل کیا اور سولی دی وہ شمعون افراینی یا کوئی شخص ان کا شبیہ تھا جس سے ان کو اشتباہ واقع ہوا (تفسیر کبیر) اس تقدیر پر بھی دونوں آیتوں میں کچھ تعارض باقی نہ رہا۔ خلاصہ یہ کہ آیت وما قتلوہ میں جو نفی ہے تو یہود کے قتل کرنے کی نفی ہے۔ اب رہی یہ بحث کہ آیا دراصل یہود نے مسیح کے ہمشکل کو سولی دی اور مسیح کو نہیں دیا۔ جیسا کہ آیت وما قتلوہ الخ سے پایا جاتا ہے۔ سو اس کی تحقیق یوں ہے کہ گو دوسری صدی بلکہ پہلی صدی ہی سے عیسائیوں بالخصوص پولوس کے مریدوں میں یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دی اور وہ تیسرے روز زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیے۔ پھر آسمان پر چڑھ گئے اور اسی قصہ پر ان کا کفارہ جو اصول مذہب ہے مبنی ہے۔ مگر تاریخی واقعات پر بنظر انصاف غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دینے لے چلے تھے اس وقت ان کے حواری اور دیگر مرید لوگ اس خوف سے کہ مبادا ہم نہ پکڑے جاویں سب تِر بھر ہوگئے تھے۔ کوئی بھی ساتھ نہ تھا جیسا کہ لارڈ ولیم میور کی تاریخ کلیسا سے مستفاد ہوتا ہے۔ پھر اب جو حواریوں نے یا اور مریدوں نے سنا ہوگا تو خاص انہیں یہود یا پل اس کے نوکروں سے سنا ہوگا جن کی نسبت خیال ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی ناکامیابی چھپانے کے لئے مشہور کردیا ہو کہ ہم نے عیسیٰ مسیح کو قتل کر ڈالا۔ سولی دیدی۔ اس کے علاوہ ہم کو صحیح طور پر یہ بھی معلوم نہیں کہ ان لوگوں کا اس امر میں کیا بیان تھا ؟ نہ کوئی یہودی تاریخ اس کی خبر دیتی ہے اور نہ کوئی حواری اپنا مشاہدہ بیان کرتا ہے۔ انا جیل اربعہ میں سے لوقا اور مرقس تو پولوس کے شاگرد ہیں جو اس واقعہ میں شریک ہی نہ تھے۔ سو یہ ظاہر ہے کہ وہ سنی سنائی باتیں کہتے ہیں۔ رہے یوحنا اور متی وہ بھی وہاں نہ تھے صرف چند عورتیں دور سے دیکھتی تھیں اور کچھ عجب نہیں کہ یہودیوں کو وہاں شک پڑا ہو کہ یہ فلاں شخص ہیں اور فلاں کہاں ہے ؟ مگر ان کا یہ شبہ اور تردد ہم تک کیونکر منقول ہوسکتا ہے جس میں ان کی سبکی تھی۔ برخلاف اس کے خود عیسائیوں میں سے دو گواہ قوی شہادت دے رہے ہیں۔ اول برنباس حواری کی انجیل ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے صدہا سال پیشتر عیسائیوں میں مشہور و معروف تھی جس کی عبارت یہ ہے۔ تب فرشتوں نے باکرہ سے کہا کیونکر یہودا عیسیٰ کی شکل میں مبدل ہوگیا الخ تب عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا ٗ اے بربناس ! میری بات یقین کر کہ ہر ایک گناہ کی خدا سزا دیتا ہے۔ چونکہ میری ماں اور میرے ایماندار شاگرد مجھے زمینی محبت کے اختلاط کے سبب پیار کرتے تھے خدائے صادق انہیں اس محبت پر سزا دینے پر راضی ہوا تاکہ بعد زاں دوزخ کے شعلوں میں عذاب نہ پاویں اور میں گرچہ دنیا میں بےعیب زندگی بسر کرتا رہا ٗ تاہم چونکہ لوگ مجھے خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے خدا نے عدالت کے دن مجھے شیاطین کے ٹھٹھوں سے محفوظ رکھنے کے لئے چاہا کہ میں اسی دنیا میں یہودا (جس نے گرفتار کروایا تھا) کی موت سے ندامت اٹھائوں اور سب لوگوں کو یقین ہوا تھا کہ حقیقۃً میں سولی دیا گیا۔ پس یہ ملامت محمد ﷺ کے آنے تک رہے گی جو دنیا میں آکر سب کو خدا کی شریعت پر ایمان لانے میں غلطی سے بچائے گا۔ انتہیٰ (جونس) اس عبارت میں صاف اقرار ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں دیے گئے بلکہ اور شخص چناچہ اس غلطی سے عالم کو حضرت محمد ﷺ نے آگاہ کردیا۔ عیسائی اس گواہ پر یہ جرح کرتے ہیں (1) انجیل برنباس ہمارے نزدیک الہامی کتاب نہیں بلکہ ایسی ہے جیسی کہ محمدیوں میں حدیث کی کتابیں (2) یہ عبارت اس میں کسی محمدی نے یا کسی ملحد نے محمدیوں سے لے کر ملا دی ہے (3) مسیح کا مصلوب ہونا الہامی کتابوں میں چشم دید گواہوں کی معرفت قلمبند ہوا۔ پھر اس کے برخلاف کیونکر تسلیم کیا جاوے (4) پوسیفس یہودی مؤرخ جو اسی زمانہ میں ہوا ہے وہ یہی کہہ رہا ہے۔ جواب انجیل برنباس کو الہامی نہ کہنا جو حواری تھا اور بیچارے لوقا کی تاریخ کو الہامی کہنا اگر تقلید قوم نہیں تو اور کیا ہے مانا کہ بمنزلہ کتب حدیث ہے تو پھر کیا ان سے استدلال نہیں کرتے ؟ اگر کسی محمدی نے یہ عبارت اس میں ملا دی تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک شخص نے اس کتاب میں ہر کتب خانہ میں جا کر الحاق کردیا ورنہ کوئی اصل نسخہ دکھلاؤ کہ جس میں یہ عبارت نہ ہو اور وہ ملحد بھی کہاں کا کر امتی تھا کہ جس نے آنحضرت ﷺ سے پہلے آپ کا نام لکھ دیا اور پھر روئے زمین کے نسخوں پر اس کا قابو چل گیا۔ مسیح کا مصلوب ہونا چشم دید گواہوں سے کہیں بھی قلمبند نہیں ہوا۔ ہاں سنی سنائی بات پولوس کے مریدوں میں چلی آتی ہے۔ یوسیفس نے ہرگز اس کی گواہی نہیں دی ہے، محققین نصاریٰ خود مقرر ہیں کہ یہ عبارت اصل نسخہ یوسیفس میں نہیں ہے بلکہ یہ پادری صاحبان کی چالاکی ہے۔ دوسرا گواہ لوقا اور متی اور مرقس کی انجیل ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مسیح کی صلیب شمعون قرینی پر رکھ کر صلیب دینے کے لئے چلے تھے اور یہ دستور تھا کہ جو شخص صلیب دیا جاتا تھا وہ اپنی صلیب آپ اٹھاتا تھا (تفسیر سکاٹ 27 متی 32) گرچہ انہیں مؤرخوں نے اسی تقلید سے یہ بھی کہہ دیا کہ مسیح کو صلیب پر کھینچا مگر ان کی یہ تحریر اصل واقعہ کی طرف صاف اشارہ کر رہی ہے۔ انہیں وجوہ سے خود عیسائیوں کے چند فرقے جو اسلام سے پیشتر تھے مسیح کے سولی دیے جانے کا انکار کرتے تھے جیسا کہ فرقہ ماسلیدی۔ سرہنتی۔ کارپوکراتی۔ دو سیٹی۔ گناستی۔ ناصری ‘ پوئی ان کی تشریح جسکو منظور ہو وہ تاریخ کلیسا دیکھے۔ اس پر بعض پادریوں کا یہ کہنا کہ مسیح کا مصلوب ہونا اور زندہ ہونا اسی وقت سے عیسائیوں میں مسلم الکل ہوگیا تھا دعویٰ بلا دلیل ہے۔ (2) ورافعک الی گرچہ خدا جہت اور مکان سے پاک ہے مگر جہت علوی کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اب جس طرح آسمان کو اس کا مکان قرار دینا غلط ہے۔ اسی طرح نیچریوں کا آسمان کی طرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کا انکار کرنا لغو ہے اور تاویلات رکیکہ ہیں جن کا کوئی اہل مذہب بھی اعتبار نہیں کرسکتا یا صرف روح کی رفعت مراد لینا اور یہ کہنا کہ ما قتلوہ وما صلبوہ میں بھی روح مراد ہے محض بیکار تاویل ہے کس لئے کہ کوئی بھی کسی کی روح کو قتل نہیں کرسکتا نہ یہود کو اس کا دعویٰ تھا نہ فخر۔ پھر روحانی رفعت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کیا خصوصیت ہے۔ (3) وجاعل الذین اتبعوک الخ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے اول تو حواری اور ان کے تلامذہ تھے پھر جملہ عیسائی اور جملہ مسلمانان ہیں۔ سو یہ خدا کی بشارت پوری ہوئی۔ اس دن سے اب تک اور قیامت تک محمدی اور عیسائی ان کے منکر یہود پر غالب رہے اور رہیں گے انشاء اللہ۔ حضرت عیسیٰ کے تخمیناً چالیس برس بعد طیطوس رومی بادشاہ یہود پر چڑھ آیا اور شہر یروشلم کو ڈھا کر تباہ کردیا اور بیت المقدس کو بھی مسمار کردیا اور لاکھوں بنی اسرائیل کو قتل کردیا اور ہزاروں کو پکڑ کرلے گیا اور غلام بنایا۔ جو کچھ عیسیٰ (علیہ السلام) نے خبر دی تھی کہ یہ کچھ پیش آوے گا وہی پیش آیا۔ اس دن سے اور بھی رہی سہی یہود کی عزت و شوکت خاک میں مل گئی۔ پھر اس دن سے لے کر آج تک وہی حال ہے کہ ان کی حکومت اور سلطنت نہیں۔
Ayahs 3:59–63

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

اس میں 1 ؎ کچھ بھی شبہ نہیں کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ ایسے ہیں کہ جیسے آدم جن کو مٹی سے بنایا پھر ان کو کہا ہوجاؤ سو وہ ہوگئے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

حق تو وہی ہے جو آپ کے خدا کی طرف سے ہے۔ سو آپ کہیں شک میں نہ پڑجائیں۔

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر علم آجانے کے بعد بھی اس میں جو کوئی آپ سے حجت کرے تو کہہ دیجئے کہ لو آؤ ہم اور تم اپنی اپنی اولاد کو بلائیں اور اپنی اپنی عورتوں کو بھی (بلائیں) اور خود ہم بھی اور تم بھی (جمع ہوجائیں) پھر بہت گڑگڑائیں پھر جھوٹوں پر خدا کی مار ڈالیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک حق بیان تو یہی ہے اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک اللہ ہی زبردست حکمت والا ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پھر (اس پر بھی) اگر نہ مانیں تو اللہ مفسدوں کو خوب ہی جانتا ہے۔

1 ؎ یہاں بھی نیچری مصنف نے بہت ہاتھ پائوں مار کر مسیح کا یوسف نجار سے پیدا ہونا ثابت کرنا چاہا تھا مگر نہ ہوسکا۔ ترکیب : مثل عیسیٰ ای صفۃ عیسیٰ اسم ان کمثل آدم خبر ‘ خلقہ جملہ تفسیر ہے مثل کی۔ فیہ کی ضمیر عیسیٰ یا ان کے قصہ کی طرف راجع ہے من شرطیہ ہے ماضی بمعنی مستقبل۔ تفسیر : قصہّ مباہلہ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرما کر عیسیٰ پرست قوم کی طرف یعنی نصاریٰ کی طرف (جو ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے) روئے سخن کیا جاتا ہے اور ان کے عقیدہ کا ابطال فرما کر ان کو مباہلہ کے لئے بلایا جاتا ہے کہ خدا کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کا ویسا ہی حال یعنی پیدا کرنا ہے جیسا کہ آدم (علیہ السلام) کا تھا۔ ان کو بھی بغیر باپ کے پیدا کیا۔ ان کو بھی بلکہ آدم کے تو ماں بھی نہ تھیں ان کو مٹی سے پیدا کردیا تھا اور وہ پیدا کرنا کیونکر تھا صرف کن کہا تھا وہ ہوگئے (ثم تراخی ذکر کے لئے ہے اور جملہ قال لہ کن فیکون اس کا بیان ہے) بات یہی ہے نہ یہ کہ وہ خدا کے بیٹے تھے۔ اے مخاطب ! تو ان کے بغیر باپ کے پیدا ہوجانے سے شبہ میں نہ پڑجانا اور یہ اس کی قدرت کاملہ سے کچھ بھی بعید نہیں۔ سینکڑوں حشرت الارض بارہا مٹی سے پیدا ہوتے اور مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ اس پر بھی اے پیغمبر ! اگر آپ سے کوئی حجت کرے اور ان کو خدا یا خدا کا بیٹا کہے تو صاف کہہ دیجئے کہ اگر تم کو اپنی صداقت پر بھروسہ ہے تو آئو مباہلہ 2 ؎ کرلیں۔ دنیا ہی میں جھوٹے پر خدا کی 2 ؎ اس قصہ کو حاکم نے بسند صحیح اور ابن مردیہ نے اور ابو نعیم نے دلائل میں جابر سے نقل کیا ہے۔ 12 منہ مار پڑجائے گی اور مباہلہ کس طرح کریں کہ تم بھی اپنی اولاد اور عورتوں کو لو ادھر ہم بھی لیں اور خود تم بھی شریک ہو اور ہم بھی۔ پھر ہر ایک شخص نہایت عاجزی سے دعا کرے کہ الٰہی جھوٹوں پر خدا کی مار۔ مدینہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس نجران کے نصاریٰ تحقیقِ حق کے لئے حاضر ہوئے جب وہ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا 1 ؎ کہنے سے باز نہ آئے تو آنحضرت ﷺ نے مباہلہ 2 ؎ کی درخواست کی جس پر وہ بھی تیار ہوگئے۔ جب آنحضرت ﷺ 3 ؎ امام حسن و حسین اور بی بی فاطمہ اور علی رضوان اللہ علیہم کو ساتھ لے کر قسم کھانے کے لئے نکلے تو نصرانیوں پر ان کے باخدا چہروں کا ایک اثر پڑا تو مباہلہ کرنے کی جرأت نہ کی اور آپس میں کہنے لگے کہ اگر یہ نورانی چہرے یہ دعا کریں کہ پہاڑ ٹل جائے تو بیشک ٹل جائے۔ پھر فرماتا ہے کہ صحیح بیان عیسیٰ کی نسبت یہی ہے جو بیان ہوا اور یہ کہ خدا ایک ہی خدا ہے اور اللہ زبردست ہے۔ اس کو بیٹے بیوی کی کوئی حاجت نہیں اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت بالغہ سے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اگر اس پر بھی نہ مانیں تو خدا مفسدوں سے خوب واقف ہے اس جرم کی سزا دے کر رہے گا۔ 1 ؎ الوہیت مسیح۔ تثلیث۔ کفارہ ہونا 12 منہ 2 ؎ جب کسی منکر پر حق ثابت کرنا ہوتا ہے تو مباہلہ کیا جاتا ہے جس میں ہر ایک اپنے عزیز اولاد اور عورتوں کو ساتھ لے کر نہایت عاجزی سے دعا کرتا ہے کہ الٰہی جو گروہ جھوٹا ہو اس پر تیری مار وہ غارت ہوجائے۔ 3 ؎ کس لئے کہ انفسنا سے اپنے تنکے لوگ مراد ہیں نہ یہ کہ وہ خود نفس پیغمبر ہیں کیونکہ یہ محال ہے یا خود قسم میں آپ کا شریک ہونا مراد ہے۔ 12 منہ
Ayahs 3:64–67

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کہہ دو کہ اے اہل کتاب ! لو ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ کہ جس کو ہم اور تم دونوں برابر مانتے ہیں۔ وہ یہ کہ اللہ کے سوا ہم کسی کی بھی عبادت نہ کریں اور ہم کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنائیں اور نہ ہم سے کوئی کسی کو خدا کے سوا (اپنا) مالک بنائے۔ پھر اگر وہ اس کو بھی نہ مانیں تو تم کہہ دو کہ (اس بات پر) گواہ رہو کہ ہم نے تو گردن جھکا دی

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

ٗ اے اہل کتاب ! تم کس لئے ابراہیم کے معاملہ میں جھگڑتے ہو اور تورات و انجیل تو ان کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ جس بات میں تم کو کچھ علم بھی تھا اس میں تو تم نے جھگڑا بھی کیا پر جس میں تم کو کچھ علم بھی نہیں اس میں کیوں جھگڑتے ہو اور (اس معاملہ کو) اللہ ہی (خوب) جانتا ہے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

اور تم (مطلق) نہیں جانتے (لو سنو) ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ ایک طرفہ فرمانبردار تھے اور نہ وہ مشرک ہی تھے۔

ترکیب : ان لا نعبد جملہ موضع خبر میں ہے بدل ہے کلمۃ سے ھا تنبیہ کے لئے انتم مبتداء ھولاء اس کی خبر حاججتم جملہ مستانفہ جملہ اولی کا مبین فیما ما بمعنی الذی علم مبتدا لکم خبر۔ تفسیر : تقلید آئمہ بروایت و درایت : اہل کتاب کے عقیدہ فاسدہ کا ابطال فرما کر اب ایک دوسرے عنوان سے کلام شروع ہوتا ہے کہ مقابل کو اس کے تسلیم کئے بغیر چارہ ہی نہ ہو۔ وہ یہ کہ اپنے اور اس کے مسلمات سے دلیل لائی جائے اور اگر مقاہل نہ مانے تو اس کو خود کہنا پڑے کہ میں خطاکار ہوں۔ وہ یہ کہ نصاریٰ بھی اس بات کو مانتے تھے کہ عبادت خالص اللہ ہی کی کرنی چاہیے اور اس کا کسی کو شریک نہ کرنا چاہیے۔ توحید پر قائم رہنا چاہیے اور اس کے سوا کسی کو رب نہ بنانا چاہیے کہ جو کچھ وہ کہے خوامخواہ مانا ہی جاوے۔ یہ تین باتیں ہیں کہ جن کو ہم اور تم دونوں مانتے ہیں۔ پس اگر تم بھی ان پر قائم ہو تو خیر اور جو نہیں مانتے تو تم کو گواہ کرتے ہیں کہ بانا مسلمون ہم تو تسلیم کرتے ہیں جس سے صاف ثابت ہوا کہ تم برسر باطل ہو۔ یہ تین باتیں اس لئے ذکر فرمائیں کہ نصاریٰ کا ان تینوں کے برخلاف عمل اور عقیدہ تھا کس لئے کہ وہ تثلیث کے قائل تھے کہ باپ اور بیٹا اور روح القدس مل کر ایک خدا ہوا۔ پس جب انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا اور خدائی کا حصہ دار بنایا تو پہلی اور دوسری بات کا خلاف پایا گیا اور آنحضرت ﷺ سے پہلے سے لے کر پیچھے تک عیسائیوں میں پوپ اور دیگر مشائخ و مولوی اس مرتبہ پر مانے جاتے تھے اور اب بھی مانے جاتے ہیں کہ اگر وہ سراسر کوئی بات خلاف عقل و نقل بھی کہیں تو بےچوں و چرا ماننی چاہیے۔ یہی مذہبی تقلید حرام ہے کیونکہ یہ مرتبہ تو خاص خدا اور اس کے رسول کا ہے جو ملہم ہے کہ بےچوں و چرا ان کے قول کو مانا جائے ان کے بعد جو کسی کی بات واجب التسلیم ہے تو محض اس لئے ہے کہ وہ یا تو خدا اور اس کے رسول سے روایت کرتے ہیں یا اس میں درایت سے حکم دیتے ہیں جیسا کہ مجتہدین کیونکہ اس طرح سے ان کا قول تسلیم کرنا گویا خدا اور رسول کا قول تسلیم کرنا ہے۔ پھر جس طرح ان کی تقلید کو ارباب بنا کر حرام کہنا زیادتی ہے اسی طرح ان کی غلطی ظاہر ہوجانے پر بھی ان کے قول پر اڑنا اور نصوص کو چھوڑ دینا بھی زیادتی اور پھر ان کو ارباب بنا لینا ہے۔ عیسائی و یہودی مذہب کی حکمرانی کا بھی باعث ہوا ہے۔ اس سے حق پرستی زائل ہوجاتی ہے۔ یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی مانتے تھے۔ پھر ہر ایک شخص اپنے مذہب کے برحق ہونے کے لئے یہ کہہ دیتا تھا کہ ابراہیم کا یہی طریق تھا۔ گویا وہ ان کو یہودی اور نصرانی سمجھتے تھے۔ خدا نے اس کا بھی جواب دیا کہ توریت اور اسی طرح انجیل تو ان کے بعد نازل ہوئی ہے پھر وہ یہودی یا نصاریٰ کیونکر ہوسکتے تھے بلکہ ان کا طریق یہی تھا کہ جس کے زندہ کرنے کو قرآن نازل ہوا وہ تثلیث کے قائل تھے نہ سبت کے نہ وہ تمہاری طرح مشرک تھے۔ اس میں عرب پر بھی تعریض ہے کس لئے کہ وہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے۔