8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں

درس نمبر 86 ایک نظر میں سورت انفال کا یہ چوتھا اور آخری سبق ہے۔ اس میں دوسرے ممالک اور بلاکوں کے ساتھ صلح و جنگ کے کچھ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی داخلی تنظیم اور دوسری تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو منضبط کیا گیا ہے۔ مختلف احوال میں اسلام اور دوسری اقوام کے ساتھ معاہدوں کی نوعیت پر بحث ہے۔ نیز خون رنگ و نسل ، علاقائیت اور قائد و نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو متعین کیا گیا ہے اس سبق میں ان موضوعات کے بارے میں ایسے احکام بھی دیے گئے ہیں جو اپنے موضوع پر فائنل ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو اس مرحلے کے لیے تھے جن میں یہ صورت اتری ہے اور متعین حالات کے لیے تھے۔ یا ایک متعین واقعہ کے لیے تھے اور جن میں بعد میں ترمیمیں کی گئیں اور انہوں نے بعد میں آخری صورت اختیار کی۔ یعنی سورت توبہ میں ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ ان احکامات اور قواعد میں درج ذیل امور شامل ہیں۔ جو لوگ اسلامی بلاک سے معاہدے کرتے ہیں اور بعد میں اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں وہ اس کرہ ارض پر بد ترین جانور ہیں۔ لہذا اسلامی بلاک کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان کی سبق آموز تربیت کرے۔ اور ان کو ایسا سبق سکھائے کہ یہ لوگ اور ان کے بعد آنے والے یا ان کی پشت پر جو قوتیں کھڑی ہوں ان کے لیے بھی وہ اچھی عبرت ہو۔ جن معاہد اقوام سے اسلامی حکومت کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ وہ بد عہدی کریں گی یا عہد میں امانت داری کے مقابلے میں خیانت کریں گی تو اسلامی قیادت کا یہ حق ہوگا کہ وہ اس عہد کو ان کے سامنے رکھ دے اور اعلان کردے کہ اس کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے بعد اگر اسلامی حکومت ان لوگوں کی سرزنش کرے تو وہ آزاد ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو خوفزدہ کرسکے جو اسلامی حکومت کے خلاف سرگرم ہوں اور تیاریاں کر رہے ہوں کہ حملہ کردیں۔ یہ کہ اسلامی بلاک کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی افواج کو ہر وقت چوکس رکھیں اور انتہائی ممکن حد تک اپنی فوجی قوت کو ترقی دیں۔ اس طرح کہ اس کرہ ارض پر ہدایت یافتہ قوت ہی بڑی قوت ہو اور اس سے تمام باطل قوتیں لرزہ بر اندام ہوں اور ان کی قوت کے بارے میں زمین میں تمام باطل قوتیں جانتی ہوں اور خائف ہوں اور یہ جراءت نہ کرسکیں کہ وہ حملہ آور ہوں اور وہ اللہ کی سلطنت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور صورت حال یہ ہوجائے کہ پوری دنیا میں کسی داعی اسلام کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کوئی رکاوٹ ان لوگوں کے سامنے نہ رہے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی قوت سیاسی اقتدار اعلی اپنے لیے مخصوص کرنے والی نہ ہو بلکہ نظام حکومت صرف اللہ کا چلتا ہو۔ ٭۔ یہ کہ اگر غیر مسلموں میں سے کوئی اسلامی کمپ کے ساتھ کوئی معاہدہ امن کرنا چاہے اور وہ اسلامی حکومت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے تو اسلامی حکومت کی قیادت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اسے قبول کرلے اور معاہدہ کرلے۔ اگر وہ کوئی خفیہ سازش کرنا چاہتے ہوں اور بظاہر دھوکے کی کوئی علامت نظر نہ آتی ہو تو ان کا فرض ہے کہ ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اللہ اس قسم کے فریب کاروں کے شر سے بچانے والا ہے۔ ٭۔ جہاد مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگرچہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا ہو۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر فتح نصیب ہوگی۔ ان میں سے ایک آدمی بیس کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کمزور حالات میں بھی ان میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ لہذا جہاد کا فریضہ اس موقوع کے لیے انتظار کی مہلت نہیں دیتا کہ مومنین اور ان کے دشمن کی تعداد برابر ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی تیار قوت ہی کافی ہے اور ان پر فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ قوت تیار رکھیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں معرکے میں ثابت قدم رہیں۔ مشکلات میں صبر سے کام لیں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ اس لیے کہ وہ مادی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی رکھتے ہیں۔ ٭۔ اسلامی محاذ کا پہلا ہدف یہ ہونا چاہی کہ وہ طاغوتی قوت کے تمام سرچشموں کو پاش پاش کرکے رکھ دے۔ اگر وہ سمجھتے ہوں کہ فوجیوں کو قید کرنا اور پھر تاوان جنگ لے کر چھوڑ دینا مفید مطلب نہیں ہے تو پھر ایسا ہر گزنہ کرنا چاہیے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرنے سے چاہئے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرکے علاقے میں اپنا اقتدار اعلی نافذ کردیں۔ اس سے پہلے قیدی بنا کر فدیہ لینے سے بہتر ہے کہ وہ دشمن کو پیس کر رکھ دیں۔ ٭۔ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ جائز کردیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے جنگی تاوان وصول کریں لیکن اس وقت جب وہ دشمن کی قوت کو اچھی طرح توڑ دیں اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردیں اور ان کے اقتدار کی شان و شوکت قائم ہوجائے۔ ٭۔ اسلامی کیمپ میں قید ہونے والے کفار سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام میں دلچسپی لیں اور یاد رکھیں کہ تم سے جو اموال غنیمت لیے گئے ہیں اگر مسلمان ہوجاؤ تو اللہ تمہیں اس سے اچھا دینے والا ہے۔ لیکن اگر تم خیانت کروگے تو جس طرح تمہارا انجام جنگ بدر میں ہوا ہے وہی دوبارہ ہوگا۔ ٭۔ اسلامی معاشرہ میں اکٹھ نظریات پر ہوتا ہے لیکن تعلق مولات تو خصوصاً نظریات اور مشترکہ تحریک کی اساس پر ہوتا ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جن لوگوں نے پناہ دی اور نصرت دی یہی لوگ در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے نظریہ تو قبول کرلیا اور ایمان بھی لائے مگر ہجرت نہ کی تو ان اور مومنین مہاجرین کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ یعنی دار الاسلام ان کی نصرت اور ان کی کفالت اور ہمدردی کا پابند نہیں ہے۔ اور ان کی مسلمانوں پر نصرت اور ہمدردی صرف اس وت فرض ہے جبکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ زد میں ہو اور نظریات و عقائد کی وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہو۔ ۔ یکن اس بارے میں بھی ایک مزید شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی قوم کی طرف سے نہ ہو جن کا اہل اسلام کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔ ٭۔ اسلامی معاشرے کے اندر بھی دوستی اور ہمدردی کا تعلق صرف اس اکٹھ کے دائرے کے اندر ہے جس کا عقیدہ و نظریہ حقیقی ایمان کا ہو اور ان کے اندر اسلامی انقلاب کے لیے مشترکہ تحریک کا تعلق بھی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رشتہ دار (اولو الارحام) دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ترجیح کے مستحق تصور نہ ہوں گے ، لہذا و ہزیادہ قریب تصور ہوں گے۔ بشرطیکہ یہ رشتہ دار سب کے سب اسلامی نظریہ حیات کے قائل ہوں اور باہم مل کر اسلام کے لیے کام کر رہے ہوں۔ صرف رشتہ داری کافی نہیں ہے ، یعنی ایسی رشتہ داری جس میں نظریات و عقائد کا اشتراک نہ ہو اور جس میں ایک مقصد کے لیے حرکت نہ پائی جاتی ہو۔ اجمالاً اس سبق میں یہی بڑے مضامین ہیں اور یہ مضامین و موضوعات اسلامی معاشرے کی تنظیم کے داخلی اور خارجی موضوعات کے اہم مضامین ہیں۔ اور تفصیلات آیات کی تشریح کے دوران ملاحظہ فرمائیں۔ درس نمبر 86 تشریح آیات۔ 55 ۔ تا۔ 75 تفسیر آیات 55 تا 63: یہ آیات ایک قسم کی عملی ہدایات ہیں ، اس وقت جبکہ جماعت مسلمہ ایسے حالات سے عملاً دو چار تھی۔ اس وت مدینہ میں اسلامی مملکت کی بیناد رکھی جا رہی تھی۔ ان عملی حالات میں ، امت مسلمہ کو ضروری احکامات دیے گئے۔ ان میں سے اکثر ہدایات اس وقت کی قائم اسلامی مملکت یا اسلامی محاذ اور اس وقت کی اسلامی حکومت کے ارد گرد قائم مملکتوں اور محاذوں کے درمیان قانون بین الممالک کے موضوع پر ہیں۔ ان آیات کے بعد ، قرآن کریم نے ان میں معمولی ترمیمات کی ہیں لیکن یہ ہدایات اسلام کے قانون بین الممالک کے سلسلے کی اساسی ہدایات ہیں۔ ان ہدایات میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی گروہوں اور مملکتوں کے درمیان باہم سلامتی کے معاہدات ہوسکتے ہیں ، بشرطیکہ فریقین معاہدہ اس کی شرائط کی نیک دلی کے ساتھ پابندی کرتے ہوں۔ اگر کوئی فریق اس معاہدے کے پردے میں غداری اور خیانت کی تدابیر کر رہا ہو اور حملے اور شر انگیزیوں کی تیار کر رہا ہو تو اسلامی مملکت کے سربراہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان معاہدوں کو علی الاعلان منسوخ کردے اور اس کی اطلاع فریق مخالف کو بھی دے دے اور پھر اس کا اختیار ہے کہ وہ جس وقت چاہے اس قسم کے خائنوں اور غداروں پر ضرب لگائے اور یہ ضرب اس قدر شدید ہو اور اس قدر سبق آموز ہو کہ کوئی کینہ پرور کھلے طور پر یا خفیہ طور پر اسلامی مملکت کے خلاف کسی راہ میں رکاوٹ بھی نہ بنیں یا یہ کہ وہ ہر شخص تک دعوت اسلامی کے پہنچنے میں مزاحم نہ ہوں تو اسلامی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور جب تک ان سے کسی بدنیتی کا ظہور نہ ہو وہ ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے۔ پڑوسی مملکتوں کے درمیان عملی حالات کا یہ ایک عملی ضابطہ ہے۔ یہ ضابطہ باہم تعلقات کو اس وقت تک ختم نہیں کرتا جب تک اسلامی مملکت کے پڑوسی ممالک دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کی راہ میں کوئی مادی رکاوٹ کھڑی نہیں کردیتے اور لوگوں کے کانوں تک اسلام کی تبلیغ کی رسائی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تحفظ بھی دیا جاتا ہے کہ یہ معاہدے دشمن کے یے سازشوں اور یشہ دوانیوں کا سبب نہ بن جائیں اور ان معاہدوں کے پس پردہ یہ لوگ اسلامی مملکت پر اچانک اور غدارانہ ضرب لگانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔ وہ عملی حالات کیا تھے جن میں یہ ہدایات نازل ہوئیں۔ جب امت مسلمہ ہجرت کرکے مدینہ کو گئی تو اس وقت وہاں مسلمانوں کو جو حالات درپیش تھے ان کی تلخیص امام ابن قیم نے زاد المعاد میں یوں کی ہے : " جب حضور مدینہ تشریف لائے تو ان کے اور کفار کے درمیان تین قسم کے تعلقات تھے۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضور کے ساتھ مصالحت کی اور وعدہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ آپ کے ساتھ جنگ نہ کریں گے نہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ موالات کریں گے اور امداد دیں گے اور وہ اپنے کفریہ نظریات پر قائم رہیں گے اور پر امن رہیں گے۔ ان کا خون اور مال محفوظ ہوگا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو آپ کے دشمن اور محارب تھے اور تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ تو عہد کیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی بلکہ وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو آپ کی کامیابی کے دل سے خواہاں تھے اور بعض ایسے تھے جو آپ کے دشمنوں کی کامیابی اور فتح چاہتے تھے۔ اور بعض ایسے تھے جو مسلمانوں کی صفوں میں بظاہر شریک ہوگئے تھے لیکن فی الباطن وہ دشمنوں کے ساتھ تھے۔ یہ منافقین تھے ، تو حضور نے ان لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ عہد امن کیا اور وعدہ کیا وہ مدینہ کے ارگرد رہنے والے تین یہودی قبائل تھے۔ بنی قینقاع ، بنو النضیر اور بنو قریظہ اور ان کے علاوہ بعض مشرک قبائل بھی تھے جو مدینہ کے ارد گرد بستے تھے۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات وقتی حالات تھے اور عملی حالات تھے ، جو مسلمانوں کو درپیش تھے۔ اور اسلامی مملکت یا اسلامی نظام کے مستقل بین الاقوامی ضوابط نہ تھے۔ کیونکہ بعد میں ان کے اندر ترمیمات کی گئیں۔ اور سورت براءت میں جو احکام وارد ہوئے وہ آخری احکام تھے۔ بین الاقوامی تعلقات جن مراحل سے گزرے ان کا ذکر ہم نے امام ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے پارہ نہم میں نقل کیا تھا " یہاں مناسب ہے کہ دوبارہ وہ اقتباس دے دیا جائے۔ " بعثت سے لے کر وفات تک کفار اور منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل " اس عنوان کے تحت وہ رقم طراز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی نازل کی کہ " آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیں " یوں ہوا آپ کی نبوت کا آغاز ، اس وقت جو حکم دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ اپنے دل میں پڑھیں۔ ابھی آپ کو تبلیغ کا حکم نہ ملا تھا ، کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی یا ایہا المدثر قم فانذر یعنی اقراء سے آپ کو نبوت ملی اور یا ایہا المدثر سے آپ کو منصب رسالت عطا ہوا اور حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں ، رشتہ داروں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو انجام بد سے ڈرایا۔ قوم کے بعد مکہ مکرمہ کے ارگرد پھیلے ہوئے قبائل کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری عرب دنیا تک عام کردیا گیا اور بالآخر اس دعوت کو بین الاقوامی دعوت بنا دیا گیا۔ دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد نبی ﷺ کئی سال تک صرف وعظ اور تبلیغ کرتے رہے اور طاقت کا استعمال نہ کیا ، بلکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبر اور درگزر سے کام لیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں۔ ایک عرصہ بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی دشمنوں سے لڑنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم یہ اجازت اس حد تک تھی کہ صرف ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں اور دوسروں سے نہ لڑا جائے۔ سب سے آخر میں یہ حکم دیا گیا کہ کفار اور مشرکین سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہوجاتا۔ (لیکون الدین کلہ للہ) جس وقت آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ، اس وقت حضور اور کفار کے درمیان تعلقات کی صرف تین شکلیں تھیں ، اہل صلح ، اہل حرب اور اہل ذمہ ، اہل صلح یعنی جن کے ساتھ امن کے معاہدات ہوئے تھے ، ان کے بارے میں حکم ہوا کہ عہد کو آخر تک نبھایا جائے ، لیکن صرف اس صورت میں کہ جانب مخالف اپنے معاہدے کا پابند ہو اور اگر وہ عہد شکنی اور غداری کریں تو آپ بھی معاہدہ ان کے منہ پر دے ماریں ، البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ عملاً جنگ اس وقت تک نہ چھیڑی جائے جب تک انہیں باقاعدہ اطلاع نہ دی جائے کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ان تمام اقسام کے احکام علیحدہ علیحدہ بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ، نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے اس وقت تک لڑیں کہ یا وہ جزیہ قبول کریں اور یا اسلام میں داخل ہوجائیں اور مشرکین اور منافقین سے بھی جہاد کا حکم دیا گیا۔ نیز منافقین سے مزید سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ کفار کے ساتھ آپ کا جہاد مسلح جنگ کی شکل میں تھا اور منافقین کے ساتھ زبان اور دلیل سے۔ سورة براۃ میں یہ حکم بھی دیا گیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے تمام معاہدات کو ختم کردیا جائے اور علی الاعلان ان سے براءت کا اظہار کردیا جائے۔ اس اعلان کے بعد اہل عہد کی تین اقسام قرار پائیں ، وہ جن کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور اپنے عہد پر قائم نہیں رہے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ حضور نے جنگ کی اور ان پر فتح پائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن کے ساتھ عہد تھا اور وہ اسے نبھاتے بھی رہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے مقرر مدت تک برقرار رکھا جائے اور شرائط کی پابندی کی جائے۔ تیسری قسم ایسے لوگوں کی تھی کہ جن کے ساتھ اگرچہ معاہدہ تو نہ تھا لیکن یہ لوگ آپ کے خلاف کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئے تھے یا ان کے ساتھ تعین مدت کے بغیر معاہدہ طے پا گیا تھا ، ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہوا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت دی جائے اور ان سے کہہ دیا جائے کہ اس کے بعد کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یا مسلمان ہوجاؤ ورنہ لڑنے کے لیے تیارہ ہوجاؤ۔ چناچہ انہی ہدایات کے مطابق آپ نے عہد شکنوں کے ساتھ جنگ کی ، اور جن کے ساتھ کوئی عہد نہ تھا انہیں چار ماہ کی مہلت دی اور راست باز معاہدین کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور ایسے تمام لوگ معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اہل ایمان اور مسلمانوں کا جزو بن گئے اور اہل ذمہ پر جزیہ عائد ہوا۔ جیسا کہ کہا گیا سورة براءت کے نزول کے بعد کفار کے ساتھ آپ کے تعلقات تین قسم کے رہ گئے تھے یعنی محارب ، اہل ذمہ اور اہل عہد اور چونکہ اہل سب کے سب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، اس طرح صرف اہل ذمہ اور اہل حرب ہی باقی رہ گئے۔ اہل حرب کی حالت یہ رہتی تھی کہ آپ کے دور میں وہ ہمیشہ آپ سے خائف رہتے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ کی عمر کے آخری دور میں حضور اور تمام انسانوں کے تعلقات کی نوعیت صرف یہ رہ گئی تھی کہ ان میں سے بعض مسلم اور مومن تھے ، بعض آمن اور مسالم تھے اور بعض آپ سے خائف اور محارب تھے۔ منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ ان کے اعلان اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیں اور ان کے مقابلے میں علم و استدلال کے ہتھیار ہی استعمال کریں اور ان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کریں اور ان سے سختی برتیں اور ان کی نفسی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ارشادات عالیہ سے ان کی اصلاح کی سعی کریں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اور نہ حضور ان کی قبر پر کھڑے ہوکر دعا کریں اور یہ کہ اگر آپ ان کے لیے دعائے مغفرت مانگ بھی لیں تو بھی اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ یہ تھا مختصر بیان حضور کے طرز عمل کا اپنے کفار اور منافق دشمنوں کے ساتھ " اس تلخیص کے مطالعہ ، واقعات سیر کے مطالعہ اور ان آیات کے شان نزول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن حالات میں سورت انفال نازل ہوئی وہ حالات ، مدینہ کے ابتدائی حالات اور سورت توبہ میں پیش کردہ آخری حالات کے درمیان ایک عبوری مرحلہ تھا۔ لہذا ان تاریخی مراحل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان آیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگرچہ ان میں بعض حتمی اصول بھی موجود ہیں لیکن یہ آخری شکل میں سورت توبہ میں دی گئی اور عملی طور پر ان اصولوں کو حضور ﷺ کی سیرت کے آخری ایام میں نافذ کیا گیا۔ ابن قیم کے اس تفصیلی بیان کی روشنی میں اب ہم ان نصوص قرآنی کی تشریح کرتے ہیں : اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ (خصوصا) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔ لفظ دواب کا اطلاق اگرچہ لغوی طور پر ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے جو زمین پر چلتی پھرتی ہیں۔ لہذا انسان پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ، لیکن جب اس کا اطلاق انسانوں پر کیا جائے تو اس وقت بات کو ایک خاص رنگ دینا بھی مطلوب ہوتا ہے۔ یعنی انسانیت کو حیوانیت کا رنگ اور شیڈ دینا مطلوب ہوتا ہے۔ اس طرح جن انسانوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے ، ان کے بارے میں یہ تاثر دے دیا جاتا ہے کہ وہ بدترین بہائم ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کی روش اختیار کرلی ہے اور ان کے حالات ان کو یہاں تک لے آے ہیں کہ اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عہد کو تو توڑتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بنونضیر ہیں۔ بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بنوقینقاع ہیں۔ بعض میں یہ کہا گیا کہ اس سے وہ عرب مراد ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ اس آیت کے الفاظ اور تاریخی واقعات دونوں بناتے ہیں کہ اس سے مراد یہ سب لوگ ہوسکتے ہیں کیونکہ یہودیوں میں سے ہر گروہ نے اپنی اپنی جگہ حضور کے ساتھ عہد شکنی کی۔ اور مدینہ کے ارد گرد مشرکین نے بھی بار بار عہد شکنی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بدر سے پہلے اور بعد میں پیش ہونے والے سب واقعات پر تبصرہ کیا ہے۔ لیکن جو حکم دیا گیا ہے وہ قیامت تک کے لیے ہے اور ان تمام لوگوں پر اور تمام حالات پر صادق ہوگا جو قیامت تک اسی نہج پر پیش آئیں گے۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی یہ لوگ کفر میں دور تک چلے گئے ہیں اور انہوں نے ایسی روش اختیار کی ہے کہ اب ان کے ایمان کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ اس طرح ان کی فطرت میں بگاڑ داخل ہوگیا ہے۔ اور وہ جانوروں میں سے بدترین جانور بن گئے۔
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(خصوصا) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے

ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ یہ جو عہد بھی کرتے ہیں اسے توڑتے ہیں۔ تو اس طرح وہ انسانیت کے ایک اہم خاصہ یعنی وفائے عہد سے پاک ہوگئے ہیں ، یہ ہر قید و بند سے اس طرح آزاد ہوگئے ہیں جس طرح بہائم آزاد ہوتے ہیں ، اگرچہ بہائم تو اپنے فطری ضابطے کے اندر جکڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے چونکہ کوئی جبری فطری ضابطہ نہیں اس لیے وہ اللہ کے نزدیک بہائم سے بھی بد تر مخلوق تصور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کہ جن کے عہد و پیمان پر کوئی مطمئن نہ ہو اور ان کی ہمسائیگی محفوظ نہ ہو۔ ان کے لیے یہی موزوں جزاء و سزا ہے کہ ان کو امن و اطمینان سے محروم کردیا جائے۔ جس طرح خود انہوں نے دوسرے لوگوں کو امن سے محروم کردیا ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو خوفزدہ کردیا جائے ، علاقے سے نکال دیا جائے اور ان کے ہاتھ توڑ کر رکھ دیے جائیں۔ ان پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ نہ صرف و خوفزدہ ہوجائیں بلکہ ان کے پیچے رہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ضرب عبرت بن جائے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے۔ اسی طرح آپ کے بعد کے آنے والوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو یہی رویہ اختیار کریں۔
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ، ان کے حواس باختہ ہوجائیں توقع ہے کہ بد عہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے

یہ ایک عجیب انداز کلام ہے۔ اس میں ایک خوفناک گرفت اور ہولناک رعب و دبدبہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے سنتے ہی انسان بھاگنے اور اپنا مقام چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہوجائے گا جو سنیں اور دیکھیں۔ رہے وہ لوگ جن کو یہ سزا دی جائے تو ان کی حالت تو معلوم ہے کہ کیا ہوگی ؟ یہ وہ ضرب ہے جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے عبرتناک بھی ہے جنہوں نے نقص عہد کی تیاری کر رکھی ہو ، جنہوں نے انسانی قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیا ہو۔ یہ ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلامی محاذ امن کا سانس لے اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خارجی قوتیں ، جو بھی ہوں ، اس قدر سہم جائیں کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں خواہ وہ قریب کی ہوں یا دور کی ہوں۔ اسلامی نظام حیات کا یہ مزاج ہے اور اسلامی تحریک کے ذہن میں اسے اچھی طرح بیٹھ جانا چاہیے کہ اس دین کے لیے ہیبت اور رعب ضروری ہے ، اس کے لیے قوت ضروری ہے۔ اس کے لیے خوفناک شان لازمی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان طاغوتی قوتوں کو مرعوب کردیا جائے تاکہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ، اس لیے کہ اسلام پورے کرہ ارض پر انسانوں کی آزادی کا علمبردار ہے اور وہ انسان کو ہر طاغوتی قوت سے نجات دینا چاہتا ہے ، جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس دین کا طریق کار یہ ہے کہ محض دعوت و تبلیغ سے کام لیا جائے اور ان مادی رکاوٹوں کو نہ چھیڑا جائے جو طاغوت نے کھڑی کردی ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس دین کے مزاج کو بالکل نہیں سمجھا ہے۔ یہ تو تھا پہلا حکم ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے عملاً نقص عہد کا ارتکاب کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کی ایسی خبر لی جائے اور ان پر ایسی فیصلہ کن ضرب لگائی جائے کہ ان کے لیے اور کے بعد دوسرے دیکھنے سننے والوں کے لیے عبرت ہو اور ان کے کیمپوں میں خوف طاری کردے۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا

دوسرا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جس سے نقص عہد کی علامات کا ظہور ہوچکا ہو اور یہ توقع پیدا ہوگئی ہو کہ وہ جلدہی نقص عہد کا ارتکاب کریں گے۔ اور یہ علامات واضح ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ اسلام معاہدہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرے ، جب فریق دوم عمل کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ اس عہد کو منسوخ کرنے کا اعلان اس کے سامنے رکھ دیتا ہے اور علانیہ اس کو ختم ردیتا ہے۔ خیانت اور غداری کا اسلام قائل نہیں ہے۔ دھوکے اور چالبازی کا بھی اسلام روادار نہیں ہے۔ اسلام فریق دوئم کو علانیہ ببانگ دہل کہتا ہے کہ اس نے اس عہد کو منسوخ کردیا ہے لہذا اب کوئی فریق بھی اس عہد کے مشمولات کا پابند نہیں ہے۔ اس طرح اسلام انسانیت شرف اور ثابت قدمی کا مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے اور امن و اطمینان کا وسیع دائرہ عطا کرتا ہے۔ اسلام یہ گوارا نہیں کرتا کہ وہ شب خون اور وعدہ خلافی کرکے ایسے لوگوں پر حملہ کردے جو عہد و میثاق کی بنا پر مطمئن بیٹے ہوں اور ان وک یہ نوٹس نہ ہو کہ حملہ آور فریق نے عہد ختم کردیا ہے۔ اسی طرح اسلام ایسے لوگوں کو خوفزدہ کرنا بھی نہیں چاہتا۔ جنہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی ہوں اور جن سے اسلام کو صرف خیانت کا خطرہ درپیش ہو ، ہاں عہد کے ختم کردیے جانے کے بعد جنگ کے دوران چالیں چلی جاسکتی ہیں کہ جنگ کے دوران جنگی چالیں جائز ہیں کیونکہ دشمن کو نوٹس مل گیا ہے۔ اس نے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ اب اگر اس کے خلاف کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ معذور نہیں ہے بلکہ غافل ہے اور غافلوں کے خلاف اگر کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ غداری نہیں ہے۔ اسلام انسانیت کی سطح کو بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسانیت آلودگیوں سے پاک ہو۔ لہذا غلبے کے لیے غداری کو اسلام جائز نہیں سمجھتا۔ جبکہ وہ اعلی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہا ہو ، کیونکہ اعلی مقاصد کے لیے شریفانہ اسلوب اختیار کرنا ضروری ہے۔ اسلام خیانت کے سخت خلاف ہے اور وہ ان لوگوں کو بہت ہی حقیر سمجھتا ہے جو نقص عہد کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا اسلام اپنے پیروکاروں کو عہد میں خیانت کی اجازت نہیں دیتا۔ اگرچہ جن اہداف و غآیات کے لیے یہ حرکت کی جارہی ہو ، وہ بہت ہی بلند ہوں۔ نفس انسانی کے حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ ایک بار انسان حقیر اور خسیس طریقے کرنا شروع کردے وہ کبھی بھی اعلی اور شریفانہ طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو اچھے مقاصد کے لی ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے کو جائز سمجھتا ہو۔ لہذا یہ اصول اسلامی سوچ اور اسلامی شعور کے لیے بالکل اجنبی ہے کیونکہ اسلامی ذہنیت میں مقاصد اور وسائل کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، کیونکہ ایک مسلمان اگر پاک و صاف جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے تو وہ گندے کیچڑ سے ہو کر نہ گزرے گا کیونکہ ان کے گندے پاؤں صاف جگہ کو بھی گندا کردیں گے۔ اگر کوئی اسے جائز سمجھتا ہے تو وہ خائن ہے اور اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان اللہ لایحب الخائنین ہمیں یہاں ذرا یہ غور کرنا چاہیے کہ جن حالات میں یہ احکام نازل ہو رہے تھے۔ ان حالات میں انسانیت کا مقام کیا تھا۔ ان میں انسانیت کے سامنے اس قدر بلند نصب العین نہ تھا۔ اس دور میں باہم لڑنے والے جنگل کے قانون پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ اس وقت ڈنڈے کا قانون چل رہا تھا اور ڈنڈے اور لوٹ پر کوئی قید و بند نہ تھا اور اس وقت سے لے کر اٹھارہویں صدی تک دنیا میں یہی جنگل کا قانون مروج رہا ہے اور یورپ تو خصوصاً اس قدر اندھیرے میں تھا کہ اسے اس وقت تک قانون بین الاقوام کا علم ہی نہ تھا۔ یہ روشنی اس نے اس وقت حاصل کی تھی جب اس کا واسطہ اسلامی ممالک سے بڑا اور آج تک بین الاقوامی معاملات میں یورپ اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جس تک اسلامی نظام ایک جست میں پہنچا۔ حالانکہ یورپ نے کم از کم بین الاقوامی قانون کا نام سن لیا تھا۔ جو لوگ آج یورپ کی صنعتی ترقی سے مروعب ہیں ان کو اس موضوع پر غور کرنا چاہیے اور اسلام کے بین الاقوامی قانون اور دور جدید کے قانون نظاموں کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوں۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے ، یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے

ان ہدایات اور صاف ستھری پالیسی کے نتیجے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح و سرخروئی حاصل ہوگی اور یہ کہ ان کے لیے کفار کی قوت کا مقابلہ بہت ہی آسان ہوجائے گا۔ ان لوگوں کے خفیہ مشورے اور بد عہدی کے ارتکاب کے بارے میں منصوبے ان کو کامیاب اور مسلمانوں پر برتری عطا نہ کرسکیں گے کیونکہ اللہ مسلمانوں کی پشت پر ہے۔ اور خائن لوگ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ کفار کو جب اللہ پکڑنا چاہے تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اور جب اللہ مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے تو یہ ان کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس لیے وہ لوگ جو اچھے مقاصد کے لیے اچھے ذرائع اختیار کرتے ہیں ، اگر ان کی نیت درست ہے تو انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اوچھے ہتھیار استعمال کرنے والے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس لیے کہ انہیں اللہ کی امداد حاصل ہے اور وہ اس کراہ ارض پر سنت الہی قائم کرنا چاہتے ہیں ، وہ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ اللہ کا نام لے کر چلتے ہیں اور ان کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو تمام غلامیوں سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور غلامی میں داخل کردیں اور اس میں اللہ کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور تم لوگ ، جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو ، تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوفزدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کروگے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہر گز ظلم نہ ہوگا

لیکن اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دائرہ قوت کے اندر جو بھی ہوسکے وہ جائز ذرائع اختیار کرے اور تیاری کرے ، اگرچہ ان کو یہ اطمینان ہے کہ انہیں نصرت خداوندی حاصل ہے ، تاہم پھر بھی ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور وہ وسائل فراہم کریں جن کو انسانی فطرت جانتی ہے اور جو انسانوں کے تجربے کے اندر ہیں ، اسلام ان لوگوں کو عالم بالا کی نصرت کی طرف دیکھنے کا مشورہ اس وقت دیتا ہے جب وہ ظاہری اعتبار سے اپنی مکمل تیاری کرلیں اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کے لیے تیار ہوں تاکہ وہ اعلی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہوں جو اسلام کے پیش نظر ہیں۔ اپنی قوت اور مقدرت کے مطابق تیاری کرنا فریضہ جہاد کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ یہ آیت حکم دیتی ہے مسلمانوں کو مختلف قسم کی جنگی تیاریاں اور سازوسامان فراہم رکھنا چاہئے اور یہاں خصوصا تیار بندھے رہنے والے گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اس وقت کے جنگی سامان کا اہم حصہ تھے ، جس وقت قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔ اگر قرآن کریم اس وقت گھوڑوں کے بجائے موجودہ دور کے سازوسامان کی تیاری کا حکم دیتا تو یہ ایک نامعلوم اور حیران کن سازوسامان کا حکم ہوتا اور وہ سن کر ہی حیران ہوجاتے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی اور اللہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسی بات کرے جسے مخاطب سمجھ ہی نہ سکیں۔ مناسب بات یہی ہے ، عام حکم دیا جائے اور وہ یہ ہے واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ " اور تم جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت تیار رکھو "۔ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ضروری قوت موجود ہو اور وہ اس قوت کے بل بوتے پر آگے بڑھے اور تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے رہا کرائے۔ چناچہ اس قوت کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس قدر آزاد کرادے کہ وہ کوئی بھی نظریہ قبول کرنے میں آزاد ہوں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو اور نہ دنیا میں ایسی قوت ہو کہ کسی کسی مخصوص عقیدے کے اختیار پر مجبور کرسکتی ہو۔ دوسرا فریضہ یہ ہے کہ یہ قوت دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر خوفزدہ کردے کہ وہ اسلامی قوت کے مرکز دار الاسلام پر حملے کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ اور تیسرا فریضہ یہ ہے کہ دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر مرعوب کردیا جائے کہ وہ اسلام کی راہ روکنے کے بارے میں کسی بھی وقت نہ سوچیں۔ تاکہ اسلامی تحریک اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو آزاد کرسکے۔ اور چوتھا فریضہ یہ ہے کہ ہی اسلامی قوت ان تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے جو اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کرتی ہیں اور لوگوں پر اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت اور اپنا قانون جاری کرتی ہیں اور وہ یہ اعتراف نہیں کرتیں کہ حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ کیونکہ وہی الہ ہے ، وحدہ لاشریک۔ اسلام کوئی اس لاہوتی نظام نہیں ہے جس کا تعلق صرف عقائد و نظریات سے ہو ، یا وہ کچھ مراسم عبودیت میں دخیل ہو اور آگے بس اس کا کام ختم ہو۔ بلکہ اسلام پوری زندگی کا ایک عملی نظام ہے اور وہ تمام دوسرے نظاموں کے مقابلے میں آکر کھڑا ہوتا ہے اور وہ ان تمام قوتوں سے برسر پیکار ہوجاتا ہے جو ان باطل نظآموں کی پشت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ لہذا اس کے سوا اسلام کے لیے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی راہ میں حائل ہونے والی تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے کیونکہ یہ قوتیں اسلام کی راہ روکتی ہیں اور اسے قائم ہونے نہیں دتیں بلکہ یہ قوتیں ، اسلام کے بالمقابل دوسرے نظآم قائم کرتی ہیں۔ اس عظیم حقیقت کے اعلان کے وقت کسی بھی مسلمان کو شف شف نہیں کرنا چاہئے اور نہ جلدی جلدی سرسری بات کرنا چاہئے کہ کوئی سمجھ بھی نہ سکے۔ پھر اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو شرم بھی محسوس نہ کرنا چاہیے بلکہ انہیں اس حقیقت کا اعلان سر اٹھا کر کرنا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ در اصل انسان کی آزادی کی تحریک ہے اور وہ اس کا علمبردار ہے۔ یہ کسی انسانی نظام حیات کا علمبردار نہیں ہے ، نہ کسی لیڈر کی حکومت کا قیام چاہتا ہے۔ نہ کسی طبقے کی نسلی گروہ اور فرقے کی حکومت چاہتا ہے۔ اس کا نصب العین یہ نہیں ہے کہ وہ مزارعین کو غلام بنائے تاکہ وہ جاگیر داروں کی خدمت کریں جیسا کہ رومی تہذیب والوں کا مقصد تھا ، اور اس کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا پر قبضہ کرکے تمام دنیا کے خام مال پر قبضہ کیا جائے اور اپنی صنعتوں کو فیڈ کیا جائے جس طرح مغربی استعمال کا یہ مقصد تھا اور نہ وہ اس لیے اٹھا ہے کہ کسی علاقے میں کسی پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ قائم کرکے دوسرے لوگوں کو مویشیوں کی طرح غلام بنا دے جیسا کہ نظام اشتراکیت میں تھا۔ یہ تو علیم وخبیر اور حکیم وبصیر کے اقتدار اعلی کے قیام کا علمبردار ہے۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا قیام چاہتا ہے اور دنیا میں تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے نجات دینا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ کوئی بندہ کسی بندے کا غلام نہ ہو۔ یہ ہے وہ عظیم حقیقت جسے شکست خوردہ ذہنیت کے مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ، جو دین اسلام اور نظآم اسلامی کی بےجا مدافعت کرتے ہیں اور اس مدافعت میں بھی وہ محض شف شف کرتے ہیں اور کوئی بات صاف ستھری اور واضح نہیں کرسکتے اور اسلام کے نظریہ جہاد کے لیے عذر لنگ تلاش کرتے ہیں۔ ـ(تفصیلات کے لیے دیکھئے ابو الاعلی مودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان کا قیمتی رسالہ الجہاد فی الاسلام) نیز ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں اسلام کے نظریہ جہاد پر جو تفصیلی بحث کی ہے اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ پھر اس آیت میں ہمیں جس حد تک تیاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی حدود کا بھی ہمیں اچھی طرح علم ہونا چاہی کہ و اعدوا لھم ما ستطعتم۔ یعنی جس قدر تمہاری استطاعت میں ہو یعنی تیاری میں اپنی پوری قوت صرف کردو ، یعنی جنگ اور فتح کے تمام وسائل فراہم کیے جائیں یعنی ممکن حد تک۔ پھر اس آیت میں تیار کی غرض وغایت بھی بتا دی گئی ہے کہ اس کی غرض یہ ہے ترھبون بہ عدو اللہ و عدوکم و اخرین من دونہم لا تعلمونہم اللہ یعلمہم۔ تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے دشمنوں اور اللہ کے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوفزدہ کرسکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ یعنی اس تیار کے مقاصد یہ ہیں کہ اس سے تمہارے دشمن جو اللہ کے دشمن ہیں ، خوفزہ ہوجائیں۔ ان میں وہ ظاہری دشمن بھی شامل ہیں جن کو مسلمان جانتے ہیں اور کچھ ان کی پشت پر دشمن طاقتیں ہیں جن کا علم مسلمانوں کو تو نہیں ہے لیکن اللہ کو ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی دشمنی کا اظہار نہیں کیا ہے اور اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ ان لوگوں کو اسلام کی قوت مرعوب کردے گی۔ اگرچہ ابھی ان کو مسلمانوں کی جنگی قوت عملاً نہ پہنچی ہو۔ غرض مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ وہ صاحب قوت ہوں اور ان پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک قوت جمع کریں تاکہ وہ زمین کے تمام لوگوں کے لی باعث خوف ہوں اور یہ اس لیے کہ دنیا پر اللہ کا کلمہ بلند ہو اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ اب جنگی تیاریوں کے لیے چونکہ اخراجات ہوں گے اور تھے۔ پھر اس وقت اسلام معاشرہ صرف باہم تکافل پر چل رہا تھا۔ لہذا جنگی تیاریوں کے حکم کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں اپنی دولت کو خرچ کرو۔ وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لا تظلمون " اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے وہ پورے کا پورا تمہیں مل جائے گا اور تم پر ظلم نہ ہوگا " اس طرح اسلام جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کو تمام دنیاوی اغراض و مقاصد سے پاک کردیتا ہے۔ ان مقاصد کو ذاتی خواہشات سے بلند کردیتا ہے۔ ہر قسم کی قومی ، طبقاتی اور وطنی شعور اور جذابت سے انہیں جدا کردیتا ہے تاکہ وہ محض فی سبیل اللہ ہوں اور اللہ کی رضا مندی کے لیے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آغاز ہی سے ان تمام جنگوں کی ممانعت کردیتا ہے جو بعض اشخاص کی برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا بعض حکومتوں کی برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی جاتی ہیں یا لوگوں پر غالب ہونے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ یا ایک ملک کی دوسرے ملک پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا ایک قوم کی دوسری قوم پر برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا ایک نسل کی برتری کے لیے یا ایک طبقے کی دوسرے طبقات پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں اسلام صرف ایک جنگ کی اجازت دیتا ہے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔ اور اللہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی نسل دوسری نسلوں ، یا کوئی وطن اور دوسرے اوطان پر یا کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقات پر ، یا فرد دوسرے افراد پر یا کوئی دوسری قوم دوسری اقوام پر غالب ہو کر اپنی حاکمیت ، اپنی حکومت اور اپنا اقتدار اعلی کو قائم کرے۔ وہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی حاکمیت دنیا میں قائم ہو تاکہ دنیا میں خیر و برکت ، آزادی اور شرافت کا دور دورہ ہو۔ اور یہ صرف اللہ کی حاکمیت کے زیر سایہ ہوسکتا ہے۔