Ayah 8:33اس عناد اور اس دعاء کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ یہ لوگ پتھروں کی بارش کے مستحق ہیں اور اس کا مطالبہ وہ اس شرط کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر یہ قرآن سچا ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن سچا ہے اور شرط پوری ہے۔ لیکن ان کی جانب سے بربادی کی دعوت دینے کے باوجود اللہ ان پر یہ عمومی عذاب اس لیے نازل نہیں کرتا کہ حبیب خدا ان میں موجود ہیں اور مسلسل ان کو دعوت حق دے رہے ہیں اور اللہ نے کسی قوم کو بھی اس وقت تک مکمل بربادی سے دوچار نہیں کیا جب تک رسول ان میں موجود ہوتا ہے۔ دعوت دے رہا ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اللہ اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اور ان پر یہ عذاب صرف اس لیے نیں نازل ہورہا ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کے مکین ہیں اگرچہ وہ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔
یہ اللہ کی عظیم رحمت ہے کہ انہیں مہلت دے دی اور ان کے اس گہرے عناد کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں ٓ رہا ہے۔ مسجد حرام سے یہ لوگ لوگوں کو روکتے ہیں اور پھر بھی ان کے لیے مہلت کی رسی دراز ہو رہی ہے۔ اس دور میں یہ مسلمانوں کو حج کرنے سے بھی روکتے تھے۔ جبکہ مسلمان کسی کو نہ روکتے تھے اور نہ کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔
یہ رحمت خداوندی ان کو اس لیے مہلت دیے جا رہی تھی کہ شاید ان میں سے جن لوگوں کے دلوں میں مادہ ایمان موجود ہے وہ ایمان لے آئیں اگرچہ وہ قدے بعد میں آئیں۔ اور رسول اللہ ﷺ بھی تو ابھی تک موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں سے ابھی تک توقعات وابستہ تھیں۔ لہذا حضور ﷺ کے وجود بابرکت کی وجہ سے ان کو مہلت مل رہی تھی۔ ابھی تک عظیم عذاب سے بچنے کا دروازہ کھلا تھا ، اگر وہ مان لیں ، دعوت اسلامی کو قبول کرلیں اور اپنے رویے سے باز آجائیں۔
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔
لیکن اللہ اگر ان کے ساتھ ان کے حالات کے مطابق معاملہ کرنا چاہے تو وہ بیشک عذاب الہی کے مستحق ہیں۔
Ayah 8:34ان پر یہ عذاب اس لیے نہیں لیٹ ہورہا ہے جس کا وہ دعوی کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں یا وہ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ تو ان کا محض دعوی ہی دعوی تھا ، اس کی کوئی اساس نہ تھی۔ یہ لوگ در اصل اس گھر کے خادم اور متولی تھے ہی نہیں۔ یہ تو اس گھر کے دشمن تھے۔ انہوں نے زبردستی اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کوئی ترکہ تو تھا نہیں جو آباؤ اجداد سے وراثت میں لیا جاتا۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق تو اللہ کے متقی بندوں کا حق ہے۔ ان کا یہ دعوی کہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں ، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سچائی کا تعلق خون اور نسب سے نہیں ہوتا۔ سچائی میں وراثت تو دین اور عقیدے کی وراثت ہوتی ہے۔
کہ دریں راہ فلان ابن فلاں چیزی نیست
حضرت ابراہیم کے وارث تو اہل تقوی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اس گھر کو تعمیر کیا تاکہ لوگ اس کی زیارت کریں اور تم اس سے روکتے ہو اور تم نے اس کی تولیت کو بھی مستحق لوگوں سے چھین لیا ہے۔
Ayah 8:35یہ لوگ ، اگرچہ اس گھر میں اپنی نماز پڑھتے ہیں۔ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔ پھر ان کی نماز ہی کیا ہے ؟ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ ایسا شور و شغب اور ہائے ہو جس میں کوئی متانت اور سنجیدگی نہیں ہے نہ اس گھر کے احترام کا شعور ہے اور نہ اس میں اللہ کے تقدس اور کبریائی کا کچھ احساس ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہ لوگ اپنی گالوں کو زمین پر رکھتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ اور اس سے عالم اسلام ، نام نہاد عالم اسلام کی وہ تصویر ذہن میں آجاتی ہے جس میں لوگ آستانوں پر گاتے بجاتے ہیں ، شور شغب کرتے ہیں اور اللہ ہو کے نعرے لگاتے ہیں اور قبروں کی چوکھٹوں پر چہرے رگڑتے ہیں۔ غرض یہ سب جاہلیت کے مظاہرے ہیں جو کبھی اس صورت میں ظاہر ہوتے تھے اور کبھی اس صورت میں طاہر ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام صورتوں کی اصل اور بھنیادی صورت یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کی حاکمیت قائم ہو اور لوگوں پر انسان حکمران ہوں۔ یہ بڑی اور عظیم ہمہ گیر جاہلیت ہے جو تمام چھوٹی بڑی جاہلیتوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے اور یہ دوسری جاہلیتیں اس کی شاخ اور فریم ہوتی ہیں۔
فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۔ پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔
اور یہ عذاب کون سا عذاب ہے ، وہی جو میدان بدر میں جماعت مسلمہ کے ہاتھوں ان کو پہنچتا رہا وہ عذاب جو انہوں نے خود طلب کیا تھا کہ ان کی جڑ کاٹ دی جائے تو اللہ نے ان پر وہ عذاب اس لیے نازل نہیں کیا کہ اللہ رحیم و کریم ہے اور نبی ﷺ کی موجودگی میں اس قسم کے عذاب کا نزول مناسب نہ تھا کیونکہ آپ نبی رحمت ہیں اور کفار میں سے کئی لوگوں کی جانب سے توبہ و استغفار کی امید ابھی باقی ہے۔
Ayah 8:36اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کا یہ شکست خوردہ لشکر مکہ پہنچا اور ابو سفیان قافلے کو لے کر وہاں پہنچا تو عبداللہ بن ربیعہ ، عکرمہ ابن ابوجہل ، صفوان ابن امیہ چند دوسرے لوگوں کو لے کر ان لوگوں کے گھروں میں گئے جن کے آباء اور اولاد اور بھائی اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ابو سفیان ابن حرب اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جن کے اموال اس قافلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے اہل قریش ، محمد نے تم سے خوب بدلہ لیا اور اس میں حد سے بڑھ گئے۔ اور تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کیا۔ لہذا تم قافلہ تجارت کے اموال چندے میں دے دو تاکہ ہم بدر کا بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ ۔ یہ جو بدر میں ہوا یا بدر کے بعد ہوا یہ دین کے دشمنوں کا معمولی حربہ ہے۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اپنی قوتوں کو دین کی بیخ کنی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ اور ہر دور میں اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ معرکہ ختم نہیں ہوا ہے ، دین کے دشمن کسی بھی وقت آرام سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے بھی ، حامیان دین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس دین کی واحد راہ ہی یہی ہے کہ وہ متحرک رہے اور جاہلیت پر ہجوم کرے۔ اہل دین کی صفت اور نصب العین ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک رہیں اور اہل جاہلیت کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ اللہ کے جھنڈے کو اس قدر بلند اور غالب کردیں کہ کسی دشمن دین کو اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خبردار فرماتے ہیں جو اپنے مال دین کی راہ روکنے میں صرف کرتے ہیں ان کا یہ فعل ان کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام نفقات جلد ہی اکارت جائیں گے اور اہل حق اسی دنیا میں غالب و فتح یاب ہوں گے اور آخرت میں تو یہ لوگ جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور یہ ان کے لیے عظیم حیرت ہوگی۔
Ayah 8:37یہ عمل کس طرح جاری ہوگا ، یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے یہ باطل کی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور ان کو حق پر دست درازی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اور حق اس کا مقابلہ کرتا ہے اور سعی و جہد کا میدان گرم ہوتا ہے۔ حق ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اس کشمکش اور کڑوے عمل میں ہی حق و باطل کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل متمیز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان سے بھی کمزور لوگ چھٹ جاتے ہیں اور وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو ثابت قدم ، صابر اور بہادر اور اللہ کی نصرت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ کسی فتنے اور کسی بھی مشکل کی وجہ سے اپنے موقف سے نہیں ہٹتے۔ اسی عمل سے خباثت کے پلندوں کو جمع کرکے جہنم رسید کیا جاسکتا ہے اور یہی صورت اہل باطن کے خسران کا سبب بنتی ہے۔
قرآن کریم نے یہاں خباثت کو مجسم شکل میں پیش کیا ہے گویا اس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسے جہنم میں لے جا کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اس کے ختم کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔
فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۔ اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے۔ پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے۔ کسی مفہوم کو اس طرح مجسم شکل میں پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ و احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک منفرد اسلوب ہے۔
Ayah 8:38اب بات فیصلہ کن نکتے تک آپہنچتی ہے اور اہل کفر کا انجام طے کردیا جاتا ہے ، اور گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ متعین کردیا جاتا ہے۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرتا ہے کہ اہل کفر کو آخری تنبیہ کردو ، اور اہل ایمان کو بھی حکم دے دیا جاتا ہے کہ تمہارے لیے جو راہ اور طریقہ کار متعین کردیا گیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ جہاد و قتال ہی اسلام کا واحد راستہ ہے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کرہ ارض سے ہر قسم کا فتنہ و فساد ختم نہیں ہوجاتا ، اور دین خالص غالب نہیں ہوجاتا۔ اور تحریک اسلامی مطمئن اور مامون نہیں ہوجاتی۔ اسی صورت میں اللہ تحریک کا حامی و ناصر ہوگا اور لوگوں میں سے کوئی بھی بذریعہ جنگ یا بذریعہ سازش تحریک کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
لہذا تمہارے لیے اب بھی موقع ہے کہ تم اپنے آپ کو اس انجام بد سے بچا لو ، اور اسلام کے خلاف اکٹھ نہ کرو اور اس میں اپنے اموال تجارت کو جھونکنے سے بچا لو ، توبہ کا دروازہ اب بھی تمہارے سامنے ہے اور کھلا ہے۔ اللہ کی راہ کی طرف واپس آجاؤ۔ اللہ تمہاری تمام کو تاہیاں معاف کردے گا۔ اور اگر اس تنبیہ کے بعد پھر یہ لوگ وہی رویہ اختیار کریں تو سنت الہیہ لازما اپنی راہ لے گی۔ وہی ان کا انجام ہوگا جو اس راہ پر چلنے والوں کا زمانہ قدیم سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کو غلبہ اور اقتدار اعلی نصیب ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اب اے اہل کفر تم ایک فیصلہ کن دو را ہے پر کھڑے ہو۔ یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔
اب (اگلی آیت میں) اہل کفر کے ساتھ ہم کلامی ختم کرکے اہل ایمان کو اسلامی انقلاب کا طریقہ کار بتلایا جاتا ہے
Ayahs 8:39–40تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ حکم وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ” ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ یہ تحریک اسلامی کے لیے دائمی حکم ہے اور جاہلیت کے مقابلے کے لیے ایک مستقل پالیسی ہے۔
اس سورة کے آغاز میں ، اس کے تعارف کے دوران ہم نے کہا تھا کہ دنیا میں اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے اور اس طرح کہ کوئی اپنے جیسے بندوں کی غلامی نہ کرے ، اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہشات نفسانیہ کی غلامی بھی نہ کرے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے اور صرف اللہ ہی اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے حاکم اور رب ہوں۔ یہ اعلان در اصل تمام انسانوں کی مروجہ حاکمیتوں اور اقتداروں کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے اور ان تمام صورتوں کے خلاف عملی جنگ ہوتی ہے جن میں کسی بھی شکل میں انسان کو حکومت انسان پر چل رہی ہو۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اس پارے کے صفحات ۔۔ )
لہذا اس عظیم نصب العین کے حصول کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس دین پر اعتقاد رکھنے والے لوگ فتنہ و فساد سے مامون اور محفوظ ہوں۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کا اعلان کرسکتے ہوں اور صرف اللہ وحدہ کی غلامی کا اعلان کرسکتے ہوں۔ ان پر انسانوں میں سے کسی کا اقتدار اعلی نہ ہو۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو اور جس کی اپنی قیادت نہ ہو اور جو اس نظریہ کو کسی خطہ ارض پر عملاً نافذ نہ کر رہی ہو ، اور اس خطے کے وہ عملاً ہر طاغوت کے مقابلے میں صف آرا نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسی قوتوں کا سدباب نہ کرے جو ایسی جماعت کو دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکتی ہو ، یا ایسے لوگوں پر تشدد کرتی ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی قوت نہ ہو اور اگر ہو تو اسے پاش پاش کردیا جائے جو مقصد اولیٰ کی راہ میں سد راہ ہو۔ یعنی ایسی تمام قوتوں کو ختم کردیا جائے جو اس کرہ ارض پر حکومت الہیہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ غرض اس کرہ ارض پر الہ کا اقتدار اعلی پوری طرح قائم کردیا جائے۔
یہاں یہ ضروری ہے کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دیا جائے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے۔ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ راہ ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہوچکا ہے۔
اس کے باوجود کہ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ہم بحث کر آئے ہیں۔ خصوصا استاذ مولانا سید ابو الاعلی مودودی محترم کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے ہم نے جو طویل اقتباس دیا تھا ، اس کے بعد اس موضوع پر کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کی قدرے مزید وضاحت کردی جائے اس لیے اس نکتے پر اسلام کے مکار دشمن ہر طرف سے پروپیگنڈہ کرکے شبہات پھیلاتے ہیں۔
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ " دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے ، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے مقابلے میں ایسی مادی رکاوٹیں نہ رہیں جو اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں۔ اور یہ مادی رکاوٹیں در اصل ان نظاموں کی شکل میں ہوتی ہیں جو طاغوتی نظام ہوتے ہیں اور ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان جبر کے شکنجوں میں کسے ہوتے ہیں۔ لہذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نظام نہ ہو جس میں ماسوی اللہ کا اقتدار اعلی نافذ ہو اور نہ ایسا نظام ہو جس میں لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے مطیع فرمان ہوں۔ جب اس قسم کی تمام رکاوٹیں انسان کی راہ سے دور کردی جائیں تو پھر انسان آزاد ہوں گے۔ ان پر کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ یعنی ایسی صورت باقی نہ ہوگی کہ اسلام کے نظریہ حیات کے مخالف کسی نظریہ کی پشت پر مادی قوت ہو جو عوام کو متاثر کر رہی ہو اور جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرنا بھی چاہیں تو ڈر سے ایسا نہ کرسکتے ہوں جو لوگ اختیار کرچکے ہوں ان کے لیے کسی فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو۔ اس طرح انسان تمام طاغوتی فتنوں سے عملاً آزاد ہوگا اس لیے کہ لوگ عقیدہ و نظریہ اختیار کرنے میں آزاد ہوں گے اور ان پر رب العالمین کے اقتدار اعلی کے سوا کوئی اور اقتدار نہ ہوگا۔
یاد رہے کہ انسانیت اس وقت تک شرف و عزت کے مقام پر فائز نہیں ہوسکتی جب تک وہ ماسوا اللہ کے کسی اور اقتدار سے آزاد نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے کہ دین صرف اللہ کا ہو اور مسلمانوں کے لیے کوئی فتنہ نہ ہو۔