Ayah 8:24اب دو بارہ اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہیں۔ کیونکہ رسول کی پکار پر لبیک کہنا تمہارے لیے مفید ہے اور اگر تم نے انکار کیا تو یہ تمہارے برا ہوگا۔
اس دعوت میں ان عقائد و تصورات کو پیش کیا گیا ہے جن سے دل و دماغ زندگی سے بھر جاتے ہیں اور تمام خرافات اور جہالتوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔ اوہام اور افسانوں سے نجات پاتے ہیں اور ظاہری اسباب اور طبیعی قوانین کی جکڑ بندیوں سے بھی نجات پاتے ہیں اور غیر اللہ کی بندگی اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے انسان کو نجات دلاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہارے سامنے ایک ایسا قانونی نظام پیش کرتی ہے جو اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس قانونی نظام میں انسانیت کی آزادی اور انسانیت کے احترام کے وہ اصول پیش کیے گئے ہیں جو من جانب اللہ ہیں۔ اس کے اجتماعی نظام میں تمام انسان صف واحد میں کھڑے ہیں۔ بالکل مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظام میں کسی فرد کی حکوت نہیں ہے ، کسی طبقے کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی نسل کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی قوم کی حکومت کا تصور نہیں ہے ، بلکہ اس نظام میں تمام لوگ آزاد اور باہم مساوی ہیں اور سب کے سب صرف قانون رب العالمین کے پابند ہیں۔
یہ دوات انہیں ایک ایسے نظام حیات کی طرف بلاتی ہے ، ایک ایسے نظام فکر کی طرف بلاتی ہے اور ایک ایسے نظام تصورات کی طرف بلاتی ہے کہ وہ انہیں ماسوائے ضوابط فطرت کے ہر قسم کی جکڑ بندیوں سے رہا کرتی ہے۔ یہ ضوابط فطرت وہی قوانین و ضوابط ہیں جسے خالق فطرت نے منظم کیا ہے۔ یہ خالق اپنی مخلوقات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ قواعد و ضوابط انسان کی تخلیقی قوتوں کو باہم ٹکر اور مقابلے سے بچاتے ہیں اور یہ تخلیقی قوتوں کو ضائع بھی نہیں کرتے اور ان کا قلع قمع بھی نہیں کرتے اور نہ ان پر کوئی منفی پابندیاں لگاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہیں قوت ، عزت اور سربلندی کی دعوت دیتی ہے اور انہیں یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ، اپنے نظام کو مضبوط کریں۔ اپنے رب اور اپنے دین پر پورا بھروسہ کریں۔ اس دعوت کو لے کر اٹھیں اور دنیا کے تمام انسانوں کو یہ آزادی عطا کردیں۔ تمام لوگوں کو خود ان جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی عطا کردیں کیونکہ تمام دنیا میں انسانوں کو باغیوں اور سرکشوں نے غلام بنا رکھا ہے۔
یہ دعوت انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی طرف بلاتی ہے تاکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نظام قائم کیا جاسکے۔ لووں کی زندگیاں اس نظام کے مطابق استوار کی جاسکیں۔ اور دنیا سے اقتدار اعلیٰ کے ان نام نہاد مدعیوں کے اقتدار کو ختم کیا جاسکے۔ جن لوگوں نے اللہ کے حق حاکمیت اور منصب مقتدر اعلیٰ کو اپن لیے خاص کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کے امر اور اقتدار کو تسلیم کرلیں اور یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے جب تک دین صرف اللہ کا رئج نہ ہوجائے۔ اگر اس جہاد کے عمل میں ان کی جان بھی چلی جائے تو انہیں شہید کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
یہ ہے اجماعلی تعارف اس دعوت کا جو حضور اکرم دے رہے ہیں اس لیے یہ دعوت ہر مفہوم اور ہر پہلو کے اعتبار سے زندگی عطا کرنے کی دعوت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ کوئی خفیہ عقیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک عملی نظام ہے اور اس نظام کے سائے میں در اصل انسانیت زندگی اور ترقی حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کہا گیا کہ رسول کی دعوت در اصل تمہیں زندہ کرنے کی دعوت ہے۔ اور یہ ہر میدان میں اور ہر پہلو سے کسی بھی سوسائٹی کو زندہ جاوید کرنے والی ہے۔ قرآن کریم اس عظیم حقیقت کو چند الفاظ میں سمو دیتا ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔
اس کی دعوت پر اس طرح لبیک کہو کہ اس کو بطیب خاطر قبول کرو اور مطیع فرمان بندے بنو۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ تمہیں مجبور کرکے راہ ہدایت پر ڈال سکتا تھا مگر اس نے اس طرح نہیں کیا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ۔ اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت نہایت ہی خوفناک قدرت ہے۔ خود انسان اور اس کے دل و دماغ کے درمیان بھی وہ حائل ہوجاتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اس کی راہ روک دیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ جس طرح چاہتا ہے اس کے رخ کو پھیر دیتا ہے۔ جس شخص کے پہلو میں دل ہوتا ہے اسے اس پر کوئی دسترس حاصل نہیں ہوتی۔
فی الواقعہ یہ ایک خوفناک قدرت ہے اور قرآن کریم اس کا نقشہ کیسے الفاظ میں کھینچتا ہے۔ انسانی طرز تعبیر فی الواقعہ اس قسم کی حسی ، لفظی اور معنوی اور موثر تعبیر سے بالکل عاجز ہے۔
یہ خوفناک تصویر ایک مسلمان کی دائمی بیداری کی ضامن ہے۔ مومن بروقت چوکنا رہتا ہے۔ محتاط رہتا ہے اور اپنے دل کی دھڑکن ، اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کو قابو میں رکھتا ہے۔ وہ ہر قسم کے وسوسے اور ہر برے رجحان کو قابو میں رکھتا ہے تاکہ اس سے لغزش نہ ہوجائے۔ وہ ہر وقت اپنی راہ پر نظر رکھتا ہے کہ اس راہ میں کس کس جگہ ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہے۔ کہاں کہاں وسوسے اور پر کشش مقامات ہیں ، اس لیے کہ ایک مومن اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھتا ہے کہ کسی بھی غفلت کے وقت ، کسی معمولی سی لغزش کے ذریعے ، کسی بھی اقدام کی وجہ سے وہ بھٹک نہ جائے۔
رسول اللہ ﷺ رسول خدا ہونے کے باوجود یہ دعا اکثر اوقات پڑھا کرتے تھے۔
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے ، میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔ اگر رسول اللہ کا حال یہ تھا تو پھر ہم لوگوں کا کیا حال ہوگا جو نہ رسول ہیں اور نہ معصوم ہیں۔
یہ وہ منظر ہے جس سے دل اٹھتے ہیں اور جب ایک مومن اپنے آپ کو قرآنی آیات کا مخاطب پاتا ہے تو اس کا پورا جسم لرز اٹھتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کے پہلو میں اس کا دل بھی اس کا نہیں ہے ، اللہ کے قبضے میں ہے تو پھر اس کی کیا حیثیت ہے ؟ آیت پر ذرا دو بار غور فرمائیں :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے
اس آیت کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ ان کو یہ کہتے ہیں کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ وہ تمہیں بیک کہنے پر مجبور کردیں۔ تم قہراً اس دعوت کو ماننے پر مجبور کیے جاسکتے ہو ، اگر وہ چاہے ، لیکن اللہ تمہیں یہ اعزاز دینا چاہتا ہے کہ تم مطیع فرمان ہو کر اور اپنے ارادے اور اختیار سے اس دعوت کو قبول کرلو۔ تاکہ اس پر تمہیں اجر وثواب ملے اور تمہاری انسانیت کا مقام ایک مجبور کی سطح سے بلند ہوجائے۔ تم انسانیت کے ارفع مقام تک پہنچ جاؤ اور اپنے اختیار سے ہدایت پا لینے والی مخلوق میں داخل ہوجاؤ۔ ایک فہیم اور مدبر مخلوق بن جاؤ، اور اپنے مقصد و ارادے اور علم و معرفت سے اس راہ پر چل نکلو۔
کیونکہ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ” اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤگے “۔ تمہارے دل اس کے ہاتھ میں ہیں۔ تم نے اٹھ کر حشر کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں لیکن اس صورت حالات کے باوجود اللہ تم کو دعوت دیتا ہے کہ تم آزادانہ طور پر اس راہ پر چلو ، مقہور اور مجبور بندے کی صورت میں نہیں۔
Ayah 8:25اس کے بعد اہل ایمان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ کہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کو چھوڑ نہ دیں اور اس دعوت کو چھوڑ نہ دیں جو آب حیات ہے۔ کیونکہ جہاد کا مطلب دنیا سے منکر کو مٹانا ہے ، جو سب کے لیے مضر ہے۔
فتنہ کیا ہے ؟ ابتلا اور مصیبت فتنہ ہے۔ اور وہ سوسائٹی جو اپنے بعض نادانوں کو کسی بھی صورت میں ظلم کرنے دیتی ہے ، اور ظالموں کی راہ نہیں روکتی ان کا مقابلہ نہیں کرتی ، یہ سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پوری کی پوری فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ یاد رہے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوت ڈالنے سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام ایک نظام ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے لیے کفیل ہیں۔ یہ ایک مثبت نظام ہے اور یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے ماننے والے افراد باہم ظلم کریں اور اس سوسائٹی میں فساد پھیلے چہ جائیکہ اس سوسائٹی میں اللہ کا مکمل دین ہی معطل ہو ، بلکہ اللہ کا اقتدار اعلیٰ ، اس کی حاکمیت اور الوہیت کا انکار ہو۔ اس کی جگہ انسانوں کی بندگی قائم ہو اور یہ سوسائٹی خاموش رہے اور پھر یہ توقع بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو فتنے اور مصیبت سے بچائے گا۔ اس لیے کہ ذاتی طور پر وہ صالح ہیں۔
Ayah 8:26ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے چونکہ جانی اور مالی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے قرآن کریم اپنی مخاطب پہلی جماعت مسلمہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ تم یاد کرو کہ تم ضعیف تھے اور سازوسامان کے اعتبار سے قلیل تھے۔ تم مصائب سے دوچار تھے اور ہر وقت تم پر خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی ، لیکن دعوت اسلامی کی پناہ میں تم آئے تو تم معزز مالدار اور رزق طیب کے مالک بن گئے۔ لہذا تم اس دعوت کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ جس میں تمہارے لیے آب حیات ہے ، جو اللہ کا عطیہ ہے اور اللہ ہی اس کا حامی ہے۔
وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو
اپنی یہ پوزیشن یاد کرو تاکہ تمہیں یہ یقین آجائے کہ دعوت اسلامی در حقیت آب حیات ہے۔ یہ یاد رکھتے جاؤ تاکہ دعوت اسلامی کی راہ میں جدوجہد کرنے اور مشکلات کو انگیز کرنے سے تم رک نہ جاؤ۔ ذرا اپنے ایام ضعف اور خوف کو یاد کرو۔ اب تو اللہ نے حکم دے دیا ہے کہ تم مشرکین کے ساتھ لڑو اور رسول نے تمہیں مشورہ دیا کہ قریش کے مسلح لشکر سے لڑو اور تم اس دعوت کو پسند نہیں کرتے لیکن مکہ کے وہ دن بھی یاد کرو کہ تمہیں ہر طرف سے خطرات لاحق ہوتے تھے اور اب تم انقلابی ، فاتح ، اجر اخروی کے مستحق اور رزق حسن کے پانے والے ہو۔ کیا اچھے اچھے سامان خوراک تمہیں دے دیے گئے ہیں۔ تم اس پر اللہ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔
ھالت خوف اور ضعف کی تعبیر قرآن نے ان الفاط میں کی ہے۔ تخافون ان یتخطفکم الناس۔ تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں کوئی شخص کسی بھی وقت نازل ہونے والی مصیبت کا انتظار کر رہا ہو۔ وہ حالت خوف میں کسی بھی وقوعہ کا انتظار کر رہا ہو ، گویا وہ اپنی آنکھوں سے آنے والی مصیبت کو دیکھ رہا ہو۔ خوفناک ہلچل میں اس کی آنکھیں بےقرار ہیں۔ نظر آتا ہے کہ خوفناک ہاتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ہے جو خوفناک حالت میں دبکی بیٹھی ہے۔
اس خوفناک منظر سے تمہیں نکال کر امن ، فتح و نصرت اور عیش و عشرت اور سازوسامان کی زندگی میں لاای گیا ، اللہ کے سائے میں اور اللہ کی حمایت میں فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ” پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی۔ اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا شاید کہ تم شکر گزار بنو “
اور اللہ کی یہ راہنمائی ان کے شامل حال رہی تاکہ وہ شکر بجا لائیں اور اجر آئیں لعلکم تشکرون ” شاید کہ تم شکر گزار بنو “ کون ہے جو اس عظیم انقلاب پر غور و تامل کرے اور پھر اس مضبوط ، پر امن اور مکمل آواز پر لبیک نہ کہے یعنی حضرت نبی ﷺ کی پکار پر ، اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات و اکرامات اس کی جانب سے نصرت و امداد اور اس کے ان مناظر پر غور کرے جو قرآن کریم میں پیش کیے گئے اور ان پر لبیک نہ کہے۔ اس لیے ان مناظر میں نہایت ہی قوی اثرات ہیں اور سامع کے لیے واضح اشارات و ہدایات ہیں۔
پھر جماعت مسلمہ کا یہ پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا ، جو بذات خود ان حالات سے عملاً گزرا تھا اور سختی و ترشی اور فراوانی اور امن کے یہ دونوں مناطر ان کے پردہ خیال پر تازہ تھے۔ وہ اپنے ماضی اور حال سے اچھی طرح باخبر تھے۔ اور اس طرح قرآن کریم کی یہ پکار ان پر زیادہ اثرات چھوڑتی تھی۔
آج کی ہر اسلامی تحریک جس کے پیش نظر یہ نصب العین ہو کہ اس نے مسلمانوں کی زندگیوں میں اس دین کو عملاً زندہ کرنا ہے اور اس کرہ ارض پر اس کے مطابق اجتماعی نظام قائم کرنا ہے۔ اگرچہ وہ ان دو مراحل سے عملاً نہ گزر رہی ہو اور اس نے عملاً یہ دو حالات نہ بھی دیکھے ہوں۔ لیکن قرآن کریم اس سے بھی یہی خطاب کر رہا ہے اور آج ہم اللہ کے اس قول کے مصداق ہیں : اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ. یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ لہذا آج کی تحریک اسلامی کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس دعوت حیات جدید پر لبیک کہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ دعوت دے رہے ہیں اور نہایت ہی یقین اور اعتماد کے ساتھ اس وقت کا انتظار کریں جس میں اللہ کا سچا وعدہ سامنے آئے گا۔ جو اس نے پہلی تحریک اسلامی کے ساتھ کیا تھا اور وہ پورا ہوا تھا۔ یہی وعدہ ہے اس کا ہر اس تحریک کے لیے جو اللہ کے نام برپا ہو اور جو اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرے اور اس انجام کا انتظار کرے۔
فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو۔
ظاہری حالت نظر فریب ہوتے ہیں لیکن تحریک اسلامی کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرتی ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا ہوتا ہے۔ اور اس تحریک اسلامی کے حق میں ہوتا ہے جس کا نصب العین اسلامی انقلاب برپا کرنا ہوتا ہے۔
Ayah 8:27اب پھر اہل ایمان کو دوبارہ پکارا جاتا ہے۔ انسان کے مالی حالات معاملات اور اس کی اولاد کے مفادات بعض اوقات انسان کو خوف اور بخل کی وجہ سے جدوجہد کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جس زندگی کی طرف رسول اللہ دعوت دے رہے ہیں وہ ایک باعز زندگی ہے اور اس زندگی کے حصول کی راہ میں مشکلات لازماً پیش آتی ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ لہذا قرآن کریم ان کمزوریوں کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کو فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس طرح فتنہ ہیں کہ ان سے انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ اس امتحان اور آزمائش سے گزرنا مشکل کام ہے۔ ان کی وجہ سے دعوت جہاد سے انسان رک جتا ہے اور امانت ، عہد اور بیعت کے تقاضوں وک پورا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے۔ لہذا تم خبردار رہو کہ جہاد سے پیچھے رہ جانا رسول اللہ سے غداری ہے اور اس امانت سے غداری اور اس میں خیانت ہے جو مسلمانوں کے سپرد کی گئی ہے یعنی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اور قیام حاکمیت الہیہ اور لوگوں کو سچائی اور انسان کی دعوت اور ان کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر عطیم ہے ، اس تحریک جہاد پر وہ مال اور اولاد سے زیادہ قیمتی ہے۔
اس کرہ ارض پر امت مسلمہ کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں ، ان کو ترک کرنا اور ان سے دست بردار ہوجانا خدا اور رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ اسلام کی اساس کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک حاکم ہے۔ اور یہ حاکمیت اس شکل میں ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علی ہوسلم نے پیش کی۔ انسانوں نے اپنی پوری تاریخ میں کسی وقت بھی ذات باری سے بالکل انکار نہیں کیا بلکہ انسان یہ غلطی کرتے رہے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے رہے ہیں۔ کبھی تو یہ شراکت محدود پیمانے پر اعتقادات اور عبادات میں ہوتی ہے اور کبھی نہایت ہی وسیع پیمانے پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور حق حاکمیت میں بھی ہوتی ہے۔ اور یہ دوسری صورت عظیم شرک کی صورت ہے لہذا اسلام کے سامنے کبھی یہ مسئلہ اہم نہیں رہا ہے کہ لوگ خدا کو تسلیم کریں اور ان کو یہ دعوت دی جائے کہ خدا موجود ہے ، بلکہ مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور اسے اس حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کرہ ارض پر حق حاکمیت بھی صرف اسے حاصل ہے اور جس طرح تمام لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اس کائنات کا حاکم اللہ ہے ، اسی طرح وہ یہ اقرار بھی کریں کہ زمین پر بھی وہ الہ ہے۔ اور آسمان پر بھی ھوالذی فی السماٗ الہ و فی الارض الہ۔ اللہ وہ ہے جو آسمانوں پر بھی الہ ہے ، اور زمین پر بھی الہ ہے “۔ یہ ہے اصل قضیہ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کا پیغام لانے والے ہیں لہذا رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
یہ ہے دین اسلام کا اصل مسئلہ یعنی نظریات جن کا دل دماغ میں جاگزیں ہونا ضروری ہے اور وہ عملی جد وجہد جس کے ذریعے اس کرہ ارض پر عملی نظام قائم کیا جائے۔ لہذا ان مقاصد سے دستکش ہونا خیانت ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہاں متنبہ کرتے ہیں کہ تم ہر گز انمقاصد سے دستکش نہ ہونا۔ یہ خیانت تصور ہوگی۔ لہذا جو گروہ اپنے اس نظریہ کا اعلان کردے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے لیے جدوجہد کرے۔ اس راہ میں جو جہاد اور اس کی مشکلات ییش آئیں انہیں برداشت کرے۔ چاہے مال دینا پڑے ، چاہے اولاد کو قربان کرنا پڑے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اس امانت میں خیانت کرنے سے بھی مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے جس کے وہ اس وقت سے حامل ہیں جب سے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا ہے ، کیونکہ اسلام صرف چند کلمات سے عبارت نہیں ہے جن کو جس زبان سے ادا کردیا جائے ، اور نہ چند عبادات اور دعاؤں کا نام ہے بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ اس کے قیام کی راہ میں بڑی بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسلام در حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی پوری عملی زندگی کو کلمہ طیبہ کے اصولوں پر استوار کردے۔ اور لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ انسانی معاشرے کو اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون اور اخلاقی نظام کی طرف لوٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کو رد کردیا جائے جو اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں۔ اپنی الوہیت قائم کرتے ہیں اور اس نظام میں لوگوں کے درمیان مکمل عدل اور انصاف نافذ کیا جائے اور کرہ ارض پر انسان فریضہ خلافت الہیہ ادا کرتے ہوئے یہ سب کچھ کرے۔
یہ ہیں وہ فرائض جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں اور جو ان کو ادا نہیں کرتا وہ گویا خائن ہے۔ وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیعت کو توڑ رہا ہے اور اس میں خیانت کر رہا ہے۔
اور یہ فرائض کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتے ہیں ، ان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان مال اور اولاد کے فتنوں اور آزمائشوں میں کامیاب نکلے اور اس کا نصب العین رضائے الہی اور اجر اخروی ہو ، جو عظیم اجر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے محفوظ ہے جو امین ہیں ، صابرین ہیں ، قربانیاں دینے والے ہیں اور آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔
Ayah 8:28قرآن کریم انسانی حقیقت سے مخاطب ہے۔ کیونکہ خالق کائنات انسان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے اس کی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا علم ہے۔ وہ اس راہ کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہے۔
وہ اس مخلوق کے کمزور پہلوؤں سے بھی واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ مال کے لالچ اور اولاد کے مفادات اس کی ذات میں رچے بسے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسان کو خبردار کرتا ہے کہ مال و اولاد کی حقیقت کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ دو محبوب عطیات اس کی آزمائش کے لیے دیے ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور آزمائش ہیں۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ مال اور اولاد میں کس طرح تصرف کرتا ہے۔ آیا شکر ادا کرکے حق نعمت پورا کرتا ہے یا غفلت اور نافرمانی کرتا ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ اور ہم تم کو خیر و شر کے ذریعے آزما کر فتنے میں ڈالتے ہیں۔ فتنہ فقط مشکلات اور محرومیت کی شکل ہی میں نہیں آتا بلکہ یہ خوشحالی اور اللہ کے عطیات کی شکل میں بھی آتا ہے اور مال و اولاد کی شکل میں بھی آزمائشیں آتی ہیں۔
یہ نہایت ہی اہم تنبیہ ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ : اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جب انسان کو دل سے یہ معلوم ہوجائے کہ کس بات سے اس کا امتحان لیا جا رہا ہے تو یہ بات اس کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے تاکہ وہ بیدار رہے اور محتاط رویہ اختیار کرے۔ یہ نہ ہو کہ امتحان میں اس سے بھول چوک ہوجائے اور وہ امتحان میں پیچھے رہ جائے۔
لیکن اس امتحان میں بھی اللہ بندے کو بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان امتحان میں فیل بھی ہوسکتا ہے۔ باوجود انتباہات کے ۔ اس لیے کہ اس راہ کی مشکلات بہت زیادہ ہیں ، خصوصا جب معاملہ مال اور اولاد کا درپیش ہو لہذا اللہ انسان کو یہ روشنی دکھاتا ہے۔ مال و اولاد کے مقابلے میں اللہ کا اخروی اجر عظیم یہی تو ہے۔
وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ مال اور دولت دینے والا تو اللہ ہی ہے اور اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ اولاد اور دنیاوی مال سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہذا کوئی شخص بھی اس امانت کبریٰ کے حق ادا کرنے سے پیچھے نہ رہے اور یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا تعاون ہے۔ اس ضعیف انسان کے ساتھ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ خلق الانسان ضعیفا ” اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے “۔
غرض اسلامی نظام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں اعتقادات و تصورات بھی ہیں ، اس میں ہدایت و تربیت کے سامان بھی ہیں ، اس میں رائض و واجبات بھی ہیں۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے اور اللہ علیم وخبیر ہے۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ لطیف وخبیر بھی ہے۔
Ayah 8:29اب اہل ایمان کے نام یہ آخری پکار ہے اور اس سبق کے آخیر میں ہے۔ یہ پکار اس خاطر ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس لیے کہ اس عظیم ذمہ داری کا حق صرف وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے اندر نور تقویٰ ہو اور اس کے ذریعے وہ شیطانی شبہات اور وسوسوں کا مقابلہ کرسکیں اور اس راہ پر ان کے قدم مضبوط ہوں اور ان کو یہ فکر یکسوئی تب ہی نصیب ہوسکتی ہے جب وہ تقوی کے ذریعے حاصل کردہ ربانی نورانیت اور روشنی کو کام میں لائیں۔
یہ ہے زاد راہ اور حقیقی سامان سفر۔ زاد تقوی جو دلوں کو زندہ کرتا ہے ان کو بیدار کرتا ہے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے دلوں کے اندر احتیاط اور بیداری پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان کو ایسا نور بصیرت ملتا ہے جس کی وجہ سے اس راہ کے نشیب و فراز سب روشن ہوجاتے ہیں۔ انسانی سوچ پر ان شبہات و وساوس کا اثر نہیں ہے جن کی وجہ سے راہ تاریک ہوجاتی ہے نیز تقوی کی وجہ سے انسان کو اس کی کوتاہیوں پر معافی بھی مل جاتی ہے۔ اور انسان کی زندگی میں سنجیدگی اور ثبات پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان پر امید ہوتا ہے اور مشکلات اور تقصیرات کی وجہ سے وہ مایوس نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ کی وجہ سے انسان کے دل میں وہ دو ٹوک بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی راہ کی مشکلات میں صحیح فیصلے کرسکتا ہے۔ لیکن یہ وہ حقیقت ہے کہ تمام روحانی تجربات کی طرح اس کو بھی عملاً اپنانے کے بعد ہی اس کی پوری ماہیت انسان پر منکشف ہوتی ہے۔ صرف کلام وبیان سے اس کی ماہیت کو پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ان لوگوں پر جن کا کوئی ذوق ہی نہ ہو۔
بعض امور حسن اور عمل کے درمیان پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اور انسان کی فکر و نظر ہمیشہ جادہ حق کی نشاندہی میں پیچیدگی کا شکار رہی ہے۔ زندگی کی اہم راہوں پر انسان حق و باطل کے اندر مشکل سے تمیز کرسکتا ہے۔ بڑے بڑے دلائل بھی انسان کو اطمینان قلبی عطا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ آخر کار خاموشی چھا جاتی ہے اور قلب و نظر مطمئن نہیں ہوتے۔ دلائل وبراہین کا یہ جدل وجدال بےفائدہ ہوتا ہے لیکن آخر کار تقوی ہی سامنے آتا ہے۔ تقوی کے ذریعہ ہی عقل کو روشنی ملتی ہے۔ تقوی ہی حق کی شکل و صورت وضع کرتا ہے اور راستہ منکشف ہوتا ہے ، دل مطمئن ہوتا ہے ، ضمیر کے اندر استراحت آجاتی ہے اور قدم جم جاتے اور انسان راستے پر چل نکلتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بذات خود سچائی فطرت سے اوجھل نہیں ہوتی ، فطرت کی بنا اور تعمیر سچائی پر ہے اور اس سچائی ہی کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے لیکن انسانی خواہشات سچائی اور فطرت کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں۔ ذاتی خواہشات فضا میں آلودگی پیدا کردیتی ہیں اور انسان کی حقیقی نظر کام نہیں کرتی اور انسان کو جادہ حق نظر نہیں آتا۔ محض دلیل وبرہان سے ذاتی خواہشات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی ہے جس کے ذریعے خواہشات کو دبایا جاسکتا ہے۔ اور خوف خدا اور تقویٰ بروقت اپنا کام کرتے ہیں۔ خفیہ حالت میں بھی اور اعلانیہ حالات میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو مبداء فرقان بتایا گیا ہے جس سے بصیرت منور ہوتی ہے اور ہر قسم کا التباس اور شک دور ہوجاتا ہے۔
یہ وہ قوت اور صلاحیت ہے جو بازار سے خریدی نہیں جاسکتی۔ یہ اللہ کا فضل عظیم ہی ہوتا ہے جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور اس فضل عظیم ہی کے نتیجے میں خطائیں معاف ہوتی ہیں۔ اور یہ وہ عمومی بخشش ہے جو رب العالمین اپنے خصوصی کرم سے جس پر چاہتا ہے ، کردیتا ہے۔
Ayah 8:30درس نمبر 84 ایک نظر میں
اس سورة میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے۔ حالات حاضرہ پر تبصرہ واقعات ماضی کی روشنی میں جاری ہے۔ امت مسلمہ کے سامنے اس عظیم فتح کی تصویر کشی کرکے بتایا جاتا ہے کہ ذرا سوچو کہ تمہارا حال تمہارے ماضی کے مقابلے میں کس قدر بدل چکا ہے۔ کس قدر عظیم انقلاب چشم زدن میں برپا کردیا گیا ہے لیکن یہ کیونکر ہوا۔۔۔ ؟ محض فضل ربی اور تدبیر الہی کے ذریعے۔ اس عظیم انقلاب کو دیکھو ! اس کے مقابلے میں اموال و غنائم کس قدر حقیر ہیں۔ نیز تم نے جو قربانیاں دیں اور جو مشقتیں اٹھائیں وہ تمہیں تو بہت بڑی نظر آتی ہوں گی مگر اب نتائج کے مقابلے میں کس قدر حقیر ہیں۔
درس سابق میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ مکہ میں مسلمانوں کے حالات کس قدر خراب رہتے تھے ، اس جنگ سے قبل مدینہ میں بھی تمہاری پوزیشن کچھ اچھی نہ تھی۔ تم قلیل و ضعیف تھے۔ تم ہر وقت خطرات میں گھرے ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ مدینہ میں آ کر تم مامومن ہوئے اور اس جنگ اور نصرت کے بعد ، محض تدبیر الہی سے تم عزیز اور مقتدر ہوگئے۔
اس سبق میں مشرکین کے موقف کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تمہارے خلاف چالیں چل رہے تھے۔ ہجرت سے قدرے پہلے اور یہ دعوے کرتے تھے کہ یہ شخص جو آیات الہی پڑھتا ہے اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام گھڑ سکتے ہیں اور وہ بغض وعناد میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ عذاب الہی کا خود مقابلہ کرنے لگے کہ اگر دعوت اسلامی حق ہے تو ہم پر عذاب آجائے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے کے لیے اپنی قیمتی دولت بھی فضول خرچ کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن یہ دنیا میں ناکام ہوں گے۔ اور آخرت میں جہنم کا ایندھن ہوں گے نیز دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے سے دوچار ہوں گے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ کافروں سے بات کرکے ان کو یہ اختیار دیں کہ وہ دو امور میں سے ایک کو قبول کرلیں۔ یا تو وہ کفر ، عناد اور اللہ اور رسول کے خلاف صف آرائی سے باز آجائیں ، اگر وہ ایسا کریں تو اللہ ان کی سابقہ کو تاہیاں جو دور جاہلیت میں کی گئیں ان کو معاف کردے گا۔ یا وہ لوٹ کر اس حالت میں چلے جائیں جس میں وہ تھے اور اس برے انجام سے دوچار ہوں جو ہر اس شخص کو نصیب ہوا جس نے اس راہ کو اختیار کیا۔ تب ان پر اللہ کی وہی سنت جاری ہوگی جس کا اللہ ارادہ کریں اور جس میں اس کی رضا ہو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان کفار کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رکھیں یہاں تک کہ کفار کے ہاتھ میں ایسی قوت نہ رہے جس میں مسلمانوں کے لیے خطرہ ہو۔ اس جہاں پر اللہ کی الوہیت قائم ہوجائے اور دین پر اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔ اگر وہ سر تسلیم خم کردیں تو حضور ان سے یہ قبول کرلیں گے۔ رہی ان کی نیت تو اس پر معاملہ اللہ کے ہاں ہوگا۔ کیو کہ اللہ خبیر وبصیر ہے۔ اگر وہ روگردانی کریں ، اسلام کے خلاف یہ جنگ جاری رکھیں اور اسلام کے خلاف ان کے بغض وعناد کا یہی عالم رہے اور اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف نہ کریں اور اللہ کے اقتدار اعلیٰ کے سانے نہ جھکیں تو مسلمان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ اس میں وہ صرف اللہ پر بھروسہ کریں گے جو ان کا سرپرست ہے۔ وہ اچھا سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔
درس نمبر 84 تشریح آیات : 30 ۔۔ تا۔۔ 40
تفسیر آیت 30 ۔
وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ۔ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔
اب حالات مکہ معظمہ کی اسکرین پر لائے جاتے ہیں ، جبکہ حالات کے اندر وہ انقلاب برپا نہ ہوا تھا جواب ہوچکا ہے۔ اہل مکہ اپنے موقف پر سختی سے جمے ہوئے تھے مقصد یہ ہے کہ حالات بہت اچھے رخ پر جا رہے ہیں اور مستقبل تابناک ہے ، لیکن اس میں تمہارا کوئی ذاتی کمال نہیں ہے یہ تو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کی کارستانیاں ہیں۔ دنیا میں وہی کچھ ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ ابتداء میں جن لوگوں کو مخاطب کیا جا رہا تھا وہ تو حالات کے ان دونوں ادوار کو اچھی طرح جانتے تھے کیونکہ وہ ان ادوار سے ہوکر گزرے تھے۔ ان کے لیے تو سابقہ دور ماضی قریب تھا اور اس دور میں وہ جس خوف قلق میں مبتلا تھے وہ انہیں اچھی طرح یاد تھا حال میں جو اطمینان تھا وہ ان کے سامنے تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا مکاریاں کی گئی تھیں اور کی جا رہی ہیں اور کس طرح وہ ان میں سے کامیاب ہوکر گزرے ہیں۔ انہوں نے مشکلات سے نجات ہی نہیں پائی بلکہ ان میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
ان کی تدبیر یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو قید کرکے بیڑیاں پہنا دیں یہاں تک کہ وہ رحلت کر جائیں یا انہیں قتل کردیں یا آپ کو مکہ سے خارج کردیں۔ انہوں نے ان تمام تجاویز پر غور کیا تھا اور آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ آپ کو قتل ہی کردیں۔ اس کام کو تمام قبائل کے نوجوان سر انجام دیں تاکہ آپ کا کون تمام قبائل پر منقسم ہوجائے۔ بنو ہاشم آپ کا بدلہ نہ لے سکیں آخر کار دیت پر راضی ہوجائیں۔
امام احمد نے روایت کی ہے۔ عبدالرزاق سے ، معمر سے ، عثمان جریر سے ، ۔۔ مولی عباس سے ، کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ و اذ یمکر بک کی تفسیر یہ ہے کہ ایک رات قریش نے مکہ میں باہم مشورہ کیا تو بعض نے کہا کہ جب وہ صبح نکلیں تو انہیں باندھ دیں یعنی نبی ﷺ کے بارے میں۔ بعض نے کہا اسے قتل کردیا جائے ، بعض نے کہا کہ انہیں جلا وطن کردیا جائے۔ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضرت علی رات کو آپ کے بستر پر سوئے اور حضور نکل کر غار میں چھپ گئے لیکن مشرکین رات کو حضور کی چوکی کرتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ حملہ آور ہوئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بستر پر حضرت علی سوئے ہوئے ہیں اور اللہ نے ان کی اس تدبیر کو ان پر الٹ دیا ہے تو انہوں نے حضرت علی پوچھا کہ تمہارے صاحب کہاں ہیں تو حضرت علی نے فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے “۔ چناچہ انہوں نے آپ کی پتہ براری شروع کی اور نقش قدم پر چل پڑے۔ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان سے آپ کے قدموں کے آثار خلط ملط ہوگئے۔ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے ، غار کے اوپر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دروازے پر عنکبوت نے تانا بانا بن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہاں داخل ہوئے ہوتے تو یہاں عنکبوت کا جالا نہ ہوتا۔ چناچہ حضور نے وہاں تین راتیں گزر دیں۔
وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : ” وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا ، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے “۔ قرآن نے ان حالات کو جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ نہایت ہی موثر ہیں جس سے قریش کی مجلس کا نقشہ ذہن میں آجاتا ہے ان کی تدابیر ، تجاویز اور چالیں سامنے آتی ہیں لیکن اللہ ان پر محیط ہے۔ ان کے معاملے میں اللہ کی چالیں سامنے آتی ہیں اور ان کی وجہ سے مشرکین کی تمام چالیں خاک میں مل جاتی ہیں لیکن انہیں آخر دم تک اس کا شعور ہی نہیں ہوتا۔
یہ نہایت ہی مسحور کن تصویر کشی ہے ، اور نہایت خوفناک بھی ، کیونکہ کمزور انسان قادر مطلق کے مقابلے میں کر ہی کیا سکتے ہیں۔ اللہ قہار و جبار ہے اور ہر چیز پر محیط ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو اپنے مخصوص انداز و طرز پر بیان کرتا ہے کہ اسے پڑھ کر دل لرز اٹھتے ہیں اور انسانی شعور گہرائیوں تک متاثر ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:31اب یہاں سے آگے سیاق کلام میں کفار کے افعال اور احوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کے دعوے اور ان کے اعترافات کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی یہاں ریکارڈ کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس قسم کا کلام پیش کرسکتے ہیں جبکہ یہ قرآن ان کے زعم میں محض پرانے قصوں پر مشتمل کتاب ہے۔
علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سعید ، سدی اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر ابن الحارث تھا۔ ” یہ ملعون فارس کے علاقوں میں پھرتا رہا تھا۔ اس نے ملوک فارس کی تاریخ اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب وہ فارس سے واپس ہوا تو حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تھی اور آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ کسی مجلس سے تبلیغ کرکے اٹھتے تو وہاں نضر ابن الحارث پہنچ جاتا اور لوگوں کو یہ قصے سناتا اور کہتا تمہیں خدا کی قسم سچ کہو ہم میں سے کن اچھا قصہ گو ہے۔ میں یا محمد ؟ جب بدر کی جنگ پیش آئی تو اللہ نے اسے گرفتار کیا۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ میرے سامنے اس کی گردن اڑا دی جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اسے مقداد ابن الاسود نے گرفتار کیا تھا۔ اس بارے میں ابن جریر محمد ابن بشار سے محمد ابن جعفر سے ، شعبہ سے ، ابو بشر سے ، سعید ابن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن ، عقبہ بن ابومعیط ، طعیمہ ابن عدی اور نضر ابن الحارث کی گردن اڑانے کا حکم دیا تھا۔ مقداد نے نضر کو گرفتار کیا تھا۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کے احکام صادر کیے تو حضرت مقداد نے کہا ” رسول اللہ ، یہ تو میرا قیدی ہے “ اس پر حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس پر دوبارہ حضرت مقداد نے کہا حضور یہ میرا قیدی ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ مقداد کو اپنے فضل سے غنی بنا دے “ اس پر حضرت مقداد نے کہا ” یہی تو میں چاہتا تھا “۔ کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ۔ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھی تو کہتے تھے کہ ” ہاں سن لیا ہم نے ، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں “۔
قرآن کریم میں مشرکین کی اس بات کو بار بار لایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں :
قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصلیا۔ وہ کہتے ہیں یہ پرانی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور یہ صبح شام اسے لکھوائی جاتی ہیں “۔
یہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو وہ قرآن کی انقلابی تعلیمات کے مقابلے میں کھڑی کرتے تھے ، حالانکہ قرآن کریم کا خطاب فطرت انسانی سے تھا اور یہ کلمات انسانی فطرت پر ایسا اثر کرتے تھے کہ وہ جھوم اٹھتی اور لبیک کہتی ۔ جب دلوں پر یہ کلمات پڑتے تو وہ لرز اٹھتے اور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکتے۔ چناچہ اس کلام کے مقابلے میں قریش کے لیڈر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے۔ لیکن وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ چالیں کارگر نہ ہوں گی۔ بہرحال انہوں نے کلام الہی میں ایک ایسی چیز تلاش کرلی جو ان کی پرانی کہانیوں کے مشابہ تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے جاہل عربوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس انقلابی تحریک سے متاثر نہ ہوجائیں اور عوام جس طرح ان کبراء کی غلامی میں چلے آ رہے تھے ، بدستور چلتے رہیں۔
قریش کے لیڈر یہ بھی جانتے تھے کہ دعوت اسلامی کی حقیقت کیا ہے ، وہ عرب تھے اور قرآن کے مضامین سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم و رماد کیا ہے ؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ شہادت دینے والا تمام انسانوں کے اقتدار اور حاکمیت کا انکار کر رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تمام انسانوں کی حاکمیت سے نکال رہا ہے اور یہ اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے نہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج کے بعد وہ ہر قسم کی ہدایات رسول اللہ ﷺ سے اخذ کرے گا۔ اب وہ ان لوگوں سے کوئی ہدایت نہ لے گا جو بتوں کے نام پر بات کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو لوگ یہ شہادت دے دیں وہ کلمہ پڑھتے ہی ریش کی غلامی ، ان کے اثر اور ان کے اقتدار سے کل جاتے ہیں وہ اس اجتماعی نظام کے کل پرزے بن جاتے ہیں جس کی قیادت حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ حضور کی قیادت و سیادت کے تابع اور مطیع ہوجاتے ہیں۔ خواہ وہ جس قبیلے کے افراد ہوں ان کا تعلق ولدیت اور معاشرت اس قبیلے سے ختم ہوجاتا ہے اور وہ جدید قیادت کے وفادار اور ذمہ دار بن جاتے ہیں جس کا نام قیادت محمدی ہے۔
یہ تھا کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم۔ یہ مفہوم انہوں نے مکہ کی گلیوں میں چلتا پھرتا دیکھا تھا۔ وہ رات دن اس مفہوم سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا اجتماعی نظام ، ان کا قبائلی وجود اور ان کی قیادت و سیادت انہیں ختم ہوتی نظر آتی تھی۔
لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا وہ کمزور ، بےمقصد اور بےاثر مفہوم کبھی بھی نہ تھا جو آج ہم اس کلمے سے سمجھتے ہیں یہ زعم رکھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ محض اس لیے کہ ہم زبان سے کلمہ شہادت کو ادا کر رہے ہیں ار بعض مراسم عبودیت بھی بجا لاتے ہیں جبکہ زمین پر اقتدار اعلیٰ اور لوگوں کی زندگیوں میں اسلامی نظام کا اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے پر جاہلی قیادتیں اور جاہلیت کے پیروکار سربراہ حکمران ہیں اور اپنی مرضی سے تمام امور سر انجام دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مکہ میں نہ تو اسلام کی حکومت نہیں ور نہ وہاں شریعت نافذ تھی۔ لیکن جو لوگ کلمہ طیبہ کا اقرار کرتے تھے وہ اپنی پوری قیادت و اختیارات حضور ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتے تھے اور ان کی وفاداریاں خود اپنے معاشرے سے کٹ کر جماعت مسلمہ کے ساتھ وابستہ ہوجاتی تھیں۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ جاہلی قیادت کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکتے تھے بلکہ یہ جاہلی اقدار سے باغی ہوجاتے تھے۔ اپنے قبیلے ، اپنے خاندان اور جاہلی قیادت سے فوراً کٹ جاتے تھے وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کی طرف سے کلمہ طیبہ محض خالی خولی بات ہی نہ تھی بلکہ وہ ایک مفہوم تھا اور وہ مفہوم جماعت مسلمہ کی زنگیوں میں نمودار ہوا کرتا تھا۔
یہ تھی وہ اصل بات جس سے قریش خوفزدہ تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ اسلام سیلاب کی طرح امنڈتا چلا آرہا ہے۔ اس سے قبل حنفاء کی بھی ایک جماعت تھی مشرکین کے عقائد اور اعمال سے علیحدہ رہتے تھے اور ان کی طرح عبادت بھی نہ کرتے تھے۔ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھتے تھے ، صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا۔ یہاں تک تو جو شخص جو رویہ چاہے اختیار کرے کوئی جاہلی نظام اسے نہ چھیڑے گا کیونکہ اس قدر رویہ اہل جاہلیت کے نظام کے لیے کوئی خطرہ نہ تھا۔ یہ تو محض مخالفانہ عقائد تھے اور ایک علیحدہ طریقہ عبادت تھا لیکن صرف یہ اسلام نہیں ہے جیسا کہ بعض پاکباز اور بھلائی پسند لوگ سمجھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے مسلمان بن گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھولے بھالے لوگ ہیں اور انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ اسلام صرف درست کلمہ کی تلاوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک تحریک کا نام بھی ہے اور تحریک یہ کہ انسان فوراً جاہلی تصورات اور جاہلی معاشرے اور جاہلی قیادت کی گرفت سے باہر نکل آئے اور جاہلی قیادت کے قوانین و شریعت سے نکل کر اپنی پوری وفاداری کو اسلامی قیادت کے ساتھ وابستہ کردے جو کسی خطہ زمین پر اسلام کو عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ بات تھی جس کی وجہ سے قریش کے کبراٗ کی نیند حرام تھی اور وہ کانٹوں پر لوٹ رہے تھے۔ اور تحریک اسلامی کے خلاف قسم قسم کے حربے لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ان حربوں میں سے ایک حربہ یہ بھی تھا کہ قرآن کریم کے بارے میں یہ شکوک پھیلائے جائیں کہ یہ پرانی کہانیاں ہی تو ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ایسی کہانیاں تصنیف کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل قرآن نے ان کو بار بار چیلنج دیا تھا اور وہ ایسا کوئی کلام پشی کرنے سے عاجز ہوگئے تھے۔ اساطیر کا واحد اسطورہ ہے۔ اس سے مراد وہ قصص ہیں جن کے اندر مذہبی خرافات بھی ہوں یعنی خداؤں کی کہانیاں ، پرانے لوگوں کے قصے ، اور مذہبی لیڈروں کی بہادریاں اور ایسے محیر العقول واقعات جو تخیلات پر مشتمل ہوں ، تخیل ان قصوں کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔
قریش قرآن کریم میں بیان کردہ اقوام سابقہ کے قصص کی نشاندہی کرکے ، ان میں سے معجزات کو لیتے اور اللہ تعالیٰ نے سابقہ زمانوں میں جھٹلانے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ واقعات لیتے اور مکہ کے غافل اور جاہل لوگوں کو یہ باور کراتے کہ تم خود پڑھو ، یہ پرانے قصے ہیں۔ یہ قصص محمد نے ان لوگوں سے اخذ کیے ہیں جو اس میدان کے باہر ہیں۔ اور مہارین سے لے کر وہ یہاں آ کر تمہارے سامنے پڑھتا ہے۔ اور یقین یہ رکھتا ہے کہ یہ اس پر وحی ہوتے ہیں۔ یوں نضر ابن الحارث خود رسول اللہ کی مجلس میں بیٹھ کر یہ باتیں کرتا یا حضور کی مجلس کے بالمقابل اپنی مجلس جماتا اور اس میں ایسی باتیں کرتا۔ اس میں اہل فارس کے پرانے تاریخی قصے بیان کرتا اور پھر لوگوں کو کہتا یہ دیکھو یہ بھی ویسے ہی قصص ہیں جیسے قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ دیکھو ان قصوں کے بل بوتے پر وہ نبوت کا مدعی ہے اور میں یہ دعوی نہیں کرتا لیکن ہیں یہ دونوں صرف پرانے قصے۔
یہ تھی اس ملعون کی تقریر اور ضروری ہے کہ مکہ کے حلقوں میں خصوصاً ابتدائی دور میں ضرور اس کے کچھ اثرات بھی ہوں گے۔ اس ابتدائی دور میں جس میں ابھی تک قرآن کریم کے قصص اور فارس والوں کی پرانی کہانیوں کے درمیان فرق و امتیاز لوگوں کے ذہنوں میں واضح نہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کے منادی نے معرکہ بدر سے قدرے پہلی یہ اعلان کروا دیا تھا کہ نضر ابن الحارث بچنے نہ پائے اور قتل کردیا جائے اور جب وہ اسیر ہو کر آیا تو آپ نے اسے قتل کرادیا اور اس سے فدیہ قبول نہ کیا جس طرح دوسرے قیدیوں سے قبول کیا تھا۔
لیکن ابتدائی حملے کے بعد مکہ میں یہ سب تدابیر بیکار ہوگئیں ، یہ اندر مخالفت جلد ہی ختم ہوگیا۔ اور لوگوں پر اس کی حقیقت کھل گئی۔ قرآن کریم کی چھا جانے والی قوت جو اسے اللہ کی جانب سے دی گئی ہے اور وہ قوت جو اس کے اندر پیش کردہ سچائی کے اندر پوشیدہ ہے وہ انسانی فطرت کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ چناچہ اس کے مقابلے میں جلد ہی اس قسم کے ہتھکنڈے فیل ہوگئے اور اس کے مقابلے میں جلد ہی میدان صاف تھا۔ اب قریش حیرانی و رپیشانی کی حالت میں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلے تو وہ لوگوں کو دعوت موازنہ دیتے تھے۔ اب کہنے لگے لا تسمعوا لھذا القران والغو فیہ لعلکم تغلبون۔ اس قرآن کو مت سنو اور جب وہ پڑھا جا رہا ہو تو شور مچا ، شاید یہ کہ اس طرح تم غلبہ پا لو۔ لیکن ان میں نہایت ہی سرکردہ لوگ مثلاً ابوسفیان ، ابوجہل ، اور اخنس ابن شریق جیسے لوگ بھی اس حکم پر عمل نہ کرسکے اور وہ ایک دوسرے سے چھپ کر رات کو جاتے اور قرآن کی تلاوت سنتے۔ وہ رات کو تلاوت قرآن کے مقررہ وقت میں صبر نہ کرسکتے اور دوسروں سے چھپ کر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن جب ان کا راز ایک دوسرے پر کھلا تو پھر انہوں نے کہا نہایت ہی سخت عہد کیا کہ ہر گز نہ آئیں گے ورنہ وہ قرآن کا شکار ہوجائیں گے۔
یہ بات یاد رہے کہ قرآن کے خلاف نضر ابن الحارث کی تحریک ختم نہیں ہوگئی اور نہ ہوگی اور نہ یہ کوئی آخری تحریک تھی۔ یہ تحریک بھی مختلف شکلوں میں انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہی ہے۔ دین اسلام کے دشمنوں نے اہل اسلام کو ہمیشہ قرآن سے باز رکھنے کی سعی کی ہے۔ جب وہ اور طریقوں سے قرآن کو ختم نہ کرسکے تو انہوں نے اسے گانا شروع کردیا۔ قراٗ کرام اسے خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اور یہ لوگ اس پر جھومتے ہیں اور انہوں نے اس کے احکام و آیا سے گنڈے اور تعویذ بنانے شروع کردیے۔ کسی نے بازو پر باندھ لیا ، کسی نے گلے میں لٹکا لیا اور کسی نے تکیے کے نیچے رک لیا۔ اور سمجھے کہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہم نے قرآن کا حق ادا کردیا ہے اور اس طرح اس دین کا حق ادا ہوگیا ہے۔
آج صورت حالات یہ ہے کہ قرآن لوگوں کی زندگی کے لیے مصدر رشد و ہدایت نہیں ہے۔ دشمنان دین نے قرآن کے مقابلے میں بعض اور مصادر اور مراجع وضع کردیے ہیں جہاں سے لوگ ہدایات لیتے ہیں۔ یہ ان نئے مراجع سے اپنے تصورات ، اور مقاصد اخذ کرتے ہیں اور قوانین و ضوابط بھی یہ لوگ ان دوسرے مصادر سے لیتے ہیں۔ اقدار حیات اور حسن و قبح کے پیمانے بھی ان مصادر سے لیتے ہیں لیکن زبان سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ دین اسلام محترم ہے۔ قرآن محفوظ ہے اور وہ صبح و شام لوگوں پر پڑھایا جاتا ہے۔ گانے والے اسے گاتے ہیں۔ قراٗ اس کی تلاوت کرتے ہیں اس ترنم اور اس ترتیل کے بعد آخر لوگ اور کیا چاہتے ہیں ؟ رہے تصورات اور مطالب ، حسن و قبح کے پیمانے اور اقدار حیات ، اجتماع نظم اور معاشرتی طور طریقے ، قوانین و ضوابط اور اصول و دستور تو مان کے بارے میں تو مسلمانوں نے کچھ اور قرآن گھڑ رکھے ہیں اور یہ لوگ اصل قرآن کی طرف لوٹتے ہی نہیں
کیا اس ہتھکنڈے اور نضر ابن الحارث کے ہتھکنڈوں میں کوئی فرق ہے ؟ ہاں جدید ہتھکنڈے جدید اسلوب میں ہیں۔ یہ اس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور زیادہ پوشیدہ ہیں اور یہ جدید چالیں جدید پیچیدیگی زندگی میں زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ویسی ہی سازشیں ہیں جیسی قریش کرتے تھے یا اسلام کی طویل تاریخ میں ہوتی رہیں۔
لیکن قرآن کے بھی کیا کہنے ؟ یہ ایک عجیب کتاب ہے اس کی طویل تاریخ میں اسکے خلاف یہ کھیل اور پیچیدہ سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن آخر کار فتح قرآن ہی کی ہوتی ہے۔ یاد رکھو ، قآن کریم کی عجیب خصوصیات ہیں ، انسانی فطرت پر اس کی گرفت بہت ہی مضبوط ہے۔ اس کے خلاف یہود و ہنود اور انسانوں اور شیطانوں کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔ آج اس کے خلاف جو عالمی سازشیں ہو رہی ہیں جن کا سر رشتہ عالمی یہودیت اور عالمی صیہونیت کے ہاتھ میں وہ جاری وساری ہیں اور قرآن غالب و ناصر ہے۔
یہ قرآن آج بھی اس پورے کرہ ارض پر اپنے دشمنوں کو شکست دے رہا ہے۔ یہ دشمن مجبور ہیں کہ اس کی تلاوت کو پوری دنیا میں نشر کریں۔ یہود و نصاری اور ہندو وغیرہ اسے اپنے میڈیا سے نشر کرتے ہیں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے وہ ایجنٹ حکران بھی اسے نشریات کا حصہ بناتے ہیں ، وہ ایجنٹ جو مسمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
بیشک یہ لوگ قرآن کو اپنی نشریات کا حصہ تو بناتے ہیں لیکن انہوں نے قرآن مجید کو محض قراٗت اور ترنم اور ترتیل کا ذریعہ بنا دیا ہے یا اس سے آگے اسے تعویذوں اور گنڈوں کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو انہوں نے مسلم فکر سے نکال دیا ہے اور اسے مسلمانوں کی فکر اور عملی راہنمائی کے مقام سے ہٹا دیا ہے مسلمانوں کی فکری اور عملی راہنمائی کے لیے ان دشمنوں نے جدید فلسفے اور نظریات گھڑ لیے ہیں لیکن یہ کتاب بدستور تمام سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ بدستور اپنا کام کر رہی ہے اور اس دنیا کے ہر حصے ایسے گروہ موجود ہیں جو اس کو اپنا صحیح مقام عطا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ یہ کتاب رشد و ہدایت کا مرجع ہو۔ یہ گروہ ہر جگہ مصروف کار ہیں اور اللہ کی جانب سے تائید و نصر کے طلبگار اور امیدوار ہیں کہ اللہ ان کو اس کرہ ارض کا اقتدار نصیب کرے اور قرآن کریم اپنے اصل مقام کو پالے۔ ایک موقع پہلے اگر یہ کامیاب ہوچکا ہے تو انشاء اللہ دوبارہ بھی ہوکر رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
Ayah 8:32ذرا آگے ملاحظہ کیجیے۔ جب قرآن کے مقابلے سے یہ دشمن عاجز آجاتے ہیں اور ان کی سازش ناکام ہوجاتی ہے تو یہ اس کے مقابلے میں عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور ان کا جذبہ عناد اور ان کا غرور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ رویہ اختیار کریں اور کسی صورت میں بھی مان کر نہ دیں۔ اب یہ لوگ تمناؤں کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں کہ اگر یہ حق ہے تو اے اللہ ہم پر پتھر برسا دے۔ یا اور کوئی دردناک عذاب ہم پر نازل کردے۔ لیکن وہ حق کے اتباع اور حق کی حمایت کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔
یہ عجیب و غریب دعاء ہے ۔ اس سے اس کٹر بغض وعناد کا اندازہ ہوجاتا ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف پایا جاتا تھا کہ وہ ہلاکت اور بربادی کو دعوت دیتے ہیں۔ لیکن اسلام کو ماننے اور اس کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ حق ہو۔ فطرت سلیمہ کا رویہ تو یہ ہوتا ہے کہ جب اسے کسی معاملے میں خلجان ہو تو ایسا شخص دعا کرتا ہے کہ اے اللہ مجھے اس معاملے میں راہ راست دکھا۔ وہ کبھی بھی اس معاملے میں تلخی محسوس نہیں کرتا۔ لیکن جب کبر و غرور اور بغض وعناد فطرت سلیمہ کو بگاڑ دیں پھر عالم یہ ہوتا ہے کہ غرور وعناد انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ لوگ مرنا پسند کرتے ہیں لیکن سچائی کو قبول کرنا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کے سامنے حق و باطل واضح ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور اس میں خود ان کو کوئی شک نہیں رہتا۔ اس کی واضح مثال مشرکین مکہ کا رویہ ہے۔ یہ آخر دم تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرتے رہے لیکن ان کے اس بغض وعناد کے باوجودع یہ دعوت فتح یاب ہوئی۔