Ayah 8:61ان آیات میں تیسرا حکم ان اقوام کے بارے میں ہے جو اسلامی کیمپ کے ساتھ دوستی اور امن کا عہد کرنا چاہتے ہیں اور امن و سلامتی کی طرف مائل ہیں اور ان کے ظاہری حالات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ لوگ فی الواقعہ امن چاہتے ہیں۔
اور اے نبی اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
یہ ایک لطیف انداز تعبیر ہے۔ یعنی پرندے پر امن اور آشتی کی طرف مائل ہیں اور پرندہ اپنے پروں کو نرم کر رہا ہے اور حالت امن اور مصالحت اور موانست کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر مصالحت اور موادعت میں توکل علی اللہ کا حکم بھی دیا گیا ہے ، جو سمیع اور علیم ہے وہ ہر بات کو سنتا ہے اور پوشیدہ ارادوں کو دیکھ سکتا ہے اور اللہ پر توکل ایک بہت بڑا ضامن ہے۔
اب ہم ذرا واپس اس تلخیص کی طرف جاتے ہیں جو امام ابن قیم نے اسلامی مملکت کے خارجی تعلقات کے سلسلے میں پیش کی تھی کہ مدینہ کے ابتدائی دور میں حضور کے تعلقات کفار کے ساتھ کیا تھے یعنی جنگ بدر اور ان احکام کے نزول تک۔ تو اس تلخیص سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کا تعلق اس طبقے سے ہے جن کے ساتھ حضور ﷺ نے مسالمت اختیار کرلی تھی اور اس کے ساتھ جہاد و قتال نہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ حضور کے ساتھ صلح پر مائل تھے اور انہوں نے دشمنی کا اظہار نہ کیا تھا۔ اور نہ ہی دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوئے تھے۔ نہ وہ اسلامی مملکت کے خلاف کوئی کاروائی کرتے تھے۔ اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا تھا کہ ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی روشن مصالحت اور امن کو قبول کرلیا جائے (یہ حکم اس وقت تک تھا کہ جب سورت براءت نازل ہوئی اور جن لوگوں کے ساتھ بےقاعدہ معاہدہ نہ تھا ان لوگوں کو ایک متعین مہلت دے دی گئی یا ان لوگوں کے ساتھ عہد تھا مگر اس میں وقت کا تعین نہ کیا گیا تھا اور یہ مدت چار ماہ مقرر کردی گئی تھی اور اس کے اختتام پر بھی تعلقات کا از سر نعین کیا گیا تھا) ۔ لہذا مذکورہ بالا حکم انتہائی اور آخری حکم نہ تھا بلکہ وہ خاص حالات کے اندر مخصوص حکم تھا اور بعد میں آنے والے احکام نے اسے منسوخ کردیا اور خود نبی ﷺ نے بھی اس میں تبدیلیاں کیں۔
ہاں یہ آیت اپنے وقت پر ایک عمومی حکم تھا اور سورت براءت کے نزول تک یہی حکم معمول بہ تھا۔ چھٹی صدی ہجری میں ہونے والا صلح حدیبیہ بھی اس کی ایک مثال تھی۔
بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم فائنل اور حتمی ہے اور انہوں نے امن کی طرف میلان جنحوا للسلم کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کو قبول کرلیں۔ لیکن یہ رائے تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔ کیونکہ جزیہ کے احکام سورت براءت میں نازل ہوئے اور یہ سورت آٹھویں سن ہجری میں نازل ہوئی ہے اور زیر تفسیر آیت تو جنگ بدر کے بعد سن دوئم ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت جزیہ کے احکام موجود نہ تھے۔ اسلامی نظام حیات کے تحریکی مزاج ، واقعات نزول قرآن اور سیرت کے واقعات کو مد نظر رکھ کر اگر سوچا جائے تو یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ یہ حکم فائنل نہیں ہے۔ اور اس میں سورت براءت میں نازل ہونے والے احکام کے ذریعہ تبدیلی اور ترمیم کی گئی ہے اور جس میں دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کو یوں منضطب کیا گیا ہے کہ یا تو وہ اہل حرب ہوں گے اور مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں گے یا مسلمان ہوں گے اور اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے والے ہوں گے یا اہل ذمہ ہوں گے اور جزیہ ادا کرتے ہوں گے۔ اور وہ اس وقت تک اہل ذمہ رہیں گے۔ جب وہ اپنے ذمی ہونے کے عہد پر قائم رہیں گے۔ یہ ہے وہ آخری نوعیت بین الاقوامی تعلقات کی جس پر اسلامی تحریک جہاد منتہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اور کوئی صورت حال موجود ہو تو وہ دراصل عملی صورت حال ہے اور عملاً موجود ہے لیکن اسلامی نظام اس کی تبدیلی کے لی جدوجہد کرتا ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک مذکورہ بالا تین حالات متعین نہیں ہوجاتے جن کا ذکر سورت براءت میں ہوا اور جو آخری احکام ہیں اور یہ آخری احکام مسلم کی روایت میں موجود ہیں جس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
احمد روایت کرتے ہیں وکیع سے ، سفیان سے ، علقمہ ابن مرثد سے ، سلیمان ابن زید سے ، ان کے باپ سے ، یزید ابن الخطیب اسلمی سے ، یہ کہتے ہیں کہ جب حضور کسی کو لشکر بنا کر بھیجتے یا کسی دستے کا کپتان بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت کرتے کہ خدا خوفی اختیار کرنا اور اپنے ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کی راہ میں کرو ، ان لوگوں سے قتال کرو جنہوں نے اللہ کا انکار کیا اور جب تم مشرکوں میں سے اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنا سامنا کرو تو انہیں دعوت دو کہ وہ تین پوزیشنوں میں سے کوئی ایک اختیار کریں۔ وہ ان میں سے جو پوزیشن بھی قبول کریں تم اسے منظور کرلو۔ اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کو اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو قبول کرلو۔ پھر ان کو یہ دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آجائیں۔ اگر وہ یہ پوزیشن قبول کرلیں تو ان کے اور مہاجرین کے حقوق مساوی ہوں گے اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔ اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی علاقے میں رہنا پسند کریں تو ان کو یہ اطلاع کردو کہ ان کی حیثیت ان مسلمانوں کی طرح ہوگی جس طرح اعراب مسلمانوں کی ہے۔ ان پر بھی اللہ کے احکام جاری ہوں گے۔ جس طرح اعراب مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن فئے اور غنیمت میں ان کا حق نہ ہوگا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس پوزیشن کا بھی انکار کریں تو پھر ان کو یہ پیشکش کرو کہ وہ جزیہ دینا قبول کریں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی قبول کرلو ، اور جنگ سے باز آجاؤ، اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی استعانت لیں اور قتال شروع کردیں۔
اس حدیث میں مشکل بات یہ ہے کہ اس میں ہجرت اور دار المہاجرین کا ذکر ہے اور پھر جزیہ کا بھی ذکر ہے۔ جبکہ جزیہ فتح مکہ کے بعد فرض ہوا تھا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی تھی (یعنی پہلی جماعت مسلمہ جب مدینہ آئی اور فتح تک اسے استقلال حاصل ہوگیا تو ہجرت اس وت ختم ہوگئی تھی) اور یہ بات احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ جزیہ آٹویں سن ہجرت میں فرض ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عرب مشرک سے جزیہ نہیں لیا گیا۔ کیونکہ تمام عرب فرضیت جزیہ سے قبل ہی مسلمان ہوگے تھے۔ اس سن کے بعد مجوسیوں سے اور مشرکوں سے جزیہ لیا گیا اور اگر فرضیت جزیہ کے وقت عربوں میں کوئی مشرک ہوتا تو وہ بھی لازماً جزیہ ادا کرتا جیسا کہ امام ابن قیم نے تشریح کی۔ امام ابوحنیفہ اور ایک قول کے مطابق امام احمد کی رائے بھی یہی ہے۔ (قرطبی نے یہ قول امام اوزاعی ، مالک سے بھی نقل کیا ہے)
بہرحال آیت زیر بحث وان جنحوا میں کسی فائنل حکم کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس سلسلے کے فائنل احکام بعد میں سورت براءت میں نازل ہوئے۔ اس میں الہ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے مسالمت اور صلح کو قبول کرلیں جن کو آپ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ اور ان کے ساتھ لڑآئی شروع نہ کی تھی چاہے اس وت تک ان سے کوئی معاہدہ ہوا تھا یا نہیں۔ تو آپ سورت براءت کے نزدیک تک کفار اور اہل کتاب کی جانب سے مسالمت کو قبول کرتے رہے اور براءت کے نزول کے بعد حکم یہ ہوگیا کہ یا تو اسلام قبول کروگے یا جزیہ دو گے اور یہ وہ حال تمسلمات ہے جو اس وقت تک قابل قبول ہوگی جب تک لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں گے ورنہ مسلمان ان کے ساتھ جہاد کریں گے جب تک ان کی استطاعت ہو تاکہ دین تمام کا تمام اللہ کے لیے ہوجائے۔
میں نے اس آیت کے بیان اور تفسیر میں قدرے طوالت سے کام لیا ہے اور یہ اس لیے کہ ان لوگوں کے شبہات کو دور کردیا جائے جو ذہنی لحاظ سے شکست خوردہ ہیں۔ اس قسم کے لوگ جب اسلام کے نظریہ جہاد کے موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں تو موجودہ حالات کے دباؤ میں آجاتے ہیں اور ان کی سوچ اور ان کی روح ان حالات کے دباؤ کے نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کرسکتے کہ دین اسلام کا یہ کوئی مستقبل قاعدہ ہوسکتا ہے کہ یا اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ اس وقت جاہلیت اور طاغوت کی تمام قوتیں اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اسلام کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اہل اسلام اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت سے بیخبر ہیں اور ان کے قلب و نظر میں اسلام کا حقیقی شعور نہیں ہے اور دوسرے مذاہب کی عظیم قوتوں کے سامنے اپنے آپ کو بہت ہی کمزور محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ہر اول دستے بہت ہی قلیل و نایاب ہیں اور اس کے ساتھ ضعیف و ناتواں ہیں۔ لہذا ان حالات میں یہ لکھنے والے قرآن و سنت کو توڑ موڑ کر ان میں تاویلات کرتے ہیں اور یہ حرکت وہ محض حالات کے دباؤ کے تحت کرتے ہیں۔ لہذا وہ ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلام اس موقف کا متحمل نہیں ہوسکتا ، نہ اسلامی نصوص سے یہ بات نکلتی ہے۔
یہ لوگ ان آیات سے ستدلال کرتے ہیں جو تحریک اسلامی کے لیے وقتی ہدایات کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ان آیات کو فائنل ہدایات تصور کرکے ان آخری ہدایات کی تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ جن آیات سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ وقتی اور مفید نصوص تھے۔ یہ کام وہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ صرف دار الاسلام اور جماعت مسلمہ کا دفاع کرتا ہے اور جہاد اس وقت شروع ہوسکتا ہے جب دشمن حملہ آور ہو اور یہ کہ اسلام ہر قسم کے امن وامان کی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک امن وامان کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی دار الاسلام پر حملے سے باز رہنے کا معاہدہ کرلے۔ ان لوگوں کے تصور کے مطابق اسلام اپنی حدود کے اندر جو چاہے کرے لیکن اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے لوگوں سے مطالبہ کرے کہ وہ اسلامی کو قبول کریں۔ اور نہ اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں سے اسلامی نظام کی اطاعت کرنے کا مطالبہ کرے۔ اسلام صرف تبلیغ کا حق رکھتا ہے۔ رہی وہ قوت ، طاغوتی قوت ، جو جاہلیت کی پشت پر کھڑی ہے تو اسلام کو یہ حق نیں ہے کہ وہ اس قوت کو چیلنج کرے یا اگر یہ قوت اسلام کو چیلنج کرے تو اسلام صرف دفاع کا حق رکھتا ہے۔
اگر اس قسم کے لوگ جنہوں نے موجودہ حالات کے مقابلے میں عقلاً اور روحاً شکست کھالی ہے ، ذرا سوچ کرتے اور موجودہ حالات کے مطابق قرآن و سنت میں اسے احکام تلاش کرتے اور ان تاویلات کا راستہ اختیار نہ کرتے جن میں قرآن و سنت کے نصوص کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں تو انہیں ان کے موجودہ حالات کے مماثل حالات کے بارے میں قرآن و سنت کے نصوص مل جاتے کیونکہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ متحرک دین رہا ہے اور یہ کہتے کہ ایسے حالات میں اسلام نے یوں فیصلہ کیا تھا اور ہمیں بھی یسا ہی کرنا چاہیے تو ان حضرات کو قرآن کی آخری اور فائنل ہدایات اور نصوص میں اس قسم کی تاویلات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ موجودہ حالات میں اسلام کے یہ احکام مناسب ہیں لیکن یہ فائنل احکام نہیں ہیں۔ یہ وقتی تصرفات ہیں۔
اسلام نے فی الواقعہ مختلف حالات میں مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں اور یہ مثالیں وقتی ضرورت کے مطابق تھیں۔
جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودیوں اور مشرکین کے ساتھ آپ سے ایک میثاق طے کیا جس میں باہم بھائی چارے ، امن اور مشترکہ دفاع کے امور طے کیے گئے اور یہ بھی طے کیا کہ مدینہ میں حق حاکمیت رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوگا اور یہ کہ قریش کے مقابلے میں دفاع میں یہ سب لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور یہ کہ مدینہ پر جو کوئی بھی حملہ آور ہوگا یہ لوگ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں گے الا یہ کہ حضور ﷺ اس کی اجازت دیں۔ اسی دوران حضور کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ جو قوم بھی مسالمت اور امن کا معاہدہ کرے اس کی پیشکش کو قبول کیا جائے۔ اگرچہ وہ باقاعدہ تحریری معاہدہ نہ کریں ، بہرحال جب تک وہ صلح چاہیں ، صلح رکھی جائے۔ اس کے بعد یہ تمام احکام بدل گئے تھے جس طرح ہم نے اوپر تفصیلات دیں۔
اسی طرح جب جنگ خندق کے زمانے میں تمام مشرکین نے حضور کے خلاف اشتراک کرلیا۔ بنو قریظہ نے بھی وعدہ کی خلاف ورزی کردی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کو ختم ہی نہ کردیا جائے۔ تو حضور نے عیینہ ابن حصن الفزاری اور حارث ابن عوف المری رئیس غطفان کے سامنے مصالحت کی پیشکش کی اور طے کیا کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار ان کو دیں گے اور آپ لوگ اپنی اقوام کو لے کر واپس ہوجائیں اور قریش کو اکیلے چھوڑ دیں۔ حضور کی پیشکش ان کو خوش کرنے کے لیے تھی کوئی معاہدہ نہ تھا۔ جب حضور نے دیکھا کہ یہ دونوں لوگ راضی ہوگئے ہیں تو آپ نے سعد ابن معاذ اور سعد ابن عبادہ کے ساتھ مشورہ کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ حضور یہ کام اگر آپ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کی وجہ سے قبول کرلیں گے اور اگر اللہ کا حکم ہے تو ہم اطاعت کریں گے اور اگر یہ کام آپ ہمارے لی کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں یہ اقدام آپ لوگوں کو بچانے کے لیے کرن ا چاہتا ہوں کیونکہ تمام عرب آپ لوگوں پر ایک ہی کمان سے تیر پھینک رہے ہیں۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا : یا رسول اللہ خدا کی قسم ہم لوگ شرک میں مبتلا تھے ، بت پرست تھے ، اللہ کی عبادت نہ کرتے تھے اور نہ ہمیں اللہ کی معرفت حاصل تھی تو یہ مشرک ہم سے یہ توقع نہ کرتے تھے کہ ہم ان کو ایک کھجور بھی دین ، الا یہ کہ وہ مول لیتے ہام ہم مہمان نوازی کے طور پر دیتے اور جب اللہ نے ہمیں بذریعہ اسلام عزت دے دی اور بذریعہ قرآن ہدایت دے دی اور آپ کے ذریعے ہم معزز ہوگئے تو کیا اب ہم ان کو اپنا مال دے دیں ؟ ہم ان کو تلوار دیں گے تاکہ وہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس جواب سے حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا (تم جانو اور وہ) اور عیینہ اور حارث سے کہا ، چلو ہمارے پاس تمہارے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات جس کے بارے میں حضور نے مخصوص حالات میں سوچا ایک وقت تدبیر تھی جو مخصوص حالات میں ضرورت کے لیے تھی ، یہ کوئی فائنل حکم نہ تھا۔
ایک مثال یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ لوگ مشرک تھے اور اس معاہدے میں بعض شرطیں ایسی تھیں جن سے مسلمان خوش نہ تھے۔ مثلا یہ کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان بیس سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ لوگ ایک دوسرے سے امن میں رہیں گے۔ مسلمان اس سال عمرہ کے بغیر واپس ہوں گے ، اور اگلے سال وہ مکہ آئیں گے۔ چناچہ انہوں نے اگلے سال مسلمانوں کو مکہ آنے دیا ، صرف تین دن کے لیے۔ اسلحہ وہی لائیں گے جو ایک سوار لاتا ہے اور وہ بھی نیام میں ہوگا اور یہ کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی مدینہ سے مکہ چلا جائے تو مشرک واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ اسمعاہدے پر حضور راضی ہوگئے کیونکہ حضور کو اللہ نے بذریعہ الہام بتا دیا تھا کہ یہ شرائط اگرچہ بظاہر قریش کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن در اصل مسلمانوں کے لیے مفید ہیں۔ اس مثال میں بھی یہ گنجائش موجود ہے کہ اسلام قیادت خاص حالات میں خاص فیصلے کرسکتی ہے۔
اسلام ایک دائمی تحریک ہے اور اس کا طرز عمل بھی تحریکی ہے۔ وہ حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی واضح ، پختہ اور آزمودہ کار قیادت رکھتا ہے۔ لوگ جن حالات سے بھی دو چار ہوں اور ان کو قرآن و سنت سے حسب حال ہدایت بہرحال ملتی ہے اور ان کو کسی قسم کی تاویل کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان میں تقوی ہو اور وہ اس بات سے محتاط ہو کہ وہ اپنے دین کو جاہلیت کی شرایرانہ قیادت کے حوالے کردے ، وہ شکست خوردہ ہو اور جاہلیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ دفاعی موقف اختیار کرے ، حالانکہ دین اسلام غالب ہے ، چھا جانے والا ہے۔ وہ انسان کی پوری ضروریات اور مسائل کو حل کرتا ہے اور وہ یہ مزاج رکھتا ہے کہ بلند ہو اور ہر کام اور ہر مسئلے کے حل میں اقدامی پوزیشن کا مالک ہو۔
جب اللہ نے حضور ﷺ کو حکم دیا کہ اگر کوئی دوستی کرنا چاہئے تو آپ دوستی قبول کریں اور اگر کوئی امن و سلامتی کی طرف مائل ہو تو آپ بھی اس طرف مائل ہوں ، تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ اللہ پر توکل کریں اور آپ کو مطمئن کردیا کہ اگر اس قسم کے معاہدے کرنے والے دل میں کھوٹے ہوں تو اللہ سے بہرحال ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔
Ayahs 8:62–6362 ۔ 63:۔ اب اللہ ان لوگوں کے دھوکے سے حضور کو مطمئن اور مامون فرماتا ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کا ارادہ کریں اور کوئی سازش کریں اور صلح اور دوستی کی پشت پر غداری کا کوئی منصوبہ ہو تو فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں ، اللہ کافی ہے ، وہ حافظ ہے ، وہی مددگار ہے اور بدر میں اسی کی نصرت تمہارے شامل حال رہی ہے۔ مومنین کے ذریعے اس نے تمہاری تائید کی۔ مومنین کو اتفاق و اتحاد عطا کیا حالانکہ جاہلیت میں ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا ، یہ اللہ حکیم و قدیر کا کارنامہ ہے۔
اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ آغاز تحریک میں اسی نے تو تمہاری امداد فرمائی اور تمہیں مومنین کا ایک ایسا سچا گروہ عطا کیا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو خوب نبھایا۔ اس نے ان کو متحدہ قوت کی شکل دے دی حالانکہ اس سے قبل ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے تھے۔ ان کی باہم دشمنی علانیہ تھی اور باہم لڑائی شدید ترین لڑائی تھی۔ اس سے مراد اوس و خزرج ہوں جو انصار تھے اور جاہلیت کے دور میں ان کے درمیان انتقام در انتقام کا لامنتاہی سلسلہ تھا اور ان کے درمیان مصالحت ہی ممکن نہ تھی ، چہ جائیکہ ان کے درمیان ایسی اخوت پیدا ہوجائے جس کی نظیر پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ہے یا اس سے مراد مہاجرین ہوں جو مکہ میں ویسے ہی حالات میں تھے جن میں انصار تھے یا اس سے تمام عرب ہوں کیونکہ اسلام سے قبل جزیرۃ العرب میں تمام عربوں کی حالت ویسی ہی تھی۔
بہرحال یہ معجزہ عربوں کی سرزمین پر رونما ہوا ، اللہ کے سوا درحقیقت کوئی طاقت اور کوئی ذریعہ اس معجزے کو رونما نہ کرسکتا تھا۔ اور یہ کام صرف اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے ہوسکتا تھا۔ چناچہ باہم نفرت کرنے والے یہ دل اور باہم ناقابل برداشت مزاج رکھنے والے یہ لوگ ایک ایسا جتھا بن گئے جس کے درمیان بےحد بھائی چارہ پیدا ہوگیا اور ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گے اور وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوگے ، یار غار بن گے ، اور ان کی اخوت ، دوستی اور اتفاق و اتحاد ایک تاریخی مثال بن گیا۔ ان کی اجتماعی زندگی کا اہم رنگ ، رنگ محبت تھا اور وہ جنگ کی زندگی کے لیے ایک تمہید و مثال تھے۔
و نزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ اور ان کے دلوں کے اندر جو کدورت تھی ، ہم وہ نکال دیں گے وہ بھائی بن جائیں گے اور تختوں پر ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے۔
اسلامی نظریہ حیات ایک عجیب اور عملی عقیدہ ہے۔ جب یہ دلوں کے اندر گھل مل جاتا ہے تو یہ ایک ایسے مزاج کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جس کا رنگ رنگ الفت و محبت ہوتا ہے۔ اس کے حامل جگری دوست بن جاتے ہیں۔ یہ اپنے ہم نشینوں کے لیے فرش بن جاتے ہیں ، ان کا پہلو نرم ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاف اور طرز عمل سے خشونت دور ہوجاتی ہے۔ اور ان کے اندر گہرے رابطے اور تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں۔ حالات یہ ہوجاتے ہیں کہ آنکھ کی ایک نظر ، ہاتھ کا معمولی چھونا ، زبان کی گفتگو ، دلوں کی دھڑکن ، باہم مہر و محبت ، دوستی اور ہمدردی اور ایثار و قربانی کے ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن کی حقیقت کو صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان حالات کی تخلیق کی۔ اور ان کی حقیقت کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جن کے اندر یہ انقلاب برپا ہوچکا ہوتا ہے۔
یہ عقیدہ انسانیت کو الحب فی اللہ کا خون دیتا ہے۔ انسانیت کے تاروں کو خلوص و محبت اور جوڑ و ملاپ کا نغمہ عطا کرتا ہے اور جب انسانیت اس نظریہ حیات کو قبول کرتی ہے تو یہ معجزہ رونما ہوجاتا ہے۔ اور صرف اللہ ہی ہے جو اس معجزے کو ظہور میں لاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : " اللہ کے بندوں میں سے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ انبیاء اور شہداء نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن انبیاء و شہداء ان کے مقام اور مرتبے کے لیے ترسیں گے۔ صحابہ کرام نے کہا کیا آپ بتائیں گے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہوں گے کہ وہ باہم اللہ کی روحانی قدروں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں حالانکہ ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے ، نہ ان کے درمیان کوئی مالی مفاد موجود ہے۔ خدا کی قسم ایسے لوگوں کے چہرے نور ہیں اور وہ نور پر ہیں۔ یہ لوگ اس وقت خوف میں نہ ہوں گے جب تمام لوگ خوف میں ہوں گے اور یہ لوگ اس وقت بھی پریشان نہ ہوں گے جب تمام لوگ پریشان ہوں گے۔ (ابوداود)
اور ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ملتا ہے اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو ان دونوں کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح سخت آندھی کے دن درختوں سے خشک پتے گرتے ہیں اور اللہ ان دونوں کے گناہ اس طرح بخش دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ سمندروں کی جھاگ کی طرح زیادہ ہوں۔ (طبرانی)
اس موضوع پر حضور صلی الہ علیہ وسلم کے اقوال بےحد زیادہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں باہم محبت و الفت کی اہمیت پر یہ تمام اقوال ایک شاہد عادل ہیں ، نیز اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تشکیل اور ترقی سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقوال محض نعرے نہ تھے اور نہ خوشنما باتیں تھیں۔ نہ یہ محض انفرادی اعمال اور شاذ مثالیں تھیں بلکہ یہ ایک واقعہ تھا اور امت مسلمہ اور اسلامی معاشرے کی صورت میں نمایاں تھا۔ اذن الہی سے یہ اونچا ہوا تھا اور یہ وہ مینار تھا جسے اللہ کے سوا کوئی کھڑا نہ کرسکتا تھا۔
Ayahs 8:64–65تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔
یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے :
يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔
یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔
Ayah 8:66بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے جما دو ، یہ موازنہ کوئی قانونی موازنہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی موازنہ ہے۔
Ayahs 8:67–6967 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے تلوار سونتی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ دشمن کی جانب سے حضور پر کوئی حملہ آور نہ ہوجائے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور نے سعد کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات محسوس کیے کیونکہ وہ انہیں وہ پسند نہ تھا جو لوگ کر رہے تھے تو حضور نے فرمایا : سعد ! تم شاید لوگوں کے اس فعل کو پسند نہیں کر رہے ہو۔ انہوں نے فرمایا : رسول خدا آپ کی بات درست ہے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ نے مشرکین کو اس قسم کی شکست سے دوچار کردیا۔ میرے خیال میں اس معرکے میں لوگوں کو نیست و ناوبد کردینا ، ان کے زندہ گرفتار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مناسب تھا۔
امام احمد نے اپنی سند سے روایت کی ہے ، ابن عباس سے ، انہوں نے حضرت عمر سے فرماتے ہیں ، جب اس دن افواج کی مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کردیا۔ ان میں سے ستر افراد قتل ہوئے اور ستر افراد گرفتار ہوئے۔ حضور نے ابوبکر ، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا۔ ابوبکر نے فرمایا کہ حضور یہ لوگ چچازاد ، ہم قوم اور بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں اور یہ ہمارے لیے امداد کا سبب بنیں۔ اس کے حضور نے فرمایا ابن خطاب تم بتاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس موقعہ پر یہ مشورہ دیا ، خدا کی قسم میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فلاں شخص (ان کے رشتہ دار) کو میرے حوالے کرو ، تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں اور حضرت علی کے حوالے عقیل ابن ابی طالب کردیں تاکہ وہ ان کی گردن اڑادیں اور حمزہ کے حوالے ان کے بھائی کو کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں ، تاکہ الہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دل میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو ان کے اکابر امام اور قائدین ہیں۔ تو حضور نے حضرت ابوبکر کی رائے کو اختیار کرلیا اور میری بات کو نہ تسلیم کیا اور لوگوں ن سے فدیہ قبول کرلیا۔ دوسرے دن میں صبح صبح حضور کے پاس گیا اور دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضور رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ حضور آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر کوئی رونے کی بات ہو تو میں بھی روؤں گا۔ اور اگر کوئی بات نہ ہو تو میں تمہارے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں دیا ، اس نے مجھے تمہارا عذاب اس قدر قریب کرکے دکھایا جس قدر یہ درخت قریب ہے۔ (آپ نے قریبی درخت کی طرف اشارہ کیا) اور اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۔۔۔ تا۔۔۔ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے اموال غنیمت کو جائز قرار دے دیا۔ (روایت مسلم ، ابو داود ، ترمذی ، ابن جریر اور ابن مردویہ بطریق عکرمہ ابن عمار الیمانی)
امام احمد روایت کرتے ہیں علی ابن ہاشم سے ، حمید سے ، حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھو کہ کل وہ تمہارے بھائی تھے۔ اس پر حضرت عمر پھر کھڑے ہوگئے اور کہا حضور میرا مشورہ ہے کہ ان کی گردن اڑا دی جائے۔ حضور نے پھر ان سے منہ پھیرلیا اور لوگوں کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا۔ اس پر ابوبکر نے مشورہ دیا کہ حضور مناسب یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں۔ اس مشورے کے بعد حضور کے چہرے پر پریشان کے جو آثار تھے وہ ختم ہوگئے۔ حضور نے ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: اگر اللہ کی طرف سے پہلے کتاب نہ ہوتی تو تم نے جو لیا ، اس کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم چھو لیتا۔
اعمش عمران ، ابن مرہ سے ، عبیداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تم لوگ قیدیوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ ابوبکر نے کہا ، اے رسول اللہ یہ لوگ تمہاری قوم اور تمہارے رشتہ دار ہیں۔ ان کو زندہ رہنے دیں اور ان سے فدیہ قوبول کریں شاید اللہ انہیں معاف کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو اپنے گھر سے نکالا۔ اٹھیں اور ان کی گردن اڑا دیں۔ عبداللہ ابن رواحہ نے کہا اے رسول خدا آپ ایک ایسی وادی میں مقیم ہیں جس میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ مناسب ہے کہ پوری وادی کو آگ سے بھر دیں اور ان کو اس میں پھینک دیں۔ حضور خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کہی اور اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہوگئے۔ بعض لوگوں نے کہا حضور ابوبکر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ آپ حضرت عمر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ حضور عبداللہ ابن رواحہ کے قول کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نکلے وار فرمایا : اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتے ہیں اور وہ اس قدر نرم ہوجاتے ہیں کہ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں اور اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں اور وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے۔ جنہوں نے فرمایا : فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم " جس نے میری اطاعت کی تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی تو آپ غفور و رحیم ہیں " اور اسی طرح اے ابوبکر تم حضرت عیسیٰ کی طرح ہو ، جنہوں نے کہا : ان تعذبھم فانہم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ج " اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو ہی عزیز اور حکیم ہے " اور اے عمر تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ۃ ے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ اے اللہ ان کے اموال کو تباہ کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں "۔ اور اے عمر تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، جنہوں نے فرمایا : رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے رب زمین پر کافروں سے کوئی زندہ بشر نہ چھوڑ۔ تم قابل اعتماد ہو ، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رہا نہ ہوگا ، الا یہ کہ فدیہ دے یا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے کیونکہ وہ اسلام کی توہین کیا کرتا تھا " اس پر حضور خاموش ہوگئے۔ کبھی اس دن سے زیادہ مجھ پر حالت خوف طاری نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ پر آسمان سے پتھر برسنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ حضور نے فرمایا " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ " ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔
(احمد ، ترمذی نے ابو معاویہ ابن اعمش کے واسطہ سے ، حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن صحیحین نے اسے روایت نہیں کیا ہے) اثخان مطلوب یہ ہے کہ ان میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کیا جائے کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت برتر ہوجائے اور یہ بات اس سے قبل واقعہ ہوجانا چاہئے تھی یعنی گرفتاریوں سے قبل یعنی گرفتار کرکے اور فدیہ لے کر چھوڑنے کی پور کاروائی سے قبل ، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو سرزنش کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو گرفتار ہی نہ کرتے۔
غزوہ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا۔ اس وقت مشرکین کثیر تعداد میں تھے اور مسلمان قلیل تھے۔ اور ان میں سے زیادہ کو قتل کرنے سے ان کی عددی قوت میں کمی کرنا مطلوب تھا۔ اس طرح ان کے لیڈر ذلیل و خوار ہوجاتے اور ان کی قوت کم ہوجاتی اور وہ دوبارہ مسلمانوں پر حملے کی جراءت ہی نہ کرسکتے اور یہ اس قدر عظیم اور اہم ہدف تھا کہ اس کے مقابلے میں تاوان جنگ کی بڑی سے بڑی رقم بھی ہیچ تھی۔
نیز اس سے ایک اور غرض بھی مطلوب تھی۔ دلوں میں یہ نکتہ بٹھانا مقصود تھا ، جس کی طرف ، حضرت عمر نے واضح طور پر اشارہ فرمایا۔ دو ٹوک الفاظ میں اور نہایت ہی کھل کر " تاکہ اللہ کو معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے "
ہم سمجھتے ہیں انہی دو مقاصد کی خاطر ، اللہ نے مسلمانوں کے اس فعل کو پسند نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو قید کریں اور رقم لے کر چھوڑ دیں۔ اور انہی عملی اقدامات کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ، جب بھی مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو تو یہ آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ یکہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے ہی معرکے میں فدیہ قبول کیا اور دشمن کو قیدی بنایا ، ان کے بارے میں یہ ریمارکس دیے گئے : تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم : تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ یعنی تم نے قتل کرنے کے بجائے دشمن کو قیدی بنایا اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ تم ان کو اس معرکے میں خوب کچل دیتے لہذا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کی اسکیم اور ارادے کے مطابق چلتے۔ کیونکہ اللہ آخرت کی بھلائی چہاتا ہے اور یہ تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب دنیا کے مفادات کو ترک کردیا جائے۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اسی نے تو تمہارے لیے فتح ونصرت کا سامان کیا۔ اور تمہیں اس کی توفیق دی۔ اور اس کی پشت پر حکمت یہ تھی کہ دشمنوں کی جڑ کٹ جائے ، حق حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
اس لیے پہلے اللہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اہل بدر میں جو غلطی بھی کریں اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسارائے بدر کے بارے میں انہوں نے جو نامناسب عمل اختیار کیا ، اس پر وہ عذاب عظیم سے بچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ عذاب سے بچ گئے بلکہ ان کے لیے ایک مزید انعام کا اعلان ہوگیا۔ جنگ کے نتیجے میں آنے والا مال بھی ان کے لیے حلال ہوگیا ، جس میں فدیے کی آمدن بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں عتاب مذکور بھی ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے رسولوں کی امتوں پر یہ حرام تھا۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ تقوی ہے اور اگر تم تقوی اختیار کروگے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ یہ ایک عجیب توازن ہے ، اہل ایمان پر فرض کیا گیا کہ تم خدا خوفی کا رویہ ہر وقت اپنائے رکھو ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے لیکن تم ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور صفت غفوریت کی وجہ سے بد عمل نہ ہوجاؤ۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
Ayah 8:70اب سیاق کلام قیدیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ان کو زندگی عطا کرنے اور خوب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے چٹکی بھری جاتی ہے۔ ان کے احساس کو جگایا جاتا ہے تاکہ ان کے شعور میں امید کی کرن روشن ہو ، اور وہ پر امید ہو کر روشنی کی طرف آجائیں اور ماضی کے مقابلے میں ان کا مستقبل سنور جائے اور وہ جس زندگی میں ہیں ، اس کے مقابلے میں اچھی زندگی حاصل کرلیں اور ان کو جو مالی تاوان ہوا ہے اور ان کا جو علاقہ ہے ، اس سے وہ اچھی جگہ آجائیں اور اس پر اللہ کی رحمت اور مغفرت مستزاد۔ یہ ہے کہ ان کے لیے ہمہ گیر بھلائی لیکن یہ بھلائی ان تک تب ہی پہنچ سکتی ہے جب ان کے دل نور ایمان کے لیے کھل جائیں۔ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ان کے اندر بھلائی کا عنصر موجود ہے اور یہ عنصر ایمان کا عنصر ہے۔ یہ اس قدر عام اور ہمہ گیر خیر ہے کہ اس میں ایمان کے لفظ کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ ایمان گویا خیر محض ہے اور کوئی بات اس وقت تک خیر اور بھلائی نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایمان کے حوالے سے نہ ہو اور جس کا وجود ایمان کے عنصر کے نتیجے میں نہ ہو۔ اور وہ ایمان پر قائم نہ ہو۔
اسلام قیدیوں کا صرف اس لیے روادار ہے کہ وہ ان کے دلوں میں بھلائی کی تلاش کرے۔ اگر ان کے اندر کوئی خفیہ چنگاری ہو تو اسے جگا دے۔ ان کی فطرت کو خواب غفلت سے بیدار کرے اور وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرنے ، اس سے متاثر ہونے کے لیے تیار ہوجائیں اور آخر کار نور ایمان سے منور ہوجائیں۔ اسلام دشمن کو اس لیے قید نہیں کرتا کہ وہ ان سے انتقام لے کر ان کو ذلیل کرے یا ان کا استحصال کرے جس طرح حضور کے دور میں رومی اور دوسری اقوام اور نسلوں میں یہ مقاصد عام طور پر مروج تھے۔
حضرت ابوہریرہ نے کچھ لوگوں سے نقل کیا ہے اور انہوں نے ان کا نام بھی لیا ہے کہ اہل قریش نے اپنے قیدیوں کو چھڑنے کے لیے اور فدیہ کی ادائیگی کے لیے ایک وفد بھیجا۔ ہر قوم نے اپنے قیدی کو چھڑایا۔ جس پر لوگ راضی ہوئے۔ حضرت عباس نے فرمایا رسول خدا میں تو مسلم تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپ کے اسلام کے بارے میں صحیح علم اللہ کو ہے۔ اگر معاملہ ایسا ہے جس طرح تم کہتے ہو تو اللہ تمہیں جزا دے گا۔ جہاں تک ظاہر داری کا تعلق ہے تو تم ہمارے خلاف تھے۔ لہذا آپ پنا ، اپنے دو بھتیجوں نوفل ابن حارث ابن عبدالمطلب اور عقیل ابن ابی طالب ابن عبد المطلب کا فدیہ دیں۔ نیز اپنے حلیف عتبہ ابن عمر بنی الحارث ابن فہر کے بھائی کا فدیہ بھی دیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ان لوگوں کا فدیہ کہاں ہے ؟ تو اس پر رسول اللہ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور ام الفضل نے دفن کیا تھا اور تم نے اسے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں مر گیا تو یہ مال جو دفن کیا گیا ہے بنی فضل ، عبداللہ اور قثم کا ہوگا۔ اس پر اس نے کہا : خدا کی قسم رسول خدا میں جانتا ہوں کہ آپ رسول خدا ہیں۔ یہ تو وہ راز ہے جو میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لہذا آپ لوگوں نے مجھ سے جو چوبیس اوقیہ مال لیا ہے اسے فدیہ کی رقم میں حساب کرلیں۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا : یہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو مال غنیمت تھا جو اللہ نے آپ سے ہمیں دلا دیا۔ اس پر عباس نے اپنا فدیہ دیا۔ اپنے دو بھتیجوں کا فدیہ بھی دیا اور اپنے حلیف کا فدیہ بھی دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " یا ایہا النبی قل لمن فی ایدیکم " " اے نبی تم لوگوں کے قبضے میں جو قیدی ہی ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کو معلوم ہو کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے ، تو وہ اس سے تمہیں بڑھ چڑھ کر دے جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا ، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ لیکن روشنی کی یہ کرن دکھاتے ہوئے اور امید کا دروازہ کھولتے ہوئے اللہ ان کو متنبہ بھی کرتا ہے کہ اگر انہوں نے رسول کے ساتھ خیانت کی تو پھر ان کا حال یہی ہوگا جو ہوا۔
Ayah 8:71انہوں نے اللہ کے ساتھ یوں خیانت کی کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا۔ اور اللہ وحدہ کو اپنا رب تسلیم نہ کیا حالانکہ اس نے ان کی فطرت سے یہ عہد لیا تھا۔ اور اگر انہوں نے حضور ﷺ سے بھی خیانت کا ارادہ کیا۔ حالانکہ اب وہ آپ کی قید میں ہیں تو ان کو پہلی خیانت کے نتائج پر غور کرنا چاہئے کہ اب وہ مسلمانوں کے ہاں قید ہیں اور اللہ نے ان کو رسول اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکین قید ہوئے تو ان میں سے بعض لووں نے اسلام کے متعلق بات کی۔ لیکن وہ دل سے مسلمان نہ تھے۔ اسلام کے بارے میں انہوں نے جو بات کی ، وہ بھی دو ٹوک نہ تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے قریب آجائیں لیکن مشرکین سے بھی دور نہ ہوں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر کوئی کافر ایمان کی بات کرے ، زبان سے اقرار بھی کرے لیکن وہ اس میں صاحب عزیمت نہ ہو تو وہ مومن تصور نہ ہوگا ، لیکن اگر مومنین میں سے کوئی اس قسم کی مذبذب بات کرے تو وہ کافر ہوگا۔ الا یہ کہ دل میں کوئی ایسا وسوسہ آجائے جو انسان کی قدرت سے ابہر ہوتا ہے ، کیونکہ اسے تو خود اللہ نے معاف کردیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے سامنے یہ حقیقت کھول دی ہے۔ و ان یریدوا خیانتک یعنی یہ بات اگر ان کی جانب سے بطور مکر و فریب اور خیانت ہے تو انہوں نے اس سے قبل بھی اللہ کی خیانت کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنایا ، اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوگئے۔ اگرچہ ان کی یہ بات برائے ظاہر داری اچھی ہے اور اللہ بھی جانتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بھلائی موجود ہے تو اللہ ان کو معاف کردے گا اور ان کے سابقہ کرتوتوں کو ساقط کردے گا۔