8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 8:11

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَؕ Open ayah 8:11 in the Quran reader

اور وہ وقت جب کہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بےخوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے

یہ غنودگی کا واقعہ بھی نہایت ہی عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت تھی اور جنگ سے قبل مسلمانوں پر طاری ہوگئی تھی۔ یہ صرف امر الہی اور اللہ کی خاص تدبیر اور تقدیر کا کارنامہ تھا۔ جب لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمانوں پر قدرے خوف طاری ہوگیا کیونکہ ان کی توقع نہ تھی کہ اس قدر عظیم لشکر امنڈ آئے گا۔ اور اس وجہ سے ان کی تیاری بھی نہ تھی ، اچانک انہیں غنودگی نے آ لیا۔ جب یہ غنودگی دور ہوئی تو وہ بالکل فریش اور تروتازہ تھے۔ ان کے دل اطمینان سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ حالات ان پر احد میں طاری ہوگئی تھی۔ لوگوں کے اندر بےچینی آگئی ، اور اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی۔ اور انہیں اطمینان ہوگیا ۔ میں ان آیات کو پڑھ کر گذر جاتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ دور ماضی کا ایک واقعہ ہے۔ میں اس واقعہ کے بارے میں قران کریم کے اس قصے کو پڑھتا اور یہ سمجھتا کہ اس کا راز اللہ ہی جانتا ہے جس نے ہمیں اس کی اطلاع دی ہے۔ لیکن جب مجھ پر مشکلات آئیں اور بعض لمحات نہایت ہی تنگی اور پریشانی کے بھی گذرے تو مجھے ان آایت کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ ایک بار میں نامعلوم خوف سے دوچار ہوگیا ، غروب شمس کا وقت تھا ، اچانک چند منٹوں کے لیے مجھ پر غنودگی آجاتی ہے اور جب یہ حالت دور ہوتی ہے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو اس غنودگی سے پہلے تھا۔ میرا نفس نہایت ہی پرسکون تھا۔ دل مطمئن تھا اور میں گہرے اطمینان میں غرق تھا۔ چند لمحات میں یہ عمل کیسے طے ہوگیا۔ یہ اچانک کس طرح انقلاب برپا ہوگیا۔ یہ میں نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات ضرور ہوگئی کہ قصہ بدر و احد میری سمجھ میں آگیا۔ اس واقعہ کے بعد میں اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اس قصے کو سمجھ لیا ، محض عقلی طور پر نہیں یہ اب میرے وجود میں ایک زندہ حقیقت تھی۔ محض تصور اور خیال نہ تھا۔ مجھے صاف نظر آیا کہ اس میں دست قدر کی کارفرمائی ہے اور نہایت ہی خفی طور پر مجھے اطمینان عطا ہوگیا۔ بدر کے دن جماعت مسلمہ کے لیے یہ غنودگی اللہ کی غیبی امداد تھی۔ اذ یغشکیم النعاس امنۃ ۔ اس وقت کو یاد کرو کہ تمہار رب اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بےخوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا۔ اس آیت میں یغشیکم النعاس اور امنۃ تینوں لفظ اس فضا پر ایک لطیف اور شفاف پرتو ڈالتے ہیں اور اس منظر کی عام فضا کی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے شب و روز کیا تھے اور یہ کہ مسلمانوں کے عام حالات کے مقابلے میں اور ان کی اس نفسیاتی کیفیت میں فرق کیا تھا۔ اب بارش کا قصہ ملاحظہ فرمائیں۔ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأقْدَامَ (11): اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے۔ یہ واقعہ معرکہ سے قدرے پہلے پیش ٓیا۔ اور یہ بھی امت مسلمہ کے لیے ایک قسم کی خاص امداد تھی۔ علی ابن طلحہ نے حجرت ابن عباس سے روایت کی ہے ، کہ یوم بدر میں حضور ﷺ نے جس جگہ پر قیام کیا اس کی پوزیشن یہ تھی کہ مشرکین اور پانی کے درمیان ایک ریت کا ٹیلہ تھا جو ایک پتھریلی جگہ تھی۔ اس دن مسلمان بہت ہی تھکے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی شروع کردی کہ تم دعویٰ تو یہ کرتے ہو کہ تم اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر اللہ کے رسول موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین پانی پر قبضہ کرچکے ہیں اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم حالت جنابت میں نماز پڑھتے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے شدید بارش برسائی۔ مسلمانوں نے پانی بھی پیا اور طہارت بھی حاصل کی اور اللہ نے شیطانی نجاست سے ان کو پاک کردیا۔ جب بارش ہوئی تو ریت بھی بیٹھ گئی اور لوگ اور جانور اس کے اوپر آسانی سے چلنے لگے۔ اس طرح وہ آگے بڑھے۔ ـاللہ نے نبی کو ایک ہزار فرشتوں کی امداد حضرت جبریل کی کمان میں پانچ صد فرشتے تھے جو ہر قسم کے سامان سے لیس تھے۔ اور میکائیل کی کمان میں بھی پانچ صد فرشتے تھے۔ یہ حالت اس وقت پیش آئی جب کہ حضور ﷺ نے حباب ابن منذر کے مشور پر کیمپ نہیں بدلا تھا۔ انہوں نے شمورہ دیا کہ مناسب یہ ہے کہ ہم بدر کے پانیوں کے قریب فروکش ہوں اور پانی کا حوض بنا کر مخالف کیمپ کا پانی بند کردیں۔ ” معروف یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو آپ نے ابتدائی اور پہلے پانی پر قیام کیا لیا۔ اس پر حباب ابن منذر آگے بڑھے کہ جس مقام پر قیام کا حکم دیا گیا ہے آیا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ہم اس میں رد و بدل کرسکتے ہیں اور یہ مقام بطور جنگی چال اور تدبیر ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ مقام محض جنگی سوچ کی بنا پر تجویز کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا پھر یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے فوجی کیمپ کے لیے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں آخری پانی پر لے چلیں جو مشرکین کے قریب ہے اور اس آخری پانی سے پیچھے جس قدر پانی ہیں ، ان کو ہم دشمن سے روک لیں گے۔ ہم خود پئیں گے اور مویشیوں کو پلائیں گے۔ یوں ہمارے پاس پانی ہوگا اور ان کے پاس پانی نہ ہوگا۔ اس پر حضور نے لشکر کو ایسا ہی کا حکم دیا اور اس مشورے پر عمل کیا۔ حباب ابن المنذر کے مشورے سے قبل کی رات میں مسلمانوں کی یہ حالت تھی جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بطور احسان اس جماعت سے کر رہے ہیں جو بدر میں شریک ہوئی۔ یہ جو امداد اللہ نے کی یہ دوسری امداد تھی۔ یہ روحانی بھی تھی اور مادی بھی تھی اس لیے کہ صحراؤں میں پانی پر زندگی موقوف ہوتی ہے۔ پانی فتح کا سامان ہوتا ہے اور صحراؤں میں جس لشکر کے پاس پانی نہ ہو وہ ذہنی طور پر شکست کھا جاتا ہے۔ اور روحانی اس طرح کہ مسلمان شیطانی وسوسوں سے بھی نکل آئے۔ وہ حالت جنابت میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس وقت تک ان کو تیمم کی اجازت بھی نہ تھی۔ یہ اجازت بہت بعد میں غزوہ بنی المصطلق میں دی گئی یعنی 5 ہجری میں۔ ایسے حالات میں شیطان نے نفسیاتی وسوسے ڈالے اور لوگوں کے اندر نفسیاتی اور روحانی بےچینی پیدا کردی تھی تاکہ جب یہ لوگ اس معرکے میں داخل ہوں تو روحانی اعتبار سے پریشان ہوں اور مادی شکست سے پہلے ان کو اندرونی طور پر شکست ہوچکی ہو اور وہ اندر سے ٹوت چکے ہوں۔ ایسے حالات میں اللہ کی یہ امداد خاص آئی ہے۔ ” وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأقْدَامَ (11): اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے “ یوں مادی امداد کے ساتھ ساتھ روحانی امداد بھی پوری پوری ہوجاتی ہے۔ پانی کی وجہ سے دلوں کو اطمینان ہوگیا اور روح کی پاکیزگی کی وجہ سے وہ تروتازہ ہوگئے۔ بارش کی وجہ سے ریت بیٹھ گئی اور قدم بھی مضبوط ہوگئے۔ یہ تدابیر اس کے علاوہ تھیں کہ اللہ نے فرشتوں کو خصوصی ہدایت دے دیں کہ تم اہل ایمان کے قدموں کو مضبوط کرو اور کفار کے دلوں میں ان کا رعب ڈالو ، اور فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ تم عملاً جنگ میں شرکت کرو۔
Ayah 8:12

اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓئِكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍؕ Open ayah 8:12 in the Quran reader

اور وہ وقت جب کہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ " میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں ، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ

یہ ایک عظیم معاملہ ہے ، اس معرکے میں فوج ملائکہ کے ساتھ خود اللہ بھی موجود ہیں اور ملائکہ اہل ایمان کی مدد کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم معاملہ ہے جو کسی صورت میں بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ سوچئے ! ملائکہ کس طرح شریک ہوئے ؟ انہوں نے کتنے افراد کو مارا ؟ کس طرح مارا ؟ یہ ایک عظیم معاملہ ہے اور بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جو جماعت اقامت دین کا کام کرتی ہے اس میں اس کے ساتھ ملائکہ شریک ہوتے ہیں اور ملائکہ اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ مخلوقات رب العالمین میں ایک مخلوق ایسی ہے جسے ملائکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت اور ماہیت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ہمیں صرف اس قدر علم دیا گیا ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ لہذا ہمیں اس کیفیت کا بھی علم نہیں جس کے مطابق اس مخلوق نے مومنین کی امداد کی۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ رب تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مومنین کے لیے ثابت قدمی کا باعث ہوں اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور انہوں نے یہ کام کیا ، کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے جو امر الہی کی پابند ہے۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ کام کیسے کیا ؟ اللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ کفار کی گردنوں پر وار کرو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر وار کرو تاکہ یہ کام کے ہی نہ رہیں اور انہوں نے ایسا کیا۔ لیکن کیسے کیا ؟ یہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں اسی قدر علم ہے جو اللہ نے بتایا۔ پھر اللہ کا حکم یہ تھا کہ کفار کے دلوں کے اندر رعب ڈالا جائے اور یہ ڈال دیا گیا اور ایسا کردیا گیا۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ہمیں اس کی کیفیات کا بھی علم نہیں ہے کیونکہ یہ کفار اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس پر کس طرح اثر ہوگا۔ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور وہ شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ ان افعال کی کیفیات سے بحث کرنا ، دین اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اور اس دین کی سنجیدگی کے ساتھ یہ طرز عمل لگا نہیں کھاتا۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ یہ ایک عملی دین ہے اور یہ عقیدہ اور نظریات و تصورات کو بھی عملی حد تک رکھتا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے علم الکلام کے اندر یہ مباحث زیادہ اہم ہوگئے اور یہ اس وقت ہوا کہ جب لوگ اسلام کے مثبت اور عملی کام سے فارغ ہوگئے اور علمی اور ثقافتی رنگ ان پر غالب ہوگیا۔ لیکن اصل بات تو یہ تھی کہ مسلمان میدان معرکہ ہوتے ، فرشتے ان کے ساتھ بزن کے عالم میں ہوتے اور فرشتوں اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتے تو یہ عملی صورت حال مسلمانوں کے لیے ، اس ثقافتی جدل وجدال سے زیادہ نفع بخش ہوتی۔
Ayah 8:13

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:13 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے

اس تقریر کے آخر میں اور اس عظیم اور ہولناک حقیقت کے انکشاف کے آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس معرکے کا پس منظر کیا تھا اور کن حقائق کی وجہ سے کسی کو نصرت ملی اور کسی کے حصے میں ہزیمت آئی۔ وہ عظیم پس منظر یہ تھا :۔ ” ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “ یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ اچانک پیش آگیا اور نہ ہی یہ اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اور چلا گیا۔ اللہ نے جماعت مسلمہ کی نصرت کی اور اسے اس کے دشمنوں پر مسلط کردیا اور اس کے دشمنوں کے دلوں کے اندر رعب بٹھا دیا۔ مسلح فرشتے ان کی امداد کے لیے پہنچ گئے۔ یہ اس لیے تھا کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے لیے وہ محاذ چن لیا جو اللہ کا محاذ نہ تھا اور وہ اللہ اور رسول کی مخالف صفوں میں چلے گئے۔ انہوں نے خدا اور رسول سے محاذ آرائی شروع کردی اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے رکاوٹ بن گئے تھے۔ ” وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “ یعنی ایسے لوگوں پر وہ سخت عذاب نازل کرتا ہے۔ اللہ اس قدر طاقتور ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے اور وہ اس قدر ضعیف ہیں جو اس عذاب کو برداشت کرنے کی قدرت اپنے اندر نہیں رکھتے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے ، اور اس کا اصول ہے۔ یہ کوئی اچانک یا کوئی حادثہ یا اتفاق نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ اس کرہ ارض پر جب بھی کوئی جماعت اس لیے اٹھے کہ وہ یہاں اللہ کے اقتدار اعلی کو قائم کرے گی اور یہاں صرف اسلامی نظام حیات قائم ہوگا اور اس جماعت کے خلاف اللہ کا کوئی دشمن اٹھ کھرا ہوا اور اس نے اس جماعت کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی اور ایسے لوگ قوت اور رعب و داب کے مالک بھی ہوتے تو اللہ کی مدد اس جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے بشرطیکہ یہ جماعت ثابت قدمی سے اپنے مقصد کی طرف گامزن ہو اور رب تعالیٰ کی راہ میں مطمئن ہو۔ اس پر توکل کرنے والی ہو اور اپنی راہ پر اس کا سفر جاری ہو۔
Ayah 8:14

ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ Open ayah 8:14 in the Quran reader

یہ ہے تم لوگوں کی سزا ، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے

اس منطر کے آخر میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے کہ یہ رعب اور پھر یہ ہزیمت جو تمہیں اس دنیا میں اٹھانی پڑی اس پر یہ بات ختم نہیں ہوگئی ہے کیونکہ یہ دین ، اس کا قیام اور اس کی جماعت صرف اس مختصر سے زمانہ دنیا پر ختم ہوجانے والا معاملہ ہی نہٰں ہے۔ یہ معاملہ اس دنیا اور اس کائنات سے بہت آگے تک جاتا ہے۔ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی پر بھی اس کے اثرات ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ” ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ : یہ ہے تم لوگوں کی سزا ، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے “۔ یہ ہوگا اصلی انجام اور یہ عذاب اس عذاب سے بہت ہی مختلف قسم کا اور زیادہ ہوگا جو تمہیں مرعوب کرکے اور تمہاری گردنوں پر اور جوڑوں پر ضربات لگا کر تمہیں دیا گیا۔ ۔۔۔۔ جنگ بدر کے واقعات اور حالات کی منظر کشی کے بعد اور یہ دکھانے کے بعد کہ اس کے پس منطر میں دست قدرت کام کر رہا تھا اور اللہ کی معاونت اور امداد اس میں شامل تھی اور یہ جان لینے کے بعد کہ مسلمان کو اس پوری تگ و دو میں دست قدرت کے لیے ایک پردہ تھے ، کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو گھر سے نکالا۔ یہ محض نمائش قوت کے لیے نہ نکلے تھے اور نہ ہی مظالم کے لیے نکلے تھے ، یہ اللہ ہی نے فیصلہ کیا کہ دو گروہوں میں سے کون سا گروہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور وہی ہے جس نے مجرموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تاکہ حق ، حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہ کرتے تھے اور یہ اللہ ہی تھا جس نے ان کی مدد کے لیے وہ فرشتے بھیجے جو لگاتار آ رہے تھے۔ پھر وہ اللہ ہی تھا جس نے ان پر غنودگی طاری کردی تھی اور آسمانوں سے ان پر پانی اتارا تاکہ ان کو پاک کردے اور ان کو شیطانی نجاست سے پاک کردے ان کے دلوں کو مطمئن کردے اور قدم مضبوط کردے۔ اور یہ اللہ ہی تھا کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے قدم مضبوط کردیں ، اور کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں اور وہ اللہ ہی تھا جس نے اس معرکے میں فرشتوں کو شریک کیا۔ ان کو حکم دیا کہ ان کی گردنوں پر ضربات لگاؤ اور ان کے جوڑوں میں چوٹیں لگاؤ اور پھر اللہ ہی تھا جس نے ان کو اموال غنیمت عطا کیے حالانکہ جب وہ گھر سے نکلے تھے تو ان کے پاس نہ مال تھا اور نہ سازوسامان تھا۔
Ayah 8:15

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَۚ Open ayah 8:15 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو

اب جبکہ سابقہ واقعات بیان ہوگئے تو اس حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنے کے لیے دوبارہ بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ ان کی نظروں کے سامنے رہے کہ فیصلہ کن جنگ صرف سازوسامان اور زاد و عتاد پر موقوف نہیں ، بلکہ اس میں نصرت الٰہی اور اللہ کی تدبیر اور مشیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اس راہ میں اصل سازوسامان توکل علی اللہ ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف التجا اور اللہ کے ہاں فریاد وزاری اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر اس میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔ یہ منظر ابھی تک ان لوگوں کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ ایسے حالات اور ایسا ماحول اس بات کے لیے نہایت ہی مناسب ہوتا ہے اور اس میں بات مانی جاتی ہے۔ چناچہ ایسے ماحول میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان کی صفت ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ جب کفار کے بالمقابل کھڑے ہوں تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور فرار اور ہزیمت کو ہرگز قبول نہ کریں۔ خصوصاً جبکہ نصرت اور ہزیمت اللہ کے اختیار میں ہوتی ہے اور اس پر تمہارا ایمان ہے۔ نصرت اور ہزیمت کا فیصلہ صرف اسباب ظاہریہ پر ہی نہیں ہوتا ، خصوصاً جبکہ کسی معرکے کی تدبیر اور کمان خود اللہ نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہو۔ جیسا کہ تمام امور کی تدبیر وہی کرتا ہے اور وہی ہے جو مومنین کے ہاتھوں کفار کو قتل کراتا ہے۔ وہی ہے جو تیرے کو نشانے پر بٹھاتا ہے۔ اہل ایمان تو دست قدرت کے لیے ایک پردہ اور بہانہ ہیں اور اللہ اس بہانہ سے انہیں جہاد کا ثواب عطا کرتا ہے اور کافروں کو مسلمانوں کی نسبت سے مرعوب کرتا ہے۔ ان کی تدبیر کی چولیں ڈھیلی کرتا ہے اور دنیا و آخرت میں انہیں عذاب سے دوچار کرتا ہے اس لیے کہ وہ درحقیقت اللہ اور رسول سے محاذ آرائی کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔ ” يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو “ قرآن نے اس معاملے میں جو سخت انداز گفتگو اختیار کیا ہے اور سخت سزا تجویز کی ہے اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ جو شکست کھاتے ہوئے بھاگے وہ غضب الہی کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ یہ ڈراوا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم حالت ” زحف “ میں ہو یعنی جنگ میں دوبدو مقابلہ آن پڑے تو اس وقت فرار اختیار نہ کرو الا یہ کہ یہ فرار کسی جنگی چال کی صورت میں ہو ، کہ تم بہترین مواقع کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو یا کوئی اور بہترین منصوبے کی خاطر فرار کا حکم دیا گیا ہو۔ یا تم کسی دوسری جنگی کمپنی سے ملنے کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو۔ یا تم جنگی ہیڈ کو ارٹرز کی طرف بھاگ رہے ہو تاکہ دوبارہ حملہ کرسکو۔ ان حالات کے سوا کسی اور صورت میں اگر تم دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے تو تم عذاب کے مستحق بن جاؤگے تم پر اللہ کا غضب ہوگا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ بعض اقوال ایسے منقول ہوئے ہیں کہ یہ حکم صرف اہل بدر کے لیے تھا یا ایسے غزوات کے لیے تھا کہ جن میں حضور اکرم ﷺ بذات خود شریک ہوا کرتے تھے لیکن جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت اور حکم عام ہے اور یہ کہ دو بدو مقابلے سے بھاگنا ان سات گناہ ہائے کبیرہ میں سے ایک ہے جن کے بارے میں حضور نے لفظ ” مولفات “ استعمال کیا ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا سات ان گناہوں سے اجتناب کرو جو مولفات ہیں۔ کہا گیا حضور وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا الشرک باللہ ، سحر ، ایسے شخص کا قتل جس کا قتل حرام ہو ، اکل ربا ، اکل مال یتیم ، دو بدو جنگ میں پیٹھ پھیرنا اور محض بیخبر مومن عورتوں پر الزام لگانا۔ امام ابوبکر الجصاص نے احکام القرآن میں اس کے بارے میں تفصیلات دی ہیں یہاں ان پر نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ ” اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ “ ابو نضرہ نے اوب سعید سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ یوم بدر کے معاملے میں تھا کیونکہ اس دن وہ بھاگ کر کس سے ملتے ؟ صرف یہ صورت تھی کہ وہ مشرکین سے ملتے۔ کیونکہ مسلمان تو ان کے سوا کوئی تھا نہیں۔ اور حجور نے سب لوگوں کو حکم نہ دیا تھا کہ وہ نکلیں ، اور نہ ان لوگوں کی رائے تھی کہ جنگ ہوجائے۔ سب کا خیال یہ تھا کہ قافلے کے ساتھ ہی مڈ بھیڑ ہوگی۔ حضور ایک خفیف سی قوت لے کر نکلے۔ لہذا ابو نضرہ کا کہنا کہ اس دن ان لوگوں کے سوا اور کوئی مسلمان نہ تھا اور اگر وہ بھاگتے تو صرف کفار کی طرف بھاگ جاتے ، غلط ہے اور دلیل وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جنگ بدر کے دن ان کے لیے بھاگنا اور پیٹھ پھیرنا اس لیے جائز نہ تھا کہ اس دن حضور ﷺ ان میں موجود تھے اور حضور کو چھوڑ کر بھاگنا جائز نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبو بانفسہم عن نفسہ : اہل مدینہ اور اس کے ماحول میں رہنے والے اعراب مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو چھور کر بیٹھے رہتے اور اس کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے “۔ اس لیے ان کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ اپنے نبی کو ناکام بناتے اور اسے چھور کر دشمن کے حوالے کردیتے۔ اگرچہ اللہ اس کا کفیل تھا اور ان کا مددگار تھا۔ اس نے ذمہ داری قبول کی تھی کہ اسے کافروں سے بچائے گا۔ جیسا کہ کہا گیا واللہ یعصمک من الناس۔ اللہ ٓپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ لہذا ان پر حضور کی مدد کرنا فرض تھا۔ چاہے دشمن زیادہ ہو یا قلیل ہو۔ اور ان لوگوں کی دلیل یہ بھی ہے کہ اس دن حجور ہی ایک دستہ تھے اور جنگ میں پیٹھے پھیرنا اس شرط پر جائز تھا کہ وہ مجاہدین کی کسی دوسری کمپنی کی طرف پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ حضور اس دن واحد گروہ تھے ، کوئی اور گروہ بدریوں کے علاوہ کسی جگہ تعینات نہ تھا۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں تھا۔ لوگوں نے یکبارگی حملہ کیا اور ہم مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ ہم نے کہا کہ ہم تو بھاگنے والوں میں سے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لیے فئہ ہوں۔ اس لیے جو شخص نبی ﷺ سے دور ہو اور وہ واپس آجائے تو اس کا نبی ﷺ کے پاس واپس ہونا جائز ہے۔ اور اگر حضور جنگ میں موجود ہوں تو پھر کوئی ایسا گروہ موجود نہ ہوگا جس کے ساتھ ملنے کے لیے فوجیوں کے لیے بھاگنا جائز ہو۔ وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ۔ اور جو شخص اس دن پیٹھ کفار کی طرف پھیرے گا۔ اس آیت کے بارے میں ابن الحسن کہتے ہیں کہ اہل بدر پر بہت ہی سختی سے احکامات نافذ کرائے گئے اور یہ آیت ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا۔ وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دو فوجوں کا آمنا سامنا ہوا ، ان کو شیطان نے ان کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے پھسلا دیا۔ اس لیے کہ یہ لوگ حضور سے بھاگ گئے تھے۔ نیز حنین کی جنگ میں بھی یہ لوگ نبی ﷺ کو چھور کر بھاگ گئے تھے۔ اس لیے اللہ نے اس فعل پر ان کو سزا دی۔ ” ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا و ضاقت علیکم الارض بما رحبت ثم و لیتم مدبرین۔ اور حنین کے دن کو یاد کرو جب تمہاری کثرت نے تمہیں غرور میں ڈال دیا تھا لیکن اس کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو یہ تھا حکم اس حالت کے لیے جب حضور ان کے ساتھ تھے۔ چاہے دشمن کم ہو یا زیادہ۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رعایت نہیں دی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا : اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھارو ، اگر تم میں بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا کہ حضور ﷺ ان کے پاس نہ ہوتے ، واللہ اعلم۔ ایسے حالات میں پہلے حکم یہ تھا کہ بیس دو سو سے مقابلہ کریں گے اور میدان چھوڑ کر نہ بھاگیں گے اور اگر دشمن اس تعداد سے زیادہ ہو تو پھر بہترین صورت میں حملے کے لیے پیچھے ہٹنا جائز ہوگا۔ لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اور دوسری آیت نازل ہوئی۔ ” الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ : اچھا اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا ، اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو وہ تو دوہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے “ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ پہلے فرض یہ کیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس سے نہیں بھاگے گا۔ پھر اسے کم کردیا گیا اور کہا گیا کہ الئٰن خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا : اچھا رب نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے۔ اب فرض یہ عائد ہوا کہ ایک صد دو صد سے نہ بھاگیں گے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اب حکم یہ ہے کہ اگر ایک شخص دو سے بھاگے تو یہ فرار ہوگا اور اگر کوئی تین کے مقابلے میں بھاگ جائے تو فرار نہ ہوگا۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہاں فرار سے مراد وہ فرار ہے جو اس آیت میں مقصود ہے۔ ٓآیت نے یہ فرض کیا ہے کہ ایک آدمی دو کے مقابلے میں ڈٹ جائے گا اور اگر دو سے زیادہ تعداد ہو تو پھر مجاہد کے لیے دوبارہ جنگ کی تیار کی نیت سے اور فوج کے ساتھ ملنے کی غرض سے فرار جائز ہے۔ لیکن اگر ایک شخص ایسے غیر مسلم مسلمانوں کی طرف فرار کرتا ہے تو بھی وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جو اس آیت میں وارد ہے۔ کیونکہ آیت میں حکم ہے : وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر مسلمان کے لیے دوسری فوج (فئہ) ہوں۔ حضرت عمر ابن الکطاب وک جب معلوم ہوا کہ ابو عبید ابن مسعود نے ایک لشکر کے ساتھ جنگ کی اور شہید ہوگئے لیکن بھاگے نہیں تو انہوں نے کہا ” اللہ ابو عبید پر رحم کرے اگر وہ میری طرف واپس آجاتا تو میں اس کے لیے دوسری فوج ہوتا۔ اور جب ابو عبید کے ساتھی واپس آئے تو حضرت عمر نے کہا میں تمہارے لیے دوسری فوج ہوں۔ آپ نے ان رپ کوئی سختی نہ کی اور نہ باز پرس کی۔ یہی حکم ہمارے ہاں ہے (یعنی حنفیہ کے نزدیک جب تک مسلمانوں کی فوج کی تعداد 21 ہزار تک نہیں پہنچ جاتی کیونکہ 21 ہزار کے لیے اپنے مقابلے میں ہٹنا جائز نہیں ہے۔ اگر ان کی تعداد دگنی ہو الا یہ کہ وہ جنتگی چال کے طور پر ایسا کریں جنگی چال یہ کہ وہ ایک مورچے سے دوسرے مورچے میں چلے جائیں ، یا کوئی دوسری چال اختیار کریں جس میں جنگ سے فرار کا عنصر نہ ہو۔ یا دوسری فوج اور یونٹوں سے ملیں۔ محمد ابن الحسن سے مذکور ہے کہ اگر فوج 21 ہزار تک پہنچ جائے تو اس پر فرض ہے کہ ہر صورت میں دشمن کا مقابلہ کرے۔ اس بارے میں حنفیہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حنفیہ نے حدی زہری سے استدلال کیا ہے جو انہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے حضور سے یہ روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اچھے ساتھی چار ہیں اور اچھے فوجی دستے چار سو ہیں اور اچھے لشکر چار ہزار ہیں اور 21 ہزار افراد کے لشکر کو قلیل نہ سمجھا جائے گا اور نہ ہی وہ مغلوب ہوں گے “ بعض روایات کے الفاظ یہ ہیں : ” کہ تم میں سے کوئی قوم بھی اگر 21 ہزار ہو تو مغلوب نہ ہوگی بشرطیکہ کہ اس میں اتحاد ہو “ امام طحاوی نے یہ نقل کیا ہے کہ امام مالک سے پوچھا گیا : ” کیا ہمارے لیے ایسے شخص کے خلاف جہاد و قتال سے رکنا جائز ہے جو احکام الہی کی پیروی نہیں کرتا اور اللہ کے سوا دوسروں کے احکام کے مطابق فیصلے کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تمہارے جیسے 21 ہزار افراد موجود ہوں تو پیچھے ہٹنا منع ہے۔ اور اگر اس قدر افراد نہ ہوں تو تمہارے لی گنجائش ہے کہ قتال نہ کرو “۔ اور یہ سائل عبداللہ ابن عمر ابن عبدالعزیز تھے۔ ابن عبداللہ ابن عمر تھے۔ اور یہ بات اس رائے کے مطابق ہے جو محمد ابن الحسن سے نقل کی گئی۔ نبی ﷺ سے 12 ہزار کے بارے میں جو روایت ہے وہ اس موضوع پر اصل اور اصول ہے۔ اگرچہ کافروں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ فرار اختیار کریں۔ اگرچہ وہ ان سے کئی گنا زیادہ ہوں کیونکہ حضور نے جو شرط لگائی ” اگر ان کے اندر اتحاد ہوـ تو اس سے حضور اکرم ان پر اتحاد کرنا فرض کردیا ہے۔ اس طرح ابن عربی نے بھی اپنی کتاب احکام القرآن میں یہ تفصیلات دی ہیں۔ انہوں نے اس حکم کے بارے میں یہ کہا ہے : اس بارے میں اختلاف ہے کہ جنگ کے میدان سے فرار کی ممانعت یوم بدر کے لیے مخصوص تھی یا قیامت تک یہی حکم ہے۔ ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ یہ ممانعت یوم بدر کے ساتھ مخصوص تھی۔ کیونکہ اس دن کے لیے دوسری فوج صرف رسول اللہ کی ذات ہی تھی۔ یہی رائے نافع ، حسن ، قتادہ ، یزید ، ابن حبیب اور ضحاک کی ہے۔ ” حضرت ابن عباس اور تمام دوسرے علماء سے یہ روایت ہے کہ یہ حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے اور جن لوگوں نے اسے یوم بدر کے ساتھ مخصوص کیا ہے انہوں نے ومن یولہم یومئذ دبرہ سے استدلال کیا ہے کہ اس سے مراد بدر ہے حالانکہ یومئذ سے مراد یوم الزحف ہے یعنی مطلق جنگ کا دن۔ ” اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ آیات یوم بدر کی قتال کے بعد نازل ہوئیں اور ان کے نزول کے وقت جنگ بدر ختم ہوچکی تھی۔ اور اس دن جو ہونا تھا ، وہ ہوچکا اور نبی صلی اللہ سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم حدیث نقل کر آئے کہ کبائر یہ ہیں۔ اور ان میں سے جنگ کے دن بھاگنے کو بھی شمار کیا گیا اور یہ اس مسئلہ پر نص صریح ہے جس کے بعد اختلاف رفع ہوجانا چاہیے اور ہم نے اس نکتے پر متنبہ کردیا ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو یہ اشکال پیش آیا کہ اس سے مراد یوم بدر ہے۔ ہمارے خیال میں ابن عربی نے تمام علماء کی جو رائے نقل کی ہے اور ابن عباس سے بھی وہی منقول ہے ، ہم بھی اسی کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جنگ کی صفوں سے بھاگ نکلنا ایک نہایت ہی برا فعل ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحریکی اعتبار سے بھی اور اعتقادی اور نظریاتی اعتبار سے بھی۔
Ayah 8:16

وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 8:16 in the Quran reader

جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے

مومن کا دل و دماغ نہایت ہی پختہ ہونا چاہیے ۔ اس طرح کہ وہ زمین کی کسی بھی قوت کے سامنے متزلزل نہ ہو اور اس کا رابطہ ایسی قوت کے ساتھ ہونا چاہیے جسے اپنے امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ بندوں کے اوپر مکمل غلبہ رکھتی ہو اور جب کسی مومن کا دل و دماغ خطرات کو دیکھ کر متزلزل ہوگیا تو یہ تزلزل فرار پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے ڈر سے پیٹھ پھیرے۔ یہ حکم ایسا نہیں ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم دیا جا رہا ہے ، کیونکہ مومن بھی انسان ہے اور اس کا دشمن بھی انسان ہے۔ اس لحاظ سے وہ گویا ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں۔ پھر مومن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ربط ایسی قوت کے ساتھ ہے جس پر کوئی غالب نہیں ہے۔ اگر وہ زندہ ہے تو پھر وہ اللہ کا بندہ ہے اور اسی طرف متوجہ ہے اور اگر مر گیا تو بھی اللہ کی طرف لوتنے والا ہے۔ اگر اس کے لیے شہادت رکھ دی گئی ہے تو بھی وہ اس پوزیشن سے بہت اچھی ہے ، جو اس کے دشمن کی ہے کیونکہ دشمن تو اللہ اور رسول اللہ کے مقابلے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قطعی حکم دیا جاتا ہے۔ وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔ ۔۔۔ یہاں قرآن کریم نے جو اسلوب گفتگو اپنایا ہے اس میں بہت سے اشارات ہیں۔ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ۔ اوروَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ۔ یہ در اصل ہزیمت اور شکست کی حسی تعبیر ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ دیا گیا ہے بھاگنے والوں کا۔ اور یہ تصور دیا گیا ہے کہ دشمن کو منہ دکھانا چاہیے مقعد نہیں۔ پھر فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ گویا شکست کھانے والا در اصل پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے ساتھ غضب الہی ہوتا ہے اور یہ غضب الہی اسے جہنم تک لے جاتا ہے جو برا ٹھکانا ہے۔ وماواہ جہنم وبئس المصیر۔ یوں انداز کلام میں بھی جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی منظر کشی اس طرح کی گئی ہے جس سے اس فعل کی قباحت اور کراہت بالکل واضح معلوم ہوتی ہے اور کوئی غیرت مند شخص اسے پسند نہیں کرتا۔ جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی ممانعت کے بعد اب سیاق کلام میں یہ حقیقت بتائی جاتی ہے کہ اس معرکے کے پیچھے در اصل دست قدرت کام کر رہا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دشمنوں کو قتل کیا۔ وہی ہے جو تمہارے تیر کو درست نشانے پر پہنچاتا ہے۔ اور تمہیں جو اجر دیا جاتا ہے وہ تو محض اس لیے ہے کہ اہل ایمان اس آزمائش میں کامیاب رہے اور انہوں نے جدوجہد کی اور اللہ نے ان کو اس ثواب کا مستحق بنایا اور اجر عطا کیا۔
Ayah 8:17

فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ١۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى١ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 8:17 in the Quran reader

پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور اے نبی تونے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقیناً اللہ سننے اور جاننے والا ہے

روایات میں آتا ہے کہ اس مارنے سے وہ مارنا مراد ہے کہ حضور نے کنکریاں اور ریت ہاتھ میں لیں اور انہیں کفار کے لشکر کی طرف پھینکا اور حضور نے اس وقت یہ الفاظ کہے شاھت الوجوہ۔ شاھت الوجوہ۔ ان کے چہرے بد شکل ہوجائیں ، قبیح ہوجائیں۔ اور یہ آیت اور کنکریاں ان چہروں پر جا کر لگیں جن کا اس جنگ میں قتل ہونا مقدر تھا۔ لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بظاہر نبی ﷺ اور لشکر اسلام جو کچھ کر رہا تھا ، اس کے پیچے دست قدرت کام کر رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آیت میں یہ فقرہ ہے : وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۔ تاکہ مومنین کو اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ یعنی تاکہ وہ مومنین کو آزمائش کا یہ موقعہ دے اور اس پر وہ اجر کے مستحق ہوجائیں جبکہ فتح تو اس نے لکھ دی تھی۔ گویا یہ کامیابی ہر حال میں مزید اجر کا باعث تھی ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ وہ تمہاری دعاؤں کو سن رہا تھا ، اور تمہارے حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔
Ayah 8:18

ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 8:18 in the Quran reader

یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے

یہ سب معاملہ تو یہ تھا کہ تمہیں اس نے اپنی قدرت کے لیے ایک راہ بنایا۔ لیکن یہ اس وقت بنایا جب تم نے خلوص کا اظہار کردیا۔ اسی لیے اس نے تمہیں نصرت بھی دی اور تم اجر کے مستحق بھی ٹھہرے۔ ہمیشہ اللہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ اس نے بدر میں کیا۔ ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے دوسری امادا ہے ، اللہ کی تدبیر اس بات پر ختم نہیں ہوجاتی کہ وہ تمہارے دشمنوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے۔ اور تمہارے تیروں کو ٹھیک نشانے پر بٹھاتا ہے ، اور تمہارے لی آزمائش کا اچھا میدان فراہم کرتا ہے تاکہ وہ تمہیں اجر دے۔ وہ یہ کام بھی کرتا ہے کہ کفار جو جو سازشیں کرتے ہیں ان کے بند بھی ڈھیلے کرتا جاتا ہے اور ان کی تدابیر کو کمزور کرتا ہے۔ لہذا تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے اور اس معرکے میں اہل ایمان کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ مسلمانوں کی جانب سے پیٹھ پھیرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ چناچہ ان فقرات سے تمام سوالات کا جواب خود بخود سامنے آجاتا ہے۔ اگر اللہ خود کفار کو قتل کرتا ہے اور اگر اللہ خود تیر یا پتھروں کو مارنے والا ہے اور خود وہ یہ میدان آزمائش سجانے والا ہے تاکہ مسلمانوں کو انعام دے ، اور اگر وہ خود شمنوں کی تدابیر کو کمزور کرنے والا ہے ، تو پھر انفال اور اموال غنیمت کے بارے میں نزاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، کیونکہ معاملات کا اختیار بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آغاز و انجام بھی اسی کی تدابیر کے مطابق ہے۔ رہے انسان اور مسلمان تو وہ صرف تقدیر الہی کے نشانات و علامات ہیں۔
Ayah 8:19

اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ١ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ١ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَیْئًا وَّ لَوْ كَثُرَتْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:19 in the Quran reader

(ان کافروں سے کہہ دو ) ـاگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجاآ ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے ، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کروگے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو ، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے

جب بات یہاں تک پہنچی کہ ” اللہ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے “ یہاں سے روئے سخن کفار کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس معرکے سے پہلے ہی فیصلہ چاہتے تھے اور اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ دو مقابل فریقین میں سے جو گمراہ ہے ، یہ جنگ اس کے خلاف کردے۔ جو ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں ، اسے تباہ کردے اور جو صلہ رحمی کے خلاف ہے ، اسے ہلاک کردے۔ یہ دعاء ابوجہل نے کی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کا فیصلہ ان کے خلاف کردیا اور اب ان کو خطاب کرکے ان پر طنز کیا جاتا ہے کہ تم ہی تو تھے جو بد دعاء کرتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ بدر میں جو کچھ ہوا ، وہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہوا اور یہ کہ کفار کی کثرت اور اجتماع نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ کیونکہ اللہ کی سنت جاریہ کو وہ بدل نہ سکتے تھے اور اللہ مومنین کے ساتھ تھا۔ ۔۔۔ اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۔۔۔ تم یہ دعائے فیصلہ کرتے تھے کہ مسلمانوں اور مشرکوں میں سے جو بھی حق پر ہو ، اللہ یہ جنگ اس کے حق میں کردے یا یہ کہ فریقین میں سے جو گمراہ اور صلہ رحمی کے خلاف موقف اختیار کر رہا ہو اس کے خلاف کردے۔ اللہ نے یہ دعا قبول کرلی۔ جنگ تمہارے خلاف کردی۔ اس سے تمہاری بات کی تصدیق ہوگئی اور جنگ گمراہ تر فریق کے خلاف فیصل ہوگئی۔ اگر تم فی الواقعہ گمراہ فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، بھائی چارے کے خلاف فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، تو تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کون سا فریق ہے۔ لہذا تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم نتائج جنگ دیکھ کر اسلام کی طرف آجاؤ اور شرک و کفر کو ترک کردو اور مسلمانوں اور رسول اللہ کے خلاف معاندانہ رویہ چھوڑ دو ۔ اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ (ان کافروں سے کہہ دو ) ـاگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجاآ ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ اور کے بعد ایک ڈراوا بھی وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ـورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے۔ اور انجام سب کو معلوم ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں کثرت افواج فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی اور نہ نتائج اس طرح بدل سکتے ہیں۔ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۔ اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو ، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ اگر اللہ مسلمانوں کی طرف ہو تو کفار کی جمعیت کچھ بھی نہیں کرسکتی اور یہاں صورت یہ ہے : وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے کہ اس رنگ میں جو معرکہ ہوگا ، اس میں دونوں اطراف کی قوتوں کے درمیان کوئی توازن نہیں ہے۔ مومنین کے ساتھ اللہ ہے اور اللہ ان کے ساتھ صف میں ہوگا اور کفار کے ساتھ صرف ان ہی جیسے آدمی ہیں۔ یہ دوسری صف میں ہوں گے اور ایسے فریقین کے درمیان معرکے کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہے۔ مشرکین عرب بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے تھے۔ اللہ کے بارے میں ان کا تصور اور معرفت اس قدر سطحی نہ تھی اور نہ پیچیدہ تھی جس طرح بعد کے ادوار میں کفار نے اللہ کے بارے میں سطحی نظریات اختیار کیے۔ کیو کہ عربوں کا شرک اس نوعیت کا نہ تھا کہ وہ ذات باری کے صاف منکر ہوں۔ نہ یہ کہ وہ حقیقت سے بالکل بےبہرہ ہوں۔ ان کا شرک صرف یہ تھا کہ وہ عبودیت اور بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص نہ کرتے تھے اس طرح کہ وہ ہدایت اور قوانین صرف اللہ سے اخذ کرتے ہوں۔ اس قدر شرک بھی در اصل ان کی معرفت الوہیت کے ساتھ لگا نہ کھاتا تھا۔ اس سے قبل ہم اس معرکے واقعات میں یہ بات نقل کر آئے ہیں کہ خفاف بن ایما ابن رحضۃ الغفاری یا ان کے والد ایما ابن رحضۃ الغفاری نے لشکر قریش کو اپنے بیتے کے ہاتھ کچھ مویشی دے کر بھیجا اور یہ مویشی بطور ہدایہ ان کو دیے۔ اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اسلحہ اور جوان بھی دے دوں۔ قریش نے اس کے بیٹے کے ذریعے یہ جواب دیا کہ ” تم نے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا اور تم پر جو فرض تھا وہ تم نے ادا کردیا۔ خدا کی قسم اگر ہماری جنگ انسانوں سے ہو تو ہم اس قدر کمزور نہیں ہیں اور اگر ہماری جنگ خدا کے ساتھ ہو۔۔ جیسا کہ محمد خیال کرتے ہیں۔۔ تو اللہ کے مقابلے میں کوئی انسان نہیں لڑ سکتا “۔ اسی طرح کی ایک بات اخنس ابن شریق کی کتب سیرت میں موجود ہے۔ انہوں نے بنی زہرہ سے کہا اور یہ دونوں اس وقت مشرک تھے ” اے بنی زہرہ ، اللہ نے تمہارے اموال کو بچا لیا اور تمہارے ساتھی مخرقہ ابن نوفل بسلامت آگئے۔ اور خود ابوجہل (جسے حضور ﷺ نے امت مسلمہ کا فرعون قرار دیا ، کی ایک دعا کتب سیرت میں منقول ہے : ” اے اللہ ہم میں سے جو بھائی چارے کے خلاف ہے ، اور ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں تو کل اس کے دشمن بن جائیں “۔ اسی طرح حکیم ابن حزام کا قول ، جب ان کے پاس عتبہ ابن ربیعہ کا پیغام آیا کہ اس جنگ سے لوٹ آؤ۔ اس نے کہا : ” خدا کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہم واپس نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ نہ کردے “۔ ذات باری کے متعلق ان کا یہ تصور بہرحال تھا اور ہر موقعہ پر وہ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے تھے۔ یہ بات نہ تھی کہ وہ ملحد تھے اور خدا کو مانتے اور جانتے نہ تھے۔ یا یہ نہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کرسکتا۔ یا وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ فریقین میں فیصلہ کرنے والا اللہ ہے اور اس کے حکم کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے شرک کی ابتداء یہاں سے ہوئی تھی کہ وہ نظام زندگی کے بارے میں ہدایات صرف اللہ سے نہ لیتے تھے ، غیر اللہ سے بھی لیتے تھے حالانکہ وہ ذات باری کا بھی جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، اعتراف کرتے تھے۔ اور یہ وہ بات ہے جس میں آج کے مسلمان اور اس وقت کے مشرک برارب ہیں۔ حالانکہ آج کے مسلمان یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ دین محمد پر ہیں جبکہ اس وقت کے مشرکین مکہ میں یہ عقیدہ رکھتے تھے اور اس بات کے مدعی تھے کہ وہ اپنے باپ ابراہیم کے دین پر ہیح۔ اور یہی وجہ ہے کہ ابوجہل ، ابوجہل ہونے کے باوجود اللہ سے فیصلہ طلب کر رہا تھا۔ ” اے اللہ ، ہم میں سے جو زیادہ بھائی چارے کے خلاف ہو ، اور جس کی بات زیادہ عرف کے خلاف ہو ، کل اس کے دشمن بن جائیں “ یہ تھے اس کے الفاظ۔ رہے وہ بت جن کے بارے میں یہ بات متعارف ہے کہ وہ ان کی پرستش کرتے تھے ، ان کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ تھا کہ وہ بھی اسی طرح الہ میں جس طرح اللہ الہ ہے ، خدا کے بارے میں ان کے اعتقادی تصورات کے بارے میں قرآن کریم نے یہ تصریح کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے تھے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : والذین اتخذوا من دونہ اولیاٗ مانعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا اوروں کو ولی بنایا (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ یہ تھا ان کا تصور الہ یعنی یہ الہ ان کے سفارشی ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو ان کا حقیقی شرک یہی تھا کہ وہ اپنے معبودوں کو اللہ کے دربار میں سفارشی تصور کرتے تھے اور نہ ان کا اسلام صرف یہ تھا کہ وہ ان سفارشیوں کا انکار کردیتے تھے ، ورنہ وہ لوگ جو حنفاٗ کہلاتے تھے اور جو بتوں کو نہ پوجتے تھے وہ مسلمان تصور ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اعتقاد اور عمل میں اللہ وحدہ کو حاکم تصور کیا جائے ، اور جو لوگ اللہ کو وحدہ حاکم اور مطاع تصور نہیں کرتے وہ چاہے جس زمان و مکان میں ہوں ، وہ شرک میں ہیں۔ ان کو اس شرک سے ان کا یہ عقیدہ نہیں نکال سکتا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے یعنی محض اعتقادی تصور اور صرف یہ بات بھی ان کو شرک سے نہیں نکال سکتی کہ وہ بندگی کے مراسم صرف اللہ کے سامنے بجا لائیں کیونکہ اس حد تک آج کے مسلمانوں کو صرف حنفاء جاسکتا ہے۔ مسلمان ، مسلمان تب تصور ہوں گے جب اسلام کے تمام حلقوں اور کڑیوں کو ملا سکیں۔ یعنی وہ اللہ کو ایک سمجھنے اس کی عبادت بجا لانے اور اسے الہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حاکمیت کا اقرار بھی کریں۔ اس کے احکام ، اس کے قوانین ، اس کی مقرر کردہ اقدار کو تسلیم کریں۔ صرف یہی اسلامی حقیقی اسلام ہے اور یہی اسلام کلمہ شہادت میں بیان ہوا ہے۔ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا یہی مفہوم ہے۔ اور یہی مفہوم اسلامی عقائد اور اسلامی معاشرے میں معروف اور معتبر ہے۔ اس کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لوگ جو اس مفہوم کے اعتبار سے کلمہ طیبہ کا اقرار کریں وہ ایک اجتماعی شکل میں منظم اور متحرک ہوں اور ان کی اپنی مسلم قیادت ہو اور وہ تمام جاہلی آلودگیوں سے اس طرح نکل کر باہر آجائیں جس طرح مکھن سے بال نکل آتا ہے۔ جو لوگ حقیقتاً مسلمان بننا چاہتے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں۔ اس لیے ان کو اس بات سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ وہ محض عقیدے یا محض مراسم عبودیت کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہیں۔ صرف ان باتوں سے لوگ حقیقی مسلمان نہیں بن جاتے ، جب تک وہ اللہ وحدہ کو اپنا حاکم تصور نہ کریں۔ اور تمام دوسرے لوگوں کی حاکمیت کا اقرار نہ کردیں۔ اور جب تک وہ پنی تمام ہمدردیاں اور دوستیاں جاہلی معاشروں سے واپس نہیں لے لیتے۔ یہ غلط فہمی بہت سے مخلص اور نیک مسلمانوں کو لاحق ہے۔ در اصل ایسے مخلص لوگ فی الحقیقت اسلام چاہتے ہیں لیکن وہ دھوکے میں مبتلا ہیں ، لہذا ایسے مخلص مسلمانوں کا فرض ہے کہ پہلے وہ اسلام کی ماہیت کے بارے میں ذہنوں سے غلط فہمی دور کردیں اور یہ معلوم کرلیں کہ جن لوگوں کو وہ مشرکین عرب کہتے ہیں وہ عقائد اور اعمال میں وہ ان سے مختلف نہ تھے وہ اللہ کی ذات کو مانتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ، اپنے بتوں کو وہ اللہ کے ہاں سفارش تصور کرتے تھے۔ ان کا اصلی شرک ، شرک فی الحاکمیت تھا ، اعتقادی نہ تھا۔ جب عام مخلص مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسلام کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھیں تو پھر وہ لوگ جو اقامت دین کا کام کرتے ہیں اور عالم واقعہ میں اسلامی نظام زندگی اور اللہ کی حاکمیت کا احیاٗ چاہتے ہیں ان پر تو فرض ہے کہ اس حقیقت کو نہایت ہی واضح طور پر اور اس کی گہرائی تک سمجھیں۔ اور اس بارے میں وہ کوئی مجمل بات نہ کریں اور نہ شف شف کریں۔ لوگوں کو دو ٹوک انداز میں اور واضح طور پر بتا دیں کہ حقیقی اسلام یہ ہے۔ یہ ان کے کام کا نقطہ آغاز ہے۔ اگر کوئی تحریک اس سے ادنی انحراف بھی کرے گی تو وہ گمراہ ہوجائے گی اور وہ غلط اساسوں پر تعمیر شروع کردے گی۔ اگرچہ اس کے رکن مخلص ہوں اور تحریک خود عظیم جدوجہد کرنے والی ہو۔
Ayahs 8:20–23

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ Open ayah 8:20 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 8:21 in the Quran reader

ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 8:22 in the Quran reader

یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 8:23 in the Quran reader

اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنواتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔ یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟ وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔ وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔