8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 8:72–73

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام مٰں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ، جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

جو لوگ منکر حق ہیں ، وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا

تفسیر آیات 72 تا 75:۔ اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ مشترکہ زبان اور مشترکہ اقتصادی نظام کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ یہ نظام نہ رشتہ داری کا نظام ہے ، نہ وطنیت ہے ، نہ قومیت ہے اور نہ اقتصادی مصالح کا نام ہے۔ بلکہ یہ نظام ایک نظریے پر بنا ہے۔ یہ ایک رسول کی قیادت پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک تحریک کا نام ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر دار ہجرت میں آگئے ، اور انہوں نے اپنے تمام زمینی رشتے کاٹ دیے ، اپنی زمین کو چھوڑ دیا ، قوم کو چھوڑ دیا ، مفادات کو چھوڑ دیا اور اپنے مالوں اور اپنی جان کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور امداد دی اور وہ ان لوگوں کے قریب ہوگئے ، نظریات کی وجہ سے ، اور انہوں نے اسلامی قیادت کو قبول کرکے تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ولی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اسلامی عقیدے کے قبول کرنے کے بعد وہ اس عقیدے کے لیے وقف نہ ہوئے اور اس عقیدے کے نظام کو قبول نہ کیا اور اجتماعی تحریک کی قیادت کے احکامات قبول نہ کیے ، کیونکہ اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے نظریاتی دو افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وراثت سے زیادہ اہم ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں کفار ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی ہیں۔ یہ ہیں وہ اہم خطوط جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت اٹھتی ہے۔ اور ان لائنوں پر افراد معاشرہ کے درمیان تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں جیسا کہ ان قرآنی آیات میں ضبط کیا گیا ہے۔ یوم بدر تک اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے درمیان ولایت کی نوعیت یہ تھی کہ ان کے درمیان توارث اور تکافل کے تعلقات تھے اور وہ اس کے تحت دیت ادا کرتے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی نصرت اور اخوت کی ولایت قائم تھی اور یہ ولایت قرابت ، نسبت اور خون کی ولایت کے قائم مقام تھی۔ لیکن جب یوم بدر کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو استحکام بخش دیا اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تو ولایت اور نصرت رہ گئی اور میراث اور دیات میں تکافل کو اسلامی معاشرے کے اندر خورنی رشتوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس آیت میں جس ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جسے اس ولایت کے لیے شرط قرار دیا گیا خواہ ولایت عامہ ہو یا خاصہ ہو ، تو اس سے مراد دار الشرک سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہے جس کی استطاعت ہو ، جو لوگ ہجرت کرسکتے ہیں اور نہ کریں اور اس لیے نہ کریں کہ انہیں دار الشرک میں مفادات اور رشتہ داریاں عزیز ہوں تو ایسے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ اور یہی مسئلہ ان دیہاتی لوگوں کا تھا جو اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن ایسے ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس قسم سے بعض لوگ مکہ میں بھی تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اللہ نے ان کی نصرت لازم کی ہے بشرطیکہ وہ نصرت طلب کریں اور ان کی جس قوم کے ساتھ دشمنی ہو ، مسلمانوں اور اس قوم کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کا عہد و پیمان اور اس کا تحریکی منصوبہ انفرادی ضرورتوں سے زیادہ اہم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکور احکام و ضوابط سے اسلامی معاشرے کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوجاتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی ترجیحات کیا ہیں ؟ اس کی عضوی ترکیب کیا ہے اور اس کی بنیادی اقدار کیا ہیں ؟ لیکن یہ بات اس وقت پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی جب تک اسلامی معاشرے اور اس کے تاریخی ارتقا پر ایک نوٹ نہ دے دیا جائے اور یہ وضاحت نہ کردی جائے کہ ایک اسلامی معاشرے کے کیا اساسی قواعد ہیں اور اس کی حرکت اور جدوجہد اور اس کی ترجیحات کا منہاج کیا ہے۔ دعوت اسلامی جسے حضرت محمد ﷺ لے کر اٹھے تھے۔ در اصل اس عالمگیر دعوت اسلامی کے طویل سلسلے کی آخری کڑی ہے جسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک تمام انبیاء کرام پیش کرتے رہے۔ انسانیت کی اس طویل تاریخ میں دعوت اسلامی کا مطمع نظر اور نصب العین ایک ہی رہا ہے ، یعنی لوگوں کو شرک و بت پرستی سے ہٹآ کر صرف ایک رب ذوالجلال کی ذات سے متعارف کرانا اسی کا بندہ و غلام بنانا اور اس کے سوا تمام الا ہوں اور بندگیوں سے نجات دینا۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ معدودے چند افراد کو چھوڑ کر اور چند مختصر وقفوں کے سوا ، پوری انسانیت نے کبھی بھی الوہیت کے اصل سرچشمے ، اللہ کی ذات کا انکار نہیں کیا۔ تمام اقوام و ملل میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا جاتا رہا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ کبھی تو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں اور یا اس کی الوہیت اور ربوبیت میں کسی نہ کسی کو شریک کرتے رہے ہیں۔ یہ شرک یا تو پرستش اور عقیدے میں ہوا ہے اور یا یہ حاکمیت اور اطاعت کے دائرہ میں ہوا ہے اور اپنی نوعیت اور نتائج کے لحاظ سے دونوں قسم کے شرک ایک ہی جیسے ہیں۔ لوگ اس کا ارتکاب کرکے اللہ کے دین سے نکل جاتے رہے۔ تاریخ کے ہر دور میں رسولوں کے ذریعہ لوگوں تک دین پہنچتا رہا۔ پھر رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ لوگ دین حق سے خارج ہو ہو کر اس جاہلیت کی طرف پلٹتے جس سے دین حق نے انہیں نکالا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ مکمل طور پر خدا کا انکار نہ کرتے بلکہ اس کی ذات میں شرک کرتے یا عقائد و نظریات میں اور یا پھر اطاعت و حاکمیت میں یا ان سب میں۔ یہ ایک مقصد ہی دعوت اسلامی کا نصب العین رہا ہے اور پوری تاریخ انسانی میں تمام انبیاء کرام کی دعوت کا مقصد بھی ایک ہی رہا ہے یعنی اسلام۔ دوسرے لفظوں میں ایک اللہ اور رب کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ، لوگوں کو تمام الہوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت میں داخل کرنا یعنی لوگوں کی حاکمیت ، شریعت ، حکومت اور زندگی کی تمام عادات واطوار میں صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل کرنا یہی وہ مقصد تھا جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ لے کر تشرف لائے اور آپ سے قبل تمام انبیاء کا نصب العین بھی یہی رہا ہے۔ اس کا نام ہے اسلام ، جو لوگوں کو دوبارہ صرف اللہ کی حاکمیت کے دائرہ میں لانا چاہتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ اس پوری کائنات میں تکوینی طور پر اللہ کی حاکمیت جاری ہے۔ ایک پتہ بھی حکم الہی کے بغیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ سورج چاند اس کے حکم سے گردش کر رہے ہیں بعینہ اسی طرح تشریعی امور بھی سب کے سب اسی ذات برتر کے حکم کے مطابق چلیں اور لوگ اپنے لیے کوئی نظآم زندگی کوئی حکومت اور ایسی تدابیر اختیار نہ کریں جو اللہ کے تجویز کردہ نظام حیات ، طرز حکومت اور تدبیر سے مختلف ہو یا ان کے متضاد ہو۔ کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات پر متصرف ہے بلکہ وہ خود انسانی زندگی کے طبعی حصے پر بھی متصر ہے۔ جو انسان کے دائرہ اختیار اور ارادے سے باہر ہے۔ مثلاً پیدائش نشوونما صحت و مرض حیات و ممات اور دوسرے وہ امور جو براہ راست اللہ کے تجویز کردہ طبیعی قوانین کے تابع ہیں اور انسان اپنی طبیعی اور اجتماعی زندگی میں ان فطری اصولوں کا طوعاً و کرھاً پابند ہے۔ اور کسی صورت میں بھی ان فطری اور طبیعی قوانین کو نہیں ندل سکتا اور نہ آج تک کوئی طاقت ان قوانین کو بدل سکی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ بعینہ اسی طرح زندگی کے اختیاری حصے میں بھی انسان الہی قوانین کا پابند ہو اور اپنی پوری زندگی میں صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا حاکم اور مطاع بنا لے اور اس کی زندگی کا یہ اختیاری حصہ بھی زندگی کے تکوینی حصے اور کائنات سے ہم آہنگ ہوجائے اور اس طرح ان تینوں میں ہم آہنگی پائے جائے۔ مزید تشریح کے لیے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب " مبادی اسلام " غالبا رسالہ دینیات مراد ہے۔ جاہلیت جس کی بنیاد انسانی حاکمتی پر رکھی گئی ہے۔ جو جمہوریہ یا ڈکٹیٹر کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون بنائے۔ ظاہر ہے کہ جاہلیت کی یہ شکل ایک طرف کائنات کی فطرت سے باہر نکلی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانی زندگی کے اختیار اور غیر اختیار دائروں میں تصادم برپا کردیتی ہے۔ اس جاہلیت کا ہر اک پیغمبر نے مقابلہ کیا ہے اور انسانی تاریخ کے ہر دور میں لوگوں کو صرف اللہ وحدہ لا شریک کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔ نبی ﷺ نے بھی اس جاہلیت کا مقابلہ کیا ہے۔ جاہلیت کی یہ شکل صرف نظریہ کی شکل میں موجود نہیں تھی بلکہ بسا اوقات اس کے لیے کوئی مرتب دستور ہیئت بھی نہیں رہی ہے۔ یہ جاہلیت " اجتماعی تحریک " کی شکل میں موجود رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سو سائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سوسائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ یہ تحریک جاہلی سوسائٹی کے افکار ، اقدار ، مطلوبات حیات ، رسوم اور عادات پوری طرح اپنا لیتی ہے۔ پھر یہ جاہلی سوسائٹی شیرازہ بند سوسائٹی رہی ہے۔ اس کے افراد میں عملی اشتراک ، مل کر پروگرام کی تکمیل کرنا ، نظم ، باہمی قرب کا احساس اور آپس کا ایسا تعاون رہا ہے جو کسی پارٹی کے ارکان میں ہوا کرتا ہے۔ افراد کی یہ شیرازہ بندی اس جاہلی سوائٹی کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متحرک رکھتی رہی ہے تاکہ سوسائٹی اپنا تحفظ کرسکے اور اپنی ذات کے دفاع کا انتظام کرسکے اور اپنے وجود کے خلاف خطرات کی ان تمام بنیادوں کو ملیا میٹ کرسکے جو اسے کسی بھی صورت میں چیلنج کر رہی ہیں۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ جاہلیت محض ایک عقیدے اور نظریہ کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک معاشرے اور اجتماعی تحریک کی شکل میں آتی ہے ، تو اس سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ اس جاہلیت سے لوگوں کو دوبارہ اسلامی نظام حیات اور اللہ کی بندگی میں داخل کرنے کا کام محض نظریہ کی شکل میں ہرگز نہ ہوسکے گا اور نہ اس صورت میں کسی درجے میں یہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ اس شکل میں دعوت اسلامی کا نظریہ محض جاہلیت کے قائم شدہ نظام حیات کی برابری بھی نہ کرسکے گا۔ جس کے پیچھے ایک فعال معاشرہ ہوگا۔ چہ جائیکہ اسلامی نظریہ حیات جاہلیت پر غالب آجائے اور اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرے کیونکہ ایک قائم اور پر شوکت وجود کو گرانے اور اس کی جگہ ایک نئے وجود کو کھڑا کرنے کے لیے یہ بےحد ضروری ہے کہ دوسرا وجود غالب ہو اور یہ نیا نظام حیات اپنے مزاج ، اپنے طریق کار ، اپنی ہستی اور اس کی جزئیات تک میں اس جاہلیت قائمہ سے بنیادی اختلاف رکھتا ہو ، نیز یہ قائم ہونے والا نظام حیات ایک جاندار اور متحرک اور پرشوکت معاشرے کی شکل میں قائم ہو اور اس کے اساسی نظریات اور تفصیلی نظم کی بنیاد نہایت ٹھوس اصولوں پر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ایہ نظام اپنے روابط تعلقات اور ربط و ضبط اور تنظیم میں بھی اس جاہلی نظام حیات سے زیادہ مضبوط ہو۔ یہاں آ کر یہ سوال سامنے آجاتا ہے کہ وہ فکری اور نظریاتی اساس کیا ہے۔ جس پر تمام ادوار میں اسلامی نظام حیات کی عمارت تعمیر ہوتی رہی ہے ؟ یہ ہے لا الہ اللہ یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت ، قیومیت ، بادشاہی اور حاکمیت میں وحدہ لاشریک ہے۔ انسان اپنے عقیدے اور ضمیر اسے ایک سمجھے۔ صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور عملی زندگی میں صرف اسی کے قانون کی اطاعت کرے۔ یہ شہادت جب تک اس مفہوم میں نہ ہو شرعاً وہ غیر موجود تصور ہوگی۔ اس کا شرعی وجود اس بات پر موقوف ہے کہ اس کا عملی میدان میں بھی ایک خارجی وجود ہو جس کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکتا ہو کہ شہادت دینے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے۔ اور اس نظریہ کے وجود میں آنے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی جانب لوٹ جائیں۔ زندگی کے ہر معاملے اور ہر شعبے میں صرف خدا کے فیصلے کو تسلیم کریں اور از خود فیصلہ نہ کریں بلکہ ہر معاملہ میں خدا کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اس کی اطاعت کریں اور یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو معلوم کرنے کے لیے حضرت محمد ﷺ کی طرف رجوع کریں۔ آپ ہی نے اللہ تعالیٰ کا حکم ہم تک پہنچایا اور آپ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ اسلام کے رکن اول کے دو اجزاء میں سے یہ دوسرا جزو ہے وج اس اقرار سے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ اسلام کا وہ بنیادی نظام عقیدہ ہے جس سے اسلامی نظام حیات تشکیل پاتا ہے۔ اس بنیادی عقیدہ کو جب پوری زندگی پر منطبق کیا جاتا ہے تو اس سے ایک مفصل نظام حیات جنم لیتا ہے۔ جسے اپنا کر ایک مسلمان آدمی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرلیتا ہے۔ ملک کے داخلی مسائل بھی اس سے حل ہوجاتے ہیں اور خارجی مسائل بھی اسے معلوم ہوجاتے ہیں کہ اس مسلم سوسائٹی سے کس قسم کا تعلق رکھنا ہے اور غیر مسلم سوسائٹیوں سے اس کے روابط کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں۔ اسلامی نظام حیات کو یہ مطلوب نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو نظریہ محض کی شکل میں پیش کرے اور صورت یہ ہو کہ لوگوں میں سے جس کی مرضی ہو ، اس کو قبول کرے۔ چند مراسم عبادت بجا لائے اور اس کے بعد اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے جاہلی اور غالب معاشرے میں ضم ہوکر جاہلیت کے زیر سایہ زندگی بسر کرے۔ اس لیے کہ ایسے حالات میں مسلمان اگر ایک ایک عظیم تعداد میں بھی ہوں تو بھی وہ اسلامی نظام حیات کو بالفعل اور عملاً قائم نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ایسے افراد جو اسلامی نظام حیات پر ایمان بھی لا چکے ہوں اور اس کے بعد ایک جاہلی معاشرے کا جزو بھی بن رہے ہیں وہ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر طوعاً و کرھاً اپنے آپ کو اس جاہلی معاشرے کے مقاصد بروئے کار لانے میں مجوبر پائیں گے اور ان کی زندگی کی ہر تگ و دو در اصل اس جاہلی معاشرے کے اساسی تقاضے پورے کر رہی ہوگی ، جو اس کے وجود کے لیے ضروری ہوں۔ بلکہ اسے بڑھ کر ایسے لوگ اس جاہلی معاشرے کے وجود کے لیے خطرناک ہوں گے۔ کیونکہ ایک اجتماعی نظام اپنے تمام اجزاء کو ہمیشہ اپنے دفاع میں لگائے رکھتا ہے۔ خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، دوسرے الفاظ میں یون کہا جاسکتا ہے کہ ایسے افراد اسلامی نظریہ حیات پر ایمان رکھنے اور جاہل نظآم حیات کا دشمن ہونے کے باوجود اس جاہلی معاشرے کی تعمیر اور خدمت میں مصروف ہوں گے اور ہر وقت اسے تقویت پہنچاتے رہیں گے۔ چلتی پھرتی زندہ لاشوں کی طرح یہ جاہلی معاشرے کی بقا اور دوام کے لیے اپنے وسائل صرف کریں گے۔ ان کی قابلیتیں ، ان کے تجربات اور ان کی چستی اس جاہلی معاشرے کے زندہ اور مضبوط بنانے میں صرف ہوگی حالانکہ ان کی ساری تگ و دو اسی امر کے لی ہونی چاہیے کہ جاہلی معاشرہ کو توڑ کر اسلامی سوسائٹی کو برپا کیا جائے۔ اس لیے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ پہلے ہی مرحلہ میں ایک ایسی اجتماعی تحریک کی شکل میں نمودار ہونا چاہیے جو اس جاہلی تحریک سے الگ اور مستقل بالذات ہو۔ جسے اسلام مٹانے کے لیے آیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس اجتماعی تحرک کا محور ایسی قیادت ہو جو نبی ﷺ او سلف صالحین کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو ، جس کا نصب العین یہ ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی الوہیت ، ربوبیت ، قوامیت حاکمتی اور اس کے غلبہ و اقتدار اور شریعت کی طرف دعوت دے۔ اور جو شخص بھی پورے شعور کے ساتھ کلمہ شہادت ادا کرکے اس تحریک میں شامل ہو ، وہ اس جاہلی سوسائٹی سے ربط وتعلق کو کاٹ کر الگ ہوجائے۔ یہ وہی جاہلی سوسائٹی ہے جس سے کٹ کر وہ یہاں آیا ہے۔۔ اسی طرح اسے جاہلی سوسائٹی کی قیادت سے بھی الگ ہونا پڑے گا۔۔۔ یہ جاہلی قیادت مذہبی شکل میں بھی ہوتی ہے ، یہ کاہن ہیں ، پجاری ہیں اور مجاور ہیں۔ جادوگر اور قیافہ شناس ہیں اور یہ جاہلی قیادت سیاسی ، قبائلی اور معاشی رنگ میں بھی ہوتی ہے۔ اسلامی کے عہد اول اول میں دونوں طرح کی یہ قایدت قریش کی جاہلی سوسائٹی میں موجود تھی اسے اس جاہلی قیادت سے الگ ہونا پڑے گا اور اسے اپنی وفادار اسلامی تحریک اور اس کے قائدین تک محدود رکھنی پڑے گی۔ بنیادی عقیدہ اجتماعی تحریک کی شکل میں پہلے ہی مرحلہ میں نمودار ہوجانا چاہیے۔ جب کہ ایک مسلمان آدمی شعور کے ساتھ از سر نو اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہوئے " شہادتیں " ادا کرے کیونکہ مسلم سوسائٹی کا وجود خارجی اس کے بغیر متحقق ہی نہیں ہوسکتا۔ اس بنیادی عقیدہ کا محض دلوں میں راسخ ہوجانے سے ہی مسلم سوسائٹی وجود میں نہیں آجاتی۔ چاہے اس کے افراد کی تعداد کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو جب تک کہ یہ افراد اجتماعی تحریک کی شکل میں منظ ہو کر باہمی تعاون کے ساتھ کام نہ کریں۔ یہ اجتماعی تحریک اپنے ذاتی وجود کے ساتھ مستقل طور پر قائم نہ ہو۔ اس کے ممبر تحریک کے ارکان کی حیثیت سے اپنا اجتماعی فریضہ انجام نہ دیں۔ جس طرح کہ ایک زندہ جسم کے اعضاء اپنا تکوینی وظیفہ عمل ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ارکان مسلم سوسائٹی اپنے وجود کو برقرار رکھنے ، اس کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اور اسے مزید وسعت دینے کا کام کریں۔ نیز انہیں ان عوامل کے مقابلہ میں اپنا دفاع بھی کرنا ہوگا ، جو اس سوسائٹی کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہیں اور یہ سارا کارنامہ انہیں جاہلی قیادت کے مقابلہ میں اپنی مستقل قیادت کی راہنمائی میں انجام دینا ہوگا جو انہیں منظم اور متحرک رکھے گی اور انہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے تحریک کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اسے اور وسیع کرنے کی طرف متوجہ کرے گی اور اس طرح جاہلی تحیرکات مقابلہ میں کھڑا کرے گی۔ اسلام اسی طرح وجود میں آیا کہ لوگوں کے سامنے پہلے ایک مجمل مگر جامع اصول اور نظریہ حیات رکھا گیا اور پھر ایک تحریک اٹھی اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد پڑگئی اور یہ نیا معاشرہ نہ صرف یہ کہ اس جاہلی معاشرے سے مختلف تھا بلکہ اس کے وجود کے لیے چیلنج بن گیا اور اس کے بالمقابل آکھڑا ہوا۔ کسی دور میں بھی اسلام ایک مجرد نظریہ کی شکل میں نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ ایک فعال تحریک کی شکل میں آیا اور آئندہ بھی اس کا احیاء ہوسکتا ہے تو وہ صرف اس صورت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اس کی پشت پر ایک فعال تحریک ہو اور یہ ہر گز ممکن نہیں ہے کہ ایک غالب جاہلی معاشرہ کے زیر سایہ اسلامی معاشرہ کا از سر نو احیاء ہوسکے۔ محض نظریاتی بنیاد پر اسلام کا احیاء کسی وقت اور کسی جگہ بھی ممکن نہیں جب تک کہ اس کی پشت پر عملاً تحریک موجود نہ ہو۔ جب ہم یہ سمجھ گئے کہ اس دین کا فطری ارتقاء یوں ہوتا ہے اور اس کا یہ فلسفہ ہے تو ہم اس وقت اس دین کی حقیقت اور اس کے تحریکی مزاج کو سمجھ سکیں گے۔ جب ہم نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا جس کی پوری تفصیلات ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں دے دی ہیں۔ نیز صرف اس پس منظر ہی کے نتیجے میں ہم ان آیات کی حقیقت اور ان احکام کے مفہوم کو سمجھ سکیں گے جو اس سورت کے خاتمے پر دیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام معاشرے کی تنظیم کیا ہوگی ؟ مہارجین اور انصار کے تعلقات کیا ہوں گے ؟ ان کی طبقاتی حیثیت کیا ہوگی ؟ مقامی معاونین اور انصار کے تعلقات مہاجرین کے ساتھ کیا ہوں گے۔ نیز ان لوگوں کے ساتھ ان دونوں کے تعلقات کیسے ہوں گے جنہوں نے اس مرحلے پر ہجرت نہیں کی اور دوسرے کفار کے ساتھ اس اسلامی معاشرے کے بین الاقوامی تعلقات کیا ہوں گے ؟ اور یہ تمام تدبر اور ادراک اس دین کے عضویاتی تشخص اور اس کے تحریکی ارتقاء کے تصورات کے رنگ میں ضروری ہوگا۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم ان اصولوں کی روشنی میں ان آیات (72 تا 75) پر تفصیلی بحث کرسکیں۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام مٰں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ، جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکر حق ہیں ، وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں جو شخص کلمہ شہادت پڑھ لیتا تھا ، وہ اپنے خاندان ، اپنے قبیلے ، اپنے رشتہ داروں اور دور جاہلیت کی قیادت سے اپنے تعلقات ولایت توڑ دیتا تھا ، اور اپنی ولایت اور قیادت کی زمام حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتا تھا۔ اور وہ اس معاشرے اور خاندان کا فرد بن جاتا تھا جو حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں اٹھ رہا تھا اور قریش کا معاشرہ اپنے ذاتی قائم جو جاہلی وجود کی مدافعت کر رہا تھا کیونکہ یہ نیا معاشرہ در حقیقت سابق قائم معاشرے کے خلاف بغاوت کر رہا تھا اور یہ کشمکش ان دونوں معاشروں کے درمیان جنگ بدر کے میدانی معرکے سے بہت پہلے برپا تھی اور قریش کا معاشرہ یہ چاہتا تھا کہ اس جدید معاشرے کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے۔ ان حالات میں حضور ﷺ نے اس جدید معاشرے کے افراد کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ اس طرح کہ قریش کے جاہلی معاشرے سے جو جو افراد ٹوٹ کر آئے تھے ، وہ اس جدید باہم متکافل (Secure) معاشرے کے فرد بنتے چلے جاتے تھے اور یہ نیا معاشرہ خون اور نسب کے رشتوں کے بجائے نظریات و عقائد کے رشتوں پر قائم تھا۔ اور لوگوں کی وفا داریاں اس جدید قیادت کے ساتھ وابستہ ہوتی چلی جاتی تھیں اور قدیم جاہلی قیادت سے کٹتی چلی جاتی تھیں۔ نیز ان کی محبت اس قدیم جاہلی معاشرے سے کٹ کر اس جدید اسلامی معاشرے سے وابست ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے دار الہجرت (مدینہ) کے دروازے کھول دیے۔ مدینہ میں اہل ایمان کا ایک سا گروہ پیدا ہوگیا جس نے اسلامی قیادت کے ہاتھ پہ غیر مشروط بیعت کرلی اور خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں سمع و اطاعت کا عہد کرلیا اور یہ ذمہ لے لیا کہ وہ ہر حالت میں رسول اللہ کی حفاظت و حمایت کریں گے ، جس طرح وہ اپنے اموال ، اولاد اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر مدینہ میں رسول اللہ کی قیادت میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان دوبارہ مواخات قائم کی اور یہ مواخات بھی خون اور نسب کے رشتوں کے مقابلے میں اسلامی تصورت پر قائم ہوئی۔ اس مواخات میں بھی سابقہ مواخات کے پورے تقاضے ملحوظ رکھے گئے تھے یعنی وراثت دیت اور دوسرے معاوضوں میں اس کے افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے تے بعینہ اسی طرح جس طرح خون اور نسب کے رشتوں کے تحت سابقہ نظام میں مواخات قائم تھی۔ اس سلسلے میں حکم یہ تھا : " جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں " یہ لوگ ایک دوسرے کی نصرت میں بھی ولی ہیں ، ایک دوسرے کی میراث میں بھی ولی ہیں ، دیت معاوضے اور تمام اجتماعی ادائیگیوں میں بھی ایک دوسرے کے ولی ہیں جو سابقہ ادوار میں خون اور نسب کے رابطے پر عائد ہوتی تھیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو دین اسلام میں تو داخل ہوگئے تھے لیکن وہ عملاً ہجرت کرکے اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوتے تھے۔ یعنی انہوں نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت نہ کی جہاں اسلامی شریعت نافذ تھی۔ جہاں اسلامی قیادت کا انتظام و انصرام تھا۔ اور وہ اس معاشرے کی طرف نہ آئے جہاں شرعی قوانین حکمران تھے۔ اور جس میں مکمل اسلامی تشخص اور وجود قائم تھا۔ جبکہ مکہ میں اس معاشرے کا وجود نسبتاً کم درجے میں قائم تھا یعنی وہاں بھی لوگ جدید قیادت کے وفادار تھے اور ایک اجتماعی تحریکی شکل میں وہ یکجا ہوگئے تھے اور اپنا ایک مستقل وجود رکھتے تھے جو اس وقت کے قائم جاہلی وجود سے کٹ گئے تھے اور اپنے اس نئے وجود کے ساتھ پورے جاہلی معاشرے کا مقابلہ کر رہے تے۔ غرض ایسے لوگ مکہ کے ارد گرد بھی موجود تھے اور مدینہ کے ارد گرد بھی موجود تھے۔ جنہوں نے عقیدہ قبول کرلیا تھا لیکن وہ جاہلی معاشرے سے کٹ کر اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوئے تے۔ اور وہ پوری طرح مدینہ میں قائم اسلامی حکومت اور قیادت کے ماتحت نہ تے اور نہ وہ اس کے تابع تھے۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے کے ممبر تصور نہ ہوتے تے ، اس لیے اللہ نے ان کو اسلامی معاشرے کی ولایت کے حقوق نہ دیے ، کیونکہ یہ عملاً اسلامی معاشرے کے افراد نہ تھے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا : " رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو " یہ حکم جیسا کہ ہم نے کہا ، اس دین کے مزاج کے ساتھ اور اس کی عملی تحریکی سرگرمیوں کے ساتھ منطقی ربط رکھتا ہے کیونکہ یہ لوگ در اصل اسلام کے عملی معاشرے کے اجزاء نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اور اسلامی معاشرے کے درمیان ولایت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ چونکہ عقائد و نظریات کا رابطہ موجود ہے لیکن محض نظریاتی رابطے کے نتیجے میں ان لوگوں کی ذمہ داری اسلامی معاشرے پر عائد نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ ان کے دین اور نظریہ پر کوئی دست درازی ہو رہی ہو مثلاً ان پر ان کے نظریات کی وجہ سے تشدد ہوتا ہو۔ ایسے حالات میں اگر وہ مسلمانوں سے امداد طلب کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو امداد دیں۔ بشرطیکہ اس امداد کا کا اثر اس معاہدے پر نہ پڑتا ہو جو اسلامی معاشرے نے کسی دوسری قوم کے ساتھ کیا ہو۔ اگرچہ یہ معاہدہ کرنے والی حکومت ہی یہ تشدد کر رہی ہو۔ اس لیے کہ اصل اہمیت اسلامی معاشرے اور اس کے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدوں کو افراد کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اگرچہ معاملہ نظریات کی اساس پر تشدد سے ہو لیکن چونکہ تشدد کا شکار ہونے والے مسلمان خود اپنی مرضی سے اسلامی دار الہجرت کی طرف نہیں آئے اس لیے ان پر شاید ظالم کو ترجیح دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں اجتماعی تحریکی مفادات کو افراد کے مقابلے میں کس قدر زیادہ اہمیت حاصل ہے ، کیونکہ اسلام کا اجتماعی وجود زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، بمقابلہ ایک فرد اور اس کے مفادات کے۔ اس پوری اسکیم پر تبصرہ آتا ہے واللہ بما تعملوان بصیر وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ لہذا تمہارا پورا عمل اس کی نظروں میں ہے۔ وہ ان اعمال کی ظاہری صورت اور باطنی مقاصد سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ان کے مقدمات اور ان کے نتائج سب کو جانتا ہے۔ ان کے اسباب اور ان کے آثار کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ جس طرح اسلامی معاشرہ باہم متوازن ، متکافل اور معاون اور ذمہ دار ہوتا ہے ، اسی طرح جاہلی معاشرہ بھی اپنے افراد کو سوشل سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔ والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اور جن لوگوں نے کفر یا وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ہم نے تشریح کی۔ دو محاذوں کی پوزیشن ایسی ہی ہے۔ جاہلی معاشرہ بھی فردا فردا نہیں چلتا۔ وہ بھی ایک عضویاتی تشخص کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے اعضاء جوارح اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح افراد کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے ذاتی تشخص کا دفاع اسی طرح کرتا ہے جس طرح اسلامی معاشرہ کرتا ہے ، لہذا کفار ایک دوسرے کے دوست اور ولی ہیں اور اسلامی بھی اہل کفر کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک محاذ تصور کرتا ہے اور اسلام بھی ان کے معاشرے کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک معاشرے کی شکل میں پیش کرتا ہے لیکن اسلامی معاشرہ کفر کے مقابلے میں زیادہ گہری ، مضبوط اور قوی اساس پر قائم ہوتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرہ کفار کے مقابلے میں ایک ایسا ہی اجتماعی معاشرہ کھڑا کرکے نہ لائے گا تو جاہلی معاشرے کی طرف سے اسے ہر وقت فتنہ و فساد کا خطرہ درپیش رہے گا کیونکہ انفرادی طور پر مسلمان جاہلیت کے مضبوط اور باہم پیوستہ اجتماعی معاشرے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور دنیا میں ایک عظیم فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ جاہلیت کا معاشرہ اسلام پر غالب آجائے گا اور اس صورت میں جاہلیت اسلام پر دست درازی اور سرکشی کرے گی اور بندوں کو خدائی اللہ تعالیٰ کی خدائی پر غالب آجائے گی۔ اور لوگ پھر سے انسانوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ ظاہر ہے اس سے بڑا فساد اور کیا ہوسکتا ہے ؟ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر " اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوگا۔ اس تنبیہ کے بعد اور کیا تنبیہ ہوگی اور اس ڈراوے کے بعد اور کیا ڈراوا ہوگا۔ وہ مسلمان جو اپنے اجتماعی وجود کی اساس اس قسم کے عضویاتی اور تحریکی اتحاد پر نہیں رکھتے جس کے افراد کے درمیان گہری اخوت ہو اور جس کی ایک قیادت ہو ، وہ اللہ کے سامنے اس عظیم فساد کے ذمہ دار ہوں گے جو ان کے اجتماعی وجود لا حق ہوگا اور قیامت کے دن تو بہرحال تمام ذمہ داریاں ان پر ہوں گی کیونکہ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو ان کا معاشرہ فساد کا شکار ہوگا۔
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے ،

اس کے بعد قرآن کریم صریح الفاظ میں ان کو بتاتا ہے کہ حقیقی ایمان کا تحقق یوں ہوتا ہے وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ وہی سچے مومن ہیں ، بلکہ وہی مومن ہیں ، کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا ایمان کی حقیقی صورت یہی ہے۔ اور اسی صورت میں اور اسی شکل میں حققی دین نشوونما پاتا ہے۔ دین اسلام کی حقیقت محض اعلان نظریہ سے وجود میں نہیں آتی۔ نہ مجرد عقیدے کو قبول کرلینے سے دین کی حقیقت وجود میں آجاتی ہے ، نہ صرف دین کے شعائر اور مراسم عبودیت کے بجا لانے ہی سے دین وجود میں آجاتا ہے۔ یہ دین ایک ایسا نظام حیات ہے اور وہ عملاً تب ہی وجود میں آتا ہے کہ جب وہ اجتماعی تحریکی معاشرے کی شکل میں وجود میں آئے۔ صرف عقیدے کی صورت میں اقرار سے حکماً تو دین وجود میں آجاتا ہے لیکن حقیقتاً وجود میں نہیں آتا۔ حقیقتاً تب وجود میں آتا ہے جب وہ ایک عملی تحریکی معاشرے اور اجتماعیت کی شکل اختیار کرے۔ ایسے ہی لوگ حقا مومن ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور رزق کریم واجب ہے۔ یہاں رزق کریم کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں جہاد فی سبیل اللہ ، انفاق فی سبیل اللہ ، پناہ گاہ کی فراہمی اور امداد کی فراہمی اور دوسری مشکلات کا موضوع چل رہا ہے اور ان سب کاموں کے اوپر اجر و صلہ اللہ کی مغفرت ہے جو عظیم انعام اور مہمان نوازی ہے۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کا درجہ بلند ہے ، لیکن بعد میں آنے والے لوگ بھی انہی کے ساتھ اور ان کے حکم میں شامل ہیں اور یہ بعد میں آنے والے بھی ولایت اور اسلامی تحریکی معاشرے کی ممبری کے مستحق ہیں۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ ہجرت کا یہ نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک مکہ فتح نہ ہوچکا۔ فتح مکہ کے بعد عرب کی سرزمین اسلامی قیادت کے زیر نگیں آگئی۔ اور لوگ سب کے سب اسلامی معاشرے میں منظ ہوگئے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد ہجرت کا یہ حکم ختم کردیا گیا اور جہاد کو جاری رکھا گیا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پوزیشن 12 سو سال تک قائم رہی اور اسلام اس کرہ ارض پر حکمران رہا۔ اسلامی نظام قانون نافذ رہا اور اسلامی قیادت حاکم اور حکمران رہی۔ لیکن آج اس پوری دنیا پر جاہلیت پھر سے غآلب اور حکمران ہوگئی ہے اور اس وقت کرہ ارض کے کسی خطے میں بھی لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ نہیں بلکہ اقتدار اور قانونی نظام پوری دنیا میں طاغوت کا چل رہا ہے۔ لوگ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ اسلام نے ان کو انسانوں کی غلامی سے نکال دیا تھا۔ لہذا اب تحریک اسلامی دوبارہ انہی ادوار سے گزرے گی جس طرح پہلے وہ گزری تھی۔ اس نے تنظیم شروع کی تھی ، مرحلہ وار تحریک آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دار الہجرت قائم ہوگا اور پھر وہ دار الاسلام اور دار الہجرت سے پھیلاؤ شروع کرے گی اور پھر ہجرت ختم ہوگی مگر جہاد جاری رہے گا جس طرح پہلی بار میں ہوا۔ پہلی بار جب تحریک اسلامی برپا ہوئی تو اس تحریکی عمل کے لیے کچھ مخصوص احکام تھے۔ اس تحریک پر مخصوص حالات کی وجہ سے کچھ مخصوص ذمہ داریاں تھیں۔ اس وقت اخوت اور برادری کے تعلقات کو خون اور نسب کی بنیادوں سے ہٹا کر اسلامی نظریات کی اساس پر رکھ دیا گیا تھا۔ مواخات کی تمام شکلوں ، تمام ذمہ داریوں یعنی برائے اجتماعی تکافل دیت اور دوسرے معاہدات تاوان کو اسلامی اخوت پر قائم کردیا گیا تھا لیکن جب اسلامی معاشرہ قائم ہوگیا۔ اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگیا تو بعض عبوری احکامات میں تبدیلی کردی گئی کیونکہ یہ عبوری احکامات وقتی اور استثنائی حالات کے لیے تھے۔ اور ان میں سے اہم تبدیلیاں یہ تھیں کہ اجتماعی کفالت ، دیت کی ادائیگی اور وراثت کے تعلقات کو لوٹا کر قرابت اور رشتہ داری کی بنیادوں پر قائم کردیا لیکن اسلامی معاشرے کے اندر اور اسلامی خطوط کے اوپر۔ واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ " مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "۔ لہذا اسلام کے عملاً قیام کے بعد ، اسلام کے دائرے کے اندر اقربا کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ یہ انسان کی فطری خواہش کا ایک پہلو ہے۔ اور اسلام اس بات پر پابندی عائد نہیں کرتا کہ انسان کی فطری خواہشات کو دبایا جائے بشرطیکہ انسان کے یہ فطری میلانات معاشرے کے اسلامی اور اجتماعی پہلو کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں اور اسی طرح کے دوسرے فطری احساس و شعور کے لیے مضر نہ ہوں۔ اسلام فطری میلانات کو توڑتا نہیں بلکہ ان کو منضبط کرتا ہے اور منضبط اس طرح کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے اعلی وجود کے لیے وہ مفید بن جائیں۔ وہ ان کو منضبط بھی اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کے لیے کرتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کی ضروریات نہ ہوں تو پھر اسلام انسان کے فطری میلانات کو آزاد چھوڑتا ہے۔ اسلامی نظام کے عمومی دائرے کے اندر۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بعض احکامات عارضی اور عبوری ہوتے ہیں اور یہ اسلام کے تحریکی عمل کے ہوتے ہیں۔ ایسے احکام کو اسلام کے فائنل قانونی احکام تصور نہیں کیا جاتا جو اسلامی معاشرے کے قیام ، جاری اور غالب وجود کو جاری رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ہمیں ان احکام کو جو اسلام کے ابتدائی قیام کے مرحلے میں وارد ہوئے اور اس کے ان فائنل احکام کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے جو قائم معاشرے کو دائم رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ ان اللہ بکل شیئ علیم۔ یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ تبصرہ اور تعقیب ان احکام کے آخری میں نہایت ہی موزوں ہے کہ یہ مختلف احکام اور انتظامی ہدایات اللہ کی طرف سے ہیں اور اللہ نہایت ہی وسیع علم کا مالک ہے۔ وہ ہر حکم علم سے دیتا ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ اس قسم کے اسلامی معاشرے کے قیام و نظآم پر ایک نوٹ دے دیا جائے۔ اسلام ، امت مسلمہ کو ، بنیادی عقیدہ دے کر اپنے مخصوص طریق کار کے تحت ، اجتماعی تحریک کے ذریعہ اسے خارجی وجود بخش کر اور اس اجتماعی تحریک کے لیے بنیادی عقیدہ کو اساس بنا کر اس لیے برپا کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ وہ انسان کی انسانیت کو نمودار کردے۔ اسلام اپنے مخصوص طریق کار کے تحت اپنے بنیادی نظریات کو نمودار کردے۔ اسلام اپنے مخصوص طریق کار کے تحت اپنے بنیادی نظریات اپنی تعلیمات اور اپنے شرائع اور احکام میں انسانیت کی اسی نشوونما کو اصل ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ چونکہ انسان تمام حیوانات بلکہ جمادات کے ساتھ بھی وجود میں اشتراک رکھتا ہے۔ اس لیے سائنٹف جہالت کے علمبردار کبھی کہتے ہیں کہ انسان ایک حیوان ہی تو ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ اس کا وجود محض ایک مادی وجود ہے لیکن یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ حیوانات اور مادہ کے ساتھ وجود میں اشتراک کے باوجود انسان ایسی خصوصیات کا حامل ہے جو اسے عام مادیات اور حیوانات سے ممتاز کرتی ہیں اور اسے ایک مفرد وجود بخشتی ہیں۔ اب آ کر کہیں اس سائنٹیفک جہالت علمبرداروں کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا ہے اور وہ واقعات حقائق اور مشاہدوں اور تجربوں نے ان کی گردن غرور کو توڑ دیا ہے اور اب وہ بےبس ہو کر اس بات پر مجبور ہوگئے ہی کہ اخلاص اور تصریح کے بغیر اشاروں اشاروں میں اس حقیقت کا اعتراف کریں۔ جن لوگوں نے اسلام تاریخ کا مطالعہ غیر جانبداری سے کیا ہے۔ اور پھر پوری تاریخ انسانی پر بھی ان کی نظر ہے ، وہ جانتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات اور اس کے قیام کے طریق کار کے نتائج کسی قدر شاندار رہے ہیں۔ اسلام نے جدید معاشرے کی تعمیر ، رنگ ، وطن ، قومیت ، ملکی مصالح اور علاقائی تعلقات جیسے کمزور رشتوں کے بجائے صرف ایمان و نظریات اور عقائد و تصورات پر کی ہے اور اس نقنہ نظر سے اس نے انسانی وجود کے حیوانی اور مادی پہلو کو نظر انداز کیا اور انسان کی انسانیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ اسلامی سوسائٹی میں داخل ہونے کے دروازے ہر جنس اور ہر طبقہ کے انسانوں کے لیے کھل گئے اور اس طرح محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے اور حیوانی بندشوں اور باہمی امتیازات میں سے کوئی بندش اور امتیاز درمیان میں نہ رہا۔ اس طرح اسلامی معاشرے کی کٹھالی میں بشریت کے مخلتف اجناس کی خصوصیات اور قابلیتیں انڈیل دی گئیں اور کٹھالی میں ان تمام خصائص نے ایک حسین امتزاج کی شکل اختیار کی اور اس خام مواد سے ایک نیا وجود سامنے آیا۔ یہ سب کام ایک نہایت مختصر عرصہ میں ہوا اور اس سے انسانوں کا ایک عجیب یک رنگ و ہم آہنگ گروہ تیار ہوگیا۔ جس نے ایک تابندہ اور عظیم الشان تہذیب کو جنم دیا۔ وہ تہذیب جو اپنے دور میں انسانیت کے استعداد جوہر کا خلاصہ تھی ، حالانکہ اس زمانہ میں آبادیوں کے درمیان بڑے بڑے فاصلے تھے اور مواصلات کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس اعلی ترین معاشرے میں بیک وقت عربی ، فارسی ، شامی ، مصری ، مغربی ، ترکی ، چینی ہندوستانی ، رومی ، یونانی ، انڈونیشی اور افریقی اور بیشمار دوسری قوموں اور نسلوں کے لوگ شامل ہو کر اس میں ضم ہوگئے تھے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی معاشرہ کی نشوونما میں ان تمام لوگوں کی قابلیتیں اور ذہانتیں مل کر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ مصروف عمل ہوگئیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ کسی وقت بھی یہ عظیم الشان تہذیب صرف عربی تہذیب نہیں رہی اور نہ ہی کبھی معروف معنوں میں قومی تہذیب رہی ہے بلکہ یہ ہمیشہ سے فکری تہذیب ہی رہی ہے۔ یہ سب لوگ اس تہذیب میں خالص مساوات کے اصولوں پر جمع ہوئے۔ باہمی مروت اور شفقت نے انہیں جوڑا ، منزل مقصود کے اتحاد کی وجہ سے وہ باہم ملے اور اس مقصد اور نصب العین کے لیے انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو صرف کر ڈالا جو مساوات پر مبنی ان سب کا اپنا ہی معاشرہ تھا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو صرف کر ڈالا اور اپنے تمام قومی اور تاریخی خصائص کو ظاہر کیا اور اپنے ذاتی اور موروثی کمالات کو نئے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں صرف کر ڈالا جو مساوات پر مبنی ان سب کا اپنا ہی معاشرہ تھا ، مساوات و اتحاد کی بنیاد پر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان سب کا رب حاکم مالک اور خالق ایک ہی ہے۔ اس عقیدہ کے پس منظر میں بلا روک ٹوک انسانیت ابھر آئی۔ وحدت الہ کا عقیدہ " وحدت انسان " کا عقیدہ رکھتی ہو۔ معاشرہ مشہور ترین معاشرہ رہا ہے لیکن اس میں بھی متعدد رنگ بیشمار زبانیں اور کئی قومیتیں نظر آتی ہیں اور ہر ایک کا مزاج اور طرز فکر مختلف ہے۔ اس کے باوجود اس معاشرے کی اساس انسانیت یا بلند تر نظریات پر نہیں رکھی گئی تھی بلکہ یہ ایک قسم کا طبقاتی گٹھ جوڑ تھا جس میں ایک طرف اشراف کا طبقہ تھا اور ایک طرف غلاموں اور کمزوروں کا گروہ تھا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ روم امپائر میں فاتح اور مفتوح اقوام علیحدہ علیحدہ نظر آتی ہیں۔ رومن فاتح ہر لحاظ سے بزرگ و برتر ہیں اور مفتوح اقوام غلام اور زیر دست ہیں۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے رومی معاشرہ ان بلندیوں تک نہ پہنچ سکا جہاں تک اسلامی معاشرہ پہنچا اور نہ ہی اس نے انسانی تاریخ میں وہ کارنامے سر انجام دیے جو صحت مند اسلامی معاشرہ کے شایان شان ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی معاشرے عالم وجود میں آئے مثلاً انگریزی تہذیب کا قائم کردہ جدید معاشرہ ، یہ معاشرہ بھی در اصل رومی معاشرے کا جانشین اور وارث تھا اور عملی میدان میں آ کر یہ بھی طبقاتی اور استحصالی معاشرہ ثابت ہوا اور اس کا اصل الاصول یہ رہا کہ انگریز قوم کو قیادت اور برتری کا مقام حاصل رہے۔ اس کا بین ثبوت ان نو آبادیوں کے معاشری اور معاشرتی جائزے سے ملتا ہے جو کسی وقت انگریزوں کے زیر نگیں رہے ہیں اور بعینہ یہی طرز عمل یورپ کی دوسری شہنشاہیتوں اور معاشروں کا رہا ہے۔ انہوں نے بھی اپنے نو آبادیوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ ہسپانوی ، پرتگالی اور فرانسیسی معاشروں نے اپنی تمام کالونیوں میں وہاں کے اصل باشندوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا اور ان کے طرز عمل نے خود بتا دیا کہ یہ معاشرے کس قدر گھناؤنے ، مہلک اور گرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہمارے سامنے اشتراکی معاشرہ نمودار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس نے اپنے اساسی اصولوں میں سے رنگ و قوم و جنس اور زبان وطن کو خارج کردیا لیکن اس کی اساس بھی خالص انسانی بنیادوں پر نہ اٹھی بلکہ ان کی نئی طبقاتی کشمکش پر اٹھی۔ یہ معاشرہ بھی رومی طرز کا طبقاتی معاشرہ بن گیا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ رومی معاشرہ اشراف (Lords) کی حمایت پر سامنے آیا اور اشتراکی معاشرہ مساکین (Labours) کی حمایت میں نمودار ہوا۔ اس کی تکنیک یہ تھی کہ مزدوروں کے کام میں تمام دوسرے طبقات کے خلاف نفرت کے بیج بو دیے جائیں۔ چناچہ خونی کشمکش کا ایک طویل دور شروع ہوگیا ، اور اس میں انسانیت ایسے ایسے مصائب سے دوچار ہوئی جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ، کیونکہ اس کی بنیاد انسانیت کے بجائے خالص حیوانی زندگی پر تھی۔ اس نے یہ دعوی کیا کہ جنسی تعلقات خوراک اور مسکن ہی انسانیت کے بڑے مسائل ہیں اور انہی کے حل میں انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔ اسی طرح اشتراکیت نے تاریخ کا جدلی فلسفہ پیش کرکے اسے تاریخ تلاش معاشر قرار دے دیا۔ لیکن دنیا پر اسلامی معاشرہ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے نظآم حیات میں انسان کی صرف ان خصوصیات کو اجاگر کیا جو خالص انسانی ہیں۔ اس طرح اس نے انسان کو محض ایک مادے اور ایک حیوان کی سطح سے بہت اونچا کردیا اور پوری تاریخ انسانیت میں اس پہلو سے اسلامی نظام حیات بےمثال ہے۔ اس لیے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اسلامی نظام حیات کو چھوڑ کر دوسرے نظام اختیار کرتے ہیں ، وہ در اصل انسانیت کے دشمن ہیں اور وہ اعلی انسانی قدروں کی جگہ قوم ، وطن ، جنس اور طبقات کی بنیاد پر انسانی زندگی کو منظم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان سے زیادہ کمزور اور گھناؤنی ذلیل چیز کوئی اور نہیں ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں اور فطری اصولوں کے مطابق انسانی معاشرہ کی تعمیر ، خالص انسانی بنیادوں پر نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ انسانی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیتے ہیں کہ وہ تمام انسانی تجربوں اور تمام انسانی خصائص و کمالات سے فائدہ اٹھائے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں باری تعالیٰ فرماتے ہیں : قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا۔ الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا۔ اولئک الذین کفرو بایات ربہم ولقائہ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا۔ ذلک جزائہم جھنم بما کفروا واتخذوا آیاتی و رسلی ھزوا۔ " اے محمد ان سے کہو ، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سع و جہد راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہیں کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزا جہنم ہے کہ اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ترقی کے انسانی خطوط کے خلاف کام کرتے ہیں اور انسانی معاشرے کو دوبارہ بہائم کے معاشرے کی صورت میں بدلنا چاہتے ہیں جس کا مقصد صرف گھاس اور دانے کی تلاش ہوتی ہے اور یہ لوگ ایسے حالات میں یہ کام کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب کے ذریعہ لوگوں کو ایسی ہدایات دے دی ہیں جن پر تمام انسان مجتمع ہوسکت ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اعلی انسانی قدروں پر انسانی معاشرے کو استوار کرنا چاہتے ہیں ان کو یہ لوگ جو خالص حیوانی نظریات پر معاشرے چلانا چاہتے ہیں ، جامد رجعت پسند اور دوسرے ناموں سے پکارتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ تمام خوش نما باتیں اور تمام الزامات اس لیے ہیں کہ یہ اعلی انسانی قدروں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ اپنے امور پر خود اختیار رکھتا ہے۔ اس لیے یہ پستیاں جو انسانی معاشروں پر غالب آگئی ہیں اور انسان کو حیوان محض بنا دیا گیا ہے ، ان کے لیے دوام مقدر نہیں ہے۔ عنقریب وہ روشنی پھیلے گی اور وہ معاشرے وجود میں آئیں گے جن کو اللہ پسند کرتا ہے۔ انسانیت عنقریب عزت کا مقام دوبارہ پا لے گی جس طرح پہلی بار انسانیت انسانی قدروں پر اکٹھی ہوئی تھی اور تاریخ میں اس کی مثال نہیں ہے۔ وہ آج بھی تاریخ کے افق پر روشن ہے اور لوگوں کے لیے ایک مثال ہے اور دوبارہ وہ معاشرہ منظم ہوگا اور کسی نہ کسی دن ایک مثالی معاشرہ ہوگا۔ انشاء اللہ !