Ayahs 38:75–831:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے صفۃ الجنۃ میں اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عبداللہ بن حارث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا : آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا۔ تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور جنت الفردوس کے پودے اپنے ہاتھ سے لگائے۔ پھر فرمایا میری عزت کی قسم ! ہمیشہ شراب پینے والا دیوث اس میں نہیں ٹھہرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم نے ہمیشہ شراب پینے والے کو پہچان لیا (مگر) دیوث کیا ہے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال کو بدکاری کا مشورہ دے۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے اور ابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں اور بیہقی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا عرش کو، جنات عدن کو، قلم کو اور آدم کو۔ پھر ہر ایک چیز کے لئے فرمایا ہوجا پس وہ ہوگئی پھر اپنی مخلوقات سے چار چیزوں کے ساتھ حجاب فرمایا : آگ، اندھیرا اور نور کے ساتھ (چوتھی چیز کو بھول گئے)
3:۔ ہناد نے میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا آدم (علیہ السلام) کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا جنت عدن کے پودے اپنے ہاتھ مبارک سے لگائے اور قلم کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔
4:۔ ہناد نے ابراہیم (رح) سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ مبارک سے کسی چیز کو پیدا نہیں فرمایا مگر تین چیزوں کو، آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا، اور تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، جنت عدن کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔
6:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ الرجیم سے مراد اللعین (لعنت کیا ہوا) (آیت ) ” الا عبادک منھم المخلصین “ نصب کے ساتھ ہے میں نے کہا قرآن مجید میں یہ لفظ جہاں بھی ہے ہم اس کو اسی طرح پڑھیں فرمایا ہاں !
Ayahs 38:84–851:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالحق والحق اقول “ سے مراد ہے کہ میں حق ہوں اور میں حق کہتا ہوں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالحق والحق اقول “ منصورب ہے اور ” اقول “ مرفوع ہے۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فالحق “ کو رفع کے ساتھ (آیت ) ” والحق “ کو میں نصب کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں حق ہوں اور حق بات کہتا ہوں۔
Ayahs 38:86–871:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اے محمد ! فرما دیجئے (آیت ) ” ما اسئلکم “ (یعنی میں تم میں سے کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) اس چیز پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی اس پر میں تم سے کوئی دنیا کا اجر نہیں مانگتا۔
2:۔ بخاری (رح) ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا اور اس (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان “ (الدخان آیت 10) (کہ جس دن آسمان دھوئیں کے ساتھ آئے گا) کے بارے میں بات کررہا تھا اور یہ قیامت کا دن ہوگا اور دھوئیں کی وجہ سے منافقین کی آنکھیں اور ان کے کان گرفت میں لے لئے جائیں گے اور مؤمنین کو زکام کی طرح کیفیت طاری ہوگی۔ راوی نے کہا ہم کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ہم عبداللہ کے پاس آئے اور وہ اپنے گھر میں تھے ہم نے ان کو اس بات کی خبردی وہ تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے لوگو ! جو کوئی تم میں سے علم رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ کہے اور جو شخص نہیں جانتا اس کو چاہئے کہ اللہ اعلم کہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فرمایا (آیت ) ” قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین (آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔
3:۔ دیلمی (رح) وابن عساکر (رح) نے زیبر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تکلف نہیں کرتا اور میری امت کی اصلاح کرو۔
4:۔ احمد ابن عدی و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں شقیق (رح) سے روایت کیا کہ میں اور میرا ساتھی سلمان ؓ کے پاس آئے انہوں نے ہمارے سامنے روٹی اور نمک کو پیش کیا، راوی نے کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے ہم کو منع نہ کیا ہوتا تکلف سے تو میں تمہارے تکلف کرتا ہے۔ میرے ساتھی نے کہا اگر ہمارے نمک میں پہاڑی پودینہ ہوتا تو انہوں نے اپنا لوٹا بھیجا اسے بطور رہن کے رہن کے رکھا اور پہاڑی پودینہ لے آئے جب ہم نے کھایا تو میرے ساتھی نے کہا سب تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس میں ہم کو قناعت دی جو اس نے ہم کو رزق عطا فرمایا پھر سلیمان ؓ نے فرمایا اگر تو قناعت کرتا تو میرا لوٹا رہن میں نہ ہوتا سبزی فروش کے پاس۔
5:۔ طبرانی (رح) وحاکم (رح) و بیہقی (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم مہمان کے لئے تکلف کریں۔
6:۔ بیہقی (رح) نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم تکلف نہ کریں کسی مہمان کے لئے اس چیز کا جو ہمارے پاس نہ ہو اور ہم وہی چیز پیش کریں جو ہمارے پاس موجود ہو۔
7:۔ ابن عدی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو جنت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں آپ نے فرمایا آپس میں رحم کرنے والے۔ پھر کہا کیا میں تم کو دوزخ والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا : وہ ناامید ہونے والے اللہ کی رحمت سے اور جھوٹ بولنے والے اور تکلف کرنے والے۔
8:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن المنذر (رح) سے روایت کیا کہ تکلف کی نشانیاں تین ہیں تکلف کرنا اس بات میں جو وہ نہیں جانتا اور مقابلہ کرنا اپنے سے اونچے (علم والے) سے اور اس چیز کو لینے کے لئے جھگڑا کرنا جس تک نہیں پہنچ سکتا۔
9:۔ ابن سعید نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ جس نے کسی علم کو جانا اس کو چاہئے کہ اس کو سکھائے اور ہرگز وہ بات نہ کہے کہ جس کا اس کو علم نہیں اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ تکلف کرنے والوں میں سے ہوجائے گا اور وہ نکل جائے گا دین سے۔
Ayah 38:881:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعلمن نباہ بعد حین “ (اور تھوڑے دنوں کے بعد تم کو اس کا حل معلوم ہوجائے گا) یعنی موت کے بعد اور حسن (رح) نے فرمایا : اے ابن آدم ! موت کے وقت تیرے پاس یقینی خبرآجائے گی۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعلمن نباہ بعد حین “ میں ” حین “ سے مراد ہے قیامت کا دن۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعلمن نباہ “ سے مراد ہے کہ اس بات کے سچ ہونے کا ان کو قیامت کے دن اور علم ہوگا جو وہ جھٹلاتے تھے اور یہ آیت پڑھی (آیت ) ” لکل نبا مستقر “ اور وہ آخرت کا دن ہوگا) جس میں حق ثابت ہوگا اور اس میں باطل ہوجائے گا۔
الحمد للہ سورة ص ٓ مکمل ہوئی :