38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے بلاحکمت پیدا نہیں کیا یہ گمان ہے ان لوگوں کا جنہوں نے کفر کیا، سو ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے یعنی دوزخ کا داخلہ ہے

1:۔ ثعلبی (رح) نے عوام بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میری قوم میں سے ایک آدمی نے بتایا کہ جس نے عمر ؓ کا زمانہ پایا کہ انہوں نے طلحہ زبیر کعب اور سلمان ؓ سے پوچھا بادشاہ اور خلیفہ کس کو کہا جاتا ہے ؟ طلحہ اور زیبر ؓ نے فرمایا ہم نہیں جانتے سلمان ؓ نے فرمایا : خلیفہ وہ ہوتا ہے جو رعایا میں انصاف کرتا ہے اور ان کے درمیان برابری کے طور پر تقسیم کرتا ہے اور ان پر شفقت کرتا ہے (جیسے) آدمی کی شفقت اپنے اہل و عیال پر اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ کعب ؓ نے فرمایا میرا یہ خیال تھا کہ کوئی بھی خلیفہ اور بادشاہ میں فرق نہیں جانتا میرے علاوہ۔ اللہ تعالیٰ کا خلیفہ انصاف کرتا ہے : 2:۔ ابن سعد نے ابن مردویہ کے طریق سے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے ان سے فرمایا : میں بادشاہ یا خلیفہ ہوں سلمان ؓ نے ان سے فرمایا خلیفہ وہ ہوتا ہے جو انصاف کرتا ہے اگر تو نے مسلمان کی زمین سے ایک درہم اس سے کم یا اس سے زیادہ حاصل کیا پھر اسے بےمحل خرچ کیا تو تو بادشاہ ہے خلیفہ نہیں ہے (یہ سن کر) عمر ؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ 3:۔ ابن سعد نے ابن ابی العرجاء (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ہوں کہنے والے نے کہا : اے امیر المومنین ! ان دونوں کے درمیان فرق ہے پوچھا وہ کیا ہے اس نے کہا کہ خلیفہ ناحق کوئی چیز نہیں لیتا اور نہ ناحق خرچ کرتا ہے۔ اور آپ الحمد للہ اسی طرح ہیں۔ اور بادشاہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اس سے چھینتا ہے اور اس کو نہیں دیتا ہے۔ 4:۔ ابن سعد نے ابوموسی اشعری ؓ سے روایت کیا کہ امارت وہ ہوتی ہے جو مشورہ سے حاصل ہو اور بادشاہت یہ ہوتی ہے کہ جس پر وہ تلوار کے ساتھ غلبہ پالے۔ خلافت کے لئے انصاف لازم ہے : 5:۔ ثعلبی (رح) نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ فرمایا کرتے تھے جب منبر پر بیٹھتے اے لوگو ! کہ خلافت مال جمع کرنے کا نام لیکن خلافت نام ہے حق کے ساتھ عمل کرنا اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا، اور اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں سے مال لینا۔ 6:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابو جعفر کے غلام سالم سے روایت کیا کہ ہم امیر المومنین ! ابو جعفر (رح) کے ساتھ بیت المقدس کی طرف نکلے جب داخل ہوئے اور مشکل پیش آئی تو اوزاعی (رح) کو بلوایا وہ آئے تو فرمایا اے امیر المومنین ! مجھ سے بیان کیا حسان بن عطیہ (رح) نے اپنے دادا ابن عباس ؓ سے روایت کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں (آیت ) ” یداؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ فرمایا جب تیری طرف دو جھگڑنے والے جھگڑا لے آئیں اور ان میں سے ایک کے بارے میں نفس کا میلان ہو جبکہ تو اپنے دل میں اس کے لئے حق نہ پاتا ہو تو اس طرح وہ کامیاب ہوجاتا ہے اپنے ساتھی پر (اگر تو ایسا کرے) تو اپنا نام میرے نبوت سے مٹا دیتا پھر میرا خلیفہ ظاہر نہ کرنا اور نہ تیری کوئی قدرومنزلت ہوگی، اے امیر المومنین ! حسان بن عطیہ نے ہم کو تیرے دادا سے بیان کیا جس نے حق کو ناپسند کیا تو یقینی طور پر اللہ تعالیٰ نے اس کو ناپسند کیا کیونکہ حق تو اللہ ہی ہے۔ اے امیر المومنین ! مجھ کو حسان بن عطیہ تیرے دادا سے بیان کیا اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ “ (الکہف آیت 49) کے بارے میں فرمایا کہ ” الصیغرہ “ سے مراد تبسم کرنا اور کبیرہ سے مراد ہے زور سے ہنسنا کیسے ہوگا جو ہاتھوں نے جنایتیں کی ہیں 7:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاحکم بین الناس بالحق “ (ان لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیجئے) یعنی عدل و انصاف کے ساتھ (آیت ) ” ولا تتبع الھوی “ (اور خواہش کی پیروی نہ کیجئے) اور اپنی خواہش کو ترجیح نہ دو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتے وقت حق اور انصاف پر پھر تو منحرف ہوجائے گا حق سے اور یہ چیز تجھ کو گمراہ کردے گی راہ راست سے۔ 8:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب “ (ان کے لئے سخت عذاب ہے) اس وجہ سے کہ وہ حساب کے دن کو بھول گئے، اس میں تقدیم تاخیر اللہ تعالیٰ حساب کے دن ان کے لئے کہیں گے کہ (تمہارے لئے) سخت عذاب ہے جو تم بھول گئے تھے (اس دن کو) 9:۔ احمد نے الزھد میں ابوالسلیل (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) مسجد میں داخل ہوتے تھے بنی اسرائیل میں سے ایک ایسے حلقہ کو دیکھتے تھے جس سے چشم پوشی کی جاتی ہے (یعنی مسکینوں کے حلقہ) پھر فرماتے ایک مسکین سے مسکینوں کے درمیان۔ 10:۔ احمد نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے بیٹے فوت ہوگئے جس پر داؤد (علیہ السلام) کو بہت دکھ ہوا آپ سے کہا گیا آپ کے نزدیک بیٹے کے برابر کیا چیز تھی ؟ فرمایا میرے نزدیک وہ زیادہ محبوب تھا زمین پھر سونے سے بھی ان سے کہا گیا بلاشبہ اجر بھی اسی کے بعد ہوگا۔ 11:۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں والحکیم ترمذی (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی یہ دعا تھی : سبحان مستخرج الشکر بالعطاء مستخرج الدعاء بالبلاء : ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جو عطا کے بدلے شکر اور مصیبت کے بدلے دعا کا تقاضا کرتی ہے۔ 12:۔ عبداللہ نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کیا میں تجھ کو دو علم ایسے نہ سکھاؤں جب تک ان دونوں پر عمل کرے گا تو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلے گا اور تو ان دونوں کے ذریعہ میری رضا کو پالے گا۔ عرض کیا کیوں نہیں اے میرے رب ! ضرور سکھائیے) فرمایا جو میرے اور تیرے درمیان معاملات میں ان کو تقوی کے ساتھ محفوظ کر۔ اور لوگوں سے میل جول رکھ ان کے اخلاق کے مطابق۔ 13:۔ احمد نے یزید بن منصور (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا خبردار ذکر کرنے والا اللہ کے لئے پس تو ذکر کر اس کے ساتھ خبردار ! وعظ و نصیحت کرنے والا یا یاد کرنے والا تو اس کے ساتھ یاد کر۔ 14:۔ احمد نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کھجور کے پتوں سے ٹوکری بناتے تھے اور وہ منبر پر (بیٹھے) ہوئے تھے۔ پھر اس کو بازار کی طرف بھیجتے تھے اس کو بیچتے تھے اور ان کے پیسوں سے کھانا کھاتے تھے۔ 15:۔ احمد نے سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) جب رات کو کھڑے ہوتے تو یوں فرماتے : اللہم نامت العیون و غارت النجوم وانت الحی القیوم الذی لا تاخذک سنۃ ولا نوم : ترجمہ : اے اللہ ! آنکھیں سوگئیں ستارے دور چلے گئے اور زندہ ہے قائم رکھنے والا ہے اور آپ کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ 16:۔ احمد نے عثمان شمام ابوسلمہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھے اہل بصرہ میں سے ایک شیخ نے بیان کیا جو فضیلت والے اور بڑی عمر والے تھے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا۔ اے میرے رب ! میرے لئے کیسے ہوگا ؟ اگر میں آپ کے لئے زمین میں اخلاص کے ساتھ چلوں پھروں اور میں آپ کے لئے عمل کروں، اخلاص کے ساتھ فرمایا : اے داؤد ! محبت کر اس سے جو مجھ سے محبت کرے آیا وہ سرخ ہو یا سفید اور لگا تار تیرے ہونٹ تروتازہ رہیں میری یاد سے اور غیبت کے بچھونے سے دور رہ۔ پوچھا اے میرے رب ! میرے لئے کیسے ممکن ہوگا ؟ فرمایا اہل دنیا میں نیک اور بد کو میرا محبوب بنا دے۔ فرمایا : اے داؤد ! تو دنیا والوں کے لئے ان کی دنیا کی وجہ سے نرمی کر اور آخرت والوں کے لئے ان کی آخرت کی وجہ سے محبت کر اور میرے اور اپنے درمیان اپنے دین کو پسند کر کیونکہ جب تو ایسا کرے گا اور تو ہدایت پر ہوگا تو تجھ کو ضرر نہیں دے گا جو گمراہ ہے جب تو ہدایت پائے گا۔ عرض کیا : اے میرے رب ! مجھ کو اپنی مخلوق میں سے اپنے مہمان دکھائیے وہ کون ہیں فرمایا صاف ہتھلوں والے صاف دل والے سیدھے ہو کر چلیں اور سچی بات کریں۔ 17:۔ خطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ مصیبت کی سختی کیا ہے ؟ عرض کیا بازار سے روٹی خریدنا اور ایک کے بعد ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف منتقل ہونا۔ 18:۔ احمد نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا (یعنی یوں دعا فرمائی) اللہم اجعل حبک احب الی من نفسی وسمعی وبصری واھلی ومن الماء البارد : ترجمہ : اے اللہ ! بنادے اپنی محبت کو زیادہ محبوب میری طرف میری جان سے اور میرے کانوں سے اور میری آنکھوں سے اور میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے۔ : 19:۔ احمد نے وہب (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب تیرے کون سے بندے تیری طرف زیادہ محبوب ہیں ؟ فرمایا مؤمن اچھی صورت والے پھر پوچھا تیرے کون سے بندے تیری طرف زیادہ ناپسند ہیں فرمایا : بدصورت کافر اس مؤمن نجے شکر کیا اور اس کافر نے کفر کیا، پھر پوچھا : اے میرے رب ! تیرے کون سے بندے تجھے زیادہ مبغوض ہیں۔ فرمایا : وہ بندہ جو کسی کام میں مجھ سے خیر کا طالب ہوِ ، میں اس کے لئے خیر پیدا کروں پھر وہ مجھ سے راضی نہ ہو۔ 20:۔ عبداللہ نے اپنی زوائد میں عبداللہ بن ابی ملکیہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے خدا ! میرے لئے بدکار ساتھی نہ بنائیے کہ میں کہیں بدکار نہ بن جاؤں۔ 21:۔ احمد نے عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعا میں سے یہ بھی دعا تھی اے اللہ ! مجھے ایسی تنگدستی نہ دے کہ میں بھلادیا جاؤں اور مجھے اتنا مالدار نہ بنا کہ میں سرکش بن جاؤں۔ 22:۔ احمد نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کون سارزق زیادہ پاکیزہ ہے فرمایا اے داؤد تیرے ہاتھ کا پھل (یعنی تیرے ہاتھ کی کمائی) کبھی بھی اعمال پر فخر کرنا جائز نہیں : 23:۔ احمد نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی اے داؤد ! میرے بندے صدیقین کو ڈرایئے۔ کہ وہ اپنے آپ پر فخر کریں گے اور اپنے اعمال پر بھروسہ کریں۔ کیونکہ میرے بندوں میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ میں اس کو حساب کے لئے کھڑا کردوں اور میں اس پر اپنے انصاف کو قائم کردو تو میں اس کو عذاب دوں گا اس پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں گا اور خطا کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے کہ وہ کسی گناہ کو برا خیال نہ کریں کہ میں اس کی مغفرت نہ کروں گا اور اس سے در گزر نہ کروں گا۔ 24:۔ احمد نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے ایک آواز لگانے والے کو حکم فرمایا کہ اس نے آواز لگائی ” الصلاۃ الجامعہ “ لوگ باہر نل کے اور ان کا خیال تھا کہ آج کے دن وعظ و نصیحت تعلیم اور دعا ہوگی۔ جب وہ بیٹھنے کی جگہ پر پہنچے تو صرف یہ کہا اے اللہ ! ہم کو بخش دے اور چلے گئے، بعد میں آنے والے لوگ پہلے آنے والے لوگوں سے ملین اور پوچھا تمہیں کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نبی نے ایک ہی دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کیونکہ انہوں نے تیری دعا کو کم خیال کیا ہے بلاشبہ میں جس کی مغفرت کرتا ہوں تو میں اس کی آخرت اور اس کی دنیا کے معاملے کی اصلاح کردیتا ہوں۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے عبدالرحمن بن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) لوگوں میں سے سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے اور ان میں سب سے زیادہ حلم والے تھے اور ان میں سے سب سے زیادہ غصہ کو روکنے والے تھے۔ 26:۔ احمد نے سعید بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں آپ کے لئے زمین میں کیسے کوشش کرسکتا ہوں اخلاص کے ساتھ فرمایا میرا ذکر کثرت سے کر اور تو اس سے محبت کر جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ سفید ہو یا سیاہ اور تو لوگوں کے لئے فیصلہ کر جیسے تو اپنی ذات کیلئے فیصلے کرتا ہے۔ اور تو غیبت سے بچھونے سے بچ۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ نے ابو عبیداللہ جدلی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے : اللہم انی اعوذبک من جار عینہ ترانی وقلبہ یرعانی ان اری خیرادفنہ وان رای شرا اشاعہ : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں ایسے پڑوسی کی آنکھ سے کہ وہ مجھ کو دیکھے اور اس کا دل میری طرف متوجہ رہے اگر وہ دیکھے کسی چیز کو تو اس کو دفن کردے (یعنی اس کو چھپا دے) اور اگر کسی شر کو دیکھے تو اس کو پھیلادے۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے سعید بن ابی سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کی دعا میں یہ بھی دعا تھی اے اللہ میں آپ سے برے ہمسائے سے پناہ مانگتا ہوں۔ غم اور مصیبت سے پناہ مانگنا : 29:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں ایسے عمل سے جو مجھے رسوا کردے اور اس غم سے جو مجھے ہلاک کردے اور اس فقر سے جو مجھ سے (آپ کو) بھلا دے اور ایسی مالداری سے جو مجھے سرکش بنادے۔ 30:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی میرے بندوں سے محبت کر اور مجھے محبوب بنادے میرے بندوں کی طرف عرض کیا اے میرے رب میں محبت کرتا ہوں آپ سے اور میں محبت کرتا ہوں تیرے بندوں سے مگر میں تجھے ان کا کیسے محبوب بنادوں ؟ فرمایا : ان کے پاس میرا ذکر کیا کر کیونکہ ہو میرا ذکر اچھے الفاظ سے ہی کریں گے۔ 31:۔ احمد نے ابو جعد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے خدا کیا بدلہ ہے جس نے کسی غمگین کو تسلی دی اور وہ آپ کی رضا مندی کا ارادہ کرتا ہے۔ تو فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو تقوی کا لباس پہناؤں گا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو جنازہ کے ساتھ چلتا ہے۔ اور صرف آپ کی رضامندی کا ارادہ کرتا ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میرے فرشتے اس کو الوداع کریں گے جب وہ مرے گا کہ رحمتیں نازل کروں گا اس کی روح پر روحوں میں سے۔ پھر پوچھا : اے میرے خدا کیا بدلہ ہے جو سہارادے کسی یتیم کو یا کمزور اور محتاج کو اور وہ صرف آپ کی رضامندی کا ارادہ کرتا ہے ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو اپنے عرش کے نیچے جگہ دوں گا جس دن اس سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے کہ جس کی آنکھیں آپ کے خوف سے بہہ پڑیں ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو بڑی گھبراہٹ کے دن امن دوں گا اور اس کے چہرے کو جہنم کی لپک سے بچاؤں گا۔ 32:۔ احمد نے ابوالجعد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے داؤد (علیہ السلام) کی دعاؤں میں سے یہ پڑھا کہ انہوں نے فرمایا اے میرے خدا : کیا بدلہ ہے کہ جو کسی غمگین مصیبت زدہ کو تسلی دے آپ کی رضا مندی کو چاہتے ہوئے۔ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کو ایمان کی چادروں میں سے ایک چادر پہناؤں گا جو اس کو آگ سے پردہ کردے گا۔ اور اس کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو جنازہ کے پیچھے پہنچ جاتا ہے صرف آپ کی رضا مندی کو چاہتے ہوئے ؟ فرمایا اس کا بدلہ یہ ہے کہ فرشتے اسے قبر تک الوداع کریں گے جس دن وہ مرے گا کہ اس کی روح پر رحمت کروں گا روحوں میں سے پھر پوچھا کیا بدلہ ہے جو یتیم کو اور کسی کمزور و محتاج کو سہارا دے صرف تیری رضا مندی کو چاہتے ہوئے ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ اس کو میں اپنے عرش کے نیچے جگہ دوں گا جس دن میرے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ پھر پوچھا : کیا بدلہ ہے جو آپ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ اس کے آنسو بہہ پڑے اس کے چہرے پر ؟ فرمایا : اس کا بدلہ یہ ہے کہ میں اس کے چہرے کو آگ پر حرام کردوں گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن اس کو امن دوں گا۔ 33:۔ احمد نے عبد الرحمن بن زہری (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے سلیمان سے فرمایا یتیم کے لئے رحیم باپ کی طرح ہوجا اور تو جان لے کہ جیسے توبوئے گا ویسے ہی کاٹے گا اور تو جان لے کہ قوم کی برائی ایسے ہے جیسے میت کے سرکے پاس گناہ کرنے والا اور تو جان لے کہ نیک عورت اپنے اہل و عیال کے لئے اس بادشاہ کی طرح جس کے سر پر تاج ہو اور اسی پر سونا چڑھا ہوا ہو۔ اور تو جان لے کہ بری عورت اپنے اہل و عیال کے لئے اس کمزور بوڑھے کی طرح ہے جس کی پیٹھ پر بھاری بوجھ ہو اور غنا کے بعد کتنا پسندیدہ ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ بری چیز گمراہی ہے ہدایت کے بعد اگر تو اپنے ساتھی سے وعدہ کرے تو پورا کر جو تو نے وعدہ کیا ہے اگر تو ایسا نہیں کرے گا تو اپنے اور اس کے درمیان دشمنی ڈال دے گا اور ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں ایسے ساتھی سے جب تو اسے یاد کرے تو وہ تیری مدد نہ کرے اور جب تو بھول جائے تو وہ تجھ کو یاد نہ کرے۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے اے اللہ ایسا مرض نہ دے جو مجھے فنا کردے اور ایسی قوت نہ دے جو مجھے بھلا دے (تیری یاد کرنے سے) لیکن اس کے درمیان رکھ۔ 35:۔ عبداللہ بن زید بن رفیع (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے ایک بڑے بخیل کو دیکھا کہ وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹک رہا تھا پوچھا اے میرے رب ؔ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ میری لعنت ہے میں اس کو ہر ظلم کرنے والے کے گھر میں داخل کرتا ہوں۔ 36:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : قرض پر مدد کرنے والا خوشحال کیا ہی اچھا ہے۔ لمبی عمر اور اچھے عمل والے کو بشارت : 37:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : اے میرے رب ! میری عمرلمبی ہوگئی اور میرا بڑھاپا زیادہ ہوگیا اور میرے اعضاء کمزور ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : اے داؤد ! خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جس کی عمر لمبی ہو اور اس کے عمل اچھے ہوں۔ 38:۔ خطیب (رح) نے الاوزاعی کے طریق سے عبداللہ بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ داؤد (علیہ السلام) کو خوبصورت آواز دی گئی تھی جو کبھی کسی کو نہیں دی گئی یہاں تک کہ پرندے اور وحشی جانور ان کے اردگرد بیٹھے ہوتے یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے مرجاتے تھے اور نہروں کا پانی تھم گیا : (واللہ اعلم )
Ayahs 38:28–29

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے ہم انہیں ان لوگوں کے طرح کردیں گے جو زمین میں فساد کرنے والے ہیٗں، کیا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح کردیں گے

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

ایک کتاب ہے جو اتاری ہم نے تیری طرف برکت کی تاکہ دھیان کریں لوگ اس کی باتیں اور تاکہ سمجھیں عقل والے

1:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت کالمفسدین فی الارض “ (ہاں تو کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور اچھا کام کئے ان کے برابر کردیں گے جو دنیا میں فساد کرنے والے ہیں فرمایا (آیت ) ” الذین امنوا “ (جو لوگ ایمان لائے) یعنی حضرت علی ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، اور حضرت عبیدہ بن حارث ؓ ، (آیت ) ” کالمفسدین فی الارض “ (اور زمین میں فساد کرنے والے) یعنی عتبہ، شیبہ، اور ولید انہوں نے بدر کے دن دعوت مبازرت دی تھی۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام نجعل الذین امنوا الصلحت “ سے لے کر ” کالفجار “ تک (یعنی) قسم ہے میری زندگی کی یہ آپس میں برابر نہیں ہوسکتے یقینی طور پر یہ لوگ دنیا میں الگ الگ ہوگئے، موت کے وقت۔ اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” ام نجعل المتقین کالفجار “ 3:۔ ابویعلی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا جس طرح کانٹوں سے انگور نہیں چنے جاسکتے اسی طرح بدکار لوگ نیک لوگوں کی منازل کو نہیں پہنچ سکتے۔ سورۃ ص ٓ آیت (29) ترجمہ : یہ کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے مبارک ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں (29) ۔ 1:۔ سعید بن منصور نے حسین ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولیتذکر “ (تاکہ اس کی آیتوں پر غور کریں) یعنی اس کا اتباع کریں اپنے عمل کے ساتھ۔ 2:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اولوالالباب “ یعنی لوگوں میں سے عقل والے۔
Ayahs 38:30–33

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد کو سلیمان بخشش کردیا اور وہ اچھا بندہ تھا بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

جب پیش کئے گئے اس پر شام کے وقت ایسے گھوڑے جو سامنے کے ایک پاؤں پر کھڑے ہونے والے تھے عمدہ گھوڑے تھے

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

سو انہوں نے کہا کہ میں نے مال کی محبت کو ترجیح دی اپنے رب کے ذکر کو چھوڑ کر یہاں تک کہ پردے میں چھپ گئے انہیں مجھ پر واپس کرو سو

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

شروع کدیا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کا چھونا

1:۔ ابن ابی حاتم نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو سلیمان عطا فرمایا تو داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے میرے بیٹے ! سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ عرض کیا : اللہ کا سکینہ اور ایمان۔ پھر پوچھا : کون سی چیز سب سے زیادہ بری ہے ؟ عرض کیا : ایمان کے بعد کفر) اختیار کرنا) پھر پوچھا : سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ فرمایا : اللہ کی رحمت اس کے بندوں کے درمیان پھر پوچھا کونسی چیز زیادہ ٹھنڈی ہے (یعنی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟ ) فرمایا : لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا تو نبی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ساتھ سوالات : 2:۔ حکیم ترمذی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ میں تیرے بیٹے سے سات باتوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں اگر اس نے تجھ کو بتادیا تو اس کو علم اور نبوت کا وارث بنادوں گا۔ داؤد (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ میں تجھ سے سات چیزوں کے بارے میں سوال کروں، اگر تو نے مجھے بتادیا تو میں تجھ کو علم اور نبوت کا وارث بنادوں گا۔ عرض کیا : مجھ سے سوال کرو جو چاہو۔ پوچھا : مجھے بتاؤ شہد سے کونسی چیز (زیادہ) میٹھی ہے ؟ اور کون سے چیز برف سے زیادہ ٹھنڈی ہے ؟ اور کونسی چیز ریشم سے زیادہ نرم ہے ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثرپانی میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثر صفاء (یعنی ملائم پتھر) میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ اور کونسی چیز ہے جس کا اثر آسمان میں نہیں دیکھا جاسکتا ؟ او جو چیز موٹا کرے سرسبز اور خشک سالی میں ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے (جواب دیتے ہوئے) فرمایا : وہ چیز جو شہد سے زیادہ میٹھی ہے وہ اللہ کی رحمت ہے ان دو آدمیوں کے لئے جو آپس میں اللہ کے لئے محبت رکھتے ہیں، وہ چیز جو برف سے زیادہ ٹھنڈی ہے وہ اللہ کا کلام ہے جب وہ کھٹکھٹائے اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے دلوں کو وہ چیز جو ریشم سے زیادہ نرم ہے وہ اللہ کی حکمت ہے جب اولیاء آپس میں اس کا ذکر کریں وہ چیز جس کا اثر پانی میں نہیں دیکھا جاسکتا وہ کشتی ہے جو گذر جاتی ہے تو اس کا اثر نہیں دیکھا جاسکتا وہ چیز جس کا اثر چٹان پر دکھائی نہیں دیتا وہ چیونٹی ہے جو پتھر پر چلتی ہے اور اس کا اثر دکھائی نہیں دیتا وہ چیز جس کا اثر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا وہ پرندے ہے جو اڑتا ہے اور اس کا اثر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا اور وہ دچیز جو موٹی ہوتی ہے خشک سالی اور سرسبزی میں تو وہ مؤمن ہے جب اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرماتے ہیں تو وہ شکر کرتا ہے اور جب مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو صبر کرتا ہے اس کا دل آلودگی سے پاک اور چمکدار ہے۔ فرمایا اپنے بیٹے کی طرف دیکھ اور اس سے چودہ چیزوں کے بارے میں سوال کر اگر وہ تجھ کو بتادے تو اس کو علم اور نبوت کا وارث بنا دے اس سے سوال کیا تو انہوں نے عرض کیا مجھے پڑھانے والا کوئی نہیں داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : مجھے بتاؤ اے میرے بیٹے ! تیری عقل کہاں ہے ؟ کہا : دماغ میں۔ پوچھا حیا کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں آنکھیں۔ پوچھا باطل کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں کان۔ پوچھا : تیری غلطیوں کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : زبان۔ پوچھا : تیرا راستہ کہاں ہے ؟ کہا دونوں نتھنے۔ پوچھا ادب اور بیان کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں گردے۔ پوچھا تیری بدخلقی اور سخت کلامی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا جگر۔ پوچھا : تیری ہوا کی جگہ کہاں ہے ؟ کہا : پھیپڑا۔ پوچھا : تیری خوشی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : تلی۔ پوچھا : تیری کمائی کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں ہاتھ۔ پوچھا : تیرے کھڑے ہونے کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دونوں ٹانگیں۔ پوچھا شہوت کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : شرم گاہ۔ پوچھا : تیری اولاد کا دروزاہ کہاں ہے ؟ کہا : ریڑھ کی ہڈی۔ پوچھا : علم اور فہم اور حکمت کا دروازہ کہاں ہے ؟ کہا : دل، جب دل بھٹک جائے تو سب اعضاء ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ اور جب دل بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ووھبنا لداؤد سلیمن، نعم العبد، انہ اواب “ (اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا وہ بہت اچھا بندہ تھا اور بہت رجوع کرنے والا تھا یعنی اللہ کی اطاعت کرنے والا اور نماز کثرت سے پڑھنے والا (آیت ) ” اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “ (جب پچھلے دن میں اس کے سامنے اصل اور عمدہ گھوڑے لائے گئے) یعنی گھوڑے۔ صفونھا، یعنی ان کا کھڑا ہونا اور اپنی ٹانگوں کو کشادہ کرنا۔” فقال انی احببت حب الخیر (پھر اس نے کہا : افسوس میں نے اس مال کی محبت میں لگ گیا) یعنی مال کی محبت میں (آیت ) ” عن ذکر ربی “ (اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا) یعنی عصر کی نماز سے (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ (یہاں تک کہ آفتاب پردہ میں چھپ گیا) 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) ابوہریرۃ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت الجیاد “ (یعنی اصیل اور عمدہ گھوڑے) یعنی وہ گھوڑا جو پیدا کیا گیا (اس طرح پر جیسے اللہ تعالیٰ نے چاہا) 5:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت “ سے مراد صفون القرس یعنی اپنی ٹانگوں میں سے ایک کو کھڑا کرنا یہاں تک کہ گھر کے کونے پر سہارا لینا اور (آیت ) ” الجیاد “ سے مراد ہے تیز دوڑنے والا۔ 6:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) حسن (رح) و قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الصفنت الجیاد “ سے مراد ہے گھوڑے اور (آیت ) ” الصفنت “ سے مراد ہے ان کا کھڑا ہونا پاؤں کا سیدھا کرنا ہے تو ان کی گردنیں اور پنڈلیاں اٹھی ہوتی ہے (آیت ) ” احببت حب الخیرعن ذکر ربی “ (اس مال کی محبت میں لگ کر اپنے رب کی یاد سے غافل ہوگیا) یعنی خیر سے مراد ہے مال اور گھوڑے اسی میں سے ہیں اور یہ کہنا کہ ان کو غافل کردیا نماز سے فرمایا نہیں اللہ کی قسم ! مجھ کو اللہ کی عبادت سے غافل نہیں کرسکتا گھوڑوں کا گزرنا ان کی پنڈلیوں کو کھول دیا اور ان کی گردنوں کو اڑا دیا۔ 7:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عوف (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے وہ گھوڑے جس کے پاؤں سلیمان (علیہ السلام) نے کاٹے تھے وہ پروں والے گھوڑے تھے ان کو سمندر سے نکالا گیا، نہ آپ سے پہلے ایسے گھوڑے تھے اور نہ ہی اس کے بعد ایسے گھوڑے تھے۔ 8:۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حب الخیر “ سے مراد ہے (آیت ) ” مال ردوھا علی “ (یعنی گھوڑوں کو مجھ پر واپس لاؤ) یعنی گھوڑوں کو (آیت) ” فطفق مسحا “ (گھوڑوں کا کاٹنا شروع کیا) یعنی تلوار کے ساتھ کاٹنا مراد ہے۔ 9:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ نماز جو سلیمان (علیہ السلام) سے رہ گئی تھی وہ عصر کی نماز تھی۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ (یہاں تک کہ سورج پر دہ کے پیچھے چھپ گیا) یعنی وہ پردہ سبز یاقوت کا ہے جس نے ساری مخلوق کو گھیرے رکھا ہے۔ اس میں سے آسمان کی سبزی ہے۔ اس لئے اس کو سبز آسمان کہا جاتا ہے۔ اور سمندر آسمان کی وجہ سے سبز ہوتا ہے اس وجہ سے سبز سمندر کہا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑوں کے پر : 11:۔ ابو داؤد نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عزوۂ تبوک یا خیبر سے واپس تشریف لائے میں آئی اور میں نے گڑیوں سے پردہ ہٹایا آپ نے پوچھا عائشہ کیا ہے ؟ عرض کیا یہ میری گڑیاں ہیں اور ان کے درمیان ایک گھوڑا دیکھا کپڑے کے ٹکڑوں سے جس کے پر بنائے گئے تھے پھر پوچھا یہ کیا ہے جو میں ان کے درمیان دیکھ رہا ہوں عائشہ ؓ نے فرمایا یہ گھوڑا ہے جس کے دو پر ہیں پوچھا وہ کیا ہے جو اس کے اوپر ہے ؟ میں نے کہا : دو پر ہیں۔ فرمایا : گھوڑا اور اس کے پر (عجیب بات ہے ) ۔ عائشہ ؓ نے فرمایا : کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے گھوڑے کے دو پر تھے۔ (یہ سن کر) آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں دکھائی دینے لگیں۔ 12:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابراہیم تیمی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذ عرض علیہ بالعشی الصفنت الجیاد “ یعنی بیس ہزار گھوڑے تھے پروں والے جن کی ٹانگیں آپ نے کاٹ دیں۔ 13:۔ ابن اسحاق (رح) وابن جریر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حتی تو ارت بالحجاب “ فرمایا کہ وہ ایک بستی کے پیچھے چھپ گیا اور آسمان کی سرسبزی اسی سے ہے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) سے کوئی کلام نہیں کیا جاتا تھا ان کی تعظیم کرتے ہوئے ان کی عصر کی نماز فوت ہوگئی کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ ان سے بات کریں۔ 15:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عن ذکرربی “ میرے رب کی یاد سے (غافل کردیا) (آیت ) ” فطفق مسحا “ (ان کو تلوار سے مارنا شروع کیا) یعنی گھوڑوں کی گردنوں پر بالوں اور ان کی ٹانگوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ 16:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں، اسماعیل نے اپنی معجم میں اور ابن مردویہ (رح) نے (حسن سند کے ساتھ) ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (آیت) فطفق مسحا بالسوق والاعناق “ کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار کے ساتھ کاٹنے لگے۔