38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 38:41–44

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کیجئے جبکہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے شیطان نے دکھ اور آزار پہنچایا ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

اپنا پاؤں مارو یہ غسل کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ اور ان کے ساتھ ان کے برابر عطا کئے ہماری رحمت خاصہ کے سبب سے اور عقل والوں کی یادگار کے لئے

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور تم اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کالے لو پھر اسے ماردو اور قسم نہ توڑو، بلاشبہ ہم نے ان کو صابر پایا اچھے بندہ تھے وہ بیشک وہ بہت رجوع ہونے والے تھے

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا امتحان : 1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا ایوب، اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “ (اور ہمارے بندہ ایوب کا تذکرہ کرو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو رنج اور آزار پہنچایا ہے) یعنی آپ کے اہل و عیال اور مال سب پر چھا گئے اور وہ تکلیف جو ان کو ان کے جسم میں پہنچی فرمایا اسی تکلیف میں سات سال اور کچھ مہینے مبتلا رہے آخر کو بنی اسرائیل کے کوڑے کرکٹ پر ڈالدیا گیا، مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے آپ کے جسم میں پھرتے رہتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ تکلیف دور کردی اور ان کے لئے اجر کو عظیم بنایا اور آپ کو خوبصورتی بھی عطا فرمائی۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” بنصب و عذاب “ سے مراد ہے جسم میں تکلیف و عذاب سے مراد ہے مال میں عذاب (یعنی مال کا ہلاک ہوجانا) 3:۔ احمد فی الزھد وابن ابی حاتم وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیطان آسمان پر چڑھا اور کہا اے میرے رب ! مجھے ایوب (علیہ السلام) پر مسلط کردے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تجھ کو مسلط کردیا اس کے مال پر اور اس کی اولاد پر اور میں نے تجھ کو اس کے جسم پر مسلط نہیں کیا، شیطان نیچے اترا اور اپنے لشکروں کو جمع کرتے ہوئے کہا مجھے ایوب (علیہ السلام) پر غلبہ عطا کیا گیا ہے۔ تم مجھ کو اپنا غلبہ دکھاؤ وہ آگ بن گئے پھر پانی بن گئے اس درمیان کہ اس کے لشکر مشرق میں ہوتے تو پھر مغرب میں ہوتے اور وہ مغرب میں ہوتے پھر مشرق میں ہوتے اس نے لشکروں میں سے ایک جماعت کو آپ کی کھیتی کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو آپ کے اہل و عیال کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو آپ کی گائیوں کی طرف بھیجا اور ایک جماعت کو اس کی بکریوں کی طرف بھیجا شیطان نے کہا وہ تم سے نہیں بچ سکتا مگر نیکی کے ساتھ یہ لشکر ان کے پاس مصیبتیں لے کر آئے جو بعض سے بڑھ کر تھے کھیتوں کا نگہبان آیا اور کہا : اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے دشمن کو تیری کھیتی پر بھیجا ہے اور وہ اس کھیتی کو ختم کرگئے ہیں اونٹوں کا نگہبان آیا اور کہا اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے تیرے اونٹوں پر دشمن کو بھیج دیا ہے۔ جو ان کو ہلاک کردیں گے پھر گائیوں کا نگہبان آیا اور کہا کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ گائیوں پر اس نے دشمن کو بھیج دیا ہے اور پھر وہ ان کو لے گیا۔ آپ اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ ان میں سے سب سے بڑے کے گھر میں تھے۔ اسی اثناء میں وہ سب کھانا کھا رہے تھے اور پانی پی رہے تھے (اچانک) ہوا چلی اس نے گھر کی دیواروں اور اس کے حصوں کو اپنی گرفت میں لے کیا شیطان ایوب (علیہ السلام) کے پاس ایک لڑکے کی شکل میں آیا اور کہا اے ایوب ! کیا تو نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا کہ تیرے بیٹوں کو اس نے ان میں سے بڑے کے گھر میں جمع کیا اور درمیان کہ وہ کھاپی رہے تھے کہ ہوا چلی اس نے گھر کی دیواروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسے ان پر پھینک دیا اگر تو ان کو دیکھے جب کہ ان کے خون اس کے گوشت ان کے کھانے اور ان کے مشروب کے ساتھ خلط ملط ہوئے ایوب (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو شیطان ہے پھر اس سے فرمایا آج کی دن میں اس دن کی طرح ہوں جس دن مجھے میری والدہ نے جنا تھا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اپنے سر کو مونڈا اور نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے (یہ دیکھ کر) ابلیس زور زور سے رونے لگا جس کو آسمان اور زمین والوں نے سنا پھر آسمان کی طرف گیا اور کہا : اے میرے رب ! ایوب (علیہ السلام) تو محفوظ رہا (اتنے نقصانات کے باوجود ان پر کوئی اثر نہیں پڑا) مجھے ان پر غلبہ عطا کر کیونکہ میں طاقت نہیں رکھتا تیری طاقت کے بغیر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تجھ کو اس کے جسم پر غلبہ دے دیا اور میں نے اس کے دل پر غلبہ نہیں دیا۔ شیطان نیچے اتر آیا اور ان کے قدموں کے نیچے پھونک ماردی جس نے آپ کے قدموں سے لے کر سر کے بالوں تک زخمی کردیا پھر وہ ایک ہی پھوڑا ہوگیا آپ کو راکھ پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ انکے دل کا پردہ ظاہر ہوگیا ان کی بیوی ان کے لئے محبت کرتی تھی یہاں تک کہ اس نے کہا اے ایوب ! کیا تو نے نہیں دیکھا اللہ کی قسم مجھے ایسی مشقت اور فاقہ آپہنچا ہے۔ کہ میں نے اپنی مینڈھیا ایک روٹی کے بدلے میں بیچ دیں۔ جو تجھ کو کھلا رہی ہوں اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا دے اور راحت دے۔ فرمایا : افسوس ہے تجھ پر کیا ہم ستر سال نعمتوں میں نہیں رہے ؟ پس تو صبر کر یہاں تک کہ ہم تکلیف میں بھی ستر سال رہیں ابھی ان کو سات سال تکلیف میں گزرے تھے کہ آپ نے دعا کی جبرائیل (علیہ السلام) ایک دن تشریف لائے ان کا ہاتھ پکڑا پھر فرمایا کھڑے ہوجائیے آپ کھڑے ہوئے ان کی جگہ سے ان کو دور کردیا۔ اور فرمایا (آیت ) ” ارکض برجلک، ھذا مغتسل باردو شراب “ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت کا ایک جوڑا پہنایا ایوب (علیہ السلام) اس جگہ سے ہٹ گئے اور ایک کونے میں بیٹھ گئے ان کی بیوی آئی اور ان کو نہ پہچانا اور کہا اے اللہ کے بندے وہ مصیبت زدہ آدمی کہاں ہے جو یہاں تھا شاید کتے اور بھیڑئیے اس کو لے گئے اور وہ کچھ دیرباتیں کرتی رہیں تو انہوں نے کہا افسوس ہے تجھ پر میں ایوب ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میرے جسم کو واپس کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کی بارش برسائی، حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے ان ٹڈیوں کو پکڑتے رہے پھر ان کو اپنے کپڑوں میں ڈال دیتے اور اپنی چادر کو پھیلا تے جاتے اور اس میں ڈالتے جاتے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی اے ایوب ! کیا تو سیر نہیں ہوا عرض کیا اے میرے رب ! کون ہے جو آپ کے فضل اور آپ کی رحمت سے سیر ہوجائے۔ بیوی کو سوکوڑے مارنے کی نذر : 4:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شیطان راستے پر بیٹھ گیا اس نے ایک صندوق لیا اور لوگوں کا علاج کرنے لگا۔ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا اے اللہ کے بندے ! یہاں ایک مصیبت زدہ آدمی ہے جسے یہ تکلیف ہے کیا تیرے پاس کوئی اس کا علاج ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! مگر اس شرط کے ساتھ اگر میں اس کو شفادیدوں تو وہ یوں کہے کہ میں نے اس کو شفا دی ہے اس کے علاوہ میں اس سے کسی اجر کا ارادہ نہیں رکھتا۔ بیوی ایوب (علیہ السلام) کے پاس آئی اور ان کو یہ بات ذکر کی کہ تو ایوب (علیہ السلام) نے فرمایا : افسوس ہے تجھ پر وہ تو شیطان ہے اللہ کیلئے مجھ پر لازم ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرمائی توس میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطاء فرمائی تو (اللہ تعالیٰ نے) حکم فرمایا کہ گھاس کا گٹھا لے لو تو آپ نے ایک شاخ لی جب میں سو شاخیں تھیں اور ایک دفعہ اپنی بیوی کو مارا (تو قسم پوری ہوگئی) 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے روایت ہے کہ جس شیطان نے ایوب (علیہ السلام) کو چھوا تھا اس کو مسوط کہا جاتا تھا یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت آپ کے پاس سے گزری اور اس کے بعض نے بعض سے کہا کہ ان کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے پہنچی ہے اس وقت (یہ دعا) فرمائی (آیت ) ” ربی انی مسنی الضروانت ارحم الرحمین “ (اے میرے رب ! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور آپ سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ 6:۔ ابن المنذر نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ارکض برجلک ھذا “ (آپ اپنی ایڑی زمین پر مارئیے) اس میں ھذا سے مراوہ پانی ہے (آیت ) ” ھذا مغتسل بارد و شراب “ (تو یہ ٹھنڈا ہوگا غسل کرنے اور پینے کے لئے) فرمایا پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو چشمہ پھوٹ پڑا۔ اور اپنا داہنا ہاتھ مارا اپنی پیٹھ پیچھے تو ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ ان میں سے ایک سے پیا اور دوسرے سے غسل کیا۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اپنے پاؤں کو زمین پر مارا جس کو حمامہ کہا جاتا تھا اچانک دو چشمے پھوٹ پڑے۔ ان میں سے ایک سے پانی پیا اور دوسرے سے غسل کیا۔ 8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کہ جب ان پر مصبیت سخت ہوگئی تو دعا فرمائی یا دعا کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ پاؤں کو زمین پر مارئیے جس سے ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس سے غسل فرمایا تو ساری تکلیف جاتی رہی پھر آپ نے چالیس قدم پر پاؤں مارا تو ایک چشمہ پھوٹ پڑا تو آپ نے اس میں سے پیا۔ 9:۔ عبد بن حمید نے معاویہ بن قرہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ایوب (علیہ السلام) کو اس کے اہل و عیال عطا کریں اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی عطا کریں۔ اور اس کا مال اور اس کی حکومت بھی (دوبارہ) اس کو عطا کردیں (مگر) مجھے اس کے جسم پر مسلط کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا چلا جا میں نے تجھ کو اس کے جسم پر مسلط کردیا۔ اور اے خبیث خاص کر اس کے دل سے دور رہنا۔ راوی نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے جسم میں پھونک دیا تو ان کا گوشت گرگیا جب ان سے عاجز آگیا تو زور سے چیخا اس کے لشکر اس کی طرف جمع ہوگئے انہوں نے کہا : اے ہمارے سردار ! کس چیز نے آپ کو غصبناک کیا ؟ شیطان نے کہا : میں کیوں غصہ نہ ہوں۔ بلاشبہ میں نے آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکلا جبکہ اس کا یہ کمزور بیٹا مجھ پر غالب آگیا لشکر والوں نے کہا اے ہمارے سردار اس کی بیوی کا کیا حال ہے اس نے کہا وہ تو زندہ ہے کہا ہاں تیرے لئے کافی ہوگا اس کا معاملہ شیطان نے ایوب (علیہ السلام) سے کہا اگر تو اس کو طلاق دے تو یقینی طور تو ٹھیک ہوجائے گا پھر شیطان ان کی بیوی کے پاس آیا اور اس سے استبراء کے لئے کہا بیوی (علیہ السلام) کے پاس آئی اور اس سے کہا اے ایوب ! کب تک اس بیماری میں پڑے رہوگے ایک کلمہ کہہ لو پھر اپنے سے استغفار کرلینا وہ تجھ کو بخش دے گا ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے فرمایا تو نے یہ کیا کہا ہے پھر اس سے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا پھر دعا فرمائی اے میرے رب ! شیطان نے رنج اور آزار پہنچایا ہے اس کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا اپنا پاؤں زمین پر مارئیے یہ ٹھنڈا پانی سے نہانے اور پینے کے لئے (جب غسل کیا اور پیا) تو ان کی طرف خوبصورتی اور جوانی لوٹ آئی۔ پھر آپ مٹی کے ایک ٹیلہ پر بیٹھ گئے۔ ان کی بیوی کھانا لے کر آئی ان کا کوئی نشان نہ دیکھا ایوب (علیہ السلام) سے پوچھا جو ٹیلے پر بیٹھے تھے۔ اللہ کے بندے کیا تو نے مصیبت زدہ کو دیکھا ہے جو یہاں تھا انہوں نے اس سے کہا اگر تو اس کو دیکھ لے تو ان کو پہچان لے گی۔ اس نے کہا شاید کہ تو ہی وہ ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ایک مٹھا اپنے ہاتھ میں لیکر اس کو مار لو اور قسم نہ توڑو۔ راوی نے کہا کہ مٹھا یہ ہے کہ چابک کا ایک گٹھا لے لو اور اس کے ساتھ ایک دفعہ مارلو۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی آزمائش : 10:۔ احمد نے الزھد میں عبدالرحمن بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) آزمائش میں ڈالے گئے اپنے مال اپنی اولاد اور اپنے جسم میں اور ایک کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر ان کو پھینک دیا گیا۔ ان کی بیوی ان کے لئے محنت کرکے ان کے لئے کھانا لاتی تھی شیطان نے اس سے حسد کیا وہ اصحاب الخیر اور مالدار لوگوں کے پاس آتا جو اس عورت پر صدقہ کرتے تھے۔ شیطان نے ان لوگوں سے کہا کہ اس عورت کو دور بھگادو جو تمہارے پاس آتی ہے، کیونکہ یہ اپنے شوہر کا علاج کرتی ہے اور اس کو ہاتھ لگاتی ہے تو لوگ اس وجہ سے تمہارے کھانے بچتے ہیں کہ وہ عورت تمہارے پاس آتی ہے۔ اب وہ آپ کی بیوی کو قریب نہ آنے دیتے اور کہتے ہیں ہم سے دور رہے اور ہم تجھ کو کھانا دیدیں گے اور تو ہمارے قریب مت آ بیوی نے ایوب (علیہ السلام) کو اس بات کی خبردی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد بینا کی، آپ کی بیوی جب آپ کے پاس سے جاتی تو شیطان اس سے ملتا اور یہ ظاہر کرتا کہ ایوب (علیہ السلام) کی مصیبت پر وہ بڑا دکھ میں ہے اور کہتا ” لج صاحبک وابی الا ما ابی اللہ “ (یعنی تیرے خاوند نے جھگڑا کیا اور انکار کیا مگر اللہ نے انکار نہیں کیا) (شیطان نے کہا) اگر وہ ایک بات کہہ دیتا تو ہر بیماری ان سے ختم ہوجاتی اور ان کی طرف ان کا مال اور ان کی اولادلوٹ آتے بیوی آتی اور ایوب (علیہ السلام) کو (وہ بات) بتاتی ایوب (علیہ السلام) نے بیوی سے فرمایا تجھ کو اللہ کا دشمن ملا ہے اور اس نے تجھ کو یہ بات تلقین کی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی بیماری سے شفا دی تو میں تجھ کو سو کوڑے ماروں گا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “ میں ” ضعث “ سے مراد ہے کھجوروں کی شاخوں کا گٹھا۔ 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ میں ” الضعث “ سے مراد ہے ایک مٹھا پاکیزہ گھاس میں سے۔ 12:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد گٹھا۔ 13:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ” ضغثا “ سے مراد ایسا گٹھا ہے جس میں ننانوے لکڑیاں ہوتی ہیں اور اصل میں پورا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے ان کی بیوی کو شیطان نے کہا کہ اپنے شوہر کو اس طرح اور اس طرح سے کہہ لے (یہ سن کر) ایوب (علیہ السلام) نے اس کو سوکوڑے مارنے کی قسم کھائی تو آپ نے اسے یہ گٹھا مارا تو اس میں انہوں نے اپنی قسم کو پورا کردیا اور اپنی بیوی سے بھی (سزا کو) ہلکا کردیا۔ 14:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ ایوب (علیہ السلام) نے اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی وجہ یہ تھی کہ وہ جو روٹی لاتی تھی وہ اس سے زیادہ ہوتی جو وہ کام کرتی آپ کو اس بات کا خوف ہوا کہ اس سے خیانت سے واقع ہوئی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور ان سے تکلیف کو ہٹا دیا تو اس تہمت سے بیوی کے بری ہونے کا علم ہوا، جو آپ نے اس پر لگائی تھی اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “ انہوں نے تمام (جنگل کی لکڑی) کا گٹھا لیا جس میں سولکڑیاں تھیں۔ سو اس کے ساتھ اس کو مارا جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا تھا۔ 15:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر ابن ابی نجیع کے طریق سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ رعایت خاص طور پر ایوب (علیہ السلام) کے لئے تھی اور عطا نے فرمایا کہ یہ حکم تمام لوگوں کے لئے عام ہے۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد ہے درختوں کی ایک جماعت اور یہ (حکم) ایوب (علیہ السلام) کیلئے خاص تھا۔ اور ہمارے لئے عام تھا۔ 17:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وخذبیدک ضغثا “ سے مراد ہے کہ ان کو حکم فرمایا کہ گٹھا لے لو جس میں درخت کی لکڑی کے سوا اجزاء ہوں پھر وہ اپنی بیوی کو ماریں جو تم نے اس پر قسم کھائی تھی اور فرمایا کہ یہ اجازت ایوب (علیہ السلام) کے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہیں سوائے انبیاء (علیہم السلام) کے۔ 18:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف (رح) سے روایت کیا کہ بنوسعدہ میں ایک لونڈی زنا سے حاملہ ہوگئی اس سے پوچھا گیا یہ حمل کس آدمی سے ہے ؟ اس نے کہا : فلاں اپاہج سے، اپاہج سے پوچھا گیا تو اس نے کہا : اس عورت نے سچ کہا۔ یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لے جایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے لئے کھجوروں کا گچھا لے لو جس میں سو شاخیں ہوں پھر اس کے ساتھ اس کو ایک ضرب لگادو تو صحابہ نے ایسا ہی کیا۔ 19:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) و طبرانی (رح) وابن عساکر ابوامامہ بن سہل بن حنیف کے طریق سے سعد بن عبادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے گھروں میں ایک ضعیف آدمی تھا جس کے اعضاء کٹے ہوئے تھے گھروالوں کو اس سے کسی بات کا خوف نہ تھا مگر وہ گھر کی ایک باندی سے کھیلتا رہتا۔ (اور اس سے جماع کرلیا) اور وہ مسلمان تھا سعد ؓ نے اس معاملہ کو رسول اللہ ﷺ کے ہاں پیش کردیا۔ آپ نے فرمایا اس پر حد جاری کرو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ اس سے بہت زیادہ کمزور ہے اگر ہم نے اس کو سو کوڑے لگائے تو (گویا) ہم اس کو قتل کردیں گے (پھر) آپ نے فرمایا اس کے لئے کچھ لگا ایک گچھا لے لو جس میں سو شاخیں ہوں اس کو ایک دفعہ ماردو اور اس کا راستہ چھوڑ دو ۔ 20:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے محمد بن عبدالرحمن سے روایت کیا اور انہوں نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک آدمی نے ایک فاحشہ عورت سے بدکاری کی جبکہ وہ مریض تھا اور مرنے کے قریب تھا اس کے گھر والوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے عمل کے بارے میں بتایا تو آپ نے کھجور کے ایک گچھے کا حکم فرمایا جس میں سو شاخیں ہوں پھر اس کو ایک مارنے کا حکم فرمایا۔ 21:۔ طبرانی (رح) نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بوڑھے آدمی کو لایا گیا کہ اس کی رگیں ظاہر ہوچکی تھیں اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا تو اس کو کھجور کے ایک گچھے کے ساتھ ایک دفعہ مارا گیا جس میں سوشاخیں تھیں۔ اما قولہ تعالیٰ : انا وجدنہ صابرا نعم العبد : 22:۔ ابن عساکر (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ 23:۔ ابن عساکر (رح) نے سعید بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کو آواز دی گئی اے ایوب اگر تو نے ہر بال کی جگہ سے صبر کو نہ انڈیلا پھر تو نے صبر نہ کیا۔ صبر پر فخر کرنا بھی جائز نہیں ! 24:۔ ابن عساکر (رح) نے لیث بن ابی سلیمان ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ اپنے صبر پر فخر نہ کیجئے اگر میں ہر بال کی جگہ تجھ کو صبر عطا نہ کرتا تو تو صبر نہ کرتا۔ 25:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا اے ایوب ! تو ایسا آدمی ہے جس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کو شفا دے فرمایا افسوس ہے تجھ پر ہم ستر سال تک نعمتوں میں رہے تو ہم کو رہنے دے تاکہ ہم اس مصیبت میں سات سال تک رہیں۔ 26:۔ ابن عساکر (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کی بیوی رحمت ؓ جو بیٹی تھی میشا کی، جو بیٹے تھے یوسف (علیہ السلام) کے، جو بیٹے تھے یعقوب (علیہ السلام) کے، جو بیٹے تھے اسحاق کے، جو بیٹے تھے ابراہیم (علیہ السلام) کے۔ 27:۔ ابن ابی شیبہ اور احمد نے الزھد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ ایوب (علیہ السلام) کو جب بھی کوئی مصیبت پہنچی تو یہ دعا فرماتے۔ اللہم انت اخذت وانت اعطیت مھما تبقی نفسک احمدک علی حسن بلائک : ترجمہ : اے اللہ ! تو نے ہی پکڑا اور تو نے ہی عطا فرمایا جب تک تیری ذات باقی رہے گی میں تیری حمد بیان کرتا رہوں گا تیرے حسن بلاء پر۔
Ayahs 38:45–48

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور یاد کیجئے ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

بیشک ہم نے انہیں ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ بندے ہمارے نزدیک انتخاب کردہ اچھے لوگوں میں سے ہیں

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور یاد کیجئے اسماعیل کو اور الیسع کو اور ذوالکفل کو، اور یہ سب اچھے لوگوں میں سے تھے

1:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی پہلے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا پھر آپ کی اولاد کا ذکر فرمایا۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واذکر عبدنا ابرھیم “ یعنی جمع کا صیغہ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) ہیں۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے عبادت میں قوت والا ” والابصار “ سے مراد ہے اللہ کے امر میں بصیرت والے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی والابصار “ میں الید سے مراد ہے عمل میں قوت کا ہونا اور (آیت) ” والابصار “ سے مراد ہے جو ان کو اپنے دین کے معاملے میں بصیریت ہے۔ 5:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی “ سے مراد ہے اللہ کے حکم میں قوت (آیت) ” والابصار “ سے مراد ہے عقل۔ 6:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اولی الایدی والابصار “ سے مراد ہے قوت والی عبادت میں اور مدد کرنے والے دین میں۔ 7:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ (ہم نے ان کو ایک خاص بات کے لئے جو دار آخرت کا یاد کرنا ہے منتخب کرلیا تھا۔ یعنی ہم نے ان کو قیامت کے دن کے گھر کے ذکر کی وجہ سے خاص کرلیا۔ 8:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ سے مراد ہے آخرت کا ذکر اس کو اس کے علاوہ نہ کوئی غم ہے اور نہ کوئی فکر۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ یعنی اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو خالص کرلیا کیونکہ وہ بلاتے تھے آخرت کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی طرف۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ یعنی جنت والوں کو اپنے فضل سے آخرت کے گھر کی یاد کے لئے خاص کرلیا) 11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ذکری الدار “ سے مراد ہے عقبی الدار یعنی اخرت کا گھر۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” والیسع “ تخفیف کے ساتھ اور اعمش (رح) ” ایسع “ کو تشدید کے ساتھ۔
Ayahs 38:49–61

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں ان کے لئے دروازے کھلے ہوں گے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

وہ ان میں تکیہ لگائے ہوں گے، وہ وہاں بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں طلب کریں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان پاس نیچی نگاہ والی ہم عمربیویاں ہوں گی

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا تھا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بلاشبہ یہ ہمارا رزق ہے۔ جس کو ختم ہونا ہی نہیں

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

اس بات کو سمجھ لو اور بلاشبہ سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے سو وہ برا بچھونا ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ عذاب ہے سو تم اس کو چکھ لو، حمیم ہے اور غساق ہے

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اس کے سوا اسی طرح کو انواع عذاب ہیں

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ جماعت ہے جو تمہارے ساتھ داخل ہورہی ہے، جن کے لئے کوئی مرحبا نہیں ہے بیشک یہ لوگ دوزخ میں داخل ہونے والے ہیں

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ایسے ہو کہ تمہارے لئے مرحبا نہیں ہے تم نے اس کو ہمارے لئے آگے بڑھایا سو یہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب جس نے اس کو ہمارے آگے کیا اسے دوزخ میں دوگنا عذاب بڑھا دیجئے

1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔ اتراب : یعنی ہم عمر۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتراب “ یعنی ہم مثل ہوں گی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان ھذا لرزقنا مالہ من نفاد “ (بلاشبہ یہ ہماری عطا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی) یعنی ختم ہونا (آیت ) ” ھذا فلیذوقوہ حمیم وغساق “ (یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ اس کو پینا پڑے گا) ہم بیان کرتے تھے کہ ” وغساق “ وہ پیپ ہے جو اس کی کھال اور اس کے گوشت کے درمیان بہے گی۔ (آیت ) ” آخر من شکلہ ازواج (58) (اور اسی قسم کی دوسری طرح طرح کی چیزیں ان کے لئے ہوں گی) ینی اسی طرح سے دوسرے قسم کے عذاب ہوں گے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد (رح) عبد بن حمید (رح) نے ابو زرین (رح) سے روایت کیا کہ ” وغساق “ وہ ہے جو ان کی پیپ میں سے بہے گی 6:۔ ہناد (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے کہ وہ پیپ جو ان کی کھالوں میں سے بہے گی۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے شدت کی سردی (آیت ) ” واخرمن شکلہ “ اور اس طرح دوسری قسم کے عذاب ازواج یعنی کسی قسم کے عذاب۔ 8:۔ ھنادبن السری فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ وہ چیز ہے کہ اس کے چکھنے کی طاقت نہیں رکھیں گے اس کے شدید ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے عبداللہ بن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے بدبودار اور وہ طخاق سے منسوب ہے۔ 10:۔ احمد و ترمذی (رح) وان جریر (رح) وان ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (صححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی نے البعث والنشور میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر غساق میں سے ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں گے۔ جہنمیوں کی غذا لہو وپیپ ہے : 11:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ایک چشمہ ہے جو جہنم میں ہوگا۔ جس کی طرف سانپ بچھو اور دوسری چیزوں کا زہر بہتا ہے تو اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ 12:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ 13:۔ عبد بن حمید نے مرہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے ” الزمھریر “ یعنی شدت کی سردی کا ذکر کیا انہوں نے عبداللہ ؓ سے کہا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ سے یہی مراد ہے لوگوں نے عبداللہ سے کہا کیا زمھریر کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ تو انہوں یہ آیت پڑھی (آیت ) ” لا یذوقون فیھا برداولا شرابا (24) الا حمیما وغساقا (25) “ (سورۃ النباء) (نہ وہاں کی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا مگر گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ میں ازواج سے مراد ہے مختلف قسم کے عذاب۔ 15:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کا ذکر فرمایا۔ زنجیروں اور طوق کا ذکر فرمایا اور جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اس کا ذکر فرمایا پھر فرمایا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ وہ ایسی چیزوں کو ذکر فرمایا جو دنیا میں دکھائی نہیں دیتیں۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ یعنی اخر کو الف کے رفع اور خاء کے نصب کے ساتھ پڑھا۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ یعنی آخر کو الف کے زبر اور مد کے ساتھ پڑھا۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا فوج مقتحم معکم “ سے لیکر (آیت ) ” فبئس القرار “ تک یعنی یہ لوگ جو ان کے تابعداری کرنے والے تھے۔ وہ اپنے سرداروں سے کہیں گے۔ 19:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا فزدہ عذابا ضعفا فی النار “ (یعنی اس کو زیادہ کیجئے آگ میں دگنے عذاب کے ساتھ) یعنی بڑے سانپوں اور چھوٹے سانپوں کے ذریعہ۔
Ayahs 38:62–64

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم اشرار یعنی برے لوگوں میں شمار کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کا مذاق بنا رکھا تھا یا ان کے دیکھنے سے آنکھیں چکرا رہی ہیں ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بلاشبہ یہ حق ہے، دوزخ والوں کا جھگڑنا

1:۔ عبد بن حمید (رح) وان جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ (اور وہ کہیں گے کیا بات ہے کہ دوزخ میں ہم کو وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے) یہ ابوجہل بن ہشام کا قول ہوگا دوزخ میں میرے لئے کیا بات ہے کہ میں بلال کو عمار کو صہیب کو اور خباب کو ؓ اور فلاں کو نہیں دیکھتا (آیت ) ” اتخذنہم سخریا “ ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور وہ ایسے نہیں تھے (آیت ) ” ام زاغت عنہم الابصار “ (یا ان سے ہماری نگاہ چوک رہی ہے) یا وہ آگ میں تو ہیں اور ہم ان کو نہیں دیکھ رہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ کہ اس سے وہ عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کے ساتھیوں کو مراد لیتے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید والمنذر (رح) علیہ نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا “ سے مراد ہے کہ ابو جہل یہ بات آگ میں کہے گا کہ خباب کہاں ہے ؟ صہیب کہاں ہے ؟ بلال کہاں ہے ؟ عمار کہاں ہے ؟۔ 4:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ سے مراد ہے کہ وہ جنت والوں کو نہ پائیں گے (اور کہیں گے) ( (رح) علیہ آیت ) ” اتخذنہم سخریا ام زاغت الابصار “ یعنی یا وہ ہمارے ساتھ ہیں آپ میں اور ہم ان کو نہیں دیکھ رہے زاغت یعنی ہماری آنکھیں ان سے چوک گئیں اور ان کو نہیں دیکھا گیا جب وہ آگ میں داخل کئے گئے۔
Ayahs 38:65–66

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد ہے قہار ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے اندر ہے ان سب کا رب ہے، عزیز ہے، غفار ہے

1:۔ نسائی (رح) ومحمد بن نصر و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں کھڑے ہوتے تھے تو یہ فرماتے تھے (آیت ) ” لا الہ الا اللہ الواحد القھار (65) رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار “ (اور سوائے اللہ کے اور کوئی لائق عبادت نہیں وہی یگانہ سب پر غالب ہے آسمانوں کا زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کائنات کا مالک ومنتظم ہے زبردست ہے (اور گناہوں کو) بہت زیادہ بخشنے والا ہے) ۔
Ayahs 38:67–70

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ یہ بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

تم اس سے اعراض کئے ہوئے ہو

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے ملا اعلیٰ کا کچھ علم نہیں ہے جبکہ وہ آپس میں گفتگو کرتے ہیں

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ میں واضح طور پر ڈرانے والا ہوں

1:۔ فریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابو نصرالسنجری نے الابانہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ (فرما دیجئے وہ ایک بڑی خبر ہے) یعنی قرآن مجید۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے الابانہ میں محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل ھو نبؤا عظیم “ یعنی تم نباعظیم کے بارے میں بحث کرتے رہتے ہو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ (مجھے عالم بالا کی بحث و گفتگو کی کچھ بھی خبر نہ تھی جبکہ (تخلیق آدم کے بارے میں) جھگڑ رہے تھے یعنی اس سے فرشتے مراد ہیں۔ جو آدم (علیہ السلام) کے بارے میں جھگڑا کررہے تھے (آیت ) ” واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ، قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا ویسفک الدمآء “ سے لے کر ” انی خالق بشرا من طین فاذاسویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوالہ سجدین “ تک یعنی اس کے بارے میں ملا اعلیٰ فرشتے آپس میں جھگڑا کررہے تھے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی “ (مجھے کوئی علم نہیں ملا اعلی کے بارے میں یعنی وہ فرشتے ہیں جب کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کے موقع پر آپس میں مشورہ کیا اور اس بارے میں جھگڑا کیا کہنے لگے آپ زمین میں خلیفہ بنانا چاہتے ہیں۔ 4:۔ محمد بن نصر (رح) نے کتاب الصلاۃ میں وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ سے مراد وہ جھگڑا ہے جو آدم (علیہ السلام) کے بارے میں تھا (آیت ) ” اتجعل فیھا من یفسد فیھا “ (کیا آپ زمین میں خلفیہ بنانا چاہتے ہیں جو اس میں فساد کرے گا ) ملا اعلیٰ میں فرشتوں کے جھگڑے : 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتے ہو کس بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے ؟ صحابہ (رح) نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جھگڑ رہے تھے تین کفاروں کے بارے میں ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا، جماعت کے لئے پیدل چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) واحمد بن حمید (رح) و ترمذی (رح) (وحسنہ) اور محمد بن نصر (رح) نے کتاب الصلوۃ روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو میرا رب میرے پاس بہترین صورت میں آیا جتنا میں گمان کرتا ہوں اس نے مجھے خواب میں فرمایا اے محمد ! ﷺ کیا تو جانتا ہے کہ جس بات میں فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں (پھر) اللہ پاک نے اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا اور ” بین ثدی اور فی نحری فرمایا تو میں نے جان لیا زمین و آسمان کی اس چیز کو پھر فرمایا اے محمد ﷺ کیا تو جانتا ہے کس بارے اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : ہاں ! کفارات میں، اور نمازوں کے بعد میں ٹھہرے کے بارے میں اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے پیدل چلنے کے بارے میں اور ناگواریوں میں اچھی طرح وضو کرنے کے بارے میں اور جس نے ایسا کیا تو اس نے اچھی زندگی گزاری اور اپنے گناہوں سے (ایسا پاک ہوجائے گا) جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ اور فرمایا اے محمد جب تو نماز پڑھے تو یوں دعا کرے، اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا ردت بعبادک فتنۃ فاقبضین الیک غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب آپ اپنے بندوں کی آزمائش کا ارادہ فرمائیں تو مجھ کو اپنی طرف قبض کرلیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ اور فرمایا درجات سے مراد ہے سلام کو پھیلانا کھانا کھلانا اور رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں۔ گناہوں کے کفارات کیا ہیں ؟: 7:۔ ترمذی (رح) (صححہ) ومحمد بن نصر و طبرانی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشریف لائے یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیتے آپ جلدی سے باہر تشریف لائے اقامت کہی گئی رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو ایک کوڑا آپ نے منگوایا اور فرمایا اپنی صفوں میں رہو تم پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں تم کو بتانے والا ہوں کہ کس چیز نے مجھ کو تم سے روک دیا صبح کو یا رات کو کھڑا ہوا۔ اور میں نے نماز پڑھی جتنا میرے لئے ممکن تھا۔ اور نماز میں مجھے اونگھ آئی یہاں تک کہ میرے لئے نماز پڑھنا مشکل ہوگیا کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک وتعالیٰ کے ساتھ ہوں جو انتہائی حسین صورت میں ہیں۔ اور فرمایا : اے محمد ﷺ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں تعمیل کے لئے حاضر ہوں، فرمایا : کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں عرض کیا درجات کے بارے میں اور کفارات کے بارے میں فرمایا درجات کیا ہیں میں نے کہا کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور رات کو نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں فرمایا تو نے سچ کہا فرمایا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے چل کر جانا فرمایا تو نے سچ کہا (پھر فرمایا) یہ پڑھا کر : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا ردت بعبادک فتنۃ فاقبضنی الیک غیر متفون۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من احبک وحب عمل بقربنی الی حبک۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے کا سوال کرتا ہوں اور برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ میری مغفرت فرما دیجئے اور مجھ پر رحم فرمائیے اور جب آپ اپنے بندوں کے ساتھ کسی آزمائش کا ارادہ فرمائیں تو مجھ کو اپنی طرف قبض کرلیجئے بغیرمفتون کے۔ اے اللہ آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ کی محبت کا اور اس کی جو آپ سے محبت کرے اور ایسے عمل کا محبت کا سوال کرتا ہوں جب مجھے آپ کی محبت کے قریب کردے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم ان (کلمات) کو سیکھو اور ان کو یاد کرو کیونکہ (یہ کلمات) سچے ہیں۔ 8:۔ طبرانی (رح) علیہفی السنۃ وابن مردویہ (رح) نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ میرے لئے بہترین صورت میں ظاہر ہوا اور مجھ سے اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں پوچھا کہ وہ کس بات میں جھگڑ رہے ہیں میں نے عرض کیا اے میرے رب ! میرے پاس ان کا کوئی علم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا پھر مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال فرمایا تو میں اس کو جانتا تھا پھر میں نے عرض کیا ہاں میرے رب وہ درجات میں اور کفارات میں جھگڑ رہے ہیں میں نے کہا درجات سے مراد ہے ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا پیدل جماعت کے لئے جانا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، کھانا کھلانا، سلام کرنا، اور رات کے وقت نماز پڑھنا لوگ سوئے ہوئے ہوں۔ خواب میں اللہ تعالیٰ کی زیارت : 9:۔ طبرانی (رح) فی السنۃ وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا فرمایا اے محمد ﷺ میں نے عرض کیا ” لبیک ربی وسعدیک “ میں نے (اس طرح) تین مرتبہ کہا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑے رہے ہیں ؟ میں نے کہا نہیں (میں نہیں جانتا) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھوں کے درمیان رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پالیا پس میں نے سمجھ لیا کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا میں نے عرض کیا ہاں میرے رب ! وہ جھگڑا کرتے ہیں درجات اور کفارات کے بارے میں پھر میں نے کہا درجات یہ ہیں کہ ٹھنڈک کے وقت میں اچھی طرح وضو کرنا۔ اور جماعت کی طرف پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور کفارات یہ ہیں کھانا کھلانا سلام کو پھیلانا اور رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں 10:۔ طبرانی (رح) علیہفی السنۃ والشیرازنی فی الالقاب وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک ہم نے صبح کی ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہم کو خبر دیتے ہوئے فرمایا : میرا رب میرے پاس گزشتہ رات میری نیند میں بہت اچھی صورت میں تشریف لائے اور اپنا ہاتھ مبارک میری چھاتی اور میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا پھر مجھ کو ہر چیز کا علم عطا کردیا پھر فرمایا اے محمد ! میں نے کہا لبیک ربی وسعدیک “ پوچھا کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں اے میرے رب ! کفارات میں اور درجات میں (جھگڑتے ہیں) فرمایا : کفارات کیا ہیں ؟ میں نے کہا سلام پھیلانا۔ کھانا کھلانا، اور نماز میں پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں۔ فرمایا درجات کیا ہیں ؟ میں نے کہا ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کے لئے پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا۔ 11:۔ ابن نصر و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے رب میرے پاس بہت اچھی صورت میں تشریف لائے اور اے محمد میں نے کہا ” لبیک وسعدیک “ فرمایا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں۔ میں نے کہا نہیں جانتا۔ پھر اللہ پاک نے اپنے ہاتھ مبارک کو میری چھاتی کے درمیان رکھ دیا میں نے اپنی نیدند میں ہی ہر چیز کو جان لیا جو انہوں نے مجھ سے سوال کیا دنیا اور آخرت کے کام میں سے۔ پھر فرمایا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا : درجات میں اور کفارات میں۔ اور درجات یہ ہیں کہ ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا فرمایا تو نے سچ کہا جو شخص یہ کام کرے تو ہو خیر کے ساتھ زندہ رہے گا۔ اور خیر کے ساتھ مرے گا اور اس کے گناہ اس طرح مٹ جائیں گے جیسے آج ہی اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ اور کفارات یہ ہیں کہ کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور اچھی بات کرنا اور نماز پڑھنا جب لوگ سو رہے ہوں پھر فرمایا : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین ومغفرۃ وان تتوب علی اذا اردت فی قوم فتنۃ فنجنی غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیکیوں کا کام کرنے اور برائیوں سے بچنے اور مسکینوں سے محبت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور میری توبہ قبول کیجئے اور جب آپ ارادہ کریں کسی قوم میں فتنے کا تو مجھ کو نجات دیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ 12:۔ طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے طارق بن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ فرمایا درجات میں اور کفارات میں اور درجات یہ ہے کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، رات کو نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں، اور کفارات یہ ہیں : ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کی طرف پیدل جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ 13:۔ ابن مردویہ (رح) نے عدی بن حاتم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مجھے رات کو ساتویں آسمان کی طرف لے جایا گیا تو فرمایا اے محمد ! ﷺ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑا کررہے ہیں ؟ پھر آگے حدیث کو ذکر فرمایا۔ 14:۔ طبرانی (رح) فی السنۃ اور خطیب (رح) نے ابوعیبدہ بن جراح ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو مٰن نے اپنے رب عزوجل کو بہت اچھی صورت میں دیکھا اور پوچھا اے محمد ! ﷺ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں میں نے کفارات اور درجات میں پوچھا کفارات کیا ہیں ؟ میں نے کہا ٹھنڈی صبح میں اچھی طرح وضو کرنا اور جماعت کی طرف پیدل چل کرجانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا پھر پوچھا درجات کیا ہیں ؟ میں نے کہا کھانا کھلانا سلام کو پھیلانا رات کو کو نماز پڑھنا جبکہ سو رہے ہوں، پھر فرمایا کہہ دو میں نے کہا میں کیا کہوں ؟ فرمایا (یہ دعا کرو) : اللہم انی اسئلک عملا بالحسنات وترک المنکرات واذا ردت بقوم فتنۃ انا فیھم فاقبضنی الیک غیر متفون۔ ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک عمل کرنے کا اور برائیوں کو چھوڑنے کا سوال کرتا ہوں اور جب آپ ارادہ فرمائیں کسی قوم کو فتنہ میں ڈالنے کا اور میں ان میں موجود ہوں تو مجھے اپنی طرف اٹھالیجئے آزمائش میں ڈالے بغیر۔ 15:۔ محمد بن نصر نے کتاب الصلاۃ میں اور طبرانی (رح) نے السنۃ میں عبدالرحمن بن عابس حضرمی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہم کو ایک صبح نماز پڑھائی ایک کہنے والے نے آپ سے کہا آج سے بڑھ کر ہم نے کبھی آپ کو زیادہ روشن چہرہ والا نہیں دیکھا آپ نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہو اور میں نے یقینی طور پر اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا ہے پھر رب تعالیٰ نے پوچھا اے محمد ! کس بارے میں اوپر والے فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے کہا کفارات میں۔ پوچھا وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا جماعت کی طرف پیدل جانا اور مساجد میں بیٹھنا نمازوں کے انتظار کے لئے اور وضو کرنا ان کی جگہوں میں پوچھا وہ کیا ہیں ؟ میں نے کہا جماعت کی طرف پیدل جانا اور مساجد میں بیٹھنا نمازوں کی انتظار کیلئے اور وضو کرنا ان کی جگہوں میں پوچھا اور کس کے بارے میں (فرشتے جھگڑ رہے ہیں) میں نے کہا درجات کے بارے میں پوچھا وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : کھانا کھلانا، سلام کو پھیلانا، رات کو نماز پڑھناجب کہ لوگ سو رہے ہوں پھر فرمایا آپ یہ دعا کیجئے اللہم انی اسئلک الطیبات وترک المنکرات وحب المساکین فوالذی نفسی بیدہ انھن حق : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے پاکیزہ چیزوں کا اور برائیوں کا چھوڑنے کا اور مسیکنوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ بلاشبہ سچی باتیں ہیں۔ 16:۔ ابن نصر و طبرانی نے السنۃ میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے صبح کی نماز کے بعد آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ میرا رب عزوجل میرے پاس بہت اچھی صورت میں تشریف لائے مجھ سے فرمایا اے محمد ! کیا تو جانتا ہے کہ کس بارے میں اوپر والے معزز فرشتے جھگڑ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے رب ! میں نہیں جانتا پھر فرمایا اللہ پاک نے اپنے ہاتھ کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے ان کی انگلیوں کی ٹھنڈک کو اپنے سینے میں پایا تو میرے لئے ہر چیز ظاہر ہوگئی آسمان اور زمین کے درمیان پھر میں نے کہا جی ہاں اے میرے رب ! وہ کفارات درجات میں جھگڑ رہے ہیں پوچھا درجات کیا ہیں۔ میں نے کہا کھانا کھلانا سلام پھیلانا اور رات کو قیام کرنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں اور کفارات یہ ہیں جماعت کی طرف پیدل چلنا اور ناگوار حالات میں اچھی طرح وضو کرنا اور نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا پھر فرمایا اے محمد کہہ دیجئے آپ کی بات سنی جائے اور سوال کر تو عطا کیا جائے اور سفارش کر تیری سفارشیں قبول کی جائیں گی میں نے کہا : اللہم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین وان تغفرلی وترحمنی واذا ردت بعبادک فتنۃ فتوفی الیک وانا غیر مفتول : ترجمہ : اے اللہ ! میں آپ سے نیک کام کرنے اور برائیوں کو چھوڑنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ آپ مجھ کو بخش دیجئے اور مجھ پر رحم فرمائیے اور جب آپ ارادہ فرمائیں کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنے کا اور مجھے فوت کردیجئے (اس حال میں) کہ میں آزمائش میں ڈالا ہوا نہ ہوں۔ اللہم انی اسئلک حبک وحب من احبک وحب عمل یبلغنی الی حبک۔ ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے آپ کی محبت کا اور اس شخص کی محبت کا جو آپ سے محبت کرے کا سوال کرتا ہوں اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھ کو آپ کی محبت کی طرف پہنچا دے۔
Ayahs 38:71–74

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب کہ آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ بیشک میں کیچڑ سے ایک بشر کو پیدا کرنے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

سو جب میں اسے پوری طرح بنادو۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دو ، تو اس کے لئے سجدہ میں گرپڑنا

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

سوسارے فرشتوں نے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے نہ کیا اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے تھا

1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان لی من علم بالملا الاعلی اذ یختصمون “ واذ قال ربک للملئکۃ “ (یہ میرے پاس کوئی علم نہیں اوپر والے معزز فرشتوں کے بارے میں جب وہ جھگڑ رہے تھے جب تیرے رب نے کہا فرشتوں سے فرمایا اسی بارے میں فرشتے جھگڑ رہے تھے۔ ابلیس تکبر کی وجہ سے ذلیل ہوا :