38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 38:34

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا پھر انہوں نے رجوع کیا

1:۔ فریابی (رح) و حکیم ترمذی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “ (اور ہم نے سلیمان کی جانچ کی اور اس کی کرسی پر ایک ادھورا دھڑ ڈالا۔” جسدا “ سے مراد شیطان ہے جو آپ کے تخت پر تھا اور لوگوں کے درمیان چالیس دنوں تک فیصلے کرتا رہا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی ایک بیوی تھی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا اس کے خاندان اور ایک قوم کے درمیان کوئی جھگڑا تھا تو انہوں نے ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دیا مگر اس بات کو پسند کرتے تھے کہ حق اس کے گھروالوں کا ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ عنقریب تجھ پر کوئی آزمائش آئے گی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ مصیبت آسمان سے آئے گی یا زمین سے آئے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی : 2:۔ نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے (قوی سند کے ساتھ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کیا جرادہ کو اپنی انگوٹھی دی جرادہ ان کی بیوی تھی اور وہ ان کی بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں شیطان آیا اور جرادہ سے کہا میری انگوتھی مجھے دیدو اس نے اس کو دیدی جب اس نے اس کو پہنا تو اس کے لئے جن انسان اور شیاطین ان کے مطیع ہوگئے، جب سلیمان بیت الخلاء سے نکلے اس سے کہا میری انگوٹھی لا اس نے کہا میں نے تو وہ انگوٹھی سلیمان کو دے دی سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا۔ سلیمان میں ہوں جرادہ نے کہا تو جھوٹ کہتا ہے تو سلیمان نہیں ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) جس کے بھی جاتے تھے تو اس سے کہتے کہ میں سلیمان ہوں تو وہ اس کو جھٹلا دیتا یہاں تک کہ بچوں نے پتھر پھینکنا شروع کئے۔ جب اس معاملہ کو دیکھا تو سمجھ لیا کہ یہ اللہ عزوجل کے حکم سے ہے اور شیطان لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگا جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) کو ان کی بادشاہی واپس لوٹا دی جائے تو لوگوں کے دلوں میں اس شیطان کا انکار ڈال دیا ان لوگوں نے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے کہا کیا سلیمان (علیہ السلام) کی کوئی چیز تمہارے پاس موجود ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں کہ وہ ہمارے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے اور اس سے پہلے وہ ہمارے پاس (اس حال میں) نہیں آتا تھا۔ جب شیطان نے دیکھا کہ اس کی حقیقت کا علم ہوچکا ہے اور اس نے گمان کرلیا کہ اس کا معاملہ ختم ہوچکا ہے تو شیطانوں نے ایسی کتابیں لکھیں جس میں جادو اور مکر تھا اور انہوں نے اس کو سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی کے نیچے دفن کردیا۔ پھر انہوں نے ان کتابوں کو نکالا اور لوگوں کے سامنے پڑھا اور کہا کہ اس کے ذریعہ سلیمان (علیہ السلام) لوگوں پر غلبہ پاتے تھے تو لوگوں نے سلیمان (علیہ السلام) کا انکار کردیا۔ اور وہ برابر ان کا انکار کرتے رہے اس شیطان کو انگوٹھی کے ساتھ بھیجا گیا تو اس نے انگوٹھی کو سمندر میں پھینک دیا۔ ایک مچھلی نے اس انگوٹھی کو پایا اور اسے نگل گئی سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بطور اجرت کے کام کرتے تھے ایک آدمی آیا اس نے مچھلیاں خریدیں اس میں وہ مچھلی بھی تھی جس کے پیٹ میں وہ انگوٹھی تھی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو بلایا اور فرمایا یہ مچھلی میرے لئے اٹھا کرلے چل پھر وہ آدمی ان کے گھر کی طرف چلا جب وہ آدمی ان کے گھر کے دروازے پر پہنچا ان کو وہ مچھلی دی جس کے پیٹ میں انگوٹھی تھی سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو لے لیا اس کے پیٹ کو چاک کیا تو اچانک وہ انگوٹھی اس کے پیٹ میں تھی۔ اس کو لے کر پہن لیا جب اس کو پہنا تو جنات، انسان اور شیاطین آپ کے مطیع ہوگئے اور آپ اپنی حالت پر لوٹ آئے اور شیطان بھاگ گیا یہاں تک کہ سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرہ پر جا پہنچا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تلاش میں کارندے بھیجے بڑے سرکش جن اس کو وہ تلاش کررہے تھے مگر وہ اس پر قادر نہ ہوئے یہاں تک کہ ایک دن اس کو نیند کرتے ہوئے پایا وہ اس کے پاس آئے اور اس پر ایک سکے کی عبارت بنادی وہ جاگا اور کو دا وہ اس گھر کی طرف جس سمت بھی جاتا تو سکہ اسے گھیر لیتا انہوں نے اس کو باندھ دیا اور اس کو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لے آیا انہوں نے حکم فرمایا اور اس کے لئے سنگ مرمر ایک سوراخ بنایا گیا پھر اس کے پیٹ میں اس کو داخل کردیا گیا اور اس کو تانبے سے بند کردیا گیا پھر اس کو سمندر میں پھینکنے کا حکم دیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ یعنی اس شیطان کے ذریعہ آزمایا گیا جو ان پر مسلط ہوگا تھا۔ 3:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چار آیات ہیں اللہ کی کتاب میں سے جن کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ ان کا کیا معنی ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان کے بارے میں کعب احبار سے پوچھا (ان میں سے پہلی آیت یہ ہے) قرآن میں سے (آیت ) ” قوم تبع “ اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کون تھا تو انہوں نے کہا کہ تبع ایک بادشاہ تھا اور اس کی قوم کاہن تھی اور اس کی قوم میں کچھ لوگ اہل کتاب میں بھی تھے اور کاہن اہل کتاب پر حملہ کرتے تھے۔ اور ان کی تابعداری کرنے والے کو قتل کرتے تھے اہل کتاب نے تبع سے کہا کہ وہ لوگ ہم کو جھٹلاتے ہیں تو تبع نے کہا اگر تم سچے ہو تو ایک قربانی پیش کرو تم میں سے جو افضل ہوگا اس کی قربانی کو آگ کھاجائے گی اہل کتاب اور کاہنوں نے قربانی پیش کی آگ آسمان سے نازل ہوئی اہل کتاب کی قربانی کو کھاگئی تبع نے اہل کتاب کی تابعداری کی اور اسلام لے آیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو قوم کا قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور تبع کا ذکر نہیں فرمایا ابن عباس ؓ نے پھر ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ یعنی شیطان نے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی کو لے لیا جس پر آپ کی بادشاہت تھی اور اس کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ انگوٹھی مچھلی کے پیٹ میں چلی گئی سلیمان چکر لگاتے رہے اچانک ان کو یہ مچھلی صدقہ کی گئی انہوں نے اس کو بھونا اور اس کو کھایا اچانک اس میں وہ انگوٹھی تھی تو پھر آپ کی بادشاہت لوٹ آئی۔ 4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ کے بارے میں روایت کیا کہ صخر جن نے آپ کی صورت بنالی اور آپ کے تخت پر بیٹھ گیا۔ بیت المقدس کی تعمیر : 5:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) ابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس کے بنانے کا حکم فرمایا ان سے کہا گیا اس کو اسی طرح بناؤ کہ اس میں لوہے کی آواز سنائی نہ دے آپ نے اس کا ارادہ کیا مگر اس پر قادر نہ ہوئے ان سے کہا گیا کہ ایک طاقتور جن ہے جس کو صخر کہا جاتا ہے جو مادر کے مشابہ تھا انہوں نے اس کو طلب کیا سمندر میں اس کا ایک چشمہ تھا وہ ہر ساتویں دن ایک مرتبہ اس پر آتا تھا اس چشمہ کا پانی نکالا گیا تو اس میں شراب ڈال دی گئی ایک دن وہ اس چشمہ پر آیا تو وہاں شراب تھی جن نے کہا اچھا مشروب ہے تو حلیم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور زیادہ کردیتا ہے جاہل کو جہالت میں پھر وہ بھاگ گیا یہاں تک کہ شدید پیاسا ہوگیا پھر اس کے پس آیا اور اس کو پیا یہاں تک کہ شراب اس کی عقل پر غالب آگئی انگوٹھی لائی گئی اور اس کے کندھوں کے درمیان لگا دی گئی وہ مطیع ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہت اس کی انگوٹھی میں تھی اس جن کو سلیمان (علیہ السلام) کے پاس لایا گیا تو انہوں نے فرمایا ہم کو اس گھر کے بنانے کا حکم دیا گیا ہم کو کہا گیا کہ اس میں ہرگز لوہے کی آواز نہ سنی جائے ھد ھد کا انڈالایا گیا اس پر شیشہ کا خول بنادیا گیا ھدھد آیا اور اس کے اردگرد گھومنے لگا اس نے اپنے انڈے کو دیکھنا شروع کیا اور اس پر قادر ہوا ھد ھد گیا اور الماس کو شیشے پر رکھا اور اسے کاٹ دیا یہاں تک کہ وہ اپنے انڈے کی طرف پہنچ گیا (یہ دیکھ کر) لوگوں نے الماس کو لے لیا اور اس کے ذریعہ پتھر کو کاٹنا شروع کیا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) جب بیت الخلاء میں ہونے کا ارادہ کرتے تھے یا حمام میں تو انگوٹھی کے ساتھ داخل نہیں ہوتے تھے ایک دن وہ حمام کی طرف گئے اور یہ شیطان صخران کے ساتھ تھا وہ حمام میں داخل ہوئے اور اپنی انگوٹھی شیطان کو دیدی اس نے اس کو سمندر میں ڈال دیا اس کو ایک مچھلی نے نگل لیا اسی کے ساتھ سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ان سے چھین لی گئی اور شیطان کی صورت میں سلیمان (علیہ السلام) جیسی بنادی گئی۔ وہ آیا اور آپ کے تخت پر بیٹھ گیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے سارے ملک پر مسلط ہوگیا سوائے ان کی عورتوں کے ان کے درمیان چالیس دنوں تک فیصلے کرتا رہا یہاں تک کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی کو مچھلی کے پیٹ میں پالیا۔ آپ آئے تو جو جن یا پرندہ آپ کے سامنے آتا وہ سجدہ کرتا یہاں تک کہ لوگوں کے پاس پہنچے (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ اس سے وہ صخر شیطان مراد ہے (آیت ) ” ثم اناب “ (پھر اللہ کی طرف رجوع کیا) یعنی توبہ کی پھر اپنے مالک کی طرف متوجہ ہوئے یعنی سلیمان (علیہ السلام) ۔ 6:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ میں جسدا سے مراد وہ جن ہے جس کو آصف کہا جاتا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا تو کس طرح لوگوں کو فتنہ میں ڈالتا ہے ؟ اس نے کہا مجھے اپنی انگوٹھی دکھائیے میں آپ کو بتادوں گا جب اس کو انگوٹھی دی تو آصف نے اس کو سمندر میں پھینک دیا تو سلیمان شہروں میں گھومنے لگے اور ان کی بادشاہی جاتی وہی آصف ان کی کرسی میں بیٹھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں سے روک دیا کہ وہ ان کے قریب نہیں جاتا تھا اور نہ وہ اس کے قریب جاتی تھیں بیویوں نے بھی اس معاملہ کو عجیب جانا اور لوگوں نے بھی تعجب کیا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کھانا منگوایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کیا تم مجھے پہچانتے ہو کہ میں سلیمان ہوں وہ لوگ ان کو جھٹلاتے یہاں تک کہ ایک عورت نے ایک دن ان کو مچھلی دی اور اس کا پیٹ چاک کیا اپنی انگوٹھی کو اس کے پیٹ میں پایا آپ کی حکومت آپ کو واپس مل گئی شیطان بھاگ گیا اور بھاگ کر سمندر میں داخل ہوگیا۔ موت سے بچنے کی صورت نہیں : 7:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے (ضعیف سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان (علیہ السلام) کا ایک لڑکا پیدا ہوا تو انہوں نے ہر طرح جن سے کہا اس کو موت سے چھپا دو انہوں نے کہا ہم اس کو مشرق کی جانب لے جائیں گے فرمایا : اس کو وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا مغرب کی طرف لے جائیں گے۔ فرمایا : اسے وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ کہا سمندروں کی طرف لے جائیں گے فرمایا اس کو وہاں بھی موت پہنچ جائے گی۔ کہا : ہم اس کو آسمان اور زمین کے درمیان رکھ دیں گے۔ ملک الموت اس پر نازل ہوا اور کہا کہ بلاشبہ مجھے اس لڑکے کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا ہے میں نے اس کو سمندر میں تلاش کیا، اور میں نے اس کو زمین کے اطراف میں تلاش کیا مگر اس کو نہ پایا اس درمیان کہ میں آسمان کی طرف واپس آرہا تھا تو میں نے اس کو پالیا میں نے اس کی روح کو قبض کرلیا اور اس بچے کے جسم کو نیچے لایا یہاں تک کہ سلیمان (علیہ السلام) کی کرسی پر آپڑا اور وہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسداثم اناب “ ابن سعد نے فرمایا کہ ہم کو واقدی نے خبر دی ہم کو معشر نے مقبری سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس رات اپنی سو عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا (یعنی ان سے جماع کروں گا) ان میں سے ہر ایک بیوی ایک شہسوار جنے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ اور انشاء اللہ نہ کہا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو ایسا ہی ہوجاتا آپ سو بیویوں کے پاس گئے (یعنی جماع کیا) سوائے ایک بیوی کے کسی کو حمل نہ ہوا اور وہ بھی ایک نامکمل انسان کے ساتھ حاملہ ہوئی راوی نے کہا کہ کوئی چیز سلیمان (علیہ السلام) کو اس نامکمل بچے سے بڑھ کر محبوب نہ تھی۔ راوی نے کہا کہ ان کی اولاد مرجاتی تھی ملک الموت ایک آدمی کی صورت میں آیا سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کیا تو اس کی طاقت رکھتا ہے کہ میرے بیٹے کی آٹھ دن تک موت مؤخر کردے جب اس کا وقت آجائے ؟ اس نے کہا : نہیں ! لیکن میں اس کی موت سے تین دن پہلے آپ کو بتادوں گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے پاس جنوں سے فرمایا : کون میرے اس بیٹے کو چھپائے گا ؟ ان میں سے ایک نے کہا : میں اس کو آپ کے لئے مشرق میں چھپا دوں گا۔ اس نے پوچھا : آپ اس کو کسی سے چھپا رہے ہیں ؟ فرمایا ملک الموت سے۔ جن نے کہا : وہ اس کو دیکھ لے گا۔ دوسرے نے کہا میں اس کو ایسے دو ساتھیوں کے درمیان چھپادوں گا کہ وہ اس کو نہیں دیکھ سکے گا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر کوئی چیز مناسب ہے تو یہ ہے جب اس کی موت کا وقت آیا تو ملک الموت نے زمین میں دیکھا تو اس کو اس کے مشرق میں نہ پایا اور نہ مغرب میں پایا اور سمندروں میں بھی اسے کہیں نہیں پایا اور اس کو دو جڑے ہوئے ساتھیوں میں دیکھ لیا اس کے پاس آکر اس کو پکڑ لیا اور اس کی روح کو سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر قبض کرلیا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن “ اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ کا یہی معنی ہے۔ مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی کا ملنا : 8:۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) سمندر کے کنارے بیٹے ہوئے تھے اور وہ انگوٹھی کو تلاش کررہے تھے جو اچانک ان سے سمندر میں گرگئی تھی اور آپ کی بادشاہت اسی انگوٹھی میں تھی آپ (گھر سے) چلے اور ایک بڑے جن کو اپنے گھر میں نائب بنا گئے آپ ایک بڑھیا کے پاس آئے وہاں پناہ لے لی اس بڑھیا نے آپ سے کہا اگر آپ چاہیں تو چلے جائیں اور انگوٹھی تلاش کریں اور میں گھر کے کام کے لئے کافی ہوں اور اگر آپ چاہیں تو آپ گھر کا کام کریں اور میں جا کر ڈھونڈتی ہوں حضرت سلیمان (علیہ السلام) انگوٹھی تلاش کرنے کے لئے چلے گئے آپ ایک قوم کے پاس آئے جو مچھلی کا شکار کررہی تھی اور ان کے پاس آکر بیٹھ گئے انہوں نے مچھلیاں پھینکیں آپ ان مچھلیوں کو لے اس بڑھیا کے پاس پہنچے بڑھیا نے ان کو لیا تاکہ ان کو کاٹ چھانٹ کرلے اس نے مچھلی کے پیٹ کو چیرا تو اچانک اس میں وہ انگوٹھی تھی اس نے اس کو اٹھایا اور سلیمان (علیہ السلام) سے کہا یہ کیا ہے ؟ سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو لے لیا اور اس کو پہن لیا تو ان کی طرف شیاطین انسان اور جنات اور پرند اور وحشی جانور آگئے اور شیطان بھاگ گیا جس کو آپ نے اپنے اہل و عیال پر نائب بنایا تھا۔ وہ سمندر کے جزیرہ میں آیا سلیمان (علیہ السلام) نے طاقتور جن ان کی طرف بھیجے تو انہوں نے کہا ہم اس پر قادر نہیں ہوئے کیونکہ وہ سمندر کے جزیرے کے ایک چشمے میں سات دنوں سے ایک دن آتا ہے۔ ہم اس پر قادر نہیں ہوسکتے جب تک وہ نشہ میں نہ ہو۔ راوی نے کہا اس کے لئے اس چشمے میں شراب کو ڈالا گیا وہ آیا اس میں سے پیا اور اس کو نشہ ہوگیا لوگوں نے اسے انگوٹھی دکھائی اس نے سمعا وطاعۃ کہا سلیمان (علیہ السلام) نے اس شیطان کو باندھ دیا پھر اس کو پہاڑ کی طرف لوگوں نے کہا کہ وہ دھویں کا پہاڑ ہے اور وہ دھواں جس کو وہ دیکھتے تھے اس کی ذات سے نکلتا تھا دھویں کا پہاڑ ہے، ا وروہ جو پہاڑ سے نکلتا تھا وہ اس کا پیشاب تھا۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے شیطان مراد ہے سلیمان (علیہ السلام) حمام میں داخل ہوئے اور اپنی انگوٹھی کو اس بیوی کے پاس رکھی جس پر بھروسہ تھا اس کے پاس سلیمان (علیہ السلام) کی صورت بنا کر شیطان آیا، اس سے انگوٹھی لے لی، جب سلیمان (علیہ السلام) حمام سے نکلے تو اس بیوی کے پاس آئے اور اس سے کہا کہ میری انگوٹھی واپس کر اس نے کہا میں نے آپ کو دیدی ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے ایسا نہیں کیا (یعنی تو نے انگوٹھی نہیں دی) سلیمان (علیہ السلام) بھاگ گئے اور شیطان ان کے تخت پر بیٹھ گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے زمین میں بھاگنا شروع کیا، اور درخت کے پتے تلاش کرتے رہے پچاس دن تک، بنواسرائیل نے شیطان کے معاملہ کو عجیب جانا ان کے بعض نے بعض سے کہا کیا تم بھی مملکت کے کاموں میں کوئی عجیب چیزیں دیکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہاں ! پھر اس نے کہا تم لوگ ہلاک ہوگئے اور تمہارا ملک بھی تباہ ہوگیا انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اس خبر کی حقیقت کا علم ہوسکتا ہے کیونکہ ان کی بیویاں تمہارے پاس ہیں ان سے پوچھو اگر وہ بھی کچھ عجیب چیزیں دیکھتی ہیں جو ہم دیکھتے ہیں تو یقینی بات ہے کہ ہم کسی آزمائش میں ڈالے گئے ان سے سوال کرو (ان سے سوال کیا گیا) توا نہوں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! ہم بھی عجیب صورتحال دیکھتی ہیں۔ جب وہ مدت پوری ہوگئی تو سلیمان (علیہ السلام) چلے یہاں تک کہ سمندر کے ساحل پر آئے تو مچھلی بعض مچھلیاں ان کی طاقت سے زیادہ تھیں انہوں نے مچھلیاں پھینک دیں۔ سلیمان (علیہ السلام) ان کے پاس آئے اور ان سے کھانا مانگا شکاریوں نے وہ مچھلیاں دے دیں فرمایا نہیں بلکہ مجھے اس میں سے کھلاؤ انہوں نے انکار کردیا۔ فرمایا مجھے نکالتے ہو، میں سلیمان ہوں ان میں سے ایک لاٹھی کی طرف جلدی سے اٹھا اور غصہ سے ان کو لاٹھی سے مارا، آپ ان مچھلیوں کے پاس آئے جو انہوں نے پھینک دی تھیں ان میں سے دونوں مچھلیوں کو لیا ان کو لے کر سمندر کی طرف گئے ان کو دھویا ان میں سے ایک کے پیٹ کو چیرا اچانک اس میں سے انگوٹھی تھی آپ نے وہ انگوٹھی لے لی اور اس کو پہن لیا۔ ان کی بادشاہٹ لوٹ آئی، مچھلیاں بیچنے کے لئے وہ شکار کرنے والے ان کے پاس آئے آپ کو بلوایا اور ان سے فرمایا میں نے تم سے کھانا مانگا تھا تم نے مجھے کھانا نہ دیا اور میں نے تم پر ظلم نہیں کیا جب تم نے میری اہانت کی جب تم میری عزت کرو گے تو میں تمہاری تعریف نہیں کروں گا۔ 10:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب سلیمان (علیہ السلام) بیت الخلاء میں داخل ہوتے تھے تو اپنی انگوٹھی اپنی عورتوں میں سے سب سے زیادہ محبوب بیوی کو دے دیتے تھے۔ اچانک جب وہ بیت الخلاء سے نکلے اور ان کے لئے وضو کا پانی رکھا گیا تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اپنی بیوی کو دے دی جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا آپ اس بیت الخلاء میں رہے، اس بیویوں کے پاس شیطان سلیمان (علیہ السلام) کی صورت میں آیا بیون نے چابی اس کو دیدی وہ اس سے تنگ پڑگیا اور اس نے انگوٹھی کو سمندر میں پھینک دیا مچھلی نے اس کو نگل لیا، سلیمان (علیہ السلام) اپنی بیوی کے پاس آئے اور اس سے انگوٹھی مانگی۔ اس نے کہا میں آپ کو دے چکی ہوں۔ سلیمان (علیہ السلام) جان گئے کہ ان کو آزمائش میں ڈال دیا گیا آپ نکلے اور اپنے ملک کو چھوڑ دیا اور سمندر پر رہنے لگے بھوک، پیاس برداشت کرنے لگے ایک دن وہ شکار کرنے والوں کے پاس آئے جنہوں نے گزشتہ روز مچھلیاں شکار تھیں، جن کو پھینک دیا تھا اور جو آج انہوں نے شکار کی تھیں وہ ان کے ہاتھوں میں تھی، سلیمان (علیہ السلام) ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا مجھے کھانا کھلاؤ، اور اللہ تم میں برکت دے میں مسافر ہوں، انہوں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی پھر انہوں نے دوبارہ اسی طرح کہا ایک آدمی نے ان کی طرف اپنا سراٹھایا اور کہا ان مچھلیوں کے پاس جاؤ اور اس میں سے ایک مچھلی لے لو، سلیمان (علیہ السلام) ان مچھلیوں کے پاس آئے اور اس میں سے ایک مچھلی لے لی، جب اس کو لیا تو اچانک اس میں بدبو تھی، آپ سمندر پر آئے اور اس کو دھویا اور اس کا پیٹ چاک کیا اچانک وہ انگوٹھی (موجود) تھی۔ اس پر انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی اور اس کو لے کر پہن لیا، آپ کے اردگرد ہر چیز کے لشکر بول پڑے اور اس بات سے وہ شکار کرنے والے لوگ گھبرا گئے۔ وہ آپ کی طرف اٹھے مگر ان کے اور سلیمان (علیہ السلام) کے درمیان رکاوٹ قائم کردی گئی۔ اور وہ ان کی طرف نہ پہنچ سکے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا ملک واپس کردیا۔ 11:۔ عبدبن حمید والحکیم ترمذی (رح) نے علی بن زید کے طریق سے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) لوگوں سے تین دن تک چھپے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اے سلیمان ! تو لوگوں سے تین دن تک چھپا رہا تو نے لوگوں کے معاملات میں نگہداشت نہ کی اور نہ ظالم سے مظلوم کو انصاف دلایا۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی انگوٹھی میں تھی اور جب وہ حمام میں داخل ہوتے تو اس کو اپنے بچھونے کے نیچے رکھ دیتے شیطان آیا اور اس کو اٹھالیا۔ لوگ شیطان کی طرف متوجہ ہوگئے، سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا : اے لوگو ! میں سلیمان اللہ کا نبی ہوں مگر انہوں نے آپ کو دھکے دیئے یہ زمین میں چالیس دن چلتے پھرتے رہے، آپ کشتی والوں کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو ایک مچھلی دی جب اس کا پیٹ چاک کیا تو اچانک وہ انگوٹھی اس میں موجود تھی انہوں نے اس کو پہن لیا پھر آپ آئے اور شیطان کی پیشانی کے بالوں کو پکڑ لیا اس وقت یہ دعا فرمائی : قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی : (اے میرے رب ! مجھ کو ایسی حکومت عطا کیجئے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو) اور سب سے پہلے سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں نے اس معاملہ میں اجنبیت کو پہچانا۔ بعض عورتوں نے بعض سے کہا کیا تم اس سے کوئی اجنبی چیز دیکھتی ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں کہ وہ ان کے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے۔ علی بن زید نے کہا میں نے یہ بات حسن کو ذکر کی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ ان کی بیویوں پر اس (شیطان) کو مسلط کردیں۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے عبدالرحمن بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سلیمان (علیہ السلام) کے فتنہ کے بارے میں بیان فرمایا کہ ان کی قوم میں ایک آدمی تھا جیسے میری امت میں عمر بن خطاب ؓ ہیں جب اس نے اس جن کی حالت میں کچھ تغیر کو دیکھا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جگہ پر تھا تو اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بیویوں کی طرف سے پیغام بھیجا۔ کیا تم اپنے صاحب کے بارے میں کوئی عجیب بات دیکھتی ہو انہوں نے کہا ہاں ! ہو حیض کی حالت میں ہمارے پاس نہیں آئے تھے اور یہ ہمارے پاس حیض کی حالت میں آتا ہے (یہ سن کر) اس نے تلوار اٹھائی تاکہ اس کو قتل کردے تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر ان کی بادشاہت واپس کردی آپ آئے توا سے اپنی جگہ پایا تو اس آدمی نے اپنے ارادہ سے آپ کو آگاہ کردیا۔ 13:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا سلیمن والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے مراد وہ شیطان ہے جس کو سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی دی تھی اور اس نے سمندر میں پھینک دی تھی اور سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ان کی انگوٹھی میں تھی اور اس جن کا نام صخر تھا۔ 14:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ یعنی الجسد سے مراد وہ شیطان ہے کہ جس کو سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی انگوٹھی دی تھی اس کو آصف کہا جاتا تھا۔ 15:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “ سے مراد ہے کہ وہ شیطان ان کے تخت پر چالیس دن تک بیٹھا۔ سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ ان میں ایک بیوی تھی جس کو جرادہ کہا جاتا تھا اور یہ آپ کی بیویوں میں سے پسندیدہ اور اعتماد والی تھی اور یہ ان پر ایمان لاتی تھیں اور جب وہ جنبی ہوتے تھے یا اپنی حاجت کو آتے تھے تو اپنی انگوٹھی کو اتار لیتے اس بیوی کے علاوہ کوئی بھی آپ کے لئے اعتماد والا نہ تھا، وہ ایک دن ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بھائی اور فلاں کے درمیان جھگڑا ہے اور میں یہ بات پسند کرتی ہوں کہ اس کے حق میں فیصلہ فرمائیں جب وہ آپ کے پاس آئے۔ فرمایا : ہاں اور ایسا نہ کیا کہ آپ آزمائش میں ڈال دیئے گئے۔ سلیمان (علیہ السلام) نے انگوٹھی اس کو دیدی، آپ بیت الخلا میں داخل ہوئے اور شیطان ان کی شکل میں باہر نکلا اور کہ مجھے انگوٹھی دیدے اس عورت نے اس کو دیدی وہ شیطان آیا اور سلیمان (علیہ السلام) کی جگہ پر بیٹھ گیا اور سلیمان (علیہ السلام) بعد میں نکلے اور اس سے فرمایا میری انگوٹھی مجھے واپس کردیاس نے کہا میں نے تم کو پہلے دیدی تھی۔ فرمایا نہیں۔ راوی نے کہا پھر آپ اپنے مکان میں سرگرداں نکلے اور چالیس دنوں تک شیطان لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا رہا لوگوں نے اس کے فیصلے کو عجیب جانا بنواسرائیل کے قراء اور ان کے علماء اکھٹے ہوئے وہ آئے اور ان کی بیویوں کے پاس گئے انہوں نے کہا ہم نے اس کے معاملات کو عجیب جانا وہ چلے یہاں تک کہ اس جن کے پاس آگئے اور اس کو گھیر لیا پھر انہوں نے تورات کو کھولا اور اس کو پڑھا وہ دن کے درمیان اڑ گیا یہاں تک کہ وہ محل کے کنگرے پر جا گرا اور انگوٹھی اس کے پاس تھی پھر اڑا یہاں تک کہ سمندر کی طرف چلا گیا اس سے انگوٹھی سمندر میں گر پڑی تو سمندر کی مچھلیوں میں سے ایک مچھلی نے اس کو نگل لیا۔ اپنی اسی حالت میں سلیمان (علیہ السلام) آئے یہاں تک کہ وہ سمندر کے شکار کرنے والوں تک پہنچے اور وہ بھوکے تھے انہوں نے ان شکاریوں سے کھانا مانگا۔ انہوں نے دو مچھلیاں دیں آپ سمندر کے کنارے کی طرف کھڑے ہوئے ان کے پیٹوں کو چاک کیا تو ان میں سے ایک کے پیٹ میں سے اپنی انگوٹھی کو پالیا اور اس کو لے کر پہن لیا اللہ تعالیٰ نے ان کی حکومت اور شان و شوکت کو لوٹا دیا آپ نے اس شیطان کو پکڑ بھیجا اس کو لایا گیا تو آپ نے حکم دیا تو اس کو لوہے کے ایک صندوق میں رکھ دیا گیا پھر اسے بند کردیا گیا اور اس پر تالہ لگایا اور اپنی مہر لگا دی پھر حکم دیا تو اس کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔ وہ قیامت کے قائم ہونے تک اسی میں رہے گا اور اس کا نام حیقین تھا۔ 16:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اناب “ (پھر انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا) کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک عورت کے پاس گئے جو مچھلیاں بیچتی تھی۔ اس سے ایک مچھلی خریدی اس کا پیٹ چاک کیا اور اپنی انگوٹھی کو پایا پھر آپ جس درخت سے یا کسی چیز سے گزرتے تھے تو وہ ان کو سجدہ کرتی تھی یہاں تک کہ آپ اپنے ملک اور اہل و عیال تک پہنچ گئے۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” ثم اناب “ یعنی پھر (اللہ کی طرف) رجوع فرمایا۔
Ayahs 38:35–40

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے رب میری مغفرت فرما اور مجھے ایسا ملک عطا کیجئے جو میرے بعد کسی دوسرے کو میسر نہ ہو، بلاشبہ آپ بڑے دینے والے ہیں

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

سو ہم نے ان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے نرمی سے چلتی تھی جہاں انکو جانا ہوتا تھا

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور ان کے لئے شیاطین مسخر کردیئے ہر بنانے والا اور غوطہ لگانے والا

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور ان کے علاوہ بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

یہ ہماری بخشش ہے۔ سو آپ احسان کریں یا روک لیں کوئی حساب نہیں

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان کے لئے ہمارے پاس نزدیک ہے اور اچھا انجام ہے

1:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) اپنی سند میں طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی دعا نہیں سنی مگر آپ اس کو ” سبحان ربی الاعلی الوھاب “ سے شروع فرماتے تھے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ (فرمایا اے میرے رب ! میرے قصور معاف کردیجئے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے سوا کسی کو میسر نہ ہو) یعنی اس سے ملک نہ چھینا جائے، آپ نے مجھ سے چھین لیا تھا (جیسے سلیمان (علیہ السلام) کی انگوٹھی گم ہوجانے پر حکومت چھین لیا گئی۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ یعنی آپ اس کو نہ چھین لیجئے جیسے آپ نے اس کو چھین لیا تھا۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج رات میری نماز پڑھنے کی جگہ میں شیطان آیا گویا کہ وہ تمہاری یہ بلی ہے میں نے ارادہ کیا کہ اس کو صبح تک باندھ دوں۔ پھر میں نے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا کو یاد کیا (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ پھر میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) ومسلم و نسائی (رح) والحکیم (رح) ترمذی (رح) فی نوادر الاصول وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیو (بڑاجن) گزشتہ رات باربار میرے پاس آیا تاکہ میری نماز کو تڑوادے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابودے دیا میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ کر مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تاکہ (صبح کو) تم سب اس کو دیکھ سکو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آگئی جو انہوں نے کی تھی (آیت ) ” قال رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی “ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل کرکے لوٹادیا۔ شیطان کا گلا دبانا : 6:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ شیطان سامنے آگیا میں نے اس کے گلے سے پکڑ لیا میں نے اس کے گلے کو دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے انگوٹھے پر پایا۔ اللہ تعالیٰ سلیمان (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اگر اس کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح کو باندھا ہوتا جس کو تم دیکھتے۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں صبح کی نماز کے لئے نکلا تو شیطان مجھے مسجد کے دروازے میں ملا یعنی مسجد کے دروازہ اس نے مجھے دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کے بالوں کو چھونے کو پایا۔ میں نے اس کو قابو کرلیا اور میں نے اس کا گلا گھوٹا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو تم صبح کو اس کو مقتول دیکھتے۔ 8:۔ احمد نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے (اس میں) قرأت کی تو آپ پر قرأت مشتبہ ہوگئی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے فرمایا کاش تم لوگ مجھے اور ابلیس کو دیکھ لیتے میں نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا میں برابر اس کا گلا گھونٹتا رہا یہاں تک کہ میں نے اس کی لعاب کی ٹھنڈک کو اپنی ان دوانگلیوں کے درمیان پایا۔ انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی، اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ 9:۔ احمد وعبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر شیطان گزرا میں نے اس کو پکڑا اور میں نے اس کا گلا دبایا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا شیطان نے کہا آپ نے مجھے سخت تکلیف دی، آپ نے مجھے سخت تکلیف دی۔ اگر سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے بندھا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ 10:۔ طبرانی (رح) نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان نے میرے آگے سے گزرنے کا ارادہ کیا میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک کو اپنے ہاتھ پر پایا اللہ کی قسم اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا پہلے نہ ہوتی تو میں اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیتا۔ اور اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ 11:۔ حاکم (رح) نے مستدرک میں عمر بن علی بن حسین (رح) سے روایت کیا کہ میں اپنے چچا اور اپنے بھائی جعفر کے ساتھ چلا میں نے کہا کہ لوگوں نے گمان کیا کہ سلیمان نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اسے ملک عطا فرمائیے اور کہا کہ مجھے میرے باپ نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی بادشاہ کسی نبی کی امت میں نہیں رہے گا جتنی عمر حضور ﷺ اپنی امت میں رہے۔ 12:۔ عبد بن حمید (رح) نے وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کے سامنے سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت اور اس کے ملک کی عظمت کا ذکر کیا گیا کہ آپ کے اصطبل میں بارہ ہزار اصل گھوڑے تھے آپ کے دوپہر کے کھانے پر ہر دن ستر بیل ذبح کئے جاتے تھے یہ مینڈھوں پرندوں اور شکار کے علاوہ تھے وھب سے پوچھا گیا کیا ان کے مال میں اس کی گنجائش تھی ؟ فرمایا جب وہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے تو آپ نے یہ شرط لگائی کہ وہ سب ان کے علاوہ ہوں گے اور ان کے مال بھی آپ کی ملکیت ہوں گے جو چاہے اس میں سے لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا سفر : 13:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوخالد بجلی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک اپنی سواری پر سوار ہوئے ان کا تخت رکھا گیا اور وہ اس پر بیٹھ گئے دائیں اور بائیں کرسیاں بچھا دی گئیں۔ ان پر لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، اور جنات ان کے پیچھے تھے اور سرکش جنات اور شیاطین جنات کے پیچھے تھے۔ پرندوں کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے اپنے پروں کے ساتھ ان پر سایہ کردیا اور ہوا سے فرمایا ہم کو اٹھا لے وہ اپنے بعض سفر کا ارادہ کررہے تھے، ہوا نے ان کو اٹھا لیا اور وہ اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ اپنے کرسیوں پر تھے وہ ان لوگوں سے باتیں کررہے تھے اور وہ لوگ ان سے باتیں کررہے تھے کرسی اوپر ہوتی نہ نیچے ہوتی اور پرندے ان پر سایہ کررہے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی سواری کی آواز دور جگہ سے سنائی دیتی تھی بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی اپنی کھیتی میں بیلچے کو لئے ہوئے کھڑا کام کررہا تھا اچانک اس نے آواز سنی اور کہا یہ آواز نہیں ہے مگر سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکروں کی کہ اسی لمحہ سلیمان (علیہ السلام) کی توجہ ہوئی اور جبکہ آپ اپنے تخت پر تھے اچانک ایک آدمی تیزی سے راستہ کی طرف دوڑا (اس کو دیکھ کر) سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دل میں کہا کہ یہ شخص مظلوم ہے، یا کسی حاجت کا طالب ہے ہوا سے فرمایا جب میں وہاں پہنچوں تو ٹھہر جانا ہوا نے آپ کو اور لشکروں کو روک دیا یہاں تک کہ اس آدمی کے پاس پہنچے اور وہ ہانپ رہا تھا سلیمان (علیہ السلام) نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ کہ اس کا ہانپنا ختم ہوگیا۔ پھر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ : یا تیری کوئی حاجت ہے اور ساری مخلوق اس پر ٹھہر چکی ہے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے ایک حاجت تیرے پاس لے آئی ہے میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملک عطا فرمایا ہے جو اس نے کسی بادشاہ کو عطا نہیں فرمایا اور میرا خیال ہے کہ آپ کے بعد بھی کسی اور کو عطا نہیں فرمائے گا اس کے بارے میں تو کیا پاتا ہے جو تیری بادشاہت گزر چکی ہے فرمایا میں تجھے اس بارے میں خبردیتا ہوں میں سورة اتھا میں نے خواب میں دیکھ پھر میں نیند سے بیدار ہوا۔ پھر میں نے اس کی تعبیر دی اس نے کہا یہ کچھ نہیں مگر یہی پھر اس نے کہا مجھے اس کے بارے میں بتا کہ تو اس وقت کیا پاتا ہے جو چیز تیری بادشاہت میں باقی رہ گئی سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا تو نے مجھ سے سوال کیا ایسی چیز کے بارے میں جس کو میں نے نہیں دیکھا اس نے کہا وہ یہی وقت ہے پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ سلیمان (علیہ السلام) اس کی گرمی کو دیکھنے لگے اور ان باتوں میں سوچنے لگے جو اس نے کہا تھا پھر ہوا سے فرمایا ہم کو لے چل وہ لے چلی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” رخآء حیث اصاب “ میں رخاع سے مراد ہے ایسی ہوا جو جو نہ بہت تیز ہو اور نہ بہت ہلکی ہو یعنی درمیانی رفتار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” غدوھا شھر ورواحھا شھر “ (سباء آیت 12) (اس کا چلنا ایک ماہ کا تھا اور اس کا شام کا چلنا ایک ماہ کا تھا) یعنی وہ بہت تیز نہیں تھی کہ جو ان کو تکلیف دے اور نہ اتنی نرم تھی جو ان پر بھاری ہوجائے۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) سلیمان بن عامر شیبانی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم سلیمان (علیہ السلام) اور اس کی بادشاہت کو جانتے ہو انہوں نے تواضع کی وجہ سے اپنی نظر کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح کو قبض کرلیا۔ 15:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی نظر کو آسمان کی طرف نہیں اٹھایا عاجزی اختیار کرتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا اور جو کچھ عطا فرمایا۔ 16:۔ احمد نے الزھد میں عطا (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) اپنے ہاتھ سے ٹوکری بناتے تھے اور جو کی روٹی کھاتے تھے اور بنی اسرائیل میں سے حواریوں کو بھی کھلاتے تھے۔ 17:۔ حکیم ترمذی (رح) نے نوادرالاصول میں ابن المنذر وابن عساکر صالح بن سمار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب داؤد (علیہ السلام) وفات پاگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی اپنی حاجت کو مجھ سے طلب کرو، عرض کیا میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے دل کو اپنی ذات سے ڈرنے والا بنا دے جیسے میری ماں کا دل تھا اور میرے دل کو اسی طرح بنا دے کہ وہ تجھ سے محبت کرے جیسے میرے باپ کا دل تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے بندے کو پیغام بھیجا کہ میں اس سے اس کی حاجت کا سوال کروں اور اس کی حاجت یہ تھی کہ اس کے دل کو ایسا بنادوں کہ وہ مجھ سے ڈرے اور اس کے علاوہ دل ایسا بنا دوں کہ وہ مجھ سے محبت کرے میں اس کو ضرور ایسا ملک عطا کروں گا جو اسکے بعد کسی کو زیبا نہیں ہوگا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخآء حیث اصاب “ (اور ہم نے ان کے لئے ہوا کو مسخر کردیا جو ان کے حکم سے چلتی تھی جہاں وہ پہنچنا چاہتے) اور اس کے بعد اور چیزوں میں سے عطا فرمایا اور آخرت میں آپ سے اس کا کوئی حساب نہیں ہوگا۔ 18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” فسخرنا لہ الریح “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب آپ نے دعا کی تھی اس وقت ہوا اور شیاطین آپ کی بادشاہت میں نہ تھے۔ 19:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب سلیمان (علیہ السلام) نے گھوڑوں کے پاؤں کو کاٹ دیئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بہتر چیز عطا فرمادی اور ہوا کو حکم دیا کہ وہ آپ کے حکم کے مطابق چلے جہاں آپ چاہتے ” رخآء “ (نرمی کے ساتھ) یعنی نہ بہت تیز اور نہ ہی بہت آہستہ بلکہ اس کے درمیان ہوتی۔ 20:۔ ابن المنذر (رح) نے حسن (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے روایت کیا کہ اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” تجری بامرہ رخآء “ یعنی وہ ہوا آپ کے تابع تھی جہاں آپ کا ارادہ ہوتا اسی کے مطابق چلتی۔ 21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء حیث اصاب “ (نرمی کے ساتھ چلتی تھی جہاں وہ جانا چاہتے تھے) یعنی جیسے وہ چاہتے (ویسی ہی رفتار سے ہوا چلتی تھی) 22:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء “ سے مراد ہے (آیت) ” حیث اصاب “ یعنی جہاں وہ ارادہ فرماتے (آیت ) ” والشیاطین کل بناء “ (اور جنات عمارتیں بنانے والے) فرمایا شیاطین آپ کے لئے عبادت گاہیں اور مجسمے بناتے (آیت ) ” وغواص “ (اور غوطہ لگانے والے) کہ وہ ان کے لئے سمندر سے زبوں نکالتے تھے (آیت ) ” واخرین مقرنین فی الاصفاد “ (اور دوسرے جنات جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے) یعنی سرکش شیاطین بیڑیوں پر جکڑے ہوئے تھے۔ 23:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رخآء “ پاکیزہ (آیت ) ” والشیاطین کل بناؤغواص “ (اور شیاطین عمارت بنانے والے اور غوطہ لگانے والے) یعنی وہ غوطہ لگاتے تھے زبور نکالنے کے لئے ” وبناء “ یعنی انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے لئے پانی پر محل بنایا اور سلیمان (علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ ان کو گرا دو اور تمہارے ہاتھ بھی نہ لگیں اس پر مناجیق (یعنی توپوں) کے ذریعہ پتھر پھینکے یہاں تک کہ اس کو گرا دیا سو باقی رہی اس کی منفعت ہمارے لئے بعد میں اور جنات کے عمل میں سے تھا اور ہمارے لئے باقی رہی کوڑوں کی منفعت جنات کو لکڑی سے مارا جاتا تھا تو ان کے ہاتھوں اور پاؤں توڑدیئے انہوں نے عرض کیا آپ کے لئے یہ چیز پسندیدہ ہے کہ آپ ہم کو تکلیف تو دیں مگر ہمارے اعظاء توڑیں فرمایا ہاں پھر انہوں نے ان کی رہنمائی کی کوڑوں پر اور ملمع سازی جنات کا کام ہے انہوں نے ملمع سازی کی تو آپ نے حکم دیا تو آپ نے بلقیس کے عرش کے ساتھ پائیوں کے نیچے ستونوں پر اسے ڈالا اور شیشے کا کام بھی جنوں کا ہے جب امور نے سمندروں کو باہر نکلا جب آپ نے ارادہ کیا بیت المقدس کے بنانے کا امور نے کہا میرے لئے ہدہد کا ایک انڈھا تلاش کرو پھر کہا اس پر شیشے کا غلاف بنا دو ہدہد آیا اس نے انڈے کو دیکھنا شروع کیا مگر اس انڈے پر نہ پہنچ پاتا اور اس نے چکر لگانا شروع کیا وہ کیا اور اسی کی مقدار میں ہیرا لے آیا اس کو شیشہ کی بوتل پر رکھا۔ وہ بوتل پھٹ گئی اور بیت المقدس بھی اس ہیرے اور کو پھیا سے گرایا گیا اور سمندر میں خزانہ تھا شیاطین نے سلیمان (علیہ السلام) کو بتایا ان کا یہ گمان ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) جنت میں داخل ہوں گے چالیس سال کے بعد دوسرے انبیائے کے بعد اس وجہ سے کہ ان کو دنیا کی بادشاہی عطاکی گئی۔ 24:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا “ (یہ ہماری عطا ہے) اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا انگوٹھی واپس کرنے کے بعد۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فامنن “ (سو تم جس کو چاہودو) یعنی جس جن کو چاہو آزاد کر دو (آیت ) ” اوامسک “ ان میں سے جو کو چاہو روک لو۔ 26:۔ عبدبن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا “ کے بارے میں حسن (رح) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو ملک ہم نے آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے جس کو چاہو دے دو اور جس سے چاہو روک لو اس معاملہ میں آپ پر کوئی بوجھ نہیں اور نہ آپ پر اس بارے میں کو حساب ہے۔ 27:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا عطآؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب “ یعنی اس میں آپ پر کوئی حرج نہیں آپ چاہیں تو روک لیں اور اگر چاہیں تو عطا کردیں۔ 28:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو کچھ آپ عطا کریں یا جو آپ چاہیں روک لیں آپ پر کوئی حساب نہیں۔ 29:۔ عبد بن حمید (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کوئی نعمت ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کی ہے مگر اس بارے میں اس سے شکر کا مطالبہ کیا مگر سلیمان (علیہ السلام) سے مطالبہ نہیں کیا گیا) بلکہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) سے فرمایا (آیت ) ” فامنن اوامسک “ یعنی چاہو تو یہ کسی پر احسان کرو چاہو تو روک لو کوئی حساب نہیں۔ 30:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو بڑا خوشگوار (یعنی مبارک) ملک عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” ھذا عطآؤنا فامنن اوامسک بغیر حساب “۔ یعنی اگر عطا کرے گا تو اجر ہوگا اور اگر کسی کو نہیں دے گا تو اس پر (تیرے اوپر) کوئی ذمہ داری نہیں۔ 31:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ (اور اس کے لئے ہمارے یہاں خاص قرب بھی اور انجام بھی) یعنی اچھا ٹھکانہ۔ 32:۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان لہ عندنا لزلفی وحسن ماب “ سے مراد ہے القرب یعنی نزدیکی (آیت ) ” وحسن ماب “ یعنی لوٹنے کی جگہ۔