24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 24:55–57

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اللہ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں ضرور ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور اس نے ان کے لیے جس دین کو پسند فرمایا ہے اسے ان کے یے قوت دے گا ان کے خوف کے بعد ضرور ضرور امن سے بد دے گا وہ میری عبادت کرتے ہیں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے اور جو شخص اس کے بعد ناشکری کرے گا تو یہی لوگ نافرمان ہیں

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو تاکہ پر رحم کیا جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اے مخاطب ان کے بارے میں یہ ہرگز خیال نہ کر کہ روائے زمین میں عاجز کرنے والے ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور البتہ وہ بری جگہ ہے

1۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے بارء ؓ سے آیت وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور ہم شدید خوف میں تھے۔ مکہ کے مسلمانوں سے خلافت کا وعدہ 2۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب مکہ مکرمہ میں تقریبا دس سال تک پوشیدہ طور پر اللہ وحدہ لاشریک اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے رہے اور وہ ڈرتے تھے کہ وہ قتال کا حکم نہیں دیے گئے تھے یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم دیے گئے وہ لوگ مدینہ منورہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قتال کا حکم فرمایا جبکہ خوف میں مبتلا تھے اور صبح شام مسلح رہتے تھے۔ پھر ان کے حالات بدل گئے اللہ تعالیٰ نے چاہا پھر آپ کے اصحاب میں سے ایک صحابی نے آکر عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم ہمیشہ اسی طرح حالت خوف میں رہیں گے۔ کیا ہم پر ایسا دن نہیں آئے گا کہ اس میں ہم امن میں ہوں گے۔ اور ہم اس میں ہتھیاروں کو اتاردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے حالات تھوڑے عرصہ کے بعد ہی بدل جائیں گے یہاں تک کہ ایک آدمی تم میں سے بڑے اجتماع میں بیٹھے گا گھاٹ مار کر اور ان میں سے کسی کے پاس اسلحہ نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت ” وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت لیستخلفنہم فی الارض “ آیت کے آخر تک پھر اللہ تعالیٰ نے جزیر عرب پر اپنے نبی ﷺ کو گلبہ عطا فرمایا اور وہ امن میں ہوگئے اور ہتھیاروں کو رکھ دیا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس دنیا سے اٹھالیا اور وہ اسی طرح امن میں تھے ابوبکر ؓ عمر عثمان ؓ کی خلافت میں یہاں تک کہ ان لوگوں نے نعمت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ خوف مسلط کیا جو ان سے اٹھ چکا تھا اور انہوں نے کمرے اور سپاہی رکھ لیے اور انہوں نے اپنے حالات کو تبدیل کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے حالات کو بدل دیا۔ 3۔ ابن المنذر والطبرانی فی الاوسط والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل والضیاء فی المختارۃ ابی بن کعب رضی الہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام ؓ مدینہ منورہ میں آئے اور انصار نے ان کو ٹھکانہ دیا تو ہمارے عرب ان کے دشمن بن گئے وہ صبح شام ہتھیار لیے پھرتے تھے تو انہوں نے کہا تم دیکھو گے کہ ہم ایسی زندگی بھی گزاریں گے یہاں تک کہ ہم رات گزاریں گے اور اطمینان سے اور ہم اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈریں گے تو یہ آیت وعداللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصلحت، نازل ہوئی۔ غلبہ دین کی بشارت 4۔ احمد وابن مردویہ واللفظ لہ والبیہقی فی الدلائل ابن ابی کعب ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصلحت نازل ہوئی آپ ﷺ نے اس رات کو بلندی دین کا غلبہ مدد اور زمین میں حکومت اور اختیارات کی بشارت دی۔ جس شخص نے آخرت کے عمل کو دنیا کے لیے کیا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ 5۔ عبد بن حمید عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کو پڑھا آیت لیستخلفنہم یاء کے ساتھ اور آیت ” فی الارض کما استخلف “ تاء کے رفع اور لام کے کسرہ کے ساتھ آیت ” ولیمکنن ‘ یاء اور نون کے ساتھ آیت ” ولیبدلنہم “ کو یاء اور نون خفیفہ کے ساتھ۔ 6۔ عبدبن حمید نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وعد اللہ الذین اٰمنوا منکم وعملو الصلحت لیستخلفنہم فی الارض سے بیت والے مراد ہیں اور اپنے ہاتھ سے قبلہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ 7۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیمکنن لہم دینہم الذی الرتضی لہم، میں دین سے رماد اسلام ہے۔ 8۔ عبد بن حمید ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یعبدوننی لایشرکون بی شیئا سے مراد ہے کہ وہ لوگ میرے علاوہ کسی سے نہ ڈریں۔ 9۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یعبدوننی لایشرکون بی شیئا سے مراد ہے کہ وہ لوگ میرے علاوہ کسی سے نہ ڈریں آیت ومن کفر بعد ذالک فاولئک ہم الفسقون۔ فاسقون سے مراد ہے نافرمان۔ 10۔ عبد بن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن کفر بعد ذلک سے مراد ہے کہ انہوں نے انکار کیا اللہ کی نعمت کا اور نہیں انکار کیا اللہ تعالیٰ کا۔ 11۔ ابن مردویہ نے ابو الشعثاہ (رح) سے روایت کیا کہ میں حذیفہ اور ابن مسعود ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا حذیفہ نے فرمایا کہ نفاق ختم ہوگیا کیونکہ نفاق صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا آج تو ایمان کے بعد کفر ہے ابن مسعود ہنس پڑے پھر فرمایا کہ کس وجہ سے آپ یہ کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس آیت کی وجہ سے آیت وعدا للہ الذین اٰمنو منکم وعملوا الصلحت آیت کے آخرتک۔ 12۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تحسبن الذین کفرو معجزین فی الارض سے رماد ہے کہ جو زمین میں پہلے ہو گزرے ہیں واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمن والو جو تمہاری مملوک ہیں اور تم میں سے وہ لڑکے جو بلوغ کو نہیں پہنچتے تین وقتوں میں اجازت لیا کریں، نماز فجر سے پہلے، اور جس وقت تم دوپہر میں اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور نماز وشاء کے بعد یہ تین وقت تمہارے پردہ کے ہیں، ان اوقات کے علاوہ تم پر اور ان پر کوئی گناہ نہیں، وہ بکثرت تمہارے پاس آتے جاتے ہیں، کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس اور کوئی کسی کے پاس، اللہ اسی طرح تمہارے لیے احکام بیان فرمایا تا ہے اور اللہ علیم ہے، حکیم ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور تمہارے لڑکے جب حد بلوغ کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اجازت لیں جیسے ان لوگوں نے اجازت لی جو ان سے پہلے ہیں اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات بیان فرماتا ہے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے

تین اوقات میں خصوصی بغاوت کی تاکید 1۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اور اس کی بیوی اسماء بنت مرثدہ نے نبی ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اسماء نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کتنی بری بات ہے ؟ کہ ایک آدمی بیوی اور اس کے شوہر کے پاس اس حال میں آتا ہے میاں اور بیوی ایک ہی کپڑے میں ہوتے ہیں اور ان سے اجازت بھی نہیں لیتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملک ایمانکم ” غلاموں اور باندیوں میں سے آیت ” والذین لم یبلغوا الحلم منکم “ اور تمہارے آزاد مردوں اور عورتوں میں سے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ اس بات سے ناخوش ہوتے تھے کہ ان اوقات میں اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں تاکہ پھر وہ غسل کریں اور نماز کے لیے جائیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے غلاموں اور لڑکوں کا حکم کریں کہ وہ ان اوقات میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ 3۔ ابن مردویہ نے ثعلبہ القرظی سے روایت کیا اور انہوں نے عبداللہ بن سوید ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان تین پردوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا جب میں دوپہر کے بعد اپنے کپڑے اتاردوں اس وقت خدا میں سے اور ان لڑکوں میں جو ابھی بالغ نہیں ہوئے میرے پاس نہ آئے نہ مرد و زن میں سے کوئی بغیر اجازت کے آئے ہو اور جب میں اپنے کپڑے اتاردوں عشاء کی نماز کے اور صبح سے پہلے۔ 4 عبد بن حمید والبخاری فی الادب و ثعلبہ بن ابی مالک قرظی (رح) سے روایت کیا کہ وہ عبداللہ بن سوید ؓ کے پاس گیا جو بنی حارثہ بن حارث سے تعلق رکھتا تھا تاکہ ان سے ثلاث عورات کے بارے میں پوچھوں اور وہ ان پر عمل کرتے تھے انہوں نے پوچھا تیرا کیا ارادہ ہے۔ میں نے کہا میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں بھی ان پر عمل کروں تو انہوں نے فرمایا جب میں کپڑوں کو دوپہر کے بعد اتاردوں تو میرے اہل و عیال میں سے کوئی بالغ میرے پاس اندر نہ آئے مگر میری اجازت سے مگر یہ کہ میں اس کو بلاؤ تو یہ اس کی اجازت ہوگی اور نہ اس وقت کوئی داخل ہو جب فجر طلوع ہو اور لوگ حرکت کر رہے ہوں یہاں تک کہ فجر کی نماز پڑھ لیں اور نہ اس وقت داخل ہوں جب عشاء کی نماز پڑھ لی جائے اور میں اپنے کپڑوں کو اتاردوں یہاں تک کہ سو جاؤ پھر فرمایا یہ تین پردے کے اوقات ہیں۔ 5۔ ابن سعد نے سوید بن نعمان (رح) سے روایت کیا کہ ان سے تین پردوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا جب میں اپنے کپڑے دوپہر کو اتاردو تو میرے گھروالوں میں سے کوئی داخل نہ ہو مگر یہ کہ میں اس کو بلاؤ تو یہ اس کی اجازت ہوگی اور جب فجر طلوع ہوجائے اور لوگ حرکت کرنے لگیں یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لی جائے اور جب میں عشاء پڑھ لوں اور اپنے کپڑے اتاردوں تو یہ تین اوقات پردے کے ہیں۔ 6۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داوٗد وابن مردویہ والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آیت ایسی ہے کہ اس کا اکثر لوگوں نے یقین نہیں کیا اور وہ اجازت والی آیت ہے بلاشبہ میں حکم کرنے والا ہوں اپنی اس لونڈی کو بھی جو چھوٹے قد والی میرے پاس کھڑی ہے کہ وہ مجھ سے اجازت لیا کرے۔ 7۔ سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں لوگ سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم اور یہ کبھی بھی منسوخ نہیں ہوئی۔ 8۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے کہ آیت لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم۔ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ کہا گیا کہ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ فرمایا واللہ المستعان۔ 9۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان اوقات میں غلام اور نابالغ لوگ ان کے پاس نہ آتے تھے۔ 10۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے تین آیات کو چھوڑ دیا ہے ان پر عمل نہیں کرتے (1) آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملک ایمانکم “ (2) جو سورة نساء میں ہے آیت واذا حضر القسمۃ اور وہ آیت جو حجرات میں ہے آیت ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے آیت “ لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم “ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ساتھ اکیلا عشاء کے بعد ہو تو اس کے پاس کوئی خادم یا کوئی بچہ اندر نہ جائے مگر اس کی اجازت سے یہاں تک کہ صبح کی نماز پڑھ لی جائے۔ اور جب دوپہر کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ اکیلا ہو تو بھی یہی حکم ہے اور ان کے علاوہ بغیر اجازت کے داخل ہونے کی رخصت دی گئی ہے اور یہی قول ہے اللہ تعالیٰ کا آیت لیس علیکم ولا علیہم جناح بعدہن اور وہ لڑکا جو بالغ ہوگیا وہ بھی کسی میاں بیوی کے پاس اندر داخل نہ ہو مگر ان کی اجازت سے اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کم استاذن الذین من قبلہم۔ 12۔ ابو داوٗد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دو آدمیوں نے ثلاث عورات کے بارے میں پوچھا جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکم فرمایا ابن عباس نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ ستر والا پردہ پوشی کو پسند فرماتے اور لوگوں کے دروازوں پر پردے نہیں تھے اور نہ ان کے کمروں میں پردے ہوتے تھے کسی وقت اس کا خادم یا اس کا لڑکا یا اس کا یتیم بچہ اس کے کمرے میں آجاتا تھا اور وہ اپنی بیوی کے پاس ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا بعد میں اللہ تعالیٰ نے ستر کا حکم دیا اور ان کے لیے رزق میں کشادگی کردی تو ان لوگوں نے دروازوں پر پردے بنائے اور کمروں میں بھی پردے بنا لیے لوگوں نے خیال کیا کہ اجازت کیلیے یہی کافی ہے جس کا وہ حکم دئیے گئے۔ 13۔ ابن ابی شیبہ والبخاری فی الادب وابن جریر وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے آیت ” لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورتوں کے لیے نہیں۔ 14۔ الفریابی نے ابن عمر ؓ سے آیت ” ثلث عورت لکم، لیس علیکم ولا علیہم جناح بعدہم، طوافون علیکم، کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حکم عورتوں کیلیے مردوں کے لیے نہیں کہ وہ بغیر اجازت کے داخل ہوں۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم “ سے مراد ہے کہ یہ عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ ہم پر اندر آنے کے لیے اجازت لیا کریں۔ 16۔ الحاکم وصححہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم سے عورتیں مراد ہیں۔ کیونکہ مرد تو اجازت لے ہی لیتے ہیں۔ عورتیں بھی اجازت لے کر داخل ہوا کریں 17۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ خاص طور پر عورتوں کے بارے میں ہے اور مرد تو ہر حال میں دن اور رات میں اجازت لے کر داخل ہوتے ہیں۔ 18۔ الفریابی نے موسیٰ بن ابو عائشہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے شعبی سے اس آیت کے بارے میں پوچھا کیا یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم منسوخ ہے فرمایا نہیں۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت والذین لم یبلغوا الحلم منکم سے تمہارے بیٹے مراد ہیں۔ 20۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ طوافون علیکم سے افراد مراد ہیں جو صبح شام بغیر اجازت کے آتے جاتے اور آیت واذا بلغ الاطفال یعنی چھوٹے بچے آیت منکم الحلم یعنی آدمی کی اپنی اولاد اور قریبی رشتہ داروں کی اولاد فلیستاذنو کما استاذن الذین من قبلہم وہ اسی طرح اجازت طلب کرے جس طرح آدمی کی اپنی بڑی اولاد اور رشتہ داروں کی اولاد اجازت طلب کرتی ہے۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت کما استاذن الذین من قبلہم سے مراد ہے جیسے وہ جو اس سے قبل ہی بالغ ہوچکے ہیں وہ اجازت لیتے ہیں کہ جن کو اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے ہر حال میں۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کو اپنی ماں سے بھی اجازت لینی چاہیے کیو کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت واذا بلغ الاطفال منکم الحلم اس بارے میں۔ 23۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر والبیہقی فی السنن ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی نے ماں سے اجازت لینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا ہاں اجازت لینی چاہیے۔ کہ تو اس کے ہر حال میں اس کو دیکھنا پسند نہیں کرتا ہوگا۔ 24۔ ابن ابی شیبہ والبخاری فی الادب جابر ؓ سے روایت کیا کہ آدمی کو چاہیے کہ اپنی اولاد اور اپنی ماں سے اندر آنے کی اجازت لے۔ اگرچہ وہ بوڑھی ہو اور اپنے بھائی اور اپنی بہن اور اپنے باپ سے بھی اجازت لے۔ 25۔ سعید بن منصور والبخاری فی الادب وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ عطاء (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ابن عباس ؓ سے اپنی بہن سے اجازت لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہاں اجازت لینی چاہیے میں نے کہا کہ وہ میری پرورش میں ہے اور میں اس پر خرچ کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ میرے گھر میں ہے کیا میں اس سے اندر آنے کی اجازت لوں ؟ فرمایا ہاں ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم والذین لم یبلغوالحلم منکم “ آلایۃ۔ ان کا اجازت لینے کا حکم نہیں دیا گیا ہے مگر ان تین اوقات میں اور فرمایا آیت واذا بلغ الاطفال منکم الحلم فلیستاذنوا کما استذن الذین من قبلہم تو پھر اجازت لینا واجب ہے تمام امت پر۔ 26۔ ابن جریر نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے ماں سے اجازت لینے کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا ہاں اجازت لو کیا تو پسند کرتا ہے کہ اس کو برہنہ حالت میں دیکھے۔ اپنی ماں سے اجازت لینا 27۔ ابن جریر والبیہقی فی السنن عطاء بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں اپنی ماں سے اجازت لوں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اجازت لو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں آپ نے فرمایا اس سے اجازت لو اس نے پھر کہا میں اس کا خادم ہوں کیا میں اس سے اجازت لوں جب بھی میں داخل ہوں فرمایا کیا تو اس بات کو پسند کرے گا کہ تو اس کو ننگی حالت میں دیکھے اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا پھر اس سے اجازت لے لیا کرو۔ 28۔ ابن ابی شیبہ والبخاری فی الادب والبیہقی حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا ایک آدمی اپنی والدہ سے اندر آنے کی اجازت لے۔ انہوں نے فرمایا ہاں اجازت لے اگر تو نے ایسا نہ کیا تو اس کا وہ حصہ دیکھے گا جس کو تو ناپسند کرے گا۔ 29۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے آیت ” والذینی لم یبلغوا الحلم منکم کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ ہم کو سکھاتے ہیں کہ جب ہم میں سے کوئی آئے اور السلام علیکم کہہ کر یوں کہے کیا فلاں اندر داخل ہوجائے۔ 30۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر دیہاتی غالب نہ آجائیں تمہاری نماز کے نام پر اللہ کی کتاب میں یہ نام عشاء ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” ومن بعد صلوۃ العشاء “ اور عتمہ اونٹنی کو کہتے ہیں۔ 31۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر دیہاتی غالب نہ آجائیں تمہاری عشاء کی نماز کے نام پر کیونکہ اللہ کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے اور عتمہ اونٹنی کے دوہنے کو کہتے ہیں۔ 23۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ثلث عورت کو نصب کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو عورتیں بیٹھ چکی ہیں جنہیں نکاح کرنے کی امید نہیں ہے سو اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے کپڑے اتار کر رکھ دیں، بشرطیکہ زینت کا اظہار کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ پرہیز کریں ان کے لیے بہتر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

1۔ ابو داؤد والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقل للمومنت یغضضن من ابصارہن (النور آیت 21) کے حکم کو منسوخ کردیا گیا اور اس سے استثنی کرتے ہوئے فرمایا آیت ” والقواعد من النساء اللتی لا یرجون نکاحا “ یعنی بڑی بوڑھی عورتیں جواب نکاح کی امید نہ رکھتی ہوں اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار رکھیں بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ کریں۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے آیت والقواعد من النساء کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ عورت ہے جس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے گھر میں قمیض اور دوپٹے کے ساتھ بیٹھے اور بڑی چادر کو اتار دے اور زینت کا اظہار نہ کرے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ناپسند کیا اور اسی کو فرمایا۔ آیت فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت بزینۃ۔ 3۔ ابو عبید فی فضائلہ وابن المنذر وابن الانباری فی المصاحف والبیہقی فی السنن ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ آیت ان یضعن ثیابہن پڑھتے وہ فرماتے تھے کہ اس سے مراد بڑی چادر ہے۔ 4۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی فی السنن ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن سے مراد ہے چادر اور جسم کے اوپر حصے پر اوڑھی جانے والی چادر۔ 5۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ عورت اتاردے بڑی چادر کو۔ 6۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے حسن (رح) وسلم سے روایت کیا کہ آیت والقواعد من النساء سے وہ عورت مراد ہے جو نکاح سے نامید ہو کر گھر میں بیٹھ جائے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت والقواعد من النساء یعنی بڑی عمر والی عورت کہ جس کو بڑھ اپنے کی وجہ سے حیض نہیں آتا التی لایرجون نکاحا یعنی جو نکاح کی امید نہیں رکھتی۔ 8۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” التی لایرجون نکاحا “ سے مراد ہے کہ وہ نکاح کا ارادہ نہ کریں۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے مسلم نے بتایا جو حذیفہ بن یمان ؓ کی بیوی کے غلام تھے کہ اس نے اپنی سیدہ کے سر کو خضاب لگایا میں اس کے پاس اندر گیا تو میں نے اس سے سوال کیا کہ تو نے مجھ سے پردہ کیوں نہیں کیا تو اس نے کہا ہاں ! اے میرے بیٹے میں ان بہت بوڑھی عورتوں میں سے ہوں جو نکاح کی امید نہیں رکھتی اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمادیا ہے جو تو نے سنا۔ 10۔ ابن المنذر نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب اور ابن مسعود کے مصحفوں میں یوں ہے۔ آیت ” فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت ‘ ‘ 11۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ آیت فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت پڑھتے تھے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ بھی آیت فلیس علیہن جناح ان یضعن ثیابہن غیر متبرجت پڑھتے تھے۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان سے سوال کیا گیا خضاب لگانے، رنگنے، کان میں بالیاں پہننے اور پازیب پہننے سونے کی انگوٹھی پہننے اور باریک کپڑے پہننے کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا اے عورتوں کا گروہ تم سب کا قصہ ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حلال کردیا لیکن ایسی زینت جس میں بناؤ سنگھار کا اظہار نہ ہو۔ 14۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وان یستعففن خیر الہن یعنی وہ اپنی چادروں کو پہن لیں تو ان کے لیے بہت رہے۔ 15۔ سعید بن منصور وابن المنزر والبیہقی فی السنن عاصم احوال (رح) سے روایت کیا کہ میں حفصہ بنت سیرین کے پاس حاضر ہوا جبکہ انہوں نے اپنی چادر اپنے اوپر ڈال لی میں نے کہا اللہ تعالیٰ نہیں فرماتے ہیں ؟ آیت والقواعد من النساء التی لا یرجون نکاحا فلیس علہن جناح ان یضعن ثیابہن تو فرمایا پڑھو جو اس کے بعد ہے یعنی آیت وان یستعففن خیر لہن اور وہ چادر مراد ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو نابینا آدمی کے لیے کوئی مضائقہ ہے اور نہ لنگڑے آدمی کے یے کوئی مضائقہ ہے اور نہ مریض کے لیے کوئی مضائقہ ہے اور نہ خود تمہارے لیے کوئی مضائقہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے، یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤ کے گھروں سے یا اپنی پھوپیوں کے گھروں سے یا اپنے مامؤوں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی چابیوں کے تم مالک ہو، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھاؤ، تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ، سو جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ کی طرف مقرر ہے دعاء مانگنے کے طور پر، جو مبارک ہے پاکیزہ ہے اسی طرح تمہیں اپنی احکام بتاتا ہے تاکہ تم سمجھ لو

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل (النساء آیت 29) نازل ہوئی تو انصار نے کہا مدینہ میں کھانے سے بڑھ کر کوئی معزز مال نہیں تھا اور وہ نابینا کے ساتھ کھانے سے حرج محسوس کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ وہ کھانے کی جگہ کو نہیں دیکھتا اور وہ لنگڑے کے ساتھ کھانا بھی کھانے کو پسند کرتے وہ کہتے تھے کہ وہ تندرست آدمی کی طرح نہیں کھا سکتا اور وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں بھی کھانے کو ناپسند کرتے اور وہ کہتے تھے کہ وہ تندرست آدمی کی طرح نہیں کھا سکتا اور وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں بھی کھانے میں حرج محسوس کرتے تھے۔ تو یہ آیت لیس علی الاعمی حرج نازل ہوئی یعنی اندھے کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ اندھے لنگڑے اور مریض کے ساتھ کھانے کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ یہ لوگ اس طرح کھانا نہیں کھا سکتے جیسے تندرست آدمی کھاتا ہے۔ تو ایہ آتی لیس علی الاعمی حرج نازل ہوئی۔ بلا اجازت مہمان لیجانے کی کہاں گنجائش ہے 3۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ وعبد بن حمدی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی لے جاتا تھا کسی اندھے کو یا لنگڑے کو یا مریض کو اپنے بھائی کے گھر کی طرف یا اپنی بہن کے گھر کی طرف یا اپنے چچا کے گھر کی طرف یا اپنی پھوپھی کے گھر کی طرف یا اپنے ماموں کے گھر کی طرف یا اپنی خالہ کے گھر کی طرف تو اپاہج لوگ اس کو ناپسند کرتے اور کہتے تھے کہ یہ لوگ ہمیں اپنے علاوہ دوسرے گھروں کی طرف لے جاتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی اور ان کو رخصت دے دی گئی۔ 4۔ البزار و ابن ابی حاتم وابن مردویہ وابن النجار نے عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر پر نکلنا پسند کرتے تھے اور امین لوگوں کو اپنے گھر کی چابیاں دے کر کہتے تھے کہ ہم نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے کہ تم کھاؤ ان چیزوں کو کہ جن کی تم کو ضرورت ہو اور وہ لوگ کہتے تھے کہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے کہ ہم کھائیں ان چیزوں کو جن کی انہوں نے ہم کو اجازت دی ہے اس کی خوش کے بغیر ہم تو امین ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آتی نازل فرمائی آیت ولا علی انفسکم ان تاکلوا سے لے کر آیت او ماملکتم مفاتھۃ تک۔ 5۔ عبد بن حمید نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عبیدالہ بن عبداللہ وابن المسیب (رح) نے بتایا کہ علماء بیان کرتے تھے کہ یہ آیت مسلمانوں کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو لوگ اپنے مالوں پر امین بناتے تھے لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کے راستے میں جانا چاہتے تھے تو وہ لوگ اپنے گھروں کی چابیاں ان امین لوگوں کو دے کر ان سے کہتے تھے کہ ہم نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے کہ تم ان چیزوں میں سے کھاؤ جو ہمارے گھروں میں ہیں تو وہ لوگ کہتے تھے جن کو انہوں نے امانت کے طور پر چابیاں دیں تھیں اللہ کی قسم ! ہمارے لیے حلال نہیں ہے کوئی چیز جو ان کے گھروں میں ہے اور وہ ہمارے لیے حلال ہوں گی جب وہ ہماری طرف لوٹ آئیں اور یہ امانت ہے کہ جس پر ہم کو امین بنایا گیا یہ لوگ اسی حالت پر رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو ان کے دل خوش ہوگئے۔ 6۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت یا ایہا الذین اٰمنوا لا تکلوا اموالکم بینکم بالباطل نازل ہوئی تو مسلمانوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو منع کردیا ہے کہ ہم آپس میں اپنے مال باطل طریقے سے کھائیں جبکہ کھانا تو افضل مالوں میں سے ہے تو ہم میں سے کسی کو حلال نہیں کہ وہ کسی کے پاس کھانا کھائے تو وہ لوگ دوسروں کے پاس کھانے سے رک گئے پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا آیت ” لیس علی الاعمی حرج “ سے لے کر آیت او ماملکتم مفاتحہ تک اس سے مراد وہ شخص ہے جسے دوسرا آدمی اپنی جائیداد سے کھلاتا پلاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جس کی رخصت فرمائی ہے کہ وہ اس کھانے میں سے کھائے اور کھجور میں سے کھائے اور دودھ پی لے اور وہ اس چیز سے بھی پرہیز کرتے تھے کہ کوئی آدمی اکیلے کھانا کھائے یہاں تک کہ اس کے ساتھ کوئی اور ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رخصت فرمائی اور فرمایا لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا۔ 7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل مدینہ اپنے کھانے میں کسی اندھے کو شریک نہیں کرتے تھے اور نہ کسی مریض کو اور کسی لنگڑے کو کیونکہ اندھا کھانے کی عمدگی کو نہیں دیکھ پاتا اور مریض تندرست آدمی کی طرح کھانے کو پورا نہیں کھا سکتا اور لنگڑا کھانا حاصل کرنے کے لیے مزاحمت نہیں کرسکتا تو ان کو کھانے میں شریک کرنے کے بارے میں رخصت کا حکم نازل ہوا۔ 8۔ الثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حارث ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں نکلے اور اپنے اہل و عیال پر خالد بن زید کو نگران بنا گئے اور خالد بن زید نے ان کے کھانے میں حرج محسوس کیا جبکہ تنگ دست تھے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابو داوٗد فی مراسیلہ وابن جریر والبیہقی زہری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لیس علی الاعمی حرج۔ الایہ، کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا حال اندھے کا لنگڑے کا اور مریض کا جو یہاں ذکر ہوا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو عبیداللہ بن عبداللہ بتایا کہ مسلمان جب غزوہ کیے ے جاتے تھے تو اپنے وصی مقرر کرتے اور ان کو گھروں کی چابیاں دے جاتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہم نے تمہارے لیے حلال کردیا ہے کہ تم کھاؤ ان چیزوں میں سے جو ہمارے گھروں میں ہے اور یہ لوگ اس کو کھانے حرج محسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ان کے غائب ہونے کی صورت میں ان کے گھروں میں داخل نہ ہوں گے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے لیے رخصت دے دی گئی۔ 10۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قبیلہ کنانہ بن خزیمہ مانہ جاہلیت میں اپنے لیے یہ شرمندگی محسوس کرتا تھا کہ وہ اکیلا کھائے اگرچہ وہ بہت بڑا اونٹوں کا ریوڑ ہانک کر جارہا ہو یہاں تک کہ وہ ایسا آدمی پاتے جس کے ساتھ وہ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور پانی پیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا۔ یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اکٹھے ہو کر یا الگ الگ ہو کر کھاؤ۔ 11۔ ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ اور ابو صالح رحمہما اللہ نے فرمایا کہ انصار کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو اس وقت کھانا نہ کھاتے تھے یہاں تک کہ وہ مہمان ان کے ساتھ نہ کھاتا تو ان کے لیے رخصت نازل کردی گئی کہ اکٹھے کھائیں یا علیحدہ کھائیں) 12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت او صدیقکم یعنی جب تم اپنے دوست کے گھر میں داخل ہو اس کے کہے بغیر پھر تم کھانا کھاؤ اس کی اجازت کے بغیر تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 13۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت او صدیقکم کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سلسلہ اب ختم ہوگیا اور یہ شروع میں تھا جب لوگوں کے دروازے نہیں ہوتے تھے اور صرف پردے لٹکے ہوئے تھے بسا اوقات یہ ہوتا تھا کہ ایک آدمی کسی گھر میں داخل ہوتا جس میں کوئی نہ ہوتا تھا اور بسا اوقات وہ اندر کھاتا پیتا اس حال میں کہ وہ بھوکا بھی ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے اسکے لیے جائز کردیا کہ وہ اس کو کھائے پھر فرمایا اب یہ سلسلہ ختم ہوگیا آج گھروں میں رہنے والے موجود ہوتے ہیں جب وہ جاتے ہیں تو دروازے بند کر کے جاتے اور اس وجہ سے اب یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ 14۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم سے مراد ہے جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو ان کے رہنے والوں کو سلام کرو کہ دعائے خیر ہے اللہ کی طرف سے اور وہ سلامتی ہے کیونکہ اللہ کا نام ہے اور وہ جنت والوں کا بھی سلام ہے۔ 15۔ البخاری فی الادب وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ ابوالزبیر کے طیرق سے جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ جب تم اپنے گھروالوں کے پاس جاؤ تو ان کو سلام کرو یہ تحفہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ ابوالزہری نے فرمایا میرا خیال ہے کہ سلام کو واجب کردیا گیا۔ گھر میں داخل ہوتے وقت گھر والوں کو سلام کرنا مسنون ہے 16۔ الحاکم نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرو جب تم کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو جب کوئی تم میں سے سلام کر کے گھر میں داخل ہوتا ہے اور اپنے کھانے پر اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے تمہارے لیے نہ تو رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا ہے۔ اور جب کوئی تم میں سے سلام نہیں کرتا اور اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے تم نے رات کے رہنے کی جگہ اور رات کے کھانے کو پالیا۔ 17۔ البخاری فی الادب جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہو اور اپنے داخل ہونے کے وقت اللہ کا ذکر کرے اور اپنے کھانے کے وقت بھی تو شیطان کہتا ہے تمہارے لیے رات کے رہنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا اور جب کوئی آدمی گھر میں داخل ہوا اور اپنے داخل ہونے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا۔ تو شیطان کہتا ہے تم نے رات کے رہنے کی جگہ پالی اور رات کے کھانے کو پالیا۔ 18۔ البیہقی فی الشعب وضعفہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے داخل ہوتے تو یوں فرماتے۔ السلام علینا من ربنا التحیات الطیبات المبارکات للہ سلام علیکم ترجمہ : ہم پر سلام ہو ہمارے رب کی طرف سے تمام قولی عبادتیں اور مالی عبادتیں برکت والی اللہ کے لیے ہیں اور تم پر سلام ہے 19۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اپنے گھر والوں کے پاس جائے تو کہہ السلام علیکم یہ تحفہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مبارک ہے اور پاکیزہ ہے جب گھر میں کوئی نہ ہو تو کہو، السلام علینا من ربنا۔ یعنی ہم پر سلام ہو ہمارے رب کی طرف سے۔ 20۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے ماہان (رح) سے آیت فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کہتے ہیں آیت السلام علینا من ربنا (یعنی ہم پر سلام ہو ہمرے رب کی طرف سے ) 21۔ الطبرانی نے ابو البختری (رح) سے روایت کیا کہ اشعث بن قیس اور جریر بن عبداللہ بجلی (رح) سلیمان (رح) کے پاس آئے اور کہا ہم آپ کے پاس آئے تیرے بھائی ابو درداء کے پاس سے سلمان نے فرمایا دونوں اللہ سے ڈرو اور امانت کو ادا کرو۔ اس کی طرف سے میرے پاس کوئی آدمی نہیں آیا مگر وہ اپنے ساتھ ہدیہ لایا ان دونوں نے کہا اللہ کی قسم ہمارے ساتھ اس نے کوئی چیز نہیں بھیجی مگر یہ کہ اس نے کہا اس کو میری طرف سے سلام کہہ دینا سلمان نے فرمایا اس کے علاوہ میں نے اور کون سے ہدیہ کا تم سے ارادہ کیا ؟ سلام سے بڑھ کر کون سا ہدیہ ہے یہ تحفہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مبارک اور پاکیزہ ہے۔ 22۔ الطبرانی نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ شیطان کو اپنے پاس کھانا اور آرام کی جگہ اور رات گزارنے کی جگہ نہ دے تو اس کو چاہیے سلام کرے جب اپنے گھر میں داخل ہو اور اپنے کھانے پر اللہ کا نام لے۔ اپنے کمرہ میں داخل ہوئے بھی بسم اللہ پڑھے 23۔ ابن عدی نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی اپنے کمرے میں داخل ہونے کے لیے کھڑا ہوا تو اس کو چاہیے کہ اللہ کا نام لے کیونکہ اس کا ساتھی شیطان واپس لوٹ جائے گا جو اس کے ساتھ تھا گھر میں داخل نہ ہوگا جب تم گھر میں داخل ہو تو سلام کرو کیونکہ وہ جو شیطان گھر میں رہائش پذیر ہوگ اور وہاں سے نکل جائے اور جب کھانا رکھا جائے تو اللہ کا نام لو کیونکہ تم بھگا دو گے خبیث ابلیس کو اپنے کھانے سے اور تمہارے ساتھ اس میں شرکت نہیں گرے گا جب تم سواروں کو سفر کے لیے تیار کرو تو اللہ کا نام لو جب تم اس کی پیٹھ پر پہلا کپڑا رکھو کیونکہ ہر جانور کو گرہ لگی ہوتی ہے جب تم اللہ کا نام لو گے تو تم اس کی پیٹھ سے شیطان کو نیچے گرادوگے اگر تم اس کو بھول گئے تو شیطان شریک ہوجاتا ہے اس میں سواریوں میں اور تم رات مت گزارو اس حال میں کہ تمہارے پاس آلودہ دسترخوان ہو تمہارے گھر میں کیونکہ وہ شیطان کے رات گزارنے کی گہ اور اس کے لیے رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور نہ چھوڑو کوڑے کو بکھرا ہوا جب کہ اس کو کمرہ کی جانب میں اکٹھا کردو کیونکہ وہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے ایسے گھروں میں رہائش اختیار نہ کرو جن کے دروازے نہ ہوں اور اس کپڑے کو اپنا بستر نہ بناؤ جو جانوروں کی پیٹھوں پر ڈالا جاتا ہے اور ایسی چھت پر رات نہ گزارو جس کی آڑ نہ بنائی گئی ہو اور جب تم کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے ہنہنانے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ دونوں جانور شیطان کو دیکھتے ہیں اور گدھا ہنہناتا ہے۔ 24۔ ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اسلام کے لیے وشنی ہے اور علامات ہیں جیسے راستے کے مینار ہوتے ہیں ان علامتوں کی سردار اور سب کی جامع شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا زکوٰۃ ادا کرنا اور پورا وضو کرنا اور فیصلہ کرنا اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کے طریقے کے ساتھ اور حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور اپنے لوگوں کو سلام کرنا اور جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو ان کو سلام کرنا اور بنی آدم سارے انسانوں کو تمہا را سلام کرنا جب تم ان سے ملو۔ 25۔ البزار وابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان انس ؓ سے روایت کیا کہ مجھے نبی ﷺ نے پانچ باتوں کی وصیت فرمائی کہ وضو کو اچھی طرح سے کرنا یہ زیادتی کرے گا تیری عمر میں اور سلام کر جس سے تو ملاقات کرے میری امت میں سے سے زیادہ کرے گا تیری نیکیوں کو اور جب تو گھر میں داخل ہو تو اپنے گھروالوں کو سلام کر تیرے گھر کی خیر کو زیادہ کرے گا اور چاشت کی نماز پڑھ کیونکہ یہ تجھ سے پہلے اللہ کی طرف روجع کرنے والون کی نماز تھی اے انس، چھوٹے پر رحم کر اور بڑے کی عزت کر قیامت کے دن میرے دوستوں میں سے ہوجائے گا۔ 26۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم “ سے مراد مسجد ہے کہ جب تم اس میں داخل ہو تو کہوا آیت السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ سلام ہو تم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ 27۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر والبیہقی نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ جب تو کسی گھر میں داخل ہو اور اس میں کچھ مسلمان رہتے ہو تو ان کو سلام کر اور اگر اس میں کوئی بھی نہ ہو یا اس میں مشرکین میں سے کچھ لوگ رہتے ہوں تو یوں کہوالسلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ خالی گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کا طریقہ 28۔ ابن ابی شیبہ والبخاری فی الادب ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جب کوئی ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی نہ رہتا ہو یا مسجد میں داخل ہو تو یوں کہو السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ 29۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب تو اپنے گھر میں داخل ہو اور اس میں کوئی نہ یا کسی غیر کا گھر ہو تو کہہ۔ بسم اللہ والحمد للہ السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۔ 30۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم والبیہقی نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم یعنی جب تو داخل ہو اپنے گھر میں تو اپنے گھروالوں کو سلام کر جب تو ایسے گھر میں داخل ہو جس میں کوئی موجود نہ ہو تو کہہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ کیونکہ اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور ہم کو بیان کیا کہ فرشتے اس کو سلام کا جواب دیتے ہیں۔ 31۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فسلموا علی انفسکم یعنی چاہیے کہ بعض تمہارے بعض کو سلام کریں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ولا تقتلوا انفسکم (النساء آیت 29) 32۔ ابن ابی حاتم نے ابن زبیر (رح) سے روایت کہ آیت فسلمو علی انفسکم یعنی جب مسلمان کے پاس جائے تو اس کو سلام کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آی ولاتقتلو انفسکم مطلب ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کو قتل نہ کر اور فرمایا آیت ثم انتم ہولاء تقتلون انفسکم (البقرہ آیت 25) یعنی تمہارا بعض بعض کو قتل کرتا ہے یعنی قبیلہ قریظہ اور نضیر جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں اور فرمایا آیت جعل لکم من انفسکم ازواجا سے مراد ہے ایک دوسرے سے کیسے ہوگا انسان کا جوڑنا اس کی ذات سے کیسے ہوسکتا ہے بلاشبہ اس نے تماہرے لیے جوڑا بنایا بنی آدم میں سے اور نہیں بنایا اونٹ سے گائیے سے اور ہر چیز قرآن میں اسی طرح پر ہے۔ 33۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فسلموا علی انفسکم یعنی تمہار ابعض بعض کو سلام کرے۔ 34۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے تشہد کو نہیں لیا مگر اللہ کی کتاب میں سے میں نے اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آیت فاذا دخلتم بیوتا فسلموا علی انفسکم تحیۃ من عنداللہ مبرکۃ طیبہ۔ پس نماز میں تشہد پڑھو، التحیات المبارکات الطیبات للہ، (یعنی تمام قولی بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں) ۔ 35۔ سعید بن منصور نے ثابت بن عبیداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں صبح سے پہلے ابن عمر کے پاس آیا اور وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے مجھ سے فرمایا تو نے کیوں سلام نہیں کیا جب تو آیا کیونکہ وہ تحفہ ہے مبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔
Ayahs 24:62–63

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

ایمان والے وہی ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے اور جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی ایسے کام کے لیے جمع ہوتے ہیں جس کے لیے جمع کیا گیا تو اس وقت تک نہیں جب تک آپ سے اجازت نہ لیں، بلاشبہ جو لوگ آپ سے اجازت لیتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں سو جب وہ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو ان میں سے آپ جسے چاہیں اجازت دیدیں اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجئے بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم اپنے درمیان رسو اللہ کے بلانے کو ایسا مت سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک اللہ ان کو جانتا ہے جو تم میں سے آڑ میں ہو کر کھسک جاتے ہیں سو جو لوگ رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی مصیبت آپڑے یا انہیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے

1۔ ابن اسحاق وابن المنذر والبیہقی نے الدلائل میں عروہ اور محمد بن کعب قرظی رحمہم اللہ دونوں حضرات سے روایت کیا کہ جب غزوہ احزاب کے دن قریش بیر روحہ کے پاس مدینہ منوہ کے قریب مجمع الاسیال (کے مقام) پر اترے ان کا قائد ابو سفیان تھا اور غطفان والے آئے یہاں تک کہ احد کی جانب کی طرف تغمین کے مقام پر اترے رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی تو آپ نے مدینہ منورہ کے اردگرد خندق کھودنا شروع کیا آپ نے اس میں خود بھی کام کیا اور مسلمانوں نے بھی اس میں کام کیا اور منافقین نے دیر لگائی اور چھوٹے چھوٹے کاموں کی وجہ سے چھپنے لگے اور اپنے اہل و عیال کی طرف چپکے سے کسک جاتے تھے رسول اللہ ﷺ کو بتائے بغیر اور اجازت لیے بغیر اور مسلمانوں میں سے جب کسی آدمی کو ضروری حاجت پیش آتی تھی تو وہ اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کرتا اور اپنی اس حاجت کے لیے ان سے اجازت لے لیتا آپ اس کو اجازت مرحمت فرمادیتے جب وہ حاجت پوری کرلیتا تو واپس لوٹ آتا اللہ تعالیٰ نے ان ایمان والوں کے بارے میں نازل فرمایا آیت ” انما المومنون الذین اٰمنوا باللہ ورسولہ واذا کانوا معنہ علی امر جامع “ سے لے کر آیت ان اللہ غفور رحیم تک۔ 2۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت واذا کانوا معہ علی امر جامع لم یذھبوا حتی یستاذنوہ، کے بارے میں روایت کیا کہ یہ اجازت جنگ میں اور جمع کے موقع پر طلب کرتے تھے اور امام جمعہ کے ان ان کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اجازت دے دیتا۔ 3۔ الفریابی نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا کانوا معہ علی امر جامع سے مراد ہے جب آپ ان کو کسی کام کے لیے جمع فرماتے جنگ کے لیے یا کسی دوسرے کام کے لیے تو وہ لوگ آپ کی اجازت کے بغیر نہیں جاتے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حکم جہاد جمعہ اور عیدین کے بارے میں ہے۔ 5۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علی امر جامع سے مراد ہے اللہ کی اطاعت۔ 6۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ لوگ جمعہ میں اجازت مانگتے تھے اور اسی طرح تین انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے جب یہ کام زیادہ ہوا اور اجازت مانگنے والوں کی کثرت ہوگئی تو آپ کو پریشانی ہوئی اور فرمایا جس نے اپنے کان کو پکڑلیا تو یہی اس کی اجازت ہوگی۔ 7۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مکحول (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا آج بھی جمعہ اور جنگ کے موقع پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ 8۔ سعید بن منصور نے اسماعیل بن عیاش (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عمرو بن قیس سکونی کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ان کی طرف ابوالمدالہ الیحصی اپنے پیٹ میں تکلیف کی وجہ سے اٹھا تو عمر وبن قیس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا یعنی چلے جاؤ میں عمرو اور ابا المدالہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے اصحاب اسی طرح کیا کرتے تھے۔ 9۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم فی الدلائل ابن عباس ؓ سے آیت ” لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ کہتے تھے یا محمد یا ابو القاسم ! تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے منع فرمایا اپنے نبی ﷺ کی تعظیم کی وجہ سے تو پھر صحابہ کرام یوں کہتے یا نبی اللہ ! یا رسول اللہ ! 10۔ ابو نعیم فی الدلائل ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت التجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا۔ کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اس طرح نہ بلاؤ جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو تو اس کے بھائی کا نام لیتے ہو بلکہ تم رسول اللہ ﷺ کی تعظیم تسلیم کرو اور ان کو یوں پکارا کرو۔ یا رسول اللہ ! یا نبی اللہ ! 11۔ عبدالغنی بن سعید فی تفسیرہ اور ابو نعیم نے اپنی تفسیر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا “ سے مراد ہے کہ دور سے چیختے ہوئے آپ کو یوں نہ بلاؤ یا ابا القاسم (الحجرات آیت 3) یعنی جو لوگ پست رکھتے ہیں اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس۔ 12۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) نے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حکم فرمایا کہ وہ اس طرح ان کو پکاراکریں یا رسول اللہ اس میں نرمی اور تواضع کی حالت ہو اور سکتی سے یوں نہ کہو یا محمد۔ 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وہ اس کے نبی کی تکلیف کا خیال رکھیں اور ان کا احترام کریں۔ ان کی عظمت وشان کا خیال رکھیں ان کے بلند رتبے کو پہچانیں۔ 14۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یا محمد ! مت کہو لیکن تم کہویا رسول اللہ۔ 15۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے عبد بن حمید نے سعید بن جبیر اور حسن (رح) سے اس طرح روایت کیا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا تجعلو دعاء الرسول بینکم سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بلانا تم پر واجب ہے اس معاملہ میں ڈرتے رہو۔ 16۔ سعید بن منصور نے شعبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو یوں نہ بلاؤ جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ 17۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا “ سے منافقین مراد ہیں ان پر جمعہ کا خطبہ گراں ہوتا تھا وہ بعض صحابہ کی اوٹ میں بیٹھتے تھے یہاں تک کہ مسجد سے باہر نکل جاتے تھے اور کسی آدمی کے یہ لائق نہیں تاکہ وہ مسجد سے نکل جائے مگر نبی ﷺ کی اجازت سے جمع کے دن میں آپ خطبہ ارشاد فرما رہے ہوتے تھ اور جب ان میں سے کوئی نکلنے کا ارادہ کرتا تھا اپنی انگلیوں سے نبی ﷺ کی طرف اشارہ کرتا تھا تو آپ ﷺ اس کو اجازت دے دیتے جبکہ ان میں سے کوئی بات نہ کرتا کیونکہ صحابہ میں سے جب کوئی نبی ﷺ کے خطبہ کے درمیان بات کرتا تو اس کا جمعہ باطل ہوجاتا تھا۔ صحابہ نبی کریم ﷺ کا بہت ادب کرتے تھے 18۔ ابو داوٗد فی مراسیلہ مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ کوئی نکسیر کی وجہ سے بھی باہر نہیں نکلتا تھا یا کسی حدث پیش آنے کی وجہ سے یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کرتا تھا اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے جو انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی تھی یعنی شہادت کی انگلی سے۔ نبی ﷺ اس کو اجازت مرحمت فرمادیتے تھے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے جبکہ منافقین کے لیے خطبہ اور مسجد میں بیٹھنا بہت بھاری ہوتا اور جب کوئی آدمی مسلمانوں میں سے اجازت لیتا تو منافق اس کے پہلو کی طرف کھڑا ہوجاتا یہاں تک کہ اس کی آڑ لے کر باہر نکل جاتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا 19۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا، سے مراد ہے کہ وہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ اور اس کی کتاب اور اس کے ذکر سے کھسک جاتے تھے۔ 20۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لواذا “ سے مراد ہے پیچھے ہٹ جانا “ 21۔ عبد بن حمید نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا، یعنی وہ لڑائی کے درمیان صف میں سے چپکے نکل جاتے تھے آیت فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ یعنی ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے حسن بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ میں ڈرتا ہوں اس شخص پر جو موزوں پر مسح کو چھوڑدیتا ہے کہ وہ کہیں آیت میں داخل نہ ہوجائے۔ آیت فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم۔ 23۔ عبدالرزاق نے المصنف میں یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کو منع فرمایا کہ وہ خیبر کے اطراف میں جنگ کریں لوگ خیبر والوں سے ہٹ گئے اور ایک آدمی باقی رہ گیا وہ ان سے لڑا انہوں نے اس کو تیر مارا اور اس کو قتل کردیا اس کی لاش کو نبی ﷺ کے پاس لایا گیا آپ نے فرمایا کیا اس کے بعد کہ ہم نے لڑنے سے منع کیا تھ عرض کیا ہاں نع فرمایا تھ آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور اس پر نماز نہیں پڑھی۔ 24۔ عبدالرزاق نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سخت بات جو ہم نے نبی ﷺ سے سنی جو آپ نے سعد بن معاذ کی قبر کے معاملے میں فرمائی تھی جب غزوہ تبوک ہوا تو آپ نے فرمایا ہمارے ساتھی کوئی نہ نکلے مگر طاقت ور آدمی ایک آدمی اپنے جوان اڑیل اونٹ پر نکلا اس اونٹ نے اس کو نیچے گرادیا اور وہ مرگیا لوگوں نے کہا یہ شہید ہے یہ شہید ہے نبی ﷺ نے بلال کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کردے کہ جنت میں داخل نہ ہوگا مگر مومن آدمی اور جنت میں نافرمان داخل نہ ہوگا۔ جنت میں نافرمان داخل نہ ہوگا۔ 25۔ عبدالرزاق نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا اور آپ دشمن کے سامنے تھے کہ تم میں سے کوئی قتال نہ کرے صھابہ میں سے ایک آدمی نے لڑنے کا ارادہ کیا دشمن کی مطرف پھینکا اور ان سے قتال کیا۔ دشمن نے اس کو قتل کردیا نبی ﷺ سے کہا گیا کہ فلاں اللہ کی راہ میں شہید ہوگی آپ نے فرمایا کیا اس کے بعد میں قتال سے منع کیا تھا صحابہ نے عرض کیا ہاں ! پھر آپ نے فرمایا جنت میں نافرمان داخل نہ ہوگا۔ 26۔ ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یستاذنونک اولئک الذین یومنون باللہ، یعنی جب جنگ ہوتی تھی تو آپ سے صرف منافق ہی اجازت مانگتے تھے حالانکہ کسی کے لیے یہ حلال نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے واپس جانے کی اجازت مانگے یا پیچھے رہ جائے جب آپ ﷺ جنگ کا ارادہ فرماتے اور کوئی لشکر نہیں جاتا تھا مگر آپ کی اجازت سے اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس کی اجازت دینے کا حکم نہیں فرمایا یہاں تک کہ یہ آیت انما المومنون الذین اٰمنوا باللہ ورسولہ واذا کانو معہ علی امر، جامع نازل ہوئی یہاں امر جامع سے مراد اطاعت کا حکم ہے۔ آیت لم یذھبوا حتی یستاذنوہ، یعنی وہ نہیں جاتے جب تک اجازت نہ لیں۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اجازت کا اختیار دے دیا کہ آپ اجازت دیں گے جس کو چاہیں گے اور جب رسول اللہ ﷺ کسی کام کا ارادہ فرماتے تو آپ صحابہ کو حکم فرماتے اور ان کو منع فرماتے صحابہ کرام اپنی مجالس میں اس پر صبر کرتے رسول اللہ ﷺ ان کے لیے جو وحی بیان فرماتے یا ان کی پسندیدہ یا ناپسندیدہ چیز کا فرماتے صحابہ کرام اسے پسند کرتے تھے اور وہ منافق ناپسند کرتے تھے۔ اور جب کوئی ایسی چیز ہوتی ان چیزوں میں سے جو منافق ناپسند کرتے تھے تو کسی آدمی کی آڑ لے کر کھسک جاتے تھے تاکہ نبی ﷺ نہ دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ دیکھتے ہیں ان لوگوں کو جو تم میں سے کسی کی آڑ لے کر کھسک جاتے ہیں۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبردار بلاشبہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے بلاشبہ وہ جانتا ہے کہ تم کس حال پر ہو، اور جس دن وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے وہ اس دن کو بھی جانتا ہے پھر وہ انہیں بتلا دے گا جو عمل انہوں نے کیے اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

1۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قد یعلم ما انتم علیہ الایۃ سے مراد ہے کہ کبھی کوئی قوم کسی کام پر یا کسی حال پر نہیں ہوتی مگر وہ اللہ کی نظر میں ہوتی ہے اور اس پر ایک گواہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ 2۔ ابو عبید فی فضائلہ والطبرانی بسند حسن بن عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے دیکھا یعنی سورة نور کی آخری آیت اور آپ ﷺ کی انگلیاں مبارک اپنی آنکھوں کے نیچے رکھتے ہوئے فرما رہے تھے آیت ” واللہ بکل شیء علیم “ اور اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ (واللہ اعلم) الحمدللہ سورة النور ختم ہوئی