24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق ہے اس میں ایک چراغ ہے وہ چراغ ایک شیشہ کے قندیل میں ہے وہ قندیل ایسا ہے جیسے ایک چمکدار ستارہ ہو وہ چراغ بابرکت درخت سے روشن کیا جاتا ہو جو زیتون ہے ی درخت نہ مشرق کی طرف ہے اور نہ مغرب کی طرف، قریب ہے کہ اس کا تیل خود بخود روشن ہوجائے اگرچہ اس کو آگ نہ چھوئے نور علی نور ہے اللہ جسے چاہتا ہے اپنے نور کی ہدایت دیتا ہے اور لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرمایا تا ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

1۔ البخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ والبیہقی فی السماء والصفات ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد میں نماز پڑھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے۔ اللہم لک الحمد انت رب السموٰت والارض ومن فیہن ولک الحمد انت نور اسلموت والارض ومن فیہن ولک الحمد انت قیام السموت والرض ومن فیہن وانت الحق وقولک حق ووعدک حق ولقائک حق الجنۃ حق والنار حق والساعۃ حق اللہم لک اسلمت ربک امنت وعلیک تو لکت والیک انبت ربک خاصمت والیک حاکمت فاغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت انت الہی لا الہ الا انت۔ ترجمہ : اے اللہ تیرے لیے ہی بت تعریفیں ہیں تو ہی رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اور تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو نور ہے آسمانوں کا اور ازمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اور تیرے لیے ہی سب تعریف ہے تو ہی قائم کرنے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے اور تو حق ہے اور تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ حق ہے اور تیری ملاقات حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے اے اللہ میں نے تیری بارگاہ میں اپنے آپ کو جھکا دیا اور تجھ پر ایمان لایا ہوں اور تجھ پر میں نے بھروسہ کیا اور میں نے تیری طرف رجوع کیا اور تیری قوت سے میں نے دشمنوں سے جھگڑا کیا ہے اور تجھ ہی کو میں حکم بنایا ہے سو تو بخش دے جو میرے اگلے پچھلے گناہ ہیں اور جو گناہ میں نے چھپاکر کیے اور جو اعلانیہ گناہ کیے تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ 2۔ ابو داوٗد والنسائی والبیہقی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو صبح کی نماز کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے دیکھا۔ اللہم ربنا ورب کل شیء انا شہید بانک انت الرب وحدک لا شریک لکم اللہم ربنا ورب کل شیء انا شہد ان محمد عبدک ورسولک اللہم ربنا ورب کل شیء انا شہید ان العباد کلہم اخوۃ شیء انا شہید ان محمد عبدک ورسولک اللہم ربنا ورب کل شیء انا شہید ان العباد کلہم اخوۃ اللہم ربنا ورب کل شیء اجعلنی مخلصا لک واہل کل ساعۃ فی الدنیا والاٰخرۃ ذالجلال والاکرام اسمع واستجب اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ نور السموت والارض اللہ اکبر اللہ اکبر حسبی اللہ ونعم الوکیل اللہ اکبر اللہ اکبر ترجمہ : اے اللہ ہمارے رب اور ہر چیز کے رب میں گواہی دینے والا ہوں کہ بیشک آپ رب ہیں آپ اکیلے ہیں آپ کا کوئی شریک نہیں اے اللہ ہمارے رب اور ہر چیز کے رب میں گواہی دینے والا ہوں کہ محمد ﷺ آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں اے اللہ اے ہمارے رب ہر چیز کے رب میں گواہی دینے والا ہوں کہ بندے سب کے سب بھائی ہیں اے اللہ ہمارے رب ہر چیز کے رب مجھے بنادے مخلص اپنے لیے اور میرے اہل و عیال کو بھی ہر گھڑی میں دنیا میں اور آخرت میں جلال اور بزرگی والے تو سن لے اور قبول فرمالے اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ نور ہے آسمان کا اور زمین کا اللہ سب سے بڑے ہیں اللہ سب سے بڑے ہیں۔ میرے لیے اللہ کافی ہیں اور بہترین کارساز ہے اللہ سب سے بڑے ہیں۔ 3۔ الطبرانی نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے۔ اللہم انی اسئلک بنور وجہک الذی اشرقت لہ السموت وارض ان تجعلنی فی حرزک وحفظک وجوارک وتحت کنفک ترجمہ : اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے ذات کے نور کے واسطے جس سے روشن ہیں آسمان اور زمین اور سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنی پناہ میں اور اپنی حفاظت میں اور اپنے جوار میں اور اپنے احاطہ میں لے لے۔ 4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے ” اللہ نور السموت والارض “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں اس کے ستاروں سورج اور چاند میں تدبیر فرماتا ہے۔ 5۔ الفریابی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اللہ نور السموت والارض مثل نورہ “ اس سے مراد وہ نور ہے جو اس نے مومن کو عطا فرمایا ” کمشکاۃ “ یعنی طاق کی طرح ” فیہا مصباح، المصباح فی زجاجۃ، الزجاجۃ کانہا کوکب دری یوقد من شجرۃ مبارکۃ زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی پہاڑ کے دامن میں ہے اس کو سورج نہیں پہنچتا جب طلوع ہوتا ہے اور نہ جب غروب ہوتا ہے۔ آیت ” یکاد زیتہا یضیء ولولم تمسسہ نار، نور علی نور “ یہ مثال مومن کے دل کی ہے جو گویا نور ہے نور پر آیت ” والذین کفروا اعمالہم کسراب بقیعۃ “ یعنی کافروں کے اعمال جب وہ آئیں گے اور اس کو سراب کی طرح دیکھیں گے جب پانی کا ضرورت مند سراب کی طرف آتا ہے تو پانی نہیں پاتا۔ یہ کافر کے عمل کی مثال ہے وہ خیال کرے گا کہ اس کے لیے ثواب ہے حالانکہ اس کے لیے ثواب نہ ہوگا آیت ” او کظلمت فی بحر “ سے لے کر آیت ” لم یکد یراہا “ تک یہ کافر کے عمل کی مثال ہے اس کی تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔ 6۔ عبد بن حمید وابن الانباری نے والمصاحف بن شعبی (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کی قراءت میں یوں ہے آیت ” مثل نورہ کمشکوۃ “ 7۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے آیت ” اللہ نور السموت والارض “ کے بارے میں فرمایا اس نور کی مثال جو اللہ کے ساتھ ایمان لایا مشکاۃ کی طرح ہے اور یہ نقرہ یعنی طاق ہے۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے آیت ” مثل نورہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کاتب کی غلطی ہے اللہ کی ذات بہت بڑی ہے۔ اس سے کہ اس کا نور مشکاۃ کے نور کی طرح ہو پھر فرمایا مومن کے نور کی مثال مشکاۃ یعنی طاق جیسی ہے۔ 9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی فی الاسماء والصفات علی کے طریق سے ابن عباس ؓ کی آیت ” اللہ نور السموت والارض “ یعنی اللہ تعالیٰ ہدایت کرنے والے آسمانوں اور زمین والوں کو آیت ” مثل نورہ کمشکوۃ “ چراغ کی بتی کی طرح اور فرماتے ہیں جیسے قریب ہے کہ صاف تیل روشن ہوجاتا ہے آگ کے چھونے سے پہلے جب اس کو آگ لگ جائے تو زیادہ کردے روشنی کو اس کی روشنی پر اسی طرح مومن کا دل ہوتا ہے جو ہدایت کے ساتھ عمل کرتا ہے اس کے پاس علم آنے سے پہلے جب اس کے پاس علم آگیا تو زیادہ ہوجاتی ہے ہدایت پر ہدایت اور روشنی پر روشنی۔ 10۔ ابوعبید وابن جریر وابن المنذر نے ابو العالیہ وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم (وصححہ) ابی بن کعب کی قراءت میں ہے کہ مثل نور ” من آمن بہ یا کہا مثل من آمن بہ “ میں ہے۔ 11۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ ابی بن کعب ؓ نے فرمایا کہ آیت ” اللہ نور السموت والارض، مثل نورہ “ یہ مثال مومن کی ہے جس نے ایمان اور قرآن کو اپنے سینے میں رکھا اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ” اللہ نور السموت والارض “ انی ذات کے نور کے ساتھ شروع فرمایا پھر مومن کے نور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اس نور کی مثال جو اس کے ساتھ ایمان لایا اور ابی بن کعب اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے آیت ” مثل نورہ “ یعنی وہ مومن جس نے ایمان اور قرآن کو سینے میں کردیا آیت ” کمشکوۃ “ یعنی مومن کا سینہ طاق کی طرح ” فیہا مصباح “ اور مصباح سے مراد ہے نور اور وہ قرآن اور ایمان ہے جس کو اس کے سینے نے محفوظ کرلیا آیت ” فی زجاجۃ “ اور زجاجہ اس کا دل آیت ” کانہا کوکب دری “ اور اس کا دل ان چیزوں میں سے ہے کہ جس میں قرآن اور ایمان روشن ہے۔ گویا کہ وہ ستارہ ہے چمکتا ہوا آیت ” یوقد من شجرۃ مبرکۃ “ اور شجرہ مبارکہ کی اصل اخلاص اللہ وحدہ لاشریک لہ کے لیے ہے اور اس کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ آیت ” زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی اس کی مثال اس درخت کی طرح ہے جس کو درختوں نے گھیر رکھا ہو۔ اور یہ ہرا بھرا نرم ہوتا ہے جس کو کسی حال میں بھی سورج نہیں پہنچتا نہ اس وقت جب طلوع ہوتا ہے اور نہ اس وقت جب غروب ہوتا ہے۔ یہی حالت مومن کی ہے اسے فتنوں سے بھی سورج نہیں پہنچتا نہ اس وقت جب طلوع ہوتا ہے اور نہ اس وقت جب غروب ہوتا ہے۔ یہی حالت مومن کی ہے اسے فتنوں سے محفوظ بنا دیا گیا اور اگر اسے آزمائش میں مبتلا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ثابت قدم رکھا اور اس میں چار خصلتیں ہوتی ہیں اگر گفتگو کرے تو سچ بولے اگر فیصلہ کرے تو انصاف کرے اگر دیا جائے تو شکر کرے اور کسی آزمائش میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور وہ سارے لوگوں میں ایک زندہ آدمی کی طرح ہے۔ جو مردوں کی قبروں میں چل رہا ہوتا ہے۔ آیت نور علی نور۔ اور وہ پانچ انوار میں گھومتا پھرتا ہے۔ اس کا کلام نور ہے۔ اس کا عمل نور ہے اور اس کے داخل ہونے کی جگہ نور ہے اور اسکے نکلنے کی جگہ نور ہے اور اس کے لوٹنے کی جگہ نور ہے وہ قیامت کے دن جنت کی طرف جائے گا پھر کافر کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت، والذین کفروا اعمالہم کسراب، اسی طرح کافر قیامت کے دن آئے گا اور وہ گمان کرے گا کہ اللہ کے نزدیک اس کے لیے خیر ہوگی مگر وہ اس کو نہیں پائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کافر کی ایک اور مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا آیت ” اوکظلمت فی بحر لجی “ اور وہ پانچ تاریکیوں میں گھومتا پھرتا ہے۔ اس کا کلام تاریکی ہے اس کا عمل تاریکی ہے اور اس کے نکلنے کی جگہ تاریکی ہے اور اس کے داخل ہونے کی جگہ تاریکی ہے۔ اور اس کا ٹھکانہ قیامت کے دن تاریکیوں یعنی جہنم کی طرف ہوگا وہ اسی طرح زندوں میں سے مردہ دل لوگوں میں چلتا رہتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے لیے کیا ہے اور اس پر کیا ہے (یعنی اس کے حق میں کیا ہے اور اس کے خلاف کیا ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال 12۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں نے محمد ﷺ سے کہا اللہ کا نور کیسے نیچے آتا ہے آسمانوں سے اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی اپنے نور کی اور فرمایا آیت ” اللہ نور السموت والارض، مثل نورہ کمشکوۃ “ اور مشکوۃ سے مراد ہے گھر کا طاقچہ ” فیہا مصباح “ اس میں چراغ ہے جو شیشے میں ہو اور وہ مثال ہے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی اپنی اطاعت کے لیے اور اپنی اطاعت سے نور مراد ہے پھر اس کی کئی قسمیں بیان کیں آیت ” ال شرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی یہ درخت کا درمیانی حصہ ہے اس کو سورج نہیں پہنچتا جب وہ طلوع ہوتا ہے اور نہیں پہنچتا ہے جب وہ غروب ہوتا ہے اور یہی تیل کا باعث ہے آیت “ یکاد زیتہا یضیء “ (یعنی قریب ہے اس کا تیل روشن ہوجائے) بغیر آگ کے آیت ” نور علی نور “ اس سے مراد بندہ ایمان اور اس کا عمل ہے آیت ” یہدی اللہ لنورہ من یشاء “ سے مثال ہے مومن کی۔ 13۔ الطبرانی وابن عدی وابن مردویہ وابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ فیہا مصباح “ میں المشکاۃ سے مراد محمد ﷺ کا پیٹ اور زجاجہ سے مراد ہے ان کا دل ” مصباح “ سے وہ نور مراد ہے جو ان کے دل میں ہے آیت ” یوقد من شجرۃ مبرکۃ “ میں الشجرۃ سے مراد ہے ابراہیم (علیہ السلام) ” زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی نہ یہودیت اور نہ نصرانیت پھر یہ آیت تلاوت کی آیت “ ماکان ابراہیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما، وما کان من المشرکین “ (آل عمران آیت 67) 14۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس کعب احبار کے پاس آئے اور کہا مجھ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں بیان کیجئے آیت ” اللہ نور اسلموت والارض، مثل نورہ “ تو انہوں نے فرمایا کہ محمد ﷺ کے نور کی مثال طاقچہ کی طرح ہے اور طاقچہ سے مراد ہے روشندان اور اس سے حضور ﷺ کے منہ کی مثال بیان فرمائی آیت ” فیہا مصباح “ اور مصباح سے مراد ہے حضور ﷺ کا دل ہے آیت ” فی زجاجۃ “ اور شیشہ آپ کا سینہ ہے آیت ” کانہا کوکب دری، محمد ﷺ کے سینے کو چمکتے ہوئے ستارے کے ساتھ تشبیہ دی پھر مصباح کو ان کے دل کی طرف لوٹایا اور فرمایا ” آیت یوقد من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ۔ کہ وہ زیتون کی مبارک درخت سے جلایا جاتا ہے قریب ہے اس کا تیل خود ہی جل اٹھے فرمایا قریب ہے محمد ﷺ خود لوگوں کے لیے ظاہر ہوجائیں اگرچہ خود بات نہ کریں کہ وہ نبی ہیں جیسے قریب ہے وہ تیل خود ہی روشن ہوجائے اگرچہ اس کو آگ نہ لگے۔ 15۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اللہ نور السموت والارض۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہدایت کرنے والا ہے۔ آسمانوں اور زمین والوں کو آیت مثل نورہ، یعنی اے محمد ﷺ آپ کے دل میں اس کے نور کی مثال اس چراغ کی طرح ہے جو اس طاقچہ میں ہے جس طرح یہ چراغ اس طاقچے میں ہے اسی طرح تیری دانش تیرے دل میں ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کے دل کو چمکتے ہوئے ستارے کے ساتھ تشبیہ دی جو نہیں چھپتا۔ آیت ” یوقد من شجرۃ مبرکۃ زیتونۃ “ یعنی آپ لیتے ہیں اپنے دین کو ابراہیم (علیہ السلام) سے اور یہ وہی زیتون ہے۔ آیت ” لا شرقیۃ ولا غربیۃ “ وہ نصرانی نہیں ہے کہ وہ مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے اور نہ یہودی کہ مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔ آیت یکاد زیتہا یضیء۔ وہ کہتا ہے کہ قریب ہے محمد ﷺ نور کی وحی سے پہلے حکمت کی باتیں کرنے لگیں اس نور کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈال دیا ہے۔ 16۔ ابنجریر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت مثل نورہ سے مراد ہے محمد ﷺ آیت یکاد زیتہا یضیء۔ یعنی قریب ہے کہ جو شخص محمد ﷺ کو دیکھے گا تو وہ جان لے گا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اگرچہ وہ زبان سے بات نہ بھی کریں۔ 17۔ عبد بن حمید نے عکرمہ رحا 8 ۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ” اللہ نور السموت ولارض، مثل نورہ “ سے مراد ہے مومن کے نور کی مثال ہے۔ 18۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت مثل نورہ سے مراد ہے دل میں اس قرآن کی مثال آیت ” کمشکوۃ “ جیسے طاقچہ۔ 19۔ ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میرے معبود فرماتے ہیں کہ میرا نور میری ہدایت ہے۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ آیت کمشکوۃ سے چراغ میں بتی رکھنے کی جگہ مراد ہے۔ 21۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ سے مراد ہے طاقچہ۔ 22۔ عبد بن حمید وابن جریر ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ سے مراد ہے طاقچہ۔ 23۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ حبشہ کی زبان میں روشندان کو کہتے ہیں۔ 25۔ ابن ابی شیبہ نے سعید بن عیاض (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ سے مراد ہے جیسے روشندان حبشہ کی زبان میں۔ 26۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ سے مراد ہے ایسا طاقچہ جو آرپار نہ ہو۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ سے مراد ہے ایسا طاقچہ جو آر پار نہ ہو آیت ” المصباح “ سے مراد ہے چراغ۔ 28۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ مثل نورہ “ یعنی اللہ کے نور کی مثال مومن کے دل میں آیت ” کمشکوۃ “ جیسے طاقچہ، آیت ” کانہا کوکب دری “ یعنی ستارہ چمکتا ہوا روشن آیت ” زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ۔ اس پر پورا نہیں ہوتا مشرق کا سایہ اور نہ مغرب کا سایہ ہم بیان کرتے تھے کہ سورج کے سامنے اس کا تیل بہت صاف ہے بہت پاکیزہ ہے اور بہت میٹھا ہے یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرٓن مجید کیلیے بیان فرمائی یعنی تمہارے پاس آچکا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور اور ہدایت مومن اللہ کی کتاب کو سنتا ہے اس کو یاد کرتا ہے اس کی حفاظت کرتا ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے نفع اٹھاتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اور یہ مومن کی مثال ہے۔ 29۔ عبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کمشکوۃ “ سے مراد ہے قندیل کے درمیان میں پتیل آیت ” فیہا مصباح “ یعنی چراغ آیت ” فی زجاجۃ “ یعنی قندیل آیت ” لاشرقیۃ ولا غربیۃ “ یعنی سورج کے طلوع ہونے کے وقت سے لے کر غروب ہونے تک اس کے لیے کوئی سایہ نہیں ہوتا اور اس درخت کا تیل بہت روشن بہت اچھا اور بہت نور والا ہوتا ہے آیت نور علی نور، یعنی وہ آگ تیل (گویا وہ روشنی پر روشنی کا کام دیتی ہے۔ 30۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت کانہا کوکب دری سے مراد ہے زہرہ ستارہ اللہ تعالیٰ نے مومن کی مثال اس نور کی مثال سے دی ہے کہ اس کا دل اور اس کا پیٹ نور ہے اور نور میں چلتا ہے۔ 31۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کوکب دری سے مراد ہے بڑا ستارہ۔ 32۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت زیتونۃ لا شرقیۃ ولا غربیۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا دل جو نہ یہودی تھا نہ نصرانی تھا۔ 33۔ الفریابی وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا شرقیۃ ولا غربیۃ سے مراد ہے ایسا درخت جس کو نہ کوئی غار اور نہ کوئی پہاڑ اور نہ کوئی چیز چھپاتی ہے اور وہ اپنے تیل کی وجہ سے بہت عمدہ ہے۔ 34۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ضحاک اور محمد بن سیرین رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 35۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا شرقیۃ ولا غربیۃ سے مراد ہے کہ وہ ایسا شرقی نہیں کہ جس میں غرب نہ ہو اور ایسا غربی نہیں کہ جس میں شرقی نہ ہو لیکن شرقی بھی ہے اور غربی بھی ہے۔ 36۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا شرقیۃ ولا غربیۃ یعنی یہ درخت کے درمیان میں ہے اس کو سورج نہیں پہنچتا ہے شرق میں اور مغرب میں کیونکہ درخت اس کے سامنے ہوتے ہیں۔ 37۔ عبد بن حمید نے ابو مالک اور محمد بن کعب سے اس طرح روایت کیا ہے۔ 38۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے اگر یہ درخت زمین میں ہوتا تو وہ لازما شرقی یا غربی ہوتا لیکن یہ مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کے لیے بیان فرمایا۔ 39۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوقد من شجرۃ مبرکۃ یعنی نیک آدمی آیت لا شرقیۃ ولا غربیۃ یعنی نہ یہودی اور نہ نصرانی۔ 40۔ عبد بن حمید نے اپنی سند میں والترمذی وابن ماجہ نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس تیل کو سالن بناؤ اور بطور تیل کے اس کو جسم پر لگاؤ کیونکہ وہ نکلتا ہے مبارک درخت سے۔ 41۔ الحاکم وصححہ والبیہقی فی الشعب ابو اسید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیل لگاؤ اور اس کو لگاؤ کیونکہ وہ مبارک درخت میں سے ہے۔ زیتون کا تیل مبارک تیل ہے 42۔ البیہقی فی الشعب حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کے پاس تیل کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حکم فرماتے تھے کہ اس کو کھایا جائے اور تیل لگایا جائے اور کان میں ڈالا جائے اور فرماتے تھے کہ یہ مبارک درخت میں سے ہے۔ 43۔ الطبرانی نے شریک بن سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں ایک رات عمر بن خطاب ؓ کا مہمان بنا انہوں نے مجھے اونٹ کے ٹھنڈے سر میں سے کچھ ٹکڑے کھلائے اور ہم کو تیل بھی کھلایا اور فرمایا یہ مبارک تیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو عطا فرمایا۔ 44۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یکاد زیتہا یضیء “ یعنی نور کی شدت کی وجہ سے قریب ہے کہ وہ جل اٹھے 45۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید سے روایت کیا کہ نور سے مراد تیل کا چمکنا ہے۔ 46۔ ابن ابی حاتم نے سدی ؓ سے روایت کیا کہ آیت نور علی نور یعنی آگ کا نور اور تیل کا نور جب دونوں جمع ہوگئے تو دونوں روشن ہوگئے اور اسی طرح قرآن اور ایمان کا نور۔ 47۔ ابن المردویہ نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ آیت نور علی نور سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نور محمد ﷺ کے نور پر واقع ہوا۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کا ادب کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام لیا جائے ایسے لوگ صبح شام اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع سے مراد یہ مسجدیں ہیں جن کا اکرام کیا جاتا ہے اور ان میں لغو باتوں سے روکا جاتا ہے آیت ” ویذکر فیہا اسمہ “ یعنی ان مسجدوں میں اس کی کتاب تلاوت کی جاتی ہے آیت ” یسبح “ یعنی ان میں اللہ کے لیے نماز پڑھی جاتی ہے۔ آیت ” بالغدو “ یعنی صبح کی نماز۔ آیت ” والاٰصال “ یعنی عصر کی نماز سب سے پہلی نمازیں فرض کی گئیں اور اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ ان دونوں کا ذکر کرے۔ اور اپنے بندوں میں ان کو یاد دلائے۔ 2۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے گا نظر سب تک پہنچے گی دعوت دینے والا سب کو اپنی آواز سنا سکے گا اور آواز دینے والا آواز دے گا عنقریب جمع ہونے والے جان لیں گے آج کس کے لیے عزت ہے تین مرتبہ سے سنائے گا پھر وہ کہے گا کہاں ہیں وہ لوگ جن کی کروٹیں ان کی خواب گاہوں سے جدا رہتی تھیں پھر وہ کہے گا کہاں ہے وہ لوگ جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی پھر وہ کہے گا حمد بیان کرنے والے کہاں ہیں جو لوگ اپنے رب کی حمد کرتے تھے۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع “ سے مراد مساجد ہیں اللہ تعالیٰ نے حکیم فرمایا ان کو عمیر کرنے کا اور ان کو بلند کرنے کا اور حکم فرمایا ان کے آباد کرنے اور ان کو پاک رکھنے کا۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع “ یہ حکم مسجدوں کے بارے میں ہے کہ ان کو بنایا جاتا ہے۔ 5۔ عبدالرزاق وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع یعنی اللہ کی عظمت بیان کی جائے اس کے ذکر کے ساتھ آیت یسبح یعنی اس کے لیے اس میں نماز پڑھی جائے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ کے گھر ہیں۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع کے بارے میں روایت کیا کہ یہ چار مسجدیں ہیں ان کو انبیاء نے بنایا کعبہ شریف کہ اس کو ابراہیم اور اسماعیل (علیہ السلام) نے بنایا بیت المقدس کہ اس کو داوٗد اور سلیمان (علیہما السلام) نے بنای اور مسجد نبوی کہ اس کو رسول اللہ ﷺ نے بنایا اور مسجد قبا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی اس کو بھی رسول اللہ ﷺ نے بنایا۔ 8۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک اور بریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع پڑھی ان کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ یہ کون سے گھر ہیں آپ نے فرمایا انبیاء کے گھر۔ آپ کی طرف ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ یہ گھر بھی ان میں سے ہے۔ یعنی علی اور فاطمہ ؓ کے گھر کی طرف اشارہ کیا آپ نے فرمایا ہاں یہ ان میں سے افضل ترین گھر ہیں۔ مسجد خالص عبادت کی جگہ ہے 9۔ ابن ابی شیبہ ومسلم والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ نے ابن بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ مسجد میں سرخ اونٹ کے گم ہوجانے کی آواز لگا رہا تھا آپ نے فرمایا تو اس کو نہ پائے تین مرتبہ فرمایا اور آپ نے فرمایا کہ یہ مسجدیں بنائی گئی ہیں اس مقصد کے لیے کہ جس مقصد کے لیے یہ بنائی گئی ہیں اور ابو سنان الشیبانی نے فرمایا کہ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع سے مراد ہے کہ ان کی تعظیم کی جائے۔ 10۔ احمد وابوداوٗد والترمذی وابن ماجہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے گھروں میں مساجد بنانے کا حکم فرمایا اور یہ حکم دیا کہ ان کو صاف رکھا جائے اور پاک رکھا جائے۔ 11۔ احمد نے عروہ بن زبیر (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اس سے جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ سے روایت کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو حکم فرماتے تھے کہ ہم گھروں میں مساجد بنائیں اور ہم اس کی تعمیر کو درست کریں اور ان کو پاک رکھیں۔ 12۔ ابن ابی شیبہ وابو یعلی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ ہر جمعہ کو مسجد میں دھونی لگایا کرتے تھے۔ 13۔ ابن ابی شیبہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو چھپا دے یعنی اس پر مٹی ڈال دے۔ 14۔ ابن ابی شیبہ واحمد والطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد میں رھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کردینا نیکی ہے۔ 15۔ الطبرانی نے الاوسط میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کردینا ہے۔ 16۔ البزار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کا دفن کردینا ہے۔ 17۔ البزار نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبلہ کی جانب ناک کی رینٹ قیامت کے دن اٹھائی جائے گی یعنی جو قبلہ کی طرف پھینکی گئی تھی اور وہ اس پھینکنے والے کے چہرے میں ہوگی۔ 18۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص قبلے کی طرف تھوکے گا اور اس کو نہیں چھپائے گا تو قیامت کے دن وہ تھوک انتہائی گرم صورت میں آئے گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان واقع ہوجائے گی۔ 19۔ ابن ابی شیبہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے قبلہ کی طرف تھوکا تو وہ تھوک گرم ترین چیز کی صور میں قیامت کے دن آئے گی یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے درمیان پڑجائے گی۔ 21۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ مسجد ریشے یا بلغم سے یوں سمٹتی ہے جیسے جلد آگ سے سمٹ جاتی ہے۔ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے 22۔ ابن ابی شیبہ نے عباس بن عبدالرحمن ہاشمی (رح) سے روایت کیا کہ شروع میں مسجدیں بنائی گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں بلغم کو دیکھا پھر اس کو کھرچ دیا پھر خوشبو لانے کا حکم فرمایا اور اس کو اس جگہ پر مل دیا پھر لوگوں نے مسجد میں خوشبو لگانا شروع کردیا۔ 23۔ ابن ابی شیبہ نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم کو دیکھا آپ اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔ پھر آپ نے خوشبو منگوائی شعبی نے فرمایا یہ سنت طریقہ ہے۔ 24۔ ابن ابی شیبہ نے یعقوب بن زید (رح) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مسجد کے غبار کو کھجور کی ٹہنی سے صاف فرماتے تھے۔ 25۔ ابن ابی شیبہ نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ مسجد میں چھڑکاؤ کیا جاتا اور اسے صاف کرنے کا اہتمام کیا جاتا رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر کے زمانہ میں۔ 26۔ ابن ابی شیبہ واحمد نے انصار میں سے ایک آدمی سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رینٹھ کو پائے مسجد میں تو اس کو چاہیے کہ اپنے کپڑے میں لے لے یہاں تک کہ اس کو باہر نکال دے۔ 27۔ ابن ماجہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چند کام ایسے ہیں جو مسجد میں نہیں کرنے چاہئیں۔ مسجد کو راستہ نہ بنایا جائے اور اس میں ہتھیار نہ لہرایا جائے اور اس میں تیر کمان کو نہ پکڑا جائے اور مسجد کو بازار نہ بنایا جائے۔ 28۔ ابن ماجہ نے واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی مسجدوں کو بچوں سے پاگلوں سے برے لوگوں سے اور اپنی خریدوفروکت سے اور اپنے جھگڑوں سے اور حدود کے قائم کرنے سے اور اپنی تلوار کے سونتنے سے دور رکھو اور ان کے دروازوں پر پاکی حاصل کرنے کی جگہ بناؤ اور جمعہ کے دن اس میں دھونی دو ۔ 29۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم وابوداوٗد وابن ماجہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی تیر کے ساتھ مسجد میں گزرے تو اس کو چاہیے کہ اس کے لوہے کے سرے کو پکڑے رکھے (تاکہ کسی کو لگ نہ جائے) 30۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابن والترمذی والنسائی وابن ماجہ نے عمرو بن شعیب ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں خریدوفروخت کرنے اور اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ابن ابی شیبہ کے نزدیک اشعار کی جگہ الضوال کے الفاظ ہیں۔ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان درست نہیں۔ 31۔ الطبرانی نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسجد میں تلواروں کو سونتو اور تیروں کو بکھیرو اور مساجد میں اللہ کی قسم نہ کھاؤ اور مقیم اور مسافر کو مسجدوں میں سونے سے نہ روکو اور تصویر نہ بناؤ اور شیشوں سے نہ سجاؤ کیونکہ وہ تعمیر کی جاتی ہے امانت کے ساتھ اور کر مت کے ساتھ شرف عطا کیا گیا۔ 33۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی سے فرمایا جس نے مسجد سے کنکریوں کو نکال دیا تھا کہ ان کو لوٹا دو ورنہ یہ تجھ سے قیامت کے دن جھگڑا کریں گی۔ 35۔ ابن ابی شیبہ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ کنکریوں کو جب مسجد سے نکال دیا جائے تو وہ اپنے نکالنے والے کو اللہ کا واسطہ دیتی ہیں۔ 36۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب مسجد سے کنکریوں کو نکال دیا جائے تو وہ چیختی ہیں یا تسبیح بیان کرتی ہیں۔ 37۔ ابن ابی شیبہ نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کنکریاں بر بھلا کہتی ہیں اور لعنت کرتی ہیں جو ان کو مسجد سے نکال دے۔ 38۔ ابن ابی شیبہ نے سلیمان بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ کنکریاں جب ان کو مسجد سے نکالایجائے تو وہ چیختی ہیں یہاں تک کہ ان کو اپنی جگہ لوٹا دیا جائے۔ 39۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وابن ماجہ نے فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔ بسم اللہ والسلام علی رسول اللہ اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نام اور رسول اللہ ﷺ پر سلام کے ساتھ اے اللہ ! میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیجئے۔ اور جب آپ باہر جاتے تو یوں فرماتے بسم اللہ والسلام علی رسول اللہ ﷺ اللہم اغفرلی ذنوبی وافتح لی ابواب فضلک ترجمہ : اللہ کے نام اور رسول اللہ ﷺ پر سلام کے ساتھ اے اللہ میرے گناہوں کو بکش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔ 40۔ ابن ابی شیبہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسجدوں کو ان کا حق دو کہا گیا ان کا حق کیا ہے ؟ فرمایا بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا۔ 41۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ مسجدوں کو راستہ بنا دیا جائے گا واللہ اعلم۔ 42۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یسبح یاء کے نصب کے ساتھ پڑھا۔ 43۔ ابن ابی شیبہ والبیہقی فی شعب الایمان ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چاشت کی نماز کا ذکر قرآن میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اسی قول میں ہے۔ آیت فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیہا اسمہ، یسبح لہ فیہا بالغدو والٰصال۔ یعنی ان گھروں میں جن کو بنانے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اللہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ان کے اندر اللہ کا نام یاد کیا جائے۔ صبح شام ان مسجدوں میں کچھ لوگ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 24:37–38

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جنہیں اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے سوداگری اور خریدوفروکت کرنا غفلت میں نہیں ڈالتا، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ جاؤں گی

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے انہیں اور بھی زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بلا حساب رزق دیتا ہے۔

1۔ احمد نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کی بہترین مسجد ان کے گھر کا اندرونی حصہ ہے۔ عورت کی نماز بند کمرہ میں افضل ہے 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابو حمید ساعدی سے روایت کیا کہ اپنے باپ اور اپنے دادی ام حمید سے روایت کرتے ہیں کہ مٰ ننے عرض کیا یارسول اللہ ! ہمارے شوہروں نے ہم کو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے روک دیا اور ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کرتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہاری نماز تمہارے کمروں کے اندر افضل ہے تمہارے گھروں میں نماز پڑھنے اور تمہاری نماز تمہارے گھروں میں افضل ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے۔ 3۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کوئی عورت اس سے افضل نماز نہیں پڑھ سکتی جو اپنے کمرے میں پڑھتی ہے مگر یہ وہ مسجد حرام میں نماز پڑھے مگر بوڑھی عورت اپنے صحن میں نماز پڑھے۔ 4۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت رجال لا تلیہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ۔ سے وہ لوگ مراد ہیں جو زمین میں پھرتے ہیں اور اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہیں۔ 5۔ ابن مردویہ والدیلمی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ سے مراد ہے وہ لوگ جو زمین میں پھرتے ہیں اور اللہ کے فضل کو تلاش کرتے ہیں۔ 6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے جو اللہ کے فضل میں سے تلاش کرتے تھے خریدتے تھے بیچتے تھے جب نماز کی پکار کو سنتے تھے جو چیز ان کے ہاتھوں میں ہوتی اسے پھینک دیتے تھے اور مسجد کی طرف کھڑے ہوجاتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔ 7۔ الطبرانی وابن مردویہ ابن عباس ؓ سے رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! یہ لوگ تاجر تھے ان کی تجارت اور ان کی خریدوفروخت ان کو اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی تھی۔ 8۔ ابن ابی حاتم والحاکم وصححہ والبیہقی فی الشعب ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی آیت ” مثل نورہ کمشکاۃ “ اور یہ ان لوگوں کیلیے ہے کہ جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی 9۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر “ کے بارے میں فرمایا کہ ان لوگوں کو فرض نماز کی حاضری سے خریدو فروخت رکاوٹ نہیں بنتی تھی فریابی نے عطاء (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 10۔ اعبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم بازار میں تھے کہ نماز کھڑی ہوگئی تو لوگوں نے اپنی دکانوں کو بند کرلیا پھر مسجد میں داخل ہوگئے ابن عمر نے فرمایا انکے بارے میں یہ آیت رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ نازل ہوئی۔ 11۔ سعید بن منصور وابن جریر والطبرانی والبیہقی فی الشعب ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے تاجروں کو دیکھا کہ جب انہوں نے اذان کو سنا تو انہوں نے اپنے سامان کو چھوڑدیا اور نماز کی طرف کھڑے ہوگئے یہ دیکھ کر ابنمسعود ؓ نے فرمایا ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” لاتلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ “ نازل ہوئی۔ 11۔ سعید بن منصور وابن جریر والطبرانی والبیہقی فی الشعب ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے تاجروں کو دیکھا کہ جب انہوں نے اذان کو سنا تو انہوں نے اپنے سامان کو چھوڑ دیا اور نماز کی طرف کھڑے ہوگئے یہ دیکھ کر ابن مسعود ؓ نے فرمایا ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ’ ’ لاتلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ “ 12۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ خریدو فروخت ان کو نماز سے غافل نہیں کرتی۔ آیت ” یخافون یوما تتقلب فیہ القلوب والابصار “ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور کہا کہ ان کے دل پیٹ میں پھرتے رہتے ہیں وہ نکلنے پر قادر نہیں ہوتے یاں تک کہ گلے میں پھنس جاتے ہیں کہ فرمایا آیت ” اذا القلوب لدی الحناجر کا ظمین “ 13۔ ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یخافون یوما “ سے مراد ہے قیامت کا دن۔ 14۔ احمد فی الزہد وعبد بن حمید نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ مٰ ناس راستہ پر خریدو فروخت کروں اور میں ہر دن تین سو دینار نفع کماؤ اور میں نماز کی جماعت میں بھی حاضر ہوجاؤں جبکہ مجھے یقین ہو حلال ہے لیکن میں یہ زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوجاؤں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ” رجال لا تلہیہم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ “ 15۔ ہناد بن السری فی الزہد محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقیفی شعب الایمان سماء بنت یزید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو قیامت کے ایک میدان میں جمع فرمائیں گے ایک بلانے والا سب کو آواز سنائے گا اور نظر سبکو دیکھے گی۔ ایک آواز دینے والا کھڑا ہو کر آواز دے گا وہ لوگ کہاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کیا کرتے تھے دکھ میں اور سکھ میں تو وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے اور ہو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوجائیں گے پھر وہ دوبارہ آواز دے گا۔ وہ لوگ کہاں ہیں جن کی کروٹیں خواب گاہوں سے دور رہتی تھیں۔ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ پھر وہ آواز دے گا۔ وہ لوگ کہاں ہیں جن کو تجارت اور خرید وفروکت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی تھی۔ وہ کھڑے ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے پھر سارے لوگ کھڑے ہوں گے اور ان کا حساب لیا جائے گا۔ 16۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا لوگ ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ سب تک نظر پہنچے گی۔ اور ایک دعوت دینے والا سب کو سنائے گا اور ایک آواز دینے والا آواز سدے گا۔ سب ٹھہرنے والے جان لیں گے کہ آج کے دن کن کے لیے عزت ہے تین مرتبہ اعلان کرے گا پھ رک ہے گا کہاں ہیں وہ لوگ کہ جن کی کروٹیں خوابگاہوں سے دور رہتی تھیں پھر وہ کہے گا وہ لوگ کہاں ہیں کہ جن کو تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی تھی آخری آیت تک پھر وہ کہے حمد کرنے والا کہاں ہیں جو اپنے رب کی حمد بیان کرتے ہیں۔ مسجد میں ذکر کرنے والے عزت والے ہیں 17۔ احمد وابویعلی وابن حبان نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رب عز وجل ارشاد فرمائے گا عنقریب یہاں جمع ہونے والے جان لیں گے کہ عزت والے کون ہیں پوچھا گیا کہ یارسول اللہ کون ہے عزت والے فرمایا مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرنے والے۔ 18۔ البیہقی فی شعب الایمان حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے کہ عنقریب جمع ہونے والے جان لیں گے کہ بزرگی والے کون لوگ ہیں وہ لوگ کہاں ہیں جن کی کروٹیں خوابگاہوں سے دور رہتی تھیں اپنے رب کو پکارتے تھے خوف اور امید رکھتے ہوئے اور ان چیزوں میں سے جو ہم نے ان کو رزق دیا خرچ کرتے ہیں وہ کھڑے ہوں گے اور لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھیں گے پھر آواز لگانے والا آواز لگائے گا عنقریب جمع ہونے والے جان لیں گے کہ بزرگی والے کون ہیں۔ وہ لوگ کہاں ہیں کہ جن کی تجارت اور خریدو فروخت ان کو اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی تھی وہ کھڑے ہوں گے اور لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھیں گے آواز دینے والا آواز دے گا۔ عنقریب جمع ہونے والے جان لیں گے کہ بزرگی والے کون ہیں۔ وہ لوگ کہاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے تھے ہر حال میں تو وہ کھڑے ہوں گے اور وہ بہت ہوں گے پھر جو باقی رہ جائیں گے ان کے لیے حساب و کتاب ہوگا۔
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے چٹیل میدان میں چمکتا ہوا ریت ہو جسے پیاسا آدمی پانی سمجھ رہا ہو، یہاں تک کہ جب ان کے پاس آیا تو ان کو کچھ بھی نہ پایا، اور اس نے وہاں اللہ کی قضاء کو پالیا سو اللہ نے اس کا حساب پورا کردیا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا جییس کسی گہرے سمندر کے اندرونی حصہ میں اندھیرایاں ہوں جسے موج نے ڈھانک رکھا ہوا اس کے اوپر ایک موج ہو اس کے اوپر بادل ہو۔ اندھیریاں بعض بعض کے اوپر ہیں جب اپنے ہاتھ کو نکالے تو اسے نہ دیکھ پائے اور جن کے لیے اللہ نور مقرر نہ فرمائے سو اس کے لیے کوئی نہیں

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت والذین کفروا اعمالہم کسراب کے بارے میں روایت کیا کہ وہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ایک پیاسے آدمی کے لیے بیان فرمائی جس کی پیاس سخت ہوجاتی ہے وہ سیراب کو دیکھتا ہے اور اسے پانی گمان کرتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اس پر قادر ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ اس کے پاس آتا ہے جب وہ اس کے پاس آتا ہے تو وہاں کوئی چیز نہیں پاتا تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اسی وقت وہ کافر کہتا ہے۔ اس کا عمل اسے فائدہ دے گا جبکہ وہ کسی حالت پر نہ ہوتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے جب اس کے پاس موت آتی ہے تو وہ اپنے عمل کو نہیں پاتا کہ اس کے کچھ کام آئے اور نہ اس کو نفع دے گا جیسے سخت پیاساسراب کے پاس جاتا ہے۔ آیت او کظلمت فی بحر لجی، یعنی ظلمات سے مراد ہیں اعمال، آیت فی بحر لجی سے مراد ہے انسان کا دل، آیت یغشہ موج، اسے موج ڈھانپ لیتی ہے یعنی اس پردے کی وجہ سے جو دل کان اور آنکھوں پر پڑجا تا ہے۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت کسراب بقیعۃ سے مراد ہے ہموار زمین۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” کسراب بقیعۃ “ یعنی زمین کے ٹکڑے آیت ” کسراب “ سے مراد ہے کافر کا عمل آیت ” حتی اذا جاء ہ لم یجدہ شیئا “ یعنی جب اس کی موت اور دنیا سے اس کی جدائی آپہنچتی ہے آیت ووجد اللہ عندہ، اور وہ اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے دنیا سے اس کی جدائی کے وقت آیت ووجد اللہ عندہ، اور وہ اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے، آیت فوفٰہ حسابہ، تو اللہ تعالیٰ اس کو پورا پورا حساب دے دیتا ہے۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کسراب بقیعۃ سے مراد ہے زمین کا ایک ٹکڑا۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے اور وہ محمد ﷺ کے اصحاب ؓ سے روایت کیرتے ہیں کہ کافر قیامت کے دن پیاسے اٹھائے جائیں گے اور وہ کہیں گے پانی کہاں ہے ؟ تو ان کے لیے ایک سراب کی صورت بنا دی جائے گی اور وہ اس کو پانی خیال کریں گے وہ اس کی طرف چل دیں گے تو اس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کو پائیں گے۔ تو اللہ ان کو پورا پورا حساب دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں۔ 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت او کظلمت فی بحر لجی، میں ” لجی “ سے مراد ہے سخت گہرا، آیت ” یغشہ موج من فوقفہ موج “ یہ کافر کے عمل کی مثال ہے کہ گمراہیوں میں اس کے یے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں اور نہ گزرگاہ اس میں اندھا ہوگا کچھ نہ دیکھے گا۔ 7۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا اخرج یدہ لم یکد یریھا سے مراد ہے کہ آدمی کہے گا اللہ کی قسم میں نے اس کو نہیں دیکھا اور نہ دیکھنا ممکن ہے۔ 8۔ ابن المنذر نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ اے لوگو تم ایسی جگہ صبح اور شام کرتے ہو کہ تم اس میں باری باری کرتے ہو نیکیوں کو برائیوں کو اور عنقریب تم اس سے کچوچ کر جاؤ گے دوسری منزل کی طرف اور وہ قبر ہے تنہائی کا گھر ہے اور تاریکی کا گھر ہے اور تنگی کا گھر ہے مگر جس کے لیے اللہ تعالیٰ وسیع فرمادے پھر تم منتقل کیے جاؤ گے قیامت کے دن کی جگہوں کی طرف اور بلاشبہ تم بعض ایسی جگہوں میں ہو گے جہاں لوگوں پر اللہ کا امر چھا جائے گا بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے کالے ہوں گے پھر تم منتقل ہوجاؤ گے دوسری منزل کی طرف لوگوں کو سخت اندھیرا ڈھانپ لے گا۔ پھر روشنی تقسیم کی جائے گی۔ مومن کو روشنی دی جائے گی۔ کافر اور منافق کو چھوڑدیا جائے گا ان کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا اور وہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمائی آیت او کظلمت فی بحر لجی سے لے کر آیت فمالہ من نور تک کافر اور منافق مومن کی روشنی سے نہیں لے سکے گا جیسے کہ اندھا روشنی نہیں لے سکتا بینا آدمی کی بینائی سے۔
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور پرندے جو پر پھیلائے ہوئے ہیں ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح کو جان لیا ہے اور جن کاموں کو لوگ کرتے ہیں انہیں جانتا ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ملک ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

1۔ ابن ابی شیبہ وعبدبن حمید ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ فی الظمۃ مجاہد (رح) سے آیت ” الم تر ان اللہ یسبح لہ “ سے لے کر آیت ” کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ “ تک کے بارے میں روایت کیا کہ نماز انسان کے لیے ہے اور تسبیح اس کے علاوہ دوسری مخلوق کے لیے ہے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والیر صفت “ سے مراد ہے اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے۔ 3۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والطیر صفت “ سے مراد ہے اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے۔ 4۔ ابو الشیخ فی العظمۃ مسعر (رح) سے آیت ” والطیر صف کل قد علمہ صلاتہ وتسبیحہ “ کے بارے میں فرمایا کہ اسی کو نماز کا نام دیا گیا مگر رکوع اور سجدوں کو ذکر نہیں کیا گیا۔
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادل کو چلاتا ہے پھر بادلوں کو باہم ملا دیتا ہے پھر اس کو تہہ بہ تہہ بنا دیتا ہے پھر اے مخاطبت تو بارش کو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے نکل رہی ہے اور بادل سے یعنی بادل کے بڑے بڑے ٹکڑوں میں سے جو پہاڑ کی طرح ہیں اولے برساتا ہے پھر ان کو جس پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ان کو ہٹا دیتا ہے قریب ہے کہ اس کی بجلی کی روشنی آنکھوں کو ختم کردے۔

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور اللہ رات اور دن کو بدلتا ہے اس میں ضرور عبرت ہے آنکھ والوں کے لیے۔

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ فتری الودق سے مراد ہے بارش 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت فتری الودق سے مراد ہے قطرے بارش کے 3۔ ابن ابی حاتم نے ابو بجیلہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ الودق سے مراد ہے بجلی۔ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ من خللہ سے مراد ہے بادل 5۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ و اس طرح پڑھتے تھے من خللہ خا کے فتح اور بغیر الف کے ساتھ۔ 6۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ فی العظمۃ نے کعب (رح) سے روایت کیا کہ اگر چوتھے آسمان سے برف نازل ہوتی تو جس چیز پر گرتی اس کو ہلاک کردیتی۔ 7۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یکاد سنا برقہ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا کہ السنا سے مراد ہے روشنی پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا اہاں کیا تو نے ابو سفیان ابن حارث کو نہیں سنا اور ہو کہتا ہے۔ یدعوا الی الحق لاینبغی بہ بدلا یجلو بضوء سناہ داجیء الظلم ترجمہ : وہ بلاتے ہیں حق کی طرف اس کے ذریعے اور ان کو بدلا نہیں چاہیے وہ اپنی روشنی کے ذریعے تاریکیوں کو دور کرتا ہے 9۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے رویت کیا کہ آیت ” یکاد سنا برقہ “ سے مراد ہے بجلی کی چمک۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ کعب نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے برق کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا جو اولوں سے پہلے ہوتی ہے اور یہ آیت پڑھی ” جبال فیہا من برد فیصیب بہ من یشاء ویصرفہ عن من یشاء، یکاد سنا برقہ یذبہب بالابصار۔ یعنی وہ پہاڑ جس میں اولے ہیں قریب ہے کہ اس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو اچک لے۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت ” یقلب اللہ الیل والنہار “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو لاتے ہیں اور دن کو لے جاتے ہیں اور دن کو لاتے ہیں اور رات کو لے جاتے ہیں۔
Ayahs 24:45–46

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا پھر ان میں بعض وہ ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو دو پیروں پر چلتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں وہ جو چاہتا ہے پیدا فرمایا۔ بلا شبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

واقعی بات یہ ہے کہ ہم نے ایسی آیات نازل کی ہیں جو بیان کرنے والی ہیں، اور اللہ جسے چاہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ سے مراد ہے نطفہ 2۔ عبد بن حمید عبداللہ بن مغفل (رح) و سے روایت کیا کہ انہوں نے ” واللہ خلق کل دابۃ من ماء “ پڑھا یعنی خلق کی جگہ خالق پڑھا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وابن المنزر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز چلتی ہے چار ٹانگوں پر مگر انسان چلتا ہے دو ٹانگوں پر۔
Ayahs 24:47–52

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور ہم فرمانبردار ہیں پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق روگردانی کرلیتا ہے اور یہ لوگ مومن نہیں

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو ان میں کا ایک فریق اسی وقت پہلو تہی کرلیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کا کوئی حق ہو تو اس کی طرف فرمانبردار بنے ہوئے چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں مرض ہے یا انہیں شک ہے یا انہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان پر اللہ اور اس کا رسول ظلم کریں گے بلکہ بات یہ ہے کہ یہی لوگ ظالم ہیں

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

جب مومنین کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے تو ان کا کہنا یہی ہوتا ہے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور یہ وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کے اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی سے بچے، سو یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) نے اٰمنا باللہ وبالرسول واطعنا ثم یتوالی فریق منہم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین۔ کے بارے میں فرمایا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ جنہوں نے ایمان اور اطاعت کو ظاہر کیا اور اس کے باوجود لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اس کی اطاعت سے اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جہاد میں جانے سے بھی روکتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ برحق فیصلہ فرماتے تھے 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے درمیان کوئی جھگڑا ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور جب اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا اور وہ حق پر ہوتا تھا تو وہ تسلیم کرتا اور یہ جانتا تھا کہ نبی ﷺ عنقریب اس کے لیے حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیں گے اور جب ظلم کرنے کا رادہ کرتا تھا اور اس کو نبی ﷺ کی طرف بلایا جاتا تھا تو وہ اعراض کرتا تھا اور کہتا تھا کہ فلاں کی طرف چلو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت ” واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینہم سے لے کر ہم الظلمون۔ تک تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کے اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کوئی چیز ہو یعنی جھگڑا ہو اور ان کو بلایاجائے مسلمانوں کے حکام میں سے حاکم کی طرف اور وہ نہ آئے تو وہ ظالم ہے اور اس کے لیے کوئی حق نہیں۔ 3۔ الطبرانی نے حسن سے روایت کیا اور انہوں نے سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شکص کو سلطان کی طرف بلایا گیا اور وہ نہ آئے تو وہ ظالم ہے اس کا کوئی حق نہیں حسن اور سمرہ کا لقاء ثابت نہیں۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور انہوں نے خوب مضبوطی کے ساتھ قسم کھائی کہ اگر آپ انہیں حکم دیں گے تو وہ ضرور نکل جائیں گے آپ فرمادیجئے کہ قسم نہ کھاؤ فرمانبرداری پہچانی ہوئی ہے۔ بلاشبہ اللہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم اپنے مالوں کو چھوڑدیں گے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت واقسموا باللہ جہدایمانہم نازل فرمائی۔ 2۔ ابن ابی حاتم سے مقاتل (رح) سے آیت واقسموا باللہ جہد ایمانہم لئن امرتہم لیخرجن قل لا تقسموا کہ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر قسم نہ کھائیں۔ طاعۃ معروفہ ان کو حکم دیا کہ وہ قسمیں نہ کھائیں اور نبی ﷺ کی معروف اطاعت کریں۔ 3۔ ابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت طاعۃ معروفۃ سے مراد ہے کہ تحقیق تمہاری اطاعت پہچان لی گئی ہے کہ تم نبی اکرم ﷺ کو جھٹلاتے ہو۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ فرمادیجیے کہ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی سو اگر تم روگردانی کرو گے تو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ وہ ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا اور تماہرے ذمہ وہ ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا، اور اگر تم نے ان کی فرمانبرداری کی تو ہدایت پانے والے بن جاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فانما علیہ ما حمل یعنی وہ تم کو پہنچادیں جو پیغام ان کو دے کر بھیجا گیا ہے آیت وعلیکم ما حملتم اور تم پر لازم ہے کہ تم اس کی اطاعت کرو اور تم عمل کرو جس بات کا وہ تم کو حکم دیں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن الجیر سے روایت کیا اور انہوں نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا اگر مجھ پر ایک بدکار حاکم ہو اور میں اس کے ساتھ گمراہ لوگوں کو پاؤں تو کیا میں اس کے لیے قتال کروں یا نہیں جبکہ میں نہ اس سے محبت رکھتا ہوں اور نہ اس کی حمایت کرتا ہوں تو انہوں نے فرمایا قتال کرو اور گمراہ لوگوں سے جہاں تم ان کو پاؤ لیکن امام کے ذمہ وہ ہے جو اس پر لازم کیا گیا اور تیرے ذمہ وہ ہے جو تجھ پر لازم کیا گیا۔ 3۔ البخاری فی تاریخہ واثل ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا اگر ان پر ایسے حاکم ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بغیر عمل کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا ان کے ذمہ وہ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا۔ 4۔ ابن ابی شیبہ ومسلم والترمذی اور ابن جریر نے اپنی تہذیب میں وابن مردویہ نے علقمہ بن وائل خضرمی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یزید بن سلمہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا آپ بتائیے اگر ہم پر ایسے حاکم ہوں جو ہم سے تو اپنا حق لے لیں اور ہم کو نہ دیں۔ آپ نے فرمایا ان کے ذمہ وہ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو تم پر لازم کیا گیا۔ 5۔ ابن جریر وابن قانع والطبرانی نے علقمہ بن وائل الحضرمی سے روایت کیا اور انہوں نے سلمہ بن یزید جہنی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ بتائیے اگ ہم پر ایسے حکمران ہوں آپ کے بع دجو ہم سے تو اپنا حق لے لیں اور ہم کو وہ حق نہ دیں جس کو اللہ نے ہمارے لیے بنایا تو ہم ان سے قتال کریں اور ان سے دشمنی رکھیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان کے ذمہ وہ ہے جو ان پر لازم کیا گیا اور تمہارے ذمہ وہ ہے جو ہم پر لازم کیا گیا۔